Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

اس طویل دن کا اختتام ہوا اور اگلے دن کی صبح ہوئی۔ نو بج رہے تھے۔ میرال اب کافی بہتر تھی۔ ساحل صائم کے ساتھ ہسپتال ناشتہ لے کر آیا۔۔۔ صائم تو میرال کے پاس سے اُٹھ ہی نہیں رہا تھا۔
یہ VIP کمرہ تھا۔ جسکا ٹیوی آن تھا۔ اور وہاں کل رات سے فرید احمد ، ابراہیم پاشا کے پکڑنے جانے کی خبریں چل رہیں تھیں، پروگرامز منعقد کیے جا رہے تھے۔ بحث ہو رہی تھی۔ اسفندیار کے مشن کے متعلق بات ہو رہی تھی۔ اسنے آج صبح ڈیوٹی جوائن کی تھی۔ اور گلناز کی تدفین ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ فرید احمد اور ابراہیم پاشا کو جیل میں بند کر دیا گیا۔۔
” اسے کم از کم مجھے تو بتانا چاہیے تھا” بلاج سکرین پر کل کا اسفندیار کا انٹرویو دیکھتے ہوۓ خفگی سے بولا۔۔۔۔۔
“بابا یہ سیکرٹ تھا۔ آپکو کیسے بتاتے” صائم درمیان میں بولا۔بلاج نے اسے گھورا۔۔۔۔
“ماما اب تو درد نہیں ہو رہا؟ ” نیہا انکی باتیں اگنور کرتے ہوۓ میرال سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ جسنے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
“تو میں کیا سیکرٹ کسی کو بتا دیتا، مجھے تو یہی لگتا نا کہ یہ مافیا میں شامل ہو گیا۔ کس قدر برا لگتا تھا” بلاج کو اس پر کافی غصہ تھا۔۔۔ نیہا نے پاکٹ سے موبائل نکالا اور نور کو میسج کیا کہ پریشے رو تو نہیں رہی ؟کیونکہ کل وہ کافی ڈر چکی تھی۔۔
“اف بابا، آپکو پتہ نہیں یہ سیکرٹ مشنز ہوتے ہیں ان میں آپ کسی کو کچھ نہیں بتا سکتے، میں نے کافی موویز دیکھی ہیں ان میں بھی اگر کوئی سیکرٹ مشن پورا کرنا ہوتا تھا تو ہیرو کسی کو نہیں بتاتا تھا” صائم اب بلاج کو صحیح سے سمجھا رہا تھا۔۔ بلاج نے اسے غور سے دیکھا۔ اسکی یہ گھوری صائم کو کھٹکی۔۔۔
“اچھا تو آجکل موویز دیکھی جا رہی ہیں اسی لیے تمہارے نمبرز اچھے نہیں آتے” ساحل کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔
“اور بتاؤ موویز کے بارے میں” ساحل اسے چھیرا۔۔
“بھوک کافی لگی ہے آپ یہ ناشتہ کرو میں ساتھ میں جوس لاتا ہوں” صائم نے یہاں سے بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی اس سے پہلے کہ اسکی درگت بنے۔ کیونکہ کچھ دن پہلے ہونے والے ٹیسٹ میں بھی وہ فیل ہوا تھا۔ بلاج نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
“میرے لیے چاۓ لانا ” صوفے پر اوپر کو پاؤں رکھ کر بیٹھتے ہوۓ آڈر کیا۔
“آپی آپ کے لیے چاۓ؟ ” اب وہ نیہا کی طرف متوجہ تھا۔ جو موبائل پر نور سے میسجز پر بات کر رہی تھی۔ اسنے نفی میں سر ہلایا۔۔ صائم کندھے اچکاتے ہوۓ چلا گیا۔۔۔۔
“میرو درد تو نہیں ہو رہا ؟” بلاج اسکے پاس بیڈ پر بیٹھتے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ سوالیہ انداز میں بولا۔ بلاج کے اس انداز سے پوچھنے پر میرال کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔۔ اسنے نفی میں سر ہلایا۔۔
