Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

“یہ لو ٹیسٹ کے ریزلٹ آگے” ہاشم ہاتھ میں پکڑے پیپرز اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔ اسکا چہرا پریشان تھا۔۔ دونوں گارڈن میں تھے۔ حوریہ اور پریشے ڈول ہاؤس کے ساتھ کھیل رہیں تھیں۔۔۔
“پاس کھڑے ہو کر کرواۓ ہیں؟ اتنی دیر کیوں لگا دیے، پتہ کتنا انتظار کر رہی تھی” نیہا پیپرز پکڑتے ہوۓ بولی۔ اور پیپرز پر نظر پھیری۔
“افکورس پاس ہی تھا” وہ کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ نیہا ریپورٹس دیکھ رہی تھی۔
“مجھے پہلے ہی شک تھا، پر ایسا ممکن کیسے ہے، ہسپتال میں تو ریپورٹس کا ریزلٹ یہ نہیں تھا، روکو تم” وہ بولتے ہوۓ پیپرز وہی رکھتی اپنے کمرے میں آئی، اور اس دن جو پیپرز رکھے تھے وہ نکالے اور نیچے آئی۔۔۔۔
“یہ دیکھو” وہ دونوں ریپورٹس کو ٹیبل پر رکھ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ ہاشم بھی غور سے دیکھنے لگا۔۔
“اس ریپورٹ کے مطابق تو یہ لڑکا اس دوا کے زیادہ استعمال کے بعد مرا ہے، حیرانگی کی بات یہ ہے، یہ دوا تو عام ہے، پین کلر ہی تو ہے، تو یہ مر کیسے سکتا ہے؟ آجکل بہت سے لوگ اسے کھا رہے ہیں، یہ مارکیٹ میں دو سال پہلے آئی تھی، اور ہم خود لوگوں کو یہ دوائی کھانے کے لیے دیتے ہیں، ایک عام سی پین کلر ہے، شائد وہ کام زیادہ کرتا ہو اور پھر درد کی وجہ سے وہ اُور ڈوز لینے لگ گیا ہو، پر جو بھی یے کافی عجیب یے، سمجھ سے باہر” ہاشم نے پاکٹ سے ایک ڈبی نکال کر اسکے سامنے رکھی۔۔ نیہا نے ڈبی پکڑی۔
“یہ تو میں خود کھاتی ہوں، یہ پین کلر ہے، اسکی وجہ سے وہ مر گیا۔ نا نا یہ ممکن نہیں ضرور کوئی اور بات ہو گئی، اچھا جہاں وہ کام کرتا تھا، وہ ایک نیشنل فارمیسی فیکڑی ہے، اب وہی سے پتہ چلے گا، ایسا کیا بناتے ہیں، جو لوگ مر رہے ہیں” نیہا ڈبی کو دیکھتے ہوۓ بولی۔ ہاشم نے ہاں میں سر ہلایا۔
“چلو میں پتہ کرتا ہوں” ہاشم کہتے ہوۓ اُٹھا اور چلا گیا۔۔۔ وہ کافی دیر ان ریپورٹس کو دیکھتی رہی۔۔ موبائل پکڑا اور اس دن اس لڑکے کے جسم پر بنے نیل کی تصویر دیکھتے ریپورٹس دیکھنے لگی۔۔
“حور یہ میرا گھر ہے، یہاں میں ماما اور بابا کے ساتھ رہتی ہوں” پریشے اپنی ڈول ہاؤس کو اپنا گھر بتا رہی تھی۔۔
“تمہارے بابا نہیں ہیں” حوریہ گڑیا کو پکڑتے ڈول ہاؤس کے ایک کمرے میں رکھتے ہوۓ بولی۔
“میرے بابا ہیں، مجھ سے ملے بھی تھے” پریشے نے چہکتے ہوۓ کہا۔
“تم جھوٹی ہو، میں نے تو تمہارے بابا نہیں دیکھے” حوریہ نے دوسری ڈول پکڑتے ہوۓ کہا۔
“میں نے بولا نا میرے بابا ہیں” پریشے غصے سے کھڑی ہوئی۔ اسکے چیخنے پر نیہا نے انکی طرف دیکھا۔ اسنے موبائل ریپورٹس کے اوپر رکھا اور اُٹھی۔۔
“پری بچے کیا ہوا؟ ” وہ چلتی ہوئی انکے پاس آئی۔۔
“پری جھوٹی ہے، کہتی ہے، اسکے بابا ہیں” حوریہ نے اسے گھورتے ہوۓ کہا۔ نیہا نے پریشے کی طرف دیکھا۔ جو غصے سے بھری نظروں سے حوریہ کو دیکھ رہی تھی۔
“بولا نا میرے بابا ہیں” اس سے پہلے کے نیہا کو کچھ سمجھ آتا وہ غصے سے اگے بڑھی اور حوریہ کو زور کا دھکہ دیا۔ وہ زمین پر گرتے رونے لگ گئی۔
