No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
وہ شیشے کے سامنے کھڑی پریشے کے بالوں کو برش کر رہی تھی، یہاں آۓ اسے ایک ہفتہ ہونے والا تھا، پریشے منہ بناتی سکول نا جانے کی ضد کر رہی تھی۔ اور وہ اسے سمجھا رہی تھی اور ساتھ جلدی جلدی تیار کر رہی تھی۔ وہ واشروم سے وردی پہنے نکلا تھا۔ سائیڈ ٹیبل پر اسکا موبائل کتنی دیر سے بج رہا تھا۔ جسے اسنے اُٹھایا۔ اور کان سے لگایا۔ دوسری طرف حسنین تھا۔۔۔
“ہاں تم وہاں پہنچوں میں آرہا ہوں” وہ موبائل پر اسے کہتے ڈریسنگ کے سامنے آیا اور ڈرائیر پکڑ کر بالوں کو ڈرائی کرنے لگا۔ پریشے کو مکمل تیار کرتی نیہا نے اب جلدی سے بالوں کی پونی کی، اور جوتے پہنے لگی،
“بابا مجھے نہیں جانا” پریشے اسفندیار کے گلے کا ہار بنی مصومیت سے چہرا پھلاۓ نا جانے کے بہانے بنا رہی تھی۔۔۔
“تمہاری ماما جان لے لے گی” اسفندیار اسکی ناک دباتے ہوۓ بولا۔
“آپ بولو نا پلیز بس آج ایک چھٹی، مجھے سونا ہے” وہ منت بھرے لہجے میں بولی۔۔ اسفندیار نے ایک ہفتے میں جنتے نخرے پریشے کے اُٹھاۓ تھے، شائد ہی کسی نے اُٹھاۓ ہوں۔۔۔ وہ پچھلے پانچ سالوں کی کمی پوری کر دینا چاہتا تھا۔
“پری بچے سکول جانا ضروری ہے نا، ایک کام کرتے ہیں، آج شام کو سات بجے ہم تینوں ڈنر کرنے باہر جائیں گے اوکے، اور آئی پرامسس آئی کریم بھی کھلاؤں گا” اسفندیار نے اسے بہلانا چاہا۔۔۔۔
“اوکے پھر مجھے وہ پرنسس ڈول بھی لے کر دو گے جو میں نے آپکو کل دیکھائی تھی “
“پرامسس سب لے دوں گا اور اب سے آپ ماما کو سکول جانے پر تنگ نہیں کرو گی، جو چاہیے بابا لا دیں گے” اسفندیار نے اسکی ناک دباتے ہوۓ سر کو چوما۔۔۔۔۔ اور نیچے اترارا۔ وہ اپنا بیگ پہنے لگی۔۔ نیہا نے سر پر ڈوپٹہ لیا اور کندھوں پر شال لی۔۔
” چلیں؟” اسفندیار بازو پر گھڑی پہنتے ہوۓ نیہا کو تکتے ہوۓ بولا۔ جو کندھے پر بیگ ڈالے مکمل تیار تھی۔ اسنے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ وہ پریشے کا ہاتھ پکڑتے کمرے سے نکلا۔ نیہا نے کمرے کی لائیٹ آف کی اور انکے پیچھے آئی۔ تینوں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔۔ اسفندیار پریشے سے کچھ بات کرتے ہنس رہا تھا۔ نیہا دونوں کو مسکراتے دیکھ رہی تھی۔ وہ ایک ہیپی فیملی لگ رہے تھے، پریشے کی ہیپی فیملی جس میں اسکی ماما اور بابا اسکے ساتھ تھے، اب اسکے پاس وہ گھر تھا جہاں اسکا اپنا کمرہ تھا۔ اور سب سے بڑھ کر اسکا بابا اسے مل چکا تھا۔ وہ اس دن سے ہر وقت ہسنتی مسکراتی ہی ملتی نیہا کبھی کبھی اس پر نظر کا دم کر دیتی، وہ چڑچڑی پریشے سے اب ہنس مکھ پریشے بن چکی تھی، اسفندیار روز رات کو دونوں کے ساتھ واک پر جاتا۔ پریشے کے ساتھ کھیلتا، اس گھر کی فضا جو پانچ سال سے مرجھائی ہوئی تھی اب کچھ دنوں میں رونق سی بکھر گئی تھی، ہارون اور راحیلہ اب پرسکون تھے، پریشے نے اس گھر کی رونق میں چار چاند لگاۓ تھے۔
