Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

“بری دیر لگا دی فون کرنے میں” جیسے ہی اسفندیار نے کال ملائی کال پک کرتے ہی اسے فرید احمد خان کی آواز سنائی دی۔ اسکے دل کی دھڑکنیں بڑھنے لگیں۔ پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی، وہ تو جیل میں قید تھا تو۔۔۔۔۔؟
” سنا ہے تیری بیٹی گم گئی؟ ہاہاہا فکر مت کر میں تجھے ایک ایڈریس بھیجتا ہوں وہاں پہنچ مگر یاد رکھنا اکیلے آنا پولیس نہیں آنی چاہیے” فرید احمد کی ہنسی سے بھرپور آواز گھونجی۔ اسکا دماغ بھک سے اُڑا جسکا اسے ڈر تھا وہ ہو گیا۔ پریشے فرید احمد کے پاس تھی۔۔۔۔
“کیا ہو گیا؟ پریشے کیسے گم گئی؟” باہر سے بلاج اور باقی سب بھاگتے ہوۓ ان تک پہنچے۔۔۔۔ نیہا رو رہی تھی۔۔۔سب پریشان تھے
“حرام خور اگر میری بیٹی کو ذرا سی بھی چوٹ پہنچائی تو میں تجھے زندہ جلا دوں گا” وہ بری طرح چیخا تھا۔ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔۔
“ابے تو جلدی آ ورنہ میں اسے جلا دوں گا” سخت لہجے میں کہتے فرید احمد نے کھٹاک سے فون کاٹ دیا۔۔
“پریشے کس کے پاس ہے؟” نیہا جلدی سے اسکے پاس آئی اور اسکا بازو پکڑ کر بے صبری سے پوچھا۔۔۔
“فرید احمد کے پاس؟” وہ درد سے پھٹتا ہوا سر مسلتے ہوۓ بولا۔۔۔ بخار اسکا بڑھ گیا تھا۔۔ پر ابھی اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی ابھی اسکی بچی اس شخص کے پاس تھی، جو ایک درندا تھا۔ لوگوں کو مارنے سے پہلے وہ سوچتا تک نا تھا۔
“پر پر اسفندیار وہ تو جیل میں تھا؟” ساحل نے فوراً پوچھا
“جیل سے بھاگ گیا” وہ موبائل پر فرید احمد کے میسج کو اوپن کرنے لگا۔۔۔جس میں لوکیشن تھی۔۔۔
“فرید احمد فرید احمد یہ انسان جان کا عذاب بنا ہوا ہے، اور صرف آپکی وجہ سے، آپکو ہی شوق ہے اسے پکڑنے کا، پہلے ماما کو گولیاں لگیں، اور اب پریشے، میری بچی کو واپس لائیں، ورنہ میں آپکی شکل تک نہیں دیکھوں گی” وہ اسے دھکہ مارتے ہوۓ چلائی تھی۔۔۔۔ وہ دو قد۔ پیچھے ہٹا۔ اسنے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ اس سے معافی مانگتے ہوۓ کڑکڑا رہا تھا۔ گھٹنوں تک بیٹھ چکا تھا۔ لیکن اسکو ابھی تک وہی قصوروار لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
“میں اسے لے کر ہی واپس آؤں گا، ورنہ نہیں” وہ ایک نگاہ اس پر ڈالتا باہر کی طرف بھاگا۔۔
“نیہا ہوش میں رہو، اس میں اسکا کیا قصور، تم اب اسکے ساتھ زیادتی کر رہی ہو” بلاج اگے بڑھا اور نیہا کو سختی سے کہا۔ وہ روتی رہی حوریہ اسکو کمرے میں لے گئی۔ ساحل بلاج رضا ہارون باہر اسفندیار کے پاس آۓ۔۔۔۔ جو کان سے فون لگاۓ، حسین کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ اسکا چہرا ایک دم سفید پڑ چکا تھا۔
“کب ہوا؟ تم نے مجھے کال۔۔۔ ” وہ لڑکھڑاتے ہوۓ لہجے میں بولا۔۔ حسنین اگے سے بول رہا تھا۔ وہ اپنا سر پکڑتا وہی سیڑھی پر بیٹھ گیا۔۔ وہ جس جنگ کو ختم سمجھ رہا تھا۔ اس جنگ کا خوف ناک موڑ آ گیا تھا۔۔۔
