Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

جنوری کا مہینا چل رہا تھا، شام کے وقت دھند ہر سو چھائی ہوئی تھی، یہ منظر بلاج ہاؤس کا تھا جہاں میرال الماری سے بلاج کے کپڑے نکال رہی تھی، اور ساتھ بلاج کو کال کر رہی تھی جو کہ کال پک ہی نہیں کر رہا تھا۔ ۔ اس نے غصے سے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
“ماما آپ ریڈی ہیں؟ مجھے بس پانچ منٹ لگیں گے پھر چلتے ہیں ” ساحل کی آواز پر میرال نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
” تم اکیلے کیوں آۓ؟ تمہارے بابا فون کیوں نہیں اُٹھا رہے؟ کہاں ہیں وہ؟ ” میرال نے سخت لہجے میں پوچھا۔ ساحل نے نظریں چڑائیں۔
“انہوں نے بولا میں آپ سب کو لے جاؤں، وہ مصروف ہیں ” وہ نرم لہجے میں بولا۔ جو اسکی شخصیت کا حصہ تھا۔ میرال نے اپنا غصہ بری مشکل سے ضبط کیا۔
“ٹھیک یے میں نے تمہارے کپڑے نکال کر کمرے میں رکھے ہیں جاؤ جلدی سے تیار ہو جاؤ” بلاج کے کپڑے دوبارہ الماری میں رکھتے وہ بولی۔ ساحل کو اور کیا سننا تھا وہ جلدی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“تم نہیں سُدھرو گے بلاج دوبارہ مجھے سبکے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا ” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔
“ماما ماما بابا بابا بھیو بھیوووووو ” گھر میں نہیا کی چیخیں گھونج رہیں تھیں میرال فوراً باہر آئی۔ ساحل جو ابھی کمرے میں گیا ہی تھا وہ بھی فوراً لاونچ میں آیا۔ جہاں وہ صوفے کے اوپر چڑھی ہاتھ میں موبائل پکڑے کود رہی تھی۔
“اوۓ ہوۓ او بلے بلے اوۓ ہوۓ بلے بلے” کے راگ لاپے وہ بھنگڑا ڈال رہی تھی۔
“کیا ہوا تمہیں یوں پاگلوں کی طرح کیوں چلا رہی تھی” میرال نے اسے بازو سے پکڑ کر نیچے اتارا۔
“ماما میرا ریزلٹ آگیا اس سال بھی میں نے ٹاپ کیا” وہ اپنے موبائل کو میرال کی طرف کرتے ہوۓ خوشی سے بولی۔ وہ ایم بی بی ایس کر رہی تھی، یہ اسکا آخری سال تھا۔ میرال نے ریزلٹ دیکھتے اسے گلے سے لگا لیا۔
“تو اس میں کونسی بری بات ہے خواہ مخوا شور ڈال دیا آپ تو ہر سال ہی فرسٹ آتی ہو” تبھی نیچے والے کمرے سے منہ لٹکاۓ تیرہ سالہ صائم نکلا۔ اسکا آج نہم کلاس کے منتھلی ٹیسٹ کا ریزلٹ میرال کے واٹس اپ پر آیا، اسکے نمبرز کافی کم تھے، میرال نے سکول سے واپسی پر اسکی اچھی خاصی کلاس لگائی۔
“موٹے آج جو مرضی بول لے آج تیری آپا بری خوش ہے، ہاۓ ” وہ گھومتے ہوے بولی۔
“صائم بری بات بیٹا ایسے نہیں بولتے آپی ہیں تمہاری” میرال نے اسے فوراً ٹوکا۔
“تو میری گڑیا کو اس دفع کیا تحفہ چاہیے؟” ساحل اسکے بال بگارتے ہوۓ بولا۔
