No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
وہ بلاج ہاؤس سے نکل گیا۔ بلاج کا رویہ اسے تڑپا رہا تھا۔ وہ چاہ کر بھی اسے یا کسی کو کچھ نہیں پتا سکتا تھا۔ یہ رولز کے خلاف تھا۔ وہ اس وقت گھر کے راستے پر تھا۔ اسنے ریڈیو آن کر دیا۔۔۔
بھیر ہے قیامت کی
اور ہم اکیلے ہیں
آئنے کے سو ٹکرے کر کے
ہم نے دیکھنے ہیں
ایک میں بھی تنہا تھے اور
سو میں بھی اکیلے ہیں💔💔
گاڑی میں غزل گھونجھی۔۔۔ اسکے ہونٹ بے بسی کے انداز میں پھیلے۔۔۔۔۔۔۔اسنے گاڑی اسی کھنڈر بلڈنگ کی طرف گھومائی۔
حیام حوریہ اور شہروز کو سلا کر بیڈ پر بیٹھی ٹیوی دیکھ رہی تھی۔ دائیں سائیڈ پر رکھے صوفے پر ساحل بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔۔۔ اس دن سے ساحل نے اس سے بہت کم بات کرنا شروع کر دی۔۔ حیام کو معلوم تھا وہ اسکی اس دن کی حرکت کی وجہ سے ناراض ہے۔۔ وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا۔ اور اب اسکا یہ اجنبی رویہ اسکی برداشت سے باہر ہو رہا تھا۔ وہ اُٹھی اور باہر چلی گئی۔۔ وہ سیدھی کچن میں آئی۔ نیہا کچن میں اپنے اور صائم کے لیے چاۓ بنا رہی تھی، ابھی کچھ دیر پہلے بلاج نے جس طرح اسکو ڈانٹا، وہ اب اپنے رونے کا کوٹا پورا کرتی نیچے چاۓ بنانے آئی۔ آج جو ڈیلوری کیس تھا وہ اسنے سینیر ڈاکٹر کو کہ دیا کہ وہ آپریشن کرے۔۔۔۔ کافی بناتے اسکے دماغ میں وہی سب چل رہا تھا۔۔ تبھی اسے حیام کی موجودگی کا احساس ہوا۔ حیام اس دن سے کافی اُکھڑی اُکھڑی تھی۔۔۔۔۔وہ کافی کے لیے برتن نکالنے لگی۔۔
“آپ بھائی کے لیے چاۓ بنا رہی ہیں، میں بے اپنے لیے اور صائم کے لیے بنائی ہے، آپ اسی میں سے لے لو” نیہا نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔ تا کہ بات کر سکے۔۔۔۔
“ہممم پریشے سو گئی؟” حیام نے کپ میں چاۓ ڈالتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
“ہاں سو گئی” نیہا چاۓ کا گھونٹ بھرتے ہوۓ بولی۔ اور پھر کئی پلو کے لیے خاموشی چھا گئی۔ جو دنوں کو کافی عجیب لگی۔۔۔
“نیہا وہ ایم سوری اس دن جو سب بولا، وہ میں بہت تھک چکی تھی، پتہ نہیں عجیب چڑچڑاہٹ سی ہوئی تو بول دیا” حیام نے اگے بڑھ کر اس سے معافی مانگی۔۔۔
“ارے کوئی بات نہیں، مجھے بھی خیال رکھنا چاہیے، آپ پہلے ہی دو بچوں کو سھنمبالتی ہیں اوپر سے میں نے۔۔۔۔ ایم سوری ٹو” نیہا بھی اسکی طرف مڑ کر بولی۔
“کیسی باتیں کر رہی ہو، تم اچھے سے جانتی ہو، میں پری کو کتنا پیار کرتی ہوں، میرے ہاتھوں میں پلی ہے، اس دن سے مجھے خود پر بھی حد سے زیادہ غصہ تھا ” وہ اسکے دونوں ہاتھ پکڑتے نم لہجے میں بولی، کنٹرول کرتے کرتے آخر میں اسکی آنکھ سے آنسو نکل ہی گے۔۔۔
“اف رونے والی کیا بات ہے، آپ یہ سب چھوڑو، اور مسکراؤ، مین بالکل ناراض نہیں ہوں، اور میں اچھے سے جانتی بھی ہوں کہ آپ اس سے کتنی محبت کرتی ہو” نیہا اسکے چہرے سے آنسو صاف کرتے اسے سینے سے لگا گئی۔۔
