54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

تمام تیاریاں ہو چکیں تھیں۔۔۔رباب نور سے دور دور تھی اسے جب پتہ چلا کہ سالار گھر پر ہی ہے تو وہ احتیاط برت رہی تھی۔۔۔۔۔
نور کا ڈریس آچکا تھا جسے دیکھ کر سب حیران اور ستائش بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے پسند کو سراہے جا رہے تھے۔۔۔
ارے واہ نور ارفعان بھائ کی پسند تو واقعی لاجواب ہے
کریم رنگ کے خوبصورت ویڈنگ گاؤن کو دیکھ کر مشاء چہکتے ہوئے بولی جو کہ نکاح کی مںاسبت سے تھوڑا ہیوی پر بلکل پرفیکٹ لگ رہا تھا
لیکن میں پہنوں گی کیسے یہ کتنا بھاری ہے اور بہت بڑا بھی
میں تو گر ہی جاؤں۔۔۔۔۔۔!
نور نے کبھی اس طرح کا لباس زیب تن نہیں کیا تھا اس لئے وہ پریشانی سے منہ بسور کر معصومیت سے بولی کہ کہیں وہ گر ہی نہ جائے۔۔۔۔۔
ارے عینی یار تم کیا پریشان ہو رہی ہو دیکھو جیجو نے تمھاری لحاظ سے میچنگ حجاب بھی بھیجا ہے اور اگر تمھیں گرنے کی اتنی ہی ٹینشن ہو رہی ہے نہ تو فکر مت کرو جیجو ہیں نہ وہ
تمہیں پکڑلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔
نور کی دوستیں بھی آگئیں تھیں اور اپنی شوخییوں اور شرارتوں سے نور کو شرم سے پانی پانی کر رہیں تھیں
چلو بھئی نکلو سب مت تنگ کرو اور میری گڑیا کو آج کے لئے اتنا کافی ہے کچھ رخصتی کے لئے بھی بچا کے رکھو میں نور کو تیار کرنے لگی ہوں چلو شاباش باہر جاؤ مجھے کوئ بھی اب اندر نظر نہ آئے
نور کے شرم سےسرخ چہرے اور رونی صورت کو دیکھ کر مشاء کو اس پر ترس آگیا تو اسکی مدد کی غرض سے انہیں رفو چکر کیا
کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نور بے ہوش ہی ہوجائے
سب کو نکال کر اس نے روم لاکڈ کر دیا اور پھر نور کے پاس آئی
ویسے ایک بات ہے ۔۔۔۔۔تم اتنا ابھی صرف نکاح کے وقت ہی شرما
رہی ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رخصتی کے وقت تو۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور نے خشمگیں اور ناراض نظروں سے مشاء کی طرف دیکھا تو مشاء کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔
خود پہ بمشکل کنٹرول رکھ کے کانوں کو ہاتھ لگا کر معذرت کی
اور نور کو سنوارنے میں جٹ گئی ۔۔۔۔۔۔
باہر تمام مہمان آچکے تھے دادا جان نے سالار کے کہنے کے مطابق
مردوں کا انتظام الگ کیا تھا یہاں تک کہ اظفر اور برہان کی بھی پابندی لگا دی تھی
دادا جان ان دونوں کو کبھی کہاں بھیجتے تو کبھی کہاں کہ اب وہ انہیں کیا کہہ کر وہاں نہ جا نے دیں جہاں نور ہو
سالار بچے اس عمر میں تم نے مجھے گھن چکر بنا کر رکھ دیا ہے
دادا جان دل ہی دل میں بڑبڑائے بھی جا رہے تھے
سالار تیار ہو چکا تھا بلیک اینڈ وائٹ سوٹ میں وہ کوئی حور
پرا ہی لگ رہا تھا اور اوپر سے اس کے ہمیشہ سنجیدہ اور
سخت چہرے پہ جاندار مسکان سجی تھی جو اسے اور بھی زیادہ جازب نظر بنا رہی تھی
ابھی وہ اپنے پورشن میں ہی تھا اس نے اپنے پورے پورشن کو خوب سجایا تھا اور سارے کے سارے خواب جہاں کو بھی۔۔۔۔۔۔
اسکا بس چلتا تو سارے شہر کو ہی سجوا دیتا
آخر کا وہ وقت آہی پہنچا جس کا سالار کو شدت سے انتظار تھا
وہ بہت زیادہ خوش تھا کہ فائنلی وہ عین کو اپنی دنیا میں لے جا رہا ہے۔۔۔۔۔
جہاں صرف عین کا سالار اور سالار کی عین ہی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں وہ صرف ایک دوسرے کے لئے ہنسیں گے۔۔۔۔۔۔۔
ایک دوسرے سے پیار کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کو بھی اپنی زندگی میں مداخلت نہیں کرنے دیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔
عین آج تک تم نے میرا صرف سخت روپ ہی دیکھا ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں اس دن میرے سخت رویے کی وجہ سے تم مجھ
سے متنفر ہو چکی ہوگی
مجھ سے ڈرتی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن کوئی بات نہیں میں تمہیں اپنی محبتوں کا ایسا نایاب روپ دکھاؤں گا کہ تم بوکھلا ہی
جاؤگی اور پھر مجھ سے محبت کرنے لگ جاؤگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن عین چاہے کچھ بھی کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس
مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں تو شائد میں اپنا آپ
کھودوں۔۔۔۔۔۔۔۔اور جب میں اپنا آپ کھودیتا ہوں نہ تو مجھے
