54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

سالار غصے سے بپھرا اس بلی کی طرف دیکھ رہا تھا اسکی آنکھوں میں وحشی جانور پھر سے جاگ رہا تھا جسے سالار نے صرف عین کے لئے اسے حاصل کرنے کے بعد کہیں دفن کردیا تھا وہ کبھی نہیں چاہتا تھا عین اسکا خطرناک روپ دیکھے اور اس سے خوفزدہ ہو کر دور چلی جائے ۔۔۔۔۔۔
سالار نے اپنی آنکھیں زور سے بھینچ لیں اور ہاتھوں کی مٹھیوں کو سختی سے جکڑ رکھا تھا
آ۔۔۔ آپ۔۔ آپ ایسا نہیں کریں گے آپ عین کو نہیں ماریں گے ۔۔۔۔۔ عین تو بہت معصوم ہے اور بچاری بے زبان بھی ہے۔۔۔۔۔ اس۔۔۔ اس نے کیا کہنا ہے آپ کو ۔۔۔۔ دیکھیں اگر آپ عین سے پیار سے بات کریں گے تو وہ بھی آپ سے لاڈ کرے گی آپ سے بہت جلد مانوس ہوجائے گی آپ کی ہر بات مانے گی ۔پلیز۔۔۔۔۔ اسے کچھ مت کہیں نہ۔۔۔۔ ہہہہ۔۔۔۔
میں وعدہ کرتی ہوں میں آپ کے سامنے اسے بلاؤں گی بھی نہیں ۔۔۔ اس سے ملوں گی بھی نہیں۔۔۔۔ آپ جب جائیں گے تو پھر اس سے مل لیا کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
عین آنکھوں میں آنسو لئے سالار کو دیکھتی بولے جارہی تھی اسے سالار کی حالت اور غصے کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ اسکا حال بھی ویسا ہی کرے گا جیسا بھالو کا کیا تھا
عین کی باتیں سن کر سالار آ نکھیں کھولے ساکت بے جان نظروں سے دیکھ رہا تھا
دیکھ تو وہ عین کو رہا تھا مگر دماغ اسکا کہیں اور ہی تھا ۔۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی کھڑا رہنے کے بعد. سالار یکدم پلٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا کانپتے ہاتھوں سے خواب جہاں سے ہی باہر نکل گیا
گاڑی میں بیٹھ کر ڈرائیور کو لرزتی آواز میں بمشکل بولا تھا
ائیر۔۔۔۔ پورٹ چلو۔۔۔۔۔۔۔
سالار کو پھر سے آج اپنے ڈاکٹر کی ضرورت پڑی تھی ۔۔۔ اسکے دماغ میں ابھی تک عین کے الفاظ گونج رہے تھے۔۔
آ ۔۔۔ آاا۔۔پ ۔۔عین کو مار دیں گے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟


میری پھر سے سکول میں لڑائی ہوئی ۔۔۔۔۔ مم۔۔۔۔ میں نے اس لڑکے کو کچھ نہیں کہا مگر ۔۔۔۔ مگر میرا دل بہت کچھ کرنے کا کہہ رہا ہے۔۔۔۔ وہ اچانک سے میری اور بڑھا لیکن اسکے دوستوں نے اسے دونوں بازؤوں سے پکڑ لیا اور روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ پھر پتہ نہیں مجھے کیا ہوا میں وہاں سے بھاگ رہا ہوں ۔۔۔۔ وہ سب میرے پیچھے اونچے اونچے قہقہے لگا رہے ہیں۔۔اور ساتھ ہی ۔۔۔۔۔ کہہ ۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا اسکے ماں باپ نے اس کو چھوڑ دیا ۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔ یہ تو لاوارث ہے ۔۔۔ اسکے آگے پیچھے کوئی بھی نہیں ۔۔ارے ارے دیکھو تو اس سے کوئی بھی پیار نہیں کرتا ۔۔۔ اسکی تو کوئی ویلیو ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ وہ سب۔۔۔ سب ۔۔۔۔ ہہہ۔۔۔۔ہنس رہے ہیں مجھ پر ۔۔۔۔ میں دوڑتے ہوئے گر گیا ہوں۔۔۔ میرے ہاتھ چھل گئے ان سے خون۔۔۔ خون بہہ رہا ہے ۔۔مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔ میں تو رہا ہوں ۔۔ وہ لڑکا پھر سے تکلیف دہ الفاظ سے میری روح چھلنی کر رہا ہے ۔۔۔۔ چچچچچ۔۔۔۔ بے چارہ لاوارث سالار چوٹ لگ گئی بچے کو اب کون اسکے زخموں پہ مرہم رکھے گا ۔۔۔۔ اس نے زور سے میرے بال کھنچے اور کہہ رہا ہے کہ تم ساری زندگی یوں ہی ٹھوکر کھاتے رہو گے ۔۔۔۔ کوئی تمہارے پاس نہیں آئے گا ۔۔۔۔ کسی کو بھی کوئی ہمدردی تک نہیں ہونی تم سے۔۔۔ تم یوں ہی تڑپتے ہوئے مر جاؤگے۔۔۔۔ کوئی تم سے پیار نہیں کرے گا ۔۔۔۔ تم ایسے ہی سسک سسک کر مر جاؤگے ۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔ تمہیں تو شائد قبر بھی نصیب نہ ہو ۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔۔ نن۔۔۔۔۔ نہ۔۔۔۔, مم۔۔۔۔ مج۔۔۔۔۔ پی۔۔۔ ار۔۔۔۔کرے گی ۔۔۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ لاوارث ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ عین ۔۔۔ کرے گی ۔۔۔۔ بب۔۔۔۔۔ بلکہ پیار کیا تھا نہ اس نے مجھ سے ۔۔۔۔۔ اسی نے تو ۔۔۔۔۔ اسی ۔۔۔ نے۔۔۔۔۔ سالار چیختے..چیختے اب بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔ ڈاکٹر پال دکھ سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ کب سے سالار ان سے سیشنز کر وا رہا تھا مگر ٹھیک ہوتے ہوتے ایکدم اسے نہ جانے کیا ہوتا پھر سے ساری محنت پہ پانی پھر جاتا ۔۔۔. مگر اس مرتبہ سالار نے اپنے منہ سے کسی لڑکی کا نام لیا تھا۔۔۔۔ عین۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر پال پر سوچ نظروں سے اسے تکتے روم سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔


سالار کے جانے کے بعد نور کچھ دیر تک تو طوفان کے واپس آنے کا انتظار کرتی رہی مگر جب طوفان تو کیا اسکے آثار بھی دور دور تک نظر نہ آئے تو نور سب بھلائے پھر سے اپنی بلی کی طرف متوجہ ہوگئی
جانتی ہو کٹ کیٹ اگر میں نے تمہیں عین نہ کہا ہوتا نہ تو آج تو تمہارا پکا ڈیڈ دے ہونا تھا یہ میں تھی جس کی وجہ سے سالار نے تمہیں کچھ نہیں کہا اور کہیں گے بھی نہیں ایسا میرا دل کہتا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن کیوں۔۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں ۔۔۔۔ بس مجھے ایسا لگتا ہے ۔۔۔۔ عین کہنے کا بھی پتہ نہیں مجھے ایسا کیوں لگا کہ وہ یہ سن کر کچھ نہیں کریں گے ۔۔۔ لیکن کٹ کیٹ وہ گئے کہاں ہیں۔۔۔۔ نور بلی کو گود میں بٹھائے اس سے باتیں کر رہی تھی وہ خوش تو تھی ہی بلی کے بچنے پر مگر ساتھ میں پریشان بھی ہو رہی تھی کہ سالار کہاں گیا ہے اور اب تک لوٹا کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔. اسے تو یہ تک نہیں پتہ تھا کہ اس نے انجانے میں سالار کو اپنے بے رحم ماضی میں پھر سے پھینک دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔


