Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

“میں کب سے آپکا انتظار کر رہی تھی، میں نے آپکے کپڑے نکال دیے ہیں” نیہا علیزے کے گھر جانے کے لیے بالکل تیار بیٹھی تھی۔ اسفندیار کمرے میں داخل ہوا تو وہ فوراً بولی۔ وہ اپنا وائلٹ اور فون سائیڈ ٹیبل پر رکھتا اپنے کپڑے لیے واشروم میں چلا گیا۔
نیہا اپنا ڈوپٹہ کندھے پر ڈالے، الماری سے اپنا کلچ نکالنے کے لیے بڑھی، جب اسفی کے فون پر میسجز آۓ۔۔۔ وہ چونکی، گلنار والی بات ابھی تک اسکے دماغ میں چل رہی تھی۔ اسنے واشروم کا بند دروازہ دیکھا اور چلتی ہوئی سائیڈ ٹیبل کے پاس آئی۔ اسکا موبائل پکڑا ہاتھ لگاتے ہی سکرین روشن ہوئی تھی، جس پر وائس اپ گلنار کے نام کے نوٹیفیکیشن جگمگا رہے بیس میسجز تھے
“اتنے زیادہ میسجز، ایسا بھی کیا کام ہو سکتا ہے؟ اور یہ یے کون؟” وہ اپنے ہونٹ کاٹتے موبائل کو دیکھ رہی تھی۔
“میرے موبائل میں سے کیا دیکھ رہی ہو؟” نا جانے کب وہ واشروم سے نکلتا اسکے بالکل پاس آ کر کھڑا ہوا، اسے علم ہی نا ہو سکا۔ وہ اسکی آواز پر بری طرح چونکی۔ شرمندگی کے مارے وہ پلٹ بھی نا سکی۔
“کچھ نہیں یہ لیں۔۔۔” اسنے سر نفی میں ہلاتے ہوۓ کہا۔ اور موبائل اسکی طرف بڑھا دیا۔ وہ خاموش سا اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔
“نیہا اس موبائل میں میری بہت اہم چیزیں ہیں، تو آئندہ اسکو چھونا مت، میں یہ آخری دفع بول رہا ہوں، میری چیزوں کو کوئی بنا آجازت چھوۓ مجھے بالکل پسند نہیں” وہ موبائل کو اسکے ہاتھ سے پکڑتے ہوۓ سخت لہجے میں بولا۔
“اسفی میں کوئی تو نہیں، آپکی بیوی ہوں” وہ چپ نا رہ سکی۔
“نیہا پلیز یہ بیوی والی حرکتیں فل حال مت کرو، میں کمفرٹیبل نہیں ہوں، اس دن بہت ڈیٹیل میں سب سمجھا چکا ہوں، تم نے بھی مان لیا تھا۔ جس دن میں تمہیں بیوی مان لوں گا تب جو چاہے کرنا” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوۓ بولا۔ نیہا نے بے اختیار نظریں جھکا لیں۔
“ایم سوری میں دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گی” اسنے بامشکل اپنے آنسوں کو روکتے ہوۓ کہا۔ تبھی اسفندیار کا موبائل بجا، اسفندیار کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔ نیہا کو لگا گلناز کی ہی کال ہو گی۔
“جی انکل ” اسنے فون کان سے لگاتے ہوۓ کہا۔ نیہا اپنے بالوں کو لوز کیچر میں لپیٹتی اپنا موبائل پکڑنے ڈریسنگ کی طرف آئی۔ وہاں سے ایک ٹیشو پکڑا۔ اور اپنی آنکھیں صاف کرنے لگی۔ اسفندیار کی نظر انجانے میں اس پر پڑی۔ شیشے میں سے اسکا عکس صاف دکھ رہا تھا، اسے اسکا رونا بالکل اچھا نا لگا۔ پر وہ جانتا تھا وہ ہی اسکے رونے کی وجہ ہے۔۔ اسنے اس سے نظریں چُرائیں۔ نیہا نے اسکی طرف دیکھا
