Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

روشانے اور راحم کے ولیمے سے ہو کر وہ واپس آئی، پریشے تو آج نہیں گئی تھی۔ وہ چینج کر کے وہ نکل گئی۔ کچھ ہی دیر میں وہ پہنچی، وہ نور کے ساتھ راؤنڈ پر نکلنے والی تھی۔ تبھی ایمرجنسی پیشنٹ آیا۔ وہ پندرہ سولہ سالہ لڑکا لگ رہا تھا۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا۔ اسکے ساتھ دو آدمی تھے۔ جو ورکر لگ رہے تھے اسکا پورا جسم ٹھنڈا پڑا تھا۔ اس سے پہلے کہ نیہا اگے بڑھ کر اسے چیک کرنے لگی اسنے اسے آکسیجن ماسک لگایا، اسکا خون ٹیسٹ کے لیے نکالا۔ اس سے پہلے ہی اسکی سانس رک گئی۔۔۔ نیہا اور نور کی بھی سانس اٹک گئی، کیسے کوئی اسکے سامنے یوں چل بسا، اگر کچھ دیر پہلے لے آتے تو شائد بج جاتا۔۔
نیہا نے خود کو سھنمبالا اور ورکرز کو درد ناک خبر سنائی، اور اسکی فیملی کے بارے میں پوچھا۔ انکے مطابق وہ اس دنیا میں اکیلا تھا۔۔۔۔ فامیٹلیز پوری کرنے کے لیے نور ساتھ گئی۔۔۔۔۔ نیہا کی نظر اس لڑکے کے جسم پر پڑی، جگہ جگہ پر نیل تھے۔۔ اور بہت گہرے نیل تھے۔۔۔ وہ اگے بڑھی، اور اسنے موبائل سے تصویر نکالی۔ اور وہاں رکھا اس بچے کا ابھی کچھ دیر پہلے نکالے گے خون کی ٹیوب پکڑی۔ تبھی وہاں ان میں سے ایک ورکر آ گیا۔۔
“کیا کر رہی ہیں؟” اسکی آواز کافی سرد تھی، نیہا یوں اچانک اپنے پیچھے سے آواز سن کر ایک دم ڈر سی گئی۔
“کچھ نہیں، آپ ساری فارمیلٹی پوری کر کے باڈی کو لے جا سکتے ہیں” نیہا نے موبائل اور ٹیوب اپنی پاکٹ میں ڈالے اور اس عجیب سے آدمی کو دیکھتے وہاں سے چلی گئی۔ اس آدمی نے جانچتی نظروں سے نیہا کو جاتے دیکھا اور موبائل نکال کر کسی کو میسج کرنے لگا۔۔ اور کچھ ہی دیر میں باڈی لے کر وہ لوگ چلے گے۔۔۔۔
وہ سیدھے اپنے کیبن میں آئی، اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا، جیسے کتنا برا کرائم کر کے آئی ہو، اسنے نور کو فون کر کے اس لڑکے کی ڈیٹیلیز لانے کا کہا، وہ کیبن مین چکر کاٹ رہی تھی تبھی دروازہ کھٹکا، اسنے دروازہ کھولا، نور کے ساتھ کھڑے اسنفدیار کو دیکھ اسکی پریشانی ایک دم سے غصے میں بدلی۔ وہ دروازہ بند کرنے لگی جب وہ اندر داخل ہوا۔۔۔
“تم انکو کیوں لائی؟” اسنے غصے سے نور کو پوچھا۔ جو ہاتھ میں پیپرز لیے کھڑی تھی۔
“سوری آپی، بھائی تو بس ابھی ابھی آۓ ہیں” نور نے جھوٹ بولا۔ وہ بہت دیر پہلے آیا تھا، اور ابھی ایمرجسنی میں ہوئے واقع کو دیکھ چکا تھا۔۔۔۔