“اب آپ چاۓ لے جاؤ” اسنے کپ ٹرے میں رکھا اور حیام کو پکڑایا۔ اپنا چہرا صاف کرتی وہ ٹرے لیے کچن سے چلی گئی، نیہا نے صائم کو چاۓ دی، آجکل وہ پڑھائی میں مصروف تھا امتحان جو ہو رہے تھے۔ وہ اپنا کپ لیے باہر گارڈ میں آ گئی۔
حیام کمرے میں داخل ہوئی، وہ اسی طرح کام کر رہا تھا۔ وہ اگے بڑھی اور چاۓ اسکی طرف بڑھائی اسنے چاۓ کا کپ پکڑ لیا، اور ایک گھونٹ بھر کر سائیڈ کے چھوٹے ٹیبل پر رکھ دیا۔ اور کام کرنے لگا۔ وہ ہونٹ کاٹتی صوفے پر اسکے برابر بیٹھ گئی۔۔ وہ پھر بھی کام میں مصروف رہا۔۔۔۔۔ کافی وقت گزر گیا، وہ تب چونکا جب اسے پاس سے سسکی سنائی دی، اسنے گردن موڑی، حیام گردن جھکاۓ رو رہی تھی۔۔ اسنے گہرا سانس لیا، اور فائل سائیڈ پر رکھی۔۔۔۔اور بنا کچھ کہے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ اور حیام کی ہمت یہاں مزید ٹوٹی وہ اسکی شرٹ کو زور سے پکڑے رونے میں تیزی لا گئی۔۔۔
“ایم سوریییییی” روتے ہوۓ وہ بولی۔۔۔
“کس لیے” روٹھی سی آواز آئی۔۔ حیام نے آنکھیں صاف کیں اور چہرا اُٹھا کر اسے دیکھا۔ جو روٹھا سا نظر آرہا تھا۔۔
“اس دن کے لیے، جو میں نے بدتمیزی کی” وہ شرمندگی سے بھرے لہجے میں بولی۔۔۔
“حیام میں نے کبھی تمہیں عزت محبت، کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی، ہم نے جیسے شادی کی، میرے گھر والوں نے اس سب کے بارے میں کبھی طنز نہیں کیے، کیا تمہارے اور میرے درمیان ایسا رشتہ نہیں کہ اگر تمہیں کوئی بات بری لگے، کسی چیز سے تنگ ہو تو مجھے بتا سکو، مگر تم نے اس دن جو کیا، اور پھر میرے کہنے کے باوجود بھی تم نے میری نہیں مانی، سوچو مجھے کتنا دکھ ہوا ہو گا” ساحل کے لہجے میں واضع دکھ تھا۔۔۔۔
“میں بس تھکی ہوئی تھی” حیام نے سر جھکا کر بولا۔۔
“تھکی ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ سب بولو، وہ سب تمہارے اندر بہت پہلے سے پل رہا تھا، آئندہ اگر تمہیں کوئی بات ستاۓ تو مجھ سے شئیر کرنا میں حل نکالوں گا، یوں سب کے سامنے مت کہنا، اور دوسری بات نیہا سے پلیز ایسی کوئی بات نا کیا کرو، پہلے ہی اسکی بکھری زندگی دیکھ میرے دل بیٹھ جاتا ہے، میرے دو ہی تو بہن بھائی ہیں، اور مجھے جان سے زیادہ عزیز ہیں” ساحل اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے سمجھا رہا تھا۔
“اوکے، میں آئندہ دھیان رکھوں گی، میں نے نیہا سے بھی سوری کر لیا، اب آپ بھی معاف کر دو، سوری” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوۓ بولی۔ ساحل نے مسکرا کر اسے سینے سے لگاتے ماتھے کو چوما۔ وہ شرما گئی۔۔۔
★★
“ہمممم اب اچھا لگ رہا ہے” وہ چاۓ کا گھونٹ بھرتے ہوۓ مسکرائی۔۔۔۔ اور موبائل نکال کر علیزے کو میسج کر کے پیشنٹ کے ریلیٹڈ پوچھا۔ وہی گارڈن میں رکھے جھولے پر بیٹھ گئی۔ اور ہلکا ہلکا جھلانے لگی، حیام سے بات کرنے کے بات اسکا موڈ کافی اچھا ہوا وہ مسکراتے ہوۓ ہلکا ہلکا گنگناتے موبائل پر انسٹاگرام چلانے لگی، تبھی واٹس اپ پر میسج آیا۔ اسنے میسج اوپن کیا۔
