Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

یہ دُکھتی رگ ہے میاں یہ سوال مت پوچھو
ہم اہلِ ہجر سے لُطفِ وِصال مت پوچھو،
کہا نا ٹھیک ہوں،ہاں ٹھیک ہوں، کہا تو ہے
مَیں رو پڑوں گا میری جان حال مت پوچھو
رات کو وہ گھر آ گئی۔ اس وقت وہ اپنے کمرے میں تھی۔۔۔
“میں اس قدر کمزور نہیں ہوں، اسے دیکھتے ہی مجھے ایسے بے ہوش نہیں ہونا چاہیے تھا، وہ تو سمجھ رہا ہو گا، میں اب بھی پہلی والی نیہا ہوں، بالکل نہیں میں اب وہ نہیں ہوں، میں وی کمزور نیہا نہیں ہوں، اب میں بتاؤں گی جب ایک دفعہ عورت کے دل سے اتر جاؤ تو وہ کس قدر ظالم بنتی ہے” وہ اپنے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
“ماما ماما” باہر سے پریشے کی آواز آئی۔ تولیے سے منہ صاف کرتے وہ باہر آئی۔۔
“یس ماما کی جان” اسکو گود میں اُٹھاۓ وہ مسکرا کر بولی۔ وہ تپ رہی تھی۔ میرال آج گھر پر موجود نا تھی، وہ مشی کے ساتھ دوسرے شہر گئی تھی۔
” ارے بخار کب ہوا؟ وہ بھی اتنا، اور آپ بھاگ رہی ہو، حد کرتی ہو پری” وہ اسے لیے بیڈ پر آئی، اور اسے لٹایا، بخار چیک کیا، اسے کچھ کھلا کر میڈیسن کھیلائی اور سُلا دیا، وہ خود نیچے آئی تا کہ کھانا لے سکے۔ کچن میں حیام اشعر کو اُٹھاۓ چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی، اور ساتھ اسکا دودھ گرم کر رہی تھی۔۔۔۔
“بھابھی، اسے کیا ہوا؟” وہ اشعر کو روتے دیکھ کر بولی۔۔
“بھوک لگی ہے اسی لیے رو رہا ہے” دودھ کو اب وہ فیڈر میں ڈال رہی تھی۔۔۔
“اچھا بھابھی پریشے کو اتنا تیز بخار تھا، آپ نے چیک نہیں کیا؟” نیہا نے اس سے پوچھا
“ہاں کیا تھا اور پھر سیرپ پلا دیا، اب تو شائد اتر چکا ہو گا” وہ بے فکری سے بولی۔۔ نیہا کچھ پل کے لیے خاموش سی ہو گئی۔۔
“کیا بات کر رہی ہیں بھابھی اسے ایک سو تین بخار تھا میں ابھی چیک کر کے میڈیسن دے کر آئی ہوں، آپکو ایک دفع چیک تو کرنا چاہیے تھااگر میں گھر لیٹ آتی تو نا جانے کتنا بخار ہوتا” نیہا کو اسکی لاپرواہی بالکل اچھی نا لگی
“نیہا پلیز میں اب اپنے بچے پالوں یا تمہاری بیٹی کو دیکھتی پھروں، صبح سے اشعر نے تنگ کر کے رکھا ہے، میرا خود کا سر دکھ رہا ہے” حیام اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولی، نیہا کی زبان کو چپی سی لگ گئی، حیام کا بدلا رویہ اسکی سمجھ سے باہر تھا۔
“حیام یہ کیسی بات کر رہی ہو؟ پریشے بھی اس گھر کی اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا اشعر اور حوریہ، آئندہ تمیز سے بات کرنا” ساحل کمرے سے حیام کو ہی ڈھونڈنے نکلا تھا۔ تبھی اسکو کچن سے آواز آئی حیام کے منہ سے ایسی بات سنتے وہ سکتے میں آگیا۔ آج تک اسنے ایسا تو کبھی نہیں کیا تھا۔
“تو میں نے کیا غلط بول دیا، ایک تو اشعر نے صبح سے تنگ کر کے رکھا ہے، اوپر سے نیہا نے انویسٹیگیشن شروع کر دی، میں کیا اس گھر میں سبکے بچے پالنے آئی ہوں حد ہے مجھے بھی دو گھڑی سکون کے چاہیں” وہ فیڈر پکڑتے غصے سے کہتی کچن سے نکل گئی۔۔ ساحل نے شرمندگی سے نیہا کو دیکھا۔ نیہا نے اپنا چہرا نارمل رکھنا چاہا۔۔
