No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
سب رات کو ہی سکندر ولا آ گے تھے۔ حیام حرا کے ساتھ مل کر ناشتہ بنا رہیں تھیں۔ وسیم اسفندیار کے ساتھ اسکے گھر میں ہی تھا۔
“ماما میں ہسپتال جا رہی ہوں، ایمرجنسی ہے” نیہا اپنا بیگ لیے کمرے سے نکلتی ہوۓ بولی۔ وہ جلدی سے باہر کی طرف بڑھی۔
“ناشتہ تو کرتی جاؤ” میرال نے پیچھے سے آواز لگائی۔
“وہی کر لوں۔۔” وہ کہتی گاڑی کی طرف بھاگی۔ اور کچھ ہی پلوں میں گاڑی ہواؤں سے باتیں کرنے لگی۔۔۔۔
وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا، جب راحیلہ اور ہارون کی نظر اس پر پری۔ وہ پانچ سال بعد آج اسے پولیس کی وردی میں دیکھ رہے تھے، جسکی شرٹ کے وہ کف فولڈ کرتے جلدی سے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔ ان دونوں کو یوں خود کو تکتے دیکھ وہ چونکا اور پھر راحیلہ کو آنسوں صاف کرتے منہ مڑورتے دیکھ وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
“کیا بات ہے ڈیڈ؟ آپ نے میری ماما کو صبح ہی صبح کیوں رولا دیا” وہ لہجے میں مصنوعی خفگی رکھے راحلیہ کے گرد بازو لپیٹے۔
“بس اپنے نالائق بیٹے سے سیکھ رہا ہوں، بیوی کو نا خوش کیسے رکھتے ہیں” ہارون نے مسکراہٹ دباتے اسے چھیرا۔۔۔۔ اسفندیار نے سر کھجایا۔
“ماما میری پیاری ماما آپکو پتہ سب سے زیادہ میں نے آپکو مس کیا۔ آپ کے ہاتھ کا ناشتہ قسم سے۔ بہت یاد آتی تھی دل کرتا تھا میں اُڑ کر آ جاؤں” اسنے راحیلہ کے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا۔ راحیلہ نے خفگی سے چہرا موڑ لیا۔
“ہاہ نوٹکنی کل تو مجھے بول رہے تھے کہ آپکو سب سے زیادہ مس کیا” ہارون نے پھر ہانک لگائی۔۔۔
“اووو پرسوں مجھے بولا اور ایم شور کل بھابھی کو بولا ہو گا” نور کمرے سے ڈاکٹر کا کوٹ ہاتھ میں لیے باہر آتے ہوۓ درمیان میں بولی۔۔۔
“چپ ڈاکٹرنی جی، میں نے سچ میں ماما کو بہت مس کیا، آپ سب نہیں جانتے ہر روز رات کو مجھے یہ سوچ کر نیند نہیں آتی تھی کہ اگر مجھے کبھی کچھ ہو گیا تو سب سے برا رگرکٹ یہی ہو گا کہ میں نے میرے اپنوں کا دل دکھایا، اور سب مجھ سے ناراض ہیں، اور ماں ناراض ہو تو سکون تھوری ہوتا ہے” ابکی بار اسکے لہجے میں ہلکی سی نمی تھی۔۔۔ وہاں پر کھڑے ان تینوں لوگوں کی آنکھوں میں بھی نمی آ گئی۔۔
“میں نے تمہیں ہمیشہ اپنے بچے سے بھر کر پالا ہے، تم میرا جگر کا ٹکڑا ہو، اور اپنے بچے سے ایک ماں بھلا ناراض سکتی ہے، میرے بچے” راحیلہ نے اسے سینے سے لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
“میں آپکا بیٹا ہی تو ہوں، اللہ نے مجھ سے میرے ماں باپ چھینے تو اتنے پیارے ماں باپ دے بھی دے” وہ نم آنکھوں سے ہلکا سا مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔
“اف ایموشنل کر دیا نا ” نور درمیان میں بولی۔۔۔۔
