Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“حیام کچھ کھا لو، پھر دوا بھی لینی ہے، دوبارہ بخار نا ہو جاۓ” وہ اس وقت اپنے اسی دوست کے گھر پر حیام کے پاس تھا۔۔
“مجھے کچھ نہیں کھانا” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ نکاہت سے بولی، دو دن سے اسکی یہی حالت تھی۔ وہ بیڈ پر پِلو کے سہارے ٹیک لگا کر نیم دراز لیٹی تھی۔
“میری جان ابھی کچھ نہیں کھاؤ گی تو کمزوری ہو جاۓ گی، چلو یہ تھوڑا سا سوپ ہی پی لو” وہ اسکے ماتھے سے بال پیچھے کرتے اسکا ستا ہوا چہرا دیکھتے ہوے نرم لہجے میں بولا۔
“میری امی!” وہ دوبارہ رونا شروع کر گئی، وہ پچھلے دو دن سے بار بار انہیں یاد کر کے رونا شروع کر دیتی ، ساحل اسے سمجھا کر چپ کرواتا تو وہ دوبارہ رونا شروع کر دیتی ساحل سے اب اسے سھنمبالنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔
“حیام شش، تمہاری امی تم سے بہت پیار کرتی تھیں نا، تو کیا انہیں اچھا لگے گا تم یوں رو رہی ہو، سوپ پی کر دوا لو، اور پھر نماز پڑھ انکی مغفرت کے لیے دعا کرو” ساحل اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔
“میں کتنی اکیلی ہو گئی، ماں کے بنا رہنا کتنا مشکل ہے، پتہ جب میں آفس سے گھر جاتی تھی، تب امی جلدی سے مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتیں تھیں، اور اب نا وہ ہیں نا انکے ہاتھ کا کھانا، اب میں یہ کھانا کیسے کھا سکتی ہوں میں بہت اکیلی ہو گئی سب میرا ساتھ چھوڑ کر چلے گے، ایک امی تھیں وہ بھی چلیں گئیں” وہ بولتے بولتے دوبارہ رونے لگی۔ ساحل سے اسکی یوں بکھری حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی، اسنے اسے سینے سے لگایا۔
“شش میری جان میں ہوں نا تمہارے ساتھ ہوں، اور ہمیشہ تمہارے ساتھ ہی رہوں گا” وہ اسکے بال سہلاتے ہوۓ بولا۔
“میں جانتی ہوں، چلے جاؤ گے، جھوٹے ہی ہو، سب جھوٹے ہی ہیں” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔اسکی بات ساحل کے دل پر تیر ہی طرح لگی، بلاج کے سامنے شادی کی حامی اسکے گلے میں پھانس کی طرح اٹکی ہوئی تھی۔ وہ کیسے اسے انکار کرے، اسکو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔
“میں وعدہ کرتا ہوں، تمہارا ساتھ مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا” وہ گہرا سانس لے کر بولا۔۔اب یہ وعدہ وہ کیسے پورا کرتا ہے یہ اسے طے کرنا تھا۔۔
،*
وہ نیہا کو گھر چھوڑ کر کام سے چلا گیا، دونوں کے درمیان سارے راستے کوئی بات نا ہوئی، وہ اپنے کمرے میں بیٹھی آج کے ہوۓ واقع پر غور کرنے لگی۔ خود کی جلد بازی پر وہ اب افسوس کر رہی تھی۔ اتنی جلدی ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ اُٹھی اور اپنی کتابیں نکال کر صوفے پر بیٹھ گئی، وہ بس کتاب کو دیکھتے۔ ان پر لکھے الفاظوں کو پڑھ رہی تھی پر دماغ آج اسفی میں ہی اٹکا ہوا تھا۔ قریب دو گھنٹے بعد وہ گھر آیا، ڈنر کا وقت ہو رہا تھا۔
