Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 2
Rate this Novel
Episode 2
ہاؤوووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
رباب کی بچی۔۔۔۔۔۔۔
نورالعین ہلکے سبز رنگ کے ریشمی سادہ شلوار قمیض اور اسی رنگ کا دوپٹہ اچھی طرح کندھوں پر پھیلائے ڈارک رنگ کے حجاب میں کھڑی شیشے میں خود کو ایک نظر دیکھ رہی تھی کہ رباب نے ایکدم پیچھے سے آکر ڈرا دیا نورالعین کی تو مانو جان ہی نکل گئی ،وہ تھی ہی ایسی سہمی سہمی سی نازک ڈرپوک گڑیا جیسی۔۔۔۔!
اوئ اللہ کیا کہہ رہی ہے نور۔۔۔ابھی تو میلی شادی بھی نہیں ہوئ اور تم۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔
ہائے اللہ اوئ ماں مر گئ۔۔۔
رباب مصنوعی شرماہٹ سے گل افشانی کر ہی رہی تھی کہ نور نے اسے زور سے دو ہتھڑ مارے
بس کردو رباب بہت ہوگئ تمہاری شرمیلی نوٹنکی ۔۔حد ہوتی ہے
تمہیں تو چانس مل جائے اپنی ایکٹنگ کے جوہر دکھانے کا
نورالعین نے اپنی پیاری اور میٹھی آواز کو غصے کا رنگ دے کر اسکے لتے لئے
ائےےےے۔۔۔۔۔۔ڈونٹ انڈرایسٹیمیٹ دی پاور آف رباب اکبر مرزا کی
شاندار ایکٹنگ۔۔۔۔اور ساتھ ہی اپنی سٹائلش نظر کی عینک کو ناک سے اوپر کیا
واہ کیا انداز تھا(رباب کے خیال میں)
اچھا بس بس صبح ہی صبح نہ دماغ چاٹو میرا کام بتاو کام کیوں اتنی صبح صبح آپ نےاپنی تشریف آوری فرما کر ہم پر اپنا احسان فرما یا ہے
نورالعین نے اسی کے انداز میں اسکی کھلی اڑائ۔۔۔۔۔
تھی تو نور رباب سے چھوٹی مگر دونوں میں پیار اسقدر گہرا تھا کہ لگتا تھا کہ دونوں ٹوئنس ہوں کچھ اثر رباب کے دبلا پتلا ہو نے کا بھی تھا مگر تھی وہ بھی بہت پیاری۔۔
چونکہ اماں جان نے آپکو عشائیہ میں طلب فرمایا ہے نورالعین شہزادی صاحبہ۔۔رباب نے خاصے مخلیانہ انداز میں اپنی ایکٹنگ جھاڑی
افف۔۔۔۔۔۔رباب عشائیہ رات کا ہوتا ہے ابھی تو بریک فاسٹ ہے نور نے اسکے الفاظ کی تصحیح کی
جی جی correcty صاحبہ اب چلییں نہیں تو میری اور آپ ہم دونوں کی اماں جاناوں نے آجانا ہے رباب نے کھسیانہ لہجے میں کہا
ہاں تو چلو دیر تو تم ہی کر رہی ہو اپنی مردہ ایکٹنگ دکھا دکھا کر جلدی جلدی شریر انداز میں کہہ کر نور جھپاک سے باہر نکل گئ اور رباب تو کھڑی اسکی خالی جگہ کو ہی دیکھ رہی تھی پھر ایکدم صدمے بھری آواز میں بولی
۔۔۔۔مردہ ایکٹنگ۔۔۔۔۔۔۔
نوررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
اور یہ گئ نور کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
برہان جو کہ پیچھے دیکھ کر بھاگ رہا تھا اچانک کسی سخت چٹان جیسی چیز سے ٹکرا کر زمین بوس ہوگیا اور سامنے دیکھ کر تو سکتہ ہی طاری ہو گیا
چل ہو گئ بونی تیری برہان صبح ہی صبح۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اوپر ” سالار شجاعت” کی طرف دیکھ کر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔سٹینڈ اپ۔۔۔۔۔۔۔۔
آواز خاصی اونچی تھی
فور”ا ہی برہان ایسے ہی کھڑا ہوا جیسے ایک فوجی کھڑا ہو۔۔۔۔
کیا ہو رہا تھا یہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
اس بار آواز پہلے سے بھی اونچی تھی
وہ بھائ۔۔۔۔۔۔
واٹ بھائ ۔۔۔
ہاں واٹ بھائ۔۔۔۔۔
کب بڑے ہوگے تم۔۔۔؟؟؟
تمہارے اندر اتنی بھی سینس نہیں ہے کہ how to behave۔۔۔!
