Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“اسفی ڈھولکی پر جلدی آجائیے گا، پلیز دیر مت کرنا” وہ پاؤں میں سینڈل پہنتے ہوۓ بولی۔ اسنے پرپل قمیض شلوار ساتھ شفون کا ڈوپٹہ کندھے پر ڈالا ہوا تھا، ہلکا سا میک اپ، اور بالوں کو سٹریٹ کر کے کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ کانوں میں ٹاپس پہنے تھے۔۔۔۔
“ہممم” وہ صوفے کے سامنے کھڑا موبائل پر کسی کو میسج کرتے بس اتنا ہی بولا۔ نیہا نے اپنا موبائل پرس میں ڈالا، اور رات کو پیک کیا سوٹ کیس پکڑتے اسفی کے سامنے آئی۔۔۔
“میں دو ہفتے کے لیے جا رہی ہوں، اور ابھی بھی آپ موبائل پر لگے ہیں” وہ اسکا موبائل آف بٹن سے آف کرتے ہوۓ روٹھے ہوۓ لہجے میں بولی۔
“او نیہا امپورٹینٹ میسج کر رہا تھا” وہ اسے گھورتے ہوۓ بولا اور دوبارہ موبائل آن کرتے میسج کرنے لگا۔ نیہا بس اسکو دیکھتی رہ گئی۔
“اسفی میں شادی کے بعد پہلی بار رہنے جا رہی ہوں، اب دو کی بجاۓ تین ہفتے رہوں گی” وہ غصے سے بولتی پلٹی اور اپنا بیگ پکڑتے باہر نکل گئی۔ اسفی نے بس ایک نظر اسے جاتے دیکھا۔
“تمہارے پاس کل تک کا وقت ہے بتا دو، ورنہ یہ کام میں خود کل شام کو کروں گا، اور تم برا پھنسوں گے” اسنے وائس میسج ساحل کو بھیجا، اور باہر کی طرف بڑھا۔ کل ہی اسنے حیام اور ساحل کو ایک ہاسپیٹل سے نکلتے ہوۓ دیکھا، وہ وہاں اپنے دوست کی عیادت کے لیے گیا تھا۔ وہ اس بات کو اگنور کر دیتا، اگر ساحل نے اسکے کندھے کے گرد بازو نا پھیلایا ہوتا، شکل سے حیام بیمار لگ رہی تھی، وہ چونکا۔
“ساحل یہ کون ہے؟” وہ ان دونوں کے پاس آ کر سوالیہ انداز میں بولا، ساحل ہی سانس تھم گئی۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟” ساحل نے ہکلاتے ہوۓ کہا۔
حیام سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا، ابھی ڈاکٹر سے اسے معلوم ہوا کہ وہ پریگنٹ ہے، وہ کافی کمزور بھی تھی۔
“ساحل پلیز گاڑی میں بیٹھا دیں کھڑا نہیں ہوا جا رہا، گھر جا کر آرام کرنا ہے” وہ اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوۓ بولا۔ اسفندیار ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ ساحل کی نظریں چُرانا، اسے دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا۔
“میم ڈاکٹر نے یہ ویٹامن آپ کے لیے دیے ہیں، یہ بے بی جے لیے بہت اہم ہیں” تبھی ایک نرس انکے پاس آ کر بولی۔ اور شاپر حیام کو پکڑا دیا۔ جسے اس نے پکڑ لیا۔ ساحل نے اسفندیار کی چانچتی نظروں سے نظرین چراتے، حیام کو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا اور دروازہ بند کیا۔
“ساحل یہ سب کیا ہے؟” اسفی نے اسکے بازو سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کرتے ہوۓ پوچھا۔
“بیوی ہے میری اور میرے ہونے والے بچے کی ماں ہے” ساحل نے گہرا سانس لے کر کہا۔ اسفی کا ہاتھ اسکے بازو سے پھسل گیا۔
“واٹ، یہ کیا بکواس یے تم پاگل ہو، کب سے یہ سب چل رہا ہے” اسفی کو اسکی اس حرکت پر بے حد غصہ آیا، گھر پر اسکی شادی تھی کل اسکی ڈھولکی تھی۔ ساحل اپنا ماتھا مسلتے گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوا ، اور شروع سے لے کر اب تک کی ساری باتیں اسے بتانے لگا۔ وہ حیام کو پسند کرتا تھا اور کیسے اس سے نکاح کیا۔ اور اب کہاں رکھا ہوا ہے سب اسنے بتا دیا۔ سن کر اسفی کا دماغ گھوم گیا۔