” اسفی جلدی سے فریش ہو کر نیچے آؤ، اور نیہا کو بھی بولو کھانا کھا لے، جب سے آئی ہے، کتابوں میں سر دیے بیٹھی یے، اب پڑھائی کے ساتھ کھانا بھی تو ضروری ہے” راحیلہ بولتی کچن میں چلی گئی، وہ بس سر ہلاتا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا، وہ اندر داخل ہوا، اسکی نظر نیہا پر گئی جو گھٹنوں پر رکھی کتاب پر سر رکھے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ یا شائد سو رہی تھی۔ بال بکھرے ہوۓ تھے۔ وہ اپنی واچ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھے الماری کی طرف آیا اور آرام دہ سوٹ نکال کر واشروم میں چلا گیا۔ اسنے کمرے میں آہٹ سن کر سر اُٹھایا، واشروم کا بند دروازہ دیکھا۔ اسنے اپنے بال سمیٹ کا کیچڑ لگا لیا۔ تبھی وہ ٹاول سے چہرا پونچھتے باہر نکلا۔
“ڈنر کا وقت ہو گیا ہے، چلو نیچے، موم انتظار کر رہی ہیں” موبائل پر حسنین کو کال ملاتے اسنے نیہا سے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا، نیہا نا چاہتے ہوۓ بھی اُٹھی اور باہر آئی،
ڈنر سب نے خاموشی سے کیا، ڈنر ختم کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آ گیا، نیہا راحیلہ کے ساتھ برتن سمیٹنے لگی، نور نے اس سے ٹاپک سمجھانے کے لیے کہا، وہ اسکے کمرے میں بیٹھی اسکو ٹاپک سمجھانے لگی، ذہین میں اسفی کا خاموش اور سنجیدہ چہرا گھوم رہا تھا۔ قریب ایک گھنٹے کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی، کمرے کا دروازہ بند تھا، اسنے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے دروازہ دکھیلا، اور اندر داخل ہوئی، دروازہ بند کرتے اسنے کمرے کے چاروں اطراف دیکھا، کمرہ خالی تھا، شائد وہ کہی چلا گیا۔ وہ بالکنی میں آئی کہ شائد وہ یہاں ہو، پر بالکنی مکمل خالی تھی، تبھی اسکی نظر نیچے گارڈن پر پڑی، وہ وہاں رکھے لولہے کے جھولے پر بیٹھا ہوا کندھوں پر کالی شال ڈالے، آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا، اسکا بائیاں ہاتھ جھولے کی بیک پر پھیلا ہوا تھا، اور آنکھیں بند تھیں۔ وہ دور سے ہی اسکے چہرے پر اداسی دیکھ سکتی تھی، کچھ سوچ کر وہ نیچے آئی، قدم قدم چلتی وہ اس سے کچھ ہی قدم دور تھی، پر وہ ایک دم رک گئی۔ ناجانے کیا سوچ کر وہ مڑنے لگی۔
“نیہا یہاں آؤ” اسکی آہٹ وہ محسوس کر چکا تھا، تبھی جب وہ مڑنے لگی تو وہ بول پڑا، وہ سیدھا ہو کر بیٹھا اور اسے خالی جگہ پر بیٹھے کا اشارہ کیا۔
“وہ میں چاۓ بنانے۔” وہ کچھ بولنے لگی۔
“یہاں آؤ بات کرنی ہے” وہ اسکی بات کاٹ کر بولا۔ نیہا اسکے پاس آ کر جھولے پر بیٹھ گئی۔ کچھ پل گزر گے، دونوں ہی خاموش تھے، نیہا گردن جھکاۓ ناخن سے دوسرے ناخن پر لگی نیل پالش کو اتار رہی تھی۔ تبھی اسکی نظر اسفی کے ہاتھ میں پکڑے لاکٹ پر گئی۔ وہ گول شیپ میں تھا، اور لمبی چین تھی، وہ سونے کا بنا ہوا تھا۔ سادگی میں بھی وہ بے حد خوبصورت نظر آ رہا تھا۔
“یہ کیا ہے؟” وہ بے اختیار پوچھ بیٹھی۔ اسفی اسکی بات پر چونکا۔ اور ایک نظر اس لاکٹ کو دیکھا۔
“یہ۔۔۔۔اہممم ۔۔۔” اسنے بے اختیار گلہ کھنگالا۔ نیہا نے لاکٹ سے نظر ہٹا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا۔ اسکے چہرے پر ایک کے بعد ایک احساس نظر آ رہا تھا، ماضعی کے درد ناک لمحے، ان درد ناک لمحوں سے پہلے کے حسین لمحات۔
