Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

“تو کیا سوچا تم نے؟” وسیم اس وقت ریسٹورینٹ میں ساحل کے سامنے بیٹھا اس سے پوچھ رہا تھا۔
“ایک کنٹریکٹ ہے، اس میں لکھا ہے تم نے مجھ سے پچاس لاکھ روپے لیے، اسکے بدلے حیام کا نکاح مجھ سے کروایا، اب تمہارا حیام کی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں،” ساحل نے ایک فائل کھول کر اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔
“ارے بھئی میرا کیا لینا دینا، مجھے تو بس میرے پیسوں سے مطلب ہے” وہ ہنستے ہوۓ پین اُٹھا کر سائن کرنے لگا۔ ساحل نے دانت پیستے اپنے سامنے بیٹھے بے غیرت بھائی کو دیکھا جو پیسوں کے لیے اپنی بہن کا سودا کر رہا ہے۔
“چیک کب دو گے؟” فائل کو بند کرتے اسنے ساحل کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔
“نکاح ہوتے ہی”
“چلو پھر دیر کس بات کی، جا کر نکاح کرتے ہیں” ویسم اپنی جگہ سے اُٹھا، ساحل نے گہرا سانس لیا اور اسکے پیچھے چل دیا۔وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے ساحل نے گاڑی وسیم کے گھر کی طرف بڑھا دی۔ ساحل نے نکاح خواہ کا بندوبست کیا۔ گاڑی گلی کی نُکر پر رکی۔ وہ وسیم کے پیچھے اسکے گھر کی طرف بڑھا۔ وسیم نے دروازہ بجایا۔ تھوڑی دیر بعد حیام نے ہی دروازہ کھولا۔ سامنے ساحل کو کھڑا دیکھ وہ حیران ہوئی۔
“ہٹو کیا بت بن کر کھڑی ہو” ویسم نے اسے جھڑکا وہ ایک طرف ہو گئی۔ مومنہ بیگم ہسپتال میں تھیں، وہ انکا ناشتہ بنانے ہی گھر آئی تھی۔ وہ دونوں اندر آۓ۔ ساحل سامنے رکھی چارپائی پر بیٹھ گیا۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟” حیام اسکے سامنے آتے ہوۓ بولی۔
“تم سے نکاح کرنے آیا ہے، پچاس لاکھ کا سودا ہوا ہے ابھی مولوی آ جاے گا ” وسیم کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بہت آرام سے بولا۔ حیام کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ساحل اس سے نظریں تک نا ملا سکا۔
“کیااااا بکواااس کر رہے ہو” وہ ہکلاتے ہوۓ بولی۔
“اگر تجھے یہ منظور نہیں تو ایک اور گاہک یے میں اسکو بیچ سکتا ہوں” ویسم کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔۔
“ٹھاہ۔۔۔۔ بے شرم، حیوان کہی کے، تمہیں شرم نہیں آ رہی اپنی بہن کو پیسوں کی خاطر بیچتے ہوۓ” حیام نے اسکے چہرے پر تھپڑ مارتے ہوۓ چلا کر کہا۔
“سالی حرام خور۔۔۔۔” وسیم اسے مارنے کے لیے اگے بڑھا تبھی ساحل درمیان میں آ گیا۔۔
“ہاتھ مت لگانا ” اسنے انگلی اٹھا کر اسے وارنگ دی۔ وسیم ہاتھ ملتا پیچھے ہو گیا۔ وہ ڈرتا تھا یہ مرغا جو پھنسا ہے کہی ہو بھی نا ہاتھ سے نکل جاۓ، اسی لیے وہ رک گیا۔
“اور آپ بھی منہ اُٹھا کر چلے آۓ، سوچتے ہوں گے چلو اس نیلامی میں اپنا پیسہ دے کر حصہ ڈال لیتا ہوں” وہ روندھی آواز میں اب ساحل سے مخاطب ہوئی، ساحل کو اسکی آواز میں چھپا درد محسوس ہوا۔ ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کیا کچھ نا سہ رہی تھی۔ وہ کچھ بولنے کے لیے اگے بڑھ ہی رہا تھا کہ وسیم بول پڑا۔