“بے وقوف انسان تم نے انکل کو بتانا گوارا نہیں کیا، گھر میں ماما بابا کو بتا تو دیتے وہ تمہاری شادی کی تیاریاں تو شروع نا کرتے۔ اور منگنی بھی نا کرتے” اسفی کو اسکی کم عقلی پر بے حد غصہ آ رہا تھا۔
“آپ بھی تو انکار نہیں کر پاۓ تھے، میں کیسے بابا کا دل توڑ پاتا، بہت کوشش کی بتانے کی، پر ہر بار انکے چہرے پر اعتماد، بھروسے کو دیکھتے چپ کر جاتا” وہ بولا تو اسفی کو بھی چپ لگ گئی، اس سے بھی تو انکار نہیں ہو پایا تھا، وہ بھی تو بلاج کو دکھ نہیں چاہتا تھا۔ یہ جانے بغیر کے جب اسے اصلیت پتہ چلے گی تو کتنا دکھ ہو گا۔ وہ دنوں ہی بنا سوچے غلطیاں کر گے۔
“ساحل میری بات غور سے سنو جا کر انکل کو بتا دو، تم پہلے سے شادی شدہ ہو، اور اب تو باپ، تو میری بات سنو علیزے کی زندگی تباہ مت کرو، جا کر انکار کرو انہیں سب بتا دو، وہ تمہارے والدین ہیں سب سمجھ جائیں گے، اور اگر تم۔ نے کل تک یہ نا کیا تو میں خود جا کر سب بتا دوں گا” وہ اسے سمجھاتے ہوۓ بولا۔ اور بنا ساحل کو بولنے کا موقع دیے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
وہ نیچے آیا نور اور نیہا اپنے بیگز کے ساتھ راحیلہ کے پاس کھڑیں تھیں، راحیلہ نور کو کچھ بول رہی تھی۔
“چلو جلدی مجھے اور بھی کام ہیں” انکے پاس ایک سیکنڈ کے لیے کھڑا ہو کر وہ بولا اور آگے بڑھ گیا۔ نیہا اور نور راحیلہ سے مل کر باہر کی طرف چل دیں۔ وہ دونوں گاڑی میں پیچھے بیٹھیں۔ اسفندیار موبائل پر کسی سے مسلسل بات کر رہا تھا۔ نور اور نیہا آپس میں باتیں کر رہیں تھیں، آدھے گھنٹے بعد گاڑی بلاج ہاؤس کے باہر رکی۔ دونوں باہر نکلیں، اپنے بیگز ڈکی سے نکالے۔۔۔ نیہا اسفندیار کی طرف آئی اور شیشے پر نوک کیا۔ وہ ابھی بھی موبائل پر ہی مصروف تھا، اسنے شیشہ نیچے کیا،
” میں شام کو نہیں آپاؤں گا، بہت اہم کام ہے” موبائل کو ایک سائیڈ پر کرتے وہ نیہا سے مخاطب ہوا۔ اور بات مکمل کرتے دوبارہ موبائل کان سے لگایا۔۔
“فائن مت آئیں، ویسے بھی میں تو کافی ہفتوں کے لیے یہاں آ گئی ہوں، آپ کو اس بات سے تھوڑی فرق پڑے گا، آپ تھوری مجھے مس کریں گے، جائیں” نیہا پہلے ہی چڑی ہوئی تھی ایک دم پھٹ پڑی۔ اور نور کے پاس آئی، دونوں گھر کے اندر داخل ہو گئیں۔ اسفندیار نے بس گہرا سانس لیا، وہ فرید احمد کے بارے میں انفارمیشن نکلوا رہا تھا، وہ دو مہینے سے واپس نہیں آیا تھا۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا وہ وہاں کیا کرنے گیا ہے، پچھلے ایک ہفتے سے جو انفارمیشن اسکو مل رہی تھی، وہ بس حیرانگی سے سن رہا تھا۔۔۔۔ اسکے لیے یہ سب یقین کرنا نا ممکن تھا۔ پر سب باتیں سچ تھین وہ خود اپنی آنکھوں سے سب دیکھنا چاہتا تھا۔ اسی کی وہ تصاویریں منگوا رہا تھا۔
“ماما میں آ گئی” حال میں داخل ہوتے ہی، وہ زور سے چلائی، کچن سے میرال نکلی، وہ بھاگ کر اسکے سینے سے لگی۔۔ شادی کے بعد وہ پہلی دفع رہنے آئی تھی، وہ بھی اپنے بھائی کی شادی کے لیے۔۔۔۔۔
“تمہاری شادی کر کے تو میں بالکل اکیلی ہو گئی، پتہ کتنا کام ہے، علیزے کی ساری الماری سیٹ کرنی ہے، بھائی اوپر ہی ہے جاؤ مل آؤ” میرال اسکو خوش دیکھ کر مسکرائی، اور اسے اوپر جانے کا بولا۔ وہ پہلے صائم سے ملی اور پھر ساحل سے ملنے چلی گئی۔ میرال نور سے گلے ملتی، اسکا سامان گیسٹ روم میں رکھوایا۔۔۔۔۔۔