“بھائی صحیح بولا، سچ میں اشعر تنگ کر رہا ہے، اور جب انسان زیادہ تھک جاۓ تو ایسی غصہ کر جاتا ہے، کوئی بات نہیں، اور ہاں آپ اب جا کر انہیں کچھ مت کہنا” وہ زبردستی مسکرا کر بولی۔
“پریشے کیسی ہے، بخار اترا؟” ساحل نے بات ہی بدل دی۔۔۔
“ہاں میں بس پانی لینے آئی تھی جا کر دیکھتی ہوں” وہ جلدی سے پانی کا جگ بھرتے ہوۓ بولی۔۔ اسنے نظریں نہیں اُٹھائیں۔ اور پانی کا جگ لیے کچن سے نکل گئی، ساحل نے اپنی بہن کو یوں نظریں چُراتے ہوۓ بری مشکل سے دیکھا۔ وہ جس تقلیف سے پچھلے پانچ سال سے گُزر رہی تھی یہ وہ خوب جانتا تھا اور اب اسے گھر میں بھی ایسی باتیں سننے پریں تو۔۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا جہاں حیام حوریہ اور اشعر کو سُلا رہی تھی۔۔۔
“یہ تم کا انداز میں بات کر رہی تھی میری بہن سے” وہ غصے سے اسے پوچھ رہا تھا حیام کا دماغ پہلے سے ہی گھوما ہوا تھا۔۔۔ نیہا ساحل کی اتنی اونچی آواز سن کر انکے کمرے کے قریب آئی۔
“جس انداز میں وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی، کہ میری بچی کا خیال کیوں نہیں رکھا میں کیا اس گھر کی نوکر ہوں جو لوگوں کے بچے پالتی پھروں” وہ تقریباً چیختے ہوۓ بولی۔۔۔
“کیا بکواس کر رہی ہو، تم جانتی ہو وہ پہلے ہی کتنی مشکلات سہن۔۔۔۔۔” ابھی ساحل کے منہ میں ہی الفاظ تھے۔ بلاج جو اپنے کمرے میں تھا آوازیں سن کر باہر آیا۔ وہ چلتا ہوا نیہا کے پیچھے کھڑا ہوا۔ نیہا نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ بلاج پوچھ رہا تھا کیا ہوا؟
“تو میں کیا کروں وہ اکیلی نہیں جو مشکلیں سہن کر رہی ہے، اسکا شوہر اسے چھوڑ کر چلا گیا، اس میں میرا اور میرے بچوں کا کیا قصور، جو اسکی بچی کو دیکھتی پھروں،اچھا ہوتا طلاق دے دیتا اب تک تو اسکی شادی ہو جاتی، اس گھر میں ہر وقت دکھی ماحول بنا کر رکھا ہوتا ہے، اور آپ بتائیں، آپ میرے بچوں کے باپ ہیں نا، انکل دادا اور آنٹی دادی ہیں تو صرف اس گھر میں نیہا کی بچی ہو ہی سب کیوں سب سے پہلے رکھتے ہیں، میرے بچوں کو وہ توجہ وہ پیار کیوں نہیں ملتا جو پریشے کو ملتا ہے، ہمیشہ وہ پہلے نمبر پر ہوتی ہے، اور میرے بچے دوسرے نمبر پر کیوں” وہ تقریباً چیختے ہوۓ بولی۔۔ یہ وہ سب تھا جو وہ کب سے اپنے اندر دباۓ بیٹھی اگنور کر رہی تھی اور اب وہ لاوے کی طرح پھٹا تھا۔ بلاج کے ماتھے پر بل پڑے وہ اگے بڑھنے لگا نیہا نے روک لیا۔۔بابا پلیز نہیں۔۔۔۔۔اسنے زور سے بلاج کا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔
” تمہارے دماغ میں کیا کیا خناس بھرا ہوا ہے، سبھی تینوں کو
برابر پیار کرتے ہیں، پریشے کو بس تھوڑی سی زیادہ اٹینشن دیتے ہیں تا کہ اسے باپ کی کمی محسوس نا ہو” ساحل چیختے ہوۓ بول رہا تھا۔
“ساحل!” بلاج سے مزید برداشت نا ہوا،تو وہ وہی سے ساحل کو پُکار بیٹھا۔۔۔ساحل انکی آواز سنتے ہی باہر آیا۔۔
