Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ازقلم فاطمہ طارق
“جی بابا کیا بات کرنی ہے؟” وہ میرال کے کہنے پر سیدھا اسکے ساتھ بلاج کے کمرے میں آئی۔۔
“بیٹھو یہاں” بلاج نے اسے بیڈ پر اسکے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ اسکے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ بلاج نے سائیڈ ٹیبل سے ایک لفافہ نکالا۔
“بیٹا میں نے اس بارے میں بہت سوچا، پانچ سال کا عرصہ گُزر چکا ہے، زندگی موت کا علم نہیں ہوتا، کب میری آنکھ موندھ جاۓ کچھ معلوم نہیں، میرے اوپر تمہاری اور پریشے کی ذمہ داری ہے میں اب اس قصے کو ختم کرنا چاہتا ہوں، اپنی پانچ سال پرانی غلطی کو سُدھارنا چاہتا ہوں، یہ خُلع کے پیرز ہیں، تم سائن کر دو، مجھ معلوم ہے وہ کہاں ہے، میں وہاں کُوریر کر دوں گا” بلاج نے بہت ہمت کر کے نیہا سے یہ سب کہا۔ میرال کی نظر نیہا پر تھی، جسکا چہرا ایک دم سپاٹ تھا۔
“جی بابا جیسا آپ کہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں، جس شخص نے میرے کردار پر سوال اُٹھاۓ۔ اور پانچ سال پلٹ کر میری خبر نہیں لی، اس سے میرا تعلق پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اب یہ کاغزی رشتہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں” نیہا نے سپاٹ لہجے میں کہتے بیگ سے پین نکالا۔ اور دھر دھر پیپرز پر سائن کر دیے۔
“اللہ میری بچی کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دے” بلاج کے گال پر آنسو بہے، اسنے نیہا کو سینے سے لگاتے بھرے ہوۓ لہجے میں کہا۔
“بابا کیا آپکو لگتا ہے، آپکی نیہا اتنی کمزور ہے، میں بہت بہادر ہوں اور آپ بھی یہ رونا بند کریں، مجھے کسی کی ضرورت نہیں، آپ نے مجھے اس قابل بنایا ہے، کہ میں اپنے دم پر اپنی بچی کو سھنمبال سکوں” نیہا علحیدہ ہوتی مظبوط لہجے میں بولتی بلاج کی آنکھوں سے آنسوں صاف کرنے لگی۔۔۔ بلاج کا دل مزید دُکھا۔۔ دو آنسو مزید گِرے۔
“ارے میرے بابا جان بس اس میں رونے والی کیا بات ہے، اور ادھر دیکھیں آپکی چشمش بھی رونا شروع کر چکی یے، اب آپ دونوں ایک دوسرے کے آنسو پونچوں میں چلی سونے سرجری کی وجہ سے بہت تھک چکی ہوں” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی اور اپنا بیگ لیے کمرے سے جلدی سے نکلی۔۔۔۔ میرال اُٹھ کر بلاج کے پاس آئی۔
“بے وقوف کو جھوٹ بولنا بھی نہیں آتا، ہمارے سامنے مظبوط بننے کی ناکام کوشش کر رہی تھی، دیکھنا اب جا کر روۓ گی” میرال نے بلاج کے کندھے پر سر رکھتے ہوۓ نم لہجے میں کہا۔۔۔
وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی، سامنے بیڈ پر پریشے سوئی ہوئی تھی اسنے دروازے کو بند کیا اور وہی اسکے ہاتھ سے بیگ نیچے گِرا۔ اسنے اپنے ہاتھ سامنے کیے وہ بری طرح سے کانپ رہے تھے۔ وہ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ آنسوں ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے گِڑنے لگے۔۔۔۔۔ اسنے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھتے رونے کی آواز کو بند کیا۔ وہ کافی دیر وہی بیٹھی روتی رہی۔۔
“ماما۔۔۔۔۔ آپ رو رہی ہو؟” پریشے اسکی آواز پر اُٹھ گئی سامنے اسے یوں بری طرح روتے دیکھا تو بھاگ کر اسکے پاس گئی۔۔
“ایم سوری ماما آپ میری وجہ سے رو رہی ہو، آئی پرامس میں اب کبھی جھگڑا نہیں کروں گی” پریشے اسے یوں روتا دیکھ خود بھی رونا شروع ہو گئی۔ نیہا نے جھٹ سے اسے سینے میں بھیچ لیا۔۔اور اسکو بے تحاشہ پیار کرنے لگی۔۔۔
“ماما لو یو میری جان” وہ خود کو سھنمالتے ہوۓ بولی۔ پریشے بہت سینسٹو تھی تو کہی زیادہ ٹینشن نا لے لے۔۔۔۔۔نیہا نے اسے گود میں اُٹھایا اور بیڈ پر لے آئی۔ اسے لٹا کر ساتھ لیٹ گئی اور اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔
“ماما میں بس بابا سے اس لیے ملنا چاہتی ہوں، کیونکہ سب کے بابا انہیں چھٹی کے وقت لینے آتے ہیں، بس میرے ہی نہیں آتے، پتہ ہے، میری جو فرینڈ ہے نا نور اسکے بابا نے اسے برتھ ڈے پر سرپرائز دیا اسے گھومنے لے گے، اور اتنے سارے کلرز لا کر دے، آئی نو میرے پاس کلز ہیں، پر بابا کبھی میری برتھ پر نہیں آتے اور نا ہی مجھے گفٹس دیتے ہیں، بس مجھے انکی یاد آتی ہے” وہ بہت معصومیت سے اداسی بھرے لہجے میں سب بتا رہی تھی۔ اسکی آواز میں محرومی جھلک رہی تھی۔ نیہا کے دل کو کچھ ہوا وہ کس قدر چیزیں نوٹ کرتی تھی۔۔۔
“میری جان آپ جو بولو گی میں وہ سب لا دوں گی” وہ اسکے گال کو چومتے ہوۓ مسکرا کر بولی۔۔۔
“ماما جب ماموں مامی حوریہ، اور اشعر ایک ساتھ تصویریں بناتے ہیں تب میرا دل کرتا ہے بابا میرے پاس ہوں، اور ہم۔سب بھی تصوریں بنائیں، اسی لیے میں بول رہی تھی بابا کو بولیں آ جائیں، پر آپ اتنا روئیں اب سے میں کبھی نہیں بولوں گی” وہ افسردہ سا چہرا بنا کر بولی۔۔۔ نیہا نے کس کر اسے گلے سے لگا لیا۔
“سو جاؤ، صبح چھٹی ہے، ہم شاپنگ پر جائیں گے” نیہا نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوۓ کہا۔۔ اور اسے سینے سے لگا لیا۔ پریشے سو گئی۔ پر وہ نا سو سکی، پوری رات آنکھوں میں کٹی، اسفندیار کے ساتھ حسین پل اور بھیانک پل اسکی آنکھوں کے سامنے تیرتے رہے…
وہ مجنوں وہ رانجھے کی اچھی محبت
کہاں آج ملتی ہے سچی محبت
محبت ہے کیا؟
آج یہ تو بتاؤ
محبت پہ اپنی یقین تو دلاؤ!
