Ziddi Junoon By Naina Khan Readelle50224 Episode 1
Rate this Novel
Episode 1
لندن میں جہاں اس وقت رات کے دو بجے تقریبا سب سو چکے وہاں ایک انسان رننگ مشین پر فاسٹ سپیڈ پر دوڑ رہا تھا
چھ فٹ سے نکلتا قد ،سفید کسرتی جسم،کالی گہری سرد وحشت سے بھرپور خوفناک آنکھیں ،کھڑی مغرور ناک اور کالے گھنے سیاہ بال کشادہ خوبصورت پیشانی پہ بکھیرے ان میں چھپیں لکیریں اسے کسی سوچ میں گم کا پتہ دے رہی تھیں
وہ اس وقت گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک آتے شارٹس میں تھا
پورا جسم اسکا پسینے سے شرا بور تھا
پسینے کے چمکتے قطرے اسکے سفید جسم پر اس طرح گر رہے تھے کہ جیسے وہ شاور کے نیچے کھڑا ہو
اسکی برہنہ پشت پر درمیان میں بلیک اسکارپین( بچھو )ٹیٹو بنا ہوا تھا
اسکے پیچھے کھڑے دو ملازم کھڑے تھے جن کے ہاتھوں میں تولیہ اور ٹومیٹو جوس تھا دونوں حیران نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے کہ تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ہو چکا تھا اسے اس مشین پر دوڑتے ہوئے مگر اس کا زرا سا بھی سانس نہ پھولا تھا ابھی وہ دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک جم روم کا دروازہ کھلا اور ایک سانولے رنگ کا درمیانے قد کا سوٹڈ بوٹڈ آدمی اندر داخل ہوا اور آتے ہی اس کو مخاطب کر ڈالا
سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ہماری کمپنی کی انفارمیشن کوئ سہیل خان کی کمپنی کو دے رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ کون ہے۔۔۔۔۔اس نے جلدی جلدی سے اسے بتایا
یہ اسکے سیکریٹری کریم کی جگہ عارضی طور پر نیا نیا اپوائنٹ ہوا تھا
جہاں اس نے جملہ مکمل کیا وہی اسکے دونوں ملازموں کے چہروں پر خوف کے تاثرات صاف صاف دیکھے جا سکتے تھے ان دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنے مالک کی طرف دیکھا جو رننگ مشین پر سے اتر چکا تھا اسکی پشت ان تینوں کی طرف تھی اس لئے یہ اسکے تاثرات نہیں دیکھ پا رہے تھے
سیکریٹری ابھی اس انتظار میں تھا کہ اس کا باس اتنی بڑی خبر سن کر اس سے خوش ہوگا اور اسے انعام سے نوازے گا
وہ بہت خوش تھا اور اسکے بولنے کا بے تابی سے منتظر تھا
کہ تبھی ایک بلند ٹھنڈی برف جیسی سرد آواز آئ
نادر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ج۔۔۔۔۔جج۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔جی مالک حکم
نادر ڈرتے ڈرتے اسکے قریب گیا اور اسکا حکم سنا اور افسوس بھری نگاہ اس سیکریٹری پہ ڈال کہ باہر نکلتا چلا گیا جبکہ سیکریٹری حیران تھا کہ اتنی بڑی خبر سن کر اس کا باس کچھ کہہ کیوں نہیں رہا ابھی وہ اسی سوچ میں الجھا ہوا تھا کہ نادر نےایک ملازم کی مدد سے ایک برتن فرش پہ رکھا تھا اور پھر انہوں نے اسے اپنی طرف آ تے دیکھا تو سیکریٹری سر جھٹک کر اسکی طرف متوجہ ہو گیا