“حیرانگی کی بات ہے، ایک معافیا کو اتنی فرصت کہاں سے مل گئی جو یوں ہسپتالوں کے چکر پر چکر کاٹے جا رہے ہوں، اور یوں کھلے عام پھرا جا رہا ہو” نور کے ہاتھ سے پیپرز پکڑے وہ بھرپور طنز مار چکی تھی۔ وہ اسکے انداز پر مسکرایا اور قدم اگے بڑھا، اسکے ہاتھ سے پیپر پکڑا۔ جس پر پیشنٹ کی ڈیٹلیز تھیں۔۔
“کیوں، میرے یوں کھلے پھرنے پر تم فکر مند ہو رہی ہو، کہی میرا کوئی دشمن گولی نا مار دے” وہ پیپر پر ہی نظر جماۓ بولتا اسکی طرف مزید بڑھا۔۔
“بات کو گھوما تو کوئی آپ سے سیکھے، چلیں اب نکلیں یہاں سے” نیہا اسکے ہاتھ سے پیپرز کھینچتے ہوۓ بولی۔ اور اسے ہاتھ سے پیچھے کرتے درمیان مین فاصلہ بنایا۔ وہ دو قدم پیچھے ہوا۔
“نور وہ سب ریپورٹس دیکھانا جس کا تم ذکر کر رہی تھی” وہ سامنے صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔ اور نور سے مخاطب ہوا۔ جو نا جانے کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی، اسکی آواز پر چونکی اور نیہا کو دیکھا۔۔ جو اسے گھور رہی تھی کہ وہ اتنی اہم انفارمیشن کسی سے بھی کیسے ڈسکس کر سکتی ہے۔۔۔
“وہ آپی کے پاس ہے، ان کے لاکر میں” نور نے ہاتھ رگڑتے ہوۓ کہا۔ اسفندیار نے نیہا کو دیکھا۔ جو اب ان دونوں کو اگنور کیے جا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔
“نیہا وہ ساری ریپورٹس دیکھاؤ جسکی نور بات کر رہی ہے” وہ کافی سنحیدہ ہو چکا تھا۔ نیہا نے اسکی بات پر ایک پرنسٹ بھی نوٹس نا لیا اور ایک پیشنٹ کی میڈکل فائل دیکھنے میں مصروف ہو گئی۔
“نور یاد ہے نا آج آٹھ بجے مسزِ رضا کا سی سیکشن ہے، وہ ایڈمٹ ہو چکی ہیں، آپ انکا بی پی چیک کرتی کرتی رہیں، ایک گھنٹے بعد آپریشن ہے” نیہا نے کلائی پر بندھی گھڑی سے ٹائم دیکھتے اسفندیار کو مکمل اگنور کرتے نور کو کہا۔ جو ہاں میں سر ہلاتی کھڑی ہوئی اور کمرے سے چلی گئی۔ وہ ابھی یہاں سے جانا ہی چاہتی تھی۔۔۔۔
“مسٹر آپ بھی اب جائیں، میں یوں بنا کسی ریزن سے کسی سے بات نہیں کرتی، میں کافی مصروف ہوں” وہ فائل پڑھتے جگہ جگہ ماک کرتے ہوۓ اجنبی سے انداز میں بولی وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور اسکے پاس آیا۔ اسکی ریوالوینگ چیر کے دونوں اطراف ہاتھ رکھتے اسے اپنی طرف موڑتے ہوۓ اس پر جھکا۔۔۔
“ڈاکٹر نیہا میری بات آپ بھی دھیان سے سن لیں، آپکے پاس جتنی معلومات ہے مجھے دے دیں، یہ آپکے حق میں ہی بہتر ہو گا” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سرد انداز میں بولا۔ اسکی بات پر وہ طنزیہ انداز میں ہنسی۔۔۔
