Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“یہ سب کیسے ہوا؟” وہ صبح سویرے سات بجے حسنین کی کال پر پہنچا۔ جہاں مزید ایک ایکسیڈینٹ کا کیس آیا تھا
“سر سویرے چار بجے ہی ایکسیڈینٹ ہوا، مریض کو جلد سے جلد ہسپتال پہنچایا گیا، ڈیوٹی پر میں تھا تو فوراً ہسپتال پہنچا۔ ساری جانچ پڑتال کی، ایک گھنٹے بعد وہ لڑکا مر گیا” حسنین اسے ساری صورتحال بتا رہا تھا۔
“ایکسیڈینٹ کیسے ہوا؟ کوئی ٹرک؟ گاڑی؟ ” اسفی ہسپتال کی فائل دیکھتے ہوۓ سوال کر رہا تھا۔
“سر یہ ہی حیرانی کی بات ہے، سڑک سنسان تھی، گاڑی میں اکیلا لڑکا تھا، اور گاڑی کی سپیڈ بھی ساٹھ تھی، گاڑی پیر سے ٹکرائی تھی، اور گاڑی کو بہت کم نقصان ہوا، لڑکے کے ماتھے پر ہلکی سی چوٹ آئی اور وہ مر گیا، سمجھ سے باہر ہے وہ مرا کیسے؟ ڈاکٹر کو بھی کچھ نہیں مل رہا”
“تو پھر یہ مرڈر کیس بنتا ہے، کیا پتہ کسی اور نے گاڑی ٹھوکی ہو اور اسکو مار کر گاڑی مین ڈالا ہو، تم اس ایرایہ کی سی سی ٹیوی فوٹیج نکالو” وہ فائل ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا۔
“سر اس ایرایہ کا کیمرہ خراب ہے کچھ نہیں مل سکتا” حسنین نے جواب دیا۔
“اووو تم اسکے گھر والوں سے بات کرو، کیا پتہ کسی سے دشمنی ہو” اسفی بولا، حسنین ہاں میں سر ہلاتا باہر کی طرف بڑھا۔ پھر رک کر مڑا۔
“سر ایک اور بات تھی، وہ فرید احمد خان، آج بارہ بجے لندن جا رہا ہے، بزنس پروجیکٹ کے لیے، اور شائد دو تین مہینے وہی رکے گا” اسفی اسکی بات پر چونکا اسنے بس ہاں میں ہی سر ہلایا۔ حسنین چلا گیا۔
“دو تین مہینے، لندن میں ایسا کونسا بزنس پروجیکٹ ہو رہا یے” وہ سوچ رہا تھا ویسے بھی ابھی تک اسے فرید احمد کے خلاف کوئی پکے ثبوت نہیں ملے تھے، جسکی بنا پر وہ کوئی سخت قدم اُٹھاتا۔۔۔


“ہاں یار میں بس تھوڑی دیر میں پہنچ رہی ہوں، بس کیک پک کر لوں، تم ان تینوں کو بالکل خبر مت ہونے دینا انہیں سرپرائیز دینا ہے” وہ گاڑی پارک کرتے، دکان کی طرف بڑھی، موبائل پر وہ روشانے سے بات کر رہی تھی۔ آج وہ چپکے سے اپنی گاڑی کے آئی تھی۔۔
“میں کیوں بتاؤں گی، ہاشم، راحم کینٹین سے برگر لینے گے ہیں اور علیزے ابھی تک نہیں آئی، اب تو جلدی آ جا” روشانے بولی۔ نیہا دکان کے اندر داخل ہوئی اسنے کال بند کر دی، اب وہ چاکیلٹ کیک پیک کروا رہی تھی۔
“کتنے پیسے ہوۓ؟” اسنے کاونٹر پر کھڑی لڑکے سے پوچھا۔
“دو ہزار” لڑکے نے کیک پیک کر کے اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ جواب دیا۔ نیہا نے ہاں میں سر ہلاتے اپنے بیگ کی طرف ہاتھ برھایا، اسے کھولتے وہ وائلٹ نکالنے لگی، مگر بیگ میں وائلٹ نہیں تھا۔
“ارے یہی تو رکھا تھا، کہاں گیا؟” وہ بیگ ک سامنے کرتے دوبارہ ڈھونڈنے لگی، پر نا ملا۔
“جب پیسے ہوتے ہی نہیں تو دوکانوں میں کیا لینے آتے ہو؟” وہ لڑکا کیک کو اُٹھاتے ہوۓ طنزیہ انداز میں بولا۔
“نہیں، میرے پاس پیسے تھے” وہ شرمندگی سے بولی، کوئی چیز لینے کے بعد دینے کے لیے پیسے نا ملیں اس سے بری شرمندگی بھلا کون سے ہو سکتی ہے۔
“پانچ کلو کی ٹوکری پیک کر دو، گلاب جامن ہوں” پاس سے جانی پہنچانی آواز آئی، نیہا نے سر گھما کر دیکھا، اس شخص نے بھی اسی پل اسکی طرف دیکھا۔
“ارے نیہا جی کیا اتفاق ہے، کیسی ہیں آپ؟” فرید احمد اسکی بغل میں کھڑا تھا۔ حالنکہ اتفاق نام کی چیز اسکی زندگی میں نا ہونے کے برابر تھی، وہ موقع خود بناتا تھا، اور پھر اسے اتفاق کی طرح پوٹرے کرتا تھا۔
“جی احمد وہ۔۔۔۔ میں” نیہا سے بولا تک نا جا رہا تھا۔
