No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ساحل اپنے آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔ آج بلاج آفس نہیں آیا تھا۔ رات کو ڈنر پر ہارون کی فیملی آ رہی تھی۔ وہ مصروف سا کام کر رہا تھا۔ جب ٹیبل پر رکھا انٹرکام بجا، اسنے رسیویر اُٹھا کر کان سے لگایا۔
“سر وسیم لڑکا آیا یے وہ کہ رہا ہے آپ اسے جانتے ہیں وہ ملنا چاہتا ہے” دوسری طرف سے آواز آئی۔ وسیم کا نام سن کر وہ چونکا کل وہ ہسپتال میں اس سے مل چکا تھا۔
“ہممم بھیج دو” اسنے کہ کر رسیویر رکھ دیا۔ کچھ ہی دیر بعد ویسم آفس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
“واہ سنا تھا تم برے پیسے والے ہو آج دیکھ بھی لیا کمال ہے” وہ داخل ہوتے ہی آفس روم کو چاروں طرف سے دیکھتے ہوۓ بولا۔ ساحل خاموش ہی رہا وہ اسکے سامنے رکھی کرسی پر آ بیٹھا۔
“بولو کیا کرنے آۓ ہو یہاں؟” ساحل نے اپنے سامنے بیٹھے ویسم سے آنے کی وجہ پوچھی۔ جو کھلی جینز کے اوپر کھلے گیربان والی شرٹ، گلے میں چینز، ہاتھوں میں بینڈ اور انگلیوں میں انگھوٹھیاں پہنے ہوۓ تھا۔ اور ہاتھ پر ٹیٹو بنے ہوۓ تھے۔
“بس کل جب سے تم سے ملاقات ہوئی ہے، کچھ سوچ رہا ہوں وہی بتانے آیا ہوں یا یوں مانو تمہیں ایک آفر دینے آیا ہوں، اور تم ایک بزنس مین ہو گھاٹے کا سودا نہیں کرو گے” وہ منہ میں ببل چباتے سارے آفس کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
“کیسا سودا؟” ساحل نے آئی برو اچکا کر پوچھا۔
“اپنی بہن کا سودا، اگر تمہیں میری بہن سے شادی کرنی ہے تو پچاس لاکھ دو میں شادی کروا دوں گا” وہ خباثت سے مسکراتے ہوۓ بولا۔ وہ پہلے شاک ہوا پھر اسکے ماتھے پر بل پڑے ، جبڑے تنے، وہ اسکی طرف آیا اور اسے گریبان سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔
“تمہارا دماغ خراب یے کیا بکواس کر رہے ہو” وہ دانت پیستے ہوۓ بولا۔ وہ خود کو نا جانے کیسے کنٹرول کر رہا تھا ورنہ اب تک اسکا منہ توڑ چکا ہوتا۔ ویسم نے اس سے اپنا گریبان چھڑوایا۔ وہ ہنس رہا تھا۔
“جانتا ہوں تم اسے پسند کرتے ہو، میں نے سوچا تم مان جاؤ گے، ورنہ گاہک تو اور بھی ہیں، وہ تو آرام سے پیسے بھی دے دیں گے” وہ گلے میں پہنی چین کو انگلی پر گھماتے ہوۓ بولا۔ ساحل کو شبہ ہوا آیا وہ حیام کا سگا بھائی ہے کہ نہیں، وہ اپنی ہی بہن کا سودا کر رہا ہے، اور گاہک، کیا وہ کوئی۔۔۔۔۔ وہ اگے سوچ بھی نہیں پایا۔ ضبط سے اسکی انکھیں لال ہوئیں۔۔۔۔
“ابھی کے ابھی میرے آفس سے نکلو” وہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوۓ بولا ورنہ وہ ابھی اسے موت کے گھاٹ اتار دیتا۔۔