“اچھا، آپ فکر مت کریں، جی وہ میرے ساتھ ہی یے، جی ابھی گھر پر ہی ہیں، اچھا اوکے چلیں آپ بھی اپنا خیال رکھیں اللہ حافظ” وہ بلاج کی بات سنتے اسے جواب دے رہا تھا۔ اور آخر میں اسنے کال کاٹ دی جو اسے فرید احمد کی آمد، اور اسکے بعد کی باتیں بتا رہا تھا۔ اور اسے گھر ہی رہنے کا بول رہا تھا۔
” بلاج انکل کا فون تھا، علیزے کا رشتہ کینسل ہو گیا، انہوں نے بولا یے ہم وہاں نا جائیں” وہ بولتا موبائل پر گلناز کے میسجز دیکھنے لگا۔
“یا اللہ، لیکن وہ تو مزمل کو بہت زیادہ پسند کرتی ہے، وہ بہت رو رہی ہو گی” نیہا اسکا سنتے ایک دم پریشان ہو گئی۔
“وہ لڑکا صحیح نہیں، بلاج انکل نے ہی انکار کیا ” اسفندیار اپنے شوز پہنتے ہوۓ بولا۔
“آپ کہاں جا رہے ہیں؟ او سوری میں نے ایویں بیویوں والا سوال پوچھ دیا، جائیں آپ” نیہا نے سوال پوچھتے ہی فوراً اپنے آپ کو کوستے ہوۓ کہا۔
“تو اب طنز کرنا شروع کرو گی، خیر مجھے فرق نہیں پڑتا” وہ اپنے بالوں کو سیٹ کرتے ہوۓ بولا۔اور کمرے سے جانے لگا۔ جب اسکا ہاتھ نیہا نے پکڑ کر اسے روکا۔اسنے پلٹ کر ایک نظر اسکے ہاتھ میں تھامے اپنے ہاتھ کو اور دوسری نظر اسے دیکھا۔
“اسفی، میں یہ نہیں جانتی بابا نے ایسا کیا آپکو بول دیا جو آپ انکی بات نا ٹال سکے اور انچاہے رشتے میں بندھ گے۔ آپ نے وقت مانگا تھا میں نے دیا، پر ایک بات یاد رکھیے گا امانت میں خیانت برداشت نہیں کروں گی، جس دن ایسا ہوا وہی چھوڑ کر چلی جاؤں گی” وہ اپنا بات مکمل کرتی اسکا ہاتھ چھوڑے کمرے سے باہر چلی گئی۔ اور پیچھے اسفندیار اسکے کہے گے الفاظوں کو سوچنے لگا۔ کون سی خیانت؟ اسنے ایسا کیا کِیا؟
“اف!” وہ سر جھٹکتا جلدی سے باہر آیا۔ اور اپنی گاڑی میں بیٹھتے چلا گیا۔۔۔۔ نیہا باہر آئی، سر پر ڈوپٹہ لپیٹے، جیکٹ کی زپ بند کرتے وہ گھر سے نکل آئی، چلتے چلتے وہ یہی پاس کے پارک میں پہنچی،وہ تھوڑی دیر اپنا آپ بہلانا چاہ رہی تھی۔ وہ اسفی کا بی ہیویر سمجھنے سے قاصر تھی، جو کبھی اچھا ہو جاتا اور کبھی برا، کبھی ڈانٹ دیتا تو کبھی بٹھا کر بات کرتا۔ وہ وہی رکھے بینچ پر بیٹھ گئی۔اور سامنے کھیلتے بچوں کو دیکھنے لگی۔ اسکے سامنے کچھ سال پہلے کا منظر چھا گیا۔ جب اسنے ایک روز اسی پارک کے کونے میں چھپ کر پندرہ سالہ اسفندیار کو زور و قطار روتا ہوا دیکھا تھا، نا جانے وہ کس بات پر اتنا رو رہا تھا۔ وہ تب اسکے پاس گئی، اور سامنے بیٹھتے ہوۓ اسے مخاطب کیا۔
“کیا ہوا آپ رو کیوں رہے ہو؟” وہ اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔ اسکی آواز پر اسفندیار چونکا۔ اور اسکی طرف دیکھا۔
“جاؤ یہاں سے دفع ہو جاؤ” وہ ابہت زور سے چیخا تھا۔ تب وہ ڈر کر پیچھے ہو گئی۔۔۔اور جانے کے لیے مڑی۔ پھر پلٹ کر اسکی طرف دیکھا۔
“یہ لیں جب میں روتی ہوں میرے بابا مجھے چاکیلٹ دیتے ہیں، چاکیکٹ کھاتے ہی میں رونا بند کر دیتی ہوں” وہ اپنے پنک چھوٹے سے پرس سے چاکلیٹ نکال کر اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ بولی۔ جب اسفی نے جواب نا دیا تو اسکے ہاتھ پر رکھ کر بھاگ گئی۔۔۔۔