“گاڑی چائیے” وہ جھٹ سے بولی۔ ساحل کو یاد آیا یہ وعدہ تو وہ پہلے ہی کر چکا تھا۔ جب اسکا پچھلی دفع ریزلٹ آیا۔
“ٹھیک ہے مل جاۓ گی۔ ابھی فل حال چلو سب جلدی سے تیار ہو جاؤ حرا تائی جی کا کتنی دفع فون آ چکا ہے” ساحل سبکو بولتا واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
” ماشااللہ میری بچی ایسے ہی محنت کرو” میرال اسکا دوبارہ ماتھا چومتے ہوۓ بولی۔ دور کھڑے صائم نے منہ بسورا۔
“صبح مجھے کیسے ڈانٹا تھا اور اب دیکھ آپی کو کتنا پیار کر رہی ہیں” وہ روٹھے ہوۓ لہجے میں بولا۔ میرال اسکے پاس آئی اور اسے بھی سینے سے لگایا۔
“ماما آپ سے بھی بہت پیار کرتی ہیں۔ میرے بچے، کل سے میں خود تمہیں پڑھاؤں گی، پھر دیکھنا کیسے رزلٹ اچھا آۓ گا چلو اب جلدی سے تیار ہو جاؤ” میرا اسکے بال سنوارتے اسکا بھی ماتھا چومتے ہوۓ بولی۔ وہ ہاں میں سر ہلا گیا۔ اور تیار ہونے چلا گیا۔ نہیا موبائل پر بلاج کو اپنا رزلٹ سینڈ کرتے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ سب تیار ہو کر سکندر ولا کی جانب بڑھے۔


“امی کی دوائیاں لانی ہے، کیا کر رہے ہو، سارے پیسے نہیں دوں گی چھوڑو بھائی کیا بدتمیزی یے” وہ ہاتھ میں پکڑے بیگ کو اپنے برے بھائی وسیم سے کھینچ رہی تھی۔
“بکواس بند کرو، اگر زیادہ بولی تو دوبارہ آفس جانے کی بجاۓ گھر بیٹھا دوں گا” وہ ایک ہی جھٹکے میں اسکے ہاتھ سے پرس کھینچ چکا تھا، وہ زمین پر گڑی۔۔۔ وسیم اسکا پرس کھولے پیسے نکالنے لگا۔۔
“خدا کا واسطہ ہے بھائی کچھ تو شرم کرو امی کی طبعیت اتنی خراب ہے انکی دوائیاں لانی ہیں، گھر کا راشن بھی ختم ہونے والا ہے، پلیز۔۔۔” وہ روندھے لہجے میں بولی اور اگے بڑھی۔ اور اسکے ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو لینے لگی۔ جو وہ گن رہا تھا۔
“ارے ہٹو ” اسنے دوبارہ دھکہ دیا۔
“بالکل نہیں اس دفع پیسے نہیں دوں گی، واپس دو مجھے ” وہ اس پر جھپٹتے ہوۓ بولی۔ اسی چھینا تانی میں وسیم نے اسکے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کیا۔ اور اسکے بال مٹھی میں جکڑے۔
“ایک دفع میں بولی بات سمجھ نہیں آتی ” وہ اسکے بال کھینچتے ہوۓ اسے دوبارہ زمین پر دھکہ دے چکا تھا۔ دور چارپائی پر بخار میں تپتی مومنہ بیگم کا دل لرزا۔ وہ بامشکل چارپائی پر بیٹھیں۔
“حیاممممم ” وہ لڑکھڑاتے ہوۓ لہجے میں بولیں۔۔۔ حیام جو کہ زمین پر بیٹھی رو رہی تھی مومنہ بیگم کی آواز سن کر فوراً انکے پاس آئی۔