یقین آ گیا تو چلے جاؤ گے تم۔
بلاتے رہیں گے کہاں آؤ گے تم۔
بری مشکلوں سے ہے سیکھا سھنمبلنا
ہے دل کو سیکھایا محبت نا کرنا۔۔۔۔💔💔💔


“تم لوگ چھٹیاں انجواۓ کرو، میں اگلے سنڈے آ جاؤں گا، اوکے لو یو سوئیٹی” فرید احمد موبائل پر اپنی بیوی اور بچی کو ویڈو کال پر کہ رہا تھا۔ وہ اس وقت سیٹنگ روم میں بیٹھا تھا۔۔
“اوکے ڈے لو یو” وہ بچی مسکرا کر کہتی اسکی ماں کال بند کر گئی۔۔۔۔ فرید احمد نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور باہر کھڑے باسط کو آنے کا اشارہ دیا۔۔ وہ اندر آیا۔۔اور اسکے پاس آ کر سر جھکاۓ کھڑا ہو گیا۔ وہ ان سالوں میں فرید احمد کے کافی قریب آ چکا تھا۔۔۔۔۔
“کیا خبر لاۓ ہو؟ ” وہ سامنے میوٹ پر چلتی ایل سیڈی کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔
“سر جیسا آپ نے سوچ رہے تھے، وہی ہوا ہے، وہ واقع پچھلے پانچ سال سے AP (ابراہیم پاشا) کا رائیٹ ہینڈ بنا ہوا ہے، اسنے اپنا نام بھی بدل دیا ہے، اور آپ حیران رہ جاؤ گے، پچھلے دو مہینوں سے جس کانٹریکٹ کو حاصل کرنے کے لیے آپ نے دن رات ایک کی ہوئی تھی، وہ اسی نے روک کر رکھا ہے” باسط اسے سب روانگی سے بتاۓ جا رہا تھا۔ فرید احمد کے ماتھے پر ڈھیروں بل پڑ رہے تھے اور نظر اسکی وہی ایل سیڈی پر ٹکی ہوئی تھی۔۔
“اسنے نام کیا رکھا ہے؟” سرد آواز گھونجھی۔
“سر وہ اور کوئی نہیں وہ وہ RDX ہی اسفندیار حسن ہے” باسط کے منہ سے پھسل پھسل کر نکلا۔ اسکے چہرے پر واضع ڈر ابھرا۔۔ نام سن کر فرید احمد کے ماتھے پر بلوں میں اضافہ ہوا۔ وہ بھی RDX کے بارے میں کافی کچھ سن چکا تھا۔ وہ ہر اس مجرم کو مارتا جو قانون کے ہاتھوں بچ جاتا، وہ اسے بے حد بری موت دیتا۔ اور کوئی اسے کچھ نا کہتا کیونکہ اسکے پیچھے Ap تھا۔ اج تک اسکا چہرا کسی نے نا دیکھا۔ ہاں ہر اس شخص کو منہ دیکھتا جسکی جان لیتا ہے”
“اوو تو اب آۓ گا مزہ، دشمن جب ٹکر کا ہو تب ہی مقابلہ کرنے میں مزہ آتا ہے” فرید احمد کے چہرے پر ایک چمک تھی، باسط کی تو سانس اٹکی تھی۔۔
“اوو تم یہ ڈرنا بند کرو ورنہ میں خود تمہیں مار دوں گا، اور تمہارا وہ بیٹا کیا نام تھا اسکا ہاں وسیم وہ جیل سے چھوٹ چکا ہے، ایک دو دن تک پاکستان آ جاۓ گا بہت مشکل سے اسے ایران کی جیل سے نکلوایا ہے، اب اسے سمجھا دینا اگر اب پکڑا گیا تو پانچ سال تو کیا، بیس سال وہی رہے گا چلو نکلو اب” فرید احمد نے سخت لہجے میں کہا۔


“تیاری کر لینا، کل راحم اور روشانے کی مہندی ہے، بھولنا مت” ہاشم علیزے اور نیہا کے پاس بیٹھا چاۓ پی رہا تھا جو اس وقت علیزے کے کیبن میں موجود تھیں۔۔۔۔۔
“ہممم جانتی ہوں، راحم نے آخر روشنی سے شادی کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا” علیزے نے ہلکا سا مسکرا کر کہا۔۔