“بی بی اگر کیک نہیں لینا تو بتا دیتی، یوں وقت ضائع کیوں کیا” لڑکا کافی بڑھکا ہوا تھا۔
“سوری۔۔۔۔۔۔” ہونٹ کاٹتے وہ بس اتنا ہی بولی، اسکی انکھوں میں ہلکی سی نمی ابھری۔۔۔ فرید احمد اسی کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ اسکے بے داغ چہرے، پر بکھرے حسن کا دیکھتا رہ گیا، آنکھوں کی نمی اسکی خوبصورت آنکھوں کی خوبصورتی کو مزید نکھار رہیں تھیں۔ وہ کچھ پل کھویا رہا پھر چونکا، لڑکے کی بات پر اسکی ماتھے کی رگیں ایک دم تنی۔۔۔
“لڑکیوں سے تمیز سے بات کیا کرو” وہ اپنی وائلٹ سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر کاونٹر پر رکھتے، وہاں پیک کیا ہوا کیک پکڑتے ہوۓ سخت لہجے میں بولا۔
“چلیں نیہا جی” اسنے نیہا کو چلنے کا بولا۔ وہ فل حال یہاں سے نکل جانا ہی چاہتی تھی، وہ اسکے پیچھے باہر آئی۔
“یہ لیں، اور آئندہ ایسے بدتمیز لوگوں کو اچھے سے جواب دیا کریں” وہ کیک اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔
” احمد آپکا بہت شکریہ، پر میں یہ کیک نہیں لے سکتی” وہ اپنا ڈوپٹہ صحیح کرتے ہوۓ بولی۔
“کیا آپ اب بھی مجھے اجنبی سمجھتی ہیں، معاف کیجیے گا یہ ہماری تیسری ملاقات ہے، اب تو یہ اجنبی کی دیوار گِرا دیں” وہ ہلکا سا مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
“ایسی بات نہیں، پر میں ایسے آپ سے پیسے۔۔۔ میں یہ کیک نہیں۔۔۔۔” نیہا ہچکچاتے ہوۓ اسے نفی کر رہی تھی۔ فرید احمد اسکی بات پر ہلکا سا مسکرایا۔
“چلیں ایک کام کرتے ہیں۔ اپنا موبائل دیں” وہ اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔
“جی موبائل کیوں؟” وہ سوالیہ انداز میں بولی۔
“ارے آپ دیں تو” فرید نے انسسٹ کیا۔ نیہا نے بیگ سے موبائل نکال کر دیا۔۔ فرید نے موبائل پکڑتے اس پر انگلیاں چلائیں۔
“یہ لیں میں نے میرا نمبر اجنبی کے نام سے سیو کر دیا، اور آپکا نمبر بھی لے لیا، اب دو ہزار کا جو قرض میں نے کیک کی صورت میں اپکو دیا ہے، وہ بعد میں دے دیجیے گا، فل حال تو میں کسی کام کے سلسلے میں دو مہینے کہی جا رہا ہوں، اسکے بعد اپنے دو ہزار آپ سے لے لوں گا، ٹھیک ہے” اسنے مسکراتے ہوۓ نمبر سیو کر دیا اور اپنے نمبر پر مس کال کی جس سے نیہا کا نمبر اسکے پاس آگیا۔ اور موبائل اسکی طرف بڑھایا۔۔۔۔
“اوکے فائن میں یہ کیک ایکسپٹ کر رہی ہوں، جلد آپکو پیسے واپس دے دوں گی” نیہا نے کیک کا پیک پکڑا۔۔۔اسکی بات پر وہ مسکرایا۔
“بری مہربانی دوست ” فرید احمد ہنستے ہوۓ بولا۔ دوست لفظ پر وہ چونکی پر ہلکا سا مسکرا دی اسے باۓ بولتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھی، اور کچھ پل میں وہ وہاں سے چلی گئی۔ وہ کئی پل اس گاڑی کو دیکھتا رہا۔
“نیہا بلاج پہلے تو تم میرے لیے اسفندیار حسن اور بلاج حمدانی کی کمزوری تھی، پر لگتا ہے اب تم میری کمزوری بنتی جا رہی ہو، فرید احمد کے پتھر دل کو پگلانے والی، دعا کرو تم میری چاہت نا بنو، اگر ایسا ہوا، تو سب تباہ ہو جاۓ گا” وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب تھا۔ سر جھٹکتے وہ اسکے خیالوں سے باہر نکلا، اپنی انکھوں پر چشما لگاتے، وہ دور کھڑی اپنی گاڑی کے پاس گیا، جس سے پیچھے دو اور گاڑیاں تھا جس میں گارڈز تھے۔۔۔۔۔۔


وہ سیدھی یونی پہنی، اسکے ہاتھ میں کیک تھا، گارڈن میں ایک طرف وہ چاروں بیٹھے تھے، اور برگر کھا رہے تھے۔
“ہیپی کمپلیٹ ففٹین ائیرز آف آور فرینڈ شیپ۔۔۔۔” نیہا کچھ دور رکی اسنے کیک بیکٹ سے نکالا اور ہاتھ میں پکڑتے ہوۓ انکی طرف آئی اور سامنے بیٹھ کر بولی۔۔ روشانے تالیاں بجانے لگی۔۔۔