“امی آپ بیٹھیں کیوں ہیں، لیٹ جائیں میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں، میڈیسن لیں بخار کم ہو تو دوا لینے جائیں گے” وہ فوراً اپنے پر قابو پاتے ہوۓ بولی۔ مومنہ بیگم پچھلے دو ہفتے سے وقفے وقفے سے بخار میں مبتلا ہو رہیں تھیں۔ پاس کلینک سے انہوں نے کئی دفع دوا کھائی پر کوئی فائدہ نا ہوا۔ آج اسے آفس سے چالیس ہزار تنخوا ملی تھی۔ آتے وقت اسنے بجلی کا بل جمع کروا۔ آج اسکا ارادہ مومنہ بیگم کو ہسپتال لے کر جانا تھا۔ ابھی وہ گھر پہنچی تھی کہ وسیم اسکا انتظار کر رہا تھا۔ آتے ہی اس سے پیسے چھینے اور چلا گیا۔ اب اسنے کئی دن گھر واپس نہیں آنا تھا۔ اسے اگر معلوم ہوتا تو پیسے چھپا لیتی۔
“میری بچی مجھے معاف کر دے، تیرا بھائی بھی اپنے باپ کی طرح آوارہ نکلا، ہمیں ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا” مومنہ بیگم اسے سینے سے لگاتے ہوۓ رو دیں۔ حیام کا دل ڈوبا۔ ہر وقت اپنی مظبوط ماں کو جو دیکھا تھا۔ پر بیماری نے انہیں اتنا کمزور کر دیا تھا۔
“آپ فکر مت کریں میں بھی آپ ہی کی بیٹی ہوں، ایک دم مظبوط آپ پہلے کچھ کھا لیں، میں نائلہ آنٹی سے کچھ پیسے لے کر آتی ہوں پھر ہسپتال چلیں گے” وہ انکا چہرہ صاف کرتے ہوۓ بولی۔ اور خود کیچن میں گئی، یہ دو کمروں کا چھوٹا سا گھر تھا۔ جہاں ایک طرف بالکل چھوٹا سا کیچن تھا۔ اور تھوڑا سا حال تھا۔ جس میں ایک ٹیوی رکھا تھا۔ اور ایک طرف دو کرسیاں تھا۔ وہی پاس ایک چارپائی بچھائی تھی۔ وہ کیچن سے رس اور چاۓ لے کر آئی۔ مومنہ بیگم کو کھلا کر دوا بھی کھلائی ، پھر سر پر ڈوپٹہ لے کر وہ نائلہ کے گھر آئی۔ انہے مومنہ بیگم کی بیماری کا بتایا وہ ایک نرم دل خاتون تھیں، انکے گھر کا ماحول جانتیں تھیں کچھ نوٹ نکال کر اسکی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ وہ کئی پل اپنے ہاتھ پر رکھنے ان چار نیلے نوٹوں کو دیکھتی رہی، ابھی انہی پیسوں کی وجہ سے وہ تھپڑ کھا چکی تھی۔ اسنے پیسوں کو مٹھی میں جکڑا اور گہرا سانس لے کر آنکھ میں آۓ پانی کو پچھے دکھیلا اور گھر آ گئی۔ آدھے گھنٹے تک مومنہ بیگم کا بخار کچھ حد تک کم ہوا۔ انہیں لیے وہ مین روڈ تک آئی۔ اور رکشے میں بیٹھ کر ہسپتال پہنچی۔۔۔۔۔۔


“علیزے تمہارا دماغ خراب ہے، تم اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتی، اور یوں یقین کیسے کر رہی ہو” نہیا آج پھر اپنی کزن پلس بیسٹ فرینڈ علیزے کے منہ سے اس لڑکے کا ذکر سن کر اسے سمجھا رہی تھی، وہ ایک گھنٹے پہلے ہی سکندر ولا پہنچے تھے، ڈنر کرنے کے بعد سب برے لاونچ میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے، اور وہ اسکے کمرے میں بیٹھی تھی۔ علیزے کی ہر بات مزمل پر آ کر ختم ہو جاتی۔ مزمل خان ایسا مزمل ویسا۔