” یہ میرے والدین نے مجھے آخری گفٹ دیا تھا۔ میری ساتویں برتھ ڈے تھی، میں کافی ایکسائیٹڈ تھا، میں نے اس سے ایک روز پہلے ماما بابا کو بولا تھا کہ مجھے پہلے ہی طرح سی سیلیبریشن نہیں کرنی، مجھے ماما بابا کے ساتھ اکیلے اپنا برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنا ہے، اہمم” بولتے بولتے اسکی آواز بھاری ہونے لگی، نیہا نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔ اپنے ہونے کا احساس دِلایا۔
“آٹھ کا وقت تھا، ماما میری آنکھوں پر پٹی باندھے مجھے اوپر لے گئی، ہم گھر کی چھت پر تھے، وہاں جا کر ماما نے میری آنکھوں سے پٹی اتاری، سامنے پورا چھت ڈیکوریٹ ہوا تھا،ایک ایک چیز میری پسند کی تھی، بہت سارے گفٹس رکھے ہوۓ تھا، بابا سامنے کھڑے تھے میں بھاگ کر بابا کے گلے سے لگا، بابا مجھے گود میں اُٹھاۓ گول گول گھوم رہے تھے، میری اور انکی ہنسی پورے چھت پر گھونج رہی تھی، میں جو چاہتا تھا وہ مجھے مل گیا، ہم نے مل کر کیک کاٹا، تب نا جانے کیوں ماما بار بار چہرا موڑ کر اپنی آنکھیں صاف کر رہیں تھیں، بابا نے کئی دفع انہیں کہا میں ہوں نا، سب ٹھیک ہو جاۓ گا، ہمارے بیٹے کی برتھ ڈے ہے، انجواۓ کرو، مما نم آنکھوں سے مسکرا دیں تھیں، اور پھر ماما اور بابا نے مجھے یہ لاکٹ پہنایا، انہوں نے یہ پہناتے ہوۓ کہا تھا، بیٹے اسکو کبھی خود سے علحیدہ نا کرنا، اسے اپنے سینے سے لگاۓ رکھنا، تمہیں تمہارے ماما بابا ہمیشہ خود سے قریب محسوس ہوں گے، اور مجھے یہ لاکٹ پہنا دیا، اور پھر اچانک سے اس سجے چھت پر کچھ لوگ آۓ، انہوں نے بابا کو ساتھ چلنے کا بولا، ماما نے زور سے مجھے اپنے ساتھ زور سے لگا لیا، جیسے مجھے کوئی خطرہ نا چھوۓ، میں بابا کو دیکھ رہا تھا، مجھے اس وقت بابا کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آئی، وہ مسکراتے ہوۓ مجھے دیکھتے مڑ گے، اور ان لوگوں کے ساتھ چلے گے، ماما مجھے نیچے اپنے کمرے میں لے آئیں اور بھلا پھسلا کر سلا دیا۔۔ قریب دس بجے میری آنکھ شور کی وجہ سے کھلی، ماما کمرے میں نہیں تھیں، میں کمرے سے باہر نکلا، اور میری نظر میرے بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے بابا کے خونن سے بھرے وجود پر پڑی، میری دوسری نظر میرے سوتیلے ماموں فرید احمد خان پر پڑی اسکے ہاتھ میں پستول تھی۔ میں اس سے پہلے کہ چلاتا، بلاج انکل نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر مجھے اُٹھایا اور وہاں سے لے گے، ہم کچھ دیر گارڈن میں چھپے رہے۔ جب میری نظر میری ماما پر پڑی۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسی سجے سجاۓ چھت پر تھیں، اور فرید احمد انکے پیچھے کھڑا تھا، اس سے پہلے کے میں سمجھ پاتا اسنے میری ماما کو چھت سے دھکہ دے دیا اور کچھ ہی پل میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس سے مزید بولا نا گیا۔ اور مزید اس میں خود پر قابو نا پایا گیا گھٹنوں پر دونوں ہاتھ زور سے جماۓ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اس دن کے بعد آج پہلی بار اس نے یہ سب دھرایا تھا۔ بلاج اس سے اس واقع کے بارے میں کوئی سوالات نا کرتا تھا۔ تاکہ وہ سب بھول جاۓ۔ پر اتنی اذیت ناک رات بھلا کون بھول سکتا تھا، زندگی کے ہر پل وہ اذیت ناک لمحے اسکے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔۔
“اسفی۔۔۔” نیہا کی خود کی آنکھیں جھلک رہیں تھیں، اسنے اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا، اور اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔
“میں اس فرید احمد کو نہیں چھوڑوں گا، میرے ماں باپ کا خون اتنا بے فالتو نہیں تھا جو یوں بہایا جاۓ، میں اسے برباد کر دوں گا” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بول رہا تھا، بولتے ہوۓ اسکی گلے کی نسیں ابھر رہیں تھیں، جیسے وہ ناجانے کتنا غصہ کنٹرول کر رہا تھا۔ آنسون کہیں اس غصے کے پیچھے چھپ گے تھے۔
“ابھی شانت ہو جائیں، ایم سوری مجھے یہ سب معلوم نہیں تھا، ورنہ میں آج وہ سب۔ ۔۔” نیہا کو شرمندگی ہوئی۔ اسفی اسکی بات پر چونکا، اسنے اپنے غصے پر کنٹرول کیا، اور خود کو ریلکس کرتے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“نہیں تمہاری غلطی نہیں ہے، جس لڑکی کو یہ معلوم ہو، کہ اسکا شوہر اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا اسکا ایسا ری ایکشن تو نکلتا ہی ہے۔ غلطی میری ہی ہے۔ میں اپنے اندر کے ڈر کی وجہ سے اس رشتے کو وہ ویلو نہیں دے پا رہا، جو دینی چاہیے، اس طریقے سے نہیں نِبھا پا رہا، مجھے ڈر لگتا ہے، کسی بھی انسان سے اٹیچ ہو جانے سے، مجھے ڈر لگتا ہے، مزید کسی قریبی انسان کو کھونے سے، مجھے ڈر لگتا ہے، کہی اگر میں تمہیں وہ محبت، خوشی نا دے پایا جو تمہارا حق ہے، تو میں کس طرح خود کو فیس کر پاؤں گا، بس اسی وجہ سے میں اسطرح کا بی ہیو کر رہا تھا جس سے تم۔مجھ سے دور رہو” وہ اپنے اندر کا ڈر بتا رہا تھا، اسکے لہجے میں بھی وہ خوف محسوس ہو رہا تھا، جو شائد اتنی سی عمر میں اسطرح اپنے ماں باپ کو کھو دینے سے اسکے اندر بس جنم لے چکا تھا۔ نیہا اسکی ساری باتیں سننا چاہتی تھی، وہ اسکو سمجھنا چاہتی تھی۔ اسنے اسکے دونوں سخت ہاتھ اپنے ٹھنڈے نرم ہاتھ میں پکڑے اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولنے لگی۔
“پتہ ہے، میں آپکو منگنی سے بھی کئی سال پہلے شائد مجھے محبت کے لفظ کا مطلب بھی نہیں معلوم تھا تب سے آپ سے محبت کرتی ہوں، جب ہماری منگنی ہوئی، وہ دن میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا، مجھے یقین ہی نا ہوا کہ جسے میں دل ہی دل میں چاہتی تھی، وہ یوں مجھ مل جاۓ گا، اسکے بعد جب آپ یوں لاتعلق بی ہیو کرتے مجھے دکھ ہوتا تھا، پر میں سوچتی میں آپکے نام سے جڑی ہوں، اور آپ میرے نام سے جڑے ہو، کوئی ہمیں علحیدہ نہیں کر سکتا، ہماری شادی یوں اچانک ہو گئی، میں بہت خوش تھی، پر بعد میں آپکا رویہ مجھے عجیب سے وہموں میں ڈالنے لگا، ہماری بات ہوئی تھی آپکو وقت چاہیے، میں ریلکس ہو چکی تھی، پھر میں نے آپکو ایک لڑکی سے بات کرتے سنا، کافی دفع آپ کال کرتے ہوۓ دیکھے مجھے انسکیورٹی ہو گئی، اسی لیے آج یہ سب ہو گیا۔ اب میں جانتی ہوں آپ ویسے نہیں ہو سوری” وہ معصومیت سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی بولتے بولتے آخر میں سر جھکا گئی،۔ لڑکی والی بات اسفی کو یاد آئی۔ وہ چونکا اور سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“تو ذرا آپ یہ بتانے کی زہمت کریں گئی، میرا کردار انکل کے سامنے بھی مشوک کر دیا، تو ذرا بتائیں تو صحیح میں کون سی لڑکی سے باتیں کرتا تھا، جسکی وجہ سے آپکو مجھ پر شک ہو گیا” وہ اسے گھورتے ہوۓ سوال کر رہا تھا، نیہا نے اسکے ہاتھ چھوڑے، اور کھڑی ہوئی۔ اسے اس وقت بے حد شرمندگی ہو رہی تھی۔ اسفی کھڑا ہوا، اور جھک کر اسکا چہرا دیکھا،۔
