54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

‘او۔۔۔۔۔۔۔۔’او۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے کیا ہوا رباب تم ٹھیک تو ہو۔۔۔
مشاء ڈرائیو کر رہی تھی جیسے ہی اس نے بیک ویو مرر سے پیچھے نظر ڈالی تو رباب کو منہ پہ ہاتھ رکھ کے جھکتے ہوئے دیکھا تو پریشانی سے گویا ہوئی
رباب نے میکی سے نظر بچاتے ہوئے آنکھ مار کے اشارہ کیا
میکی اس کی اس حرکت کی طرف متوجہ نہیں تھا وہ تو اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک اسے کیا ہوگیا
‘او۔۔۔۔۔۔ گاڑی روکو ۔۔۔۔رباب نے خراب ہوتی حالت سے دوہری ہوتے ہوئے کہا
مشاء نے فور ا” گاڑی روک دی
نور ڈری ہوئی تھی مگر رباب کی ایکدم سے بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر اسکی فکر میں مبتلا ہوگئی سب کچھ بھول بھال کر اسکی طرف لپکی اور دروازہ ایک جھٹکے سے کھول کر اسکے ساتھ پیچھے آکر بیٹھ گئی اور پریشانی سے اس سے پوچھا
رباب کیا ہوا؟؟؟
کچھ نہیں عینی تمھیں پتہ تو ہے زیادہ سفر کرنے سے اسے وومیٹنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے
مشاء نے اسے اشارے سے سمجھانے کی کوشش کی مگر نور کو تو کچھ بھی سمجھ نہ آیا
چلیں اب اتریں بھی نہ کہ اب میں آپ کے اوپر ہی کر دوں
رباب نے تکلیف سے جھنجلا تے ہوئے میکی سے کہا
جبکہ جاتے ہوئے نور کو ہدایت کرنا نہیں بھولی
تم ادھر ہی بیٹھے رہنا میں مشاء اور میکی کے ساتھ ابھی جاکر آتی ہوں ۔۔۔۔ہونہہ ۔۔۔ہلنا نہیں یہاں سے۔۔۔۔۔!
یہ کہہ کر رباب اتر گئی مگر پیچھے نور لیکن۔۔۔لیکن کرتے رہ گئی
رباب میکی اور مشاء کے ساتھ جنگل کے اندر داخل ہوگئی تھیں
وہ دونوں آگے آگے چلتی جارہی تھیں اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے مشورہ بھی کرتی جارہی تھیں کہ اسکے ساتھ کیا
کیا جائے کہ اس سے ان کی جان چھوٹ جائے
ان دونوں کو آگے ہی آگے بڑھتے ہوئے دیکھ میکی کو کوفت ہو رہی تھی اسکی ساری حسیات تو عینی کی طرف تھیں وہ جلد از جلد اسکے پاس جانا چاہتا تھا تبھی وہ جھنجلا کر ان دونوں سے بولا
اب کیا دوسرے شہر جانے کا ارادہ ہے تم لوگوں کا۔۔۔۔۔؟؟؟!؟
وہ۔۔۔۔وہ نہ رباب کو واشروم بھی جانا ہے نہ تو اس لئے کوئی سیف جگہ دیکھ۔۔۔۔۔
واشروم۔۔۔۔ ہاں تمہارے لئے اسپیشل واشروم تو ہوگا ہی یہاں
جو کرنا ہے جلدی کرو میں یہیں کھڑا ہوں زیرلب بولتے ہوئے اس نے کوفت سے ان دونوں سے کہا
رباب اور مشاء شکر کا سانس لیتی ہوئی آگے بڑھ گئیں
رباب اب کیا کریں ۔۔؟
جب اسکی نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو ایک جھاڑ کے پیچھے چھپ کر مشاء نے اس سے پوچھا
کرنا کیا ہے لڑ تو ہم سکتی نہیں۔۔۔۔۔
بے شک وہ اکیلا ہے مگر ہے تو ایک مرد ہی نہ اوپر سے جان سینا کا بھائی لگتا ہے اگر ہمیں کراٹے وراٹے آتے ہوتے تو کیا ہی بات ہوتی فلمی فائٹر ہیروئن بننے میں ایک منٹ نہ لگاتی۔۔۔۔
رباب نے ہاتھ کا مکا بنا کر ہوا میں لہراتے ہوئے ایک ادا سے کہا
او ۔۔۔۔یہ فلم میکنگ بعد میں کرنا فلحال اس سیچوئشن کا لاسٹ سین یعنی پیک اپ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشاء نے چڑ کر رباب سے کہا جو اس سیچوئشن میں بھی فلموں کی باتیں کر رہی تھی
ہمیں فلموں کی طرح جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا چاہیے
کرنا کیا ہے یہ جو جھاڑیاں ہیں نہ چھوٹی چھوٹی بس اس کو فالو کرتے ہوئے اس میگی دی نوڈلز سے بچتے ہوئے گول گول گھوم کے واپس وہی جانا ہے جہاں سے آئیں تھیں
رباب نے دھیمی آواز میں مشاء کو سمجھاتے ہوئے کہا
او ۔۔۔۔۔۔یعنی کہ یو ٹرن۔۔۔۔۔۔۔۔!
