Yaaron Ki Yaari Season 2 By Fatima Tariq Readelle50128 Episode 7 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7 Part 2
وہ کمرے میں چکر لگاتے ہوۓ آج دوپہر میں مزمل سے ہوئی باتوں کو سوچ رہی تھی۔
“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، میں کل اپنے بھائی کو تمہارے گھر رشتے کے لیے بھیج دوں گا تم جانتی تو ہو میرے ماں باپ نہیں، سب کچھ میرا برا بھائی ہی ہے” وہ اس وقت ریسٹورینٹ میں بیٹھے ہوۓ تھے، مزمل خان اپنے سامنے بیٹھی علیزے کو شادی کا پرپوزل دے رہا تھا۔ اور وہ حیرانگی سے سن رہی تھی۔
“سچ میں؟ لیکن اتنی جلدی، آئی مین گھر پر سبکو کیا بتاؤں گی کوئی مانے گا” وہ ایک دم نروس ہو گئی۔
“تم بتاؤ کہ مجھ سے پیار کرتی ہو، ہم شادی کرنا چاہتے ہیں بس” وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔
“مزمل یہ آپکے لیے کہنا بہت آسان ہے میرے لیے یہ بہت ہی مشکل ہے” وہ اپنی انگلیاں مڑورتے ہوۓ بولی۔
“دیکھو علیزے میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں، میں تمہارے بغیر رہ نہیں سکتا، مجھے یون چھپ چھپ کر ملنا بالکل نہیں پسند میں چاہتا یوں پورے حق سے تمہیں لیے ہر جگہ جا سکوں، تمہیں اپنی بیوی کے طور پر تعارف کروا سکوں” وہ اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑتے ہوۓ محبت بھرے لہجے میں بولا۔ علیزے خود کو خوش قسمت سمجھنے لگی، جسے اتنا چاہنے والا انسان ملا ہے، اسے خود پر رشک ہونے لگا۔۔
“مجھے موم سے بات کرنی چاہیے، مہوش آپی نے بھی تو اپنی پسند سے شادی کی ہے، میری پسند پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا” وہ سوچتے ہوۓ اپنے کمرے سے نکلی اور حرا کو ڈھونڈنے لگی، جو اسے عمیر کے ساتھ گارڈن میں بیٹھی نظر آئی، عمیر کو دیکھ وہ رک گئی، پھر خود میں ہمت پیدا کرتی وہ انکے پاس آئی۔
“موم ڈیڈ مجھے آپ دونوں سے کچھ بات کرنی ہے” وہ پاس ہی پڑی کرسی پر بیٹھ کر بولی۔۔
“جی بچے بولو کیا بات کرنی ہے” عمیر مکمل اسکی طرف متوجہ ہوا۔ حرا نے بھی چاۓ کا کپ سامنے ٹیبل پر رکھتے اسکی طرف دیکھا۔
“وہ بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ اصل میں بات ۔۔۔۔۔ میں کہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔کہ۔۔۔۔” اسے بولنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔۔۔
“علیزے جو بات ہے بتاؤ” حرا بولی۔
“موم ڈیڈ آئی لو سم ون اور وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے، گھر رشتہ بھیجنا چاہتا ہے” اسنے ایک ہی سانس میں ساری بات بول دی۔۔۔ حرا اور عمیر نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر علیزے کو دیکھا جو پریشانی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ اسے لگا ابھی ڈانٹ لگی گی۔۔۔
“کون ہے؟ کب ملے؟” عمیر نے سوال کیا۔۔