اسفندیار تو پہلے ہی آنے سے منع کر چکا تھا، نیہا نے نور کے ساتھ مل کر علیزے کی ساری الماری سیٹ کی۔ ڈھولکی کا سارا انتظار گارڈن میں تھا، سب نے بہت ہلا گلا کیا۔ ساحل خاموش خاموش سا تھا، وہ بار بار بلاج سے بات کرنے جاتا، پھر رک جاتا، عمیر اور بلاج دونوں اج بہت خوش تھے۔ سکندر حمدانی ان دونوں کو خوش دیکھ کر پرسکون تھے۔۔۔ اسی طرح آج کا دن گزر گیا، اور صبح کا اجالا ہو گیا۔۔۔ بلاج ہاؤس میں ہر طرف گہما گہمی تھی، مہندی کا فنگشن سکندر ولا میں منعقد تھا، آٹھ بجے کا وقت تھا، نور نیہا، روشانے تینوں پالر چلیں گئیں۔۔۔۔۔۔۔
سات بجے وہ تینوں تیار ہو کر گھر آئیں، میرال گھر پر ہی تیار ہوئی تھی، اور اب باقی کے کام نپٹا رہی تھی۔
“میرال ساحل کدھر ہے تیار ہوا؟” بلاج سفید قمیض شلوار، اوپر میرون ویسکوٹ پہنے موبائل پر ساحل کا نمبر ڈائل کر رہا تھا۔
“یہی ہو گا شائد پالر سے تیار ہونے گیا ہو” میرال کان میں جھمکا ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بلاج نے سر ہلا دیا۔
“لاؤ میں ڈال دوں” وہ اسکے ہاتھ سے جھمکا لیتے ہوۓ بولا۔ اور اسکی دائین طرف آیا۔ کندھے سے بال پیچھے کیے اور کان میں جھمکا پہنانے لگا۔۔۔
“ویسے ماننا پڑے گا، میں آج بھی ویسا ہی ہینڈسم ہوں، میرا تو دل کر رہا ہے دوبارہ شادی کر لوں” وہ جھمکا ڈال کر مسکراہٹ دباتے ہوۓ اسے چھیرنے کے انداز میں بولا۔
“بیٹے کو چھوڑ تم خود شادی کر لو” میرال نے اسے گھورتے ہوۓ کہا۔
“تم سوتن برداشت کر لو گی؟ ویسے اسلام میں تو چار شادیاں جائز ہیں” وہ اپنے بال سٹائل سے سیٹ کرتے ہوۓ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔
“ہاں کروں گی، اس سے پہلے تمہاری جان لوں گی” وہ اسکے بال مکمل بگاڑتے ہوۓ غصے سے بولی۔
“اف میرو، یار مزاق کر رہا ہوں، بھلا مجھ جیسا اپنی بیوی سے عشق کرنے والا انسان، اپنی بیوی کو دکھ دینے کا سوچ سکتا ہے، بالکل نہیں، مین تو سوچ رہا ہوں، زندگی کتنی جلدی گزر گئی، نا یاد ہے میں نے جب ساحل کو پہلی دفع ان ہاتھوں میں لیا تھا، تب کیسے میرے ہاتھ کانپے تھے، اور آج دیکھو میرے بیٹے کی شادی۔۔۔ اف کتنی جلدی وقت بیت جاتا ہے” مسکراتے مسکراتے اسکی آنکھیں وہ پل یاد کرتے ہوۓ نم ہوئیں۔
“اوو تو میرا ہیندسم بُڈھا ہزبینڈ ایموشنل ہو گیا” میرال ہنس کر اسے چھیرتے ہوۓ اسکے سینے سے لگی۔ اسکے بڈھا کہنے پر بلاج نے اسے گھورا۔ اور اسکے گرد بازو لپیٹ دیا۔۔۔
“ماما بابا! وہ۔۔۔۔۔” تبھی دروازہ کھول کر نیہا اندر آئی، میرال اسکی طرف مڑی۔
“کیا ہوا نیہا؟” اسکے چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا۔ میرال کو کسی گڑبڑ کی بو آئی۔
“آپ دونوں جلدی نیچے آئیں بھائی کسی کو لے کر آۓ ہیں جلدی ” نیہا دونوں کا چہرہ دیکھتے ہوۓ گھبرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔وہ دنوں اسکے ساتھ نیچے آۓ۔ میرال سیڑھیوں سے اتر رہی تھی ، جب اسکی نظر حال کے سینٹر میں کھڑے ساحل پر پڑی، اسکے قدموں میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ آئی، جب اسکے ساتھ کھڑی حیام پر نظر پڑی، لڑکھڑاہٹ کی وجہ ساحل کے ہاتھوں میں حیام کا ہاتھ تھا۔۔۔۔۔
“ساحل تم ابھی تک تیار نہیں ہوۓ، بیٹے لیٹ ہو رہی ہے”بلاج مسکراتے ہوۓ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا۔ اسکی نظر ان دونوں کے ہاتھ پر نہیں پڑی۔ میرال نے ساحل کو دیکھا جو نظریں نیچے کیے کھڑا تھا۔ اسفندیار اسکے پیچھے کھڑا تھا، وہ ہی اسکو لے کر آیا تھا۔۔۔۔