سالار بیڈ پر منہ کے بل لیٹا ہوا تھا اسکے کانوں میں عین کے وہی الفاظ بار بار گردش کر رہے تھے جنہوں نے اسکا سکون برباد کر دیا تھا
عین کو مار دیں گے ۔۔۔۔؟؟؟
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور تکیہ بیڈشیٹ دیوار پہ اچھال دی جیسے وہ ان الفاظوں کو اپنے سے دور اچھال رہا ہو ۔۔
میں کیسے مار سکتا ہوں اپنی عین کو ۔۔۔۔۔ کیسے۔۔
کیسے کہہ سکتی ہو تم ایسا میں تمہیں اپنے خیالوں تک میں بھی چوٹ نہیں پہنچا سکتا
تو ۔۔۔۔ حقیقت میں ۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔
سالار کرب میں ڈوبا ازیت میں تھا اسے کسی پل چین نہیں مل رہا تھا اضطرابیت سر پر سوار تھی۔۔۔۔ وہ بے چین سا کب سے روم میں بند تھا
نادر اور کریم میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کھانے پینے کا ہی کچھ پوچھ سکیں ۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کا منہ ایسے دیکھ رہے تھے کہ اصل وجہ ان کو ہی پتہ ہو تو کچھ معلوم ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔
اب پتہ نہیں کس نے شیر کی خوراک چھینی ہے جو وہ ایسے خاموش سا اپنے غار میں صبح سے گھسا ہوا ہے جب نکلے گا تو پتہ نہیں کون سی کم بختی مجھ پر نازل ہوگی ۔۔۔۔ کریم کو تو اپنی ہی پڑی ہوئی تھی وہ جانتا جو تھا کہ سالار ہمیشہ اسں پہ ہی اپنا غبار نکالتا ہے ۔۔۔۔۔
اور اوپر سے سفیان نے بھی کب سے اسکی ناک میں دم کر رکھا تھا کہ کوئی خبر ۔۔۔۔ کوئی خبر۔۔۔۔۔کی ہی رٹ لگائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
غصے میں آکر اس نے اسے ٹیکسٹ کر دیا تھا جس میں لکھا تھا کہ کل صبح کی فلائٹ سے آجانا میرے جنازے کی بریانی کھانے۔۔۔۔۔۔
جواب میں اسے ہا ہا ہا کے ساتھ لافنگ ایموجی ملا تھا۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی لکھا تھا کہ ہمارے ایسے نصیب کہاں جو تمہارے مرگ کی بریانی کھانے کو ملے۔۔۔۔۔۔۔
غصے میں آکر اس نے موبائل ہی آف کر دیا تھا
اور. بے چارگی سے دروازے کی طرف تکتے اپنی شامت کا انتظار کر نے لگا۔۔۔۔۔


نور ابھی ابھی کٹ کیٹ صاحبہ کو گارڈن میں بنے اسکے نئے گھر میں سلا کر آئی تھی اور سونے کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ابھی وہ لیٹی ہی تھی کہ اسکے موبائل پر میسج کی نوٹیفیکیشن آئی ۔۔۔۔ موبائل اٹھا کر دیکھا تو منزی کا نام چمک رہا تھا نور مسکراتے ہوئے اسکے میسجز پڑھنے لگ گئی جس میں منزی نے رسمی سی گفتگو
سے آغاز کیا تھا۔۔۔۔۔
نور نے بھی مہزب انداز میں جواب بھیجا اور اگلے میسج کا انتظار کر نے لگی ۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔۔ اچھا تو بتاؤ پھر کب مل رہی ہو سوئیٹ گرل ۔۔۔۔؟?
پتہ نہیں۔۔۔۔۔!!!