“میں لوکیشن بھیجتا ہوں، تم ٹیم کو لے کر پہنچو، لیکن کافی دور رہنا اندر میں اکیلا جاؤں گا” اسنے کہتے ہوۓ فون کاٹ دیا اور سر نیچے کو گرا دیا۔۔۔
“اسفندیار کیا بات ہے؟ ” اسکے کندھے پر بلاج کا ہاتھ تھا۔ اسنے اپنا چہرا اُٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔ اسکے ہونٹ کانپ رہے تھے، آنکھوں سے آنسوں لگاتار بہ رہے تھے۔ سبھی کا دل ڈوبا۔ کہی پریشے کو کچھ۔۔
” بچے بتاؤ کیا ہوا؟” بلاج اسکے پاس بیٹھا اسکا آگ کء طرح تپ رہا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا۔۔۔
“عااااطفففففف سرررر وہ عاطف سر کو انکے گھر جا کر مار کر آیا ہے اور اسنے اپنے بھائی مُزمل کو بھی مار دیا” بولتے ہوۓ اسکی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔۔۔ اور آخر میں اسنے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا۔۔۔
” اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن!” سبھی کی زبان سے نکلا۔۔۔
“حوصلہ کرو۔۔۔۔” بلاج نے اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔ اور اسکی پیٹھ تھپتھپائی۔
“پریشے، مجھے اسے بچانا ہے، اس نے بولا ہے پندرہ منٹ میں پہنچو” اسکو ایک دم سے اسکی وارنگ یاد آئی وہ کھڑا ہوا۔۔
“ہم بھی تمہارے ساتھ چلتے ہیں؟” ہارون نے اگے بڑھ کر کہا۔۔۔اسنے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
“نہیں پہلے ہی بہت لوگ مر گے، میں آپ سبکی زندگی خطرے میں نہیں ڈالوں گا، میں بس پریشے کو کے کر آ جاؤں گا، آپ ایک کام کریں یہاں سے سارے مہمانوں کو گھر بھیجیں یہ جگہ محفوظ نہیں ” وہ ضروری ہدایات دیتے ہوۓ اگے بڑھا۔۔ پھر رکا اور واپس مڑ کر بلاج کے سینے سے جا لگا۔۔۔
“ایم سوری چاچو، میں نے آپکو ہرٹ کیا۔ میں اگر واپس نا آ پایا تو بچہ سمجھ کر معاف کر دینا، اور نیہا کو بھی کہنا مجھے معاف کر دے، میں اس سے اور پریشے سے بہت محبت کرتا ہوں” نم لہجے میں کہا گیا تھا۔ اور بلاج کے تو ہاتھ کانپ گے تھے، وہ اتنی بری بات بہت آسانی سے کہ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ جھٹ سے علحیدہ ہوا اور سبکو ایک نظر دیکھتا گاڑی کی طرف بھاگا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اسنے موبائل پر ایک نمبر ملایا۔ اور گاڑی گیٹ سے باہر نکالی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


پانچ گھنٹے قبل:
پچھلے دو دن سے وہ بس انتظار کر رہا تھا، جیسے ہر کسی کا پلین B ہوتا کے بالکل ویسے ہی فرید احمد کا بھی پلین B تھا۔ اسنے شہیر کو کہا تھا۔ اگر کبھی وہ بری طرح پھنس جاۓ، تو اسے نکلوانے کے لیے جو بن سکے وہ کرنا، جس دن فرید احمد پکڑا گیا۔ اسی دن شہیر بھاگ گیا۔ تاکہ وہ پولیس کے ہاتھوں بچ پاۓ، باہر شہیر نے جب دیکھا کہ میڈیا میں اسے بہت گندا بولا جا رہا ہے، اسکی ایک پرسنٹ عزت نہیں بچی، انکے کروڑوں کی ڈیل بھی نہیں ہو سکی، سارا کاروبار ایک دم سے ٹھپ ہو گیا۔ عدالت نے بھی جلد فیصلہ سنا دیا۔ اور پھر شہیر نے پلین B استعمال کرنا شروع کیا۔