“پریشے کیا بدتمیزی ہیں” نیہا نے بازو سے پکڑتے اسے دور کیا۔ اور سخت لہجے میں کہتے حوریہ کو اُٹھایا۔ حوریہ کے رونے کی آواز سن کر میرال اور حیام باہر آئیں۔۔حیام نے جھٹ سے حوریہ کو پکڑا۔۔
“یہ مجھے جھوٹی بول رہی تھی، کہ رہی تھی تمہارے بابا نہیں ہیں، آپ اسکو بتاؤ میں بابا سے ملی تھی” وہ زور سے چیختے ہوۓ بولی۔۔ میرال نے حیرانگی سے نیہا کو دیکھا جسنے نظریں چرائیں۔
“پہلے تو آہستہ آواز میں بولو، اونچی آواز میں گندے بچے بولتے ہیں” نیہا نے اسکو دونوں بازوں سے تھامتے اپنی طرف کرتے سخت لہجے میں کہا۔
“آپ سبکو بتاؤ، میں بابا سے ملی تھی” وہ زور سے چیخی۔۔۔
“پریشے بہت ہو گیا، بہت بدتمیز ہو گئی ہو” نیہا نے اسے چھنجھوڑتے ہوۓ غصے سے کہا۔۔
“ہٹو تم پری ادھر آؤ” میرال نے نیہا کا ہاتھ چھڑواتے ہوۓ پریشے کو اپنی طرف کھینچا اور سینے سے لگا دیا۔۔
“مجھے یقین ہے، میری پری اپنے بابا سے ملی” پریشے کو سینے سے لگاتے اسکے گال کو کھینچتے ہوۓ کہا۔۔
“سچ میں آپکو یقین ہے نا، میں جھوٹ نہیں بول رہی” بولتے بولتے پریشے کی آنکھیں نم ہوئیں، ہونٹ باہر کو آۓ، اور آنسوں گالوں پر بہے اسکے لہجے کی بے بسی صاف محسوس ہوئی، کہ وہ کسی کو یقین ہی نہیں دلوا پا رہی۔۔۔۔نیہا نے چہرا موڑ لیا۔۔۔
“بالکل میری بچی مجھے یقین ہے، اور پتہ ہے، ساحل ماموں بول رہی تھے، حوریہ اور پری کو بلاؤ میں انہیں باہر لے کر جاؤں گا، آئس کریم کھیلانے، حیام تم انکو لے کر جاؤ” میرال نے پریشے کو علحیدہ کیا۔ اور حیام کی طرف بڑھایا۔ وہ ان دونوں کو لیے چلی گئی۔۔۔
“تم چلو میرے ساتھ بات کرنی ہے” میرال نیہا کے پاس آئی، جو سر جھکاۓ خود کو مظبوط کر رہی تھی۔ اپنی ماں کی آواز پر گہرا سانس لیتے کھڑی ہوئی، میرال گارڈن میں رکھی کرسی پر جا کر بیٹھ گئی۔ نیہا بھی وہی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
“پریشے کب اسفندیار سے ملی؟” اسنے ڈائریکٹ سوال کیا۔ نیہا نے آہستہ سے دو لفظوں میں دونوں کی ملاقات کا واقع بیان کیا۔۔
“تو اب؟ اگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟” میرال کے سوال نے اسے چونکا دیا۔۔
“وہی جو بابا نے کہا تھا۔ پیپرز سائن کر دیے ہیں، کچھ دنوں میں جواب نا آیا تو دوبارہ پیپرز بھجوانے ہیں” وہ سامنے ان سفید پیپرز کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
“پری کا کیا بنے گا؟ سوچا ہے؟” میرال کے سوال دو ٹوک تھے۔۔۔
“کیا بننا ہے، افکورس میرے ساتھ ہی رہے گی، وہ میری بیٹی ہے صرف میری” نیہا کے لہجے میں غصہ تھا۔۔
“نیہا تم نے کچھ دیر پہلے اسکا برتاؤ دیکھا؟ اسکے اندر کا اگریشن دیکھا، اسکی عمر دیکھو اور اسکا غصہ دیکھو، اسے کیسے سمجھاؤ گی کہ جس سے کچھ دن پہلے تم۔ملی، وہ تمہارا باپ تو ہے پر وہ تمہارے ساتھ نہیں ہے؟”
“سمجھا لوں گی” نیہا نے سر جھٹک کر کہا۔۔۔
“چلو یہ بتاؤ، کیا وہ طلاق دینا چاہتا ہے؟ ” میرال کے سوال پر اسنے انکار کیا۔۔۔۔۔
“کیا باتیں ہو رہی ہیں؟” اندر سے بلاج باہر آیا تو اسکی نظر دونوں پر پڑی وہ انکی طرف آیا۔۔۔
“کچھ نہیں ایسے ہی ” نیہا نے جلدی سے کہا۔ وہ اسفندیار کا ٹاپک بلاج کے سامنے دوبارہ نہیں لانا چاہتی تھی۔ وہ اپ سیٹ نا ہو جاۓ۔