“چلا جاؤں گا، پہلے میری پوری بات سن لو، میری بہن اور ماں میرے لیے اور میرے باپ کے لیے ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں، ماں تو ویسے ہی مرنے والی ہے، اور میری بہن مجھے زرا پسند نہیں، تم مجھے پیسے دو اور اسے لے جاؤ پھر چاہے نکاح کرنا نا کرنا تمہاری مرضعی تمہارے پاس دو دن ہیں، اگر تم نا مانے تو تیسرے دن میں اسے کسی اور کو دے دوں گا کیونکہ مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے، یہ رہا میرا نمبر راضعی ہو تو کال کر لینا چلتا ہوں” وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوۓ اپنا نمبر لکھ کر ٹیبل پر رکھتے وہاں سے چلا گیا۔ ساحل کو یقین نہیں آ رہا تھا ابھی ابھی کیا ہوا۔ وہ اپنی کرسی پر ڈھے سا گیا۔ اسنے اپنا سر ہاتھوں پر گِرا دیا۔ اگر یہ سب حیام کو پتہ لگ جاۓ تو وہ کتنی ہرٹ ہو گی۔ اسکی نظر رائیٹنگ پیڈ پر لکھے ویسم کے نمبر پر پڑی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کیا کرے اور کیا نا کرے۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات کو ڈنر پر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ اسنے سیاہ فراک پہنی تھی جسکے گلے اور باڈر پر گولڈن کام ہوا تھا، اسکے نیچے چوڑی دار پچامہ تھا، اسنے دل لگا کر میک اپ کیا زندگی کیں کبھی اسنے اتنا گہرا میک اپ نہیں کیا تھا۔ لال لیپ اسٹک لگا کر اسنے اپنے بال سٹریٹ کیے اور پیچھے کمر پر کھلے چھوڑ دیے، ہاتھوں میں بھر بھر کر کالی چوڑیاں ڈالیں، صبح ہی راحیلہ نے اسے بہت خوبصورت سونے کی چین اور ٹاپس دیے اسنے وہ پہنے ہوۓ تھے، اسنے پاؤں میں گولڈن خوسہ ڈالا، گلے میں ڈوپٹہ ڈالے اسنے گھوم کر اپنی آپ کو شیشے میں ہر اینگل سے دیکھا۔ چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ دروازے سے اسفندیار داخل ہوا، راحیلہ نے اسے فون کر کر کے بلوایا وہ کافی فرسٹیڈ تھا، اسکو آتا دیکھ نہیا کی دل کی دھڑکنیں بھریں۔ وہ اسے مکمل اگنور کرتا جلدی سے اپنے کپڑے جو نہیا نے نکال کر رکھے ہوۓ تھے انہیں لیے واشروم میں گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ کالی قمیض شلوار پہنے، گلیے بالوں کو تولیے سے رگڑتا ڈریسنگ کے سامنے آیا۔ اور ڈرائیر سے بال ڈرائی کرنے لگا۔ نہیا نے اسکے لیے جوتے نکالے اور اسکے پاس آئی۔ تب تک وہ اپنے بال بنا چکا تھا۔ اب خود پر پرفیوم سپرے کر رہا تھا۔
“اسفی کیسی لگ رہی ہوں؟” نہیا نے جب اسے خود کو اگنور کرتے دیکھا تو خود ہی گول گھومتے ہوۓ بولی۔ اسکی آواز پر اسفندیار نے اسکی طرف دیکھا، وہ بالکل چھوٹی سی ڈول لگ رہی تھی، کالے رنگ میں اسکا دودھیاہ رنگ مزید نِخر کر آ رہا تھا۔
“اچھی لگ رہی ہو” وہ بس اتنا بول بیڈ پر بیٹھا اور جوتے پہنے لگا، اسنے پہلی بار نہیا کی تعریف کی، اسکا یہ کسی بھی احساس سے عاری لہجہ بھی اسے بہت بھایا، وہ پرانی سب باتیں بھول گئی اسکا لیے دیا انداز بھی اسے اچھا لگ رہا تھا کیونکہ اسے وہ اچھا لگتا تھا، تو اسکا ہر انداز کیسے اچھا نا لگتا۔ وہ کھل اُٹھی۔