” اہممم بابا یہ میری وائف ہے اور میرے ہونے والے بچے کی ماں ہے” ساحل نے گہرا سانس لے کر خود میں ہمت جمع کرتے ہوۓ اپنے الفاظ ادا کیے، جو وہاں ہر شخص کے سر پر بم کی طرح گرے۔ سب شاک کے عالم میں ساحل کو دیکھ رہے تھے۔۔
“او مائی گاڈ بھائی یہ کیا بول رہے ہیں؟ آپکی آج مہندی ہے کل شادی ہے اور یہ۔۔۔۔سب۔ کیسے کر سکتے ہیں علیزے اف ۔۔۔” نیہا سب سے پہلے بولی۔ اسکے لہجے میں حیرانگی، پریشانی، دکھ سب تھا۔ ساحل کے کندھے پر رکھا بلاج کا ہاتھ لڑکھڑا کر نیچے گِڑا۔ وہ بے یقینی سے ساحل کو دیکھ رہا تھا، سب الفاظ جیسے ایک دم سے کسی نے اسکے منہ سے چھین لیے تھے۔
” ساحل تمہارا دماغ خراب ہے، اگر یہ سب کر لیا تھا تو کم ازکم ہمیں بتا ہی دیتے ہم، تمہاری شادی تو نا رچا کے بیٹھے ہوتے، یا خدا اب ہم کیا کریں گے اف” میرال غصے سے پھٹ پڑی، ایک دم سے اسے چکر آیا۔ حیام سر جھکاۓ کانپ رہی تھی، کچھ دیر پہلے ہی ساحل اسکو لینے گھر آیا، اور اسے سب بتایا کہ وہ اسے اپنے ماں باپ کے گھر لے کر جا رہا ہے، وہ تب سے ہی بہت گھبڑائی ہوئی تھی۔ وہ جانتی تھی سب کا ری ایکشن کیسا ہو گا۔۔۔۔
“ماما۔۔۔” ساحل ایک دم سے میرال کی طرف بڑھنے لگا جب اسنے ہاتھ اُٹھا کر اسے روک دیا۔۔ نیہا نے جلدی سے اسے صوفے پر بیٹھایا اور پانی لینے کیچن میں چلی گئی۔ اسفندیار بلاج کے پاس آیا، جو بنا کچھ بولے کھڑا تھا، آج جیسے اسکے پاس الفاظ ختم ہو گے تھے، وہ کیسے ری ایکٹ کرے، وہ سمجھ نہیں سکا۔
“انکل، آپ ٹھیک ہیں؟” اسفندیار نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے جیسے اسے گہرے خواب سے جگایا۔۔۔
“ہمم۔۔۔” وہ چونکا۔۔۔اسنے ساحل کی طرف دیکھا، جو روتے ہوۓ اسے ایم سوری بابا بول رہا تھا۔۔۔۔بلاج نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا۔
“انکل کیا کر رہے ہیں؟” اسفندیار پریشان لہجے میں بولا۔۔۔
“بھائی کو فون کر کے انکار کرنا ہے نا، اب شادی تو ہو نہیں سکتی” وہ نرم لہجے میں بولا۔ جیسے ابھی کچھ ہوا نا ہو جیسے وہ بالکل نارمل ہو۔ اسنے عمیر کا نمبر ملایا اور کان سے لگایا۔۔۔ساحل روتے ہوۓ بلاج کو دیکھ رہا تھا۔۔جو کان سے فون لگاۓ کھڑا تھا۔ پر نمبر بزی حا رہا تھا اسنے حرا کو فون ملایا۔ اسکا نمبر بھی بزی تھا۔ تبھی اسفندیار کا فون بجا، اسنے پاکٹ سے فون نکال کر دیکھا، اس پر دادا (سکندر ) کا نام لکھا تھا۔اسنے یس کرتے فون کان سے لگایا۔ سکندر حمدانی کچھ بول رہے تھے، جیسے جیسے وہ سن رہا تھا، اسکے فیس کی ایکسپریشن بدل رہے تھے۔
“یہ کب کی بات ہے؟ ” وہ جلدی سے بولا۔
“میں آتا ہوں” اسنے کہتے ہی فون بند کیا۔
“انکل علیزے بھاگ گئی، مہندی کے لیے تیار ہونے پالر گئی، وہی سے اس مزمل کے ساتھ۔۔۔۔۔ حرا آنٹی کچھ دیر پہلے اسکے کمرے میں گئیں، جہاں سائیڈ ٹیبل پر خط لکھا تھا، اس میں وہ جانے کا بول رہی تھی، دادا کی کال تھی وہ آپکو بتانے کا بول رہے تھے” اسفندیار جلدی جلدی سب بول رہا تھا، اور ساتھ ہی موبائل سے کسی کو فون ملا رہا تھا۔۔۔
“اف خدایا یہ سب کیا ہو رہا ہے” میرال اپنا سر مسلتے ہوۓ روندھے لہجے میں بولی۔۔۔
“چلو چلتے ہیں” بلاج اسفندیار کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔چال میں لڑکھڑاہٹ تھی۔۔۔۔۔
“ماما پلیز۔۔۔۔” ساحل روندھے ہوۓ لہجے میں بولا۔ جب میرال درمیان میں بول پڑی۔۔۔
“نیہا اسکو بولو، ایک لفظ منہ سے نا نکالے، اسنے سب برباد کر دیا۔ اب میں اسکی کوئی بکواس نہیں سننا چاہتی” میرال اپنا سر مسلتے ہوۓ غصے سے بولی۔۔