“بولو!” اسکا چہرا اوپر کرتے ہوے وہ بولا۔
“وہ گلناز! اس سے ہی آپ ہنس ہنس کر بات کرتے تھے” نیہا نے ہمت کر کے جواب دیا۔ اسفی کچھ پل اسکی طرف دیکھتا رہا، اور پھر اسکا قہقہ بلند ہوا، اور وہ ہنستا گیا، نیہا نے حیرانگی سے اسے دیکھا، وہ اسے پہلی بار اتنا ہنستا ہوا دیکھ رہی تھی۔ وہ ہنستا ہوا وہی گھاس پر بیٹھتا چلا گیا۔ ہنستے ہنستے وہ وہی لیٹ گیا
“ہنس کیوں رہے ہیں؟” وہ خفا خفا سی ہو کر بولی۔ اور وہی گھاس پر گھٹنوں کے بل بیٹھی۔
“اف نیہا تمہارا کیا ہو گا، قسم سے ” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔
“کیا ہے؟ مزاق تو مت اُڑائیں، بیوی ہوں شک کرنے کا حق تو ہے نا ” وہ منہ بسورتے ہوۓ بولی، اسفی نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوۓ اسکے چہرے کو دیکھا سردی کی وجہ سے اسکا ناک، کان لال سرخ ہو رہے تھے۔، اسکے بال کھلے ہوۓ تھے، گلے میں ہلکا سا سٹالر لیا ہوا تھا، اور اب وہ ہاتھ میں اپنی منہ دیکھائی والی انگھوٹھی کو گھماۓ جا رہی تھی۔۔
“نیہا بلاج حمدانی، تم اب نیہا اسفندیار حسن ہو، اور میری بیوی کو کم ازکم انسیکیور ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، وہ میری دوست ہے، بس، آئی سمجھ” وہ انگھوٹھی والے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ اسے اعتماد کی ڈوری پکڑا رہا تھا ۔ اسنے چہرا جھکاتے بس ہاں میں سر ہلایا۔ اسنے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی۔
“کیا ہے بیٹھی رہو باتیں کرتے ہیں” اسفی نے اسکا ہاتھ نا چھوڑا۔
“باتیں اندر جا کر کریں گے، یہاں بہت سردی ہے، دیکھیں میرا ناک ،کان سب ٹھنڈ کی وجہ سے سُن ہو گے” وہ اپنے کانوں کو ہاتھ ہوۓ بولی۔۔۔
“اف یا اللہ ایک تو میری بیوی کی سردی، خدا کی قسم تمہیں ہر وقت ہیٹر کے اگے بیٹھنا چاہیے” وہ نفی میں سر ہلاتا اُٹھ کر بیٹھا۔ نیہا نے منہ بسورا۔
“لو اب سردی نہیں لگے گی، کچھ دیر یہاں بیٹھتے ہیں، آج سب بول کر بہت ہلکا سا محسوس ہو رہا ہے” اسنے اپنے کندھے سے شال اتاری اور اسکے سر پر ڈوپٹے کی شکل سے اُڑائی، وہ مکمل اسکی بری سی شال میں چھپ گئی، نیہا کو اسکی شال سے ہلکی ہلکی خوشبو آئی۔ وہ وہی اسکے پاس بیٹھ گئی۔ دونوں ہنستے مسکراتے کچھ دیر وہی بیٹھے رہے۔۔۔


دو مہینے بعد:
ان دو مہینوں میں بہت کچھ بدلا تھا، نیہا اور اسفندیار کا رشتہ کچھ حد تک مظبوط ہوا تھا، دونوں کے درمیان اعتماد، عزت، اور بھروسے کا رشتہ قائم ہو چکا تھا، ساحل کئی بار بلاج سے بات کرنے کی کوشش کر چکا تھا، پر ہر بار بلاج کے چہرے پر اپنے لیے بھروسہ دیکھ کر وہ رک جاتا، حیام کو وہ ایک الگ اپارٹمنٹ میں شفٹ کر چکا تھا، اور ہر دوسرے دن اسکے پاس جاتا، ہاشم خاموشی سے اپنی محبت کو دور جاتے دیکھ رہا تھا، علیزے خاموش ہو گئی تھی، وہ بہت کم گو ہو چکی تھی، اور اپنے گھر والوں کے سامنے شائد جھک چکی تھی، کچھ دن پہلے ہی ان سب کے ایگزیم مکمل ہو تھے اور اب سب فری تھے، ساحل اور علیزے کی شادی تیاریاں مکمل ہو چکیں تھیں، دو دن بعد فنگشنز شروع ہونے والے تھے۔