اپنے مالک کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوے نادر نے نے سیکریٹری کا منہ پکڑ کے گرم پانی اسکے منہ میں انڈیل دیا سیکریٹری تو بلبلا ہی گیا اسکا منہ جل چکا تھا اور اسکے آنسو نکل رہے تھے پھر نادر نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کے گرم پانی والے برتن میں ڈال دیے جس سے اس کی تکلیف اور بڑھ گئ اور وہ تکلیف سے بری طرح مچلنے لگا
جبکہ سیکریٹری کی تکلیف دیکھ کر اس کو سکون محسوس ہو رہا تھا پھر وہ دو قدم آگے بڑھا اسکے روبرو آکے تھوڑا نیچے جھکا اور دھیمی سرد آواز میں اس سے بولا
تم۔۔۔۔۔۔۔۔نے۔۔۔۔۔۔۔۔میری۔۔۔۔۔۔سوچ۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔دخلاندازی کی
اور وہ بھی بنا میری اجازت کے اوپر سے ایک اور غلطی بنا دستک کے تم اندر آئے تو آئے کیسے
پھر وہ نادر کی طرف بڑھا اور بولا
کریم سے کہنا کہ آئندہ “سالار شجاعت “کے لئے کسی کو بھی رکںھنے سے پہلے اچھی طرح دیکھے کہ وہ اس قابل ہے بھی۔۔۔۔۔۔۔
ایک سرد نگاہ اس سیکریٹری پہ ڈال کہ وہ باہر نکلتا چلا گیا اور جا کر اپنے کمرے میں بند ہو گیا
نادر جانتا تھا کہ اب یہ اپنے غصے کا علاج کر نے گیا ہو گا اور پھر یہ علاج اسے کافی دیر بعد اسے جان بخشی دے گا اور پھر اس نے اپنے ساتھی ملازم نواز کی مدد سے اسے اٹھایا اور باہر چل دیا کہ اب انہیں بھی نیند نصیب ہوگی کیونکہ جب تک سالار شجاعت جاگ رہا ہے تو دوسرا کوئ کیسے سو سکتا ہے
اور ادھر سالار شجاعت نے اپنے کمرے میں آکر وارڈروب کھولی اور پھر اس کا لاکڈ دراز کھول کر اس میں سے اس نے نہایت پیار سے نرم ہاتھوں سے گلابی رنگ کا ریشمی آنچل نکالا اور پھر اس کی خوشبو نتھنوں کے زریعے اپنے اندر اتارنے لگا اور پھر ایسے ہی چلتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھا اور سیدھا لیٹ گیا اور دوپٹے کو کھول کر اپنے چہرے پہ پھیلا لیا اور پھر آنکھیں موند لیں ایسا کر سے اسے سب بھول گیا
وہ کہاں ہے؟؟؟؟
کس حالت میں ہے؟؟؟؟
کیا کر کے آ رہا ہے؟؟؟؟
کچھ یاد نہ رہا تھا…….
اس سے اس پر عجیب سا احساس طاری ہو چکا تھا اور اسے مدہوش کر دیا تھا
اور پھر آہستہ آہستہ کسی الگ ہی دنیا میں پہنچ کر اس دنیا سے مکمل طور پر غافل ہو گیا
یہی تو تھا اسکے غصے کا علاج۔۔۔۔۔۔۔!
جدید طرز کے لان میں ہر قسم کے موسمی اور غیر موسمی بے تحاشہ پھول پودے اپنی چھب دکھلا رہے تھے
رات میں ہوئ بارش نے ان پر اپنا جادو چھوڑ رکھا تھا
یوں معلوم ہو رہا تھا کہ دن کے سمے ڈھیر سارے جگنوؤں نے اپنا دھاوا بول دیا ہو ننھے ننھے شبنم کے قطروں کی صورت۔۔۔۔۔
مالی صبح صبح اپنے فرض سے سبکدوش ہو رہا تھا
لان کے درمیان میں شاندار محل نما سفید کوٹھی مضبوطی سے اپنے پیروں پر کھڑی تھی جس کے اوپر بہت بڑا شیر کا خوبصورت چہرہ تراشا گیا تھا جو کاریگر کے ہاتھوں کا منہ بولتا ے مثال ثبوت تھا
یہ تھا مرزا سکندر کے خوابوں کا جہاں” خواب جہاں”جہاں پر بہت سے خواب بستے تھے جو کہ اس میں بسنے والوں نے بسائے تھے