“وہ بہت اچھے ہیں، جب سے ان سے بات ہو رہی ہے دل ایک دم خوش رہتا یے، ہر چیز پیاری لگتی ہے، مجھے ان سے محبت ہو گئی نہیو محبت۔۔۔ ہاۓ کتنا پیارا احساس ہے” وہ گول گول گھومتے ہوۓ اسے بتا رہی تھی۔
“ایک مہینا نہیں ہوا تمہیں اس سے بات کرتے اور تمہیں محبت بھی ہو گئی، اور وہ تم سے دس سال برا ہے یار” وہ اپنے کندھوں سے تھوڑا سا نیچے تک جاتے سٹریٹ بالوں کو شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر پونی کرتے ہوۓ بولی۔
“تو کیا تمہاری طرح محبت کرنے میں سالوں لگا دوں سالوں تک ایک شخص کو دل میں بسا کر رکھو اور اب جا کر احساس کروں لو جی محبت ہو گئی، اور بائی دا وے جس سے تم محبت کرتی ہو وہ بھی تو تم سے سات سال بڑے ہیں، اور خوش قسمتی سے محترم تمہارے منگیتر بھی ہیں ویسے یار لکی ہو تم جسے محبت کی اتنی آسانی سے مل گیا ” وہ بھی علیزے تھی ایک دم اسکا ذکر لے آئی۔ اسکا ذکر سنتے ہی وہ گھبڑائی۔
“بکواس بند کرو یہاں تمہاری بات ہو رہی ہے میری نہیں” وہ اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوۓ بولی۔
“میری پیاری سی کزن پلس بیسٹی فکر مت کرو میں بچی نہیں ہوں صحیح غلط اچھے سے جانتی ہوں، اس لیے پریشان مت ہو، ویسے بھی تمہیں بتانا تھا کہ کل میں اس سے ریسٹورینٹ میں ملی بھی تھی، قسم سے جتنا تصویوں میں ہینڈسم ہے اس سے کہی زیادہ سامنے دیکھنے میں ہینڈسم نظر آتا ہے” وہ جیسے بولی نہیا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ وہ کتنا آگے نکل چکی تھی۔
“تم پاگل ہو علیزے تم کیسے انجان شخص کو ملنے جا سکتی ہو اگر کسی کو پتہ چل گیا۔ تو ہنگامہ ہو جاۓ گا” علیزے اسکی سنتے ہی چلائی۔
“ارے فکر مت کرو وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں، اور پتہ یہ گفٹ بھی دیا” علیزے نے اپنا ہاتھ اسے دیکھایا جس میں ایک انگھوٹھی جگمگا رہی تھی، وہ کافی مہنگی لگ رہی تھی۔ نہیا کا دماغ گھوم گیا۔ وہ اب حقیقت میں پریشان ہوئی۔ اسکی دوست کہی غلط رستے پر تو نہیں نکل پڑی تھی؟ ہزاروں سوال اسکے دماغ میں گردش کر رہے تھے۔ اب علیزے اسے مزمل کی تصویر دیکھا رہی تھی۔ تبھی اسکی کال آئی۔ وہ جلدی سے بالکنی میں چلی گئی۔ نہیا پریشان سی وہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
علیزے عمیر اور حرا کی چھوٹی بیٹی تھی، انکی بری بیٹی مہوش تھی۔ وہ اسے چھوڑ کر نیچے آئی۔ جہاں سب لاونچ میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ وہ چلتی سکندر حمدانی کے پاس آ کر بیٹھی۔