“ایم سوری میں تمہاری حفاظت نہیں کر سکا، مجھے تم سبکا اور اچھے سے دھیان رکھنا چاہیے تھا” وہ شرمندگی بھرے لہجے میں بولا۔ اس میں وہ خود کو قصور وار ٹھرا رہا تھا۔
“انسان پر جو مصیبت آنی ہوتی ہے، وہ آکر رہتی ہے، چاہیے ہم اپنے آس پاس سونے کی دیوار ہی کیوں نا کھڑی کر لیں، اللہ تعائی نے آزمائیش میں ڈالنا تھا، ہمیں کیسے بہادری سے اسکا مقابلہ کرنا ہے۔۔ اور اب تو میں ٹھیک ہوں۔ تو فکر کی کوئی ضرورت نہیں، ار ویسے بھی تمہارا پیچھا اتنی آسانی سے نہیں چھوڑنے والی” وہ مسکراتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی، اور راحیل، عائشہ، امرحہ تقی مشی اور حسام اندر داخل ہوۓ، وہ ساتھ ہی آۓ تھے۔۔۔۔
” السلام علیکم! ” کیسی ہو؟ ” سب میرال کا حال احوال پوچھ رہے تھے۔
” وعلیکم السلام ٹھیک ہوں” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔۔
“میں نے تو جیسے نیوز دیکھی میرا تو دل ہی بند ہو گیا۔ میں نے تبھی آنا چاہا پر بلاج نے منع کر دیا” مشی میرال کے بال ٹھیک کرتے ہوۓ نم لہجے میں بولتے بلاج کو غصے سے گھورا۔۔۔ ساحل سبکے لیے کچھ پینے کو لینے چلا گیا۔۔
“یہاں خطرہ تھا اسی لیے منع کیا” بلاج نے سر کھجاتے ہوۓ کہا۔ کیونکہ ابھی مشی شروع ہونے والی تھی۔۔
“خطرہ تھا تو کیا ہوا، میں خود کسی فائیٹر سے کم ہوں، ان سبکو ایک ایک کر کے سیدھا کر دیتی بلاوجہ میری معصوم دوست کو اس حال تک پہنچا دیا” وہ غصے سے بول رہی تھی۔۔۔
“افکورس میری وائف خود کسی خطرے سے کم تھوڑی نا ہے، ان سبکو تو یوں مار گراتی” حسام نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ اسے چھیرا۔ اسکی بات پر سبکی ہنسی چھوٹ گئی، مشی نے بس اسے گھورا۔ صائم اور ساحل چاۓ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوۓ، اور سبکو چاۓ سرو کی۔۔۔۔
“بلاج میں نے نیوز دیکھی، اسفندیار نے بہت اچھا کام کیا” راحیل چاۓ کی چسکی بھرتے ہوۓ بولا۔۔
“ہممم کام تو اچھا تھا پر طریقہ غلط تھا” بلاج نے ایک نظر نیہا کو دیکھا۔ جو کہ بے نیازی سے ڈریپ میں انجکشن لگا رہی تھی۔۔۔۔ جیسے انکی کوئی بات سنی ہی نا ہو۔۔
“ویسے بلاج آگے کیا کرو گے، مطلب نیہا۔۔۔۔اور اسفندیار۔۔۔۔” عائشہ نے سوال کیا۔۔ اسکے سوال پر نیہا کے ہاتھ ایک پل کے لیے رُکے۔۔۔۔ بلاج نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
“جو نیہا چاہے گی وہی ہو گا” ساحل نے نیہا کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
“بلاج اب تو خطرہ نہیں؟ فرید احمد تو پکڑا گیا” حسام نے بات کا رخ بدل دیا۔
“معلوم نہیں میری ابھی اس بارے میں اسفند یار سے بات نہیں ہوئی، وہ پکڑا گیا ہے تو کافی حد تک تو خطرہ تو ٹل گیا ہے، مزید نہیں پتا”
وہ سب بارہ بجے تک چلے گے۔۔۔۔ بلاج نے ساحل اور صائم کو بھی واپس گھر بھیج دیا۔۔ وہ کئی بار اسفندیار کا نمبر ڈائل کر چکا تھا۔ پر نمبر مصروف ہی آ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔


فرید احمد کو لاک اپ میں بند کیا گیا۔ اس سے پانچوں سیل میں ابراہیم پاشا تھا۔ جو کل سے ہی بے حد غصے میں تھا اسکا بس چلتا تو ابھی جا کر اسفندیار کی جان لے لیتا۔ اسکے ساتھ بہت لوگوں نے دھوکہ کیا، پر جس انداز سے اسفندیار نے اسے بھروسے کو تار تار کیا۔ وہ اسے اندر تک جلا رہا تھا۔
دوسری طرف جیل کی کالی سلاخوں کے پیچھے فرید احمد قید تھا۔ جو دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا۔ کل انکے خلاف کیس کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ جسکا فیصلہ شائد تبھی ہو جاتا۔ کیونکہ انکے خلاف ثبوتوں کی ایک لمبی تار اسفندیار نے جوڑ کے رکھی تھی۔۔۔ وہ خاموش سا بیٹھا تھا۔ اور سامنے جیل کی سلاخوں کو دیکھ رہا تھا، ان کچھ گھنٹوں میں اسکا نام، پیسا، شہرت، عزت سب مٹی میں مل چکے تھے، جسے بنانے میں اسے سالوں لگے، اسنے سب سے چھپا کر ایک صاف ستھرتی شخصیت کے پیچھے جو جُوۓ کا محل کھڑا کیا تھا۔ وہ ایک جھٹکے میں ٹوٹ کر زمین ہر بکھر چکا تھا۔ اور آج وہ مکمل خالی بیٹھا تھا۔ بس ہاتھ میں ایک سفید پتھر تھا۔ جسے وہ ہاتھ میں زور سے دباۓ جا رہا تھا۔ یہاں تک کے وہ اسکی ہتھیلی میں دب چکا تھا، اج پہلی بار اسے سب اپنے ہاتھوں سے پھسلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
“اسے کیسے علم ہوا کہ اسکے دوست کہاں ہیں؟” یہ ایک سوال تھا جو کب سے اسکے دماغ میں چل رہا تھا۔۔۔۔۔۔
*
ہاشم اور راحم ہسپتال میں داخل ہوۓ۔ ہاشم نے نیہا کو مسیج کیا کہ وہ اسے ملے، نیہا میسج دیکھ کر باہر آئی۔۔۔۔
“کیا بات ہے؟” وہ تینوں اس وقت ہسپتال کے گارڈن میں موجود تھے۔
“کچھ نہیں ہوا، ہم فیکٹری کے سیل ہونے سے پہلے وہاں گے تھے، اندر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا انکی سیکیورٹی بہت سخت تھی اور ہمیں وہاں کچھ نہیں ملا” راحم نے اسے بتایا۔
“ہمممم چھوڑ دو، دفع کرو، ویسے بھی اسکا ہسپتال اور فیکٹری سیل کر دی گئی ہے، تم لوگ بھی زیادہ پریشان نا ہو، وہ پکڑا گیا ہے، اب سب ٹھیک ہو جاۓ گا، ماما سے ملنا ہے؟” نیہا کافی تھکی ہوئی تھی، کل کا سارا دن کافی مشکل تھا۔ اور وہ ایک سیکنڈ کے لیے نا سوئی تھی۔۔۔۔۔
“ہاں ملنا تو ہے، نیہا میں صبح سے علیزے کا نمبر ملا رہا ہوں، وہ فون نہیں اُٹھا رہی تمہاری بات ہوئی؟” ہاشم پریشان سا موبائل پر اسکا نمبر ملا رہا تھا۔
“ہاں میری صبح بات ہوئی تھی، وہ اپنے اپارٹمنٹ میں ہے” نیہا کہتے ہوۓ اگے بڑھ گئی۔ وہ دونوں اسکے پیچھے چل دیے۔۔۔
“اب تم کیا کرو گے، تمہاری اور روشنی کی جاب تو چلی گئی” وہ چلتے ہوۓ راحم سے پوچھ رہی تھی۔
“میڈم ہم قابل ڈاکٹرز ہیں، ہمیں یوں ہاتھوں ہاتھ نوکری مل جاۓ گی” وہ ہلکا سا ہنس کر بولا۔۔ ہاشم چپ چپ سات تھا۔ وہ تینوں میرال کے کمرے کی طرف گے۔۔۔۔۔

گلناز کی تدفین ہو چکی تھی۔ اسکے گھر میں اسکے والد اور دو بھائی ہی تھے جو کہ شادی شدہ تھے اور وہ گھر کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔۔۔۔