نور نیچے تیار کھڑی تھی، ناشتہ سب نے پہلے ہی کر لیا تھا۔ وہ ان چاروں کو لیے گھر سے نکلا۔۔ پریشے کو پہلے سکول ڈراپ کیا۔ اسکے بعد رخ ہسپتال کی طرف بڑھایا۔ نیہا اور نور نے وہ ہسپتال چھوڑ دیا تھا۔ نشنل ہسپتال تو پہلے ہی بند ہو چکا تھا۔ اسفندیار نے کاروائی مکمل کی اور اس ہسپتال کے ڈاکٹر احد اور کئی نرسس کو اپنی حراست میں لیا۔ جو نشنل ہسپتال کے ساتھ ملے ہوۓ تھے۔ اور اب اس ہسپتال کو بھی کسٹڈی میں لیا گیا تھا۔ اس پر کوٹ کی کاروائی ہونی تھی۔۔۔۔۔ نور نیہا اور علیزے نے ایک دوسرے ہسپتال میں جاب شروع کر دی۔۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال پہنچے.. نیہا اور نور کو ہسپتال اتار کر وہ تھانے کی اُور چل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*
بلاج کی فیملی دوبارہ بلاج ولا شفٹ ہو گئی، سب پہلے جیسا ہو گیا تھا۔ میرال اور بلاج کسی کی شادی میں گے تھے، حیام کچن سے چاۓ کا کپ لے کر گارڈن میں سمیر کو لیے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
مین گیٹ سے ساحل کی گاڑی اندر آئی۔۔۔۔ ساحل کی گاڑی اس وقت دیکھ کر وہ حیران ہوئی شائد کوئی چیز لینے آیا ہو۔۔ وہ جیسے ہی باہر آئی ساحل کے ساتھ وسیم کو دیکھا جو گاڑی سے اترتے اسکی طرف آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔وہ وہی رک سی گئی۔ اسکے چہرا بے تاثر تھا۔۔۔ وسیم چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔۔۔
“کیسی ہو؟” بس یہی الفاظ وسیم کے منہ سے نکلے۔۔۔۔
“ویسی نہیں جیسی بیچ کر گے تھے” وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔ وہ سمیر کو کندھے سے لگاۓ اندر جانے کے لیے کھڑی ہوئی۔
“حیام بات کرنا چاہتا ہے، سن لو” ساحل نے اسے بازو سے پکڑتے روکا اور سمیر کو اس سے لیے اندر بکی طرف بڑھا تا کہ دونوں بات کر لیں۔ وہ دونوں بازو لپیٹتے ہوۓ کھڑی تھی۔۔۔کہ بات کرو جو کرنی ہے
“جانتا ہوں جو کیا وہ کسی گناہ سے کم نہیں تھا۔ اپنی ہی بہن کو پیسوں۔۔۔۔۔۔۔” وسیم نے ہمت جمع کر کے بولنا شروع کیا۔۔۔۔اسکی آواز کپکپائی۔۔۔۔۔
“اپنی بہن کو پیسوں کی خاطر بیچا بات پوری مکمل کریں نا” وہ تلخ لہجے میں بولی۔۔ وسیم کی نظریں جھک گئیں۔۔۔
“اسی بات پر دن رات شرمندگی میں گزراتا ہوں، جانتا ہوں معافی کے قابل تو نہیں ہوں، پر تم میری بہن ہو، امی کتنی تھیں تمہارا دل بہت برا ہے، تمہیں یاد ہے تم ہر چیز مجھے دینے کو تیار رہتی تھی، اب معافی بھی دے دو، میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ میری زندگی پرسکون گزرے اور اس میں میں اپنی بہن کا ساتھ چاہتا ہوں تم مجھے معاف کر دو میری غلطیوں کے لیے،” وہ نظریں جھکائے ہی سب بول رہا تھا حیام کی انکھوں میں لگاتار انسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔ یہ وہ وسیم تو نہ تھا جو پانچ سال پہلے ہوا کرتا تھا یہ تو بالکل بدل چکا تھا یہ اس نے اپنی زندگی بدل لی تھی سر سے لے کر پاؤں تک ایک نیا انسان بن کر اس کے سامنے ایا تھا جسے اپنی غلطیوں کا احساس تھا وہ چاہ کر بھی اب اپنا دل پتھر کا نہیں بنا سکتی تھی ویسے بھی وہ یوں ایک مہینے سے اسے اگنور ہی کر رہی تھی۔۔