“اووو شٹ میں تو بھول گیا تھا، سوری گائیز” ہاشم فوراً کان پکڑتے ہوۓ بولا۔۔۔
“سوری میرے بھی دماغ سے نکل گیا” راحم سر کھوجاتے ہوۓ بولا۔
“کوئی بات نہیں، ابھی فل حال تو کیک کھاتے ہیں، ڈنر کے لیے میں نے ریسٹورنٹ میں بوکنگ کروائی ہے، ہم سب وہی چلیں گے” اسنے رجسٹر کو بند کر کے گھاس پر رکھا اور اس پر کیک رکھا۔
“اوکے۔۔” تینوں ایک ساتھ بولے، نیہا نے علیزے کی طرف دیکھا جو انکو اگنور کرتے موبائل پر لگی ہوئی تھی۔
“علیزے! آؤ کیک کاٹیں” نیہا نے ہلکا سا مسکراتے ہوۓ کہا۔ اسنے کل سے ہی یونی آنا شروع کیا تھا۔ اور کل سے وہ بالکل خاموش تھی۔ کسی سے ایک لفظ نہیں بولی تھی۔
“کیوں ایسی کونسی انوکھی بات ہو گئی جسکی بنا پر کیک کٹ کیا جاۓ، یا تم چاروں نے ایسی کونسی دوستی نِبھا دی، جس پر میں تالیاں بجا بجا کر کیک کٹ کرو” وہ موبائل بند کرتے طنزیہ انداز میں بولی۔
“کیا مطلب ہے تمہارا؟” ہاشم سنجیدگی سے بولا۔
“نیہا میڈم تمہیں نظر آ رہا ہے نا کہ میرے ساتھ زبردستی ہو رہی ہے تو کیوں اپنے والدین کو بول رہی کہ یہ شادی کا ڈرامہ بند کریں، کزن سے پہلے تمہیں میں نے دوست مانا ہے، زندگی کے ہر موقع پر تمہارے ساتھ کھڑی رہی، اور اب جب تمہارا وقت آیا تو ایک لفظ نہیں بولا، اور یہاں کیک لے آئی ہو، جیسے سب برے خوش ہوں گے، اور تمہیں ایک بہترین دوست ہونے کا میڈل دیں گے” وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔
“میں کیا بات کروں، سبھی بول رہے ہیں، مزمل اچھا نہیں تو تم بھی سمجھو کچھ تو ایسا ہو گا جو سب برے روک رہے ہیں” نیہا اسکے پاس آکر اسکے ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولی۔۔
“او پلیز نیہا میڈیم، بس کرو، ان بروں کی بات تو رہنے ہی دو۔ اسفندیار کے ساتھ بھی زبردستی ہوئی نا، تمہیں اس پر مسلط کر دیا گیا، میں اچھے سے جانتی ہوں تم دونوں کا کیسا رشتہ ہے تمہیں گھاس تک نہیں ڈالتا۔ تو مجھے بالکل سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں، اپنے باپ کو جا کر روکو، جو سبکی زندگی برباد کر رہا ہے، یہ لو کاٹ دیا کیک کھا لو سب” وہ غصے میں اونچی اواز میں بولتی، گئی اور آخر میں اسنے کیک کو پکڑ کر پلٹ دیا سارا کا سارا کیک گھاس پر جا گِڑا۔۔ اور خود وہ غصے سے اُٹھتی وہاں سے چلی گئی۔ نیہا جہاں سے وہی کہ وہی تھم سی گئی۔
“نیہا بُرا مت ماننا وہ غصے میں ہے اس وقت اسے کوئی بھی اچھا نہیں لگ رہا ، اسکا پوائینٹ آف ویو بھی سمجھو” ہاشم اسے سمجھاتے ہوۓ بولا۔
“غصے میں ہے اسکا مطلب یہ نہیں کچھ بھی بول دے۔۔” راحم کو اس پر کافی غصہ آیا۔۔۔
“کوئی بات نہیں گائیز چلو کلاس کا وقت ہو رہا ہے” وہ زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے ہوے کھڑی ہوئی۔۔۔سبھی خاموشی سے اُٹھے اور اسکے پیچھے کلاس کی طرف بڑھے۔ وہ کیک وہی زمین پر پڑا رہا۔


شام کے چار بج رہے تھے۔ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے بالکنی میں رکھی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔، ہاتھ میں بک تھی۔۔۔۔
“کیا میں نے سچ میں دوستی نہیں نِبھائی؟” یہ ایک سوال اسکے دماغ میں چلی جا رہا تھا۔۔۔
“نیہا، کب سے تمہیں آوازیں دے رہا ہوں، کہاں کھوئی ہوئی ہو؟” وہ ایک دم چونکی جب پاس سے اسفندیار کی آواز آئی۔
“اہمم سوری وہ بس ایسے ہی، کیا ہوا؟” وہ سیدھی ہو کر بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔
“تم آج پھر گاڑی لے کر اکیلی نکلی؟ وجہ؟” اسفندیار کو ابھی کچھ دیر پہلے ہی علم ہوا تھا۔ جب وہ گھر آیا تو ڈرائیور نے اسے بتایا۔ وہ صبح سے ایکسیڈینٹ کیس کو لیے مصروف تھا، موبائل بھی سائنلنٹ تھا۔
“جی لے کر گئی تھی” نیہا نے سر جھکا کر بولا۔
“میں نے وجہ پوچھی ہے، بتاؤ کیوں اکیلی گئی، ایک دفع کی بتائی میری بات تمہیں سمجھ نہیں آتی، انکل نے تمہاری ذمہ داری مجھے سونپی ہے، اگر کچھ ہو جاتا تو کیا جواب دیتا میں ” اسے اپنے سامنے کھڑا کرتے ایک دم چیخا تھا۔۔۔ اسکی آخری بات پر وہ چونکی۔ صبح کے علیزے کے الفاظ کانوں میں سنائی دیے۔۔
“کیا مطلب ہے، بابا نے میری ذمہ داری آپکو دی، کیا میں آپ پر مسلط کی گئی ہوں؟ میں نے کئی بار آپکے منہ سے سنا کہ میں مصبیت ہوں، انکار کرنا چاہیے تھا، مسلط ہوئی ہوں، آپ کا بار بار کہنا باہر اکیلے مت جاؤ، میرا گاڑی چلانے پر پابندی لگانا، مجھے ایسے محسوس نہیں ہوتا کہ آپ کیئر کر رہے ہیں ایسا لگتا ہے آپ کو کسی نے یہ بولا ہوا ہے کہ اسکا خیال رکھنا اور آپ بس اپنا فرض ادا کر رہے ہیں، بابا نے بولا ہے نا” نیہا اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر بولی۔۔
“ایسی بات نہیں تم کہاں کی بات کہاں لے کر جا رہی ہو” اسفندیار نے نظریں چُراتے ہوے کہا۔
“ادھر دیکھیں، اور میرے سوالوں کا جواب دیں، یہ آنکھ مچولی کا کھیل تو اب میں بند کر کے رہوں گی” نیہا نے ہاتھ سے اسکا چہرا اپنی طرف کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
“جب بھی لڑکی کی شادی ہوتی یے، اسکا والد لڑکے کو بولتا ہے اسکا خیال رکھنا اسکی مکمل ذمہ دار اب تمہاری ہے تو اس میں بری بات کیا ہے،” وہ وہی رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ نرم لہجے میں بولا۔
“اسفندیار میں بے وقوف ہوں، جھلی ہوں باتوں کو اتنی جلدی نہیں سمجھتی، پر ایک اتنی عقل ضرور رکھتی ہوں، کہ جس سے محبت کرتی ہوں، اسکی آنکھوں کی ہیرا پھری کو سمجھ سکوں، مجھے میرے سوالوں کا سچ سچ جواب دیجیے گا، آپکو آپکی ماں اور باپ کی قسم” وہ اسکے پاس ٹیبل پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔ اسکے لہجے کی مظبوطی کو دیکھے اسفندیار بھی ٹھر سا گیا۔ اسنے آج پہلی بار اپنی زبان سے محبت کا اقرا کیا تھا، اور وہ بھی کس موقع پر، اسکے ہر انداز سے اسکی محبت جھلکتی تھی پر منہ سے اقرار اسنے پہلی دفع کیا تھا۔
“جب ہماری منگنی ہوئی، تب کیا آپکی مرضعی شامل تھی، جھوٹ مت بولیے گا” وہ سامنے بیٹھے ہوۓ بولی، سوال کرتے اسکا دل دھڑکا تھا۔ اسفندیار نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں، نیہا کو لگا اسکا دل کسی نے مُٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ وہ ہمیشہ سے سوچتی تھی، شائد وہ سنجیدہ انسان ہے اسی لیے اس سے کھینچا کھینچا رہتا یے۔۔
“نہیں” اسفندیار نے کچھ پل ٹھہر کر کہا۔
“اوکے جب بابا نے آچانک شادی کا فیصلہ کیا تب کیا آپ دل سے راضعی تھے؟” اسنے اگلا سوال پوچھا۔
“دیکھو یہ سب پرا۔۔۔۔” اسفندیار سوال کو ٹالنے کو کوشش کر رہا تھا۔
“اسفندیار مجھے جواب چاہیے” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی۔
“نہیں، انکل نے اس دن مجھ سے پوچھا تھا اگر میں انکار کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں، پر میں نے انکار نہیں کیا، تم اصل بات نہیں جانتی، تمہاری جان خطرے میں تھی، انکل اتنے برے بزنس مین ہیں، انکے دشمن بھی کافی زیادہ ہیں، انہوں نے تمہارے حوالے سے دھمکی دی تھی، جسکی وجہ سے یوں اچانک شادی کرنی پڑی، تا کہ تم سیف رہ سکو، تمہاری جان کو کوئی خطرہ نا ہو، اور میں تمہاری حفاظت اچھے سے کر سکتا ہوں اسی لیے میں نے ہاں کی۔۔” اسکے نہیں کہنے پر نیہا کی آنکھوں سے آنسوں گِڑے۔۔۔ وہ جانتی تو تھی وہ اس سے محبت نہیں کرتا، پر اسے کہی نا کہی دل کے کسی کونے میں ایک امید تھی کہ کیا پتہ وہ فل حال کنفویز ہو، پر وہ سچ میں اسکی زندگی میں انچاہی لڑکی بن کر داخل ہوئی تھی یہ بات وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔۔۔۔
