Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 27
Rate this Novel
Episode 27
نور روم میں واپس آچکی تھی اور ابھی تک سالار کے زیر احصار تھی ابھی تک اسکی دل کی دھڑکنوں نے ادھم مچارکھا تھا اسے اپنی چوٹی سی تھوڑی انگارے کی مانند جلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
پریہان ڈور ناک کرکے اندر داخل ہوئی اور نور کو بلش کرتے ہوئے کھوئے ہوئے پایا تو مسکراتے ہوئے گلا کھنکھارنے لگی ۔۔۔۔
اہم۔۔اہم۔۔۔۔
نور نے چونک کر سامنے دیکھا تو پریہان اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔
میم ۔۔۔ اب سیکنڈ سرپرائز کی باری ہے ۔۔
پریہان کے یہ کہنے پر نور نے جھٹ سے اسکی طرف الجھن سے دیکھا
کون سا سرپرائز۔۔۔۔۔؟؟؟
اب اگر بتا دیا تو ۔۔۔۔ سرپرائز ۔۔۔۔ سرپرائز نہیں کہلائے گا نہ ۔۔۔۔
اچھا چلیں اٹھیں چل کر شاور لے لیں پھر آپ نے ریڈی بھی ہونا ہے ۔۔۔
اب کس لئے ریڈی ہونا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
نور جو جب سے آئی تھی ویسے ہی حلیے میں بیٹھی اپنے خیالوں میں گم تھی اسے چینج کرنے کا بھی ہوش نہیں رہا تھا
پتہ چل جائے گا نہ ۔۔۔۔۔ اب آپ اٹھیں بھی آپ کو تیار کرنا ہے میں نے ہمارے پاس وقت نہیں ہے
زرا سا بھی لیٹ ہوئے تو سر نے ہماری بینڈ بجا دینی ہے۔۔۔۔
پریہان نے روہانسی آواز میں بولا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اگر وہ تھوڑا اور انسسٹ کرے گی تو اس کے منہ سے سب نکل جانا ہے اور پھر سالار سر کے ہاتھوں جو عزت افزائی ہونی تھی ۔۔۔
افففف۔۔۔۔۔ اللہ بچائے۔۔۔۔۔!!!
سالار کا زکر سن کر نور بھی جھٹ سے اٹھ گئی اور واشروم شاور لینے چلی گئی کہ اب وہ اپنی وجہ سے کسی کو ڈانٹ پڑتے نہیں دیکھ سکتی تھی اب ۔۔۔۔۔
اسکے جاتے ہی پریہان نے سکھ کا سانس لیا اور تمام سامان نکال کر بیڈ پر رکھنے لگی۔۔۔۔
سر آپ کا کام ہوگیا وہاں ساری تیاری میں نے
دیکھ لی ہے ہر چیز پرفیکٹ ہے ۔۔۔۔
آااا۔۔۔ ممم۔۔۔۔ میرا مطلب میں خود نہیں گیا وہاں وہ اپنی ایک قابل اعتبار دوست لڑکی کو بھیجا تھا ۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ اور گھر میں بھی میں تو کیا کوئی بھی مردانہ پیس۔۔۔۔۔ ممم۔۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ کوئی مرد نہیں ہے۔۔۔۔۔ ساری خواتین ہی ہیں۔۔۔۔۔۔
کریم جو مطمئن انداز میں سالار کو بتا رہا تھا لیکن جب سالار کو اپنی جانب خونخوار نظروں سے گھور تے ہوئے پایا تو ہڑبڑی میں جو منہ میں آیا وہ بولتا چلا گیا ۔۔۔۔
ہونہہ۔۔۔۔
سالار نے کچھ کہنے سے بہتر صرف ہنکارا بھرا انداز ایسا تھا کہ اب دفعہ ہوجاؤ۔۔۔۔
کریم اپنا سا منہ لے کر نکل بھی گیا پیچھے سالار شیشے میں دیکھتے ہوئے تیار ہونے لگا
نور کو پریہان تیار کر رہی تھی ریڈ کلر کے کافی بڑے خوبصورت گاؤن میں نور بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی سر پر گولڈن کلر کا خوبصورت تاج سجا ہوا تھا گاؤن اتنا لمبا تھا کہ نور کو لگ رہا تھا کہ جیسے کسی دکان کا سارا کپڑا ہی استعمال کر لیا ہو۔۔۔ مگر جو بھی تھا ڈریس بیت پیارا تھا ۔۔۔۔