“تھینک یو” وہ مسکرا کر بولی، اسفندیار نے اسکی طرف دیکھا جسکا چہرا شرم سے لال ہو رہا تھا۔ وہ حیران ہوا خود سے پوچھ کر تعریف کروانی والی اور بعد میں یوں شرمانے والی وہ انوکھی لڑکی تھی۔ اس نے سر جھٹکا۔
“چلو دیر ہو رہی ہے” وہ اپنا موبائل وائیلٹ اور گاڑی کی چابی پکڑتے ہوۓ بولا۔
“اچھا چلتے ہیں ایک منٹ رکیں” نہیا پلٹی اور اپنا موبائل لے کر اسکے پاس آئی۔
“دیر ہو رہی ہے” وہ اپنی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
“ادھر تو دیکھیں” نہیا نے مسکرا کر کہا۔ اسکی بات پر اسفندیار نے اسکی طرف دیکھا، تو وہ موبائل سے اپنی اور اسکی سیلفی لے رہی تھی۔ اسکے دیکھتے ہی اسنے اسفندیار کے کندھے پر اپنا سر ٹکایا اور سیلفی کھینچنی ابھی وہ ایک دو اور لینے والی تھی۔
“نہیا بیہیو یور سیلف” تبھی اسفندیار نے غصے سے اسکو پیچھے کرتے ہوۓ کہا۔ وہ ہلکا سا لڑکھڑائی۔ اسکے ہاتھ سے موبائل نیچے زمین پر گِڑا۔ وہ حیرانگی سے اسفندیار کے غصے والے چہرے کو دیکھا۔
“کیا ہوا؟؟” وہ اپنا موبائل اُٹھاتے ہوۓ بولی۔۔
“آئندہ میرے قریب مت آنا، یہ میں پہلی اور آخری دفع تمہیں بتا رہا ہوں” وہ انگلی اُٹھا کر سرد لہجے میں کہتے اگلے ہی لمحے کمرے سے باہر چلا گیا۔ وہ نا سمجھی سے اسکے کہے گے الفاظوں کو سوچ رہی تھی، پچھلے دو دن سے وہ سوچ رہی تھی شائد یوں اچانک شادی اوپر سے وہ گولی لگنا شائد اسکی وجہ سے وہ اسطرح بی ہیو کر رہا ہے، وہ اسکی ہر بات برے پیار سے نظر انداز کر رہی تھی، پر اب تو سب ٹھیک تھا، پھر وہ ایسا کیوں کہ کر گیا۔ کیا وہ خوش نہیں؟ کیا اسے نہیا پسند نہیں؟ بہت سے سوال اسکے من میں آ رہے تھے۔ ابھی وہ اپنی سوچوں مین مزید بھٹکتی کہ نور اسکے کمرے میں اسے لینے آئی۔ اسنے جلدی سے خود کو سھنمبالا، زمین پر گِڑا اپنا موبائل پکڑا جو ٹوٹنے سے بچ گیا تھا، وہ بنا اپنا کوٹ لیے باہر آئی، وہ ابھی غائب دماغ تھی۔ وہ نیچے آئی تو سب باہر گاڑی میں بیٹھے ہوۓ تھے، وہ نور کے ساتھ پیچھے بیٹھ گئی، اسفندیار کی سیٹ کے بالکل پیچھے وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اسفندیار نے گاڑی چلا دیا۔ اب گاڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ وہ ابھی تک اسکے الفاظ اور لہجے سے ہرٹ تھی خاموش خاموش سے وہ شیشے سے باہر دیکھنے لگی، بایر اندھیرا پھیل چکا تھا وہ اس اندھیرے میں نا جانے کون سی روشنی تلاش کر رہی تھی۔ اسکا لہجہ اسے بھلاۓ نا بھول رہا تھا آج تک اسکے گھر میں کسی نے اس سے اسطرح بات نہیں کی وہ اپنے باپ بھائی کی جان تھی، اب وہ کتنے دن سے اسکا اکھڑا لہجے برداشت کر رہی تھی، اسکی آنکھیں ہلکی سی نم ہوئی، تبھی اسے لگا کوئی اسے دیکھ رہا ہے، اسکی نظر اٹھی تو سامنے لگے چھوٹے سے شیشے سے وہ اسے دیکھ رہا تھا اسکے دیکھتے ہی اسنے نظریں پھیر لیں۔ کچھ ہی دیر میں وہ لوگ گھر پہنچے تب تک وہ خود کو ہزار دلاسے دے کر شانت کر چکی تھی اب وہ نارمل تھی۔ وہ گاڑی سے باہر نکلی سبکے ساتھ لاونچ میں آئی انکے انتظار میں سبھی تھے۔ وہ بھاگتی ہوئی بلاج کے سینے سے لگی۔ کب سے اپنے آنسوں چھپاتی، اب وہ انہیں بہنے سے روک نا پائی۔ باقی سب بھی مل رہے تھے۔ وہ ساحل اور صائم سے ملتے میرال کے سینے سے لگی، سبھی لاونچ میں رکھے صوفوں پر بیٹھ گے۔۔۔