“کیا بات ہے مِسز شوہر کو اتنی ڈانٹ پروا کر خود برا مسکرا مسکرا کر چاۓ پی رہی ہو” میسج بڑھتے ہی اسکے منہ سے پھوارے کی طرح چاۓ باہر نکلی۔۔۔ اسنے ادھر اُدھر دیکھا۔۔۔ تبھی موبائل پر وائیس کال آنے لگی۔ اسنے کال کاٹ دی۔۔۔
وہ وہی کمرے میں بیٹھا سکرین پر اسکے چہرے کی اُڑی ہوائیاں دیکھ رہا تھا۔ کال کاٹنے پر اسکا قہقہ بلند ہو اسے یہی امید تھی۔ اسنے دوبارہ کال ملا دی۔۔۔۔۔
“انکو کیسے پتہ چلا میں مسکرا رہی ہوں، اور چاۓ پی رہی ہوں” وہ ہونٹ کاٹتے ہوۓ کال کو گھورتے ہوۓ بولی۔۔ اور پھر جاننے کے لیے کال اُٹھا لی۔۔۔۔۔
“کیا ہے؟” وہ ہلکے سے غصے میں بولی۔۔۔
“بیگم کبھی محبت سے بول لیا کرو، ویسے بھی ابھی زیادہ گھنٹے نہیں گزرے انکل سے اچھی خاصی کروا کر آیا ہوں” اسکے غصے بھرے لہجے کو سن کر وہ اداسی سے بولا۔ اور وہی کرسی سے ٹیک لگاۓ سامنے سکرین پر نیہا کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگا۔۔۔
“محبت سے ہی تو بات کرتی تھی، آپکو ہی قدر نہیں ہوئی میں فون بند کرنے لگی ہوں” وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔ اور فون کاٹنے لگی جب آواز آئی
“پلیز نیہو ابھی نہیں، اپنے سارے طنز سھنمبال کر رکھو میں سب فرصت سے سنو گا، فل حال میں بہت ٹوٹا ہوا ہوں، پلیز کچھ دیر بات کرو” لہجے میں چھپی اداسی اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔۔ نیہا کا ہاتھ وہی رک گیا۔۔ نیہو کتنے سالوں بعد اسنے یہ نام اسکی زبان سے سنا، ایک ٹھیس سی اسکے من میں ابھری۔۔۔۔۔
“کیا بات کروں؟” فون کان سے لگانے سے وہ خود کو روک نا پائی۔۔
“تمہیں معلوم ہے، مجھے کیسا محسوس ہو رہا ہے؟” اداسی سے بھری آواز تھی۔
“کیسا؟” اسکے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔۔
“یوں جیسے ایک انسان لاکھوں کی بھیر میں بالکل اس مسافر سا ہو جاۓ، جسکا سارا سامان گم گیا ہو، حتکہ اسکے پاس ایک روپیہ نا بچے، بالکل اس خالی مسافر کی طرح محسوس ہو رہا ہے، بالکل تنہا بالکل اکیلاااا سا” لڑکھڑاتا نم سا لہجہ سن کر نہیا کا دل آج بھی بے چین سا ہو گیا۔ لاکھ ناراضگی سہی پر ایسا لہجہ وہ کبھی سننا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
“کوئی انسان اس دنیا میں اکیلا نہیں ہوتا، اللہ اسکے ساتھ ہمیشہ ہوتا ہے، وضو کر کے نماز پڑھیں بہت ہلکا محسوس ہو گا،میں جب اداس ہوتی ہوں ایسا ہی کرتی ہوں، میں فون رکھ رہی ہوں پری اُٹھ نا گئی ہو، اور آئندہ مجھے میسج یا کال نا کیجیے گا میں جواب نہیں دوں گی” نم لہجے میں ہی کہتے اسنے کال بند کر دی۔۔ اور اپنا چہرا ہاتھوں میں گِڑا دیا۔ آنسو بے ربت سے بہنے لگے۔ چاۓ وہی جھولے پر پڑے اب ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ اُٹھی چاۓ کا کپ پکڑا اور کچن میں کپ رکھتی اپنے کمرے میں آگئی۔۔۔۔۔ پریشے کے پاس لیتے اسکے سر کو چوما۔ آنسو لگاتار بہ رہے تھے۔ اسکا اس قدر ٹوٹا لہجہ ابھی تک آس پاس گھونج رہا تھا۔۔ یونہی آدھا گھنٹا گزر گیا۔ تبھی اسکا موبائل بجا، جس پر اسکا میسج آیا۔۔۔۔۔
