Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

اس واقعہ کو تین مہینے گزر چکے تھے، میرال نے ساحل سے بات کرنا بالکل بند کر رکھی تھی، وہ جب بھی کوشش کرتا میرال تلخ جواب دے کر چپ کروا دیتی، حیام کے ساتھ اسکا رویہ نارمل تھا۔ اس نے اسے بہو کے طور پر قبول کر لیا تھا، جہاں تک بات بلاج کی تھی، اس میں ان تین مہینوں میں عجیب سا بدلاؤ آیا تھا، وہ ہر دوسرے دن سکندر ولا جاتا، کئی گھنٹے سکندر حمدانی کے ساتھ بِتا کے آتا، عمیر ایک کمرے تک محدود ہو چکا تھا، حرا بلاج کو دیکھتے ہی منہ پھیر لیتی، اسے جہاں علیزے کی غلطی لگتی وہی اسے بلاج بھی قصور وار نظر آتا۔ بلاج عمیر کے ساتھ وقت بتاتا تا کہ وہ اس غم سے نکل سکے، اسے اپنے ساتھ باہر لے جاتا۔ وہ سب کے سامنے خود کو مظبوط دکھاتا پر اندر سے وہ خود ہر گزرتے پل کے ساتھ خود کو ہارا ہوا محسوس کرتا، ساری زندگی اسنے جس بات سے اپنے بچوں کو بچانا چاہا آخر میں وہی ہوا، وہ خود کو قصور وار سمجھتا اسکے اندر کی اتھل پتھل سے میرال بہت حد تک واقف تھی۔۔۔ کئی بار اسنے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی جسے وہ ٹال دیتا۔۔
علیزے گلناز کے ساتھ چلی گئی تھی، وہ اسے اپنے اپارٹمنٹ میں لے آئی، وہ پچھلے تین مہینوں سے اسکے ساتھ رہ رہی تھی، وہ بالکل خاموش سے ہو گئی۔ ہر پل اسے اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوتا۔ وہ گھر کے ایک کمرے میں خود کو محدو کر چکی تھی۔ گلناز اسے باہر چلنے کا کہتی پر وہ ہر بار منع کر دیتی۔۔۔۔
نیہا ایک ہفتے بعد ہی گھر واپس آگئی تھی۔ اور اب وہ ہسپتال جوائن کر چکی تھی اسے جوائن کیے دو مہینے ہو گے تھے وہ جانا تو نیشنل ہسپتال میں چاہتی تھی، پر اسے سٹی ہسپتال میں ہاؤس جاب کرنے کو ملی۔۔ اسکے ساتھ ہاشم تھا، راحم اور روشانے کو نیشنل ہسپتال میں اپائنٹ کیا گیا۔
“تیار ہو؟” وہ ڈریسنگ روم میں سے پولیس کے یونیفارم ملبوس، کلائی میں واچ پہنتے باہر آیا۔
“ہممم ” وہ پونی میں قید بالوں کو نیچے سے برش کرتے ہوۓ بولی، وہ کافی نروس لگ رہی تھی۔۔۔
“کیا ہوا؟ پریشان ہو؟” اسکے ہاتھ سے برش پکڑتے اپنے بالوں میں پھرتے اسکے عکس کو شیشے میں دیکھتے ہوۓ سوالیہ انداز میں بولا۔ وہ اسے کیا بتاتی پچھلے تین مہینوں سے وہ کس ذہینی دباؤ کی شکار ہے، فرید احمد بار بار اسے میسج کرتے ملنے کا بول رہا تھا۔ جسے وہ ہر بار بلاک کر دیتی پھر وہ نئے نمبر سے اسے میسج کرتا اور دھمکی دیتا۔ آج صبح بھی وہ اسے ہسپتال کے پاس کیفے میں ملنے کو کہ رہا تھا اور ساتھ دھمکی بھی تھی اگر آج نا آئی تو وہ اسفی کو سب بتا دے گا۔۔۔۔