“اگر یہ سوال ایک پولیس والا کرتا تو ضرور جواب دیتی، اور سارے ثبوت دیتی، پر میرے ساتھ شہر کا مشہور گھنڈا RDX ہے، جسے میں کوئی انفارمیشن نہیں دونوں گی” وہ بھی اسی کے انداز میں بے خوف سی بولی۔۔۔
“بری جلدی اپنی باتوں سے پلٹتی ہو ابھی کل رات تک تو مجھے محب وطن کہ رہی تھی، کتنے یقین سے کہ رہی تھی، میرا کوئی مشن ہو گا اب اتنی جلدی اپنی سوچ بدل لی، وجہ جان سکتا ہوں” وہ بہت ہی آرام سے اسی پر بات ڈال گیا۔ نیہا کو تاؤا آیا۔
“میں نے یہ سب فرید احمد سے سیکھا ہے، ریممبر وہ بھی تو ایک مافیا سے ہے، بات سے پلٹنا تو اسی نے سیکھایا ہے آخر کو میرا چکر۔۔۔۔۔” وہ غصے سے بولے جا رہی تھی، جب اسفندیار نے اسے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، اور اسکی آواز بند ہو گئی۔۔۔
“نیہا پلیز بار بار یہ سب بول کر مجھے مزید اذیت مت دو، میں پچھلے پانچ سالوں سے جس اذیت میں ہوں یہ صرف میں جانتا ہوں، ابھی تمہیں میری مدد کرنی ہی ہو گی، پلیز مجھے سختی پر مجبور مت کرو، میں ابھی جا رہا ہوں، میں نو بجے تک تمہیں ایک لوکیشن بھیجوں گا، تم وہاں آ جانا” وہ اسکے کان کے قریب جھک کر ضبط سے یہ سب کہ رہا تھا، اور آخری الفاظ کہتے اسنے اسکی طرف دیکھا، اسکی آنکھیں غصے کے مارے لال انگارے بھر رہیں تھیں، وہ جانتا تھا اب وہ پھٹے گی، تبھی وہ دوسرے ہاتھ سے رومال منہ پر سیٹ کرتا اسکے منہ سے ہاتھ ہٹاۓ جھٹ سے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔ وہ اپنی دونوں ہاتھوں کی مُٹھیوں کو زور سے بھیجتی ٹیبل پر اپنا سر رکھ گئی، کئی آنسوں ان لال آنکھوں سے پیچھے دھکیلے گے۔۔۔ تبھی اسکی نظر اپنے ڈرا پر پڑی، اسنے جلدی سے بیگ سے چابی نکالی اور ڈرا سے ایک لنیلی فائل نکالی۔ جس پر کچھ مینشن نہیں تھا، اسنے فائل کھول کر پیپرز نکالے جو کہ فوٹو کاپی تھے، اور انہیں بیگ میں رکھا، ابھی کچھ دیر پہلے آیا ہوا پیشنٹ کا پیپر بھی بیگ میں رکھا۔ تبھی اسے وہ ٹیوب یاد آئی، اسنے وہ بھی پاکٹ سے نکالتے بیگ میں رکھی، اور گاڑی کی چابی پکڑی اور کمرے سے نکل گئی۔ سینیر ڈاکٹر موحد کے پاس آئی۔۔
“جی ڈاکٹر نیہا؟” وہ اس سے کچھ سال ہی برا تھا، اور اس ہسپتال کے ڈاکٹرز کا انچارج تھا۔۔
“سر مجھے کچھ کام ہے تو کیا میں جا سکتی ہوں؟”
“ڈاکٹر نیہا آپ ایک قابل ڈاکٹر ہیں، اور اس ہسپتال کا اہم حصہ ہیں، آپکے دوست کی شادی کی وجہ سے آپ پہلے بھی کافی جلدی نکل جاتی ہیں، اور آج ابھی ایک گھنٹے پہلے ہی تو آپ آئی ہو، جانے کی وجہ جان سکتا ہوں؟” ڈاکٹر موحد کرسی پر سیدھے ہو کر مکمل اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔۔
“سر کام پرسنل ہے ” نیہا نے نظریں جھکا کر کہا۔۔
“اوکے چلی جائیں، اور انکل بلاج کو میرا سلام دیجیے گا میں کسی دن ان سے ملنے آؤں گا” موحد نے آجازت دے دی ۔۔۔ نیہا شکریہ کرتے اسکے کیبن سے نکل گئی۔ موحد نے بند دروازے کو
دیکھا۔۔۔۔اور سر جھٹکتا کام کرنے لگا۔


وہ ابراہیم پاشا کے اڈے پر پہنچا، جہاں سے کچھ ہی دیر میں ٹرک روانہ ہونے والے تھے، وہ خود تو ترکی کام سے گیا تھا، یہاں کا سارا کام اسفندیار سھنمبال رہا تھا۔۔وہ ٹرکوں میں مال لوڈ کروا رہا تھا، حسنین بھی اسکے ساتھ تھا۔۔۔۔ کام پورا کر کے وہ گاڑی لے کر نکل گیا۔ تھوڑی دور جا کر گاڑی روکی، اور نیہا کو یہاں کی لوکیشن بھیجی۔۔۔۔۔
دوسری طرف نیہا اسکے جانے کے بعد ہی نکل گئی، وہ راحیل کے گھر آئی جہاں روشانے اور راحم رسم کے مطابق آۓ ہوۓ تھے، سبھی لاونچ میں بیٹھے ہنسی مزاق کر رہے تھے، بلاج اور میرال بھی یہی تھے، حسام اور مشی بھی موجود تھے، ہاشم نے آج ہسپتال سے چھٹی لی تھی، وہ بھی یہی تھا۔ اور اس وقت لاونچ میں محفل جمی ہوئی تھی۔۔
“ارے نیہا تم اتنی جلدی آ گئی؟” نیہا کو دیکھتے راحم چونک کر بولا۔ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔ وہ ایک گھنٹہ پہلے ہی تو ضروری کام کا بول کر گئی تھی، اور رات دیر سے آنے کا بولا تھا۔
“ہاں وہ کام جلدی ختم ہو گیا” وہ جھوٹ بولی۔ سبھی دوبارہ اپنی باتوں میں مصروف ہو گے۔۔
“راحم ایک منٹ ادھر آنا” وہ راحم کے پاس گئی اور اسے لیے ایک طرف گئی۔۔۔
“کیا ہوا؟” راحم نے آنکھ اچکا کر پوچھا۔
“ہوا کچھ نہیں، تمہیں میرا ایک کام کرنا ہے، ابھی، تم اس خون کا ٹیسٹ اپنے انڈر کرواؤ گے اور ریپورٹس مجھے دو گے، اور ہاں یہ ٹاپ سیکرٹ ہونا چاہیے،” نیہا نے بیگ سے ٹیوب نکال کر اسکے ہاتھ میں رکھی۔۔۔
“سیکرٹ، ہمممم کیوں؟ ایسا کیا ہے؟ اور یہ کس کا خون ہے؟” وہ بھی راحم تھا ایسے کیسے سوالات نا پوچھتا۔۔
“راحم یہ اس بندے کا خون یے جو اب مر چکا ہے، مجھے بس اسکے مرنے کی وجہ جاننی ہے” نیہا نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
“اووکے مین مزید نہیں پوچھوں گا اب اسکا ریزلٹ لاؤں گا تب تمہیں ساری بات بتانی پڑے گی” راحم نے وہ ٹیوب پاکٹ میں رکھی۔۔
“راحم کسی کو پتہ نا چلے” نیہا نے ایک بار پھر سے اسے یہ سب سیکرٹ رکھنے کا کہا۔
“اوپس اب تو یہ سیکرٹ نہیں رہا سوری” تبھی سیڑھیوں کے ایک طرف چھپ کر کھڑا ہاشم ان دونوں کے سامنے آیا۔۔ دونوں چونکے۔۔۔