” ٹھیک ہے میں معاف کرتی ہوں۔ ” وہ انسوؤں کو پہنچتے ہوئے بولی وسیم نے بے یقینی سے اپنی بہن کو دیکھا وہ سچ میں اسے معاف کر چکی تھی وہ نم انکھوں سے روتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے گیا۔۔۔
“شکریہ میری بہن” وہ روتے ہوۓ بول رہا تھا۔ ساحل کی نظر باہر آتے ہوۓ ان پر پڑی وہ مسکرایا سب ٹھیک ہو گیا تھا۔ اس سے بری بات کیا ہو سکتی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ علیزے کے گھر میں تھی، وہ دونوں چاۓ پی رہیں تھیں۔۔
“علیزے ہاشم نے تجھے پرپروز کیا تو نےانکار کیوں کیا؟ نیہا یہاں یہی بات کرنی آئی تھی، کل ہاشم نے علیزے کو پرپوز کیا تھا۔ علیزے اسکی فیلنگز کے بارے میں جانتی تو تھی بس اگنور کر رہی تھی۔ اور کل جب اسنے پرپوز کیا تو علیزے نے انکار کر دیا۔ وہ کافی ہرٹ تھا کل رات اسنے نیہا کو بتایا تھا۔۔
” میں شادی نہیں کرنا چاہتی، میں اپنی شادی سے بھاگی تھی میں نے اپنا گھر چھوڑا میں کیسے کسی سے شادی کر سکتی ہوں میں کیسے اس کی زندگی برباد کر دوں مجھے خود ساری زندگی سننا پڑے گا کہ میں گھر سے بھاگی ہوئی ہوں،”علیزے نیہا کی بات سن کر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔
“ارے ارے یار ایسا نہیں ہے ہاشم بہت اچھا لڑکا ہے وہ تم سے بہت پیار کرتا ہے وہ یونیورسٹی کا ٹائم سے تمہیں چاہتا ہے اس نے تمہارا بہت انتظار کیا ہے ایسے مت کرو اس کے ساتھ اپنے اپ کو ایک موقع دو بہان کے لیے ہی شادی کر لو “نیہا نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔۔
“روحان کے لیے ہی تو شادی نہیں کر رہی میں نہیں چاہتی کل کو میرے بچے کو ایسی باتیں اور ویسے بھی میں خود کا کما رہی ہوں اسے کھلا رہی ہوں میں خود اس کی پرورش کر سکتی ہوں میں نے میں نے جو قدم اٹھایا تھا اس کی یہی سزا بنتی ہے “وہ ہلکے سے نم لہجے میں بولی.
“تو کیا تم شادی نہیں کرو گی کبھی بھی “
“نہیں کبھی نہیں کروں گی میں نے محبت کرنے کی جتنی سزا پائی ہے اب دوبارہ میں اس طرف کبھی نہیں جاؤں گی اور یہی ٹھیک ہے ہاشم کے لیے بھی وہ سنبھل جائے گا جیسے میں سنبھل گئی تھی ہمیں لگتا ہے جب ہمیں کوئی چیز نہیں ملے گی تو ہم مر جائیں گے لیکن دیکھو میں تو زندہ ہوں مجھے مزمل ملا اور پھر اس نے جو میرے ساتھ کیا مجھے احساس ہوا ماں باپ کو دھوکہ دینے کا نتیجہ بڑی دنیا میں اکیلے رہ جانا ہے “وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی…نیہا چپ تھی اس کے پاس الفاظ ختم ہو گئے تھے وہ اب اسے کیا سمجھاتی….