“میرے گھر کا نا کبھی ایسا لڑائی جھگڑے والا ماحول تھا اور نا ہو گا، اور تم بھی اپنی آواز دھیمی رکھو، آرام سے بات کرو، اور سمجھاؤ، بیوی سے یوں لڑائی جھگڑا کرنا بالکل مناسب نہیں۔۔۔ دوسری بات میری بیٹی کسی پر بوجھ نہیں ہے، جب تک اسکا باپ زندہ ہے، وہ اپنے باپ کے گھر میں رہ سکتی ہے، میں مر گیا تب جو دل میں آۓ کرنا،” بلاج کی آواز آخر پر بھاری ہوئی، اندر بیٹھی حیام بھی چپ ہو گئی۔ نیہا کی آنکھ سے آنسو بہا۔۔۔
“بابا کیسی بات کر رہے ہیں، نیہو میری بہن ہے، آپ ایسا مت بولیں، مجھے جان ست زیادہ عزیز ہے” ساحل نے نم آنکھ سے کہا۔بلاج بنا جواب دیے وہاں سے چلا گیا۔۔۔ نیہا اگے بھری اور اسکے پاس آئی۔
“اٹس اوکے، وہ ابھی غصے میں ہیں، آپ آرام سے بات کرو، میں چلتی ہون پری اُٹھ جاۓ گی” وہ بولتی جلدی سے پلٹی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ساحل کمرے مین داخل ہوا اور دروازہ بند کیا۔ کافی دیر دونوں کے درمیان بحث چلتی رہی۔۔۔۔
پریشے کا بخار چیک کیا جو ابھی بھی تھا۔ وہ اسکے سرہانے بیٹھی بیڈ گراؤن سے سر ٹکا گئی۔۔۔
” یہ میرا گھر تھا۔ کس شان سے رہا کرتی تھی، شادی ہوئی، چل نا سکی، واپس آئی، نا وہ گھر میرا رہا نا یہ گھر میرا رہا، اسکا کیا مطلب ہوا؟ کیا ایک لڑکی کا کوئی گھر نہیں ہوتا؟ شوہر کے گھر سے وہ ہاتھ پکڑ کر دھکے دے کر نکال سکتا ہے، اور باپ کا گھر چاہ کر بھی دوبارہ اپنا نہیں ہو سکتا، کسی نا سکی وہ لڑکی کھٹکتی ہی رہتی ہے، چاہے وہ گھر سے باہر والے ہوں یا گھر کے فرد ہوں،
اسفندیار میں مرتے دم تک معاف نہیں کروں گی، آپ نے مجھے بے مول کر دیا، میری ذات کا بھرم ہی نہیں رکھا، آپ نے میری محبت دیکھی تھی اب میرا غصہ دیکھو گے” وہ پریشے کے بالوں کو سہلاتے اپنے آپ سے ہی بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔


“کام پورا ہو گیا مالک” چہرے پر باندھا کپڑا ہٹاتے ہوۓ اسنے کچھ پیپرز ابراہیم پاشا کے سامنے رکھے۔۔۔۔
“ہاہاہا واہ واہ میرے شیر میں جانتا تھا کوئی بھی کام ہو، میرا RDX کر لے گا” وہ ہنستے ہوۓ اسکو گلے سے لگاتے ہوۓ بولا۔ یہ ایک ایلیگل کام تھا۔ کچھ زمین کی ابراہیم پاشا کو ضرورت تھی، جس پر وہ ایک مال بنانے والا تھا۔ زمین کا مالک دینے کو راضعی نا تھا، وہ بھی جانا مانا آدمی تھا۔ آج ہی اسکے گھر پر فائرینگ کی، اسکے آدمیوں نے بھی بھرپور جواب دیا، جسکی وجہ سے اسکے ایک خاص آدمی کو گولیاں لگ گئیں۔ اور پھر اسنے سارے گارڈز کو مارا اور اندر داخل ہوا، اس آدمی سے زمین کے پیپرز پر سگنیچر کراۓ۔ اور اپنے آدمی کو لیے ہسپتال پہنچا۔۔۔۔۔
“آپ جو کام بولو وہ نا کر پاؤں تو میرے زندہ ہونے کا کیا فائدہ اپکا احسان ہے، جب میں بالکل ٹوٹ چکا تھا ہر کسی نے مجھے دھوکہ دیا تھا تب آپ ہی تو تھے جس نے میرا ساتھ دیا تو بھلا میں اب پیچھے کیسے رہ سکتا ہوں” وہ سر اُٹھا کر بولا۔ ابراہیم پاشا نے اسے سینے سے لگا لیا۔ پانچ سال پہلے انہوں نے اسے پچایا تھا۔ جب ہر پولیس کا آدمی اسکو ڈھونڈنے کی فراغ میں تھا، فرید احمد کے گنڈے چوبیسوں گھنٹے اسے تلاش کر رہے تھے، تب ابراہیم پاشا نے اسے پناہ دی۔۔۔