“شکریہ بیگم، سچ میں کافی ہلکا محسوس ہو رہا ہے” میسج پڑھ کر اسنے موبائل سائیڈ پر رکھنا چاہا کہ دوبارہ میسج آیا۔۔۔
“جانتا ہوں، تم نے میسج کرنے سے منع کیا ہے، پر جان لو میں اسفی ہوں، میسج بھی کروں گا اور جب دل چاہیے کال کروں گا اب تم جواب دو یا نا دو، یہ تمہاری مرضعی” میسج پڑھ کر نیہا نے موبائل بند کر دیا۔ پھر ایک میسج آیا۔۔۔
“اور میں یہ بھی جانتا ہوں، میری نیہو ابھی تک میرے اداس لہجے کو سن کر رو رہی ہو گی، تو رونا بند کرو، اور سو جاؤ” ابکی بار کا میسج پڑھ کر نیہا نے اسکا نمبر بلاک کیا اور موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور تکیے پر سر رکھے آنسوں کو بہنے دیا، جس پر اسکا اختیار نا تھا۔۔۔۔۔۔
محبت کا نشہ اترا۔ تو تب ثابت ہوا مجھ کو
جیسے منزل سمجھتے تھے۔ وہ بے مقصد سفر نکلا۔۔۔
سھنمبلا ہوش ہے جب سے۔ مقصد سخت تر نکلا۔۔۔۔۔
پڑا ہے واسطہ جس سے۔ وہی زیر و زبر نکلا۔۔۔۔۔۔
سمجھ کر زندگی جس سے۔ محبت کر ریے تھے ہم
اسے چھو کر دیکھا تو۔ فقط خاکی بشر نکلا۔۔۔
سبق دیتا رہا مجھ کو۔ صدا روشن خیالی کا
اسے جب پاس سے دیکھا تو۔ خود بھی تنگ نظر نکلا۔۔۔۔
دو دن بعد:
“ابراہیم پاشا آج رات کو آ رہا ہے، اسکا مال اس اسفندیار نے دو دن پہلے بھیجوایا تھا نا؟ یہ بہت اچھا موقع ہے، اس ابراہیم پاشا، اور اس نا نہاد اسفندیار کو راستے سے ہٹانے کا۔۔۔ مجھے یہ ڈیل کرنی ہے،، ایک ہفتے کے اندر اندر میں سب بیچنا چاہتا ہوں۔ راج آبروراۓ یہ ڈیل آج فائنل کرنا چاہتا ہے” فرید احمد اس وقت مزمل کے ساتھ آفس کے کیبن میں بیٹھا ہوا تھا۔۔ وہ نیشنل ہسپتال کا مالک تھا۔ اور نیشنل فارمیسی فیکڑی کا بھی، وہاں پر بنے والی ادویات کو وہ دوسرے ممالک میں فروخت کرتا تھا، اور اسی کے سلسلے میں راج یہاں آ رہا تھا۔۔
“ہمم” مزمل کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولا، فرید احمد نے اسے گھورا۔
“کہاں کھوۓ ہوۓ ہو؟ اور یہ ہممم کیا ہوتا یے، اچھے سے جواب نہیں دے سکتے” وہ سخت لہجے میں بولا۔۔۔
“جی سوری میں نے سارے پیپرز تیار کر لیے ہیں، یہ دیکھیں، کل گیارہ بکے ہمارے فام ہاؤس پر میٹنگ ہو گی، راج آبروراۓ پہنچ گیا ہے، وہی ڈیل فائنل ہو جاۓ گی، ہم پرسوں سے ہی کام شروع کر سکتے ہیں” مزمل جلدی سے اُٹھا اور فائل اسکی طرف بڑھائی، فرید احمد اسے گھورتے ہوۓ فائل کو ایک نظر دیکھ کر اسکی طرف پھر متوجہ ہوا۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اسکے پاس آ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ٹیبل سے ٹیک لگا دی۔۔
“تمہیں معلوم ہے، اس ڈیل کے پیچھے میرا کڑوڑوں کا مال لگا ہوا ہے، اور بدلے میں پچاس گناہ زیادہ منافع ہو رہا ہے، یہ میری زندگی کی سب سے بری ڈیل ہے، تو اس میں کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے” وہ اپنی وہی نوکیلی انگھوٹھی سے اسکا کندھا دبا رہا تھا۔ جس میں وہ دھنستی چلی جا رہی تھی۔۔