“انکل ایم سوری میں وقت پر پہنچ ۔۔۔۔۔۔” اسفندیار کے منہ سے الفاظ تک ادا نہیں ہو پا رہے تھے۔ وہ انہیں کئی سالوں سے جانتا تھا۔ کافی بار یہاں آ بھی چکا تھا۔
“نہیں بچے، تمہاری غلطی نہیں، میری بچی برائی کے خلاف لڑتے ہوۓ شہید ہوئی ہے، پتہ جس دن سے اس فیلڈ میں آئی تب سے جب بھی گھر سے روازنہ ہوتی ایک ہی بات بولتی ابو اگر میں واپس نا آئی، تو رونا مت، اس دن بھی صبح یہی الفاظ ادا کر کے گئی تھی، اور میں نے ہمیشہ کی طرح بولا تھا، تم ضرور واپس آؤ گی، پر ہر بار کی طرح اس دفع میری بات سچ نہیں ہوئی، اور وہ سچ میں چلیییییی” وہ بہت فخر سے گلناز کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ پر آخر میں انکی ہمت جواب دے گئی اور انکے ہونٹ ضبط کے مارے کپکپا گے۔۔ اسفندیار اگے بڑھا اور انہیں سینے سے لگایا۔ کئی آنسوں اسکی بھی آنکھوں سے نکلے۔۔۔۔ حسنین نے چہرا موڑ لیا۔ اسکے سامنے ہی تو اسنے تڑپ تڑپ کر اپنی آخری سانس لی تھی۔
“انکل۔۔۔” اسکے منہ سے انکل کے سوا کوئی الفاظ نا نکلے۔
“میری بچی نے مجھے رونے سے منع کیا تھا، میں ایک بہادر بچی کا بہادر باپ ہوں، میں روؤں گا نہیں، مجھے فخر ہے میری بچی بہادر تھی وہ جھکی نہیں” اسفندیار کا کندھا اپنے کانپتے ہاتھوں سے تھپتھپاتے ہوۓ وہ نم لہجے میں بولے۔ اسفندیار نے بھی ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔ وہ دونوں دو گھنٹے انکے پاس رہے، اور پھر اسفندیار نے حسنین کو اسکے گھر چھوڑا جہاں وہ پانچ سال بعد گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔خود وہ تھانے گیا۔۔۔۔
*
عدالت نے فرید احمد کو اور ابراہیم پاشا کو عمر قید کی سزا سنائی، دونوں کو اب جیل میں بند کر دیا گیا۔۔۔ دو دن بعد میرال بھی واپس گھر آ گئی، سب کچھ نارمل ہو رہا تھا۔ بلاج نے اپنے گھر پر ورکرز لگواۓ جو اسکے گھر کو رینوویٹ کر رہے تھے۔۔۔ آج سب سکندر ولا جانے والے تھے۔ راحیلہ نے سبکے لیے اسپیشل ڈنر تیار کروایا جسکے بعد سب گارڈن میں بیٹھے چاۓ سے لطف اندوز ہوتے باتوں میں مصروف تھے۔۔۔ کافی دنوں بعد سب خوش دیکھائی دے رہے تھے۔۔
“تو اب کیا پروگرام ہے؟” عمیر نے اسفندیار کو مخاطب کیا۔ جو گلے میں پہنے لاکٹ کو انگلی پر لپیٹ رہا تھا۔ بلاج نے عمیر کی بات کا مطلب سمجھ لیا۔۔۔
“تایا جان پروگرام کیا ہونا ہے، اب بس کل سے واپس ڈیوٹی جوائن کرنے والا ہوں” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔۔ اور پلیٹ سے کباب پکڑا۔۔۔۔
“میں ڈیوٹی کی بات نہیں کر رہا، نیہا اور تمہارے بارے میں بات کر رہا ہوں ” عمیر نے اب صاف لفظوں میں کہا۔ اسکی پہلی نظر نیہا پر پڑی۔ جو سر جھکاۓ چاۓ کا کپ پکڑے اسکے کناروں پر انگلی پھیر رہی تھی۔۔۔۔
“اہممم وہ میں تو ساتھ رہنا چاہتا ہوں باقی نیہا پر ہے وہ کیا چاہتی ہے” اسفندیار کے الفاظ دن کر نیہا طنزیہ انداز میں ہنسی۔۔۔۔ سبکی نظر اب نیہا پر تھی۔۔