“اسکا نام مزمل خان ہے، وہ خان انڈسٹریز کے مالک فرید احمد خان کا بھائی یے” علیزے نے نام لیتے باقی سب بھی بتایا۔ عمیر انہیں جانتا تو تھا۔ ایک دو دفع بزنس پارٹیز میں مل بھی چکا تھا۔ انکی کمپنی شہر کی مشہور ترین کمپنیز کے نام میں آتی تھی۔ وہ جانتا تھا اسکا ہسپتال، مال اور بھی نا جانے کیا کیا یے۔ اتنا برا نام سن کر وہ بھی ایک پل کو چپ رہ گیا۔
“اہمممم ٹھیک ہے تم لڑکے کو بولو رشتہ بھیجے” عمیر نے گلا کھنگالتے ہوۓ کہا۔
“تھینک یو ڈیڈ آئی لو یو سو مچ میں ابھی بتاتی ہوں ” علیزے ایک دم خوشی سے چلائی۔۔۔۔اور اندر بھاگ گئی۔
“عمیر وہ تو اتنے برے لوگ ہیں، ہم کیسے؟” حرا کو پریشانی لاحق ہوئی۔
“فکر مت کرو ابھی تو بس ملیں گے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے میں ڈیڈ سے بھی بات کر لیتا ہوں، اور بلاج کو بھی بتا دیتا ہوں، وہ شائد انکے ساتھ ایک پروجیکٹ پر کام کر چکا ہے تو انہیں جانتا ہو گا” عمیر اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولا۔
اسفندیار صبح جلدی ہی نکل گیا تھا۔ وہ بار بار نہیا کو ڈرائیور کے ساتھ جانے کا کہ کر گیا تھا۔ پر نہیا نے نور کو بھیج دیا یہ بول کر کہ اسکا لیکچر لیٹ یے۔ اب وہ اپنی گاڑی ڈرائیو کر کے جا رہی تھی۔ تبھی اسکا فون بجا جس پر اسفندیار کا نام جگمگا رہا تھا۔ اسنے مسکراہٹ دباتے ہوۓ فون اسپیکر پر لگایا۔
“تمہیں کتنا دفع بولا تھا، اکیلی مت جاؤ، ڈرائیور کے ساتھ جاؤ ایک دفع بات سمجھ نہیں آتی” فون کے اسپیکر سے غصے سے بھری آواز گھونجی۔
“گاڑی لی ہی کیوں، جب چلانی ہی نہیں، اور مین کوئی پہلی بار گاڑی نہیں چلا رہی، فکر مت کریں میں تھوڑی دیر میں پہنچنے والی ہوں” وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔ اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔
“نہیا تمہارا دماغ خراب ہے، ایڈریس بتاؤ کہاں ہو، ابھی آتا ہوں” اسفندیار اسکی بات پر اپنا غصہ پیتے ہوۓ بولا۔
“اسفی ایم فائین آپ تو ایسے پریشان ہو ریے ہیں جیسے ابھی میرا ایکسیڈینٹ ہو جاۓ گا اور میں اللہ جی کو پیاری ہو جاؤں گی۔ میں بس پہنچنے والی ہوں آپ اپنے کام پر فوکس کریں اوکے باۓ” اسنے مسکراتے ہوۓ کہا اور کال کاٹ دی۔۔۔۔۔۔اسکی فکر اسکے چہرے پر مسکراہٹ کی باعث بن رہی تھی اسکی مسکراہٹ تب سمٹی جب۔۔۔۔۔
“آپ ٹھیک تو ہیں نا؟” وہ گاڑی سے یو ٹرن لے رہی تھی جب گاڑی کے سامنے ایک شخص آیا، اسنے برقرفتاری سے بریک ماری اور فوراً باہر آئی۔
“آہ۔۔۔۔میری ٹانگ” وہ اپنی ٹانگ کو پکڑی زور سے چیخا۔ نہیا پریشان ہو گئی۔
“ایم ریلی سوری، میری وجہ سے آپکو چوٹ لگ گئی، آپ میرے ساتھ ہسپتال چلیں، یہی پاس ہی ہے” وہ بولی تو اس آدمی نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔ اور ہاں میں سر ہلایا۔ نہیا نے جلدی سے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دی۔۔۔وہ شخص ایک ہاتھ ٹانگ پر رکھتا سر سیٹ کی پشت پر ٹکا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ ہسپتال پہنچے، اس شخص کا علاج ہوا اسکی ٹانگ پر پٹی کی گئی، وہ پاس ہی کھڑی تھی۔ اسکا موبائل بجا، سکرین پر اسفندیار کا نمبر جھگمگایا، وہ جانتی تھی وہ کیا بات کرنا چاہتا تھا اسنے کال کاٹ دی۔