” اسفندیار کی بات کر رہی ہوں، ہمیں اب اسے بلا کر اس لٹکے ہوۓ رشتے کو ختم کرنا چاہیے اور نیہا کی کسی اور جگہ شادی کرنی چاہیے” میرال نے دونوں کو دیکھتے ہوۓ کہا۔ بلاج نے نیہا کی طرف دیکھا جسکا چہرا مُرجھایا تھا۔
“میں بلواتا ہوں، واقع اب اس قصے کو ختم ہو ہی جانا چاہیے، چلو ڈنر لگواؤ، کافی بھوک لگی ہے” بلاج نے نیہا کے اداس چہرے کو دیکھتے یہ ٹاپک ہی بند کیا۔ میرال ہاں میں سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی۔۔ نیہا بھی اپنی جگہ سے اُٹھی۔ موبائل اور پیپرز پکڑے۔۔
“میری پرنسس اگر اداس ہے تو ہم باپ بیٹی فیورٹ آئس کریم نا کھا کر آئیں، آئس کریم کی مِٹھاس سے موڈ بھی فریش ہو جاۓ گا” بلاج نے مسکراتے ہوۓ اسکے کندھوں کے گرد بازو لپیٹا۔۔۔۔
“نہیں، میں ٹھیک ہوں بابا” وہ بلاج کے گلے لگتے زبردستی مسکرا کر بولی۔ بلاج نے اسکے بالوں پر بوسہ دیا۔۔۔
“اللہ تمہیں دنیا کی ساری خوشیاں دے” دل سے اسے دعا دی۔ اور باتیں کرتے اندر کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔


مزمل اور فرید احمد اس وقت فام ہاؤس پر پہنچے تھے، جہاں انکی ڈیل فائنل ہونی تھی، دونوں چلتے ہوۓ اندر آۓ، نوکروں نے دیکھتے ہی سر جھکاۓ۔ وہ چلتے ہوۓ اندر آیا۔ اور مزمل کو راج آبرواۓ کو لانے کے لیے بھیجا۔۔۔۔اور خود مسکراتا ہوا۔ بیٹھ گیا۔ ۔۔۔۔جب مزمل ہانپتا ہوا نیچے آیا۔۔۔
“بھائی بھائی، راج آبراؤے نہیں ہے” وہ پریشانی سے بھرے لہجے میں بولا
“کیا بکواس کر رہا یے، وہ یہی ہونا چاہیے” فرید احمد غصے سے کھڑا ہوا۔۔۔
“میں اسے کل یہی چھوڑ کر گیا تھا، مگر اب نہیں ہے” وہ اپنے سر کو پکڑتے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
“ابھے او اگر وہ مجھے نا ملا نا تو تیری خیر نہیں” فرید احمد نے مزمل کو کالر سے پکڑتے جھجھوڑتے ہوۓ کہا۔۔۔ اور سارے نوکروں کو آواز لگائی، اور فام ہاؤس کا کونہ کونہ چھانے کا حکم دیا۔۔۔


“تم لوگ مجھے یہاں کیوں لاۓ، مجھے جانے دو” وہ کرسی پر بندھا ہوا تھا۔۔۔۔
“تمہیں ایک لفظ کا پتہ ہے، کیڈنیپ، تم کیڈنیپ ہو چکے ہو” حسنین سامنے کھڑا ہاتھ میں پکڑی پسٹل کو پھونک مارتے ہوۓ بولا۔۔۔
“واٹ کیڈنیپ، پر کیوں؟” وہ زور سے چیخا۔۔۔
“بس ایسے ہی، زندگی میں اتنے مزے مزے کے کام کیے، پر کبھی کیڈنیپنک نہیں کی، تو آج وہی انجام دیا” وہ اپنے چہرے پر پہنا کالا ماسک صحیح کرتے ہوۓ بولا۔۔
“تم پیسے بولو جتنے بولو گے اتنے دوں گا بولو پلیز چھوڑ دو مجھے” وہ گڑگڑاتے ہوۓ بولا۔۔۔
“ہمیں پیسے نہیں چاہیے بس کچھ انفارمیشن چاہیے” تبھی کافی دیر سے چپ بیٹھی گلناز کی آواز گھونجھی۔۔۔ وہ بھی چہرا ڈھانپے ہوۓ تھی۔۔۔
“کیسی انفارمیشن؟” راج آبرواۓ چونکا۔۔
“آج کی تمہاری اور فرید احمد کی میڈیسن کے متعلق ہونے والی ڈیل کی ساری انفارمیشن چاہیے” گلنار وہی کرسی پر بیٹھی بیٹھی بولی۔۔۔۔۔ راج جو انہیں معمولی گیڈنیپیز سمجھ رہا تھا۔ اب صحیح معنی میں چونکا۔۔۔
“کیسی ڈیل میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا ” اسنے صاف انکار کر دیا۔۔
“ہمممم تو تم ایسے نہیں بتاؤ گے” حسنین نے کہتے ہوۓ ایک باکس لایا اور اسے گلناز کی طرف کیا۔۔۔