“نیہا تو ڈیوائیس چاہتی ہے، میرے بابا نے پیپرز بھجواۓ تھے، بہت اچھا ہو گا اگر آپ جواب میں طلاق دے دیں”وہ اپنی کرسی سے کھڑی ہو کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹھنڈے لہجے میں بولی۔ اسفندیار یک ٹک اسے دیکھتا رہا۔ نیہا نے نظریں پھیر لیں۔۔۔
” دیکھو بچوں رشتے یوں توڑے نہیں جاتے، اور اب تو تم دونوں کے درمیان پریشے بھی ہے، تو اس حوالے سے سوچو” عمیر نے برا ہونے کے ناطے سمجھانا مناسب سمجھا۔۔۔۔۔۔اسفندیار نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔وہ اور باتیں بھی بول رہا تھا۔۔۔۔۔
“مجھے دو نا” حوریہ پریشے کے ہاتھ میں پکڑی گڑیا کو کھینچ رہی تھی۔
“یہ میری ہے، وہ تمہاری ہے” اسنے دور پڑی ٹوٹی گڑیا کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
“نو وہ تمہاری ہے، یہ میری ہے ” حوریہ نے اسکے ہاتھ سے گڑیا کھینچ لی۔۔۔۔ پریشے غصے سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ اور پھر اسے ایک دھکہ دے کر اسے نیچے گڑا دیا۔ حوریہ کا بازو بری طرح زخمی ہوا۔ وہ زور زور سے رونے لگی۔ اسکی آواز سن کر سبھی انکی طرف متوجہ ہوۓ۔ حیام نے جلدی سے حوریہ کو پکڑا۔ نیہا نے پریشے کو سائیڈ پر کیا۔ اور اسکا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی تھی؟” نیہا نے اسکو ایک تھپڑ مارتے ہوۓ غصے سے کہا۔۔۔ پریشے کی لال آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔ سبھی نے حیرانگی سے نیہا کے اس ری ایکشن کو دیکھا۔۔۔۔
“نیہا تم پاگل ہو مار کیوں رہی ہو؟” اسفندیار نے اسے پریشے سے دور کیا۔۔۔ اور روتی ہوئی پریشے کو سینے سے لگاۓ کھڑا کوا۔
“بابا ماما نے مارا” وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔
“آپ مجھ سے اور میری بیٹی سے دور رہیں، آپکا اس پر کوئی حق نہیں” نیہا نے اسے ایک دھکہ دیا اور پریشے کو اس سے کھینچنا چاہا۔ وہ اس وقت بالکل بھی ہوش و حواس میں نہیں لگ رہی تھی۔۔
“نیہا کیا ہو گیا ہے کیسا بی ہیو کر رہی ہو” بلاج نے اسے پیچھے کیا۔ اور جھنجھوڑا۔۔ اسفندیار شاک سا اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ بالکل ویسی نہیں رہی تھی، جیسے وہ پانچ سال پہلے اسے ملی تھی۔ وہ تو محبت کرنے والی، ہمیشہ مسکرانے والی لڑکی تھی، پر اب وہ بات بات پر آپے سے باہر ہو جاتی، چڑچڑی ہو گئی تھی۔۔۔۔اسکی وجہ سے وہ کس حال کو آ پہنچی تھی۔۔۔
“مجھے نہیں پتہ” وہ اپنا آپ چھڑواتی اندر کی طرف بھاگ گئی۔
“میں بات کرتی ہوں” میرال نے کہا۔ اور اُٹھنے لگی۔۔
“یہ سب جو بھی ہو رہا ہے، اسکا میں ذمہ دار ہوں، اس سے میں بات کرتا ہوں” پریشے کو نیچے اُتارتا وہ اندر کی طرف چل دیا۔ میرال وہی بیٹھ گئی۔۔
“فکر مت کر، میاں بیوی ہیں، اور اس وقت وہی بات کرے تو ہو سکتا ہے دونوں کے درمیان کی رنجشیں ختم ہو جائیں” ہارون بلاج کے پاس آ کر اسکے کندھے کے گرد بازو لپیٹتے ہوۓ بوۓ۔ وہ کافی پریشان تھا۔۔۔