“آپ رو کیوں رہی ہیں؟” وہ خیالوں مین کھوئی ہوئی تھی جب پاس سے ایک مردانہ آواز آئی۔ نیہا چونکی، اور اس طرف دیکھا۔ سامنے سفید شلوار قیمض پہنے ، سٹک کے سہارے پر ایک آدمی کھڑا تھا۔ نیہا نے اسے فوراً پہنچان لیا۔
“احمد جی آپ یہاں؟” وہ فوراً کھڑا ہونے لگی جب احمد نے اسے کھڑا ہونے سے روک دیا۔ اور خود بھی وہی تھوڑا فاصلے پر بیٹھ گیا۔
“اب آپکی ٹانگ کیسی ہے؟” نیہا نے اسے سٹک کے سہارے چلتے دیکھا تو پوچھا۔ زیادہ ہی چوٹ لگی تھی جو وہ ایسے چل رہا تھا۔
“جی پہلے سے کافی بہتر یے، آپ کیسی ہیں؟ یہاں اسطرح بیٹھی رو کیوں رہیں تھیں؟” وہ مکمل اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوۓ بولا۔
“مجھے نہیں لگتا مجھے اپنی باتیں انجان لوگوں سے شئیر کرنی چاہیں” نیہا کو اسکا فری ہونا اچھا نہیں لگا۔
“انجان کہاں نیہا جی، ایک ملاقات تو ہماری ہو ہی چکی یے، ویسے ایک بات بولوں کئی دفع کسی انجان کو اپنے دکھ بتا دینے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے” وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔
“احمد صاحب میں چلتی ہوں، آپ موسم انجواۓ کریں” وہ اپنی جگہ کھڑی ہو کر بولی،تبھی احمد بھی کھڑا ہوا۔ بنا سٹک کو پکڑے وہ لڑکھڑایا نیہا نے جلدی سے اسے بازو سے پکڑ کر سہارا دیا۔ اور واپس ڈسک پر بیٹھایا۔ اور سائیڈ پر ہوئی۔
“آپ ٹھیک ہیں؟” وہ پریشان سی ہو گئی۔
“بالکل ٹھیک ہوں” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
“اپنا خیال رکھیں میں چلتی ہوں” وہ بول کر چلی گئی۔ فرید احمد اپنے پلین کو کامیاب ہوتے دیکھ مسکرایا۔۔۔
” ایس پی اسفندریار کی بیوی ہو، بے وقوف تو ہو نہیں سکتی پر فکر مت کرو میں بھی فرید احمد ہوں، تم سے دوستی تو کر کے رہوں گا۔ ” وہ اسٹک کو بند کرتے ہوۓ کھڑا ہوا اور دور کھڑی اپنی گاڑی کے پاس پہنچا۔ وہ عمیر کے گھر سے نکلتا سیدھا پارک میں آیا تھا وہ جانتا تھا کہ ابھی نیہا ادھر بیٹھی ہوئی ہے، اسنے ایک آدمی نیہا کے پیچھے لگایا ہوا تھا جو اسے پل پل کی خبر دیتا تھا۔
*
“عمیر بھائی آپکو مجھ پر یقین ہے نا، علیزے مجھے بالکل نیہا جیسی ہے، میں اسکا کبھی برا نہیں سوچ سکتا” عمیر صوفے پر سر گِراۓ بیٹھا تھا، بلاج اسکی بغل میں بیٹھتے ہوۓ بولا۔
“جانتا ہوں، پر اس سب میں علیزے دکھی ہو گئی” عمیر اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولا۔
“عمیر علیزے بچی ہے، اگر بلاج بول رہا ہے وہ خاندان صحیح نہیں تو ضرور کوئی وجہ ہو گی، بلاج تم نے ساحل کے رشتے کی بات کی تھی کیا تم ابھی بھی علیزے اور ساحل کا رشتے طے کرنا چاہتے ہو؟” سکندر حمدانی کی آواز ڈرائینگ روم میں گھونجی۔۔
“افکورس ڈی۔۔۔۔۔۔” وہ کچھ بولتے بولتے رک گیا۔ اسکا رکنا سکندر حمدانی نے بہت اچھے سے محسوس کیا، ایک ٹھیس سی انکے سینے میں اُٹھی، ان سالوں مین بھی وہ شائد اسکا دل ما پھگلا سکے جو وہ انہیں ڈیڈ کہ کر مخاطب کرتا۔