“میں آپکے لیے صرف آپکے انکل کی بیٹی تھی، اسی لیے شادی کی۔ اب اسکا اصل جواب تو بابا ہی دے سکتے ہیں، وہ ایسے کیسے کسی پر مجھے مسلط کر سکتے ہیں” وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور کمرے کی طرف بڑھی، اپنی گاڑی کی چابی پکڑی، اور نیچے کی طرف بھاگی۔ وہ پیچھے نیہا نیہا کرتا رہ گیا۔ جب تک وہ پہنچا وہ گاڑی کو گیٹ سے باہر نکال چکی تھی اسنے جلدی سے اپنی جیپ اسکی گاڑی کے پیچھے لگائی۔ وہ بہت رش ڈرائیو کر رہی تھی۔ دس منٹ بعد وہ بلاج کے آفس کے نیچے تھی۔۔ گاڑی سے نکلتی وہ اندر کی طرف بھاگی۔
وہ لفٹ میں داخل ہوئی اسفی کے آنے سے پہلے لفٹ اوپر چلی گئی۔ لفٹ پانچویں فلور پر جا کر رکی وہ باہر نکلی اسکا رخ بلاج کے آفس کی طرف تھا، وہ اندر داخل ہوئی، بلاج، ساحل آمنے سامنے بیٹھے فائل پر ڈسکس کر رہے تھے۔ اچانک دروازہ کھول کر اندر آنے والی ہستی کو دیکھ دونوں رُکے۔ چونکے تب جب اسکی شکل پر بہتے آنسوں ہی طرف دھیان گیا۔
“نیہا میرے بچے کیا ہوا؟” بلاج جلدی سے اسکے پاس آیا، وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔
“بابا کیا آپ کمزور ہیں؟” اسنے نم لہجے میں پوچھا، ساحل اور بلاج حیرانگی سے اسے دیکھ ریے تھے۔
“بیٹے کیا بات ہے، رو کیوں رہی ہو؟” بلاج اسکی طرف بڑھنے لگا۔ تبھی اسفندیار ہانپتا ہوا اندر داخل ہوا وہ سیڑھیوں سے ایا تھا۔بلاج اب نا سمجھی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
“میں نے پوچھا کیا میرا باپ، میرا بھائی کمزور ہے، کیا میرے باپ بھائی کے بازووں میں اتنی طاقت نہیں بچی کہ وہ میری حفاظت کر سکیں” وہ چیختے ہوۓ بولی تھی۔ اسفی نے جلدی سے دروازہ بند کیا۔
“نیہا غلطی میری تھی، انکل کا کیا قصور” اسفی نے اسکے دونوں بازوں کو پکڑتے ہوۓ کہا۔
“دور رہیں، میری جان خطرے میں تھی، تو اسکا یہ کونسا حل بنتا ہے کی میری اچانک شادی کروا دی جاۓ ، اور اسفی آپ اتنے کمزور ہیں، جو اپنے لیے اسٹینڈ نہیں لے سکتا، جو اتنا نہیں بول سکتا کہ یہ لڑکی مجھ نہیں پسند مجھے اس سے نا تو منگنی کرنی ہے اور نا ہی شادی کرنی ہے، تو وہ انسان میری کیا حفاظت کرے گا، اور بابا کیا آپ کے گھر سے مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے، مجھے تو۔ نہیں لگتا میرے بابا کا گھر سیف نہیں ، آپ نے ایک باری نہیں سوچا کہ آپ میری اچھے سے حفاظت کر سکتے ہیں” وہ روتے ہوۓ اپنے بازو اسکی گرفت سے آزاد کرواتے ہوۓ بولی۔۔اسفی دو قدم پیچھے ہوا۔
“بیٹے میں آپکی حفاظت کر سکتا ہوں، آخری سانس تک میں اپنی بچی کو بچا سکتا ہوں، پر بچے جب بات عزت پر آ جاۓ، جب بات آپکو اگواہ کر کے نکاح کرنے کی آ جاۓ، جب دھمکیاں سنگین ہوں، تب مجھے یہ حل زیادہ اچھا لگا، اسفی سے شادی، وہ ہر پل آپکے ساتھ ساۓ کی طرح رہتا، اور کسی کی ہمت نا ہوتی آپکو چھونے کی۔” وہ نیہا کے پاس آیا اور اسکا چہرا ہاتھوں میں لیے اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔ ساحل حیرانگی سے ساری باتیں سن رہا تھا۔ وہ تو ان باتون سے انجان ہی تھا۔