سوری۔۔۔۔۔
واٹ سوری۔۔۔۔۔۔تمہاری دو مہینے کی پاکٹ منی بند۔۔انڈرسٹینڈ۔۔۔۔؟؟
وہ جو ہٹلر کے آرڈر کو ہونق زدہ انداز میں منہ کھولے سن رہا تھا ایکدم بولا جی۔۔۔۔۔۔جی سر۔۔۔۔۔۔
واٹ۔۔۔؟؟؟؟
جلدی جلدی میں اسکے منہ سے سر نکل گیا
و۔۔۔وہ ۔۔۔بھائ ۔۔۔۔مطلب جی بلکل انڈرسٹینڈ بھائ۔۔۔۔!
سالار اپنے پورشن کی طرف بڑھ گیا
جبکہ اظفر تو کب کا موقع پاکر غائب ہو چکا تھا
اور اب برہان صاحب دکھی آتمہ کا صحیح صحیح رول نبھا رہا تھا
پیچھے سیڑھیوں پہ کھڑی نور نے یہ سب ناگوار اور بےزار بھری نظروں سے دیکھا نہ جانے خود کو کیا سمجھتے ہیں
نور ۔۔۔۔۔
ہہںاں ۔۔۔ہاں ۔۔۔
نور جو خود سے ہی باتوں میں مگن تھی رباب کے اچانک بلا نے پر ہڑبڑا گئ
کیا ہوا۔۔۔۔؟؟؟
نہیں کچھ نہیں چلو ناشتہ کرتے ہیں
ہاں چلو یار مجھے تو بہت بھوگ لگ رہی ہے۔۔
ہو۔۔۔۔۔ہو ہو ہو۔۔۔۔۔۔ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب تک ہے جاں جان جہاں میں بانٹوگی۔۔۔۔میں بانٹوگی۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔ہاں میں بانٹوگی اس وقت رات کے ۹بج رہے تھے برہان،رباب اور مشاء نورالعین کے کمرے میں بیٹھ کر اظہار افسوس کر رہے تھے مگر رباب میڈم کا تو الگ ہی اسٹائل تھا افسوس کرنے کا اسی لئے وہ گا نے کی ٹانگیں بہت اچھے سے توڑ رہی تھی۔۔
کیا بانٹوگی۔۔۔؟؟؟
برہان نے حیران سے پوچھا
ارے وہی یار جو آجکل تم پہ کچھ زیادہ ہی چڑھا ہوا ہے ۔۔۔۔
کیا چڑھا ہوا ہے؟؟؟؟
۔۔۔۔غم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تینوں لڑکیوں نے ایک ساتھ کہ کر قہقہے لگائے۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔
جبکہ برہان ناراض نظروں سے تینوں کو گھور رہا تھا
اچھا بس۔۔۔۔۔اب کوئ میلے پیالے بھائ کو تنگ نہ کرے نور نے دلارے انداز میں اپنے پیارے اور لاڈلے بھائ کی ہمیشہ کی طرح سائڈ لی
بس بس دیکھ لیا تمہارے پیارے بھائ کے لئے تمہارا پیار پہلے میری ان دونوں کے ساتھ مل کر ٹانگیں کھینچتی ہو پھر ہمیشہ کی طرح اینڈ میں پیارا بھائ یاد آجاتا ہے برہان نے خشمگیں نظروں سے نور کو دیکھا
ہاہاہا۔۔۔۔۔ویسے کیا سین تھا جج۔۔۔۔۔۔جی ۔۔۔۔۔۔سر۔۔۔ہاہا۔۔۔۔۔
یہ مشاء تھی جو ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی اور اسکا ساتھ رباب زور و شور سے نبھا رہی تھی یہ چاروں ہمیشہ کی طرح بیٹھ کر کافی دیر سے باتوں میں مگن تھے اور ان کا موضوع خاص برہان کی آج کی کلاس تھی وہ بھی سالار شجاعت کے ہاتھوں