“راحم تو یہاں رہ یہاں سے کوئی جانے نہیں دے گا، یہ کام میں کرتا ہوں” اسکی پاکٹ سے ٹیوب نکال کر اسنے اپنی پاکٹ میں رکھتے ہوۓ کہا۔ اور دونوں کو تھم اپ کا سائن دیتے وہاں سے نکل گیا۔۔۔
“لو تمہارا کام تو ہو گیا کیا اب مجھے آجازت ہے میں اپنی نئی نویلی دلہن کے پاس جا کر بیٹھوں، میرے سسرال والے انتظار کر رہے ہیں” راحم معصوم سی شکل بنا کر بولا۔ نیہا ہنس دی، دونوں سب کے پاس آگے۔ راحم جا کر بیٹھ گیا۔۔ نیہا وہی کرسی پر بیٹھ گئی، اور چاۓ کا کپ پکڑا۔۔حسام یونی کے قصے چھرے کر بیٹھا تھا۔ سبھی اسکی باتوں پر ہنس رہے تھے۔۔ عرصے بعد بلاج کے چہرے پر سچی ہنسی تھی جو صرف حسام کی بدولت آئی۔۔ نیہا نے محبت سے اپنے والد کو دیکھا۔ اور سکون کا سانس خارج کیا۔ روشنی سے باتیں کرنے لگی۔۔ جب اسکے موبائل پر میسج آیا، جو اسفندیار کا تھا۔ جسنے لوکیشن بھیجی تھی۔۔۔
“میں نہیں آ رہی ” اسنے میسج کر کے فون گود میں رکھ دیا۔۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری ہو گی، کہ موبائل بجا، اسنے کال کاٹ دی۔ دو تین بار پھر کاٹی۔۔
“نیہا بیٹا سن لو کال” عائشہ نے اسے بار بار فون کاٹتے دیکھ کہا۔
“جی آنٹی” وہ زبردستی مسکراتی فون پکڑے کندھے پر بیگ ڈالے باہر گارڈن میں آ گئی۔
“کیا ہے؟ ایک بار بولا تھا نا نہیں آ رہی تو کیوں بار بار فون کر رہے ہیں” وہ کال اُٹھاتے ہی شروع ہو گئی۔۔
“تمہارے پاس دس منٹ ہیں جلدی سے پہنچو ورنہ تمہارے بابا کو سب بتا دوں گا” اسفندیار نے اسے ڈرانا چاہا۔۔۔
“بلیک میل کر رہے ہیں، شرم آنی چاہیے” نیہا کا دماغ بھک سے اڑا۔ تبھی کسی نے اسکے ہاتھ سے موبائل لیا۔ نیہا نے گردن موڑ کر دیکھا تو اسکی روح فنا ہو گئی۔ سامنے بلاج تھا۔ اسنے کان سے فون لگایا۔
“بلیک میل نہیں کر رہا تم پہنچو ورنہ انکل کو سب بتا دوں۔۔۔۔” اسفندیار اپنی رو میں بول رہا تھا۔۔ جب سپیکر سے بلاج کی آواز گھونجھی۔
“تم اگلے پانچ منٹ میں میرے گھر پہنچوں ہم وہی ملیں گے” سخت لہجے میں کہتے اسنے کال کاٹ کر ڈری نیہا کو پکڑا۔۔۔۔
“چلو میرے ساتھ” سخت لہجے میں کہتے وہ اگے بڑھا اور نیہا کی گاڑی کے پاس آ کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھا نیہا جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اور گاڑی گھر سے باہر نکالی، بلاج نے میرال کو میسج کر دیا کہ وہ نیہا کے ساتھ گھر جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد گھر پہنچے، گھر کے لاونچ کے دروازے کے پاس ہی چہرے کو ڈھکے وہ کھڑا تھا۔ بلاج کی آواز جیسے ہی اسنے سنی، اور اسکا جملہ سن کر وہ سمجھ گیا اسنے سب سن لیا، معاملہ بگڑ چکا تھا اسے یہاں آنا ہی تھا، نیہا نے چابی سے لاونچ کے دروازے کو کھولا اور اندر داخل ہوئی۔۔بلاج اسٹڈی روم کی طرف بڑھا وہ دونوں بھی اسکے پیچھے پیچھے آۓ۔۔ بلاج سامنے کھڑا ہوا اور اسکے سامنے وہ دونوں اسکے سامنے تھے۔۔۔