وہ سر جھکاۓ پاؤں کو زمین پر ہلکا ہلکا مار رہی تھی۔ اسفندیار اسے ایک ہفتے سے نوٹ کر رہا تھا۔ اسکا عجیب برتاؤ، اسے پریشانی میں مبتلا کر رہا تھا۔
“نیہا کیا بات ہے؟ کوئی بات پریشان کر رہی ہے؟ مجھے بتاؤ” اسفندیار دو قدم اگے بڑھا اور اسکا چہرا تھوڑی سے پکڑتے اوپر کیا۔ اسکی آنکھیں ضبط سے لال ہو رہیں تھیں۔ اب وہ سچ میں پریشان ہو گیا۔ وہ ان چھے مہینوں میں اتنا تو جان چکا تھا، وہ ایسی چھوٹی باتوں پر اتنا پریشان نہیں ہوتی، اسکے ساتھ بھی اب وہ ہنستی مسکراتی رہتی پر پچھلے ایک ہفتے سے وہ اسے زیادہ پریشان نظر آ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا نیہا اگے بڑھی اور اسکے سینے میں سما گئی۔ اسفی شاک میں تھا، ان چھے مہینوں میں ایسا موقع نہیں آیا جو وہ اسکے نزدیک آتی۔ آج جب وہ آئی تو روتے ہوۓ مطلب بات کافی بری تھی۔ اسنے اسکے گرد بازوں کا حصار تنگ کیا۔ وہ روۓ جا رہی تھی۔۔۔۔
“نیہا ریلکس کیا ہوا؟ بتاؤ مجھے کوئی پریشانی ہے؟” وہ اسکے سر کو سہلاتے ہوۓ پریشانی سے بھری آواز میں بولا۔ پر وہ روۓ جا رہی تھی۔ اور اسکے گرد پکڑ اور مظبوط کر رہی تھی جیسے کوئی بچہ اپنے فیورٹ کھلونے کو زور سے سینے سے لگا لیتاہے کہ کہی کوئی اسے اس سے چھین نا لے۔۔وہ ہلکا ہلکا کانپ بھی رہی تھی۔۔۔
“مجھے چھوڑیں گے تو نہیں؟ وعدہ کریں چاہے کچھ بھی ہو جاۓ میرا ساتھ نہیں چھوڑیں گے” وہ اسکے سینے پر تھوڑی رکھتے روتے ہوۓ اس سے وعدہ مانگ رہی تھی۔۔۔۔
“کیسی باتیں کر رہی ہو، میں کیون چھوڑوں گا بتاؤ ہوا کیا ہے؟” وہ اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں پکڑے بولا۔ نیہا کو ایک دم سے فرید احمد کے دھمکی بھرے میسجز یاد آۓ۔
“کچھ نہیں وہ بس ایسے ہی دل گھبڑا رہا تھا تو رونا نکل گیا۔ آپکو پتہ تو ہے آپکے لیے کتنی پوزیسو ہوں” وہ زبردستی مسکرا کر بولی۔۔ اسفندیار جانچتی نظروں سے اسے دیکھتا رہا اور پھر نفی میں سر ہلا دیا۔۔
“کسی دن میری جان لے لو گی، خبردار جو آئندہ ان خوبصورت آنکھوں میں آنسوں آۓ” وہ اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔ اور پھر اسکے ماتھے پر بوسہ دیا۔ نیہا اسکے خوبصورت الفاظوں کو ہضم کرتی اس سے پہلے اپنے ماتھے پر دیے گے بوسے نے اسکی ہاٹ بیٹ بڑھا دی۔ جس میں اعتماد بھروسہ، اور شائد محبت بھی شامل تھی، جسکا اظہار تو ابھی نہیں ہوا تھا۔ اسکے اندر کا سارا ڈر ایک دم سے جیسے ختم ہو گیا۔ اسنے گہرا سانس لیا۔۔ اور ڈوپٹہ سر پر ٹھیک کیا۔ اور اپنا پرس ڈریسنگ ٹیبل سے اُٹھا کر کندھے پر ڈالا اس سارے عمل میں اسکی نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔ وہ پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ پھنساۓ اسکی حرکتیں نوٹ کر رہا تھا۔۔۔۔