“دادا جان آج تو میں آپکو کے کر ہی جاؤ گی۔ کتنی دفع بول چکی ہوں ہمارے ساتھ چلیں، پر آپکو تو مجھ سے بالکل پیار نہیں” وہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔۔۔
“میری گڑیا بالکل آؤں گا اس ہفتے میں وہاں آؤں گا اور رکوں گا بھی ٹھیک یے اب کیا میری گڑیا اپنا موڈ ٹھیک کرے گی” انہوں اسکے گال کھینچتے ہوۓ کہا۔ سبھی جانتے تھے سکندر حمدانی کو نہیا کتنی عزیز ہے، پہلے ساحل انکے زیادہ نزدیک تھا۔ پر جب سے نہیا نے اس دنیا مین قدم رکھا۔ وہ انکی پوتی کے ساتھ ساتھ بیسٹ فرینڈ بھی بن گئی۔ کئی کئی ہفتے وہ یہاں رہنے آجایا کرتی۔ کئی دفع گھر میں ضد بھی کر چکی تھی کہ سب وہاں شفٹ ہو جائیں پر ہر بار بلاج منع کر دیتا۔
ساحل بار بار اپنے موبائل کو دیکھ رہا تھا شائد کسی کے میسج کا انتظار کر رہا تھا۔ پر سامنے والا جیسے سو گیا تھا۔ یونہی رات کو گیارہ بجے وہ سب واپس گھر آ گے۔ ایسا چکر ہر ہفتے کے دن لگتا تھا اور پچھلے بیس سالوں سے ایسا ہوتا آ رہا تھا۔ وہ گھر پہنچے ابھی تک بلاج نہیں آیا تھا۔ میرال سخت خفا ہو چکی تھی، وہ جانتی تھی آج اسکی واپسی تین بجے سے پہلے نہیں ہو گی۔


صبح کے نو بج رہے تھے۔ وہ آج پھر سے یونی جانے میں لیٹ ہو چکا تھا۔
“موم اُٹھایا کیوں نہیں تھا” وہ جلدی جلدی تیار ہوتے ہوۓ باہر آتے ہوۓ بولا۔
“ہاں ہاں میرے فرما بردار بیٹے ماں کی آواز پر تو جھٹ سے اُٹھ جاتے ہو نا صبح سے کئی دفع اُٹھانے کی کوشش کر چکی تھی پر تم تو اپنے والد محترم کی طرح گدھے گھوڑے بیچ کر سوتے ہو تو اُٹھو گے کیسے” مشی تو پہلے ہی حسام سے جھگڑا کر کے بیٹھی تھی اب ہاشم کی اچھی خاصی کلاس لے چکی تھی۔
“موم اسکے کان میں ڈھول بھی بجا دو اسنے پھر بھی نہیں اُٹھنا ہوتا، دو دفع تو میں اسے اُٹھا چکی تھی مگر محترم سچ میں اپنے گدھے بیچ کر سویا ہوتا یے” کندھے پر بیگ ڈالتے ایمان موبائل پینٹ کی جیب میں ڈالے وہ جلدی جلدی سینڈوچ کھاتے ہاشم کو گھورتے ہوۓ بولی۔ وہ پہلے ہی ناشتہ کر چکی تھی۔
“چپ کر خود بھی ابھی ابھی تیار ہو کر نکلی ہو اور مجھے باتیں کر رہی ہو ” وہ چاۓ کی چسکی لیتے ہوۓ اسے چڑاتے ہوۓ بولا۔
“موم اسکو بتانا ذرا میں کب سے اُٹھی ہوں اور آپکی کتنی مدد کی ہے ” ایمان فوراً مشی کی طرف مڑتے ہوۓ بولی۔۔۔
“تم دونوں اپنی چونچ لڑانا بند کرو، ایک تو پہلے ہی تمہارے ڈیڈ کی وجہ سے میرا بی پی شوٹ کیا ہوا یے اوپر سے تم دونوں شروع ہو گے جلدی سے ناشتہ کرو اور جاؤ” مشی اپنے لیے ناشتہ پلیٹ میں نکالتے ہوۓ غصے سے بولی۔ دونوں ٹونز تھے اور ایک دوسرے سے لڑتے رہتے تھے۔ پر اگر کوئی باہر والا ان میں سے ایک کو کچھ بولتا تو دوسرا اسکے لیے کھڑا رہتا