“زیادہ آنسوں بہانے کی ضرورت نہیں، ابو نے مجھے اس کام کی آجازت دی تھی، وہ بھی یہی چاہتے تھے، امی تو پہلی ہی مرنے والی ہے، وہ اب ویسے بھی ہسپتال کے بیڈ پر ہی مرے گئیں، میں نے یہ گھر بھی بیچ دیا یے۔ تمہارا اس سے نکاح کروا کر میں یہاں سے چلا جاؤ گا۔ ابو کے پاس۔۔۔۔” وسیم نے کندھے اچکاتے کہا۔ تبھی دروازہ کھٹکا وسیم باہر دیکھنے گیا
“حیام میری بات سنو،،، میرے پاس۔۔۔۔” ساحل کچھ بولنا چاہتا تھا۔ حیام وہی چارپائی پر بیٹھ گئی۔ وہ چپ سا ہو گیا۔ ویسم مولوی کے ساتھ اندر داخل ہوا۔۔ کچھ ہی دیر میں ان دونوں کا نکاح ہوا۔ حیام انکار نا کر سکی اور کرتی بھی کیسے ایک دم سے اسکے بھائی اور باپ نے اسے بیچ دیا۔ اسے لگا اب وہ کبھی سر اُٹھا کر اعتماد کے ساتھ جی نہیں پاۓ گی۔ نکاح کے بعد ساحل نے اسے اپنی چیزیں سمیٹنے کا بولا۔ وہ کمرے میں گئی۔ ایک بیگ میں اپنی ضرورت کی چیزیں ڈالیں۔ کالی چادر لی اور باہر آئی۔ وہ اس گہرے صدمے سے باہر نکل ہی نا پا رہی تھی۔ اسکی انکھوں سے مسلسل آنسو نکل رہے تھے۔۔۔ ساحل نے اسکے ہاتھ سے بیگ تھاما۔ اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ وسیم کرسی پر بیٹھا۔ سگریٹ پی رہا تھا۔ چلتے چلتے حیام رکی۔ ساحل بھی رک گیا۔ وہ وسیم کی طرف مڑی۔
“تم میرے بڑے بھائی تھے، بھائی بہنوں کی حفاظت کرتے ہیں، انکو ہر اونچ نیچ سے بچاتے ہیں، تم نے آج ساری شرم ،لحاظ بھلا کر اپنی ہی بہن کو بیچ دیا صرف چند پیسوں کے لیے، وسیم بھائی تم کبھی سکون سے نہیں رہ پاؤ گے، تمہارا مرا ہوا ضمیر ایک دن ضرور جاگے گا اور اس دن صرف پچھتاؤے کے علاوہ تمہارے پاس کچھ نہیں ریے گا، ابو کی طرح بنا چاہتے ہو، آج انکے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں، اور کل تمہارے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں رہے گا۔۔۔ تم میرے بھائی ہو مین بددعا نہیں دے رہی، اور نا کبھی دے سکتی ہوں، میں تمہیں تمہارا کل دیکھا رہی ہوں ” وہ نم لہجے میں بول رہی تھی۔ اسکی بات پر وسیم کا قہقہ بلند ہوا۔ حیام نفی میں سر ہلاتے ہوۓ ساحل کے ساتھ گھر سے باہر نکل آئی، وہ گلی سے نکلتے گاڑی کی طرف آۓ راستے میں لوگ مڑ مڑ کر انہیں دیکھ ریے تھے اب وہ کیا بتاتی اسکے بھائی نے عزت سے بہانے کی بجاۓ پیسوں کے دام میں اسکی ڈولی تیار کی ہے۔ وہ سر جھکاۓ ساحل کے پیچھے چل دی۔ ساحل نے اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے گاڑی چلا دی۔۔۔۔گاڑی میں بیٹھتے ہی حیام نے رونا شروع کر دیا۔۔۔۔ تھوڑی دور جا کر ساحل نے اسے مخاطب کرنا چاہا پر وہ روتی گئی،
“امی کے پاس جانا ہے” وہ ہولے سے بولی۔۔ساحل نے گاڑی ہسپتال کی طرف بڑھا دی۔۔۔۔


