Yaaron Ki Yaari Season 2 By Fatima Tariq Readelle50128 Episode 7 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7 Part 1
“یار پریشان کیوں ہو رہا ہے، اسنے ایسے ہی بول دیا ہو گا” ہاشم کب سے راحم کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ جو روبی کو لے کر پریشان تھا۔ وہ چاروں اس وقت کینٹین میں بیٹھے ہوۓ تھے۔
“ہاشم ایسے ہی کوئی سب رشتے ختم کر کے بلاک نہیں کر دیتا۔ وہ سچ میں مجھے چھوڑ گئی” راحم نفی مین ہلاتے ہوۓ بولا۔ اسکے آواز نم تھی۔ سبھی جانتے تھے وہ روبی کے معاملے میں کتنا آگے بڑھ چکا تھا۔ وہ تو اس کے ساتھ اپنی آنے والی زندگی گزارنے کے خواب بھی دیکھ چکا تھا۔ پچھلے ایک ہفتے سے روبی اسے اگنور کر رہی تھی۔ اور کل اسنے باآخر فون اُٹھا ہی لیا اور اس سے سارے تعلقات ختم کرتے بنا اسکی بات سنے فون کاٹ دیا۔ اور وہ تب سے پریشانی کے عالم میں تھا۔اور ڈھونڈنے سے بھی کوئی وجہ نہیں مل رہی تھی کہ وہ یوں اچانک اسے چھوڑ جاۓ۔ سبھی جانتے تھے وہ روبی سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔۔
“راا۔۔۔۔۔” ابھی روشانے کے الفاظ اسکے منہ میں ہی تھے کہ اچانک راحم اپنی جگہ سے اُٹھا اور اپنی دوستوں کے ساتھ کینٹین میں آ رہی روبی کو دیکھتے اسکی طرف بڑھا۔
“روبی یار میرا نمبر کیوں بلاک کر دیا” وہ اسکے سامنے کھڑے ہوتے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے اسے جانے کے لیے روکا۔ روبی اچانک یچھے کو ہٹی۔
“کیونکہ مجھے اب تم سے کوئی بات نہیں کرنی” وہ اپنے سن گلاسس کو سر پر ٹکاتے ہوۓ بولی۔ ۔
“کیوں نہیں کرنی، یہی تو پوچھ رہا ہوں، کیا بات ہو گئی ایک ہفتہ ہو گیا تم مجھے ایسے اگنور کر رہی ہو” ابکی بار راحم کی آواز بلند ہوئی، ہاشم جلدی سے اسکے پاس آیا۔ کینٹین کے کافی لوگ انکی طرف متوجہ تھے۔
“اوکے وجہ سننی ہے تو سنو، مجھے تم سے کبھی محبت و حبت نہیں تھی انفیکٹ میں اس محبت لفظ کو ہی نہیں مانتی،اینڈ بائی دا وے تین دن پہلے میری انگیجمنٹ ہو گئی، میرے کزن کے ساتھ سی۔۔۔” روبی مسکراتے ہوۓ بول رہی تھی اسنے اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوۓ اپنی رنگ فلیش کی، وہ ایک قیمتی ہیرے کی انگھوٹھی تھی۔ راحم لڑکھڑایا، وہ بے یقینی سے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو سِرے عام اسکی محبت کا قتل کر رہی تھی۔
“ررروووبیی ایسے مت بولو، اور پلیز اگر یہ مزاق ہے تو بند کرو۔ تم مجھ سے محبت کرتی ہو، کہو تو آج ہی اپنے پیرنٹس کو تمہارے گھر بھیج دیتا ہوں ہم شادی کر لیتے ہیں” راحم کو لگا شائد اسکو چھیرنے کے لیے ایسا بولا وہ پھر سے اگے بڑھا اور اسکو کندھوں سے پکڑا۔