اسنے جیل والوں کو پیسے کھلاۓ، اور پانچ گھنٹے قبل وہ جیل توڑ کر بھاگ گیا۔۔ جب پتہ چلا کہ وہ بھاگ گیا ہے، تب پولیس الرٹ ہوئی، جنکو شہیر بے پیسے دیے تھے وہ بھی غائب ہو گے۔۔ وہ بھاگنے کے بعد سب سے پہلے عاطف صاحب کے گھر کے قریب پہنچا۔ اس وقت انکے گھر کے باہر دو گارڈز تھے، جنہیں اسنے گولیاں مار کر اُڑا دیا۔ اور اندر آیا۔۔۔ باہر گولیوں کی آواز سن کر عاطف صاحب ہاتھ میں پسٹل پکڑے باہر آۓ، آواص سن کر انکی بیوی بھی باہر آئی۔۔۔ سامنے فرید احمد کو دیکھ انکے پاؤں تلے زمین کھسکی۔ انہوں نے جلدی سے اسکی طرف گن پوائنٹ کی، اس سے پہلے کہ وہ گولی چلاتے فرید احمد نے دو گولیاں چلائیں جو سیدھی انکے سینے اور کندھے پر جا کر لگیں، اور انکے ہاتھ پسٹل زمین پر گِڑی، اور اگلے ہی پل وہ سینے پر ہاتھ رکھتے زمین پر گڑے۔۔۔۔وہ چلتا ہوا انکے پاس آیا۔۔۔۔
“عاطف۔۔۔۔۔۔۔” انکی بیوی کی چیخنے کی آواز آئی، وہ بھاگ کر انکے پاس آئیں۔۔۔
“معافیا کو تم اور تمہارے چہیتے نے بہت ہلکے میں لیا، اسکے تو ماں باپ مارے تھے شکر کر تیرے گھر والوں کو چھوڑ رہا ہوں” وہ طنزیہ انداز میں ہنسا۔ اور واپس پلٹ گیا۔۔۔ عاطف صاحب نے بسی سے اسے جاتا دیکھ اپنی آخری سانس لی۔۔۔۔۔۔۔ انکی بیوی سکتے میں انکا بے جان وجود دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔


وہ وہاں سے نکلتا،اپنے گھر آیا۔ مُزمل لاونچ میں بیٹھا جوس پی رہا تھا۔ جب کسی نے اسکو شرٹ سے پکڑ کر کھڑا کیا اور سامنے زمین پر دھکہ دیا۔۔۔ اسکے ہاتھ سے جوس کا گلاس زمین پر گِرا۔ وک کچھ سبھنمبلا تو اسکی نظر فرید احمد پر پڑی۔ اسکی سانس اٹکی۔۔۔
“بھائی آپ آپ آ گے کیسے؟” وہ اٹکتے ہوۓ بولا۔۔۔ فرید احمد اسی صوفے پر جا کر بیٹھ گیا اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی ہاتھ میں پسٹل تھی۔ اور چہرا خطرناک حد تک سنجیدہ۔۔ اور ایسا چہرا مُزمل نے تب ہی دیکھا تھا جب اسنے کچھ غلط کیا ہو۔۔ وہ کھڑا ہونے لگا۔۔
“اسی طرح بیٹھ” سختی سے کہا گیا تھا۔ مُزمل ویسے ہی بیٹھ گیا۔۔۔۔ اور اسکی طرف گن پوائینٹ کی۔۔۔۔
“تو نے کیا سوچ کر اپنے برے بھائی کو دھوکہ دیا؟ تیری ہمت کیسے ہوئی؟” دانت پیستے ہوۓ پوچھا گیا تھا مُزمل کی سانس اٹکی۔۔۔
“کیسا دھوکہ؟ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا؟” وہ کبھی ان کانچ کے ٹکروں کو دیکھتا تو کبھی اپنی طرف گن کیے فرید احمد کو۔۔۔۔
“ٹھاہ۔۔۔۔” گولی چلی اور مُزمل کے بازو پر جا کر لگی۔۔۔۔۔۔ اسکی چیخ بلند ہوئی وہ پیچھے کو جا کر گِرا۔ وہ اُٹھا اور مزمل تک آیا۔۔اسنے کالر سے پکڑا اور اپنے سامنے کیا۔۔
“سچ سننا چاہتا ہوں بس” سختی سے کہا گیا۔۔۔۔
“تم پاگل ہو سائیکو ہو، میں صرف تمہارے ہاتھ کی کھٹ پتلی بن کر رہ گیا۔، تم نے میرے اندر بلا وجہ کا زہر بھرا، تم صرف حکم چلانا جانتے ہوں، جس دن سے علیزے کو طلاق دی، میں ایک رات سکون سے سو نہیں پایا، میری زندگی دھندلی ہو گئی، میں کمینہ کر رہ گیا۔ جسنے ایک لڑکی کی زندگی برباد کر دی، اسی لیے میں نے بہت سوچ سمجھ کر تم سے جان چھڑوانے کے لیے اسفندیار کو وہ لوکیشن بھیجی، اور وہ ویڈیو بھی۔ تا کہ تم پکڑے جاؤ، اور میں اس گندگی سے اپنی کسی طریقے جان چھڑوا لوں” اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ نفرت بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔ فرید احمد کی آنکھیں ضبط سے لال ہو رہیں تھیں، دھوکہ وہ کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ اسنے اسے وہی چھوڑا اور کھڑا ہو گیا