“یہ تو آپکا روز کا ہے موم روز چھوٹے بچوں کی طرح لڑتے ہیں میری پیاری موم ” ہاشم ہنستے ہوۓ بولا۔
“تو اور نہیں تو کیا ڈیڈ کا تو کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا اپنی بیگم کو چھیرے بغیر” ایمان بھی ہنستے ہوے بولی۔۔
“تم دونوں نے مار کھانی ہے چلو پہلے ہی دیر ہو گئی یے ” مشی نے دونوں کو گھورتے ہوۓ بولا۔ دونوں ہنستے ہوۓ اپنے بیگز کندھوں پر ڈالے یونی کے لیے نکل گے۔۔۔۔۔۔ وہ سچ ہی تو بول رہے تھے روز چھوٹی چھوٹی بات پر انکی لڑائی ہو جاتی، وہ بالکل پہلے کی طرح ایک دوسرے سے لڑتے تھے۔ وہ ناشتہ لے کر صوفے پر بیٹھی اور کھانے لگی سامنے ٹیوی پر مورنگ شو لگا ہوا تھا۔ وہ مگن انداز میں دیکھ رہی تھی جب اسکے موبائل پر میسج آیا اسنے اوپن کیا۔
“سوری سوئیٹ ٹھاٹ 💓” حسام کی طرف سے ایک میسج موصول ہوا۔ پڑھتے ہی اسکے چہرے ہر مسکراہٹ بکھری۔ یہ بھی روز کا معمول تھا۔
“گھر آؤ بتاتی ہوں تمہیں” میسج لکھ کر بھیجا گیا۔۔۔۔


“حد ہے کب سے علیزے کا انتظار کر رہی ہوں، نا جانے کہاں رہ گئی” نیہا ادھر اُدھر چکر لگاتے ہوۓ کب سے علیزے کا انتظار کر رہی تھی۔ یہ میڈیکل یونیورسٹی تھی۔
جبھی علیزے ایک بری سی گاڑی سے نکلتی نظر آئی۔ وہ دروازہ کھولے باہر نکلی تھی۔ نہیا کے ماتھے پر بل پڑے۔ کچھ دیر بعد وہ گاڑی چلی گئی۔ علیزے نیہا کے پاس آئی۔
“علیزے حد یے کچھ تو شرم کر لو، یہ یونی ہے، یہاں بھی اسی کے ساتھ آئی” نہیا نے غصے سے کہا۔
“فا گاڈ سیک نہیا بس کرو چلو اندر چلتے ہیں” علیزے منہ بسورتے ہوۓ بولی۔ نہیا نے نفی میں سر ہلایا اور پلٹنے لگی۔ جب ایک پولیس کی جیپ تھوڑے فاصلے پر رکی۔ اور اس میں سے ایک نوجوان پولیس کی وردی پہنے انکھوں پر گلاسس لگاۓ باہر نکلا۔ دوسرا دروازہ کھول کر کندھے پر بیگ ڈالے ہاتھوں میں بکس پکڑے ایک چھوٹی سی لڑکی نکلی۔ وہ کافی ڈری سہمی لگ رہی تھی۔ دوسرے ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل سے اسنے پانی پیا اور اگے بڑھی۔
“نور چلو بیٹا، ریلیکس پہلا دن ہے تو کیا ہوا بس کانفیڈیٹ رہنا اوکے” وہ اسکے پاس آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنے لگا۔ جب سامنے دو لڑکیوں کو اپنی طرف دیکھتے پایا۔ ایک تو جیسے بالکل اپنے ہوش میں نہیں تھی۔
“ارے اسفندیار بھائی آپ، ہیلو” علیزے جلدی سے ان دونوں کے پاس آئی۔ نہیا کو بھی آنا پڑا۔ وہ ہاتھ میں پکڑی کتابوں کو مظبوطی سے تھامتی ان تک آئی۔
“نور تمہارا تو آج پہلا دن ہے نا؟ ” علیزے کے سوال پر نور نے ہاں میں گردن ہلائی۔
