Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“پتہ ہے کب سے کال کر رہا ہوں، کم از کم ایک کال ایک میسج کا ہی رپلائی دے دیتی، دو دن سے پاگلوں کی طرح کالز میسجز کر رہا ہوں، کیا اتنا ہی بے مول ہو گیا ہوں کہ اب جواب تک دینا پسند نہیں کرتی” ساحل اسکے فون اُٹھاتے ہی برس پڑا۔ وہ دو دن سے پاگل ہو گیا تھا اسے مسیجز اور کالز کر کر کے پر اسنے تو جیسے نا اُٹھانے کی قسم کھائی تھی۔
“سر بات نا کرنا ہی مناسب ہے” وہ بولی تو ساحل کے جبڑے تن گے۔
“پہلے تو یہ سر کہنا بند کرو اور بات کرنا مناسب یے یا نہیں یہ میں ڈیسائیڈ کروں گا تم نہیں، ابھی کہاں ہو تم مجھے ملنا ہے بہت سن لی میں نے تمہاری” وہ اپنا کوٹ نکال کر پہنتے ہوۓ سخت لہجے میں بولا۔ حیام چپ ہی رہی اسنے کوئی جواب نہیں دیا۔
“حیام میں کچھ پوچھ رہا ہوں بتاؤ کہاں ہو؟ میرے ضبط مت آزماؤ” اسکی چپی کی وجہ سے وہ سخت لہجے میں بولا۔
“ہسپتال میں ہوں” حیام نے گہرا سانس لے کر کہا۔
“ہسپتال کیوں کیا ہوا؟ تم ٹھیک تو ہو نا؟” ساحل کو لگا اسے کچھ ہوا یے۔۔۔۔
“ہمممم وہ امی کو ایڈمٹ کیا ہے،،، انہیں انہیں کینسر ہے” بولتے ہوۓ حیام کے لہجے میں نمی تھی۔۔۔۔
“ایڈریس بھیجو میں آتا ہوں” ساحل کو وہ ٹوٹی ہوئی لگی اسنے ایڈریس کا کہتے کال کاٹ دیا۔ تھوڑی دیر بعد حیام نے ایڈریس بھیج دیا۔ وہ باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔


اسکی آنکھ کچھ کھٹکنے کی آواز پر کھلی، اسنے اپنے چہرے سے کمبل ہٹایا تو سامنے ہی پولیس کی یونیفارم پہنے وہ بالوں میں برش کر رہا تھا، وہ یک ٹک شیشے میں ابھرتے اسکے عکس کو دیکھنے لگی، اسکے چہرے پر مسکراہٹ ہولے سے ابھری، یہ شخص اسکا تھا، بس اسکا، ہمیشہ جس لمحے کو جینے کے وہ خواب دیکھتی تھی وہ پورا ہوا تھا، اپنے اوپر پڑنے والی نظروں کی تپش کو اچھے سے محسوس کر رہا تھا۔ تبھی اسنے برش ڈریسنگ ٹیبل پر تقریباً پھینکا اور پلٹ کر اپنی طرف والے سائیڈ ٹیبل کی طرف آیا گاڑی کی چابی اور وائلٹ نکالنے لگا۔ وہ اسکے یوں برش پھینکے پر چونکی اور اپنے بال سمیٹتی اٹھ کر بیٹھی۔
“آپ آج کام پر نا جاتے، ہماری شادی کا پہلا دن ہے، اور آپکا زخم ابھی تازہ یے” وہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ ہولے سے بولی۔۔
“شادی کرنے کا مطلب یہ نہیں کام کرنا چھوڑ دیں، یہ موم نے دیا تھا تمہیں دینے کو” وہ سنجیدہ لہجے میں بولا اور سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ایک ڈبی نکالی کر بیڈ پر اسکی طرف پھینکی۔ نہیا نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا جسکا چہرہ بالکل سنجیدہ تھا، بالکل کسی بھی جزبے سے پاک۔ وہ اگلے ہی لمحے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔پچھے وہ بیڈ پر پڑی دبی کو دیکھتی رہ گئی، اسے اسکا کل سے لے کر اب تک کا یہ لیا دیا انداز بالکل سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، وہ جانتی تھی وہ ایک سخت مجاز اور بالکل ریزو انسان ہے پر وہ اب اسکی زندگی میں عام انسان تو نا تھی وہ اسکی شریکِ حیات بن چکی تھی، تو پھر یہ سب کیوں؟ کئی سارے سوالات اسکے ذہین میں آ ریے تھے۔ اسنے سر جھٹکا اور اس ڈبی کو پکڑ کر کھول اسکے اندر ایک خوبصورت سی انگھوٹھی تھی، وہ ہیرے کی انگھوٹھی چمک رہی تھی اسنے نکلا کر اسے اپنی انگلی میں پہنا، اور اپنی نظروں کے سامنے کیا، بے ساختہ اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔۔۔
“آپ کا پہلا گفٹ بہت خوبصورت ہے اسفندیار” وہ مسکراتے ہوۓ بولی، اور کئی پل اس انگھوٹھی کو دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔تبھی دروازے پر دستک دیتے اور نور اندر آئی۔
“نہیا بھابھی موم نے بولا ہے ریڈی ہو کر نیچے آ جائیں، ناشتہ کرنا ہے” نور مسکراتے ہوۓ بولی۔
“اچھا” وہ بولتی جلدی سے کمبل سے نکلی اور الماری سے ایک سوٹ نکال کر واشروم میں چلی گئی کچھ ہی دیر میں تیار ہو کر نور کے ساتھ نیچے آئی۔ سامنے ہارون اور راحیلہ ٹیبل پر بیٹھے انکا انتظار کر رہے تھے،
” السلام علیکم !” وہ دونوں کو سلام کرتے کرسی پر بیٹھ گئی دونوں نے سلام کا جواب دیا۔ اور ہلکی پھلکی باتوں کے دوران ناشتہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔


وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا سامنے پڑی فائل کو دیکھ رہا تھا، تبھی اسکے ٹیبل پر رکھا فون بجا، اسنے رسیور پکڑ کر کان سے لگایا۔۔۔
“ایس پی اسفندیار اسپیکنگ” فائل پر نظر دوڑاتے وہ بولا۔
“ہیر فرید احمد خان اسپیکنگ کیسے ہو میرے لختے جگر، نکاح کا تحفہ کیسا لگا” اسپیکر سے فرید کی آواز گھونجی رسیورا پر رکھے ہاتھ کی پکڑ بڑھی، اور جبڑے تن گے۔
“بالکل ویسا جیسا بھی کچھ دیر بعد تجھے اپنی قیمتی چیز کھو دینے سے لگے گا” چہرے پر مسکراہٹ بکھرے وہ ہولے سے بولا۔۔۔فرید کا قہقہ بلند ہوا۔۔۔
“ہاہاہا تمہیں معلوم ہے، تم میرے لیے ایک چیونٹی کے برابر ہو، یوں چٹکی میں مسل سکتا ہوں” وہ اسکا مزاق اڑاتے ہوۓ بولا۔
“وہی چیونٹی تمہیں ایسا کاٹے گی، تڑپتے رہ جاؤ گی کوئی پانی بھی پوچھنے نہیں آۓ گا، ویسے سنا ہے تمہاری فیکٹری میں اگ لگ گئی ہے جاؤ مجھے مسلنے سے پہلے اس آگ کو بھجاؤ اور ہاں مسٹر فرید احمد خان بچ کر اس آگ میں خود مت جل جانا ابھی بہت سارے حساب کتاب باقی ہیں” اسفندیار بولتے ہوۓ آخر میں کال بند کر گیا۔فرید خان کے چہرے پر بل پڑے، تبھی اسکا ملازم رانا بھاگتے ہوۓ اندر آیا۔
“مالک فیکڑی میں آگ لگ گئی۔۔۔پتہ نہیں یہ سب کیسے ہوا” وہ ہانپتہ ہوا اسکے سامنے بول رہا تھا۔ فرید خان کے جبڑے تن گے۔۔۔۔
“حرام خور میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا” وہ اپنا موبائل سامنے دیوار پر مارتے ہوۓ بولا۔ اور باہر کی طرف بڑھا۔ رانا بھی اسکے پیچھے بھاگا اب انکا رخ اپنی فیکٹری کی طرف تھا۔۔۔


ساحل ہسپتال پہنچا تو وہ اسے کوریڈور میں رکھے بینچ پر بیٹھی مل گئی۔ وہ بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا۔