“اووو یہ ہماری پری کو اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے، لگتا ہے اسکا علاج کرنا پڑے گا” نیچے گھاس پر بیٹھی پری کے پاس صائم آیا۔۔۔ جو منہ پھلاۓ بازوں کو باندھے نیچے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
“مجھے بات نہیں کرنی” وہ چہرا مور گئی۔۔۔
“اوکے حوریہ چلو آئیس کریم کھانے چلیں، ساتھ برگر بھی” وہ حوریہ کے پاس آیا اور اسکا بازو پکڑا۔ وہ خوش ہو گئی۔ پریشے ویسے ہی بیٹھی رہی۔۔۔
“بابا میں حوریہ کو لے کر جا رہا ہوں” صائم اسکے قریب آ کر جان بوجھ کر بولا۔۔ اور کچھ قدم چل دیا۔۔۔ پریشے نے چور نظروں سے اسے جاتے دیکھا۔ جب وہ کئی قدم اگے بڑھ گیا۔
“ماموں” تب وہ چیخی اور اسکے پیچھے بھاگی۔ صائم ہنستے ہوا پیچھے مُڑا اور اسکے پکڑتے گاڑی کی طرف چلا گیا۔۔


وہ اندر آیا۔ حال خالی تھی یقیناً وہ اس کمرے میں گئی ہو گی، جہاں وہ ٹھری ہوئی تھی۔۔ وہ اسکے کمرے کے پاس آیا تو باہر نور کھڑی تھی۔۔۔ جو شائد اندر جانا چاہتی تھی۔۔
“یہاں کیا کر رہی ہو؟” اسفندیار اسکے پاس آ کر بولا۔۔۔
“وہ میں۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔” وہ اپنے ہاتھ مڑور رہی تھی۔ اسفندیار سمجھ گیا۔۔۔
“بے وقوفیاں بند کرو، جاؤ” اسنے سخت لہجے میں کہا۔ نور وہاں سے چلی گئی۔ اسفندیار نے گہرا سانس لیا اور بند دروازے کو دیکھا۔۔۔۔ اسنے ہیندل پر ہاتھ رکھ کر کھولا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔ وہ اندر داخل ہوا۔ وہ کھڑکھی کے پاس کھڑی گہرے گہرے سانس لیتی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ دوبارہ اسفندیار کو سامنے دیکھ اسنے غصے سے دانت پیستے چہرا موڑا۔ اسفندیار نے دروازہ بند کیا۔ اور اسکے پاس آیا۔۔۔۔
“بات نہیں کرو گی؟” اسکے پاس جا کر کھڑا ہوا اور کھڑکھی سے باہر دیکھنے لگا۔۔
“نہیں آپ جاؤ یہاں سے” وہ سر مسلتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
“بات تو کرنی پڑے گی” اسنے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ نیہا نے پہلے اپنے دائیں بائیں رکھے اسکے دونوں ہاتھوں کو دیکھا اور پھر اسکی طرف دیکھا۔ اور ایک جھٹکے میں اسنے اسکے دونوں ہاتھ جھٹکے۔۔
“مسٹر اسفندیار حسن آئندہ مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرنا، ورنہ میں یہ تک بھول جاؤ گی، کہ تم میری بیٹی کے باپ ہو، میں نے اپنا فیصلہ نیچے سبکے سامنے سنا دیا ہے، اس پر عمل ہو جانا چاہیے، بہت شکریہ اتنے دن سبکو پناہ دینے کے لیے، اگر میری مجبوری نا ہوتی تو کبھی اس گھر کی طرف مُڑ کر بھی نا دیکھتی” انگلی اُٹھا کر اسنے وارنگ دی۔ آج پہلی بار اسنے اسے تم کہ کر مخاطب کیا تھا۔ اور بیڈ پر پڑا بیگ اُٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ اور وہ خاموشی سے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔۔۔۔۔ لفظ کٹھور ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔


جاری ہے۔۔۔۔۔