یہ سکندر ولا کا منظر تھا جہاں حرا علیزے کا بارات والا ڈریس بوتیک سے لائی تھی، جو آڈر پر بنوایا تھا، وہ اسے لیے علیزے کے کمرے میں آئی، جہاں وہ اپنی کتابیں ریک میں سیٹ کر رہی تھی
“علیزے یہ دیکھو تمہارا بارات کا جوڑا آگیا، ماشااللہ کتنا خوبصورت ہے” حرا جوڑے کو بیڈ پر رکھتی بولی۔ علیزے نے مڑ کر بھی نا دیکھا۔
“اچھا” وہ بس اتنا ہی بولی اور کتابوں کو سیٹ کرتی رہی۔
“اسکی جیولری کل آ جاۓ گی، کل رات کو ڈھولکی رکھنی ہے، آج تو میرال کے گھر ڈھولکی ہے، شام میں ہم سبکو وہاں جانا ہے، تم یہی رہو گی، شادی سے پہلے دلہن کا سسرال جانا معیوب سمجھا جاتا ہے” وہ ڈریس کو ڈبے سے نکال کر دیکھ رہیں تھی انکے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ علیزے پھر بھی کچھ نا بولی۔
“علیزے بیٹے یہاں آؤ تین دن رہ گے پھر تم پرائی ہو جاؤ گی، کیا تم خوش ہو؟ ” بولتے ہوۓ حرا کی آنکھوں میں نمی تھی۔ علیزے مڑی۔ یہ ایک ایسا سوال تھا جسکا وہ جواب شائد دینا ہی نہین چاہتی تھی۔ یہ سوال حرا پچھلے کئی دنوں سے پوچھ رہی تھی، علیزے کا مکمل خاموش ہو جانا اسکو چھب رہا تھا۔
“موم آپ سب خوش ہیں، میری خوشی سے کسی کو تھوڑی کوئی فرق پڑتا ہے” وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولی۔ حرا نے اسے بیڈ پر بیٹھایا۔
“فرق پڑتا ہے تم میری بیٹی ” حرا بول رہی تھی جب علیزے نے اسے درمیان مین کاٹا۔
“اگر سچ میں آپ میں سے کسی ایک کو بھی میری خوشی کی فکر ہوتی تو یوں زبردستی میری شادی نا کروا رہے ہوتے، موم میرے ہاتھوں کو دیکھیں خدا کا واسطہ ہے، مجھے مزمل سے الگ مت کریں، مین ان سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں، پلیز موم ڈیڈ کو منا لیں، پلیز میں اس شادی سے خوش نہیں ہوں” وہ ہاتھ جوڑتے حرا کے پاؤں میں بیٹھے ہاتھ جوڑے روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ حرا کے دل کو کچھ ہوا۔
“یہ سب تمہاری بھلائی۔۔۔”
“بس کریں موم میری بھلائی ایک انچاہی شادی مین بندھنا نہیں ہے، جس سے مجھے محبت ہے جسکے ساتھ میں زندگی گزارنا چاہتی ہوں اسکے ساتھ ہے تو پلیز بس کریں، میں نے بھی ناجانے کس امید سے دوبارہ بات کر لی، موم اسکے بعد جو ہو گا اسکی زمہ دار آپ اور ڈیڈ ہون گے” وہ غصے سے کھڑی ہوئی اور چلاتی ہوئی بھاگ کر واشروم میں بند ہو گئی، وہی دروازے کے ساتھ بیٹھتی گئی، اور رونے لگی، حرا بے بسی سے بند دروازے کو دیکھ رہی تھی پھر اسکی نظر اسکے لال جوڑے پر پڑی، وہ اُٹھ کر چلی گئی۔ علیزے کچھ دیر بعد اُٹھی اور سِنک کے نیچے بنے ڈبے کے نیچے ہاتھ ڈالا جہاں ٹیپ کی مدد سے ایک موبائل جُوڑا ہوا تھا۔ اسنے موبائل نکالا، جو سائنلٹ پر تھا، اس پر کل کے مزمل کے میسجز تھے، وہ کچھ بول رہا تھا جسکا وہ مسلسل انکار کر رہی تھی۔ کچھ سوچ کر اسنے اسکو میں تیار ہوں کا میسج سینڈ کیا۔۔۔کچھ ہی دیر بعد مزمل کا میسج کیا جو اسے سارا پلین بتا رہا تھا۔۔۔


جاری ہے۔۔