“ماما آپ پلیز ریلکس رہیں، آپکا بی پی ہائی ہو جاۓ گا” نیہا نم لہجے میں بولی۔ صائم میرال کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ حیام کو خود سے کوفت ہونے لگی، اسکی وجہ سے ایک اچھی خاصی فیملی میں بد سکونی پھیل رہی تھی۔ ساحل اسے لیے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
بلاج اور اسفندیار سکندر ولا پہنچے، جہاں ایک ماتم کا سما تھا، حرا لاونچ میں مہمانوں کے درمیان بیٹھی رو رہی تھی، مہوش اسکے ساتھ سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔ اسکے سسرال والے بھی وہی موجود تھے، رشتے دار طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔
“عمیر شرمندگی کے مارے گارڈن میں رکھی کرسی پر بیٹھا تھا اسکے آس پاس مہمان تھے، جو طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے۔
” انکل!” اسفندیار جلدی سے عمیر کی طرف آیا، اسکی آواز پر شرمندگی سے بھرا سر اُٹھا، بلاج کو دیکھتے ہی وہ دوبارہ جھک گیا۔ بلاج کے چلتے قدم رک سے گے، اسکا دل ایک دم سے رکا۔ اسے اپنا آپ یہاں سب سے برا مجرم لگ رہا تھا نا وہ اس رشتے کی بات کرتا نا یہ سب ہوتا۔ نا علیزے بھاگتی، نا ساحل یہ قدم اُٹھاتا۔ وہ اگے بڑھ کر اپنے بھائی کو گلے تک نا لگا سکا۔۔۔۔سکندر حمدانی ایک برا نام تھا۔ انکی پوتی کسی لڑکے کے ساتھ شادی سے ایک دن پہلے بھاگی، یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تھی، اور نیوز کا حصہ بن چکی تھی۔
“انکل مجھے اسکا گھر کا ایڈریس پتہ ہے، ہم وہاں جا رک علیزے کو لائیں گے” اسفندیار اگے بڑھ کر عمیر سے بولا۔
“حد کرتے ہو میاں ایک گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو واپس لاؤ گے اب تک تو وہ۔۔۔۔۔نکاح کر چکی ہو گی، ویسے عمیر میاں تم بھی کمال کرتے ہو جب لڑکی راضی ہی نہیں تھی تو زبردستی نا کرتے، جس سے چاہتی تھی نکاح کر دیتے” وہاں بیٹھا ایک آدمی تمسخرانہ انداز میں بولا۔ عمیر کا سر مزید جھک گیا۔۔۔ بلاج نے اپنے کرتے کے دو بٹن کھولے تا کہ سانس لے سکے۔
“آپ سب پلیز اپنے گھر جائیں شادی کینسل ہو گئی، یہاں بیٹھ کر اگر بس طنز یی مارنے ہیں تو بہتر ہو گا اپنے گھر جائیں” اسفندیار نے سنجیدہ انداز میں بولا۔
“لو جی ایک تو لڑکی بھاگ گئی اوپر سے روب دیکھو، میاں پہلے ہی لڑکی کو لگام لگا کے رکھنا تھا۔تو آج یہ گل نا کھلاتی” وہی آدمی طنزیہ انداز میں دوبارہ بولا۔ اور اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اسفندیار مزید کچھ بولنے لگا جب عمیر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔ اور نفی میں سر ہلایا۔ جیسے کہ رہا ہو ، یہ سب تو اب سننا ہی پڑے گا مت بولو۔ وہ سب وہاں سے چلے گے، اور کچھ ہی دیر کیں تقریباً سارا گھر خالی ہوا بس گھر کے ممبر ہی موجود تھے۔ اسفندیار عمیر کو لیے لاونچ میں آیا۔ جہاں اب صرف حرا ،مہوش، سکندر حمدانی تھے۔۔۔ وہ انہیں صوفے پر بیٹھا کر خود فون ملانے لگا۔
“بھااااائی۔۔۔۔” بلاج اسکے پاس صوفے پر آکر بیٹھا۔
“مجھے معاف کر دیں، یہ سب میری وجہ سے ہوا نا میں رشتہ روکتا، نا ساحل اور علیزے کا رشتہ طے ہوتا نا علیزے یہ قدم اُٹھاتی اور نا۔۔۔۔ اور نا ساحل کسی سے شادی کر کے آج لڑکی کو گھر لاتا” وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوۓ بولا رہا تھا۔ سب چونکے۔