“حیام ” اسنے اسکے پاس آتے ہولے سے اسے پکارا۔ حیام نے اپنا چہرا اُٹھایا سامنے کھڑے ساحل کو دیکھا اسکا چہرا بھیگا ہوا تھا۔ ساحل وہی اسکے ساتھ بینچ پر بیٹھ گیا۔ اسنے واپس اپنا چہرہ جھکا دیا۔
“تم ٹھیک ہو؟” وہ اسکی طرف دیکھے ہولے سے بولا۔
“ہممم” وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔۔۔
“آنٹی کی طبعیت کیسی ہے؟ اور تمہارے والد اور بھائی کہاں ہیں؟ اکیلی کیوں ہو؟” ساحل نے ایک دم اس سے سوال کیے۔۔
“امی کو ایڈمٹ کیا گیا ہے، مزید ٹیسٹ ہو رہے ہیں، بھائی کو فون کر کے بتایا تو ہے پتہ نہیں آئیں گے کہ نہیں” وہ آنسو صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
“رونا بند کرو میں ڈاکٹر سے بات کر کے ساری ریپوٹ لیتا ہوں” ساحل کھڑا ہو کر ڈاکٹر کے کیبن کی طرف بڑھا۔وہ بھی اسکے ساتھ ہی گئی۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر سے بات کر کے وہ کیبن سے نکلے۔۔۔ ڈاکٹر کے مطابق وہ لاسٹ سٹیج پر تھیں، بہت بھی ہوا تو وہ کچھ دن جی سکیں گی، یہ سب سن کر حیام کے قدموں تلے زمین کھسکی۔
“آہ ” وہ اسکے ساتھ کیبن سے نکل رہی تھی جب ایک دم سے چکر آیا۔ ساحل نے جھٹ سے اسے پکڑا۔
“حیام تم ٹھیک ہو؟” وہ اسے بازو سے پکڑے کھڑا تھا۔
“اووو تو یہاں ماں بیمار ہے لیکن بیٹی کا عشق چل رہا ہے، اپنے یار کو بلوا لیا تھا تو مجھے کیوں بلایا، میں اتنا مصروف تھا” وسیم ہاتھ میں پکڑی چین کو انگلی پر گھوماتے ان دونوں کے پاس آتے ہوۓ بولا۔ حیام جھٹ سے سیدھی ہوئی۔
“یہ کیا بے ہودہ انداز میں بات کر رہے ہو” ساحل نے با مشکل اپنا غصہ کنٹرول کیا۔۔۔
“ارے جب تم دونوں کو شرم نہیں تو مجھے کیسی شرم ویسے حیرانگی والی بات ہے، ساحل بلاج حمدانی جیسے بری شخصیت ایک معمولی لڑکی کی ماں کے لیے ہسپتال کیوں آیا” وہ دو قدم اگے بڑھا۔۔۔
“سر آپ جائیں یہاں سے” حیام درمیان میں آ کر بولی۔ وہ یہان لڑائی نہیں چاہتی تھی۔ ساحل نے دانت بیچتے اسے دیکھا جو التجائی انداز میں بولی تھی۔۔
“میں جا رہا ہوں اگر کسی قسم کی ضرورت ہو فون کر دینا” وہ اسے کہتا ایک سخت نظر ویسم پر ڈالتا وہاں سے چلا گیا۔۔
“تیری اتنی ہمت اپنے عاشق کو یہاں تک بلوا لیا گھر چل پھر بتاتا ہوں” وسیم اسکا بازو سے سے مڑورتے ہوۓ بولا۔ وہ سہم گئی۔
“امی کو دیکھ لو،” اسنے بات بدلی۔۔۔
“دیکھ لیتا ہوں، ویسے بھی امی مرنے ہی والی ہے، اچھا ہو گا جان چھوٹے گی، روز روز کے خرچوں سے” وہ اپنا کھلے گیربان کی شرٹ کو پیچھے کرتے گلے میں پہنی چینز کو انگلی پر مڑورتے ہوۓ بے رحم انداز مین بولا۔ حیام کی آنکھیں بھر آئیں، اسکا دل کیا ابھی اسکو مارے پر وہ خود میں ہمت ہی پیدا نا کر پائی، وہ کہنا چاہتی تھی کہ تم کون سے خرچے اُٹھاتے ہو، پر کہ نا پائی، وہ بس سر جھکاۓ آنسو بہاتی رہ گئی۔


فرید احمد خان اس وقت اپنی فیکٹری کے پاس کھڑا تھا، جو جل رہی تھی، اگ کے شعلے ابھل رہے تھے اس سے زیادہ کہی ہ اندر سے ابھل رہا تھا، غصے کے مارے اسکی دماغ کی نسیں پھٹ رہیں تھیں، آج پہلی بار اسکے گریبان پر کسی نے ہاتھ ڈالا تھا، اسکی ناک کے نیچے اس نے اسکی فیکٹری جلا کر راکھ کر دی، جس میں کڑوروں کا مال تھا۔۔