کیا مطلب پتہ نہیں۔۔۔۔۔ یا پھر تم مجھے بھول چکی ہو اور ملنا ہی نہیں چاہتی ہو ۔۔۔۔ میزی نے میسج ٹائپ کیا اور سیڈ ایموجی بھیجا۔۔۔۔۔
ارے نہیں ۔۔۔ نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ میں تو بس ایسے ہی ۔۔۔ اچھا آپ بتائیں کہاں ملنا ہے
نور سدا کی سادی میزی کی چالاکیوں کو کہاں سمجھتی تھی اسی لئے گھبراتے ہوئے جو سمجھ آیا وہی بول دیا۔
سچی ی ی۔۔۔۔۔ او سو سوئیٹ آف یو گرل ۔۔۔۔ تو ٹھیک ہے پھر اس ریسٹورنٹ میں ملتے ہیں اور ساتھ مل کر مزے دار ڈنر کرتے ہیں۔۔۔۔ کیا کہتی ہو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کیا کروں ۔۔۔۔۔ سالار کو پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوں گے پہلے ہی میں نے منزی کے ساتھ ہوئی ملاقات کے بارے میں نہیں بتایا اور اب بھی پتہ نہیں وہ کہاں ہیں۔۔۔۔ کیا کروں ۔۔۔۔ نور سوچ میں گم تھی کہ میزی کا ایک اور میسج آیا ۔۔۔
کیا ہوا نہیں آرہی کیا ۔۔۔۔؟؟؟
نہیں نہیں میں ضرور آوں گی کب آنا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
او ۔۔۔۔ یس تھینکس یار ۔۔۔ اچھا میں تمہیں ریسٹورنٹ کا نام ٹیکسٹ کرتی ہوں ۔۔۔ تو پھر ملتے ہیں آج کی شام یادگار بنا نے کے لئے۔۔۔۔۔
میزی کا لہجہ آخر میں عجیب سا ہوگیا تھا ۔۔
مگر نور اسکی محبت سمجھ کر مسکرا دی اور پھر دونوں نے بائے کیا اور نور لیٹ کر مسکراتی ہوئی سو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سارے یونی والے بھی اب واپسی کی تیاری کر چکے تھے اور بس اور اپنی لائی ہوئی گاڑیوں میں واپس جا رہے تھے۔۔۔
برہان بھی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور اظفر کا انتظار کر رہا تھا کہ کسی نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر بڑے مزے سے سیٹ سنبھالی اور دروازہ لاک کر دیا۔۔۔
برہان نے جب دیکھا تو سامنے بڑی شان سے رباب صاحبہ بیٹھی ہوئی تھیں ۔۔۔
او ۔۔۔۔ او تم کس خوشی میں بیٹھی ہو یہاں اٹھو یہاں سے ۔۔۔ یہاں اظفر نے بیٹھنا ہے ویسے بھی ناراض تھا مجھ سے بڑی مشکلوں سے راضی کیا ہے ۔
ہاں۔۔۔۔۔ تو برہان صاحب پھر تو آپ کو نکاح بھی اپنی گرل فرینڈ اظفر کے ساتھ ہی کر لینا چاہیے تھا مجھ جیسی بے چاری ابلا ناری سے کیوں کیا۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔
رباب کو تو غصہ ہی آگیا تھا کیسا ان رومینٹک بندہ تھا ایک تو اسے خود مجھے زبردستی کرکے گاڑی میں بیٹھانا چاہیے تھا جیسے فلموں ڈراموں میں ہوتا ہے مگر نہیں یہ تو ہے ہی سدا کا خشک بندہ۔۔۔۔۔۔۔
اف اللہ ۔۔۔۔ رباب پلیز یار میں بہت تھکا ہوا ہوں پہلے ہی اب مجھ میں مزید سکت نہیں ہے کہ تم سے گولہ باری کروں ۔۔۔۔۔ برہان نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا
چچ۔۔۔۔ بھئی میاں جی آپکو نہیں پتہ بیوی کے سامنے شوہر ہاتھ نہیں جوڑتے گناہ ملتا ہے بیوی کو ۔۔۔ کیوں مجھ غریب کو گناہ گار کر رہے ہیں