“اچھا ہی کیا، روشنی بہت اچھی یے، اسے بہت چاہتی ہے، اور راحم بھی اس سے محبت کرنے لگا ہے انکی لائف اچھی گزرے گی” ہاشم چاے کی چسکی بھرتے ہوۓ بولا۔۔
“محبت سے کیا ہوتا ہے، محبت تو میں نے بھی کی تھی دیکھو آج کہاں کھڑی ہوں، سواے ماں کے اور کوئی ملنا ہی نہیں چاہتا، محبت وحبت بکواس ہے، سب مطلبی ہوتے ہیں ” علیزے طنزیہ انداز میں بولی۔ جیسے اپنا ہی مزاق اُڑا رہی تھی۔ ہاشم نے ایک پل اسے دیکھا۔۔
“بالکل نہیں محبت بکواس نہیں بکواس وہ انسان ہے، جو تمہاری محبت کی قدر نہیں کرتا اور تمہیں چھوڑ کر چلا جاتا ہے، محبت بکواس نہیں، محبت تو بہت خوبصورت احساس ہے، جس کے بنا یہ ساری دنیا ادھوری ہے” نیہا نے گلاسس اتار کر اسے صاف کرتے ہوۓ نرم لہجے میں کہا۔ علیزے اور ہاشم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔
“تو تمہیں کبھی غصہ نہیں آیا کہ تمہیں محبت کیوں ہوئی؟” یہ وہ سوال تھا تو علیزے ہر روز خود سے کرتی تھی۔۔ نیہا نے ہلکا سا مسکرا کر اسے دیکھا۔
“بالکل نہیں، مجھے کبھی افسوس نہیں ہوا کہ مجھے محبت کیوں ہوئی، انفیکٹ وہ سارے سال جب میں اسے سوچ کر گزارتی تھی، وہ سب بہت حسین تھے، وہ پل بہت حسین تھے، میری شادی ہونا وہ سب بہت پیارا تھا۔۔۔۔مجھے کبھی ان سب پر غصہ نہیں آیا، مجھے بس اس چیز پر غصہ آتا ہے، کہ میری محبت اس شخص کے دل میں میرے لیے اتنا اعتماد بھروسہ، پیدا ہی نا کر پائی کہ وہ۔۔۔۔۔۔۔” بولتے بولتے اسکا لہجہ بھاری ہوا۔۔۔۔ اسنے بات درمیان مین ہی چھوڑ دی۔۔۔۔
“دفع کرو اس ٹاپک کو، میری بریک آف ہو گئی دیوٹی کا ٹائم ہو رہا ہے” علیزے کہتے ہوۓ اپنا کوٹ پکڑتے باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔
“تم ٹھیک ہو؟” ہاشم نے اس سے پوچھا۔۔۔۔
“ہمممم ٹھیک ہوں، تم ضرور اسکو بتا دو، ورنہ یہ موقع بھی چھوٹ جاۓ گا” اسنے چشمہ آنکھوں پر لگاتے ہوۓ ہلکا سا مسکرا کر کہا۔۔۔
“ڈرتا ہوں وہ منع کر دے گی” ہاشم ہونٹ کاٹتے ہوۓ بولا
“اگر ہمت نہیں کرو، گے تو پچھتاؤ گے”
تبھی دروازے پر دستک ہوئی، نرس ماہ رخ اندر آئی۔۔ جو کہ اس ہسپتال کی ہیڈ نرس تھیں اسکے پیچھے نور بھی تھی، جسنے کچھ مہینے پہلے ہی ہسپتال جوائن کیا تھا۔
“میم ایمرجنسی مریض ہے، جلدی چلیں” ماہ رخ بولی۔۔ نیہا اپنا لیب کوٹ اور استییتوسکوپ لیے باہر کی طرف بڑھی۔ وہ کمرے سے نکلتے اپنے بال جو اب اسکی کمر تک آتے تھے انہیں کیچر میں قید کرتے اپنا ڈوپٹہ درست کر رہی تھی۔ وہ جلدی سے ایمرجنسی واڈ میں آئی، جہاں تقریباً تیس سال کا مرد کافی زخمی حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اسے بازو اور ٹانگ پر گولیاں لگی تھیں۔۔۔