“ہے ڈونٹ ٹچ می، شادی اور تم سے نو وے ایسا نہیں ہو سکتا، تمہاری اور میری کلاس میں زمین آسمان کا فرق ہے، تم میرے نوکر بننے کے بھی لائق نہیں” وہ دو قدم پیچھے ہوتے طنزیہ انداز میں ہنستے ہوے بولی۔
“اؤ بہت ہوا کب سے بولی جا رہی ہو، اگر اتنا ہی تم راحم نا پسند تھا اگر وہ تمہاری سو کالڈ کلاس کا نہیں تھا تو کیوں ہر وقت اسکے ساتھ چپکی رہتی تھی” علیزے سے مزید برداشت نا ہوا وہ اُٹھ کر اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ غصے سے بولی۔۔
“میں نہیں آتی تھی یہ تمہارا دوست اتا تھا لانگ ڈرائیو کے نام پر میری مہنگی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے آ جاتا تھا۔ تو کبھی کھانے کے لیے مہنگے ریسٹورینٹ، اور یو نو واٹ وہاں بھی میں ہی پے کرتی تھی کیونکہ اس بے چارے کی پاکٹ منی اتنی نہین تھی جو مہنگے کھانے کا بل دے سکے، اور جو انسان بل تک نہین دے سکتا وہ میرے نخرے کیا اُٹھاۓ گا” وہ کلاسس انکھوں پر لگاتے طنزیہ انداز میں بولی۔ راحم بے یقنی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تمہاری تو۔۔۔۔۔” علیزے اسے مارنے کے لیے اگے بڑھی روشانے نے اسے روک لیا۔ روبی چاروں کو ایک نظر دیکھتے کینٹین سے اپنا کھانا لے کر چلی گئی۔ راحم نے ہاشم سے اپنا بازو چھڑوایا، اپنا بیگ کرسی سے پکڑا اور کینٹین سے نکل گیا۔ وہ تینوں بھی اسکے پیچھے بھاگے۔۔وہ پارگنگ ایرایہ مین آیا اپنی بائیک لی، اور اسے روڈ پر فل سپیڈ پر ڈالا۔ ہاشم نے جلدی سے اپنی بائیک نکالی اور اسکے پیچھے لگا دی۔ علیزے اور روشانے پریشان سی کھڑی رہیں۔
“اب کیا کریں، روبی کمینی کہی کی میرا تو دل کر رہا یے اسکی جان لے لوں” علیزے دانت پیستے ہوۓ بولی۔
“راحم کو کتنا ہرٹ ہوا ہے، وہ کیسے یہ سب برداشت کرے گا” بولتے ہوۓ روشانے کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“روشنی تم کیوں رو رہی ہو یار وہ ٹھیک ہو جاۓ گا اچھا ہوا پہلے علم ہو گیا بعد میں پتہ چلتا تو نا اسے زیادہ برا لگتا” علیزے روشانے کے نرم دل سے واقف تھی۔ وہ ہر بات دل پر لے لیتی تھی اور بہت زیادہ سوچتی تھی۔
“چل ابھی ویسے بھی ایک ہی لیکچر رہتا تھا چھوڑتے ہیں، اور گھر چلتے ہین میں تمہین ڈراپ کر دیتی ہوں” علیزے اپنی گاڑی کی طرف بڑھی روشنی گاڑی میں بیٹھی علیزے نے اسے گھر ڈراپ کیا۔ تبھی اسکے موبائل پر مزمل کا میسج آیا۔ وہ اسے ریسٹورینٹ بلا رہا تھا۔ مزمل کا میسج پڑھ کر اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی، اسنے گاڑی کا رخ ریسٹورینٹ کی طرف موڑا۔
“***