“کیسی ہو سب ٹھیک ہے” میرال نے اسکا اترا ہوا چہرا نوٹ کرتے ہوۓ پوچھا وہ دونوں اس وقت کچن میں موجود تھیں۔
“ماما سب ٹھیک ہے، مین تو بس آپ سکو مس کر رہی تھی” وہ اسکے گرد باہین پھیلاتے ہوۓ بولی۔
“ماما میں اپنی باقی چیزیں پیک کر لوں، اپ نے سب نہیں بھیجا تھا ویسے بھی کل سے میں یونی جاؤں گی، علیزے بول رہی تھی ڈیٹ شیٹ آ گئی، ویسے تو دو مہینے بعد پیپرز ہونے تھے پتہ نہیں اب کیون جلدی ہو رہے ہیں، پر انکا تو بھروسہ بھی نہیں کب ڈیٹ شیٹ بھیج دیتے ہیں” وہ بولتے ہوۓ منہ میں کھیرا ڈال رہی تھی۔
“چلو تم سب رکھ لو، میں کھانا لگواتی ہوں تو آ جانا” میرال آخری نظر اپنی پکائی ہوئی چیزوں پر ڈالنے لگی، وہ کچن سے نکلتی لاونچ سے ہوتے اوپر اپنے کمرے میں آئی، آتے ہی اسنے ایک بیگ میں اپنی باقی کی بکس رکھنے لگی، تبھی اسکی نظر اپنی بلیک ڈائری پر پڑی، اسنے وہ ڈائری پکڑی اور بیگ میں رکھا۔۔۔
نیچے کھانا لگ چکا تھا۔ وہ اپنا کام ختم کر کے نیچے آئی، سب کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے کھا رہے تھے، وہ بھی آ کر بیٹھ گئی۔ کھانے کے بعد سبھی لاونچ میں بیٹھے چاۓ پینے لگے۔ صائم نہیا سے نا جانے کون کون سی باتیں کر رہا تھا، پہلے بھی وہ اپنی ساری باتیں اسی سے کرتا تھا۔ وہ بھی مگن سی اسکی باتین سنتی کبھی ہنس دیتی تو کبھی سوال کرتی، چاۓ کا اسنے اپنے ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا ٹھنڈ سے اسکے ہاتھ جمے ہوۓ تھے، ناک بھی لال ہو چکی تھی۔
“ماما بری سردی لگ رہی ہے، کوٹ اور کیپ دینا” وہ اپنے پاس بیٹھی میرال کے کان میں بولی۔ وہ ہاں میں سر ہلاتی وہاں سے اُٹھی اور اسے دونوں چیزیں لا کر دیںتے راحیلہ کے پاس بیٹھی باتیں کرنے لگی۔ اسنے کوٹ پہنا اور کپ پہنے سے پہلے سوچا، اسکے سارے سٹریٹ بال خراب ہو جائیں گے، پر جسکے لیے وہ دل سے تیار ہوئی تھی وہ تو یوں لا تعلق بیٹھا ہوا تھا۔ اسنے اسفندیار کی طرف دیکھا جو ڈائنگ ٹیبل کے پاس کھڑا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔ وہ چونکی، اور چونکے کی بات یہ تھی کہ وہ مسکرا مسکرا کر کسی سے بات کر رہا تھا۔ اسے یاد نہیں پڑتا کب اسے یوں مسکراتے ہوۓ اسنے دیکھا تھا وہ تو ہمیشہ سنجیدہ چہرا لیے ہی رہتا تھا۔۔ اب وہ کس سے بات کر رہا تھا؟ وہ سوچ رہی تھی جب کسی نے اسکی آنکھوں پر بلائینڈ فولوڈ باندھا۔
“نہیو تمہارے لیے ایک سرپرائیز ہے کھڑی ہو جاؤ” ساحل کی آواز آئی، وہ جو اچانک سے ڈر گئی تھی اسکی سنتے اور سراپرائیز کا نام سنتے وہ ایکسائیٹمنٹ میں کھڑی ہوئی، سبھی انکی طرف متوجہ تھے۔