مشاء نے اسکے پورے مضمون کا دو لفظی خلاصہ کیا
ہاں ہاں ۔۔۔۔چلیں اب آپی۔۔۔۔۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے چھپتے چھپاتے چل دیں گاڑی نظر آنے پر بھاگ کر اس میں جا بیٹھیں اور جلدی سے رباب نے کار سٹارٹ کر کے سڑک پر بھگا دی۔۔۔۔۔۔
بنا یہ دیکھے کہ پچھلی سیٹ پر جس عینی کو چھوڑ کر گئی تھیں وہ وہاں ہے بھی یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔!


نور تب سے کار میں بیٹھی آیت الکرسی کا مسلسل ورد کر رہی تھی جب سے مشاء آپی اور رباب اس لڑکے کے ساتھ باہر گئی تھیں
جب کافی دیر بعد ان کی واپسی نہیں ہوئی تو نور یہ سوچ کر کہ کہیں ان کے ساتھ اس لڑکے نے کچھ ایسا ویسا۔۔۔۔۔۔
نہیں نہیں اللہ جی ان دونوں کی حفاظت کرنا۔۔۔
ڈرتے ڈرتے ہمت کرکے کار سے نکل کر اسی رستے پر چل پڑی جہاں پر وہ لوگ گئے تھے ہر طرف اندھیرا تھا اور اسکے پاس کوئی لائٹ بھی نہ تھی
اسی وجہ سے نور بہت زیادہ ڈر رہی تھی اور ڈرتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہی تھی
جب وہ جنگل میں کافی اندر تک جا چکی تو جھاڑی کے پیچھے سے آہٹ سنی اور خوف کے مارے اسکے منہ سے زوردار چیخ نکلی
آااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نے ڈرتے ڈرتے جب اپنی بھینچی ہوئی آنکھوں کو کھولا تو سامنے میکی کو کھڑا دیکھا جو اسے حیرانی سے دیکھ رہا تھا
اسے اپنے سامنے دیکھ کر تو نور کی سانسیں ہی تھم گئیں
تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
او تو تم نہیں گئی۔۔۔۔۔۔
تمھاری وہ دونوں بہنیں مجھے چکما دے کر بھاگ گئیں
۔۔۔۔۔مگر نہیں۔۔۔۔۔۔
تم تو یہیں ہو نہ تو کوئی بات نہیں
مجھے جو چاہیے وہ تو میرے سامنے ہی ہے
میکی نے پہلے تو نور کو دانت پیستے ہوئے غصے سےکہا پھر لوفرانہ انداز میں اسے سر تا پیر دیکھتے خباثت سے بولا
نور تو اسکی اس بات پر ہی کہ”بھاگ گئیں” پر سن ہوچکی تھی
یعنی کہ وہ اتنی رات کو اتنے اندھیرے میں اس جنگل میں اس شخص کے ساتھ بلکل اکیلی ہے
یہ سوچ کر ہی اس کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ چکا تھا
جیسے ہی میکی نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا تو نور ایکدم ہوش میں آئی اسکا ہاتھ اسے کسی سانپ کی مانند لگا
نہ جانے اس میں یکدم سے اتنی طاقت کہاں سے آئی کہ اس نے پیچھے مڑ کر تیز تیز دوڑنا شروع کر دیا
اسے اپنے پیچھے میکی کی دوڑنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں
دل ہی دل میں اللہ سے مدد مانگتے ہوئے دوڑتی جا رہی تھی
دوڑتے دوڑتے نور سڑک پہ آگئی سڑک پر اندھا دھند بھاگتے ہوئے
بار بار پیچھے مڑ کر بھی دیکھتی جارہی تھی
میکی ناجانے کہاں تھا وہ اسے نظر نہیں آرہا تھا
مگر پھر بھی اس نے اپنا دوڑنا جاری رکھا کہ اگر وہ سانس درست کرنے کے لئے ایک سیکنڈ کے لئے بھی رکی تو وہ درندہ اس تک پہنچ جائے گا
ایسے ہی پیچھے دیکھ کر نور دوڑ رہی تھی کہ اچانک سے اسکے سامنے ایک گاڑی تیز سپیڈ میں آرہی تھی اسکی ہیڈلائٹ پڑتے ہی
نور ڈر کر اپنی جگہ جم گئی
گاڑی اسکے ایک انچ بھر کے فاصلے پہ رکی
ایک شخص جلدی سے گاڑی سے نکل کر اسکی طرف لپکا جو ڈر و خوف کے مارے سڑک پر گری بیہوش ہوچکی تھی
اس شخص نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر آس پاس۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اسے اپنے مضبوط بازؤوں میں اٹھا کر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ڈالا اور جلدی سے ڈرائوینگ سیٹ پر بیٹھ کر کار فل
سپیڈ پر روڈ پر دوڑادی۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