“میں جانتا تو تھا کہ میں ایک سانپ پال رہا ہوں، تم اپنے بیٹے کو دور دور سے دیکھتے تھے وہ سب میں جانتا ہوں، تم مجھ سے جان چھڑوانا چاہتے تھے یہ بھی مجھے علم ہو گیا۔ اسی لیے جب میں نے جیل میں ہر پہلو پر غور کیا کہ اس لوکیشن اور ویڈو کو کون شئیر کر سکتا ہے تو تمہارا خیال ہی آیا۔ میں بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اسی دن تمہیں جان سے مار دیتا، مجھے سے غداری کی” وہ غصے سے بول رہا تھا۔ اسکی ساری بات سن کر مزمل طنزیہ انداز میں ہنسا۔۔۔۔
“تم ایک سائیکو ہو، جسے دولت اور شُہرت کا نشہ ہے، اور یہی نشہ تمہیں یہاں تک لے آیا۔ اور یہی تمہیں قبر تک پہنچاۓ گا فرید احمد” وہ اپنے بازو پر ہاتھ رکھتے ضبط سے بول رہا تھا۔۔۔۔
“بہت شکریہ چھوٹے بھائی، میں غداری معاف نہیں کرتا” یہ کہتے ہوۓ اسنے گولیاں چلائیں، جو اسکے سینے بازو سر نا جانے کہاں کہاں لگیں اور مزمل احمد خان زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ آخری سانس لیتے وقت جو چہرا اسکے سامنے تھا۔ وہ علیزے اور روحان۔ کا تھا۔ اور پھر اسکی سانس بند ہو گئی، برائی کی دنیا۔ سے نکلنے کے لیے اُٹھاۓ گے قدم اسے باہر تو نکال آۓ پر زندگی ختم ہو گئی۔۔۔اور وہ بھی اپنے بھائی کے ہاتھوں۔۔۔
باہر سے سائرن کی آوآز گھونجی یقیناً باہر پولیس پہنچ گئی تھی، وہ بھاگ کر پیچھے کے دروازے سے نکلا۔ اور پچھلی بار کی طرح اس بار وہاں کوئی نا تھا۔ وہ وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔دو لوگوں کو مار کر بھی اسے کوئی پچھتاوا نا تھا۔ ابھی اسکی نظر صرف اسفندیار پر تھی کسی بھی طریقے وہ اسے مار کر لندن بھاگنا چاہتا تھا۔ جہاں اسکی بیوی بیٹی تھی۔۔۔
شہیر کو اب اپنا کام کرنا تھا، وہ اسفندیار کی لوکیشن جانتا تھا۔ وہاں جب گارڈن میں سب کھیل رہے تھے، اور جب کسی کی نظر پریشے پر نا تھا تب اسنے اسکے منہ پر ہاتھ رکھے اسے پکڑا اور باہر گاڑی میں ڈالے لوکیشن پر پہنچا، جہاں کچھ ہی دیر بعد فرید احمد پہنچا، وہ جنگل کے شروع میں تھے، دو دو کرسیاں پڑیں تھیں ایک پر پریشے کو باندھا گیا تھا۔ اور وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی، اسکے منہ پر پٹی لگا دی گئی تھی۔۔۔۔۔
“اگے کیا کرنا ہے؟” گن میں گولیاں ڈالتے ہوۓ شہیر نے سامنے کرسی پر بیٹھے فرید احمد سے پوچھا جو ہاتھ میں پکڑا چاکو صاف کر رہا تھا۔۔۔
“ابھی صرف اسفندیار کو مار کر یہاں سے عائب ہونا ہے، پانچ منٹ کا کام ہے، معاملا ٹھنڈا ہو گا اسکے بعد ہم لندن بھاگ جائیں گے تم فیک پاسپورٹ تو لاۓ ہو نا؟” فرید اس چاکو کو دیکھتے ہوۓ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓ بولا۔ شہیر نے ہاں میں سر ہلایا۔ دور ہی اسکا ایک بیگ پڑا ہوا تھا۔۔ پریشے روۓ جا رہی تھی۔۔ اسنے چاکو پینٹ کی پچھلی جیب میں رکھا۔۔۔۔