“میرے ساتھ ساتھ چلو” ساحل اسکا ہاتھ پکڑے اسے چلنے کو بولا۔
“بھیو کہاں لے جا رہے ہو؟ وہ چلتے ہوۓ بولی۔ وہ اسے لیے باہر آیا۔ صائم اور نور بھی انکے پیچھے آۓ بلاج اور میرال جانتے تھے کیا سرپرائیز یے۔
” میں بلائینڈ فولڈ کھولنے والا ہوں تمہارا سرپراییز یہی ہے” ساحل مسکرا کر بولتا اسکی آنکھوں سے پٹی اتار گیا، اسنے اپنی انکھیں آہستہ سے کھولیں، سامنے اسکی پسندیدہ نیو کار کھڑی تھی، جسکے اوپر لال ربن باندھا ہوا تھا،
“واؤ، تھینک یو بھیو” وہ خوشی سے چیختے ہوۓ بولی۔ ساحل نے گاڑی کی چابی اسکے حوالے کی۔ وہ بھاگ کر اپنی گاڑی کا دروازہ کھولتے اندر بیٹھی، ڈرائیانگ اسنے ایک سال پہلے سیکھی تھی بلاج کی گاڑی وہ اکثر چلایا کرتی تھی اور اب اسکی اپنی گاڑی تھی۔ وہ بے حد خوشی تھی۔۔ باقی کا سارا وقت وہ تینوں باہر ہی رہے، جانے کا وقت آیا تو نہیا نے سارا سامان اپنی نئی گاڑی میں رکھا، وہ خود ڈرائیو کرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنی گاڑی کا دروازہ کھولتے اندر بیٹھنے لگی
“تم گاڑی نہیں چلاؤ گی، چلو دوسری طرف بیٹھو میں چلاتا ہوں” اسفندیار نے دروازہ پکڑتے ہوۓ اسے بیٹھنے سے روکا۔
“نہیں اپنی گاڑی میں پہلی ڈرائیو مجھے ہی کرنی ہے” وہ ضدی لہجے میں بولی۔
“نہیا رات بہت یو چکی ہے میں۔۔۔۔” اسفندیار نے آرام دے اسے سمجھانا چاہا۔
“نہیں بولا نا مین کرو گی” وہ ضدی لہجے میں بولی۔
“اسفی تم ساتھ بیٹھ جاؤ وہ بہت اچھی ڈرائیونگ کرتی ہے پریشان مت ہو” بلاج کو یوں اسکا پریشان ہونا اچھا لگا وہ اسکی بیٹی کی فکر کرتا تھا ایک دفع پھر اسے اپنے فیصلے پر خوشی ہوئی۔ نہیا اب ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکی تھی۔ وہ ضبط کرتا اسکے ساتھ آ کر بیٹھا۔ گاڑی کو گھر سے نکالتے نہیا نے روڈ پر ڈالا۔ دوسری گاڑی ہارون خود ڈرائیو کر رہا تھا۔ ادحا رستہ گزرا۔ وہ چپ سا اسکی بغل والی سیٹ پر بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا۔
“ناراض ہیں؟” نہیا نے گاڑی کی سپیڈ آہستہ کرتے ہوۓ پوچھا۔ وہ کچھ نا بولا۔
“ویسے ناراض تو مجھے ہونا چاہیے جیسے اپ نے میرے ساتھ دو دن سے بی ہیوئیر رکھا ہوا ہے اس کے ناطے تو مجھے ناراض ہونا چاہیے” وہ اسکو ایک نظر دیکھتے ہوۓ بولی۔وہ پھر بھی خاموش رہا۔نہیا کو کافی برا لگا اسے اسکی ناراضگی کی بھی زرا فکر نا تھی
“اسفی کیا میں آپکو پسند نہیں؟” نا جانے کیسے اسنے یہ سوال پوچھا۔ اور اب وہ اسکے جواب کی منتظر تھی۔
“ایسی بات نہیں” وہ بس اتنا ہی بولا۔ اسکے یہی سوال سے تو وہ پچنا چاہتا تھا، وہ اسکو اسکا کیا جواب دیتا جسکا جواب ابھی تک اسکے پاس بھی نا تھا۔ وہ کیا کہتا وہ اسے نا پسند نہیں کرتا ،اور نا ہی اسے پسند کرتا ہے۔۔ اسکے دل میں کوئی احساس نہیں۔
“تو پھر آپکا رویہ ایسا کیوں ہے؟” نہیا نے بھی ٹھان لیا وہ اس سے اس رویہ کی وجہ جان کر رہے گی۔۔۔وہ کئی پل اسکے جواب کا انتظار کرتی رہی پر وہ خاموش سا شیشے سے باہر دیکھ رہا تھا۔