“چلیں دیر ہو رہی ہے” وہ اسے دیکھے بنا باہر کو باہر، اسفندیار ہنستا ہوا اسکے پیچھے آیا۔۔۔۔۔


“شکریہ، شہیر تمہاری وجہ سے مجھے فرید احمد کے خلاف مزید ثبوت مل گے” وہ کان سے موبائل لگا کر شہیر کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔ ابھی تھانے میں اسے شہیر نے اپنے آدمی کے ہاتھ اسفندیار کو کچھ ثبوت پہنچواۓ تھے، جسکے ذریعے وہ اب اگے بڑھ سکتا تھا۔ اسنے شہیر سے بات کر کے کال بند کی اور پیپرز کو دیکھا۔ جس پر ان لوگوں کے نام تھا، جنہوں نے پچھلے پانچ سالوں میں فرید احمد کے خلاف ریپورٹ کروائی، جن پر ایکشن نہیں لیا گیا۔ اور ریپورٹ تک نا لکھی گئی، کیونکہ اس وقت کا ایس پی فرید احمد کا خرید ہوا تھا۔ نام کے ساتھ فون نمبر اور گھر کے پتے لکھے ہوۓ تھے۔ اسفندیار نے نمبر ملایا۔ پہلا بند تھا اسنے دوسرا ملایا۔۔ کسی لڑکی نے فون اُٹھایا۔۔۔۔
” السلام علیکم! جی میں ایس پی اسفندیار بات کر رہا ہوں” اسفندیار نے اپنا تعارف کروایا۔
“جی ایس پی، کیا بات ہے؟”
“میں آپ سے فرید احمد کے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں، مین جانتا ہوں چار سال قبل آپ اپنے بھائی کی گمشودگی کی ریپورٹ درج کروانے آئیں تھیں، پر کسی نے درج نہیں کی، کیا ہم مل کر اس بارے میں بات کر سکتے ہیں؟”
“کیوں آپ کو وہ خرید نہیں سکا جو اسطرح اسکے جلاف جانے کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی فائدہ نہیں وہ سب خرید لے گا، ریپوٹر سے لے کر وکیل جج، سب کو خرید لے گا ” وہ لڑکی تلخی سے بولی۔۔
“مجھے بس ایک مظبوط کیس کی ضرورت ہے، میں اسے ایک دفع جیل کے پیچھے بھیجنا چاہتا ہوں، ایک دفع وہ وہاں چلا گیا۔ کبھی لوٹ کر نہیں آۓ گا یہ میرا وعدہ ہے” اسفندیار نے جیسے اسے یقین دلانا چاہا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے آپ ایڈریس سینڈ کر دیں میں آ جاؤں گی” اسنے بول کر کال بند کر دی۔ اسنفندیار نے جلدی سے ایڈریس سینڈ کیا۔۔اور دوسرا نمبر ملانے لگا۔۔۔فون بند تھا۔ اسنے جیب کی چابپ پکڑی اور اس ایڈریس پر جانے لگا۔۔۔۔ وہ زیادہ سے زیادہ کیس چاہتا تھا۔ جو فرید احمد کے خلاف ہوں۔۔۔۔۔۔


“میمم یہ پیشنٹ کی ریپورٹس آ۔۔۔۔۔” نیہا اپنے ہاتھ میں فائل پکڑے روم نمبر 5 میں داخل ہوئی۔ جہاں اسکی سینیر گائیناکالجسٹ ڈاکٹر کھڑیں تھیں۔ وہ انکو اسسٹ کرتی تھی۔ سامنے بیڈ پر علیزے لیٹی ہوئی تھی جسکے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔
“مس علیزے آپ تھری منتھس پریگنٹ ہیں” ڈاکٹر نے گہرا سانس لے کر کہا۔ وہ علیزے کے بارے مین سب جانتی تھیں۔ آج صبح ہی بے ہوشی کی حالت میں گلنار اسے یہاں لے کر آئی تھی۔ علیزے کو دیکھتے نیہا تو تھم سی گئی
“پررریگگگنٹ” اسنے ہکلاتے ہوۓ الفاظ ادا کیے۔ اور اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا، آنکھوں سے بے شمار آنسوں روانہ ہوۓ۔ اذیت کے لمحے تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔
“دیکھیں مس علیزے، آپکی حالت پہلے ہی کافی بری ہے، آپ اپنا خیال رکھا کریں، ورنہ بچے پر برا اثر ہو گا” رفعت ڈرپ کا لیول زیادہ کرتے ہوۓ بولیں، اور کمرے سے باہر چلیں گئیں۔۔۔
“گلنار مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے، کیسے اپنے سب سے برے گناہ کی نشانی اپنے پاس رکھوں، جب جب اس بچے کو دیکھوں گی ہمیشہ اپنے ساتھ ہوا دھوکہ، یاد آۓ گا اپنے ماں باپ کی عزت کو روندھنا یاد آۓ گا” وہ اُٹھ کر بیٹھی اور ڈرپ کو کھینچتے ہوۓ رو رہی تھی۔۔۔ گلناز نے نیہا کو بے بسی سے دیکھا وہ اگے برھی اور اسکا ہاتھ روکا۔۔
“علیزے پاگل مت بنو، تم پہلے ہی اپنے ساتھ اپنی زندگی کے ساتھ محبت کا جوا کھیل چکی ہو، اب اس بچے کو مار کر تم ساری زندگی ایک قاتل بن کر جینا چاہتی ہو، تم کبھی جود کو معاف نہیں کر پاؤ گی، ہر رات اذیت میں گزرے گی، پہلے جو ہو گیا اسے تم ٹھیک نہیں کر سکتی پر اسکا یہ مطلب یہ تم خدا کی اتنی بری نعمت اپنی زندگی کو یوں گنواؤ گی” وہ علیزے کے چہرے سے آنسوں صاف کرتے ہوۓ اسے سمجھا رہی تھی۔۔
“نیہو میں برباد ہو گئی، ایک محبت کو پانے کے لیے میں نے اپنے آس پاس کے اپنوں کی محبتوں کو روندھ دیا، مجھے ایک پل چین نہیں ملتا جب بھی آنکھیں بند کرتی ہوں، اپنے سامنے میرے ڈیڈ کا چہرا آتا ہے، جب شیشے میں خود کو دیکھتی ہوں مجھے موم دیکھتی ہیں، ہر وقت آس پاس ہزاروں آوازین سنائی دیتی ہیں، میں نے سب برباد کر دیا، اپنا آپ اپنے ماں باپ سب کھو دہے، کاش میں قدم نا اُتھاتی تو آج یہاں کھڑی نا ہوتی علیزے میں روز موت کی دعائیں مانگتی ہوں، مجھے موت کیوں نہیں آتی مجھے موت کیوں نہیں آتی” وہ زور زور سے روتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔ دروازے کے پار کھڑا ہاشم سب سن رہا تھا۔۔ اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔ آج ہی تو اس پر انکشاف ہوا تھا کہ علیزے کو طلاق ہو گئی، جب وہ ہاسپٹل مین آیی تو نیہا نے داکٹر کے ساتھ اسکا ٹریٹ منٹ کیا۔ تبھی اسے سب سچائی گلناز کے منہ سے معلوم ہوئی۔۔۔تو اسنے ہاشم کو سب بتایا۔۔