“شکریہ مس؟” وہ شخص اسکے نام پر رکا۔ جیسے اسکا نام جاننا چاہتا ہو۔
“نیہا” وہ ہولے سے بولی۔ کسی اجنبی کو نام بتاتے وہ زرا نا گھبڑائی۔ یا شائد وہ ابھی تک شرمندگی کے اثر میں تھی۔سامنے والا نام سن کر زرا سا مسکرایا۔
“خادم کو احمد خان کہتے ہیں” وہ پر اسرا مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ بولا۔ اسکی آنکھوں میں عجیب سی چمک ابھری۔ نہیا نے ہاں میں سر ہلایا دیا وہ اسکا نام پہلی دفع ہی سن رہی تھی۔
“چلیں میں اب چلتی ہوں، میں نے آپکا بل پے کر دیا ہے اگین ایم سوری” وہ سر پر ڈوپٹہ درست کرتے ہوۓ بولی احمد نے سر کو خم کرتے اسے آجازت دی وہ مڑ کر باہر کی طرف بڑھی۔
“نہیا بلاج حمدانی،اف سوری نہیا اسفندیار پہلی ملاقات اچھی رہی، اب تو ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔ ویسے بھی دشمن کی جان کو اپنے قریب رکھنے میں اپنا ہی فائدہ ہے، جب چاہے دشمن کو قابو کر سکتا ہوں” وہ بیڈ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ کچھ سوچ کر مسکرایا۔
وہ ہسپتال سے باہر نکل کر اپنی گاڑی کے پاس پہنچی، اسکے قدم وہی تھم گے، سامنے اسفندیار مکمل یونیفارم میں کھڑا اسے آتے دیکھ رہا تھا۔ اس سے دور ہی اسکی جیپ کھڑی تھی، اور ساتھ ایک پولیس اہلکار بھی چہرے ہر حد درجہ سنجیدگی تھی۔ نہیا جو پہلے ہی اس اچانک سچویشن پر پریشان تھی۔ سامنے اسفندیار کو دیکھتے اسکے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا تو دوسرا جا رہا تھا۔ وہ جب اپنی جگہ پر جمی رہی تو اسفندیار اگے بڑھا۔
“ایک دفع بولی بات سمجھ نہیں آتی، اب انجام دیکھ لیا نا، کس کو ٹکر ماری رہے، اب خوش ہو، اپنی چلانے میں تو تمہیں ویسے بھی بہت مزہ آتا ہے دوسرا چاہے جتنا مرضعی بکواس کرتا رہے” وہ اسکا دائیاں بازو زور سے پکڑتے ہوۓ غصے سے بول رہا تھا۔ نہیا نے سر نیچے جھکا لیا۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں کیا اب جواب دینا بھی ضروری نہیں” وہ اسکا بازو زور سے دباتے ہوۓ بولا۔
“میرا بازو آہ چھوڑیں درد ہو رہا ہے ” نہیا نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ اسفندیار نے غصے سے بھری نظر اس پر ڈالی اور جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑا وہ دو قدم پیچھے کو لڑکھڑائی۔