“اب میں سکون سے ترکی جا سکتا ہوں، تم یہاں کا سارا کام سھنمبال لینا، اب مجھے نکلنا ہو گا ایک گھنٹے میں شپ چلنی ہے، مجھے خود وہ سارا سامان لے کر ترکی جانا ہے” وہ اپنے ہاتھ پر پہنی گھڑی کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔ اسنے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ اور کچھ ہی دیر میں ابراہیم پاشا چلا گیا۔ وہ چلتا ہوا اپنے کمرے میں آیا اسنے خون سے بھری شرٹ اتاری، اور اپنے کپڑے لیے واشروم میں گھسا، نہا کر کپڑے تبدیل کیے، بالوں کو تولیے سے پوچھتے وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا، اسنے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا۔ بال کندھوں سے بلکے سے نیچے تھے، دھاڑی بھی ایک مُٹھی کے برابر بڑھی تھی، جس سے اسکا چہرا پہنچان میں نہیں آ رہا تھا۔ اسکی نظر ڈریسنگ پر رکھے لیٹر پر پڑی، آج پانچ سالوں میں پہلی بار اسے ایسے کوٹ کی سٹمپ لگا لیٹر ملا تھا۔ اسنے برش ڈریسنگ پر پھینکا، اور لیٹر پکڑا اسے کھولا تو ایک کاغذ نکلا، جیسے جیسے وہ اس کاغذ پر لکھے الفاظ پڑھتا گیا، اسکے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوتا گیا، اب آخر میں اسکی نظر نیہا کے سگنیچرز پر پڑی۔۔۔۔ اسنے وہ کاغض دوبارہ بند کیا، اور سائیڈ ٹیبل کے دراز میں رکھا، اور خود بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔ ماتھے پر بازو رکھا جیسے سونا چاہتا ہو، اسکی آنکھوں کے پردوں پر ایک ہی منظر بار بار لہرا رہا تھا۔ کیبن سے نکلتی بالوں کو جلدی میں کیچر لگاتی ہوئی اسکی بیوی، جو پہلے سے زیادہ حسین ہو گئی تھی۔ اور پھر وہ منظر جب اسنے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور وہی لمحہ جب اسے بس چھو کر ہی محسوس ہو گیا کہ سامنے کون بیٹھا ہوا ہے، اور پھر اسکے چہرے کے تاثرات، اسکا بے اختیار ہاتھ اسکے چہرے کی طرف بڑھا، اور پھر جیسے اسنے خود اسکا سحر توڑا، اسکا ہاتھ جھٹکا، اور پھر اسکا اُٹھ کر اپنے کیبن میں چلے جانا، اور کچھ ہی دیر میں اسے سٹریچر پر ڈال کر ایمرجنسی میں لے جانا، اسکی ایک نظر اسے اس حالت میں لے آئی۔ اور پھر اسکی نظر اسکی انگلی میں پہنی اس رنگ پر گئی، جو اسنے منھ دیکھائی میں دی تھی مطلب آج تک اسنے نہیں اتاری تھی۔ اسنے بے اختیار اپنی لال انگلارے بھرتی آنکھیں کھول دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وہ صبح اُٹھی، پریشے کو خود تیار کیا، ناشتہ کروایا،پہلے یہ کام میرال کرتی تھی۔ اور حیام جو لنچ بوکس بناتی تھی آج اسنے وہ خود بنایا۔
“بھائی آج میں جلدی جا رہی ہوں، میں خود پریشے کو چھوڑ دوں گی، اور آج واپسی پر بھی لے آؤں گی، کیونکہ اسکی ٹیچر سے ملنا ہے انہوں نے میسج کیا تھا” وہ پریشے کو دودھ کا گلاس پکڑاتے ہوۓ بولی۔۔
“نیہا مین چھوڑ۔۔۔۔۔” اسکے الفاظ منہ میں ہی تھے بلاج نے بات کاٹی۔۔