“آۓ ڈیڈ آۓ آپ کا ہی انتظار تھا آۓ آپکا ہی انتظار تھا” ایمان حسام کے آتے ہی گانا شروع ہو گئی۔
“کیوں بھائی کیا ہوا؟” حسام نے اپنا بیگ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ پوچھا۔
“بات دراصل یہ ہے، آپکی مسز اور ہماری والدہ محترمہ کافی سے زیادہ ناراض ہیں، اور ڈیڈ آپ کیسے مطلب کیسے اپنی اینیورسری بھول سکتے ہیں” ایمان نے جیسے حسام کی بھولنے والی عادت پر ٹوکا وہ ہر سال ہی بھول جاتا تھا۔
“اف خدایا۔۔۔۔ یہ مجھ سے کیا جرم ہو گیا” وہ اپنا سر پکڑ کر بولا۔
“یسس ڈیڈ جرم تو ہوا ہے پر اب کیا ہو سکتا ہے تیر تو کمان سے نکل چکا ہے” ایمان نے کندھے اچکاتے یوے کہا اور ہاتھ میں پکڑی انگوروں کی پلٹ سے انگور کھانے لگی۔
“میری گڑیا جب تمہیں معلوم ہے، تمہارے والد محترم بھول جاتے ہیں، تو یاد کیوں نہیں کروایا؟ سب تمہاری غلطی ہے” حسام نے ٹائی کی نٹ ڈھیلی کرتے سارا قصوروار ایمان کو ٹھکڑایا۔
“ڈیڈ میں تو بتانے والی تھی پر ماما نے قسم دے کر روکا ہوا تھا۔ “
“چلو ابھی وش کر دیتا ہوں، یہ ہاشم کہاں ہے؟ ایک کام کرو، تم اسکو بھی فون کر کے بولو ریسٹورینٹ میں آ جاۓ آج کا ڈنر وہی ہو گا اب میں اپنی بیوی سے منا لوں” حسام نے جلدی میں پروگرام فکس کیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھا جہاں مشی ابھی اسکے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی گئی تھی۔ اسکا منہ اترا ہوا تحا۔
“میری نوڈل میرے سے ناراض ہو گئی ایم سوری ” وہ کان پکڑتے ہوۓ اسکے سامنے آ کر بولا۔
“تمہیں میری ناراضگی سے کیا، جاؤ جا کر میٹگ اٹینڈ کرو جیسے ہر سال بھول جاتے ہو ویسے ہی آج بھی بھول گے” وہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔ حسام اسکے سامنے بیڈ پر بیٹھا۔
“میری نوڈل سوری نا یار کام زیادہ تھا تو مصروف تھا، چلو ڈنڑ پر چل کر اینیورسری مناتے ہیں، لیکن ایک چیز میں ابھی دے سکتا ہوں” وہ بول کر الماری کی طرف گیا اور وہاں سے ایک گفٹ نکال کر لایا۔ اور مشی کو دیا۔ جسے اسنے تھام لیا۔ اپنا غصہ بھلاۓ وہ گفٹ کھولنے لگی۔ اس میں پیارا سا نیکلس تھا۔
“تو اب غصہ ختم چلو جلدی سے ریڈی ہو جاؤ ڈنر باہر کریں گے” حسام بول کر اپنے کپڑے لیتا واشروم میں گھس گیا۔۔


نیہا بیڈ پر بیٹھی پڑھ رہی تھی، اسفندیار کمرے کی بالکنی میں رکھے جھولے میں بیٹھا فائل پڑھ رہا تھا۔ دونوں کے درمیان صبح والے واقع کو کے کر ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اسفی کا موبائل بجا، نیہا نے گردن موڑ کر موبائل کی جگمگاتی سکرین کو دیکھا، وہ چونکی کیونکہ سکرین پر گلناز نام جگمگا رہا تھا، موبائل کی آواز سن کر اسفندیار کمرے میں آیا وہ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گئی۔ اسنے ایک نظر نیہا کو دیکھا اور موبائل پکڑ کر کان سے لگا لیا۔