“بھائی یہ سب کیسے ہو گیا؟ کس نے کیا؟ ” وہ ہانتپا کانپتا وہاں پہنچا۔
“اسی نے کیا جسکو نکاح کا تحفہ دیا تھا” فرید احمد نے جلتی فیکٹری کو دیکھتے ہوۓ دانت پیس کر کہا۔۔۔
“اس حرام خور کی اتنی ہمت اسکو تو آج ہی مار دوں گا ” مزمل چلاتے ہوۓ بولا۔
“چپ چھوٹے اتنا غصہ ٹھیک نہیں، اور تم کہان تھے جب یہاں وہ آگ لگا گیا۔ کیا اس فیکٹری کو سھنمبالنا تمہارا کام نہین تھا” اسنے مزمل کی گردن کو دنوں ہاتھوں میں پکڑتے ہلکی ہلکی چت لگاتے ہوۓ کہا۔ مزمل نے اپنے برے بھائی کی آنکھوں میں دیکھا۔ اسے ایک دم سے خوف محسوس ہو۔ا۔ وہ لال انگاڑے بھری نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔
“بھائی وہ اپکا ہی بتایا ہوا کام کر رہا ہوں اتنے دنوں سے” وہ ہکلاتے ہوۓ بولا۔۔۔ اسکی بات سن کر فرید کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی۔۔
“تو میرے چھوٹے بھائی اس میں تیزی لا” وہ اسکی گردن پر آخری چت لگاتے ہوۓ بولا۔ اور پھر پیچھے ہو گیا۔
“جی بھائی لیکن اس اسفندیار کا کیا کرنا ہے ” وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“اسکو میں دیکھ لوں گا، میرا اتنا برا نقصان کیا ہے، اب مجھے بھی اسے ایک زبردست جھٹکا دینا ہو گا” پر اسرا مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولا۔ مزمل نے بس ہاں میں سر ہلایا۔


“اگر یہ تمہارا شک ہے، تو ہم اس پر کام کر سکتے ہیں” وہ دونوں اس وقت شہیر کے فلیٹ پر موجود تھے، اسفندیار نے اسے ایک فائل پکڑائی جسے دیکھتے ہوۓ وہ بولا۔
“کام کر سکتے ہیں، پر یہ سب سیکرٹ طریقے سے کرنا ہو گا، جب میرے پاس سارے ثبوت ہوں گے تب میں سر سے بات کر کے پرمیشن لے پاؤں گا” اسفندیار حال مین چکر لگاتے ہوۓ بولا۔
“فل حال تو گھر جا، مین کیس سٹڈی کر لوں گا” شہیر فائل کو بند کرتے ہوے بولا۔ وہ جانا مانا وکیل تھا۔
“چلا جاؤں گا ابھی مجھے آرام کرنا ہے” اسفندیار وہی ہڑے صوفے پر لیٹتے ہوے بولا۔
“ابھی کل ہی تو تیری شادی ہوئی ہے، جا گھر بھابھی انتظار کر رہی ہو گئیں ایک بج گیا ہے” شہیر نے اسے جانے کا بولا۔ پر وہ ویسے ہی خاموشی سے لیٹا رہا بنا کچھ بولے۔۔
“اسفی بھائی لیں چاۓ پیں اور میں نے کباب بناۓ ہیں وہ بھی ٹرائی کریں” تبھی شہیر کی وائف خدتجہ ٹرے ٹیبل لیے ان دونوں کے پاس آئی۔ اسفندیار صوفے پر بیٹھا۔
“شکریہ بھابھی” وہ چاے کا کپ پکڑتے ہوۓ بولا۔ خدتجہ مسکراتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہ مگن سا چاۓ اور کباب کھانے لگا۔۔
“اسفندیار تو نے شادی کس کے کہنے پر کی؟ کیا اس میں تیری رضامندی شامل نہیں تھی” شہیر جو کب سے اسے گھور رہا تھا کل سے دل میں آیا خیال وہ اب زبان پر لے آیا۔ اسکی بات پر اسفندیار کے ہاتھ ایک پل کو رکے۔
“مرضعی کے بغیر کون شادی کر سکتا ہے، اور بلاج انکل کی خاطر میں کچھ بھی کر سکتا ہوں یہ تو جانتا ہے” وہ کباب کا ٹکرا منہ میں ڈالتے ہوے بولا۔