“میم اب آپکا کام ہے” وہ باکس کھولتے ہوۓ بولا۔۔ گلناز نے سخت نظروں سے راج کو دیکھا اور باکس میں سے ایک کٹر نکالا۔۔راج کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ گئیں۔
“تو بتانا پسند کرو گے، کن میڈیسنز کی بات کر رہے ہو؟” گلناز اس کٹر کو بار بار کھول اور بند کر رہی تھی۔۔
“میں نے بولا نا نہیں جانتا، کس بارے میں بات کر رہے ہو؟” وہ ابھی بھی ٹال رہا تھا۔۔۔
“میم یہ تو کچھ بولنے کے لیے تیار ہی نہیں، تو اب؟” حسنین وہاں پڑے ہتھوڑے کو پکڑتے زمین پر مارتے ہوۓ بولا۔
“تو مجھے نکلوانا آتا ہے” گلناز نے اس کٹر سے اسکی چھوٹی انگلی کا ناخن اُدھرا۔ راج کی چیخیں بلند ہوئیں۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ گلناز رکی نہیں وہ دوسری انگلی کی طرف بڑھی۔۔ تبھی وہ چیخا۔۔
“رُکو بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔” وہ جی جان لگا کر چیخا تھا۔ گلناز اور حسنین نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔ حسنین نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور موبائل نکال کر ویڈیو ریکارڈنگ کو آن کر دیا۔۔۔
” فرید احمد کی فارمیسی کمپنی میں ایک دوائی بن رہی ہے، جو سر درد کی ہے، دیکھنے میں بہت عام ہے، اسنے شائد دو تین سال پہلے یہ دوائی مارکیٹ میں لاونچ کی تھی، اسکا اثر جلدی ہوتا ہے، کافی بکتی ہے ، تو اب اسنے اس دوا میں کچھ اڈیشن کیا ہے، جسکی وجہ سے اب جو بھی اس دوا کو استعمال کرے گا اسے لت لگ جاۓ گی، اس ملک میں دو تین ماہ سے لوگ لے رہے ہیں” وہ درد کو دباتے ہوے انہیں بتاۓ جا رہا تھا۔۔۔
“مطلب وہ ایک نشے کی طرح سبکو لگ جاۓ گی، اور اسکی وجہ سے لوگ اسکو زیادہ خریدیں گے، طبعیت ٹھیک ہونے کی بجاۓ مزید خراب ہوتی جاۓ گی، اور لوگ اسکو ایک سے زیادہ کھانا شروع کریں گے، اور یوں اس دوائی کی وجہ سے پرافیٹ زیادہ ہو گا” اسنے مزید تفصیل سے بتایا۔ گلناز اور حسنین نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“حیوان کہی کے تمہاری تو” حسنین نے اسکے چہرے پر گھوما کر مُکہ مارا۔۔۔
“تم تو اب غائب ہو گے ہو، تو مطلب یہ ڈیل کینسل حسنین چلو میرے ساتھ، اور تم اب یہی سڑو” گلناز اسے غصے سے گھورتے ہوۓ بولی۔۔۔ وہ دنوں اسکو وہی چھوڑ کر کمرے سے باہر گے، وہ پیچھے سے چیختا رہا۔۔۔۔۔
“حسنین یہ ڈیل تو کیسنل ہو گئی، پر ابھی بھی ہمیں اس ویڈیو کے ساتھ اور بھی ثبوت چاہیں جو یہ ثابت کریں کہ فرید احمد یہ کام انجام دے رہا ہے۔۔۔۔۔
“راج ادھر قید ہے تو فرید احمد کا سارا فوکس اسکو ڈھونڈنے میں لگا ہو گا۔ تو ہم اس فیکٹری میں جا سکتے ہیں، شائد کوئی ثبوت ہمارے ہاتھ لگ جاۓ ” حسنین بولا۔ گلناز اس کمرے کو تالہ لگاتے ہوۓ اسکے ساتھ اس بیسمنٹ سے باہر نکلی۔۔۔۔
“روکو اس سے پہلے مجھے ایک کام کرنا ہے” اسے اسفندیاد کا دیا ہوا لفافہ یاد آیا۔
“اوکے، تم۔اپنا کام پورا کرو، میں ساری ضرورج چیزیں لے کر دس بجے تک فیکٹری پہنچتی ہوں” گلناز نے ٹائم دیکھتے ہوۓ کہا جہاں آٹھ بج رہے تھے،۔ گلناز گاڑی میں بیٹھی، اور حسنین بائیک کو چلاتے اس جگہ سے نکلے۔۔