“چپ کرو، خبردار جو آج کے بعد تم نے موت مانگی، زندگی خدا کی امانت ہے تم موت مانگ کر اس امانت میں خیانت نہیں سکتی، غلطی ہوئی ہے، اسکو اچھے سے سُدھارو، تم رو مت، دیکھنا یہ بچہ تمہاری زندگی کی روشنی بن کر آۓ گا” وہ اسے سینے سے لگاتی سمجھا رہی تھی۔۔
“وعدہ کرو، اپنا خیال رکھو گی، دیکھنا سب ٹھیک ہو جاۓ گا، میں تمہارے ساتھ ہوں ” وہ اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی، علیزے نے ہاں مین سر ہلا دیا۔۔ گلناز نے حیرانگی سے نیہا کو دیکھا جو وہ پچھلے تین مہینوں سے نا کر پائی وہ اسنے پانچ منٹ میں کر دیا۔۔ شائد علیزے کو بھی کسی اپنے کی ضرورت تھی۔۔۔ ہاشم اپنی آنکھ کا کنارہ صاف کرتے وہاں سے ہٹ گیا۔ ڈسچارج تک نیہا اسکے ساتھ ہی رہی۔۔ پھر اس سے ملنے لا وعدہ کرتی وہ واڈ کی طرف بڑھی۔۔۔۔جب اسکے موبائل پر فرید احمد کا میسج آیا جو اسے ملنے کا بول رہا تھا نیہا نے کچھ سوچ کر گہرا سانس لیا۔ اور واڈ کی طرف چلی گئی


وہ رات کو گیارہ بجے گھر پہنچی بازو پر سفید لیب کوٹ تھا۔وہ سیدھا کمرے میں آئی جہاں اسفندیار کان سے موبائل لگاۓ کسی سے بات کر رہا تھا۔
“اچھا کب ملی تم؟” وہ گلناز سے بات کر رہا تھا جو نیہا سے ملنے کا بتا رہی تھی۔۔
“آج جب علیزے کو لے کر گئی تب مُلاقات ہوئی” نیہا پرس رکھتے، سائیڈ ٹیبل سے پانی گلاس مین ڈال کر پینے لگی۔۔۔
“تو وہ علیزے سے مل لی” اسفندیار نیہا کو دیکھتے پوچھ رہا تھا۔ نیہا نے چونکتے ہوۓ اسفندیار کو دیکھا۔
“ہاں ملی اور ایک بات بولوں تمہاری بیوی بہت سمجھدار ہے، جیسے گھرانے میں وہ برھی ہوئی مجھے لگا ماں باپ کی لاڈلی ہو گی، اور ابھی بھی ایممچور ہو گئی لیکن کافی سمجھدار ہے، بہت اچھے سے علیزے کو سمجھایا” وہ بول رہی تھی اور اسفندیار چلتے ہوۓ نیہا کے پاس آیا۔۔
“ہاں جی بالکل ٹھیک کہا میری بیوی سمجھدار تو ہے” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ نیہا کو تکتے ہوۓ بولا۔۔ آج اسکا موڈ کافی اچھا تھا نیہا نے اسے گھورا۔
“کون ہے؟” اسنے اشارے سے پوچھا۔
“اچھا گلناز میں بعد میں بات کرتا ہوں ” اسنے کہتے کال بند کی۔ علیزے چونکی۔۔
“گلناز وہ مجھے کیسے جانتی ہے؟”
“علیزے کے ساتھ جو لڑکی تھی وہی گلناز ہے” اسنے موبائل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
“آپکو معلوم تھا علیزے کہاں ہے اسکو طلاق ہو گئی آپ مجھے بھی بتا دیتے، کبھی کوئی بات بیوی سے شئیر کرنے سے آپکے خزانے میں موجود رازوں کے امبار میں گھاٹا نہیں آۓ گا” وہ غصے سے بولی، اسے ہر بات اس سے چھپانے پر بے حد چڑ تھی وہ سب باتیں اخر میں ہی بتاتا۔
