54.1K
45

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

آگئے تم لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی اظفر اور برہان اندر داخل ہوئے ایک گرجدار آواز گونجی وہ دونوں تو ڈر ہی گئے۔۔۔۔۔۔
سامنے دیکھا تو دادا جان کھڑے تھے
ان کے چہرے پہ غصہ صاف صاف دیکھا جاسکتا تھا
جہاں کھڑے ہو وہی کھڑے ہو جاؤ ان دونوں کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر وہی روک دیا
یہ کوئی وقت ہے سیر سپاٹوں کا تم لوگوں کو ہوش بھی ہے کہ اتنی رات گئے کون سے شریف خاندان کے بچے اتنی اتنی رات باہر رہتے ہیں اور اوپر سے سونے پہ سہاگہ یہ کے اپنے ساتھ بچیوں کو بھی لے گئے
بچیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
بچیاں کہاں سے ہیں وہ پوری کی پوری سو سالہ حسین ڈائینیں ہیں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برہان پہلے تو دادا جان کی بات پر حیران ہوا اور پھر غصے سے بڑبڑایا
بچیاں کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
برہان جو کہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھا ان کی بات پر کہ بچیاں کہاں ہیں چونک کر دیکھا
کیا مطلب دادا جان بچیاں کہاں ہیں۔۔۔۔۔
اظفر نے حیرانی اور ناسمجھی سے کہا
میں مشاء رباب اور نورالعین کی بات کر رہا ہوں وہ بھی تو تم لوگوں کے ساتھ گئی تھیں کہاں ہیں وہ۔۔۔۔۔ ۔۔؟؟
اب کے سچ مچ حیران ہونے کی باری دادا جان کی تھی پریشانی سے ماتھے پہ تین لکیریں ابھریں
وہ تینوں تم لوگوں کے ساتھ نہیں آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دا۔۔۔۔۔۔۔۔ دادا جان وہ تینوں تو ہم سے دو گھنٹے پہلے کی نکلی ہوئی تھیں اور پھر ساتھ ساتھ سارا قصہ بھی سنا دیا
اس سارے قصے میں تو دادا جان دو گھنٹے پہ ہی سن ہوگئے
دو گھنٹے پھر وہ اب تک پہنچی کیوں نہیں میں کب سے یہاں ان لوگوں کا انتظار کر رہا ہوں دادا جان تو گھبرا ہی گئے۔۔۔۔۔۔.
اس کا مطلب وہ تینوں کڈنیپ ہو گئی ہیں اظفر کے منہ سے لرزتی ہوئی آواز نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ برہان تو سفید چہرے کے ساتھ مانو جم ہی گیا
پھر جیسے ان تینوں میں کسی نے بجلی بھر دی