“جییی بھاااائی” وہ درد کو ضبط کرتے ہوۓ بولا۔ فرید احمد اسکی طرف جھکا۔
“میرے پیارے بھائی، یہ جو آجکل تمہاری اپنے بیٹے کو لے کر مصروفیات بھریں ہوئی ہیں، انہیں میں خوب جانتا ہوں، تمہاری وہ ایک رات کی بیوی آجکل سٹی ہسپتال میں کام کرتی ہے، اور تمہارا بیٹا کیا معلوم۔وہ تمہارا یے بھی کہ نہیں وہ روحان، ان سبکی معلومات میرے پاس ہے، تو اگر اب مجھے تم اپنے کام سے یوں غیر حاضر نظر آۓ، یا تمہاری وجہ سے میرا کام روکا تو تمہارا بچہ اور ایکس وائف اسکو بگھتیں گی آئی سمجھ” وہ اسکے کان میں زہر گھول رہا تھا، علیزے کے بارے میں اتنے گھٹیا الفاظ سن کر مُزمل کا خون جلا۔ وہ بس دانت پیستا رہ گیا۔۔۔
“چل نکل اب یہاں سے” اسکے کندھے کو تھپکی دیتے ہوۓ کہا۔ اور مسکراتا اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔۔ مُزمل فائل وہی رکھتا باہر چلا گیا۔۔۔ وہ سیدھا نیچے پارگنگ لاٹ میں آیا، اپنی گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ گھر سے دور تھا۔ کہ اسکا فون بجا۔۔ جس پر AP (ابراہیم پاشا) کا فون تھا۔۔۔
“جی مالک” اسنے جلدی سے فون کان سے لگایا۔۔۔
“کیا، ایسا کیسے ہو سکتا ہے، وہ ٹرک تو میں نے خود لوڈ کروا کر بھیجواۓ، تھے وہ کیسے پکڑے جا سکتے ہیں آج تک ایسا نہیں ہوا ہمارا کوئی ٹرک نہیں پکڑا گیا” وہ حیرانگی سے بول رہا تھا۔۔اور چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اگے سے پاشا کچھ بول رہا تھا۔۔
“آپ ہو کہاں میں وہی آتا ہوں” وہ کہتے ہوۓ گاڑی کا رخ موڑا۔ پاشا کچھ دیر پہلے ہی پاکستان پہنچا تھا۔ اسکا ترکی والا کام مکمل ہو چکا تھا۔۔۔
“ہاہ ابراہیم پاشا تیرا برا وقت شروع” گاڑی کو پاشا کے فام ہاؤس کی طرف موڑتا وہ زیرِ لب بولا۔۔۔۔ اور ہونٹوں پر منفرد مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ پاشا کے فام ہاؤس پر پہنچا۔ جہاں حال میں پاشا بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔
“مالک ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے خود سب لوڈ کروا کے بھیجا تھا” وہ چہرے پر پریشانی طاری کرتا پاشا کے پاس آیا۔
“تم نے لوڈ تو کروایا تھا، آج صبح تک مال انڈیا پہنچ جانا چاہیے تھے، وہ جس خوفیہ راستے سے جا رہے تھے۔ وہاں آرمی اور پولیس نے پکڑ لیا۔ سارا مال ضبط ہو گیا، اور اب وہ ڈھنڈنے میں کچھ ہی گھنٹے لگائیں گے کہ مال میں نے بھیجوایا تھا، ویسے مجھے فکر پولیس یا اسکے لوگوں سے بالکل نہیں، وہ تو پہلے ہی میرے سامنے دم۔ہلاتے پھرتے ہیں، مجھے فکر اس بات کی ہے، جنکو میں نے مال پھیجنے کا وعدہ کیا اور پیسے پکڑے، انکا بھروسہ ٹوٹ گیا، اور تم اچھے سے جانتے ہو، ہمارے کام میں سب سے اوپر بھروسہ ہے” پاشا چکر کاٹتے ہوۓ بولا۔ اسفندیار نے بہت مشکل سے اپنا غصہ ضبط کیا جب اس نے پولیس والوں کے بارے میں بات کی۔۔۔۔
“کیا کروں اب تو ہی بتا ؟ ” ابراہیم پاشا اب اسکی طرف مڑ کر بولا۔