“اوکے فائن مت کرو شادی بس اپنا اور روحان کا خیال رکھو “نہا نے ان سے گلے سے لگاتے ہوئے کہا……دونوں ایک کافی دیر وہیں بیٹھی باتیں کرتی رہیں۔۔
۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
وہ بالکنی میں پریشے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ گھر آیا تھا۔۔۔۔۔
نیہا ٹرے میں دو کپ چاۓ اور ایک کپ دودھ ساتھ کباب لیے بالکنی میں داخل ہوئی۔۔ ایک کپ اسفندیار کو پکڑایا، اور دودھ کا کپ پریشے کی طرف بڑھایا۔۔ جسے دیکھتے ہی اسنے منہ بسورا۔۔۔۔۔
” پیپو پری” نیہا نے اسے ہلکا سا گھورتے ہوۓ کہا۔۔۔۔اسنے پکڑ لیا اور پینے لگی۔۔۔ وہ چاۓ کا کپ لیے ساتھ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور کباب کا پیس پکڑ کر کھانے لگی۔۔۔۔
“نیہا ہفتے کو میرے دوست کی شادی ہے، جانا ضروری ہے، اسنے ساری فیملی کو بلایا یے تم کل تیار رہنا شاپنگ پر چلیں گے” چاۓ کا سپ لیتے وہ بولا۔۔۔۔۔
“ہممم لیکن میرے پاس کافی کپڑے ہیں، شاپنگ پر جانے کی ضرورت نہیں” وہ چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ بولی۔۔ پریشے دونوں کو بات کرتا دیکھ چپکے سے دودھ کا بچا ہوا کپ ٹرے میں رکھتی آرام سے کھڑی ہوئی اور باہر کی طرف بھاگی۔۔
“پری دودھ فینش کر کے جاؤ” نیہا نے اسکو بھاگتےہوۓ دیکھ لیا۔ تو فوراً بولی۔۔۔۔۔
“نور پھپھو کے پاس جا رہی ہوں” وہ کہ کر بھاگ گئی۔۔۔۔
“حد ہے ہر دفع ایسے ہی اُلو بنا کر چلی جاتی ہے بالکل آپ پر گئی ہے” اسکی بات پر اسفندیار ہلکا سا ہنسا۔۔۔
“اچھا جی میں نے کپ اُلو بنایا” مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔۔۔
“اب کیا دوبارہ سے یاد دلاؤں، میرے بھولے بھالو” وہ اسکے گال گ
کھینچتے ہوۓ بولا۔۔ وہ ہلکا سا چیخا۔۔۔۔۔۔
“نہیں ضرورت نہیں اچھے سے یاد ہے” وہ اپنے گال سہلاتے ہوۓ بولا۔
“ویسے اسفندیار ایک بات کھٹک رہی تھی پوچھوں؟” نیہا بولی۔
“ہممم بولو”
“ہمارے کمرے میں فون تصوریں، کس نے رکھیں تھیں آئی مین رکھوائیں تو فرید احمد نے تھیں پر کس نے رکھی ہوں گی کیا وہ انسان ملا؟” ذہین میں چلتا سوال اسنے پوچھ ہی لیا
“گھر کی ایک نوکرانی رافعیہ تھی، مما نے اسکو۔ نکال دیا تھا” اسفندیار نے اسے جواب دیا۔۔۔۔
“اوووو اچھا چلو دفع کرو” نیہا بول کر دوسرا کباب اُٹھا کر کھانے لگی۔ اسفندیار نے کئی پل اسکی طرف دیکھا۔ ہلکی سی ہوا چل رہی تھی اسکے بال بال اُڑ رہے تھے۔۔ اسنے گہری سانس لی، زندگی اب حسین ہو گئی تھی، اسکے بنا زندگی کے رنگ کتنے پھیکے تھے اسے اب محسوس ہو رہا تھا۔ جس دن سے وہ واپس آئی تھی، اسکی زندگی میں سکون سا آ گیا تھا۔ اور اپنے اس سکون کے لیے وہ رب کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا۔۔۔۔ زندگی ہمیشہ دوسرا موقع دیتی ہے، پر کون اس دوسرے موقع کو اچھے سے پکڑتا ہے یہ اسی پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ کب سے محبت بھری نظروں سے اسے تکے جا رہا تھا۔۔۔ وہ نروس ہو رہی تھی۔ اسکی طرف دیکھتے اسنے بھوریں اچکا کر جیسے پوچھا کیا ہوا؟ اسنے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔۔
“میری ہو دیکھ سکتا ہوں” وہ ہلکا سا مسکراتے محبت بھرے لہجے میں بولا۔۔ نیہا کے دل ک دھڑکن تیز ہوئی ایسے کبھی وہ اسے دیکھا کرتی تھی۔۔۔۔ ۔ وقت یوں بھی بدلتا ہے اسے آج محسوس ہوا۔۔۔
“دیکھیں میں نے کون سا منع کیا ہے” بالوں کو پیچھے کی طرف جھٹکتے وہ ایک ادا سے بولا۔۔۔ وہ ہنس دیا۔۔۔ اور اُٹھ کر اسکے پاس ہوتے اسکے ماتھے کو چوما۔۔ اسکے گال تمتماے۔۔
“زندگی ہمسفر کے ساتھ کتنی حسین لگتی یے نا، اور ایسے ہمسفر جو دل کی گہرائیوں میں بس چکا ہو” اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مظبوطی سے تھامے وہ محبت سے چور لہجے میں بولا۔۔نیہا نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی مشکلوں اور تقلیفوں کے بعد نیہا اور اسفندیار کو اپنی زندگی کی خوشیاں مل گئیں، زندگی میں ہوئی غلطیوں سے دونوں نے سیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