“اچھا جب تم مجھے اپنے رازوں میں شریک نہیں کرتی تو میں کیسے کرو، جب تمہیں مجھ پر یقین نہیں” اسفندیار نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“کیسے راز؟” نیہا کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔
“وہی جسکی وجہ سے تم ہر وقت پریشان رہتی وہ، جسکی وجہ سے صبح روئی تھی” اسفندیار دو قدم آگے بڑھتے ہوۓ بولا ۔
“آپ بہت ناراض ہوں گے اسی لیے نہیں بتا رہی” علیزے اپنی انگلیاں مڑورتے ہوۓ بولی
“میری طرف دیکھو، اس رشتے کی بنیاد اعتماد پر ہے، تمہیں اگر مجھ پر اعتبار ہے تو بتاؤ کیا بات ہے، یا میں اس لائق ہی نہیں کہ تم مجھ سے بات شئیر کر سکو” ۔۔ اسفندیار نے اسکے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا۔ نیہا اسکی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
“ایسی بات نہیں آپ جانتے ہیں، آپ پر کتنا یقین ہے، خود کی ذات سے بڑھ کر آپ پر بھروسہ کرتی ہوں، اور یہی میرے ڈر کی وجہ ہے اگر آپ نے مجھ پر اعتبار نا کیا تو اس بھروسے کے ٹکڑے ہوتے میں دیکھ نہیں سکوں گی” وہ نم لہجے میں بولی۔ اسفندیار کو وہ بکھری ہوئی لگی۔۔
“جس دن یہ بھروسہ ٹوٹا تمہارے ساتھ میں ٹوٹوں گا، اور یہ مرنے تک تو ہو نہیں سکتا” وہ اسکے چہرے پر دونوں ہاتھوں میں پکڑے ہوۓ بولا۔۔
“اصل میں بات یہ ہے کہ۔۔۔۔کچھ مہینے پہلے مجھے فرید احمد ملا تھا وہ مجھ سے احمد بن کر ملا۔۔۔۔۔۔۔” اور اسکے بعد نیہا نے اب تک کی ساری باتیں بتا دیں، اسفندیار ضبط کیے سب سن رہا تھا۔ نیہا نے اپنا موبائل بھی اسے دیکھایا۔۔۔۔
“افسوس ہو رہا ہے، تم نے تین مہینے لگا دیے یہ بات مجھے بتانے میں، مطلب میں تمہارا اتنا سا بھی اعتبار ان چھے مہینوں میں جیت نہیں پایا کہ تم مجھ سے یہ سب پہلے شئیر کر سکتی، اور تین مہینے پہلے تمہیں معلوم ہوا وہ فرید احمد ہے،،،، واہ۔۔۔ِ کیا بولوں میں” وہ اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ جیسے خود پر ہی ہنس رہا تھا۔۔
“میں۔۔۔۔۔کیا کرتی اسکے دھمکی بھرے میسجز آتے تھے” وہ ایک دم رونے والی ہو گئی۔۔۔۔
“مجھے سچ میں معلوم نہیں تھا تم اس حد تک ڈرپوک ہو۔ اسکے میسجز سے اتنے مہینے ڈرتی رہی” اسنے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔ نیہا نے اسے نم آنکھوں سے گھورا خود کو ڈرپوک کہنا اسے برا لگا تھا۔۔
“اُڑا لیں میرا مزاق، مجھے ابھی بھی بتانا ہی نہیں چاہیے تھا” وہ غصہ کرتے ہوۓ بولی۔ اور اپنے ہاتھ میں پکڑا اپنا موبائل بیڈ پر پھینکا اور واشروم کی طرف بڑھنے لگی۔ اسفندیار نے اسکا بازو پکڑتے اسے جانے سے روکا۔ وہ چہرے سے کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھی۔