“بچے اب ہماری بہو اور پوتی اس گھر میں چاہیے، پانچ سال دور رکھ لیا اب پانچ دن بھی نا ہوں، اب تمہارا کام انہیں اس گھر میں لانا ہے،” ہارون نے بات کا رخ بدلا۔۔۔۔ اسکی بات پر اسفندیار نے گہرا سانس لیا۔۔اور راحیلہ کے کہنے پر سب ناشتہ کرنے ٹیبل پر بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یو نو واٹ ڈیڈ مجھے اس فرید احمد اور ابراہیم پاشا کو ہکڑنے کا کام اتنا مشکل نہیں لگا جنتا آپکی اس کھڑوس بہو کو منانا لگ رہا ہے، جب بھی بات کرنے جاتا ہوں، غصہ کرنا شروع ہو جاتی ہے۔ مجھے تو لگ رہا ہے، پانچ دن نہیں پانچ سو سال لگیں گے” وہ تھکے ہوۓ لہجے میں بولا۔ ہارون کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
“اور اسکو کھڑوس بن کر دیکھا تمہی سے سیکھی ہے” راحیلہ اسکا کان مڑورتے ہوۓ بولی۔ ٹیبل پر قہقے بلند ہوۓ، آج کئی سالوں بعد یوں خوشگوار انداز میں ناشتہ کیا گیا تھا۔۔۔۔
” راحیلہ یاد ہے نا کل رضا صاحب کے بیٹے کی بارات پر جانا ہے، تو پینگ کر لینا، کل رات وہی رکیں گے ولیمہ دیکھ کر آئیں گے اور تم دونوں بھی چلو گے تیاری کر لینا” ہارون ان دونوں کو کہ رہا تھا۔ اسفندیار تو ہر شادی سے خود کو بچاتا اور نور کو تو فنگشنز پسند تھے وہ ایکسائیٹڈ تھی۔۔۔
وہ رات دس بجے سکندر ولا پہنچا، نیہا کو منانے کے لیے۔ اسنے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔ سبھی لاونچ میں بیٹھے چاۓ سے لطف انداز ہو رہے تھے۔ وہ کچھ دیر پہلی ہی آئی تھی اور اوپر کمرے میں تھی۔ وہ سب سے ایکسوز کرتا اوپر کمرے میں آیا، کمرہ خالی تھا واشروم سے آواز آ رہی تھی۔ وہ وہی ڈرسنگ مرر سے ٹیک لگاۓ کھڑا ہوا۔ اور پورے کمرے کا جائزہ لیا۔۔ جہازی سائیز بیڈ تھا۔ بری سی الماری تھی۔ ایک صوفہ اور دو کرسیاں ٹیبل رکھی ہوئی تھی۔۔ سائیڈ ٹیبل پر پریشے اور نیہا کی تصویر تھی۔۔۔ وہ اگے بڑھا اور تصویر پکڑی۔ وہ پریشے کی دوسری برتھڈے کی تھی۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ وہ چہرا پونچھتی کمرے میں داخل ہوئی، تبھی اسکی ناک سے خوشبو تکرائی، اسنے دائیں طرف دیکھا تو نظر اسفندیار کی بیک پر پڑی۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں” وہ بیڈ کی طرف بڑھی۔ اور ڈوپٹہ اُٹھا کر لیا۔۔ وہ اسکی آواز پر تصویر وہی رکھتا مُڑا۔
“تم سے ملنے آیا ہوں، بات کرنی ہے” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ نیہا کو اسکی مسکراہٹ اس وقت زہر لگی۔۔۔
“کیوں؟” دونوں بازو لپیٹتے وہ اسکی طرف بڑھتے ہوۓ بولی۔ وہ اسکے انداز پر کچھ پل کو گھبرایا۔ برے برے مافیا کے لوگوں کو اندر کروانے والا شخص اب اپنی بیوی کے غصے سے ڈر رہا تھا۔۔
“یوہہنی کیوں ملنے نہیں آ سکتا؟” وہ اسکا جواب جانتا تھا پر پھر بھی پوچھ بیٹھا۔