“اور اگر وہ پولیس کو لے آیا تو؟” شہیر کے دل میں اب خوف بڑھ رہا تھا۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا اسنے ابھی کچھ دیر پہلے دو لوگوں کو موت کے گھات اتار ہے۔وہ کچھ دن پہلے ہی اپنی بیوی کو لندن بھیج چکا تھا۔ اب بس اپنا کام پورا کرنا تھا اور لندن میں جا کر باقی کی زندگی گزارنی تھی۔۔۔۔۔
“ہنہہہہ اسکو دیکھ رہا ہے، یہ اسکی جان ہے، میں نے پہلے اسکی بیوی کو کڈنیپ کرنے کا سوچا تھا، پھر ذہین میں آیا نہیں، زیادہ دکھ بچی کو چوٹ پہنچنے کا ہو گا، اسے صاف منع کر دیا ہے اگر پھر بھی آئی تو اسکو زندہ تو نہیں چھوڑوں گا چاہے میرا آخری پل ہی کیوں نا ہو” وہ طنزیہ انداز میں ہنسا، شہیر کا دماغ کھٹکا وہ تو اب اپنی زندگی کی پرواہ بھی نہیں کر رہا تھا۔ پر اسے تو اپنی زندگی کی پرواہ تھی وہ تو جینا چاہتا تھا۔۔
“رنگ کیوں اُڑ گے، پاگل زندہ رہیں گے فکر مت کر ” شہیر کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑتے دیکھ وہ ہنسا۔۔۔۔ تبھی وہاں پر گاڑی رکنے کی آواز آئی۔ اور پریشے پریشے پکارنے کی بھی۔۔۔ فرید احمد نے سیٹی بجائی، اور اسے اشارہ کیا۔ اسفندیار کی نظر پریشے پر گئی۔۔ وہ بھاگتا ہوا وہاں پہنچا۔۔۔پریشے اسکی آواز سن کر روتے ہوۓ اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ فرید احمد نے شہیر کو اشارہ کیا، وہ پریشے کی کرسی کے پاس چلا گیا۔ اور پسٹل نکال کر اسکے سر پر تان دی۔۔۔۔
“وہی رک جا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ جا” فرید احمد کی سرد آواز گھونجھی وہ وہی رک گیا، اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔۔ پریشے کافی دور تھی۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور اس تک آیا۔۔۔
“پریشے اپنی آنکھیں بند کر لو، بابا سب ٹھیک کر دیں گے” وہ اپنی بچی کو اس حالت میں دیکھ خود پر ضبط کرتے ہوۓ بولا۔ تاکہ پریشے زیادہ برا نا دیکھے، وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی، چار سال کی بچی کہاں سمجھ سکتی تھی۔ وہ کونسا ایسی سچویشن کو روز فیس کرتی تھی۔۔۔ وہ کچھ بول بھی نہیں پا رہی تھی، اسکا منہ بند کیا گیا تھا۔۔۔ پریشے کی حالت دیکھ تو ترپ اُٹھا۔۔۔۔
“میرا سب کچھ تباہ کر کے، خود سکون سے زندگی انجواۓ کر رہے ہو، بیوی واپس مل گئی بیٹی بھی مل گئی، اور میرا سب کچھ تباہ کر دیا” وہ اسکے منہ پر پاؤں مارتے ہوۓ غصے سے بولا تھا۔ وہ پیچھے کو گِرا۔۔۔۔۔
“میں نے کچھ تباہ نہیں کیا تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا ملی ہے” اسفندیار ضبط سے اسکا یہ وار سہتے ہوۓ بولا اگر وہ ابھی کچھ کرتا تو پریشے کو خطرہ ہو سکتا تھا۔۔۔۔
“اچھا میرے گناہ تو تم کونسا پاک ہو، تم میں بھی ایک معافیہ کا خون ہے” وہ اسکے سینے پر پاؤں مارتے ہوۓ دھاڑا تھا۔۔۔ اسفندیار کا ضبط سے چہرا لال پر گیا تھا۔۔