“ساحل بے کس سے شادی کر لی؟” سکندر حمدانی کی آواز آئی۔۔۔۔بلاج نے آج کا واقع بتایا۔۔۔۔
“جب تمہارا بیٹا ہی شادی کے ہیے راضعی نہیں تھا تو یوں رشتہ طے کیوں کیا۔ جہاں علیزے شادی کرنا چاہتی تھی وہاں کرنے دیتے، خود کے بیٹے پر کنٹرول نہیں، ہمارے بچوں کے فیصلے کرنے پہنچ گے” حرا تو پھٹ ہی پڑی۔۔۔۔ اسے بلاج پر حد سے زیادہ غصہ آرہا تھا۔
“بھابھی مجھے معلوم نہیں۔۔۔۔۔”
“ہاں تمہیں باقی کے لوگوں کا جو سارا پتہ ہوتا ہے، کون کتنا برا ہے، کتنا غلط کام کرتا ہے، باقی سب کا علم ہے خود کے بیٹے کا علم نہیں، معلوم ہوتا تو میری علیزے آج یہ قدم نا اُٹھاتی۔ نا تم ٹانگ آڑاتے نا یہ سب ہوتا جہان رشتہ ہو رہا تھا ہونے دیتے” حرا اسکی بات کاٹتے ہوۓ ترخ کر بولی۔ بلاج کا سر جھک گیا۔۔۔
“بس کر دو حرا، علیزے نے جو قدم اُٹھایا وہ سخت برا ہے، اور جس رشتے کی تم بات کر رہی وہ ٹھیک نہیں تھا، مجھے یقین ہے بلاج نے اس دن جو کیا ٹھیک تھا، اب اس گھر میں علیزے کا نام میں کسی کے منہ سے نا سنو وہ ہمارے لیے مر چکی ہے، اسنے جو چاہا وہ کیا اب اگر کسی کے منہ سے میں نے اسکا نام سنا تو مجھے کھو دو گے تم سب” عمیر چیختے ہوۓ بولا۔ اور اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
“”””””””””””””””””””””””””
یہ منظر خان مینشن کا تھا، یہاں کے ایک برے سے کمرے میں وہ بیٹھی ہوئی تھی، مزمل سے وہ بات کر چکی تھی، جب وہ پالر کے لیے نکلی، تب اسنے ایک خط لکھ کر ٹیبل پر چھوڑ دیا۔ وہ سوچ رہی تھی جب کسی کو اسکی خوشی کی فکر نہیں تو اسے بھی کسی کی فکر نہیں ہونی چائیے۔ وہ ڈرائیور کے ساتھ پالر پہنچی، وہ دروازے سے اندر داخل ہوئی جب ڈرائیور گاڑی لے یر چلا گیا تب وہ دروازے سے باہر آئی، موبائل سے مزمل کو میسج کیا وہ تھوڑی ہی دور کھڑا تھا۔ وہ اسکے پاس آئی، اور اسکی گاڑی میں بیٹھ کر خان مینشن آگئی، کچھ ہی دیر میں انکا نکاح ہو گیا۔ فرید احمد کی موجودگی میں نکاح ہوا تھا۔ کچھ ہی گھنٹوں بعد ٹیوی پر مزمل اور اسکے بھاگ جانے کی خبر نشر ہو رہیں تھیں، سبکو ہی معلوم ہو گیا کہ وہ کس کے ساتھ بھاگی۔۔۔۔
وہ اس وقت کمرے میں بے چینی سے بیٹھی ہوئی تھی جب مزمل کمرے میں داخل ہوا۔
“بے بی کیا ہوا؟” وہ اسکے پاس آ کر بیٹھا۔ وہ سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔
“ہم نے ٹھیک کیا؟” وہ انگلیاں مڑورتے ہوۓ بولی۔
“افکورس بے بی، جب دنیا محبت کے خلاف ہو جاۓ تو محبت کو اپنا راستہ خود بنانا چاہیے چاہے وہ کسی کے بھی خلاف جا کر بنانا پڑے، اور اب دیکھو ہم ایک ہیں ہمارا نکاح ہو چکا یے، ایم سو ہیپی، بے بی تمہیں معلوم ہے اس دن کا کتنی بےصبری سے انتظار کیا ہے” وہ اسکے پاس ہو کر بیٹھا اور اسکے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوۓ بولا۔ وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“صحیح کہا میں نے کتنی دفع سبکو منع کیا تھا اب یہ انکی ہی غلطی ہے” وہ جیسے اپنے سر سے بوجھ اتار رہی تھی۔۔
“تو اب مزید کوئی بات نہیں” وہ بولتے ہوۓ اس پر جھکا۔۔۔اور وہ خاموشی سے اپنی محبت کی کامیابی پر اپنا آپ اسکے سپرد۔ کر گئی۔
“””””””””””””””””
وہ گیارہ بجے اسفندیار کے ساتھ گھر آیا۔ میرال اور نیہا لاونچ میں بیٹھیں انکا انتظار کر رہیں تھیں۔
“علیزے کا پتہ چلا؟” انکے آتے ہی نیہا نے اسفندیار سے پوچھا۔