“رہنے دو وہ خود چھوڑ دے گی، اور تم حوریہ کو چھوڑ کر آفس پہنچو، آج سائیٹ پر جانا ہے اور مجھے لنچ ٹائم میٹنگ کر کے میرال کو پک کرنے جانا ہے” بلاج نیپکن سے منہ صاف کرتے کھڑا ہوتے سرد لہجے میں بولا۔۔۔ ساحل نے تاسف سے حیام کو دیکھا جو چہرا جھکاۓ شہیر کو پکڑے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔


“لیکن یوں اچانک کیسی پارٹی آ گئی حد ہے آج تو راحم اور روشنی کی مہندی ہے” علیزے نے اچانک پارٹی کا سن کر کہا۔ جو ابھی ابھی نرس ماہ رخ نے بتایا تھا۔ دوپہر کا ایک بج رہا تھا۔ ہاشم روحان اور پریشے کو لینے گیا تھا۔۔
“یار ہم پارٹی سے جلدی نکل جائیں گے، پھر مہندی پر چلے جائیں گے، علیزے آپی آ جاؤ گی؟” نور نے علیزے سے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔۔۔ علیزے کچھ پل چپ سی کر گئی۔۔۔
“نہیں میں نہیں جاؤں گی، سارے فیملی میمبرز ہوں گے تو اس لیے، اچھا چلو مین ڈیوٹی پر جا رہی ہوں ورنہ، ڈاکٹر موحد آ جائیں گے اور مجھے انکی ڈانٹ سننے کا کوئی شوق نہیں” علیزے جلدی جلدی بولتی باہر کی طرف بھاگی، وہ اس ٹاپک سے بچنا چاہتی تھی۔
“آپی آپ کی طبعیت اب ٹھیک ہے؟” کب سے خاموش بیٹھی نیہا سے اسنے پوچھا۔
“ہممم میں ٹھیک ہوں، آپ جا کر پیشنٹ ہینڈل کرو، میں میڈسن کھا کر آتی ہوں” نور چلی گئی وہ اُٹھ کر اپنے بیگ کے پاس آئی، اس میں سے ایک ڈبی نکالی، آجکل اسکا سر کافی درد کرتا رہتا تھا، انہی ٹینشنوں کی وجہ سے تو وہ پچھلے کئی دنوں درد کی دوا اور ایک اینٹی ڈپریشن پل لیتی رہتی تھی، اسنے ایک گولی نکالی اور منہ میں رکھتے پانی سے نگلی۔ تبھی دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا۔۔
“نور میں بس آتی ہوں” پانی کا گلاس منہ سے لگاتے وہ بولی پر جب دروازہ کی چٹکی لگنے کی آواز آئی تو وہ بے اختیار مُڑی۔۔۔اور وہی اسکے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر زمین پر گِڑا۔۔ سامنے سیم کل والے حلیے میں چہرے پر رومال باندھے اسفندیار کھڑا تھا۔ اسنے ایک سیکنڈ میں خود پر قابو پایا۔۔
“آپکو اگر اپنا چیک اپ کروانا ہے تو باہر جا کر بیٹھیں میں آتی ہوں” وہ ایک دم اجنبی انداز میں بولی۔۔ اسنفدیار طنزیہ انداز میں ہنسنا، اور قدم قدم بڑھاتا اسکے بالکل پاس آ کر کھڑا ہوا۔۔ نیہا کی دھرکنیں بڑھیں ہوئیں تھیں، پھر بھی وہ اپنے چہرے سے یہ ہی ظاہر کر ریی تھی کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
“سر آپ باہر جائیں۔ میں اپکا علاج۔۔۔۔۔۔۔” ابھی الفاظ اسکے منہ میں ہی تھی۔ جب اسنفدیار نے انگلی اُٹھا کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“علاج میرا نہیں تمہارا ہونا ضروری ہے، ایک دفع بولا تھا نا مجھ سے چھٹکارا میرے مرتے دم تک نہیں پا پاؤ گی، تو اسکی کیا تُک بنتی ہے” پانچ سال بعد یہ الفاظ اور یہ لہجہ تھا جو اسنے استعمال کیا تھا۔ وہی کھٹور، نفرت بھرا انداز، نیہا کے دم میں سوئی سے بھی زیادہ تیز اسکی بات لگی۔۔ اسنے اسکے ہاتھ میں لہرایا پیپر دیکھا وہ خلع کا پیپر تھا۔۔۔