“یہ مصیبت میرے سر ہی آنی تھی، اچھا ہوتا انکار کر دیتا” وہ منہ میں بڑ بڑایا پر نہیا اتنی دور نا تھی جو سن نا پاتی اسنے سب سن لیا۔ ایک تیز سا اسکے سینے میں چھبا، اور اسکی آنکھین نم ہوئیں۔ اسنے اپنا سر جھکاۓ ہی رکھا تھا۔ اسفندیار نے اسکے ہاتھ سے چابی لی۔ اور اسکی گاڑی کی طرف بڑھا اسے کھولتا اسکا بیگ نکالا کر اسکو بازو سے پکڑتے جیپ کی طرف آیا۔ اسے جیپ میں بیٹھاتے، گاڑی کی چابی پولیس اہلکار کو دی اور اسے گاڑی گھر پہنچانے کا حکم دیتے خود جیپ میں بیٹھا۔ ایک سرد نظر اپنے ساتھ بیٹھی نہیا پر ڈالا اسنے جیپ کو پارکنگ سے نکالتے روڈ پر ڈالا۔ کچھ ہی دیر میں وہ یونی کے سامنے رکے، نہیا اپنا بیگ کندھے پر ڈالے ہاتھوں مین بکس پکڑے جیپ سے نیچے اترنے لگی۔
“ڈرائیور تمہیں اور نور کو لینے آۓ گا، دونوں ساتھ آنا” وہ بس اتنا ہی بولا نہیا نے ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ جیپ سے اترتے یونی کی طرف قدم بڑھاۓ۔ جب وہ اندر داخل ہو گئی تب اسفندیار وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنی کلاس کی طرف جا رہی تھی۔ جب اسنے اپنے گروپ کو گارڈن مین بیٹھے دیکھا۔ اسنے اپنے آپ کو سھنمبال لیا تھا وہ ان سب سے خوشی سے ملنا چاہتی تھی۔ راحم یونی نہیں آیا تھا۔ ہاشم کل اسکے پیچھے گیا پر وہ اپنے گھر چلا گیا وہ کسی سے ملنا نہیں چاہتا تھا ہاشم نے کل بات کرنے کا سوچا۔
” السلام علیکم! کیسے ہو سب؟” وہ ان تینوں کے پاس بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔
“واؤ میری جان تم کب آئی” علیزے اسے گلے لگاتے ہوے چیختے ہوۓ بولی۔۔۔
“اف علیزے حد یے اتنا تو مت چیخو، ابھی آئی ہوں” علیزے اسے علحیدہ کرتے ہوے بولی۔۔
“او ہو۔ میاں جی نے بھیج دیا تمہیں، ہمین تو لگا اب ہنی مون سے یو کر ہی آؤ گی” وہ ہنستے یوۓ بولی۔۔۔
“توبہ ہے علیزے، شرم کرو، پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آگئی اب گھر پر رہ کر کیا کرتی اسی لیے آئی ہوں”
“ارے نہیو اب شرم ورم چھوڑو ویسے بھی تم سبکو ایک خوشخبری سنانی ہے” علیزے نہیا کے ڈوپٹے کو مروڑتے، شرماتے ہوۓ بولی۔ تینوں نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
“چچچ چھپکلی شرم او تم۔۔اور کون سے خوشخبری سنانی یے بتاؤ” ہاشم مکمل اسکی طرف متوجہ ہوا۔ روشانے راحم کو میسج کر رہی تھی۔ جسکا وہ رپلائی ہی نہین دے رہا تھا۔
“اصل میں تم دونون کو نہیں پتہ نہیا جانتی ہے، میں ایک لڑکے کو لائیک کرتی ہوں مزمل نام ہے، وہ کل اپنے بھائی کے ساتھ میرا رشتہ لے کر آ رہے ہیں” وہ شرماتے ہوۓ سب بتا رہی تھی۔ روشانے نے سنتے ہی ایک دن ہاشم کی طرف دیکھا۔ جو پھٹی انکھوں سے علیزے کو دیکھ رہا تھا۔ اسکی آنکھوں میں پہلے حیرانگی، پھر رنج جھکا۔ اسکا چہرا ایک دم پیلا پڑا گیا۔ اسکو اپنی دھڑکنیں رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
“لیکن علیزے اتنی جلدی۔۔۔گھر میں سب مان گے” نہیا نے پوچھا۔ نہیا کی آواز پر ہاشم اس شاک سے نکلا۔
“میں آتا ہوں” وہ ایک دم سے اُٹھ کر چلا گیا۔ روشانے اسکا دکھ سمجھ گئی، وہ خود بھی تو ان لمحات سے گزر چکی تھی۔ علیزے نہیا کو سب کچھ بتا رہی تھی۔
جاری ہے۔۔