“وہ مزمل کے ساتھ اپنی مرضعی سے گئی ہے عمیر انکل نے منع کر دیا، اسے ڈھونڈے سے” اسفندیار وہی صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنا سر صوفے پر گِرا دیا۔ بلاج خاموشی سے اپنے روم میں چلا گیا۔۔میرال اسکے پیچھے ہی گئی وہ جانتی تھی وہ اس وقت کتنے مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔۔۔۔
“اسفی! آپ ٹھیک ہیں؟” نیہا نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتے ہوے ہولے سے پوچھا۔۔۔۔
“سب ہاتھ سے نکل رہا ہے، وہ ایک کے بعد ایک طریقے سے میرے خاندان کی ساک تباہ کر رہا ہے، علیزے نے جو قدم اُٹھا، وہ سب تباہ کر گیا مارکیٹ میں دادا کا نام تباہ ہو گیا ہے، بلاج ، عمیر انکل سبکی عزت پر ہاتھ مارا گیا ہے، سر اُٹھا کر چلنا مشکل ہو جاۓ گا، میں جانتا ہوں، فرید احمد کل ہی میڈیا کے سامنے کچھ نا کچھ تو بیان دے گا، سب بے قابو ہو گیا مجھے علم تھا پھر بھی میں اسکو اگنور کر رہا تھا، وہ دو مہینوں کے لیے باہر گیا، مجھے علم ہونا چاہیے تھا اسکا کوئی نا کوئی پلین ہو گا” وہ اہنا ماتھا مسلتے ہوۓ کہا۔ اسکی بات پر وہ چونکی۔ پھر سر جھٹک دیا۔
وہ اپنے کمرے میں صوفے کی بیک پر سر ٹِکاۓ بیٹھا ہوا تھا، وہ چھت کو یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ میرال چل کر اسکے پاس آ کر بیٹھی۔۔۔ اسنے بس خاموشی سے اسکے ہاتھ پکڑ لیے۔ جو حد سے زیادہ ٹھنڈے ہو رہے تھے۔
“میرو میں ہار گیا، میں اپنے بچوں کو وہ بھروسہ ہی نا دے پایا، کہ وہ کھل کر مجھ سے آ کر بات کر سکیں” وہ ہولے سے بول رہا تھا،
“ایسا نہیں۔۔۔۔۔” میرال سے تو یہ بھی نا کہا گیا کہ ایسا نہیں ہے۔۔۔ کیونکہ اگر ایسا نا ہوتا تو آج یہ سب نا ہو رہا ہوتا۔۔اسکی آنکھ سے آنسو نکلے۔اور بلاج کے ٹھنڈے ہاتھ پر گِرے۔۔۔
“میں نے اپنے باپ کے ساتھ بہت غلط بی ہیو کیا تھا، مجھے آج احساس ہو رہا ہے، جب بیچ حال میں اس دن میں نے ہمارے نکاح کا علان کیا تھا تو انہیں کیسی ذلت سہنی پڑی ہو گی، جب میں خود اپنے باپ کی بدنامی کرتا تھا، آۓ دن نیوز میں میری وجہ سے جو میرے باپ کی بدنامی ہوتی تھی، تو انہیں کیسا لگتا تھا، مجھے آج احساس ہو رہا ہے، صرف معافی مانگ لینے سے گناہ ختم نہیں ہوتے، سنا تھا مقافاتِ عمل لوٹ کر آتا ہے، پر ایسی بھیانک شکل سے آتا ہے ایسا علم نہیں تھا، آج جب ساحل نے کہا نا یہ میری بیوی ہے، تو مجھے ماضعی کا دن یاد آ گیا۔ لگا میں سکندر حمدانی ہوں اور میرے سامنے بلاج حمدانی کھڑا ہے، تب احساس ہوا میرے باپ کو کیسا محسوس ہوا تھا۔ اسکے پاؤں تلے کیسے زمین کھسکی تھی” وہ چھت پر جیسے اپنی ماضعی کی یادیں دیکھتے بول رہا تھا۔ میرال کو اسکے ماتھے پر پسینہ محسوس ہوا،اسے یوں محسوس ہوا، جیسے اسکا دل بے حد تیز دھڑک رہا ہو۔۔۔
“بلاج اتنی ٹیشن مت لو تمہاری طبعیت بگڑ” میرال کو خوف سا محسوس ہوا۔ وہ اسکا دھیان بٹکانا چاہتی تھی۔
“میں نے وعدہ کیا تھا میں جس چیز کے لیے لڑتا رہا ہوں، اپنی فریڈم کے لیے، میں اپنے سارے بچوں کو وہ فریڈم دون گا ان پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالوں گا، کہ وہ کوئی برا قدم اُٹھانے کے لیے مجبور ہو جائیں۔ پر میں غلط تھا۔ میں نے اتنا برا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے بیٹے کو نہیں پوچھا۔ بس اسے فیصلہ سنا دیا، یہ جاننا ہی نہیں چاہا کہ وہ خوش ہے، تم نے کئی بار کہنے کی کوشش کی پر میں ہر بار ٹالتا گیا، میں بہت بری طرح سے ہارا ہوں، ایسا لگ رہا ہے ایک دم منہ کے بل گڑا ہوں، ایک دم منہ کے بل۔۔۔۔” وہ ویسے ہی چھت کو گھورتے ہوۓ ہولے ہولے بول رہا تھا۔۔ میرال کو وہ بالکل اپنے حواس میں نہیں لگ رہا تھا۔ ساحل جو کہ دروازے کے پار کھڑا سب سن رہا تھا۔ اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا اسی وجہ سے وہ اب تک رکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