” جانتا ہو بلاج انکل سے کتنا پیار کرتا یے۔ چلو شکر یے تم نے اپنی مرضعی سے شادی کی، میں بھی پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہا تھا” شہیر ایک دم ہلکا پھلکا ہو گیا۔
“چل میں چلتا ہوں ” وہ اپنے ہاتھ پونچھتے ہوۓ کھڑا ہوا اور اس سے بغل گیر ہوتے فلیٹ سے نکلتا وہ لفٹ میں داخل ہوا، پارگنگ ایریہ میں آ کر وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کو گھر کی طرف بڑھا دیا۔
“اسفندیار تو نے شادی کس کے کہنے پر کی؟ کیا اس میں تیری رضامندی شامل نہیں تھی” ابھی کچھ دیر پہلے پوچھا گیا سوال اسکے دماغ میں گھونج رہا تھا۔۔۔۔ وہ گاڑی کو خالی روڈ پر چلا رہا تھا۔ صبح سے وہ پہلے تھانے اور بعد مین شہیر کے گھر مصروف رہا، اسنے صبح سے کوئی دروائی نہیں لی، اور اس وقت اسکا سر پھٹ رہا تھا اور بخار بھی ہو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ گھر پہنچا گاڑی کو پارک کرتا وہ اندر داخل ہوا۔ سارا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا اوپر اپنے کمرے کے پاس پہنچا، دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو سامنے بیڈ پر کتابوں اور نوٹس پھیلاۓ نہیا پر نظر پڑی۔
“آپ آ گے اتنی دیر کیوں لگا دی میں بار بار فون بھی کر رہی تھی پر آپ نے پک ہی نہیں کیا” نہیا اسے دیکھتے ہی بولی۔ وہ اسکی بات اگنور کرتا الماری سے کپڑے نکال کر واشروم میں چلا گیا۔ نہیا نے جلدی سے بکس اور نوٹس سمیٹے ایک نظر خود کو شیشے میں دیکھا، صبح والا ہی سوٹ پہنا ہوا تھا بس اب سر پر گرم ٹوپی اور کوٹ کا اضافہ ہو گیا تھا۔ وہ کچھ سوچتے نیچے چلی گئی، اسنے جلدی سے کھانا نکال کر ٹرے میں سیٹ کیے واپس کمرے میں آئی تو اسفندیار بیڈ پر سیدھا لیٹے آنکھوں پر ہاتھ رکھے سونے کے لیے لیٹ چکا تھا۔ وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتی اسکو اُٹھانے کے لیے اگے بڑھی۔
“اسفی، میں کھانا لائی ہوں کھا لیں، آپکو تو بخار ہے۔” وہ اسکے بازو کو ہلکا سا ہلاتے ہوے بولی۔ پر اسے محسوس ہوا جیسے کسی انگارے پر ہاتھ لگا دیا تبھی وہ فوراً بولی۔
“دور رہو” اسکے ہاتھ لگاتے ہی اسنے زور سے اسکا ہاتھ جھٹکا اور سخت لہجے میں بولا۔ وہ ایک دم ڈر کر پیچھے ہو گئی۔
“کیاااا ہوووااا” وہ ڈرتے ہوۓ بولی۔۔۔
“دیکھو نہیا سکون سے سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو” وہ دانت پیستے ہوۓ بولا۔ نہیا کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی جھلکی، وہ ہونٹوں کو کاٹتے سر جھکاۓ اپنی جگہ پر آ کر کروٹ کے بل لیٹ گئی، خود کو کمبل مین لپیٹ لیا۔
اسفندیار سیدھا لیٹا اپنا ماتھا مسلنے لگا۔ اسنے ایک نظر ہلکی روشنی میں نظر آتی کروٹ کے بل لیٹی نہیا پر ڈالی، ابھی کچھ دیر پہلے اپنے رویہ سے اسکو دکھی کر چکا تھا۔ وہ گہرا سانس لے کر رہ گیا۔ اسنے اپنی آنکھین زور سے بند کر لیں جیسے کسی نے اسکی آنکھوں میں مرچیں لگا دی ہوں۔
جاری یے۔۔۔۔۔۔