مرزا سکندر پاکستان کے ایک جانے مانے بزنس مین تھے اور اب ان کا بزنس ان کے بچے سنبھال رہے تھے ان کی پانچ اولادیں تھیں چار بیٹے اور ایک بیٹی آصفہ سب کی چہیتی تھیں گھر میں کوئ ایسا نہیں تھا کہ ان کے منہ سے نکلا ہوا کوئ بھی حکم ٹالا ہو مگر اس کے باوجود ان کی طبعت میں کسی قسم کی خودسری تک نہ پائ جاتی تھی ان کی شادی انہوں نے اپنے بزنس فرینڈ کے بیٹے ملک سلطان سے کر دی تھی ان کی دو اولادیں تھیں ایک بیٹا ارفعان جو کہ MBA کی ڈگری حاصل کر کے اپنے باپ کے بزنس میں دنیا کو منوانے کے جنوں میں تھا ایک بیٹی مشعال جو یونیورسٹی طالبہ تھی
مرزا سکندر کے بڑے بیٹے صدیق مرزا اور ان کی بیگم نجمہ صدیق کی چار اولادیں تھیں ہارون، نعمان شادی شدہ تھے جبکہ برہان اور ثناء یونیورسٹی کے تھرڈ ایئر میں تھے
ان کے دوسرے بیٹے اکبر مرزا اور ان کی بیگم حورم کی دو اولادیں تھیں مشاء اور رباب دونوں ہی بہت پیاری تھیں مشاء نے تو سمپل بی اے کر کے تعلیم کو خیرآباد کر دیا تھا جبکہ رباب تھرڈ ایئر میں تھی
مرزا سکندر کے تیسرے اور قدرے غصیلی طبعت کے بیٹے وجاہت مرزا اور ان کی بیگم نسیمہ کی ایک ہی اولاد تھی عمر جو کہ ان کے بزنس میں ہاتھ بٹاتا تھا عمر سنجیدہ اور خاموش طبعت کا مالک تھا مگر سب سے میل جول رکھتا تھا
مرزا سکندر کے چھوٹے بیٹے اسلم مرزا اور ان کی بیگم شمائلہ کی ایک ہی اولاد تھی نورالعین جسے سب پیار سے نور اور عینی بلاتے تھے نور بہت ہی حسین دوشیزہ تھی یا یوں کہا جائے کہ وہ اس محل کی خوبصورت ترین لڑکی تھی تو بے جا نہ ہو گا
گھٹنوں تک آتے کالے سیاہ ریشمی خوبصورت بال جن کو نور حجاب میں چھپا کر رکھتی تھی، سفید دودھ جیسی گلابی رنگت، مناسب قد و قامت، چھوٹی سی صاف پیشانی، بڑی بڑی سبز کانچ سی روشن آنکھیں جو کبھی گھنی اور لمبی سیاہ پلکوں کی اوٹ میں چھپ سی جاتی تھیں،پھولے پھولے کسی چھوٹے بچے کی مانند گلابی گال جسے دیکھ کر کھینچنے کا من کرے ،چھوٹے سے نرم و نازک بھرے بھرے خوبصورت کٹاؤ کے حامل لب اور ان کے نیچے بلکل ساتھ کالا تل جو کہ شائد قدرت نے اسکی نظر اتارنے کے لئے بنا یا تھا مگر یہ تو سونے پہ سہاگہ کا کام کرتا تھا
نور نماز کی پابند تھی اور صبح صبح قرآن پاک کی تلاوت اپنی میٹھی سی آواز میں روز کرتی تھی
نور کالج میں بارہویں جماعت میں پڑھتی تھی
نور کو کوکنگ کا بہت شوق تھا مگر سب اسے کچن میں گھسنے تک نہ دیتے تھے کہ کہیں اپنا ہاتھ ہی نہ جلا بیٹھے
اس محل میں بسنے والوں میں ایک فرد اور بھی تھا اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس محل کا حقیقی بادشاہ تھا تو زیادہ بہتر ہوگا
سب ینگ پارٹی پر اس کا دبدبہ تھا ایک رعب اور خوف قائم کر رکھا تھا ان سب پر۔۔۔۔۔۔۔
برہان نے اس کا نام ہٹلر تجویز کیا تھا اور پھر خود ہی کہتا تھا کہ یہ تو ہٹلر سے کہیں آگے کی چیز ہے
دادا کا چہیتا، انکا لاڈلا، ان کی جان تھا وہ۔۔۔۔۔
ان سب سے بڑا پینتیس سالہ حسین و جمیل وجاہت سے بھرپور شہزادوں سی آن بان رکںھنے والا” سالار شجاعت”۔۔۔۔۔۔