“بالکل میں علیزے کے لیے ساحل کا رشتہ پیش کرتا ہوں، اور بھائی آپ تو جانتے ہیں، وہ علیزے کو بہت خوش رکھے گا، کیا اپکو یہ قبول ہے؟” بلاج نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“ہاں قبول ہے” عمیر نے جواب ہاں میں دیا۔ بلاج نے اسے گلے سے لگایا۔
“تو پھر کب کریں ہم اپنے بچوں کی شادی؟” وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔
“ابھی تو علیزے کے فائنل اگزیمز ہونے ہے بلاوجہ وہ ڈسٹرب ہو گی، ابھی بس چھوٹا سا منگنی کا فنگشن رکھ لیتے ہیں، شادی اسکے پیپرز ختم ہوتے ہی دو مہینے بعد رکھ لیں گے” عمیر نے جواب دیا۔ سبھی ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے، میرال بس کچھ پریشان سی تھی، ایسے ساحل سے بنا پوچھے اسکا رشتہ طے کر دینا اسے ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔ پر وہ سبکے سامنے بلاج کو ٹوکنا نہیں چاہتی تھی۔
دوسری طرف علیزے نے کمرہ بند کر لیا تھا، وہ کب سے بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی۔ دو گھنٹے سے وہ کمرے میں بند تھی۔ حرا مہوش بار بار دروازہ کھلوانے کی کوشش کر رہیں تھیں پر وہ بند کیے بیٹھی تھی۔ اسنے کئی بار مزمل کو فون کیا۔ پر اسکا فون بند تھا۔ وہ جانتی تھی فرید نے سب بتا دیا ہو گا اور غصے میں اسنے فون بند کر دیا ہو گا۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب اسکا فون بجا۔ فون پر مزمل کی ویڈیو کال تھی۔ اسنے جلدی سے کال رسیو کی۔
“مزمل ایم سوری میرے چچا نے انکار کیا۔۔” فون اُٹھاتے ہی وہ روتے ہوۓ بولی۔
“علیزے تمہیں کچھ آئیڈیا ہے میرے بھائی کی کتنی انسلٹ ہوئی ہے، وہ کتنے پریشان تھے، وہ آج پہلی بار میرے سامنے روۓ، کہ مزمل میری بھائی مجھے معاف کر دینا میں تیری خواہش پوری نہیں کر پایا” مزمل صاف جھوٹ بول رہا تھا۔
“ایم سوری بلاج چچا آ گے اور سب برباد کر دیا” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔
“مجھے نہیں معلوم تمہارے اس چچا کو بھائی دے کیا پروبلم ہوئی، پر اس سب میں تمہاری اور میری محبت تو کچل دی گئی نا، تم جانتی ہو علیزے میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، آئی لو یو یار کیسے رہوں گا تمہارے بغیر، کیسے تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوۓ دیکھ سکوں گا” وہ اب روتے ہوۓ بول رہا تھا۔ اور علیزے کا دل بیٹھ رہا تھا۔ وہ اسکی ایک ایک بات پر یقین کیے، جا رہی تھی۔
“پلیز مزمل کچھ کریں مجھے کسی اور سے شادی نہیں کرنی میں صرف اور صرف آپکی ہوں” وہ زورو قطار رو رہی تھی۔
“اچھا میری جان پہلے چپ کرو، دیکھو تمہین روتا دیکھ نہین سکتا، پہلے چپ کرو پھر مین بتاتا ہوں کیا کرنا ہے” وہ اسے چپ کرواتے ہوۓ بولا۔ علیزے اپنے آنسوں صاف کرتے سر جھکا گئی۔ اور پھر مزمل بولتا گیا اور علیزے اسکا پلین سنتی گئی۔