وہ سیدھا بلاج ہاؤس پہنچا، وہاں کے گاڈ نے اسے اندر نہیں جانے دیا، بلاج نے سیکیورٹی کافی ٹائیٹ رکھی ہوئی تھی، اسنے گاڈ سے ریکویسٹ کی کہ بلاج کو بلا دے۔ یا اسے کہے کہ اسفندیار کو دوست آیا ہے۔ گاڈ نے انٹرکام سے بلاج کو پیغام ہھجوایا۔ بلاج نے اسے اندر سٹڈی روم میں آنے کا کہا۔۔ وہ اندر آیا۔ اور سیدھا سٹڈی روم میں پہنچا۔۔۔۔
“بولو کیوں ملنا چاہتے ہو؟” بلاج کو اسکا یوں یہاں آنا کچھ سمجھ نا آیا۔
“مجھے آپکو یہ دینے کا حکم ہوا تھا بس وہی دینے آیا ہوں” اپنی اندرونی پاکٹ سے اسنے لفافہ نکالا، اور سامنے ٹیبل پر رکھا۔ بلاج نے ایک نظر لفافے کو اور دوسری نظر اسے دیکھا۔ جو دونوں ہاتھ باندھے اور نظریں جھکاۓ کھڑا تھا۔۔ اسنے بنا کچھ کہے لفافہ پکڑا اور اسے کھوا۔ اندر سے ایک کاغذ نکلا۔۔ اسنے کاغذ کو کھولا۔
“انکل سبکی سیکورٹی بڑھا دیں، کسی کو باہر نا جانے دیں، خطرہ مزید بڑھ چکا ہے” یہ ایک لائن لکھی ہوئی تھی، اور نیچے اسفندیار حسن کے سائن کیے گے تھے۔ اسنے لائنز پڑھ کر کاغذ کو بند کیا۔ اور حسنین کی طرف متوجہ ہوا۔
“کہاں گیا ہے وہ؟ خود کیوں نہیں آیا؟ اور یہ کاغذ تمہارے ہاتھ کیوں بھجوایا؟” وہ کاغذ کو ٹیبل پر پھینکتے ہوۓ کھڑا ہوا اور اسکے مقابل آیا۔۔۔
“وہ اپنے کام میں مصروف ہیں، مجھے بس یہ بولا کہ یہ پہنچا دو۔ میں بس اپنا کام مکمل کرنے آیا ہوں” بنا کسی ایکسپریشن کے اسنے کہا۔
“کیسا کام اب کونسا ایل لیگل کام۔کرنے چلا گیا” بلاج کے لہجے میں طنز تھا۔ حسنین نے اب نظریں اُٹھائیں اور اسے دیکھا۔
“ساری زندگی اسے اس گندے کھیل سے بچاتا رہا اور اب دیکھو کہاں جا کر گڑا ہے، اپنے دوست کو بولو مجھے اسکی ایڈوائیس کی ضرورت نہیں، میں خود کافی ہوں اپنی فیملی کو پروٹیکٹ کرنے کے لیے” اسکے لہجے میں غصہ ناراضگی بھری ہوئی تھی۔ حسنین چپ ہی رہا۔۔۔۔
“جاؤ نکلو اب” بلاج کہتا ہوا پلٹ گیا۔ حسنین نے گہرا سانس لیا اور پلٹ گیا۔ کمرے سے نکلتے وہ روکا اور واپس مڑا۔
“وہ آپکو اپنے باپ کی جگہ پر رکھتے ہیں، اس دنیا میں سب سے زیادہ آپکو چاہتے ہیں، ان پانچ سالوں میں جب بھی انہیں موقع ملتا وہ سب سے زیادہ آپکی باتیں کرتے تھے۔ آپ بھی اپنی تربعیت پر شک نا کریں، یقین کر کے دیکھیں، اور انہوں نے جو بھی اس پیپر پر لکھا ہے، اسکو غور سے پڑھیں آپکو سمجھ آ جاۓ گی، میں چلتا ہوں اللہ حافظ” وہ سنجیدہ انداز میں کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ بلاج وہی کا وہی ٹھر گیا۔ حسنین کے الفاظوں نے اسے اندر تک جھنجھوڑ ڈالا تھا۔تو کیا وہ کوئی چیز مس کر رہا تھا۔ وہ جلدی سے آگے بڑھا اور اسنے پیپر دوبارہ کھولا۔۔۔ اسے وہ لائینز دس دفع پڑھیں، اسنے پیپر کو پورا دیکھا اور کچھ نا تھا۔ اسنے پیپر پلٹا وہاں بالکل آخر میں آئی ایم سوری چاچو لکھا ہوا تھا۔ بلاج وہی کرسی پر بیٹھاتا چلا گیا، اسکی آنکھوں سے آنسوں نکلنے لگے۔ اسے یاد تھا۔ اسفندیار اسے ہمیشہ سے انکل کہنے کی بجاۓ چاچو کہنا چاہتا تھا۔ میرے چاچو، وہ ہمیشہ اس سے کہتا تھا۔ وہ اسے سب کے سامنے پورے حق سے چاچو کہنا چاہتا ہے۔ پر اسکی شناخے چھپانے کے لیے وہ انکل کہتا، ( جو ہم ہر دوسرے بندے کو بول سکتے ہیں، ) لیکن جو اپنانیت چاچو لفظ میں ہے وہ انکل میں کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن میں وہ ان ٹرکوں کے ساتھ خوفیہ راستوں سے اپنی منزل سے سو کلو میٹر پیچھے تھے وہ لوگ ابھی بھی پاکستان کی حدود میں تھے، ٹرک چل رہے تھے، تبھی اچانک سے بریک لگی، باسط جو سو رہا تھا، جھٹکے سے اُٹھا، آنکھیں مسلتے اسنے باہر دیکھا، سامنے کھڑی پولیس کی گاڑیوں کو دیکھ اسکی ہوائیاں اُڑئیں، وہ ٹرکوں کے آس پاس پھیلے پوزیشن لے چکے تھے، پولیس والے ٹرکوں میں سے سبکو نکال رہے تھے، باسط کو بھی نکالا گیا۔ پانچ بندے تھے، جنکے ہاتھوں کو ہتھکڑیوں سے باندھے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھایا تھا۔ سبھی کے سبھی شاک میں تھے “تھینک یو اسفندیار، یہ سب آپکی وجہ سے ممکن ہوا اس دن کا مال بھی آپکے بندے نے پکڑوایا، ہمیں اسی نے آ کر بتایا تھا، کہ کس وقت ٹرک یہاں پہنچنے والے ہیں” ڈی ایس پی اب اسفندیار سے ہاتھ ملا رہا تھا۔ وہ دونوں تھوڑا دور تھے، پر باسط انہیں سن سکتا تھا۔ اسنے ہلکی سی گردن موڑی، سامنے اسفندیار کو مسکراتے ہوۓ ہاتھ ملاتے دیکھ کر اسکا دماغ بھک سے اُڑا۔ اور اس سے زیادہ شدید جھٹکا تب لگا جب اسکی نظر وسیم پر پڑی جو انکے ساتھ کھڑا تھا۔ اور اسی طرف دیکھ رہا تھا۔ “سر یہ تو میرا فرض تھا” اسفندیار نے مسکرا کر کہا۔ “وسیممممم” اسکے منہ سے اسکا نام تک نہیں نکل رہا تھا۔ یہ اسکی زندگی کا سب سے برا جھٹکا تھا۔۔ وسیم نے نظریں پھیر لیں۔۔ “وسیم تم انکے ساتھ ملے ہو، حرام خور تو میرا بیٹا یے، خود اپنے باپ کو کیسے پکڑوا سکتا ہے؟” باسط چیخا تھا۔ تبھی اسکے پیچھے کھڑے پولیس والے نے اسکی کمر پر پاؤں مارا۔۔۔ وسیم دو قدم چلتا ہوا باسط کے پاس آیا۔ “اماں کو مرے چھے سال ہونے والے ہیں، میں نے پانچ سال اس بند کال کھوٹلی میں گُزارے ہیں، اور معلوم ہے، میرا ایک دن ایسا نہیں گزرا جب مجھے اماں کا بیمار چہرا ،اور حیام کی بے بسی والی آنکھیں نظر نا آئی ہوں، پہلے مجھے غصہ آتا کہ بھلا میں نے ایسا کیا کِیا ہے، جو میں یوں بے چین رہنے لگا ہوں، پھر چڑچڑاہٹ ہونے لگی، اور پھر خود سے ہی نفرت ہونے لگی، لمحہ لمحہ یہ نفرت بڑھتی چلی گئی، اور پھر ایک رات مجھے خواط آیا۔ میں خود کو ختم کر رہا ہوں، میں مرنے کے بالکل قریب تھا مجھے میرے سامنے اماں نظر آئی، وہ مجھے مرتا دیکھ رو رہی تھی اور منع کر رہی تھی، ایک ہی جھٹکے میں میری نیند کھل گئی، اور میں وہ ساری رات روتا رہا، معافیاں مانگتا رہا۔۔۔۔۔ توبہ کرتا رہا، اور جب فرید احمد نے مجھے اس جیل سے نکلا تب میں فیصلہ کر چکا تھا، میں اس دلدل سے نکل جاؤں گا۔ اور مجھے اسفندیار ملا، جسنے مجھے دلدل سے نکلنے کا راستہ دیکھایا۔ مین نے اسکا ساتھ دیا، اور پہلا مال پکڑوایا اور آج دوسرا۔ اب تو ابراہیم پاشا ختم تم جو دو کشتیوں میں سوار تھے فرید احمد سے بھی اپنا کام۔نکلوا لیتے اور ابراہیم پاشا سے بھی ملے ہوتے، اب کسی کام کے نہیں رہو گے” وسیم کہتا ہوا واپس پلٹ گیا۔ اور باسط جیسے جیسے سن رہا تھا ویسے ویسے اسکا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا۔ وہ سچ میں اب کسی کا نہیں رہا، وہ بہت چلاکی سے دونوں پارٹیز میں کام کرتا تھا۔ کسی ایک کو بھی بھنک لگنے نہیں دیتا کہ وہ دوسرے کو جانتا ہے،۔۔۔۔۔۔۔۔ “تم مرو گے، حرام خور اپنے باپ کو پھنسوا کر تم بچ نہیں پاؤ گے میں تمہیں جان سے مار دوں گا” وہ غصے سے چیختا ہوااسکی طرف لپکا تبھی ایک پولیس آفیسر نے اسے قابو کیا۔ ڈی ایس پی کے اشارے پر پانچوں کو وین میں بیٹھایا گیا۔ اور مال بھی لے کر چلے گے۔۔۔۔ “ینگ مین، اب تم جا سکتے ہو، میں نے گاڑی کا انتظام کر دیا ہے۔ یہ لو چابء میں انکو سھنمبال لوں گا” ڈی ایس پی اسے چابی تھما کر چلا گیا۔ اسفندیار نے وسیم کو دیکھا، جو ابھی تک اس وین کو دیکھ رہا تھا جس میں باسط تھا۔ اور اسکی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے۔ وین نظروں سے اوجھل ہوتی چلی گئی۔۔ وہ بنا کچھ بولے اگے بڑھا اور اسے گلے سے لگایا، وسیم زورو قطار سے رونے لگا۔۔۔ اسفندیار نے اسے بامشکل چپ کروایا اور گاڑی کی طرف چل دیے، گاڑی میں بیٹھے اب وہ اپنی منزل پر روانہ ہوۓ جس میں انہیں، ایک دن تو لگ ہی جانا تھا کیونکہ یہ گاڑی تھی، ٹرک سے حساب سے تیزی سے پہنچا سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “**
رات کے دس بج رہے تھے وہ حسنین کے ساتھ اس وقت نیشنل فیکٹری کے باہر موجود تھی، دونوں اس وقت یہاں کے ورکرز کے حلیے میں تھے، دونوں اس وقت چہرا ڈھانپے ہوۓ تھے۔ یہاں ہی سیکیورٹی کافی سخت تھی، جسے توڑ کر اندر داخل ہونا مشکل تھا۔ فیکٹری مکمل بند ہو چکی تھی، ورکرز بھی جا چکے تھے۔
“یہ اس فیکٹری کا میپ ہے، یہ مین ڈور، یہ بیک ڈور ہے، اس کے علاوہ جانے کا کوئی راستہ نہیں، یہ دیکھو، ہم صرف ایک راستے سے جا سکتے ہیں، یہ والی پائیپ جو سیدھا دوسرے فلور پر جاتی ہے، ہم اس کمرے میں اتریں گے، پھر اگے اندر جا کر دیکھتے ہیں” حسنین نے میپ نکال کر سامنے رکھا۔۔۔۔اور اسے سب سمجھانے لگا۔ اب دونوں کا رخ پائیپ کی طرف تھا۔۔۔دونوں پائیپ کے راستے اوپر جانے لگے، جس میں وہ ایکسپرٹ تھے۔ دونوں دوسرے فلور کے اس کمرے میں پہنچے۔۔ وہاں سے دونوں باہر نکلے، تو فیکڑی میں مکمل اندھیرا تھا، گلناز نے ہلکی سی ٹارچ آن کی، اور آس پاس دیکھنے لگی۔ جہاں بری بری مشنیں لگی ہوئیں تھیں۔ وہ دونوں چلتے ہوۓ نچلے فلور پر آۓ۔۔
“یہاں تو کچھ نہیں مل رہا ” حسنین نے ایک طرف لائیٹ مارتے ہوۓ کہا۔۔
“تم بس دھیان سے دیکھتے رہو کچھ تو ضرور ملے گا” گلناز دبے پاؤں چلتے ہوۓ ہلکی آواز میں بولی۔ حسنین نے کمدھے اچکا دیے۔۔۔ دونوں کافی دیر ڈھونڈتے رہے پر کچھ نا ملا۔
“یہاں تو سچ میں سواۓ مشنیوں کے کچھ نہیں، کوئی آفس بھی نظر نہیں آ رہا جہاں کوئی فائل ہی مل جاۓ” گلناز اب غصے۔ سے بولی۔۔۔ حسنین چپ تھا۔ جب اسنے کوئی جواب نا دیا تو وہ مُڑی وہ ایک جگہ کھڑا ہو کر سامنے دیکھ رہا تھا۔۔
“کیا ہوا؟” وہ اسکے پاس آئی۔ اسکی نظر بھی اسی طرف گئی۔ جہاں سیڑھیاں تھیں،
“بیسمنٹ کی سیڑھیاں” دونوں کے منہ سے نکلا۔ وہ جلدی سے چلتے ہوۓ سیڑھوں سے نیچے آۓ۔ یہ ایک برا سا حال تھا۔ جہاں قطار در قطار کمرے بنے ہوے تھے،