ان تینوں لڑکوں نے شراب پی رکھی تھی
وہ لوگ کسی شکاری کی طرح آہستہ آہستہ اپنے شکار کی طرف بڑھ رہے تھے جبکہ چوتھے لڑکے کی نظر تو نور پہ ہی اٹک گئی تھی
وہ اسے سر سے پیر تک دلچسپی سے تکتا جا رہا تھا
جو لرزتی کانپتی ہوئی ٹانگوں اور چہرے پہ خوف اور آنکھوں میں نمی لئے کھڑی ان تینوں کی طرف دیکھ رہی تھی
یہ تینوں تو بے حد گھبرا گئیں
لیکن گھبرا نا اس چیز کا حل تو نہیں
ہم جتنا ڈریں گے جتنا گھبرا ئیں گے یہ اتنے ہی طاقتور بن جائیں گے اگر مقدر میں مرنا ہی لکھا ہے تو کر مقابلہ کر کے مر جائیں گے مگر ان کو خود پہ حاوی نہیں ہونے دینگے
ایسے کیسے ہم اپنے پاک وجود کو ان گندگی کے ڈھیروں میں رلنے دیں ہمیں ان سے مقابلہ کر نا ہوگا مگر ہاتھوں سے نہیں اپنے دماغ سے
یہ سوچتے ہوئے رباب نے اپنے چہرے پہ ہلکی سی مسکان پائی اور ان کی طرف دیکھا اور ہو گئی شروع ایکٹنگ کی سلطان۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او ۔۔۔۔۔۔۔۔ مائ۔۔۔۔۔۔۔۔۔گاڈ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے ہینڈسم۔۔۔۔۔۔او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگ تو بہت کمال کے ہو
اچھا ہوا تم لوگ آگئے ویسے بھی ہم لوگ تو بہت بور ہو رہے تھے
رباب نے ماہرانہ انداز میں ان تینوں لڑکوں کو بیوقوف بنا نے کی چال چلی
یہ سن کر تو تینوں لڑکے حیران ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ابھی تو تم لوگ ڈر رہی تھیں اور دیکھنے میں بھی تم لوگ ایسی ویسی نہیں لگ رہیں
ان میں سے ایک لڑکے نے حیرانی سے کہا
ارے چھوڑ نہ بے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کیا نہیں
ہمارا مطلب تو پورا ہو رہا ہے نہ
دوسرے لڑکے نے ڈانٹتے ہوئے مکاری سے مسکراتے ہوئے کہا
تو چلو نہ جان بہاراوں۔۔۔۔۔۔۔ پھر دیر کیسی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مت تڑپاؤ اپنے عاشقوں کو ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔!
ان تینوں نے بہت ہی بھرے انداز میں قہقہہ لگا یا
وہی تو میں بھی تو یہی کہہ رہی ہو نہ جان کہ چلو چلتے ہیں کسی اچھے سے ہوٹیل میں یہاں کہاں خوار ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ جنگلی جانور یا پھر پولیس ہی آجائے
رباب نے اپنا ایک اور پتہ پھینکا۔۔۔۔۔۔
ارے ہاں بلبل میں نے سوچا ہی نہیں تو چلو چلتے ہیں
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔۔!
مگر۔۔۔؟؟؟ مگر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟
مگر یہ کہ ہماری کار خراب ہو گئ ہے اگر تم لوگ ٹھیک کردو تو چلتے ہیں جلدی۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگوں کو کیا ضرورت ہے کار کی ہماری جیپ ہے نہ اس پہ چلتے ہیں ایک ساتھ پہلے والے لڑکے نے پھر سے کہا
ارے ایسے کیسے۔۔۔۔۔۔ میری اتنی مہنگی اور فیورٹ کار کوئی چور مچکا لے گیا تو
نہیں نہیں میں تو نہیں چھوڑوگی۔۔۔۔۔۔دیکھو نہ اگر تم لوگ ہماری کار ٹھیک کردو گے تو تم بوائز اور ہم گرلز ریس لگا ئیں گے پھر ہوٹل جائیں گے اس طرح وقت بھی جلدی کٹ جائے گا
رباب نے جلدی جلدی بولا
مشاء جو اسے حیران اور پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی
آہستہ آہستہ اسکی کارستانی سمجھتے ہوے تھوڑا پر سکون ہوئی
ہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔
اوئے چل تو کار ٹھیک کر۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے لڑکے نے تیسرے سے کہا جو سنتے ہی کار کی طرف بڑھ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کار ۵ منٹ میں ٹھیک ہو گئی کیونکہ زیادہ مسئلہ نہیں تھا
چلو اب چلتے ہیں رباب نے کہا اور ابھی دو قدم چل کر بڑھی تھی کہ اچانک چوتھے لڑکے کی بھاری گرجدار آواز گونجی
رکو ہم کیسے مان لیں کے تم ہمیں دھوکہ نہیں دوگی
اسکی بھاری گرجدار آواز انکے کانوں میں صور پھونک گئی تھی
د۔۔۔۔۔۔ د۔۔۔۔دھوکا کیوں دینگے ہم تم لوگ ہمارا یقین کرو
رباب نے بمشکل خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا
نہیں میکی بلکل ٹھیک کہ رہا ہے تم لوگ ہمیں چکما بھی دے سکتی ہو۔۔۔۔۔۔ پہلے والے لڑکے نے میکی کی بات کو سمجھتے ہوے فور ا کہا
پھر میکی تو ایک کام کر تو انکے ساتھ کار میں جا ہم تینوں جیپ میں جائیں گے
یہ سن کر تو رباب کے ہوش ہی اڑگئے مگر اسے اپنے حواس بحال رکھنا پڑے ورنہ کچھ اچھا نہ ہوتا انہیں کسی بھی حال میں اپنے آپ کو ان سے محفوظ ہے
پھر خود کو نارمل کرتے ہوئے رباب نے کہا کہ ٹھیک ہے آجائے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
میکی کے ساتھ رباب پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئ اور مشاء اور نور آگے بیٹھ گئیں
نور کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ یو کیا رہا ہے وہ تو آیت الکرسی پڑھنے میں سرگرداں تھی
میکی ان سے موبائل لے کر بند کر چکا تھا جبکہ رباب دماغ میں یہی تانے بانے بن رہی تھی کہ ان سے کییسے جان چڑھائے


یہاں پر سب پریشان ہو چکے تھے گھر میں انکے علاوہ اور کی کو بھی نہیں بتایا تھا
برہان سالار بھائ کو بتانا چاہیے ہمیں۔۔۔۔۔۔۔اظفر نے سوچتے ہوئے کہا
کوئی فائدہ نہیں پہلے میرا خیال وہی گیا تھا مگر وہ میٹنگ کے سلسلے میں لندن گئے ہوئے ہیں
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