“نہیں، نکلیں یہاں سے” وہ سائیڈ پر ہوئی اور اسے باہر کا راستہ دیکھایا۔۔۔
” کیا اب میں ایک چانس بھی ڈیزو نہیں کرتا کہ تم سے بات کر سکوں اور تمہیں ایکسلین کر سکو۔۔۔۔” وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ وہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ اسکے پاس آئی۔۔
“یہی ایکسپلین کرنے آۓ ہیں نا کی آپ نے یہ سب کیوں کیا؟ کیا وجہ تھی؟ آپکو کس طرح ٹریپ کیا گیا؟ فائن میں سب سنوں گی، لیکن سب کے سامنے” وہ اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولی اور باہر کی طرف دو قدم بڑھاۓ۔۔
” واٹ نان سنین بیہا میں یہاں تم سے بات کرنے آیا ہوں، ایک دفع میری بات تو سن لو، سبکے سامنے کیا بات کروں گا” وہ اب اسکے انداز سے چڑ گیا۔۔۔ تو اسے بازو سے پکڑ کر روکا۔۔۔
“وہی بات کریں گے ،جیسے پانچ سال پہلے کی تھی” اسنے غصے سے اپنا بازو چھڑوایا اور اسکا بازو پکڑ کر کھینچتے ہوۓ کمرے سے باہر آئی۔ اور سبکے سامنے اسے لا کر کھڑا کیا۔ سب اسکے یوں آنے پر حیران ہوۓ۔۔۔ صائم بچوں کو کے کر کمرے میں چلا گیا۔۔۔
“سب پلیز کچھ پل انکی بات سن لیں، یہ مجھے سے بات کرنا چاہتے تھے، تو میں نے سوچا جیسے پانچ سال پہلے سبکے سامنے بات ہوئی تھی، جیسے تب میری ذات پر ایک گندہ گھٹیا کویسچن مارک لگا تھا، ویسے ہی آج یہ اسکی ایکسپلیشن دیں گے، اور ہنسنے کی بات تو یہ ہے، اپنی اس گھٹیا حرکت کی وجہ کیا بتائیں گے ویسے میں بری کیوریس ہوں چلیں بتائیں” وہ طنزیہ انداز میں بولی، شرمندگی کے مارے اسفندیار کی گردن تک نہیں اُٹھ رہی تھی۔۔۔
“نیہا کیا کر رہی وہ” میرال نے اسے سمجھانا چاہا۔
“ارے ماما ریلکس آپ نے اور بابا نے ہمیشہ مجھے سیکھایا تھا نا کہ اگر تمہاری طرف ایک انگلی اُٹھے تو اسے اسطرح توڑ کر واپس بھیجو کہ دوبارہ وہ اُٹھ نا پاۓ، تو مسٹر اسفندیار حسن مجھے ان سب الزامات کا جواب دیں، جو آپ نے میری ذات پر لگاۓ، میرے ماں باپ بھائی، کے سامنے جو میرے کردار کی دھجیاں بکھر کر مجھے انکے در پر پھینک کر گے تھے اسکی کیا وضاحت ہے دیں” وہ دونوں بازو لیپٹتے ہوۓ سخت اور ٹھنڈے لہجے میں بولی۔ ابکی بار کوئی نا بولا۔ اور اسفندیار کی تو جیسے منہ میں زبان ہی نا تھی۔۔
“نیہا بیٹا بات کو بڑھاؤ مت وہ بات کرنا۔۔چاہتا یے تو اسکی سن لو” عمیر درمیان میں بولا۔۔۔
“تایا جان میں بات نہیں بڑھا رہی میں انکی سن رہی ہوں، مجھ سے کیا بات کرنی ہے، ان سب الزامات کی وضاحت دینے آۓ ہیں نا، او ایم سو سوری نیہا میرا نا دماغ خراب ہو گیا تھا۔ میرے دوست نے مجھے دھوکہ دیا تو جب میرے سامنے اتنے سارے ثبوت آۓ تو میں نے سوچا میری بیوی بدکردار ہو گی، اسکے ساتھ چکر ہو گا، تو میں نے الزامات لگا دیے بنا اسکی بات سنے۔۔۔ اور اب پانچ سال بعد میں واپس آ گیا ہوں تو سنو میں بہت غلط تھا مجھے معاف کر دو۔ بس۔۔ یہی کہنا ہے۔۔میں جانتی ہوں کیوں یہی کہنا ہے نا” وہ دو قدم آگے بڑھی اور اسکے سینے پر دونوں ہاتھ مارتے ہوۓ ہلکا سا دھکہ دیا۔ وہ پیچھے ہوا۔۔ سبھی خاموش تھے اس حال میں بس اسکی درد بھری آواز گھونج رہی تھی۔ اور اس وقت اسفندیار کا دل کر رہا تھا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ، اسنے سچ میں یہ سب اسے بولا تھا۔ اسکے کردار پر انگلی اٹھائی تھی۔ اور وہ یہ سب کیسے بھول سکتی ہے۔۔۔۔اسکی نظریں زمین پر تھی اور اُٹھانے کی ہمت اب اس میں نہیں تھی۔۔
“بولیں نا یہی کہنا تھا؟ ادھر دیکھیں میری طرف، یہی کہنا تھا نا” وہ اسکا چہرا اوپر کرتے ہوۓ تلخ لہجے میں بولی۔ اور اب بھی اسکی نظریں اُٹھ نا سکیں۔۔۔
“ہہہہہ اب شرم آ رہی ہے، نظریں نہیں ملائی جا رہیں، درد ہو رہا ہے، مجھے بھی ہوا تھا، اور اب تک ہو رہا ہے، اور ساری زندگی یہ درد نہیں نکلے گا، میاں بیوی جو ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں، بھری محفل میں میرے شوہر نے میرے کردار پر سوال اُٹھایا، کہ میرا کسی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔
آپ سبکو میں یقیناً اس وقت بہت پتھر دل لگ رہی ہوں گی، کہ اووو یہ بچارہ تو کب سے منانے کی کوشیشں کر رہا ہے، اور نیہا پتھر دل کہی کی مان ہی نہیں رہی ، الٹا نکھرے دیکھا رہی ہے، پر آپ سب میری فیلنگز نہیں سمجھ سکتے، میں اندر سے کیسا محسوس کر رہی تھی، اور اب تک کیسا محسوس کر رہی ہوں۔ انکے الفاظوں، نے لہجے نے اور بے اعتبار نظروں نے مجھے اندر تک جلا کر راکھ کر دیا ہے، میرا مان میرا غرور، سب ملیا میٹ کر دیا ہے، میں اب جب بھی انکو دیکھتی یوں، مجھے وہ درد بھرے لمحے یاد آتے ہیں، رونا ترپنا، وہ گھٹیا الزامات وہ گھٹیا الفاظ سب سنائی دیتا ہے میں وہ سب چاہ کر بھی نہیں بھول نہیں پاتی” بولتے بولتے وہ پوری کانپ رہی تھی، آواز لڑکھڑا رہی تھی، آنسو پلکوں کی بار کو توڑے چہرے پر بکھرے ہوۓ تھے، اسکا ایک ایک لفظ اسکے اندر کا پلپتا درد بیان کر رہا تھا۔ وہاں پر موجود ہر ایک شخص کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔۔۔
“آپ سب نہیں سمجھو گے کوئی نہیں سمجھ سکتا” بولتے بولتے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ وہ زورو قطار رو رہی تھی۔۔ اور وہ سامنے بے بس کھڑا تھا۔ ہسنتی مسکراتی لڑکی کو وہ آج کس حالت میں لے آیا تھا۔ بلاج اور میرال نیہا کو چپ کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔ آج پہلی بار وہ اپنے اندر کا درد لفظوں میں بیان کر پائی تھی۔ وہ الٹے قدموں وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا پر دماغ اب بھی وہی تھا۔ وہ سوچ کر گیا تھا۔ کہ اس سے معافی مانگے گا، اور اندر ہی اندر وہ جانتا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے تو معاف کر بھی دے گی۔ لیکن ابھی جو جو اسنے بولا وہ سب کسی ہتھوڑے کء طرح اسکے دماغ میں بج رہا تھا۔ اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ وہ جیسے تیسے گھر پہنچا، سبھی اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔ وہ سیدھا اپنے کمرے مین آیا دروازہ بند کیا اور شرٹ نکالتے ہوۓ وہ واشروم میں داخل ہوا۔ اسکی نظروں کے سامنے نیہا کا روتا چہرا، اسکے درد بھرے الفاظ، اسکی بے بسی سب آ رہے تھے، اسنے شاور چلا دیا۔ اور خود ٹھنڈے پانی کے نیچے جا کھڑا ہوا۔ باہر کا ٹمپریچر بھی کافی ٹھنڈا تھا۔ وہ وہی شاور کے نیچے بیٹھ گیا۔ اسکی آنکھوں سے لگاتار آنسوں بہ رہے تھے۔ اسے اپنا آپ مجرم لگ رہا تھا، اسنے کیسے اپنے الفاظوں سے ایک لڑکی کی ذات کی دھجیاں اُڑائیں۔۔وہ گھٹنوں میں سر دیے روۓ جا رہا تھا۔ آج پہلی بار اسے محسوس ہوا اسنے کیا کھو دیا تھا۔ جیسے اس رات اسنے اپنے ماں باپ کھوۓ تھے ٹھیک اسی طرح آج اسے سچ میں لگا کہ اسنے اپنی بیوی، پیاری ہمسفر کو بھی کھو دیا۔۔۔۔۔۔۔
،،،،،*
نیہا کمرے میں گئی اور بیڈ پر لیٹتے گردن تک کمبل اُڑھ لیا۔ میرال اسکے پاس تھی۔ وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی۔۔
“اب کیسی ہو؟” وہ اب چپ کر گئی تھی اور بس خاموشی سے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔وہ اگے ہوئی اور میرال کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔۔۔
“پتہ نہیں۔ بس اچھا نہیں لگ رہا” بولتے ہوۓ اسکا لہجہ بھگا تھا۔۔
“ایک بات کہوں؟” میرال اسکا چہرے سے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔
“ہمممم” اسنے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
“جب میری اور تمہارے بابا کی شادی ہوئی تھی، اس سے پہلے انہوں نے میرا ایک دفع بہت بری طرح سے دل توڑا تھا۔ میں بھی بالکل تمہاری طرح ان سے بات تک نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پھر ملائکہ آپی کی وجہ سے ہماری شادی ہو گئی، بہت دیر تک میں نے ان سے ٹھیک سے بات تک نہیں کی تھی، لیکن انکی ہر انداز سے جھلکتی محبت، کیرنگ انداز نے نا جانے کب میرا دل بدل دیا۔ اور میں نے انہیں معاف بھی کر دیا۔ میں جانتی ہوں، تمہارا دل نہیں گوارا کرتا کہ تم اسفندیار کو معاف کرو، لیکن بیٹا یوں کسی کی بات تک نا سننا اسے کچھ کہنے کا موقع تک بھی نا دینا کہاں تک کے صحیح یے۔ جانتی ہوں، اسنے جو کیا وہ کسی طور بھلانے جے قابل نہیں، پر اگر تم اسکی جگہ رہ کر سوچو، تو اس وقت اسکے ہاتھ سے اسکے ماں باپ کا قاتل پھسلا تھا، اسکا دوست دھوکے باز نکلا۔ اوپر سے تمہارے خلاف دھیر سارے ثبوت، میں مان سکتی ہوں، کہ اسنے جو بولا وہ غصے میں بولا۔ شائد کہی اور کا غصہ تم پر نکل گیا۔ اس میں تمہاری بھی غلطی تھی۔ اگر سننا چاہو تو بولوں ؟” میرال بہت نرم انداز میں اسے سمجھا رہی تھی۔۔ نیہا نے آخر میں چہرا اُٹھایا۔۔۔