“ہاں تو اور ویسے بھی ہم دونوں پانچ سال سے علحیدہ رہ رہے ہیں، تو بہتر ہے یہ نام نہاد رشتہ بھی ختم کر دیں” وہ دونوں بازو باندھتے فل کانفیڈیسن سے بولی۔ اسفندیار کو وہ مکمل بدلی ہوئی محسوس ہوئی، وہ پہلے والی خاموش، ہر وقت محبت سے دیکھنے والی لڑکی تو یہ نا تھی۔ یہ تو ایک سخت لہجہ اور سرد آنکھوں سے گھورنے والی لڑکی تھی۔ جسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔
“اچھا تو ٹھیک ہے، طلاق لیتے ہیں، اور ہماری جو بیٹی ہے، اسکی کسٹڈی بہت آسانی سے میں لے لوں گا اگر تم جانتی نہیں تو سن لو میں ایک ڈون کا ساتھی ہوں، اور یہ چھوٹے موٹے کام تو میں یوں چٹکیوں میں کر لوں گا، تمہیں علم۔بھہی نہیں ہو گا، پریشے کہاں ہے تم اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ترسوں گی ویسے بھی مین جانتا ہوں وہ کس قدر اپنے باپ سے ملنے کو بے تاب رہتی ہے میرے ساتھ خوشی خوشی رہ لے گی” وہ اسکے طرف جھکتے کان کے قریب آ کر اپنے ایک ایک لفظ سے اسکے اندر سور پھونک رہا تھا۔ نیہا نے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا، وہ اسکے بارے میں آج بھی سب جانتا تھا۔ وہ اس سے بے خبر بالکل نا تھا۔
نیہا نے اسکا گیربیان پکڑا۔۔
“اسفندیار حسن مجھے تم سے نفرت ہے، نفرت، تم میری زندگی کا ناسور بن چکے ہو، جسے میں کاٹ کر پھینک بھی نہیں سکتی۔ اور دوسری بات پریشے صرف میری سنا صرف نیہا کی بیٹی ہے، تم اسکے کچھ نہیں لگتے کچھ نہیں مجھے تمہارے پیار میں ڈوبی نیہا سمجھنے کی بھول کبھی مت کرنا، میرا وہ پیار کب کا مر چکا ہے، جو تمہارے سامنے کھڑی ہے، وہ پریشے کی مظبوط ماں ہے، جو اپنے بیٹی پر آنے والی ہر پریشانی کا سامنہ کرنے کو تیار ہے،تم اسے مجھ سے کبھی نہیں چھین سکتے کبھی نہیں،” وہ اسکا گریبان چھنجھوڑتے ہوۓ تقریباً چیختے ہوۓ بولی۔۔اسکی غصے غم سے بھری آنکھوں میں وہ دیکھ رہا تھا۔ اور پھر آخر میں جیسے تمسخرانہ انداز میں ہنسا جیسے وہ اسکی بہادری کا مزاق اُڑا رہا ہو۔۔ نیہا نے اسے جھٹکے سے چھوڑا۔ اور خود دروازے کی طرف بڑھی چٹکی اتاری۔ وہ ٹیبل سے ٹیک لگاۓ مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اسنے ہینڈل پر ہاتھ رکھا اور پھر جیسے رُکی۔ اور اسکی طرف دیکھا۔۔
“تم میرے جیتے جی میری بیٹی کو مجھ سے چھین نہیں سکتے ہاں اگر میں مر گئی تو لے لینا” بولتے ہوۓ اسکی آواز میں نمی اور لڑکھڑاہٹ آئی۔ اسکی مسکراہٹ ہی سمٹی۔ نیہا نے نم اور شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھا اور دروازہ کھول کر باہر چلی گئی۔۔ اور دروازہ بند کیا۔۔۔
ٹیک لگا کر بیٹھے اسفندیار نے گہری سانس خارج کی، اور پھر اسنے دوائی درد کی دوا کی وہ ڈبی اُٹھائی، اور ساتھ میں اینٹی ڈیپریشن کا پتہ اُٹھایا۔ یقینی وہ اب ڈیپریشن کی دوائیاں لے رہی ہے۔ اسنے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا اور پھر واپس رکھتے وہ چہرے پر رومال باندھتے باہر نکلنے لگا جب دروازے کھول کر نور اندر داخل ہوئی۔۔۔۔۔اسنے دروازہ بند کر دیا۔