رباب ڈرامائی انداز میں ہاتھ نچا نچا کر اسے پتے کی بات بتا رہی تھی
برہان جو فل گاڑی چلانے بلکہ بھگانے میں لگا ہوا تھا کیوں کہ موسم کے تیور کچھ اچھے نہیں لگ رہے تھے رباب کی اتنی عزت افزائی پر فورا” سے بریک لگائی جس سے کار سڑک کے بیچ و بیچ رک گئی تھی جبکہ برہان گردن موڑے حیرت سے منہ کھولے رباب کی طرف دیکھ رہا تھا جو برہان کے ایکدم بریک لگانے سے اپنا سر ڈیش بورڈ سے بمشکل بچائے دل پر ہاتھ رکھے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔۔۔۔۔
ہائے میاں جی کیا کرتے ہیں کیوں بھری جوانی میں بیوہ ہونے کا شوق چڑ گیا ہے آپ کو ابھی مجھے کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔ ہائے اللہ۔۔۔۔۔
ویٹ ۔۔۔۔ پہلے تو لڑکا بیوہ نہیں رنڈوا ہوتا ہے ۔۔۔
اور سیکنڈ یہ کہ یہ اتنی عزت کب سے دینے لگ گئی تم مجھے۔۔۔
ابھی اس سے پہلے کہ رباب کچھ بولتی ہی برہان پھر سے بول پڑا۔۔۔۔
اور ۔۔۔۔ اور یہ میاں جی کیا ہوتا ہے ۔۔۔ اب میں اتنا بھی بوڑھا نہیں ہوں کہ تم مجھے میاں جی ہی کہنے لگ جاؤ۔۔۔۔۔ سو مس رباب اکبر مرزا آئندہ اس نام سے پرہیز کیجئے گا ۔۔۔۔ گاٹ اٹ۔۔۔۔۔
یہ کہہ کر برہان گاڑی سٹارٹ کر نے لگا۔۔۔
اوئے ہیلو ۔۔۔۔ پہلی بات میں اب رباب اکبر مرزا نہیں رہی اب میں مسز رباب برہان ہوں ۔۔۔۔
رباب نے چہکتے ہوئے بڑے مزے سے کہا
یا اللہ کہاں پھنس گیا ہوں میں ایک تو یہ گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی اور اس لڑکی کی زبان بند نہیں ہو رہی۔۔۔۔
تم پہ گئی ہے ۔۔۔۔!!!
کون ۔۔۔۔؟؟؟
مصروف انداز میں اس نے پوچھا
تمہاری بیٹی۔۔۔۔۔
برہان نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا
یار کچھ تو شرم کرلیا کرو کیسے دھڑلے سے ہماری فیوچر بیٹی کا زکر کر رہی ہو۔۔۔
اسکے لئے تم جو ہو۔۔۔۔۔۔
رباب نے بڑے مزے سے جواب دیا
جبکہ برہان تاسف سے سر ہلانے لگا اس نے تو رباب کو تنگ کرنے کی غرض سے فیوچر بیٹی کہا تھا مگر یہ بھی تو رباب تھی سدا کی بے شرم۔۔۔۔ برہان تیرا کیا ہوگا۔۔۔۔ سر سٹیرنگ پہ گرائے برہان اپنے مستقبل کو لے کر ایک بار پھر سے غمگین ہوا۔۔۔۔۔۔


سر ۔۔۔۔ وہ آپ کے لئے انویٹیشن کارڈ آیا ہے ۔۔۔
سالار جب سے آیا تھا اب جاکے اپنے روم سے نکلا تھا تو کریم ڈرتے ڈرتے اس سے مخاطب ہوا
کیسا انویٹیشن۔۔۔؟؟؟
سالار نے سرد آواز میں پوچھا جس کا جواب کریم نے تھوک نگلتے ہوئے دیا
وہ۔۔۔۔۔۔ سر مس منیزہ سہیل خان کی انگیجمنٹ ہے اس تھرسڈے کو اسی کا انویٹیش۔۔۔۔۔۔۔
جاؤ۔۔۔۔۔۔ کریم کو بیچ میں ہی ٹوکٹے ہوئے اس نے بے تاثر لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
کریم چونکتا ہوا وہاں سے نکل گیا کہ سالار کو شاک نہیں لگا کہ اس کی بیوی اسکے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور سے منگنی کرنے
جارہی ہے ۔۔۔۔۔