اسکا فون بند کرتے وہ واشرم میں گئی، اور چہرا صاف دھو کر واپس آئی جب موبائل پر نیہا کی کال آنا شروع ہوئی۔ اسنے فون کان سے لگایا۔
“علیزے مجھے معلوم ہوا سب تم ٹھیک تو ہو نا؟” اسنے پارک سے آ کر پہلے نمبر پر علیزے کو کال کی۔
“ہنہہ باپ میرے ارمانوں پر چھری پھیرتا ہے اور بیٹی آ کر مرہم لگاتی ہے، تمہارے والد صاحب نے جو کیا ہے نا، اسے مین کبھی نہیں بھول سکتی ” وہ طنزیہ لہجے میں بول رہی تھی۔
“علیزے بابا ایسے کبھی نا کرتے انہون نے کچھ تو ایسا دیکھا ہو گا، وہ لڑکا ٹھیک نہیں اسی لیے۔۔۔۔” وہ بول رہی تھی جب علیزے نے درمیان میں بات کاٹی۔
“او پلیز نیہا میں مزمل سے محبت کرتی ہون، اسے مجھ سے بہتر کوئی نہین جان سکتا، وہ بہت اچھا انسان ہے، لیکن چچا کو تو ویسے بھی ہر معاملے میں ٹانگ آڑانے کی عادت ہے اپنے والد سے تو رشتہ نباہ نہیں سکتے برے آۓ” وہ طنزیہ انداز مین بولے جا رہی تھی۔
“بی ہیو یو سیلف علیزے، وہ میرے بابا ہیں تم ایسے بات نہیں کر سکتی، وہ کبھی کسی کے لیے برا نہیں سوچ سکتے، تم پلیز ٹھنڈے دماغ سے سوچو ضرور اس لڑکے میں کوئی خ۔۔۔۔” نیہا نے اپنی بات مکمل بھی نا کی علیزے بول پڑی۔
“نیہا تمہیں تمہاری محبت آسانی سے مل گئی نا، تو میری محبت پر سوال مت اُٹھاؤ” اسنے غصے سے کہتے فون بند کر دیا۔ نیہا نم آنکھوں سے فون کو دیکھنے لگی، وہ دونوں کزنیں تھیں مگر ایک دوسرے کو جان سے زیادہ پیاری تھیں۔۔لیکن اج۔۔۔۔ و
“مجھے بھی کہاں ملی محبت علیزے، مجھے تو بس انکا نام ملا صرف نام۔۔” وہ اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔


ہاشم اپنے کمرے میں زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ آج وہ یونی نہیں گیا، وہ کل سے اسی طرح کمرے میں ہی تھا، وہ علیزے سے بہت پہلے سے محبت کرتا تھا بس صحیح موقع کا انتظار کرتا رہا کہ کب ایک اچھا سا موقع ملے اور وہ اسے اپنے دل کی بات بتاۓ پر وہ موقع کی تلاش میں رہا اور علیزے ہی اسکی زندگی سے نکل گئی۔ اج اسکا رشتہ طے ہو رہا تھا۔ وہ سامنے ویڈیو گیم کو گھور رہا تھا سکرین پر گاڑیاں چل رہیں تھیں پر اسکا دماغ کہی او رہی پہنچا ہوا تھا۔
“میں لیٹ ہو گیا علیزے” اپنا سر بیڈ کی بیک سے لگاۓ وہ اوپر خالی چھت کو دیکھتے ہوۓ بڑبڑایا۔
“میری محبت ادھوری ہی رہ گئی، میں تمہیں بتا ہی نا پایا کہ کتنا چاہتا ہوں” وہ ہولے سے بڑ بڑا رہا تھا اسکی انکھ کے کنارے سے ایک بھولا بھٹکا پانی کا قطرہ بہتا ہو اسکے بالوں میں چھپ گیا۔ وہ لڑکا جو ہر وقت ہنستا مسکراتا رہتا تھا آج اسطرح سب سے چھپ کر بیٹھا رو رہا تھا۔ جو دل میں آئی ہر بات کو بول دینے کا عادی، اپنی محبت کا اظہار ہی نا کر پاپا۔ اور اپنی پہلی محبت کو ہی کھو بیٹھا۔۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