“بابا یہ کیسا حل ہوا، اپکو کمپلن کرنی چاہیے تھی، اور اس شخص کو پکڑوانا چاہیے تھا، اور آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا” ساحل حیرانگی سے بولا۔
“بابا حل یہی تھا تو جس سے شادی کروانے والے تھے اس سے بھی تو پوچھا ہوتا کہ وہ راضعی ہے کہ نہیں۔ کہی وہ کسی اور میں انٹرسٹیڈ تو نہیں، کسی کی زندگی میں زبردستی مسلط کرنا۔۔۔۔۔” وہ روتے ہوۓ بولی۔۔ اسفی کے چہرے کا تو رنگ ہی اڑ گیا، یہ وہ کیا نئی بات لا رہی تھی کوئی پسند۔ بلاج نے گردن گھما کر اسفی کو دیکھا۔ زبردستی مسلط کی بات پر بلاج کا دل ڈوبا۔۔ اسنے تو کبھی ایسا سوچا ہی نا تھا کیا اسنے جلد بازی میں غلط فیصلہ لگ لیا۔
“انکل ایسی بات۔۔۔۔۔” وہ ہچکچاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
“میں مزید اسفی پر ظلم نہیں کر سکتی، وہ مجھے پسند نہیں کرتے نا منگنی انکی مرضعی سے ہوئی اور نا شادی، میں اب مزید ان پر مسلط نہیں ہوں گی۔ مجھے ڈائیوس چاہیے” آنسوں صاف کرتے ہوۓ وہ بھاری دل سے بولی۔ یہ الفاط وہ کیسے ادا کر رہی تھی یہ وہی جانتی تھی۔ اسفندیار تو بونچھا کر رہ گیا۔ ایک چھوٹی سے بات کو اسنے کتنا بڑھا دیا تھا۔ پر وہ اسکی سوچ سے نہیں سمجھ رہا تھا، اسے کیا لگا جس سے وہ بے انتہا محبت کرتی تھی، آج اسے معلوم ہوا وہ تو اس سے نا تو منگنی پر راضعی تھا اور نا ہی شادی پر راضعی تھا۔ کسی کے ساتھ انچاہی ساتھی بن کر رہنا کتنا گہرا زخم دیتا ہے یہ صرف اس وقت نیہا ہی سمجھ سکتی تھی۔
“چپ کرو ڈائیوس کی بچی، ایسا کچھ نہیں ہو گا یہ سچ ہے کہ میں منگنی اور شادی کے لیے راضعی نہیں تھا، پر اسکا ریزن یہ نہیں کہ، میں کسی اور میں انٹرسٹیڈ تھا، اسکی وجہ کچھ اور ہے، اور تمہیں تو میں مر کر بھی نہیں چھوڑوں گا ” وہ اسکا بازو پکڑتے غصے سے بولا۔ وہ اسے گھر میں ہی سب سمجھا دیتا پر وہ کسی کی سنتی تب نا، جلدی سے گھر سے بھاگ گئی۔ نیہا اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتی رہی۔۔
“جن لوگوں کی انکل کے ساتھ دشمنی ہے، تم انکو نہیں جانتی وہ کتنے خطر ناک ہیں، تم سوچ بھی نہیں سکتی ۔وہ اتنے خطرناک ہیں کہ تمہاری آنکھوں کے سامنے سے وہ کسی بھی بندے کو اُٹھوا سکتے ہیں اور کوئی انکا کچھ بگاڑ نہیں سکتا، سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا کر کے وہ بندوں کو مار دیتے ہیں، اور کوئی انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، پولیس کے برے برے آفیسرز انکے اگے دم ہلاتے پھرتے ہیں، انکا بوس پورے شہر میں سب سے صاف بنا داغ والا شخص بنا بیٹھا ہے، کسی کو علم بھی نہیں وہ سڑک پر سزا دینے والا، یا لڑکیوں کو اغوا کروانے والا شخص فرید احمد خان ہے، وہ معافیہ کا بادشاہ ہے، میرا سوتیلا ماموں ہے، میرے باپ اور ماں کا قاتل، وہ صرف تیرہ سال کا تھا، میری آنکھوں کے سامنے اسنے میرے باپ کو گولیاں سے اُڑایا تھا، اور میری ماں کو چھت سے خود دھکہ دیا تھا، وہی موقع پر میری ماں دم توڑ گئی، وہ مجھے بھی مار دیتا، اگر بلاج انکل نا بچاتے۔ انکل نے جو کیا وہ بالکل صحیح تھا، وہ چاہ کر بھی تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے تھے، مجھے وہ تب تک نہیں مار سکتا جب تک اسکا کام نا نکل جاۓ، تم صرف میرے ساتھ سیف ہو انکل کا فیصلہ بالکل درست ہے، اور میرے لیے بلاج انکل میرے بابا ماما کے بعد سب سے اہم شخص ہیں، انہوں نے مجھے دوسری زندگی دی، انکی خاطر میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔ کچھ بھی ” وہ بولتا چلا گیا، نیہا دم سادھے بس سنتی رہی، کمرے میں اسکی آواز گھونج رہی تھی، وہ چپ ہوا تو نیہا نے اسکی طرف دیکھا جسکی آنکھیں مارے ضبط کے لال ہو رہیں تھیں۔ جبڑے تنے ہوۓ تھے۔ نیہا کو اسکے اکھڑے پن کی وجہ آج سمجھ میں آئی تھی، اسکی سنجیدگی کی اصل وجہ یہ تھی اسفی نے اسکا بازو چھوڑا اور چہرا موڑ کر لمبے لمبے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے لگا۔