شجاعت اسکے دادا کا نام تھا سالار اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ شجاعت ہی لگاتا تھا کیونکہ اسے اپنے باپ محمود شجاعت سے بے حد نفرت تھی کیونکہ انہوں نے ایسی عورت سے شادی کی تھی جو ماں کہلانے کے قابل ہی نہ تھی ایسا سالار شجاعت کا ماننا تھا ایسا کیوں تھا اس کی وجہ کسی کو معلوم نہ تھی سوائے مرزا سکندر اور خود سالار شجاعت کے۔۔۔۔۔۔
کہنے کو تو سالار مرزا سکندر کے چھوٹے بھائ کا پوتا تھا مگر انہوں نے اسے اپنا سگا پوتا مانا تھا جس وجہ سے اسے سپیشل ویلیوز بھی دیتے تھے جو کہ گھر کی ینگ پارٹی کو زرا ہضم نہ ہوتا تھا
برہان تو کچھ زیادہ ہی خار کھاتا تھا ویسے تو برہان شوخ و چنچل لڑکا تھا مگر وہ ہٹلر سے بہت چڑتا تھا کیونکہ اسکے زیادہ تر عتاب کا شکار بھی وہی بنتا تھا
(بدقسمتی سے)
سالار گھر میں کم کم ہی پایا جاتا تھا زیادہ تر بزنس میٹنگ کے سلسلے میں بیرون ملک ہی رہتا تھا ابھی بھی اسی کام کے لئے گھر میں موجود نہیں تھا
بلکہ دفعان ہوا تھا بقول برہان کے اسی لئے خواب جہاں میں گونا سکون ہی سکون تھا اور اس وقت بادشاہ برہان صدیق دی گریٹ کا راج تھا اور اپنی شرارتوں اور شیطانیوں سے سب کی ناک میں دم کر رکھا تھا اس وقت بھی وہ اپنے خالہ کے بیٹے مانو بلے اظفر کے ناک و چنے چبوا رہا تھا اظفر برہان کے بچپن کا گہرا دوست تھا جو کہ پڑھائ کے سلسلے میں ملتان سے اسلام آباد ان کے محل میں تھا
برہان اسے مانو بلے کے نام سے پکارتا تھا وہ تھا ہی بلے جیسا موٹا سا۔۔۔۔
اظفر کا پسندیدہ مشغلہ کھانا کھانا کھانا اور صرف کھانا ہی تھا اسکا ماننا تھا کہ اللہ تعالہ نے پیدا ہی کھانے کی ریسرچ کے لئے کیا ہے تاکہ ہم مختلف مزے مزے کے بہت سارے کھانوں پر ریسرچ کر کے رپورٹ پیش کریں کہ جنت کہ مینیو میں کون کون سے کھانے ایڈ کر نے چاہیے
ایسی شاندار منطقیں مانو بلہ ہی ایجاد کر سکتا ہے یہ برہان کا ماننا تھا۔۔۔۔
اس محل کا ایک پورشن ان کے لئے مختص کیا گیا تھا
چونکہ آج اتوار تھا اس لئے سب سو رہے تھے
برہان دی گریٹ دبے پاؤں اپنے بستر سے اٹھا کہ اظفر جاگ نہ جائے یہ انکا مشترکہ کمرہ تھا
برہان سیدھا باتھروم میں گیا اور ڈرار میں سے کبوٹ برش اٹھایا اور واپس روم میں آیا اپنے شکار پر نظر جمائے بیڈ کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں مانو بلہ محو استراحت تھا جس کہ خوبصورت سے مگر بڑے من پر شرما دینے والی ہلکی سی مسکان سجی تھی
ایک شیطانی مسکراہٹ برہان کے چہرے پہ بھی پھیلی ہوئ تھی
اظفر کے پاس پہنچ کر برہان نے برش اٹھایا اور اسکی گردن پر آہستہ آہستہ پھیرنے لگا دوسرا ہاتھ اس نے اپنے منہ پر رکھا تھا اپنی ہنسی کو روکنے کے لئے
جبکہ دوسری طرف مانو بلہ اپنی خوبصورت نازک سی گردن (بقول اظفر کے)پر کسی حسین لڑکی کے بال محسوس کر رہا تھا اور اپنی مسکراہٹ پر احسان کرتے ہوئے اسے اور پھیلا رہا تھا
ہی ہی ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے۔۔۔۔۔۔۔امم۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے جان اظفر یہ کیا کر رہی ہو رہا ہا ہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔۔اوئے اللہ نہ کرو نہ شکیرہ جان گد گدی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہی ہی ہی۔۔۔۔۔۔۔بڑھی مشکل سے مانو بلہ نیند میں بول رہا تھا جبکہ. برہان کا تو اپنے آخری بوائلنگ پوائنٹ پر ابلتے ہوئے قہقہے روکنے ناکام لگ رہے تھے