“بلاج ! بلاج! نیہا اسفی، ساحل۔۔۔۔ جلدی آؤ۔ بلاج۔۔۔۔۔” تبھی اندر سے میرال کی چیخنے کی آوازیں آنے لگی۔۔ ساحل کے قدموں سے جیسے زمین کھسکی۔ اسنے دروازہ دکھیلا ۔ سامنے صوفے پر وہ بالکل ویسے ہی بیٹھا تھا گردن بھی ویسے ہی تھی۔ بس آنکھیں بند تھیں۔ اور جسم بے حد ٹھنڈا تھا۔۔۔۔ نیہا اور اسفی بھی میرال کی آوازیں سن کر بھاگے ہوۓ آۓ۔ حیام بھی جلدی سے باہر آئی
“بابا۔۔۔۔ پلیز آنکھیں کھولیں۔۔” ساحل روتے ہوۓ بلاج کے ہاتھ مسلتے ہوۓ بولا۔ وہ میرال سے بات کرتے کرتے آنکھیں موندھ گیا تھا۔۔نیہا نے جلدی سے بلاج کی نبض چیک کی جو بہت سلو چل رہی تھی۔۔۔۔
“نبض بہت سلو چل رہی ہے۔ جلدی سے ہسپتال لے کر جانا ہو گا” نیہا نے آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہا۔ ساحل اور اسفندیار نے بلاج کو سہارا دیتے ہوے اٹھایا۔ اور گاڑی میں لا کر پیچھے لٹایا۔ میرال نے اسکی سر اپنی گود میں رکھا۔ اسفی نے جلدی سے گاڑی چلائی۔ بغل میں نیہا بیٹھی تھی۔ گاڑی گھر کے گیٹ سے باہر نکلی۔ ساحل وہاں اکیلا کھڑا تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اس دنیا میں بالکل اکیلا رہ گیا ہو، بلاج نے ان تینوں پر کبھی کوئی سختی نہیں کی، ہمیشہ ایک ہنسی مزاق والا انکے گھر کا ماحول رہتا، جب سب اکھٹے بیٹھتے ہنستے مسکراتے رہتے، وہ باپ کی شکل میں ساحل کے لیے ایک بے حد مخلص دوست تھا۔
“ساحل انکل کو کیا ہوا؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟” حیام پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔ وہ اسکی آواز ہر چونکا۔
“کمرے میں جاؤ، میں آتا ہوں” اسنے سخت لہجے مین کہا۔۔ حیام اسکے لہجے کو سن کر ایک پل کے لیے سُن سی ہو گئی۔ ان دو مہینوں میں ایک دفع بھی انفیکٹ جب سے وہ اسے جانتی تھی اسنے اس انداز سے بات کبھی نہیں کی تھی۔ پر آج بات اسکے باپ کی تھی تو کیا وہ اپنے اس آخری سہارے کو بھی کھو بیٹھی تھی؟ کیا وہ اسے اس سب کی وجہ مانتا تھا؟ کیا واقع وہ وجہ تھی؟ وہ گاڑی لے کر چلا گیا۔ اور وہ پلٹ کر کمرے میں آ گئی۔ اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
“”””””””””””””””””””””””””””””””
بلاج کو فوراً ٹریٹ منٹ دیا گیا۔ اس وقت وہ ہسپتال کے ایک کمرے میں بیڈ پر پڑا ہوا تھا اسکو ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ اسکا بی پی شوٹ کر گیا تھا۔ پر ابھی سب کنٹرول میں تھا اگر کچھ دیر مزید ہو جاتی تو کام بگڑ سکتا تھا۔ میرال وہی کرسی پر بیٹھے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے مسلسل سورت پڑھ کر اس پر پھونک مار رہی تھی۔ ساحل نے دروازے سے ہی کھڑے ہو کر بلاج کو دیکھا، اور ڈاکٹر سے جا کر ساری تفصیل لی۔۔۔ نیہا یہاں کے ڈاکٹر کو جانتی تھی،اسے بھی دو ہفتے بعد یہی ہاؤس جاب شروع کرنی تھی۔ وہ ڈاکٹر سے تفصیل سے بلاج کی ہلیتھ کے بارے میں بات کر رہی تھی۔ اور انہیں باقی سب ٹیسٹ کرنے کا بول رہی تھی۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