“نیہا کیا تم دوبارہ اسکے ساتھ رہنا چاہتی ہو؟” بلاج نے نیہا کو سخت نظروں میں لیتے پوچھا۔ اسفندیار کی سانس اٹکی۔
“واٹ نو بابا بالکل نہیں” نیہا نے جھٹ سے جواب دیا، اور یہاں اسکی اٹکی سانس اٹکی ہی رہ گئی۔۔
“تو اس شخص کا نمبر تمہارے موبائل میں کیا کر رہا ہے؟” بلاج آج کسی قسم کا نرم رویہ نہیں رکھنے والا تھا۔۔
“بابا انہوں نے زبردستی موبائل میں فیڈ کر دیا” نیہا نے ناخن خروچتے ہوۓ کہا۔ اب بلاج کا رخ اسفندیار کی طرف تھا۔۔
“جی تو RDX صاحب کیا آپ بتانا پسند کریں گے میری بیٹی کو کس چیز کے لیے بلیک میل کر رہے ہیں؟ ” بلاج کا سوال نیہا کے پاؤں تلے سے زمین کھسکا گیا۔ اور اسفندیار کو لگا وہ آج بالکل اس دنیا میں تنہا ہو گیا۔۔۔۔ سب سے پیارے شخص نے جس اجنبی انداز سے اسے مخاطب کیا تھا، وہ اسکی جان لے گیا۔ اسنے نیہا کی طرف دیکھا جو ڈر کے مارے نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
“وہ وہ میں پریشے سے ملنے کے لیے ضد کر کر رہا تھا یہ مان نہیں رہی تھی، تو اسی لیے بس ایسے ہی دھمکی دے رہا تھا ” اسنے نظریں جھکاتے ہوۓ کہا۔۔۔ اسکا جواب سن کر بلاج قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا۔۔۔
“مانتا ہوں تم مافیا کے گنڈے ہو، پر اسکا مطلب یہ نہیں تم میری بیٹی کو دھمکیاں دیتے پھرو ، اور تم کس کو بے وقوف سمجھ رہے ہو، سچ بتاؤ کیا بات ہے، نیہا نے ایسا کیا کیا جو مجھے بتانے سے ڈر رہی ہے” بلاج غصے سے بولا۔ اور نیہا کو سخت گھوری دی، جسنے نظریں چرائیں۔۔ اسفندیار کی تو وہ رگ رگ سے واقف تھا یوں نظریں چُراتے، اور اس لڑکھڑاتا لہجہ وہ جانتا تھا وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اسفندیار نے بے بسی سے نیہا کو دیکھا۔۔۔ اور پھر خود کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتے بلاج کو دیکھا۔۔۔ مطلب اب تو بتانا پڑے گا۔
“وہ بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ ” اور پھر اسنے اس ویڈیو سے لے کر ساری بات بلاج کو بتا دی۔۔سواۓ آج کی بات کے۔۔۔۔۔۔۔ جسے سن کر اسکا پارہ ہائی ہو گیا۔۔
“نیہا تمہارا دماغ خراب ہے، یہ سب کیا کرتی پھر رہی ہو؟” وہ اس پر بری طرح سے چیخا تھا۔۔ گردن جھکاۓ اسکی آنکھوں سے آنسوں گڑنے لگے۔۔۔
“انکل وہ۔۔۔۔۔” وہ درمیان میں بولا۔۔