شکیرہ بےبی۔۔۔۔۔۔۔ہائے جانو اپنی بےبی کی جان لوگی کیا
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بس پھر کیا تھا برہان کا ضبط جواب دے گیا اور یہ پھٹا ڈھول (بقول اظفر کے) اور یہ پھرا پانی مانو بلے کے حسین خواب پہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اوئے تو کیوں منہ پھاڑ پھاڑ کے ڈنٹونک کا اشتہار بن رہا ہے اظفر نے اپنے دیدے پھاڑ کے برہان کو گھور کے دیکھا جس کا خوبصورت چہرہ ہنس ہنس کے لال و لال ہو چکا تھا
شش۔۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔۔شکیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاہاہا تو شکیرہ کو خواب میں دیکھ رہا تھا بڑی مشکل سے اپنی ہنسی کو قابو کرتے ہوئے برہان نے اس سے پوچھا جبکہ اظفر یہ سن کر تو ایسا شرما یا کہ مانو اسکے سامنے برہان نہیں بقلم خود شکیرہ بےبی کھڑی ہوں۔۔۔۔
اور یہ دیکھ کر تو برہان کے پھر سے قہقہے ابل پڑے ہاہاہا۔۔۔۔۔
اظفر حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا پھر بولا
ہاں ں ں ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تجھے جیلسی فیل ہو رہی ہے نہ کہ شکیرہ بےبی نے تجھے جو شرف نہیں بخشا اپنی ہوائ کالر کھڑے کرتے ہوئے اظفر نے غرورانہ انداز میں کہا
اچھا اااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تجھے پھر سے شکیرہ کا شرف حاصل کر نا ہے اظفر رررر۔۔۔۔۔۔۔
نہایت ہی پیار سے پوچھا گیا
کیا مطلب۔۔۔۔۔اظفر الجھا
مطلب یہ۔۔۔۔۔برہان نے اپنی کمر کے پیچھے سے برش نکالا اور پھر سے اس کی گردن پر پھیرنے لگا اس طرح اسے پھر سے گد گدی ہوئ اور وہ ہنسنے لگا اور پھر جب برہان دی گریٹ کا کارنامہ سمجھ آیا تو
امی ی ی ی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمینے انسان تونے مجھے گنے برش سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یک۔۔۔ ای ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔۔یو۔۔۔۔۔۔
تو رک برہان تجھے تو میں ابھی بتاتا ہوں اظفر برہان کو پکڑ نے کے لئے اٹھا جبکہ برہان تو نیچے بھاگ چکا تھا
نیچے ڈائننگ ہال سے منسلک کچن میں تمام خواتین ناشتہ بنا رہی تھیں اور ان دونوں کو ایک نظر دیکھ کر پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگئں
ارے رک جاو برہان۔۔۔۔حورم بیگم نے کام میں مصروف ہوتے ہوئے برہان سے کہا
ارے چاچی میں تو رک جاوں پہلے اس چپڑ گلے کو تو کسی طرح رکوائیں۔۔۔۔۔۔۔برہان نے اظفر سے بچتے ہوئے کہا
اظفر کے ہاتھ میں وہی برش تھا کہ اب بدلہ تو لے کر ہی رہنا ہے
کیا اااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
کیا کہا تونے؟؟؟؟؟؟
رک تجھے تو میں ابھی بتاتا ہوں۔۔
بچاؤ۔۔۔۔مج۔۔۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
جاری