ساحل کل سے بہت پریشان تھا اسکے وائلٹ مین ابھی تک ویسم کا نمبر موجود تھا۔ وہ سمجھ نہین پا رہا تھا کیا کرے، اس وقت بھی آفس مین بیٹھا وہ مسلسل اسی بارے میں سوچ رہا تھا۔
حیام اٹھارہ سال کی لڑکی تھی، وہ جس دن اس افس میں انٹرویو کے لیے آئی، تبھی ساحل کو وہ بہت معصوم لگی، لیکن اسکی باتیں بہت بری بری تھیں، جو اسکو اسکی عمر سے برا بنا دیتی تھیں، ساحل نے اسے کام پر رکھ لیا۔ دھیرے دھیرے وہ اچھا کام کرنے لگی، ساحل کو اہستہ اہستہ اس سے محبت ہونے لگی، جسکا اظہار اسنے کر دیا۔ وہ جانتا تھا وہ بھی اسے پسند کرتی یے دونون کے درمیان یہ محبت کا رشتہ قائم ہوا پر جیسے ہی حیام کو بلاج اور باسط کے بارے مین علم ہوا وہ پیچھے ہٹ گئی۔۔۔۔۔اور یہی بات ساحل کو پریشان کرتی۔ اب ویسم کا یون آ جانا اسکی سمجھ سے باہر تھا۔
وہ اپنے افس مین چکر لگاتا، کچھ سوچ کر باہر نکلا۔ اور سیدھا بلاج کے آفس روم کے پاس آیا۔ گلاس وال سے بلاج کا کمرا مکمل دیکھ رہا تھا۔ وہ اگے بڑھتے بڑھتے رک گیا۔ اور پلٹ کر واپس اپنے روم میں آ گیا۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اس معاملے کو کیسے حل کرے۔۔۔۔
رات کے گیارہ بجے کا ٹائم تھا، نیہا نور کے کمرے میں بیٹھی اسے ٹاپک سمجھا رہی تھی اسکا کل ٹیسٹ تھا۔
“بھابھی آپ کب یونی جاؤ گی آپکا کتنا کام پیچھے رہ جاۓ گا”نور بک بند کرتے ہوۓ بولی۔
” ہاں کل سے جاؤں گی، ویسے بھی پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آ گئی، تمہیں نیند آ رہی ہو گی نا سو جاؤ، مین بھی چلتی ہوں” وہ اسکے روم سے نکل آئی، سیڑھیوں سے نیچے اترتے اسکی نظر کیچن پر پڑی جسکی لائیٹ آن تھی۔ اور اندر سے کھٹ پٹ کی آواز آ رہی تھی وہ کچن کی طرف آئی، وہاں وہ نائیٹ سوٹ پہنے، گیلے بال لیے اپنے لیے چاۓ کا برتن رکھ ریا تھا۔
“لائیں میں بنا دیتی ہوں” وہ اسکے پاس آ کر ہولے سے بولی۔ وہ تو اسکی آہٹ پر ہی جان چکا تھا کوئی آیا ہے۔ پر اسنے مڑ کر نا دیکھا۔
“میں بنا لوں گا” وہ اب پین میں دودھ ڈال رہا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں بولا پر نہیا کو نا جانے کیوں برا لگا۔ وہ پیچھے ہو گئی۔۔ پرسوں رات کو ہوئی بات کے بعد ان دونوں کے درمیان کوئی بات نا ہوئی تھی۔ اسفندیار بالکل سنجیدہ اور کام سے کام رکھنے والا انسان تھا۔ وہ زیادہ کام خود ہی کر لیتا تھا۔
“میری چاۓ اسپیشل ہوتی ہے، گھر میں بھی بابا بھیو ماما صائم سبھی رات کی چاۓ میرے ہاتھ کی ہی پیتے تھے، آپکو بھی یقیناً پسند آۓ گی” اپنے اور اسکے درمیان ہائل دیوار کو گِرانے کے لیے وہ ہمت کر کے بولی۔ اب کسی نے تو شروعات کرنی ہی تھی۔