“میں مزاق نہیں اُڑا رہا تھا۔ مجھے بس برا لگا تمہیں اسی دن بتا دینا چاہیے تھا جب معلوم ہوا، تو اتنے مہینے تم ڈر میں جا گُزارتی” وہ اسکے گالوں پر بہے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔ نیہا نے چہرا جھکاۓ رکھا تھا۔ وہ بس خاموشی سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
“اوکے مجھے چینج کرنا ہے” روٹھے ہوۓ انداز میں کہتی وہ اپنا ہاتھ چھڑا گئی۔ اور الماری سے نائیٹ سوٹ لیے واشروم میں گھس گئی۔۔۔۔
“میری بیوی کو یوں ڈرا کر فرید احمد تم نے اچھا نہیں کیا” وہ دانت پیستے ہوۓ بولا۔۔ اور بیڈ پر جا کر بیٹھتے لیپ ٹاپ آن کرتے کام کرنے لگا۔۔کچھ دیر بعد وہ نائیٹ ڈریس میں باہر نکلی۔ اور اپنی طرف آ کر رخ موڑے لیٹ گئی۔ چہرے تک پلینکٹ لے لیا۔ اسنے ایک نظر نیہا کی پیٹھ کو دیکھا۔۔ وہ ہولے ہولے سسک رہی تھی۔ اسنے گہرا سانس لیا اور لیپ ٹاپ بند کر کے اسکی اور کھسکا، اسنے نہیا کے چہرے سے بلینکٹ ہٹایا۔ اسنے زور سے آنکھیں میچ لیں، اسنفدیار کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔
“کیا ہوا؟ اتنا کیوں رو رہی ہو؟” اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے پوچھا۔۔۔
“پتہ نہیں، بس آئی جا رہا ہے” وہ نم آنکھوں سے بامشکل بولی۔ اسفندیار کو اس پر ترس آیا۔ اتنے مہینوں سے وہ اکیلی اتنی ساری دھمکیاں سہ رہی تھی۔ اور اسنے بھی اسے ڈانٹ دیا۔۔۔۔
“چلو پھر اچھے سے رو لو، اور جب دل بھر جاۓ، تو کبھی دوبارہ تمہاری آنکھوں میں آنسو نا دیکھو، آئی سمجھ میری نادان بیوی” وہ اسے اپنے حصار میں لیتے ہوۓ بولا۔ نیہا کی آنکھیں مزید نم ہوئیں۔ اسنے اپنا چہرا اسکے سینے مین چھپا دیا۔۔
“ایم سوری مجھے پہلے بتانا چاہیے تھا” وہ ہچکی بھرتے ہوۓ بولی۔
“بس میری جان” وہ اسکے بال سہلاتے ہوۓ بولا۔ جب اسکا دل بھر گیا۔ تو اسے اپنی پوزیشن کا احساس ہوا۔ وہ سرکنے لگی۔ پر اسنے حصار مظبوط کیا۔ اور مسکراتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ نیہا کو اسکے انداز بدلے ہو لگے۔ وہ اس پر جھکتا چلا گیا۔۔۔۔ ڈھال کی طرح اسنے اسے چھپا لیا۔ اور نیہا بھی بھلا کیوں اسے روکتی۔ انکا رشتہ مکمل ہو گیا۔


دوپہر کا ایک بج رہا تھا، اسکی گاڑی سڑک پر بھاگ رہی تھی، اچانک سے سامنے ایک بائیک روکی، اسنے جھٹ سے بریک ماری۔ بائیک والے نے کالا ہیلمٹ پہنا ہوا تھا، بدن پر بلو جیکٹ تھی۔ وہ غصے سے باہر نکلنے لگا۔ جب اس بائیک والے۔ نے پاکٹ سے پسٹل نکالی، اور رخ سامنے کیا۔۔۔ ایک دو تین ٹھاہ کی آوازیں آئیں، جو اسکے بدن کو چڑتی چلی گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔اسکی آنکھیں تاریک ہوتیں چلی گئیں۔۔۔
جاری ہے۔۔۔