نور کو کچھ کچھ سمجھ تو آہی گیا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے مگر پھر بھی وہ خاموشی سے یہ سب ہونے دے رہی تھی شائد ہر لڑکی کی طرح اسنے بھی یہ چاہاہو ۔۔۔۔۔۔۔
نور کو سادہ ہی تیار کیا گیا تھا صرف ہونٹوں پر بلڈ ریڈ کلر کی لپ اسٹک لگائی گئی تھی اسکے گاؤن کے بلکل ہمرنگ ،بالوں کو کرل کرکے پیچھے سے تتلی والے کلپ سے لگائے تھے
نور کھڑی ہوئی اور بڑے مرر میں جا کے اس نے اپنا عکس دیکھا تو وہ خود ہی مبہوت ہوگئی یک ٹک وہ خود کو حیران نظروں سے دیکھتے جارہی تھی ۔۔۔۔۔
کیا یہ میں ہوں ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
نور منہ میں ہی بڑبڑائی جو پریہان نے باخوبی سنی تھی ۔۔۔
جی ہاں یہ بلکل آپ ہی ہیں ۔۔۔۔پرستان کی پری جو راستہ بھٹک کر اس ظالم دنیا
میں آگئی ہے اور آتے ہی ظالم دیو کے چنگل میں بھی پھنس گئی ۔۔۔۔
آخر کے الفاظ اس نے دل میں منہ بناتے ہوئے کہا تھا
نور جو اپنے آپ کو دیکھنے میں مگن کسی کی موجودگی فراموش کر چکی تھی پریہان کی آواز سنی تو جھینپ گئی۔۔۔
چلیں اب ۔۔۔۔۔ پریہان نے مسکراتے ہوئے پیار سے اسکے من موہنے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
اور دل ہی دل میں شدت سے دعا کی تھی کہ اسے اپنے حفظ و اماں میں رکھنا میرے مولا
لیکن شائید یہ دعا پہنچی بھی تھی یا پھر
۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
نور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسکے ساتھ چل پڑی۔۔۔
اسکے پیچھے تین سرونٹ تھیں جنہوں نے اسکے گاؤن کو اٹھا رکھا تھا اور نور سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ایک ادا سے آرہی تھی ۔۔۔
یہ منظر بہت خوبصورت تھا نور کو ایسا لگ رہا تھا کی جیسے وہ یہاں کی ملکہ ہے ۔۔۔۔۔
پریہان نے اسے بڑی گاڑی میں بیٹھنے میں مدد کی اور پھر منزل کی جانب چل پڑی جہاں بہت ساری خوشیاں نور کا باہیں کھولے بے صبری سے منتظر تھیں ۔۔۔۔۔
سالار پیرس کے سمندر کے ایک الگ تنہا والے گوشے کی طرف کھڑا اپنی عین کا بے چینی سے ا تظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے بلیک اینڈ وائٹ سوٹ پہنا ہوا تھا اور ادھر سے ‘ادھر بےقراری سے چکر کاٹ رہا تھا
کب ,۔۔۔۔۔ آؤگی تم عین۔۔۔۔۔ کم۔۔۔۔ اون۔۔۔۔۔ آبھی جاؤ۔۔۔۔۔۔ ہاہہہہہ۔۔۔۔۔ سالار نے بے چینی سے سرد آہ بھری اس سے اب مزید انتظار نہیں ہو رہا تھا
دل تھا کہ عین کو دیکھنے کے لئے مچلے جارہا تھا ۔۔۔
بس اب بہت ہوا اب اگر پانچ منٹ کے اندر نہیں آئی تم تو اس پریہان کو تو مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔۔۔۔۔ قسم سے گلا دبادوگا میں اسکا کہا بھی تھا جلدی لے کر آنا میری عین کو لیکن نہیں ان عورتوں جو تو وہی کرنا ہوتا ہے جو انکا دل چاہتا ہے آنے دو زرا اسکو اچھے
بتاتا ہوں میں اسکو ۔۔۔۔
ضرور اسی نے عین کو تیار کرنے میں دیر کی ہوگی ورنہ میری عین کو کہاں ضرورت اتنی میک اپ کی ۔۔۔۔۔
سالار چکر لگاتے ہوئے چلاتے ہوئے جو منہ میں آرہا تھا وہ بولتا جارہا تھا ۔۔۔۔
چار منٹ ۔۔۔۔۔۔!!!!