“بھائی۔۔۔۔۔” وہ روتے ہوۓ اسکے سینے سے جا لگی۔۔۔اسفندیار نے رومال اتارا اور اسکے گرد بازو لپیٹ دیے۔۔ وہ روۓ جا رہی تھی۔ اور وہ اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“تم نے کام پورا کیا؟” اسکے بال سہلاتے ہوۓ اسنے پوچھا۔۔۔ نور نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ اسنے موبائل نکال کر کچھ کھولا اور اسکی طرف بڑھایا۔ اسنفدیار نے موبائل سے پکس ایک نمبر پر سینڈ کیں۔ اور پھر نور نے کچھ کارڈز اور ایک پیپر اسکی طرف بڑھایا۔۔۔
“گُڈ میری گڑیا کافی بری اور بہادر ہو گئی” اسکے آنسوں صاف کرتے وہ مسکرا کر بولا۔۔
“ہاں گڑیا تو بہادر ہو گئی آپ ۔۔۔۔” نور کے الفاظ منہ میں ہی تھے، جب وہ بولا۔۔۔
“تم ابھی باہر جاؤ، اور مجھے کسی کے سامنے مت بُلانا” اسفندیار نے کہا۔ وہ سر ہلا کر بولی اور چہرے صاف کرتے باہر چلی گئی۔ اسنے اپنے چہرے پر رومال باندھا اور اس کمرے میں گیا جہاں اسکا ساتھی تھا۔ وہ اب ہوش میں تھا۔۔۔
“کیسے ہو اب؟” اسکے پاس کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔ اسنے آس پاس دیکھا اور پھر اپنا رومال اتارا۔۔۔
“آپکا ساتھی ہوں، کمزور تھوڑی ہو سکتا ہوں” وہ مسکرا کر بول رہا تھا۔۔۔۔تبھی دروازہ کھول کر نیہا اور نور اندر داخل ہوۓ۔۔ نیہا نے ایک نظر دونوں کو دیکھا اور پھر نور کو دیکھا، جسنے اس سے نظریں چُرائیں، یعنی وہ اپنے بھائی کو دیکھ شاک نہیں تھی، مطلب وہ مل چکی تھی۔ پھر وہ سپاٹ چہرے سے مریض کی فائل کھولنے لگی۔ اسکے ساتھ نے اسفندیار کو ابرؤ اچکا کر دیکھا اور پھر نیہا اور نور کو۔ نور بالکل لاتعلق سا بی ہیو کر رہی تھی۔۔
“تو مسٹر حسنین اب کیسا محسوس کر رہے ہیں، زیادہ درد تو نہیں ہو رہا؟” نیہا بیڈ کے پاس آئی اور اسکا چیک اپ کرنے لگی۔ اور ساتھ ساتھ پروفیشنل انداز میں سوالات پوچھنے لگی۔
“جی بھا۔۔۔۔۔۔آئی مین یس ڈاکٹر میں ٹھیک ہوں بس صبح سے درد تھوڑا زخموں میں درد زیادہ ہو رہا ہے” وہ اسے بھابھی کہنے ہی والا تھا جب درمیان میں ہی پلٹ گیا۔ وہ نیہا کو جانتا تھا۔ انکی شادی اٹینڈ کی تھی۔ پر نیہا اسے بالکل نہیں جانتی تھی اور ابھی بھی اسنے بالکل غور نہیں کیا تھا۔ وہ مصروف سی اسکی ریپورٹس چیک کر رہی تھی۔
“ماما۔۔۔ ماما۔۔ آہو آہو” کھانستے ہوۓ کمرے میں پریشے داخل ہوئی۔ نیہا کی سانسیں تھمیں اسنے فائل بیڈ پر پھینکی اور پلٹ کر ایک نظر اسفندیار کو دیکھا۔ جو دروازے میں آنکھین پھارے کھڑی پریشے کو دیکھ رہا تھا۔ جو اسکی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“پری بیٹے آپکو کتنی دفع بولا ہے کیبن میں بیٹھا کرو، نور آپ اسکو لے کر جاؤ میں بس دو منٹ میں آتی ہوں” نیہا نے جلد از جلد اسے یہاں سے بھگانا چاہا۔۔۔۔ اسفندیار نے نور کو اشارہ کیا۔ اسنے دروازہ بند کر دیا