خود پتہ نہیں چلتا کہ میں کیا کر جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑے ہو کر خیالوں میں محبوب
جاں سے مخاطب تھا جس میں سوال بھی وہ خود ہی کر رہا تھا اور جواب بھی خود ہی دے رہا تھا
اتنے میں دادا جان کا بلاوہ آگیا کہ نکاح کا وقت ہو گیا ہے
اب آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار ایک نظر خود پر ڈال کر کوٹ درست کرتا نیچے ہال میں چل دیا جہاں نکاح کا انتظام کیا گیا تھا
سب لوگ مڑ کر سالار شجاعت کی شاہانہ شخصیت جو رشک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اور کئی لڑکیاں تو دل ہی ہار بیٹھیں
جبکہ سالار شجاعت تو کب کا کسی اور پر اپنا دل تو کیا اپنا آپ نچھاور کر چکا تھا
نور اپنے کمرے میں ہی تھی
سالار کو دادا جان نے اپنے پاس بلایا اور مولوی صاحب سے نکاح
شروع کر نے کا کہا
باقی گھر والے تو سالار کو دیکھ کر سن ہوگئے کہ یہ کیا سالار کا نکاح نور کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ارفعان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے
سب ورطہ حیرت میں ڈوب چکے تھے
ان تمام سوالوں کا جواب وہ ان مہمانوں سے بلکل نہیں حاصل کر سکتے تھے اس لئے وقتی مصلیحت کے تحت خاموش ہوگئے
سالار دستخط کر چکا تھا
دادا جان مولوی صاحب اور چند لوگوں کے ساتھ نور کے کمرے میں داخل ہوئے
نور اس وقت سادہ سی چادر میں گھونگٹ نکال کر بیٹھی ہوئی تھی
مولوی صاحب نے جب نکاح شروع کیا تو نورالعین تو کیا سب کے سب حیران ہوگئے سالار کا نام سن کر۔۔۔۔۔۔۔۔
جب مولوی صاحب نے دوسری برہان پوچھا کہ آپ کو قبول ہے
تو نور کو خاموش پاکر دادا جان نے مان بھرا ہاتھ اسکے سر پر رکھا تو میکانکی انداز میں کب نور نے ہاں بولا اور کب دستخط کئے اسے کچھ خبر نہ ہوئی وہ تو شوکڈ تھی
نکاح کے بعد سب مرد حضرات باہر نکل گئے اور ہال میں آکر سب
ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے
سالار کو جب پتہ چلا کہ عین سائن کر چکی ہے تو سالار فتح و
خوشی سے سرشار اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ عین کو ان
سب کہیں دور لے جائے ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنے میں مشاء سجی ہوئی راہداری سے نور کو لے کر اندر داخل ہوئی۔۔۔
جیسے ہی سالار کی نظر عین پر پڑی تو بنا پلک جھپکائے وہیں کی وہیں ٹھہر گئیں
سارے سالار کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کیونکہ اسکے چہرے پہ محبت دیوانگی جنوں عشق تڑپ اور نہ جانے کیا کچھ تھا نور کے لئے۔۔۔۔۔۔۔
نور آہستہ آہستہ اسکے قریب آرہی تھی اور سالار کی دھڑکنیں بڑھتی جا رہیں تھیں
نور کو بٹھا دیا گیا تھا مگر سالار کھڑا بنا پلک جھپکائے اسے ہی دیکھ رہا تھا
دادا جان اسکی اس حالت پہ بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھنکھارے اور اسے بیٹھنے کو بولا
سالار بغیر ان کو دیکھے نور کو ہی اپنی نظروں میں رکھتے ہوئے
بیٹھ گیا اور اپنا رخ اسکی طرف ہی رکھا
اسے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا کہ دیکھنے والے کیا کہیں گے
وہ تو اسے چمکتے چہرے کے ساتھ تکے ہی جا رہا تھا
نور کو اسکی نظریں محسوس ہو رہیں تھیں وہ سخت گھبرا چکی تھی اور بلکل ٹھنڈی پر رہی تھی
جبکہ سالار اسکے اس روپ کو بہت محظوظ ہو کے دیکھ رہا تھا
یہ ڈریس بھی سالار نے سپیشلی نور کے لئے بنوایا تھا
کوئی بھی انکی فوٹو نہیں لے رہا تھا سوائے مشاء کے وہ بھی سالار کے دیے ہوئے موبائل سے۔۔۔
سالار نے سختی سے سب کو منا کر رکھا تھا کہ کوئی بھی اسکی بیوی کے روپ کو اپنے موبائل میں قید نہیں کرے گا نہ جانے لوگ
کس کس کو یہ تصویریں دکھا ئیں اور کتنی گندی نظریں اسکی پاک بیوی پر پڑیں
سالار نور کے معاملے میں بہت پوزیسو تھا مگر اب تو جیسے اسے کھلم کلھا پرمٹ ہی مل گیا تھا
اس لئے بنا ڈرے ہچکچائے اپنی ہی منوائے جارہا تھا
کافی دیر گزر چکی تھی سب مہمان کھانا بھی کھا چکے تھے
دادا جان نے نور سے کہا کہ جاؤ بیٹا آرام کرلو کمرے میں جاکر تھک گئی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔
نور دادا جان کی بات سن کر جلدی سے ابھی کھڑی ہی ہوئی تھی کہ اچانک سالار نے اسکا ہاتھ پکڑ ا اور بولا کہ
ہاں چلو میں بھی بہت تھک گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ باقی سب دنگ نظروں سے کھڑے کے کھڑے رہ گئے
جاری. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!