“نیہو میرے بچے کبھی یہ مت سوچنا تمہارا باپ کمزور ہے، تمہارا باپ بے حد مجبور ہے، اپنی گڑیا کو ہر مشکل سے بچانے کے لیے تمہارے بابا سب سے آگے ہو گے” بلاج اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں لیتے نم لہجے میں بولے
“ایم سوری بابا۔۔۔ میں بہت بول گئی، مجھے یہ سب معلوم نا تھا ایم سوری” وہ روتے ہوۓ بلاج کے سینے سے لگ گئی۔ بلاج نے اسکا سر سہلاتے ہوۓ اسے چپ کروایا۔۔۔۔
“ساحل نیہو کو باہر لے کر جاؤ، کچھ کھلاؤ مجھے اسفندیار سے بات کرنی ہے” بلاج ساحل کو بولا۔ ساحل نیہا کو لیے کمرے سے نکل گیا۔
“بیٹھو” بلاج مڑا اور گلاس میں پانی ڈال کر اسکو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ سر جھکاے صوفے پر بیٹھا۔ وہ خود اسکے برابر بیٹھا۔ اور اسکی طرف گلاس بڑھایا۔۔ جسے اسنے چپکے سے تھام لیا۔
“کیا تم منگنی اور شادی کے لیے راضعی نہیں تھے؟” وہی سوال پوچھا گیا، جسکا اسے ڈر تھا۔۔
“ایسی بات نہیں، اسے غلط فہمی۔۔۔” وہ ہکلاتے ہوے بولا۔ سر اسکا جھکا ہوا تھا۔
“اسکے لہجے سے تو ایسا نہیں لگا کہ غلط فہمی ہو ” بالج سنجیدہ انداز میں بولا۔۔۔
“انکل وہ۔۔۔۔ بات یہ۔۔۔ ہے۔۔۔۔” وہ ہچکچایا۔۔
“اسفی تم میرے بھائی کی اخری نشانی ہو، تمہیں میں نے ہمیشہ بہت پیار دیا، پر میرے پیار دینے کا مطلب یہ نہین تھا، کہ تم اسے احسان مانو اور میرے ادب میں میرے سامنے انکار تک نا کر سکو، مجھے آج بہت دکھ ہوا، تم میرے دکھی ہونے کا سوچ کر، خود نا چاہتے ہوے بھی شادی کے لیے ہاں کر گے، تم ایک دفع بولتے میں تمہیں کبھی منگنی یا شادی کے لیے نا بولتا، تم میرے لیے میرے برے بیٹے کی طرح ہو، یہ بات میں صرف بولنے کے لیے نہیں کہ رہا میں اس بات کو مانتا ہوں، اگر میں اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں تو کیا میں تمہین خوش نہیں دیکھنا چاہتا، مجھے صرف تمہاری خوشی عزیز ہے، تم اب مزید اس بوجھ تلے نہیں جیو گے، میں نیہا کو ساتھ گھر لے کر جا رہا ہوں، جو ہو گا دیکھا جاۓ گا، تم بس خوش رہو، کسی دباؤ میں نا آؤ، جو لڑکی پسند ہے مجھے بتاؤ، میں خود۔ ” وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا جب اسفی نے اسے درمیان میں کاٹا۔۔۔ اسفی اسکی بات پر ایک دم سیدھا ہوا۔
“انکل ایسی بات نہیں، میں مانتا ہوں میں نا تو منگنی کرنا چاہتا تھا اور نا ہی شادی، یہ سب مین نے آپکی خوشی کے لیے کیا، انکل آپ سب جانتے ہو، میری زندگی کیسی گزری ہے، ماما بابا میرے سامنے،،،،، میں ان سے بہت محبت کرتا تھا، وہ میری زندگی سے یون بچھر گے،، میرے اندر کہی گہرائی میں ایک ڈر سا بیٹھ گیا، میں جسے بھی چاہوں گا وہ مجھ سے دور ہو جائیں گے، یا جو میں رشتہ شروع کروں گا مین نِباہ نہیں پاؤں گا، میں کہی اسے تقلیف نا دے دوں۔ کہی وہ مجھ سے دور۔۔۔۔۔فرید احمد کی وجہ سے میرے والدین مرے، میں بس یہی سوچ کر اپنے قدم روک لیتا تھا کہ کہی نیہا بھی،،،،