“کیسی غلطی؟” وہ ناسمجھی سے بولی۔۔
“اگر ایک شخص نے تمہاری مدد کی، تو اتنا حق کیسے بنا کہ وہ تمہارا فون لے کر نمبر سیو کر دے، تمہیں وہی اسکے ہاتھ سے فون کھینچ کر نمبر ڈلیٹ کرنا چاہیے تھا۔ نا کہ بعد میں اس سے میسج پر بات کرتی، چاہیے وہ دو دفع ہو یا تین دفع” میرال نے ٹہرے ہوۓ انداز میں اسے گہری بات سمجھ دی۔ وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔
“واؤ اب آپ مجھے غلط بول رہی ہیں مطلب سارا فساد کی جڑ تو وہ نمبر تھا” وہ خفگی سے بولی۔۔
“بالکل سارے فساد کی جڑ وہ نمبر ہی تھا، تم فرینڈز بناؤ، پر کسی بھی اجنبی پر بھروسہ مت کرو اور نا اس سے بات کرو، یہ بات مجھے تمہیں سالوں پہلے سمجھانی چاہیے تھی اصل غلطلی تو مجھ سے ہی ہوئی” میرال نے اسے گھورتے ہوۓ کہا۔۔
“ٹھیک ہے اسکا مطلب تو یہ ہوا میں ہی غلط ہوں” وہ روٹھے ہوۓ انداز سے بولی۔۔۔
“نیہا تم کتنی اسٹبن ہو گئی ہو، حد ہے، اسفندیار نے جو کیا وہ غلط ہے پر صحیح تم بھی نہیں ہو، آئی بات سمجھ اب چلو سو جاؤ میں بھی جا رہی ہوں، تمہارے بابا کافی پریشان ہیں” میرال بیڈ سے نیچے اتری اور اسے سونے کا کہتی کمرے سے چلی گئی۔۔ نیہا وہی بیڈکراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی رہی اور میرال کی بات پر غور کرنے لگی۔ تبھی پریشے ہاتھ میں ڈول پکڑے کمرے میں داخل ہوئی۔ اور سیدھی اسکی گود میں آ کر لیٹ گئی۔ نیہا نے اسے سینے سے لگایا۔ وہ آنکھیں بند کر چکی تھی۔۔ نیہا نے پریشے کو غور سے دیکھا۔ اسے اسفندیار کی جھلک نظر آئی۔۔۔ اسنے اپنا سر پیچھے ٹکا دیا اور بے بسی سے آنکھیں بند کئیں۔۔
دوسری طرف وہ تین گھنٹوں بعد باتھ روم سے باہر نکلا۔ گیلے کپڑے بدلے، جسم فل اکڑ چکا تھا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ پر ابھی بھی اسکے دل کو سکون نہیں پہنچا تھا۔۔ تبھی اسنے جاۓ نماز بیچھایا۔ اور نماز پڑھی، نماز مانگتے وقت اسکا ہاتھ اُٹھے۔ تو آنکھوں سے زوروقطار آنسوں روانہ ہوۓ۔۔
“یا اللہ۔۔۔۔۔” یہ الفاظ بامشکل اسکے منہ سے نکلے۔۔۔۔
“میں نے بہت برا گناہ کیا۔ اپنی بیوی پر الزام لگایا۔ جسکی سزا اب تک پا رہا ہوں، اسے کس قدر دکھ درد دیا۔ یا اللہ مجھے معاف کر دے، میرے دل کو سکون دے دے میرے مالک۔۔۔۔مجھ میں اتنی ہمت پیدا کر کے میں اس سے معافی مانگ سکوں، اور اسکا دل میرے لیے نرم کر دے۔۔۔۔” وہ زوروقطار روتے ہوۓ یہی دعا بار بار مانگ رہا تھا۔ اور پھر چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہ سجدے میں چلا گیا۔ وہ وہی روتے روتے سو گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