“چپ تمہارا انکل نہیں ہوں میں، یہ دیکھو میاں میرے جوڑے ہوۓ ہاتھوں کو، مجھ سے میری فیملی سے اور خاص کر نیہا سے دو سو کیا دو ہزار قدم کی دوری پر رہو، ہمیں تمہاری اس مافیا دنیا میں بالکل نہیں پڑنا، ہو سکتا ہے تو مجھ پر میری حالت پر رحم ہی کھا لو، اور ہماری زندگیوں سے جیسے پہلے دور تھے ویسے ہی اب بھی ہو جاؤں، بہت مہربانی ہو گی” وہ دونوں ہاتھوں کو جوڑے تھکے ہوۓ لہجے میں بولا۔ نیہا نے روتے ہوۓ بلاج کو دیکھا۔۔ اسنے آج تک اپنے باپ کو اس قدم بے سب نا دیکھا تھا۔۔ اسکے رونے میں اضافہ ہوا۔۔۔
“ایم سوری بابا” وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔
” نا میرا پہلے کوئی مقصد تھا آپ سبکو تقلیف دینے کا نا آج ہے اور نا کبھی ہو گا، مانا اب میری اور آپکی طرزِ زندگی بہت مختلف ہے، پر نا تو میں پہلے آپ سبکو مشکل میں ڈالنے کا سوچ سکتا تھا اور نا ہی آج، میری ہمیشہ سے کوشش رہی کہ آپ سبکو ان سب چیزوں سے دور رکھ سکوں، پر میں خود کو ہی۔۔۔۔ خیر آپ فکر مت کریں، دوبارہ میں نیہا سے نہیں ملوں گا۔ آپ بس اسکو ان سب سے دور رہنے کا بول دیں” وہ انکے جوڑے ہاتھوں کو نیچے کرتے ہوۓ بولا۔۔ اسے اسکا یوں اپنے سامنے ہاتھ جوڑنا بالکل پسند نا آیا۔ اور مڑ کر جانے لگا۔۔۔
“روکو” پیچھے سے بلاج کی آواز آئی۔ اسے ایک امید سی ہوئی۔ وہ مُرا بلاج اسکے پاس آیا۔۔
“یہ گھر میں نے بنایا ہے، اسکا رکھوالا میں ہوں، اس گھر میں رہنے والوں کی سیفٹی کے لیے باہر گارڈز کھڑے کیے ہیں، اور چاروں اطراف کیمرے لگواۓ ہیں، تو آئندہ میری بیٹی کے کمرے میں جانے کی ہمت بھی مت کرنا، ورنہ وہی آکر ٹانگیں توڑ دوں گا، اور مجھے بوڑھا سمجھنے کی تو بھول بھی مت کرنا، ابھی بھی اتنی طاقت ہے تم جیسے چھے لوگوں کو ایک ساتھ مار سکتا ہوں، تو نیہا اور پریشے سے دور رہو چلو نکلو یہاں سے” اسکی پاس آکر انگلی اُٹھا کر وارنگ دی گئی۔۔ اور اس بار نیہا اور اسفندیار دونوں کی سٹی گم ہوئی، مطلب وہ کل رات اسکا یہاں آنا بھی جانتا تھا اسی لیے آج اسنے اتنی جلدی نیہا کو پکڑ لیا۔ وہ پہلے سے جانتا تھا۔۔۔۔ اور اسفندیار اتنا تو جانتا تھا۔ اسکا یہ انکل سچ میں اسکا کچومر نکال سکتا ہے، وہ ہاں میں سر ہلاتے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔ ابھی یہاں سے نکلنے میں ہی بھلائی تھی۔۔۔۔۔
“تم بھی اب اپنے کمرے میں جاؤ” اسنے سختی سے نیہا کو کہا جو جلفی سے اسٹڈی روم سے نکل کر اپنے کمرے میں آئی۔ اسنے اپنے بیگ سے وہ سارے پیپرز نکالے اور لاکر میں رکھے۔۔۔۔۔۔


جاری ہے۔۔۔۔