“اوکے ” وہ اتنا بول کر پیچھے ہو گیا۔ وہ خوش ہو گئی، چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ وہ اسکے لیے چاۓ بنانے لگی وہ وہی شلف سے ٹیک لگاۓ اپنے موبائل پر کسی کو میسج کرنے لگا۔ ایک ادھ نگاہ وہ اس پر ڈال لیتا جو مگن سی چاۓ بنا رہی تھی۔
“یہ لیجیے چاۓ” اسنے کپ اسکی طرف بڑھایا، جِسے اسفندیار نے پکڑ لیا۔ نہیا نے اپنے لیے بھی چاۓ نکالی۔ اور اسکے پیچھے چلتے اپنے کمرے میں آئی۔ چلتے ہوۓ اسکی نظر اسکے کالے سلیپر پہنے پیروں پر تھی، جو اسکے سفید پیروں پر خوب جچ رہی تھی اب وہ یہ سوچنے لگی کہ پیر زیادہ پیارے ہیں یا سلیپر۔۔۔۔ وہ اسی خیال میں گم تھی۔ جب اسفندیار کی آواز آئی۔
“تم کل سے یونی جا رہی ہو نا،” اسفندیار کی بات پر اسنے بس ہاں میں گردن ہلائی اور وہی بیڈ پر بیٹھ گئی وہ سامنے صوفے پر بیٹھے چاۓ پینے لگا۔ یہ تو وہ مان چکا تھا وہ واقعی اچھء چاۓ بناتی ہے۔
” تمہیں اور نور کو ڈرائیور چھوڑ آۓ گا، اور واپس بھی اسی کے ساتھ آؤ گی” وہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔ اسکی بات پر وہ چونکی اور پھر اسکے ماتھے پر بل پڑے، انکھیں تھوڑی سی چھوٹی ہوئیں، اسفندیار یہ منظر بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
“بالکل نہیں، میں تو اپنی نیو گاڑی میں جاؤں گی، اتنی منتوں کے بعد جا کے گاڑی ملی ہے میں تو گاڑی میں ہی جاؤن گی وی بھی خود۔ چلا کے، اور ابھی تک تو میرے دوستوں نے بھی گاڑی نہیں دیکھی” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔اسکی بات پر اسفندیار کے ماتھے پر بل پڑے۔
“نہیا تم ڈرائیو کے ساتھ جاؤ گی، اور اب سے تم یونی سے اکیلی یا کسی کے ساتھ بھی نہیں نکلو گی، جہاں جانا ہوا میں تمہیں لے جاؤں گا، آئی بات سمجھ” وہ چاۓ کا کپ ٹینل ہر رکھتے ہوۓ بولا۔ اور نہیا تو اسکے یوں فکریہ انداز پر ہی حیران ہوئی۔۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی جسے وہ فکر سمجھ کر خوش ہو رہی یے وہ اسے اپنا فرض، اور اسکی پروٹیکشن کا وعدہ سمجھ کر نِبھا رہا ہے جو اسنے بلاج سے کیا۔
“اوکے چلی جاؤں گی” وہ چاے کا کپ لبوں سے لگاتے ہوے بولی۔ اور ساتھ ہی اسکے لب پھیلے۔ دل ہی دل میں وہ سوچ چکی تھی جاۓ گی تو وہ اپنی نیو گاڑی میں ہی۔ اسفندیار کندھے اچکاتے موبائل پر کچھ ٹائپ کرنے لگا۔
“اسفی آپ چاہے مجھ سے محبت نا کریں، پر میں آپ سے ہمیشہ دلوں جان سے محبت کرتی رہوں گی،اور میری یہی محبت ہم دونوں کے لیے کافی ہے، آپ میرے سامنے ہو میں آپکو جب چاہے دیکھ سکتی ہوں، آپ سے بات کر سکتی ہوں، میرے لیے تو اتنا ہی کافی ہے، میں ایسے بھی اپنی پوری زندگی کاٹ سکتی ہوں” وہ چاۓ کی چسکی لیتے ہوۓ، سامنے بیٹھے اسفی کو دیکھ ہوۓ سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