“بھائی آپ کو دیر ہو رہی ہے تو جائیں نور کو ہم کلاس تک چھوڑ آئیں گے۔ اور فکر ہی مت کریں ہم ہیں نا اسے کسی طرح کی پریشانی نہیں ہو گی۔ ” علیزے مسکراتے ہوۓ بولی۔ نہیا خاموش سی انکے پاس گردن جھکاۓ کھڑی تھی۔ اسے آس پاس آکسیجن کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ اسفندیار نے ایک اچٹکی نگاہ اس پر ڈالی اور نظریں پھیر لیں۔
“جی بھائی آپ کو دیر ہو رہی ہے تو جائیں آپی میری مدد کر دیں گی” نور نے کہا۔ اسفندیار نے تینوں کو ایک نظر دیکھا اور ہاں میں گردن ہلاتا اپنے گلاسس ٹھیک کرتا جیپ میں بیٹھا اور چلا گیا۔
“میڈیم مراقبے سے باہر نکل آؤ محترم چلے گے” وہ جو کب سے جاتی ہوئی جیپ کو دیکھ رہی تھی، علیزے کے ہلانے پر خواب کی دنیا سے باہر آئی۔ وہ دونوں نور کو لیے یونی میں داخل ہوئیں۔ نور کو اسکی کلاس میں چھوڑ کر خود اپنی کلاس میں آئیں۔ جہاں ہاشم روشانے اور راحم انکا انتظار کر رہے تھے۔ راحم تقی اور امرحہ کا بیٹا تھا۔ ہاشم ایمان کو اسکی یونی چھوڑ کر ابھی کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں لیکچر شروع ہونے والا تھا۔ نہیا نا جانے کن سوچوں میں گم تھی، جب اسکی نظر راحم پر پڑی۔ وہ بے چینی سے بار بار موبائل پر کسی کا نمبر ملا رہا تھا۔
“راحم کیا ہوا تمہیں کس کو کال کر رہے ہو؟” نہیا نے اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوۓ کہا۔
“کس کو کر سکتا ہوں، روبی کو کال رہا ہوں، ابھی تک آئی بھی نہیں” وہ دوبارہ اسکا نمبر ملاتے ہوۓ بولا۔نہیا اور علیزے نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ روبی دونوں کو زہر لگتی تھی۔ پر راحم اسکے پیچھے پاگل تھی۔
“آتی ہو گی، میڈیم فل میک اپ کر کے ڈائن بن کر” علیزے نے مزاق اڑاتے ہوۓ کہا۔
“اتنی پیاری تو یے خامخواہ اسکا مزاق مت اُڑایا کرو مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا” وہ روٹھے ہوۓ لہجے میں بولا۔
“علیزے ایسے مت بولا کرو وہ اس سے محبت کرتا یے” نہیا نے علیزے کو ٹوکا۔
“ہاں جی ہاں جی محبت کی کلاسس تو اب آپ سے لینی پڑیں گی” نیہا نے اسے آنکھ ونک کرتے ہوۓ کہا۔ اور ہنس دی۔
“بکواس کروا لو تم سے بس ” نہیا گردن گھوماتے ہوے بولی۔
“ویسے گائیز جیسا کے ہم سب جانتے ہیں نہیا میڈم نے ٹاپ کیا ہے تو آج چھٹی کے بعد کچھ کھانے چلیں اس سے ٹریٹ بھی تو لینی ہے” علیزے نے پلین ڈن کیا۔
“ہاں بالکل چلیں گے” ہاشم نے جوش میں کہا۔ راحم نے بھی ہاں میں گردن ہلائی اور دوبارہ روبی کو کال ملائی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