” وعلیکم السلام! میں ٹھیک تم سناؤ؟” اسنے خوشگوار لہجے میں پوچھا۔ اور پلٹ کر بالکنی کی طرف چلا گیا۔ نیہا نے حیرانگی سے اسکو دیکھا۔
“ہر وقت منہ سڑا رہتا ہے، مجھ سے ڈھنگ سے بات نہیں کرتے، گلناز سے کیسے بات کر رہے ہیں، جیسے بری سگی ہو، ایک منٹ یہ لڑکی ہے کون؟ کہی اسفی کا پہلا پیار تو نہیں، اف کہی اسی وجہ سے تو مجھے۔۔۔۔۔ ہاۓ اللہ کیا سچ میں ایسا ہو رہا ہے” سوچتے ہوۓ اسکی آنکھوں میں پانی آیا۔۔۔
“حد ہے میں بھی اُور پوزیسیو ہو رہی ہوں، ہو گی کوئی” اسنے سر جھٹکتے ہوۓ اپنا دھیان کتاب کی طرف لگایا۔ پر اب کہاں کچھ پڑا جانا تھا۔ پہلے ہی جو رشتہ کچی ڈوریوں میں باندھا ہوا تھا۔ اب مزید الجھ رہا تھا۔ رشتے کی ڈوڑیاں کچی تھیں کبھی بھی ٹوٹ سکتیں تھیں۔
” تم فکر مت کرو میں ابھی آتا ہوں” وہ سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی تبھی بالکنی سے وہ جلدی جلدی میں کمرے میں داخل ہوتا دیکھائی دیا۔ وہ فون کان سے لگاۓ، ڈرار سے گاڑی کی چابی لے رہا تھا۔
“کہاں جا رہے ہیں؟” نیہا نے دل میں آیا سوال پوچھا۔
“بابا رونا تو بند کرو میں آ رہا ہوں نا ویٹ وہی رُکو کہی مت جانا” وہ نیہا کا سوال سِرے سے ہی اگنور کرتے ہوۓ گلنار سے بولا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
“ہاہ دیکھو زرا مجھے جواب تک دینا مناسب نہیں سمجھا اور اس گلناز میڈم کے لیے بھاگے جا رہے ہیں” وہ اپنا سر ہاتھوں پر گِراۓ بولی۔


“چلو برخرداد آج تمہارا رشتہ لے کر چلتے ہیں” وہ کالا کوٹ پہنتے ہوۓ سامنے کھڑے مزمل سے بولا۔
“جی بھائی” اسنے سر ہلایا۔
“کیا ہوا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے، تمہاری خواہش پوری تو ہو رہی ہے” فرید اپنے اوپر پرفیوم چھڑکتے ہوۓ مکمل اسکی طرف متوجہ ہوتے سخت لہجے میں بولا۔۔
“نہیں بھائی ایسی تو کوئی بات نہیں” وہ فوراً ڈرتے ہوۓ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“ارے ڈر کیوں گے، میں تو مزاق کر رہا تھا۔ جانتا ہون وہ تمہاری خواہش نہیں، اور ایسا تو ممکن ہی نہیں کیونکہ وہ بلاج حمدانی کے خاندان کی بربادی کی پہلی سیڑھی ہے، بھولو مت بلاج حمدانی نے ہمارے ساتھ کیا کِیا تھا، ہمارے باپ جیسے دادا کو کیسے مروا دیا تھا، یاد ہے نا” فرید اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں پکڑے بول رہا تھا، اسکی انکھیں لال ہو رہیں تھیں۔
“جی بھائی نہیں بھولا اور بھول بھی کیسے سکتا ہوں، ہم سبکو سڑک پر لا کر کھڑا کر دیا تھا، اس بلاج حمدانی نے، اور دادا جان۔۔۔۔۔” مزمل نفرت بھرے لہجے میں بولا۔
“بالکل تمہیں معلوم ہے نا مجھے کتنی محنت لگی ہے، اس مقام پر پہنچنے میں، آج وہ سب لوگ میرے پاؤں کے نیچے ہیں، کوئی فرید احمد خان کا مقابلہ نہیں کر سکتا” وہ اپنی کالر ٹھیک کرتے مغرور لہجے میں بولا۔ اسکے بولنے، چلنے، بات کرنے ،پہننے ، ہر چیز میں مغروریت جھلکتی تھی۔