بس بہت ہوگیا میں جارہا ہوں۔۔۔۔جب سے دیکھو مجھ پہ ہنستے ہی جا رہے ہو جب مجھ سے کام پڑے گا نہ میں بھی ایسے ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔کروں گا دیکھ لینا وعدہ ہے میرا تم سب سے قسم سے یہ کہ کر وہ فور”ا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
کردیا نہ میرے بھائ کو ناراض اب میں بھی آپ دونوں سے ناراض ہوں اور اب مجھے سونا ہے نورالعین نے نروٹھے انداز میں رباب اور مشاء سے کہا۔۔۔۔ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلیں آپی بے بی نے فیڈر پی لیا ہے۔۔۔اب بے بی کو نی نی آ رہی ہے۔۔۔۔بائے بےبی اچھے سے نی نی کرنا۔۔۔۔۔ہاں ٹھیک ہے گڈ نائیٹ مشاء نے بھی رباب کی تقلید کرتے ہوئے اپنا فرض نبھایااور دونوں بھاگ کے نور کے کمرے سے نکل گئیں جبکہ نور تو دروازے کو ہی گھورے گئی جیسے ان دونوں کو گھور رہی ہو
ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تو چلی سونے اپنے اوپر بلینکٹ لے کر آنکھیں بند کر لیں اور جلد ہی اپنی خوابوں کی دنیا میں گم ہو گئ
رات کے دو بج رہے تھے اور نورالعین گہری نیند میں حال سے بیگانہ سو رہی تھی جب اسکے روم کا دروازہ کھلا اور کوئ چل کر بیڈ کے پاس آیا دروازہ وہ پہلے ہی لاکڈ کر چکا تھا بیڈ پہ نور دنیا سے بیگانی محو خواب تھی اس نے اسکے چہرے سے بلینکٹ ہٹایا تو نظریں وہی ساکت ہو گئیں دائیں طرف کھلی کھڑکی میں سے آتی چاند کی روشنی میں نور کا چہرہ حسیں سے حسیں تر لگ رہا تھا اسکی لمبی مڑی ہوئ گھنی پلکوں کا اپنے ہی چہرے پہ سایہ تھا جو نہایت دلکش لگ رہا تھا
سالار اس منظر میں گم ہی ہو گیا
آہستہ سے وہ نور کے سرہانے ٹک گیا اور ٹکٹکی باندھ کے نور کے چہرے کو اپنے دل میں سمونے لگا
سالار تھوڑا سا جھکا اور پھر اس کے ماتھے پہ اپنے پیاسے لب رکھ دیے
نور تھوڑا سا کسمسائ اور پھر سے سو گئ
وہ اسکے کان کی طرف جھکا اور دھیرے سے اس کے کان میں سرگوشی کی
چلتا ہوں عین آخر تمہارے خواب میں تم سے ملنے بھی تو جانا ہے نہ جہاں تم میرا انتظار کر رہی ہو اور کان کی کو کو چوم لیا
ایک نظر بھر کر اسے دیکھنے کے بعد دروازہ بند کر کے اپنے پورشن کی طرف چل دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری۔۔۔۔!