ایسا نہیں میں اسے نا پسند کرتا ہوں، وہ بہت اچھی ہے۔ بس مجھے اپنے اس ڈر کو نکالنے کے لیے کچھ وقت لگے گا، جس دن نکاح نامے پر دستخط کیے تھے اسی پل سے نیہا میری زندگی کا حصہ بن چکی ہے اس سے علحیدہ ہونے کا میں کبھی سوچ نہیں سکتا، میں نے اسے اپنایا ہے تو اس رشتے کو نِبھانے کی ہر ممکن کوشش کروں گا، مجھے معلوم نہیں میں اس سے محبت کرتا ہوں یا نہیں، یا محبت کا احساس کیسا ہوتا ہے، مجھے علم نہیں میں اسکی عزت کرتا ہوں، میں وعدہ کرتا ہوں آج کے بعد اسکی آنکھوں میں کبھی آنسوں نہیں آئیں گے” وہ اسکے دونوں ہاتھ پکڑے سر جھکاۓ بول رہا تھا۔ بلاج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری اسنے سینے سے لگا لیا۔ وہ اسے اس وقت وہی دس سال کا سہما ہوا بچہ لگا، جسنے اپنے ماں باپ کو اپنی آنکھوں سامنے مرتے ہوۓ دیکھ تھا۔۔
“مجھے یقین ہے، تمہارا یہ ڈر بھی ختم ہو جاۓ گا، اور تم فکر مت کرو ہم فرید احمد کو سزا دے گے” بلاج اسکے کندھے پر تھپتھاتے ہوۓ عزم سے بولا۔۔اسفی نے ہاں میں سر ہلایا اور علحیدہ ہوا، ٹیشو سے اپنی آنکھیں صاف کئیں۔
“ایک منٹ یہ نیہا کو ایسا کیون لگا تمہاری زندگی میں کوئی اور لڑکی ہے” بلاج کو اسکی وہ بات یاد آئی۔
“انکل اب یہ بات تو اپکی بیٹی سے پوچھنی پڑے گی، بلاوجہ میرا کریکٹر مشکوک کر رہی ہے، ویسے بھی اسے غلط فہمیاں بہت جلد ہو جاتی ہیں” وہ اپنی آنکھیں اچھے سے صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے اب اسے لے کر گھر جاؤ میری میٹنگ ہے” بلاج گھڑی دیکھتے ہوۓ بولا۔ اسفی۔ ہاں مین سر ہلاتے ہوۓ کھڑا ہوا۔۔ اور باہر نکل گیا۔۔۔ بلاج نے اپنی سر صوفے کی پشت پر ٹکا دیا۔ اسکی انکھوں کے سامنے وہ رات آئی، جب حسن کے فون پر وہ اس جگہ پہنچا تھا، وہ چھپ کر پچھلے گیٹ سے اندر آیا، تھا تبھی اسکی نظر پندرہ سالہ فرید احمد پر پڑی، جو حسن پر بندوق تانے کھڑا تھا اسکے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی، اتنے سے بچے کے چہرے پر ایسے تاثرات دیکھ کر وہ خود کانپ گیا تھا وہ اگے بڑھتا جب تین گولیاں ایک ساتھ چلیں اور حسن کے سینے کو چیرتی چلیں گئیں، اسکے قدموں تلے زمین کھسکی، حسن سامنے زمین پر گِڑا ہوا تھا اسکی نظر بلاج کی نظروں سے ملیں، وہ جیسے کہ رہا ہو میرے بیٹے کو بچاؤ، بلاج کی نظر حال میں کچھ ہی قدم دور کھڑے اسفندیار پر پڑی، جو خوف کے مارے کانپ رہا تھا، وہ ابھی ابھی شور کی وجہ سے اُٹھ کر باہر آیا تھا جب اسکی نظر اپنے باپ کے خون سے بھرے وجود پر پڑی۔ اس سے پہلے کے اسفی چیختا بلاج نےا سکے منہ ہر ہاتھ رکھتے اسے وہی پچھلے گارڈن میں لے گیا۔۔۔۔ وہ دو منٹ وہی رکے رہے، اسفی کانپ رہا تھا، بلاج نے اسکے منہ سے ہاتھ نہیں ہٹایا، وہ ادھر اُدھر دیکھنے لگا کہی آس پاس سیکورٹی تو نہیں، وہ خود اس وقت کانپ رہا تھا ابھی کچھ ہی منٹ پہلے اسنے اپنے سگے بھائی کے سینے پر گولیاں چلتے دیکھیں۔ وہ اُٹھا۔ اسنے اسفی کے کان میں اپنا تعارف کروایا، اسنے ابھی ایک قدم ہی آگے بڑھایا تھا جب دوبارہ فائر ہوا، اسفی اور بلاج کی نظر سامنے اُٹھی اوپر چھت پر اسفی کی ماں کھڑی تھی اسکے پیچھے فرید احمد کھڑا تھا، جسکے ہاتھ میں پستول تھی۔ وہ اونچی اونچی ہنس رہا تھا، اور دیکھتے ہی دیکھتے اسنے اسفی کی ماں کو دھکہ دے دیا، کچھ ہی پلوں میں وہ زمین پر گڑی۔ اسفی آنکھیں پھاڑے اس خوفناک منظر کو دیکھ رہا تھا، تبھی بلاج جو محسوس ہوا وہ اسکے بازوں میں بے ہوش ہو گیا۔ وہ نم آنکھوں سے اس معصوم سے بچے کو سینے سے لگاتے جلدی سے پچھلے گیٹ کی طرف بڑھا، اور اسے وہاں سے بچا لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاج نے سیدھا ہوتے اپنی آنکھیں صاف کیں، اور اُٹھ کر میٹنگ کے لیے چلا گیا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