“میرے پاس تو بس ایک ہی راستہ ہے، ابھی گودام میں اتنا ہی مال پڑا ہوا ہے، ہم اسکو دوبارہ دوسرے راستے سے بھیج سکتے ہیں، اور اچھا ہو گا اسکو آپ خود لے کر جاؤ، اگر کوئی پریشانی ہو تو دیکھ لینا، میں ہمارے پکڑے گے مال کو نکلوانے کی کوشش کرتا ہوں” اسفندیار نے اپنا آخری پتہ پھینکا۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ کیسی بات ہوئی مالک اگر آپ جاؤ گے تو کہی پکڑے نا جاؤ” باسط وہی بیٹھا سن رہا تھا درمیان میں کُودا۔۔۔۔۔ اور اسفندیار یہی تو چاہتا تھا
“تو ٹھیک ہے، آپ یہاں رہ کر سب سھنمبالو میں خود جاتا ہوں، اور اگر یہ ساتھ چلے تو اچھا ہے” اسنے باسط کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
“یہ بھی ٹھیک ہے، چلو تم پھر تیاری کرو، اور ہاں سارے آدمیوں کو بولو سکیورٹی ٹائیٹ رکھیں، ویسے تو کسی کی ہمت نہیں میرے اوپر ہاتھ ڈالیں لیکن پھر بھی سیکیورٹی ہونی چاہیے” ابراہیم پاشا سگار سلگاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔ اسفندیار ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ باسط کو لیے باہر گاڑی کی طرف بڑھا۔ اور پھر سیدھا گودام کی طرف چلے گے۔۔۔۔ اور ٹرکوں میں مال لوڈ کروانے لگا۔۔۔
“میں بھی آپکے ساتھ چلوں؟” حسنین کو جیسے ہی معلوم ہوا، کہ اب وہ جا رہا ہے، وہ گودام پہنچا۔۔۔
“بالکل نہیں، تم مالک کی سیکورٹی مکمل رکھو، میرے ساتھ کچھ آدمی جا رہے ہیں، اور یہ باسط صاحب بھی تو ہیں، انکو انکی منزل پر پہنچانا بھی تو ہے” وہ محتاط الفاظ استعمال کرتے ہوۓ بولا۔۔۔حسنین نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ باسط تھوڑا دور کھڑے ٹرک کے پاس گیا۔ جہاں پر تیزی سے مال لوڈ ہو رہا تھا۔۔
“سر اپنا دھیان رکھنا” حسنین نے فکر مند لہجے میں کہا۔۔
“میری اتنی فکر میری بیوی کو نہیں جتنی تمہیں ہے” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔
“میری بات غور سے سنو، ہمارا پلین بالکل ٹھیک جا رہا ہے، تم نے سر کو پیغام پہنچانا ہے، کہ میں جا رہا ہوں، وہ اطلاع بھیجوا دیں۔، فرید احمد کی ڈیل رکوانی ہے، اگے جانتے ہو کیا کرنا ہے، میں تین چار دن تک واپس آ جاؤں گا، اور اگر مے بی نا آ پایا تو تم کام مت روکنا ، پلین کو جاری رکھنا مجھے یہ سب کے سب برباد چاہیں، اور دوسری بات کل یہ لفافہ بلاج انکل کو دے دینا” وہ سیریس انداز میں بول رہا تھا۔ جیسا کہ اسکا اس وقت ہوتا جب وہ پلین ڈسکس کر رہا ہوتا، اور پھر اسنے ایک لفافہ اپنی گاڑی سے نکال کر اسے دیا۔۔۔ حسنین نے جلدی سے وہ لفافہ چھپا لیا۔ اسفندیار نے اسے جانے کا کہا۔ حسنین جاتے ہوۓ روکا اور اسکے سینے سے جا لگا۔ اور پھر اگلے ہی پل علحیدہ ہوا اور وہاں سے تیزی سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
کچھ ہی گھنٹوں میں مال لوڈ ہوا، اور ان ٹرکوں میں بیٹھ کر وہ اپنی منزل پر جانے کو تیار ہو گیا۔
جاری ہے۔۔۔۔