“لیکن بھائی بلاج حمدانی یہ شادی نہیں ہونے دے گا، ظاہر سی بات یے، اگر اسے معلوم ہو گا کہ ہم رشتہ لے کر آ رہے ہیں وہ انکار کر دے گا” مزمل نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔اسکی بات پر فرید احمد کے ہونٹوں پر شاطرانہ مسکراہٹ جھلکی۔
“تو کیا ہوا، چڑیا تو ہمارے ہی ہاتھوں میں ہے، اسکو اُڑا لے جائیں گے” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔ اور باہر کی جانب بڑھا، مزمل اسکی بات کا مطلب سمجھ چکا تھا، کچھ پل کو اسکی سانس رک گئی۔۔۔۔


علیزے نے آج چھٹی کی ہوئی تھی۔ وہ صبح سے ہی پاگل ہو رہی تھی بار بار ڈریس ٹرائی کر رہی تھی کوئی ایک بھی اسکی پسند پر پورا نہیں اتر رہا تھا۔ نیہا تو یونی گئی تھی،وہ اسے بار بار آنے کا بول رہی تھی۔ نیہا اسفی کے ساتھ آنے کا بولی۔
شام پانچ بجے فرید احمد خان کی گاڑی انکے گھر داخل ہوئی، اسکے پیچھے چار گاڑیاں مزید تھیں، جس کی ایک گاڑی مین گارڈز اسلے کے ساتھ لدے ہوۓ تھے، باقی گاڑیوں میں گفٹس تھے۔ وہ باہر نکلا اسکے ساتھ پانچ ملازم دوسری گاڑیوں سے نکلے جنکے ہاتھ میں برے برے تھال تھے جس میں بے شمار گفٹس تھے۔ عمیر، سکندر حمدانی حرا نے دروازے پر ہی اسکا استقبال کیا۔۔۔۔ عمیر نے کچھ دیر پہلے ہی بلاج کو رشتے کا بتایا تھا۔ پر وہ نام نا بتا سکا۔ وہ سب اس وقت ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ رفریشمنٹ کا سارا سامان ٹیبل پر سجا ہوا تھا فرید ہاتھ میں چاۓ کا کپ پکڑے سپ لے رہا تھا۔۔
“عمیر صاحب تو جس مقصد کے لیے ہم اکھٹے ہوۓ ہیں، اس موضوع پر بات کر لی جاۓ” وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ ہاتھ صوفے کی سائڈ پر رکھے بیٹھا ہوا تھا، عمیر تو اسکی پرسنائیلٹی سے کافی متاثر نظر آرہا تھا۔
“بیٹا آپکے گھر میں کوئی بزرگ نہیں؟” سکندر حمدانی نے ہوچھا، انکے سوال پر کمال مہارت سے اسنے اپنے چہرے کے ایکسپریشن چھپاۓ۔
“جی نہیں انکل، اصل مین ہم تین بہن بھائی تھے، مان باپ تو بپچن مین ہی فوت ہو گے، بہن کی شادی ہوئی اسے کینسر تھا وہ بھی چل بسی، دادا جان ہی تھے، سالوں پہلے۔۔۔۔۔ وہ بھی اللہ کو پیارے ہو گے اب بس میرے بھائی کے لیے میں ہی ہون” بولتے بولتے اسکی آنکھیں نم ہوئیں۔ سبھی کو اسکی بات سن کر دکھ ہوا۔ تبھی علیزے مہوش کے ساتھ ڈرائینگ روم مین داخل ہوئی۔ مہوش صبح ہی آئی تھی۔ علیزے نے اتے ہی سلام کیا اور سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔
“اللہ تمہارے پیاروں کی مغفرت کرے” سکندر حمدانی نے کہا۔
“امین! ” چاۓ کا سپ لیتے اسنے کہا۔ چاۓ کا دھواں اسکے چہرے کو ڈھانپ سا گیا۔ اسکے چہرے پر لکھی کہانی کو کوئی پڑھ نا پایا۔