“اف خدایا عجیب بدبو ہے” دونوں نے ناک دبائی۔ اور لائیٹ مارتے ہوۓ اگے بڑھے گلناز نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا۔ یہ لیبارٹری تھی، اسنے کیمرہ آن کیا اور ساتھ ساتھ ریکارڈ کرنے لگی۔ فارمیسی فیکٹری میں لیبارٹری ہونا تو ضروری تھا۔ دوسرے کمرے کی طرف بڑھے دروازہ کھولا۔ تو اد کمرے میں کئی بیڈ لگے ہوۓ تھے، دونوں شاک ہوۓ، کیونکہ اس پر لوگ لیٹے ہوۓ تھے،۔ انکو بوتلیں لگی ہوئیں تھیں۔۔۔۔ دونوں تیسرے کمرے کی طرف۔ بڑھے وہاں بھی سیم تھا۔ چوتھا پانچواں چھٹا، سب میں سیم تھا۔ حسنین نے اگلا دروازہ کھولا۔ یہ ڈیڈ باڈی فریدزر روم تھا۔ دونوں کا شاک کے مارے برا حال تھا۔
“یہ سب کیا ہے؟” گلناز کے منہ سے پھسلا۔۔۔۔۔
“میں بتاتا ہوں، یہاں جو نئی دوا بنتی ہے، اسکے ایکسپریمنٹ کے لیے لوگ ہیں، ان پر ایکسپریمنٹ ہو رہا ہے” تبھی پیچھے سے ایک سرد آواز گھونجھی، حسنین اور گلناز کے چہرے کے رنگ اُڑے، انکی سانسیں تھمی دونوں ایک جھٹکے سے مڑے، سامنے فرید احمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا تھا، اور کھا جانے والی نظروں سے انہیں گھور رہا تھا۔ جیسے ابھی نگل جاۓ گا، اسکے اشارے پر اسکے آدمیوں نے دونوں کو پکڑ لیا۔۔دونوں کے ہاتھ پیچھے لے جا کر ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔۔۔۔۔ اور کمر پر مار کر گھٹنوں کے بل بیتھایا گیا۔ گلناز کا فون فرید احمد نے پکڑا۔ اور ویڈیو کو دیکھتے ہنس پڑا۔۔۔
“چچ۔ چچ چچچ کتنے بچے ہو تم لوگ، سچ میں اسفندیار کے ساتھی ہی لگ رہے ہو، تم سبکو کیا لگتا ہے، تم مجھے ان چھوٹے موٹے ثبوتوں سے پکڑ پاؤ گے؟ ہااہاہا بالکل نہیں” وہ ہنستے ہوۓ ان سبکا مزاق اُڑا رہا تھا۔
“سالے تو اتنا مت اُڑ پکڑا بھی جاۓ گا اور ذلت کی موت بھی مرے گا” حسنین چیخا تھا۔ اسکی بات سن کر وہ چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔ اور اسکے چہرے پر اپنا پاؤں مارا وہ پیچھے کی طرف جا کر گڑے۔ اور پھر اسنے اسکے بال پکڑے اور اپنی طرف کیا۔۔۔
“ابے او چوزے، تو اپنی اوقات میں رہ فرید احمد سے پنگا مت لے، تم سبکو کیا لگتا ہے، اتنا برا بزنس میں نے ایسے ہی شروع کر لیا، میں تم سبکو اپنی جیب میں رکھتا ہوں، تم چایے ہزاروں ثبوت میرے خلاف لے آؤ پھر بھی تم مجھے نہیں پکڑ سکتے، میں فرید احمد ہوں، تم اور اسفندیار جیسے لوگ مجھے چھو بھی نہیں سکتے، تم دونوں کو کیا لگا میرے فام۔ہاؤس سے راج کو غائب کر لو گے اور مجھے علم بھی نہیں ہو گا، تو بھولے بچوں میرے فام۔ہاوس پر کیمرے لگے ہیں تم دونوں تبھی پکڑے گے۔ چلو لے چلو انکو” وہ ایک جھٹکے میں اسکے بال چھوڑتے اپنے آدمیوں کو ان دونوں کو کے جانے کا آڈر دیا۔ وہ دونوں کو پکڑتے ہوۓ باہر آۓ۔ وی انہیں پکڑتے باہر گاڑی کے پاس آۓ، حسنین کا موبائل پچھلی پاکٹ میں تھا۔ اسنے نکال کر زمین پر پھینک دیا۔ جسکا احساس کسی کو نا ہو سکا۔۔ اگر وہ نا پھینکتا تو انہوں نے وہ موبائل بھی لے لینا تھا۔۔۔۔
وہ انہیں لیے اپنے خوفیہ اڈے پر پہنچا جہاں انہیں بند کر دیا گیا۔۔۔۔
“اسفندیار اسفندیار اب تمہیں اس غلطی کی بھاری سزا تو بھگتنی پڑے گی، اب وہ سزا کون بھگتے گا، تمہاری بیوی؟ ہاہاہاا یا تمہاری بچی؟ یا کوئی اور؟” وہ دانت پیستے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔۔۔۔


جاری ہے۔۔۔۔