“انکے واٹلز چیک کرو، اور نرس ماہ رخ آپ اوٹی تیار کروایں اور ڈاکٹر نور آپ مجھے اسسٹ کریں گی” وہ جلدی جلدی بول رہی تھی۔۔ نرس ماہ رخ نے جلدی جلدی سب تیار کروانا شروع کیا۔۔۔
“انکے ساتھ کون ہے؟” نیہا نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ کہا۔۔ پاس کھڑی نرس نائلہ نے ایک طرف اشارہ کیا۔ جہاں ایک آدمی جسکے بال کندھوں تک گڑ رہے تھے، اسکے پورے کپڑے خون سے بھرے ہوۓ تھے، اسکا چہرا کسی کپڑے کی وجہ سے چھپا ہوا تھا، وہ اپنا سر ہاتھوں مین گِراۓ بیٹھا ہوا تھا۔ نیہا نےا س عجیب غریب شخص کو دیکھا جو اپنے ساتھ کی اتنی بری حالت ہونے کے باوجود ڈاکٹرز کے پاس نہین آرہا تھا یوں اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ وہ شاید ڈرا ہوا تھا۔ وہ مزید کچھ سوچتی نرس ماہ رخ نے انہیں سب تیار ہونے کا بتایا۔ مریض کو جلد سے جلد اوٹی میں شفٹ کیا گیا۔ نیہا ، نور اور ساتھ میں کچھ نرسیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے بعد وہ لوگ آپریشن ٹھیٹر سے باہر نکلے، مریض اب خطرے سے باہر تھا۔۔۔
“ڈاکٹر نور آپ نے بہت اچھا کام کیا، کوئی کہ نہین سکتا آپکی پہلی سرجری تھی، مریض کو روم میں شفٹ کروائیں” نیہا نے نور کا کندھا تھپتھاتے ہوۓ کہا۔ نور ہلکا سا مسکرائی۔۔اور اوٹی مین چلی گئی۔۔ نیہا نے دو قدم برھاۓ کہ اسکی نظر اسی شخص پر پڑی، وہ چلتی ہوئی اسکے پاس آئی۔ وہ اب سیدھا بیٹھا ہوا تھا اور سامنے دیکھ رہا تھا۔۔
“کیا آپ انکے بھائی ہیں، اپ بالکل فکر مت کریں وہ بالکل ٹھیک ہیں، کچھ ہی دیر میں انہین روم میں شفٹ کر دیا جاۓ گا” نیہا اسکے پاس آ کر کھڑے ہوتے ہوۓ بولی۔ وہ اسکی آواز پر بھی متوجہ نا ہوا۔۔ تبھی نیہا کی نظر اسکے ہاتھ پر گئی۔ جو کافی ذخمی تھا اس سے کافی خون رس رہا تھا۔ پر وہ بے فکری سے بیٹھا ہوا تھا۔۔ اب وہ کافی انکمفرٹیبل ہو رہا تھا۔ اسنے چہرا جھکا لیا تھا
“ارے آپکے ہاتھ پر تو چوٹ لگی ہوئی ہے، آپ اسطرح اپنا زخم نظر انداز مت کریں، رُکیں میں بینڈیج کر دیتی ہوں” نیہا نے نرس کو اشارہ کیا وہ فسٹ ایڈ کٹ لے کر ا گئی۔۔ نیہا نے کٹ پکڑے اور ساتھ بینچ پر بیٹھ گئی۔ اسنے کلوز پہنے، اور اسنے اسکا ہاتھ پکڑنے کے لیے اپنے ہاتھ آگے بڑھاۓ۔ تبھی اس شخص نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ وہ حیران ہوئی۔
“بے فکر رہیں میں اچھی ڈاکٹر ہوں” نیہا نے دوبارہ سے ہاتھ بڑھاۓ اور اس دفع اسکا ہاتھ پکڑ ہی لیا۔ اور وہی وقت تھم سا گیا، اسے اپنی دھڑکن ایک دم رکتی ہوئی محسوس ہوئی، چہرے کے ایکسپریشن بدلے، اسکا چہرا ایک دم سفید پڑ گیا۔۔ اسکا ہاتھ کانپا، اور دل ڈوب کر ابھرا، اسنے شاک کے عالم میں اسکو دیکھا۔ جو اب پہلی بار اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔ دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے ملیں، اور وہی نیہا کی بس ہوئی، اسکے ہاتھ سے اسکا ہاتھ پھسلا۔۔ پانچ سال بعد پورے پانچ سال بعد وہ اسکے سامنے بیٹھا تھا، بالکل ایک اجنبی کی طرح۔۔۔ اسکے دل نے بے ساختہ کہا نہیں یہ وہ نہیں ہو سکتا، اسکا ضرور وہم ہو گا۔ اسنے اپنے اسی وہم کو دور کرنے کے لیے، کانپتا ہاتھ اسکے چہرے پر لگے نیلے نقاب کپڑے کی طرف بڑھایا، جس سے اسکا چہرا مکمل چھپا ہوا تھا سواۓ انکھوں کے۔۔۔ تبھی اسنے اسکا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے پکڑ کر راستے میں ہی روکا۔۔۔۔
“اپنی حد میں رہیں، ڈاکٹر نیہا” سرد آواز اسکے کانوں میں پڑی، ایک پل میں تھما ہوا وقت چل پڑا، رکی ہوئی سانس بہال ہوئی۔ اسنے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا، اور بنا ایک نظر اسکی طرف ڈالے وہ وہاں سے اُٹھی اور تقریباً بھاگتے ہوۓ اپنے کیبن میں بند ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ اسنے اسے جاتے ہوۓ دیکھا اور پھر پاس پڑے فسٹ ایڈ کٹ سے پائیوڈین نکالے زخم صاف کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کیبن میں داخل ہوتے گہرے گہرے سانس لینے لگی، آنکھوں سے لگاتار آنسوؤں کی برسات ہونے لگی، اسنے اپنا سفید کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکا، اور سیدھی واشروم میں چلی گئی۔ دونوں ہاتھوں میں پانی بھر کر منہ پر پانی کے زبردست چھینے مارنے لگی۔ اور وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ اپنا چہرا ہاتھوں پر گِراۓ وہ زورو قطار رونے لگی۔۔۔۔۔۔ جیسے نا دیکھنے کی قسم کھائی تھی یوں اچانک وہ اسکے سامنے آگیا۔ اسے محسوس کیا، اور اسکا وہ سخت لہجہ۔۔۔۔ اسکے وہ پانچ سال پرانے بولے گے الفاظ اسکے آس پاس سنائی دینے لگے۔ اسنے زور سے اپنے کانوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر جیسے ان الفاظوں کا گلہ گھونٹنا چاہا۔۔۔ وہ گہرے گہرے سانس لیتی جا رہی تھی، اسے اپنے اس پاس اکسیجن کی کمی ہوتی محسوس ہوئی، اور وہی وہ واشروم کی ٹالز پر بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دس منٹ بعد اسکے کمرے میں نور داخل ہوئی وہ اسے مریض کے شفٹ ہونے کے بارے میں بتانے آئی تھی۔ جب اسے کیبن میں نا دیکھی تو اسکو واشروم سے پانی۔ کی آواز سنائی دی وہ اسکی طرف بڑھی، واشروم کا دروازہ مکمل کھلا تھا اور وہ زمین پر بے سود پری تھی، نور نے جلدی سے باہر جا کر علیزے کو نرس ماہ رخ کو بلایا۔۔۔ جنہوں نے اسے ایمرجنسی واڈ میں شفٹ کیا، وہ شاک اور سٹریس کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھی، اسکے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ وہ دور کھڑا اسے دیکھتے پلٹ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