“عمیر بھائی!” باہر سے بلاج کی آواز آئی۔ فرید احمد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔ قدم ہولے ہولے ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ رہے تھے اور تھوری ہی دیر میں دروازے میں بلاج اور میرال کا چہرا نظر آیا۔ بلاج مسکراتے ہوے اندر داخل ہو رہا تھا۔ جب اسکی نظر آرام سے صوفے پر بیٹھے چاۓ کی چسکیاں لیتے ہوۓ فرید احمد پر پڑی۔ وہ وہی رک گیا۔ پہلے حیرانگی سے اسے دیکھا، پھر معملا ایک سیکنڈ میں اسے سمجھ آیا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” اپنے اشتعال کو کنٹرول کرتے ہوۓ وہ بولا۔ اسکے سوال پر سبھی نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
“بلاج فرید احمد یہاں اپنے چھوتے بھائی مزمل کے لیے ہماری علیزے کا رشتہ لے کر آۓ ہیں” عمیر نے اسے جواب دیا۔ اسکے جواب پر بلاج کے ماتھے پر بل پڑے۔
“ہمیں کوئی رشتہ نہیں کرنا چلو اُٹھو نکلو یہاں سے” بلاج اگے بڑھتے خود پر کنٹرول کرتے ہوے بولا۔ ورنہ اب تک وہ اسکے منہ پر دو پنچ مار چکا ہوتا۔ علیزے کی سانس بند ہونے لگی۔
“کیسے باتین کر رہے ہیں، بلاج صاحب میں شرافت سے یہان رشتہ لینے آیا ہوں دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، پر نا جانے آپ کیوں اس طرح غصہ کرتے میری انسلٹ کر رہے ہیں” فرید احمد اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ہوۓ سخت لہجے مین بولا۔
“ابھی کے ابھی یہاں سے اپنی منحوس شکل لے کر دفع ہو جا، ورنہ تجھے یہی زمین مین گھاڑ دوں گا، میری فیملی پر اپنی غلیظ نظریں ڈالیں تو جان نکال لوں گا” بلاج نے اسکا گریبان پکڑتے ہوۓ دھارتے ہوۓ کہا۔ میرال نے اسے روکنا چاہا۔ عمیر نے اگے بڑھ کر اسکا گریبان چھڑوایا۔
“حد میں رہیں، بلاج صاحب زمین میں گھاڑنا مجھے بہت اچھے سے آتا ہے، آپکو کم ازکم یہ بات معلوم ہو گی ، عمیر صاحب آپ مہمانون کو بلوا کر ابہت اچھے سےا نسلٹ کرتے ہیں یہ رشتہ اب نہین ہو سکتا” وہ اپنی شرٹ ٹھیک کرتے باہر چلا گیا۔
“یہ کیا بدتمیزی تھی بلاج؟” سکندر حمدانی سالوں بعد آج اس پر چلاۓ تھے۔
“آپ لوگوں علم بھی نہیں وہ کس قدر گھٹیا شخص ہے، بنا جانج پڑتال کیے آپ لوگ کیسے رشتے کر سکتے ہو،” بلاج غصے سے بولا۔
“بس کرو بلاج تمہیں تو کوئی انسان اچھا لگ ہی نہیں سکتا پوری جانچ پرتال کی تھی، وہ اور اسکا بھائی ہر طرح سے پرفیکٹ ہیں کوئی برائی نہیں دکھی مجھے” عمیر نے غصے سے کہا۔
“بھائی مین بول رہا ہون نا وہ ٹھیک نہیں، اور آپکو شادی ہی کروانی یے، تو میرا بیٹا ہے نا علیزے کی اس سے شادی کر دیتے ہیں، گھر کی بچی یے، مین کوئی بے وقوف نہیں ہوں جو انکار کر رہا ہوں”
“اچھا تو کیا وجہ یے انکار کی؟”
“وہ میں آپکو نہیں بتا سکتا، بھائی میں آپکا سگا بھائی ہون میری بات پر یقین کریں کوئی تو وجہ ہے جو میں انکار کر رہا ہوں، پلیز میری بات مان لیں” بلاج اب نرم لہجے مین بول رہا تھا علیزے وہاں سے نکلی اور اپنے کمرے مین جا کر بند ہو گئی عمیر وہی صوفے پر بیٹھ گیا۔


جاری ہے۔۔۔۔۔