“آپ نے جواب۔۔۔۔۔” نہیا نے پھر پوچھنا چاہا۔
“نہیا چپ کر کے گاڑی چلاؤ گھر جا کر بات کرین گے تمہارے سب سوالوں کا جواب دے دوں گا” وہ سر سیٹ کی پشت پر ٹکاتے ہوۓ بولا۔ نہیا نے گاڑی چلانے پر فوکس کیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ گھر پہنچ گے۔ سبھی تھکے ہوۓ تھے تو آتے ہی سونے کے لیے کمروں میں چلے گے۔ وہ دونوں بھی کمرے میں داخل ہوۓ۔
“تم کپڑے تبدیل کر لو پھر بات کرتے ہیں” وہ بولتا اپنے موبائل سے کسی کا نمبر ملاتے ہوۓ صوفے پر بیٹھ گیا۔ نہیا جلدی سے کپڑے لیے واشروم میں گھسی اور تھوری دیر مین دھلے منہ کے ساتھ نائیٹ سوٹ پہنے باہر آئی۔
“یہاں بیٹھو” اسنے اسے صوفے پر اپنے برابر بیٹھنے کا کہا۔ وہ اسکے پاس آکر بیٹھی۔ اور اب وہ اسکی طرف سے ملنے والے جواب کی منتظر تھی۔
“دیکھو نہیا! میں مانتا ہوں میرا رویہ تمہارے ساتھ صحیح نہیں، مین تمہیں سب سچ ہی بتاؤں گا، تم ایک اچھی لڑکی ہو ایک آدمی کو جیسی بیوی چاہیے ہوتی ہے تم بالکل ویسی ہو بالکل اس سے بھی زیادہ اچھی ہو لیکن ” اسنے بولنا شروع کیا۔ نہیا یک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اسکے لیکن پر اسکی سانس اٹکی۔۔۔
“لیکن جب سے ہماری منگنی ہوئی، نا تو تب میرے دل میں تمہارے لیے کوئی فیلنگز تھیں اور نا ہی ہماری شادی کے بعد، لاکھ چاہنے کے باوجود میرے دل میں تمہارے لیے کوئی چاہت نہیں ابھری” وہ جیسے مجرم سا بنا آج اسکے سامنے سب اعتراف کر رہا تھا۔
“تو آپ شادی سے انکار کر دیتے” نہیا یہ بات سن کر بولی۔
“نہیں کر سکا، میں بلاج انکل کو انکار نہیں کر سکتا” وہ جیسے بے بسی سے بولا۔ نہیا کو اپنے آپ سے کوفت ہونے لگی وہ کسی کی زندگی میں اسکے اوپر مسلط کر دی گئی تھی۔ اسفندیار کو لگا وہ اسے سب سچ بتا دے گا تو روز روز کے سوالوں سے جان چھوٹے گی پر یہ نہیں جان سکا وہ اس وقت یہ سب کہ کر اس لڑکی کے دل کو کتنی بے دردی سے توڑ چکا یے۔ وہ جو کچھ دیر پہلے تک خود کو دنیا کی سب سے خوش قمست لڑکی سمجھ رہی تھی کہ اسے اسکی محبت بنا کچھ کیے ہی مل گئی، ابھی اسے محسوس ہو رہا تھا، وہ ہار گئی، اور بری طرح ہاری۔
“تو اب؟” یہ الفاظ نہیا نے بہت مشکل سے ادا کیے۔
“تم مجھے کچھ عرصہ دے سکتی ہو، تا کہ میں اس رشتے کو پورے دل کے ساتھ اپنا سکوں کیا مجھے اتنی مہلت مل سکتی ہے” وہ خود جو اسکا مجرم سمجھ رہا تھا، اسکی زندگی وہ برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“ٹھیک ہے۔ کیا اب میں سو جاؤں” وہ بس اتنا ہی بولی۔ اسفندیار نے ہاں میں سر ہلاتے اسے جانے دیا۔ وہ بنا اسکی طرف دیکھے اپنی جگہ پر جا کر لیٹ گئی۔۔ وہ کئی پل اسکی پشت کو دیکھا رہا، کیا اسنے بتا کر ٹھیک کیا؟ وہ خود سے وعدہ کر چکا تھا کہ اب اس سے اچھا رویہ رکھے گا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