“باااااباااااا” پریشے کے منھ سے ہکلاتے ہوۓ یہ الفاظ نکلے۔۔۔ وہ روز تو اسکی تصویر دیکھتی تھی ایک ایک نقش اسکی یادوں کے پردوں پر نقش ہو چکا تھا۔ وہ اسکے برے بالوں اور دھاڑی کے باجود پہنچان چکی تھی، وہ جسے زندگی مین پہلی دفع مل رہی تھی، یوں ایک جھٹکے میں پہنچان جانا مطلب وہ کس قدر اسکو پیار کرتی تھی۔اور ہمیشہ یاد کرتی۔۔۔ اسفندیار کی سانس اسکے بابا کہنے پر تھمی۔ اسنے بے اختیار اپنی باہیں کھولیں، پریشے بھاگ کر اسکے سینے سے جا لگی۔۔۔اسنے اسے زور سے بیچ لیا۔۔۔ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ اسکی گردن کے گرد زور سے بیچھ لیے اور رونا شروع کر دیا۔۔۔ نیہا نے بیڈ کنارے کا سہارا لینا چاہا۔ اسفندیار نے اسکی طرف دیکھا۔ نیہا کو لگا وہ اسکا مزاق اُڑا رہا ہے جیسے کہ رہا ہو، دیکھ لو میری بیٹی کیسے مجھے پہنچان گئی۔ اور تم اکیلی رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“آپ کب لندن سے واپس آۓ، آپکو پتہ ہے کتنا زیادہ والا مس کیا، میں روز آپکو یاد کرتی، اب میں آپکو واپس نہیں جانے دوں گی، آپ میرے پاس ہی رہو گے” وہ دوبارہ چھوڑ جانے کے خوف سے اسکے ہاتھ کو اپنے ننھے معصوم ہاتھوں مین پکڑنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔
“میں بس آج ہی واپس آیا، اور دیکھو اپنی بیٹی سے ملنے آ گیا۔ آپ فکر مت کرو میں بہت جلد آپکو لے جاؤں گا” وہ اسکے گال سہلاتے ہوۓ بولا۔ اور آخری جملے پر اسنے نیہا کو دیکھا جسکے چہرے پر خوف سا اترا۔۔۔۔
“پرررریییی بیٹااااا چلوووو یاد ہے نا آج روشنی آنٹی کی مہندی پر جانا ہے چلو چلتے ہیں” نیہا جلدی سے اسکے پاس آئی اور اسکا بازو پکڑنا چاہا۔
“نو مجھے بابا کے پاس رہنا ہے” پری نے نفی میں سر ہلاتے اسفندیار کے گرد زور سے بازو لپیٹ دیے۔ نیہا کے ہاتھ وہی ہوا میں ہی رہ گے۔
“پری آپ ماما کے ساتھ جاؤ، اور ہاں ایک پرامس کر کے جاؤ ہم دونوں ملے یہ سیکرٹ کسی کو نہیں بتاؤ گی” اسفندیار نے اسے گود سے اتارتے سامنے کھڑا کیا اور پھر اسکے سامنے ہاتھ پھیلایا۔ پریشے نے اوکے کرتے ہاتھ ملا دیا۔
“پر اب کب ملو گے، اب تم گم نہیں ہو جاؤ گے” اسکے لہجے مین واضع ڈر تھا۔ جو اسفندیار نے اچھے سے محسوس کیا۔۔ اسکے دل کو کچھ ہوا وہ گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا۔۔ اور اسکے کان مین کچھ کہا۔ وہ خوش ہو گئی۔
“لو یو بابا” وہ اسکے گلے ملتے ہوۓ چہک کر بولی۔ اسفندیار کی آنکھیں ہلکی سی بھیگیں۔۔ جسے کمال مہارت سے وہ چھپا گیا۔ اور پھر اسنے پریشے کو نیہا کے حوالے کر دیا۔ جسنے جھٹکے میں اسکا بازو پکڑا اور اگلے کچھ سیکنڈز میں کمرے سے نکل گئی۔۔
“آپ تو گے اب ” حسنین سر کے نیچے بازو رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔ اسنے بس گھورنے پر اکتفاد کیا۔ اور پھر وہ چہرے پر رومال باندھتے، سر پر ٹوپی پہنتے، وہاں کمرے کی بنی کھڑکھی سے چھلانگ لگا کر ہسپتال کے پچھلے حصے کی طرف گم ہو گیا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