گھڑی پر نظر دوڑا تے اس نے غائبانہ پریہان کو جیسے باور کروایا تھا
سالار کھڑے عین کا انتظار کر رہا تھا کہ اسے سامنے سے آتی کار دکھائی دی اور پھر کار سے اک شان سے نکلتی عین پر نظر پڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بنا سا۔س لئے عین کو اپنے پاس آتے ہوئے دیکھ رہا تھا
سبز گہری آنکھیں اسی کو تک رہیں تھیں چہرے سے جیسے سفید روشنی پھوٹ رہی تھی جو اس کی معصومیت کی دلکشی کو اور بڑھا رہی تھی اس ڈریس میں تو عین جنت کی حور لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
(دیکھنا ایک دن اللہ تعالہ تمہیں جنت کی حور دیں گے جو تمہارا خیال رکھے گی تم سے ڈھیر ساری باتیں بھی کرے گی )
اسکے کانوں میں اپنے دادا جان کی آواز سنائی دی۔۔۔
دیکھیں دادا جان آج مجھے اللہ تعالہ نے جنت کی حور دے دی ۔۔۔۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ مجھ سے ڈھیر ساری باتیں کرے گی اور کیا میرا خیال رکھے گی۔۔۔۔
سالار کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی چمک رہی تھی جو کہ خوشی کی تھی
نور آنکھوں میں عجیب سی چمک لئے سالار کی طرف بڑھتی جا رہی تھی سرخ کارپٹ پر چلتے ہوئے وہ اسکے قریب ہوتی جارہی تھی
نہ جانے کیا تھا کہ آج اسکی نظریں سالار سے ہٹ ہی نہیں رہیں تھیں ۔۔۔۔ دل کر رہا تھا کہ بس اسے دیکھتی جائے ۔۔۔۔ اس کے چہرے پر موجود دکھائی دینے والی بے تحاشہ محبت کو یونہی ٹک ٹکی باندھے دیکھتی رہے ۔۔۔
نور اب اسکے بلکل سامنے آچکی تھی سالار پیاسی نظروں سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا
نور بھی یک ٹک نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔
سالار نے اسے ہاتھ
سے مضبوطی سے پکڑا اور آگے بڑھنے لگا
انکے ساتھ ساتھ نور کا ڈریس تھامے سرونٹس بھی چل رہی تھیں
سالار اسے لیکر ایک بوٹ کی طرف آیا اور پھر باقیوں کو اشارہ کرکے عین کو اپنے مضبوط بازؤوں میں جھٹ سے اٹھا لیا اور بوٹ پر چڑھ گیا اور اندر روم میں جاکر اسے نیچے اتارا اور مڑ کر ڈور لاک کر دیا ۔۔۔
نور کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کب اسے سالار نے اسے اٹھا یا اور کب یہاں لایا۔۔۔۔
وہ سالار کی پشت کو دیکھ رہی تھی کہ سالار ایکدم سے پیچھے مڑا اور اسکے نزدیک ترین آگیا
نور سالار کے اتنا قریب آنے سے بوکھلا گئی اور بے ساختہ ایک قدم پیچھے ہٹی مگر سالار ایک قدم کی کوشش کو دو قدموں سے طے کرتے ہوئے رہا سہا فاصلہ بھی ختم کر دیا
نور پیچھے دیوار سے لگی گھبرا ئی کھڑی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ دیوار کے بیچ میں سے ہی نکل جائے ۔۔۔۔
سالار کی تپش دیتی آنکھیں اسکے اسکے چہرے کا بے چینی و بے قراری سے طواف کر رہی تھیں
نور کے حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ سالار نے اپنا سر اسکے کندھے پر رکھ لیا اور آنکھیں موند لیں۔۔۔۔
نور ساکت کھڑی تھی ۔۔۔
سالار کافی دیر ایسے ہی کھڑا رہا۔۔۔۔
کچھ پل بعد سالار اس سے دور ہوا اور بوٹ رکنے پر اس کا ہاتھ پھر سے تھام لیا اور بنا کچھ بولے اسے لیکر روم سے نکل آیا
نوربڑی مشکل سے خود کو سنبھالتی چل رہی تھی۔۔۔۔
جب وہ باہر آئے تو سالار نے پھر سے اٹھایا اور لکڑی کے تختے پر پاؤں جماتے ہوئے اترا اور اسے لئے ایک راستے سے ہو کر اندر چلا گیا۔۔
نور حیرانی سے منہ کھولے دیکھ رہی تھی کہ جو وہ دیکھ رہی تھی کیا وہ حقیقت تھی آج تک تو وہ یہ صرف نیوز یا نیٹ پر ہی دیکھا تھا مگر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی
اس نے بے یقینی سے اس جگہ کو دیکھا جسے
۔۔۔۔”انڈرواٹر ہوم ۔۔۔۔۔”
کہا جاتا تھا ۔۔۔
سالار اسے نیچے اتار چکا تھا ۔۔۔
نور آنکھیں پھاڑے منہ کھولے حیرت سے اردگرد دیکھ رہی تھی جہاں اسے ہر طرف پانی ہی پانی نظر آرہا تھا اور ساتھ ہی ادھر’ادھر مٹکتی رنگ برنگی مچھلیوں کو جو پانی میں جھوم جھوم کر رقص کرنے میں مگن تھیں۔۔
نور بے خود سی آگے بڑھ کر شیشے کے اس پار کھڑی مالٹئی رنگ کی چھوٹی سی مچھلی کو چھو نے ہی لگی تھی کہ کسی نے اسکا بازو مضبوطی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا جس سے وہ اسکے سینے سے ٹکرائی اور پھر سالار نے اسکے گرد اپنا حصار باندھ کر گرفت سخت کردی ۔۔۔۔۔
نور دوڑتی ہوئی دھڑکنوں اور رکتی سانسوں سمیت سالار کی گرفت سے نکلنے کو مچل رہی تھی
مگر یہ تو سالار شجاعت کی گرفت تھی جس نکلنا اتنا آسان نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
نور نے ڈر کر اپنی آنکھیں سختی سے بند کرلیں۔۔
جاری۔۔۔۔!!!