“میرے ماں باپ میرا غرور ہیں تم جیسا انسان کسی کا سگا نہیں ہو سکتا جو اپنے بھائی کو مار آیا، جسنے بہن بہنوئی کو قتل کیا، اس پر میں تو رحم نہیں کھاؤں گا، اسی لیے تمہارے لیے سرپرائز لایا ہوں، زرا اپنا فون تو دیکھ” وہ طنزیہ انداز میں بولا، فرید احمد چونکا اسنے پاکٹ سے فون نکالا اور تبھی اسے ایک نمبر سے ویڈیو کال آئی۔ اسنے پک کی۔۔
یہ ایک گھر کا منظر تھا۔ جہاں ایک عورت اور بچی باہر گارڈن میں بیٹھے تھے۔ دوسری بلڈنگ سے ایک آدمی ان پر ٹارگٹ بناۓ بیٹھا تھا۔ اسکی بیوی اور بچی کو یہ علم بھی نا تھا۔۔۔موبائل کی سکرین کو دیکھتے فرید احمد کی رگیں تھیں۔۔۔ اسفندیار اب اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
“تمہیں کیا لگا میں اتنا بے وقوف ہوں،یہاں بنا تیاری کے آجاؤں گا، جب تم نے میری بیٹی کو کینڈینپ کر کے اپنا گھٹیا لیول دیکھایا، تو میں نے سوچا، میں بھی اسی لیول پر آ کر اب تم سے نپٹوں گا” وہ غصے سے کہتے اسکے منہ پر بنچ مار گیا۔ فرید احمد لڑکھڑایا۔ اسفندیار نے اسکے ہاتھ سے موبائل پکڑ لیا۔۔۔۔
“مجھے اور میری بیٹی کو جانے دے، میں وہاں تیری بیوی بچی کو جانے دوں گا” اسفندیار نے اسکے سامنے فون کی سکرین کرتے ہوۓ اسکے سامنے آپشن رکھا۔
“سالے حرام خور میری بیوی اور بچی پر ہاتھ ڈالے گا، لے پھر” وہ غصے سے غرایا، اس سے پہلے کے اسفندیار کچھ سمجھ پاتا اسنے پچھلی پاکٹ سے چاکو نکالا اور اسکے دائیں کندھے کے قریب مارا۔
“آہ۔۔۔۔” وہ درد کے مارے چلایا تھا۔۔ اسے اسکی بالکل توقع نہیں تھی۔۔۔ اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر زمین پر گِرا۔۔۔ پریشے اسفندیار کے کندھے سے خون نکلتا دیکھ بے ہوش ہو گئی۔ فرید احمد نے اسکے چہرے پر مکے برسانا شروع کر دیے۔ اور اسے زمین پر گِرایا۔۔۔
“بول اسکو ابھی کے ابھی میری بیوی اور بچی کو چھوڑے ورنہ تیری جان کے لوں گا” وہ اس چاقو پر پاؤں رکھ کر زور بڑھاتے ہوۓ سخت لہجے میں بولا۔۔۔۔
“ہاہہاا مار سکتا ہے تو مار دے، جیسے یہاں میں مروں گا وہی تیری بیوی اور بچی مر جاۓ گی” وہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولا۔۔ اور فرید احمد خود کو پہلی بار بے بسی کی حدوں پر محسوس کر رہا تھا۔۔ وہ اسے مار کر بدلا لینا چاہتا تھا، پر یہاں وہ خود پھنس چکا تھا۔
“تو نے میرا سب سے برا پروجیکٹ برباد کر دیا، میری مارکیٹ ویلو برباد کی، میرا ہسپتال، فیکٹری، سیل کر دیے، مجھے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا۔ اور اب تو میری فیملی کو بیچ میں لے آیا، اب دھیان سے سن، میں چاہیے آج مر جاؤ، میری فیملی مر جاۓ، پر تجھے میں کسی قیمت پر زندہ نہیں چھوڑوں گا، تجھے تیری بیٹی کے سامنے ماروں گا، ساری زندگی وہ ڈر سے کانپتی رہے گی” وہ چاقو پر دباؤ بڑھاتے ہوۓ بول رہا تھا۔ اسفندیار کا دل اس سارے وقت میں پہلی بار ڈوبا، وہ اسے ایک سائیکو لگ رہا تھا جیسے کسی بھی قیمت پر اپنے دل کی تمنا پوری کرنی ہے۔۔۔۔۔ کال ابھی تک چل رہا تھا۔
“تم سائیکو ہو تمہیں تمہاری فیملی کی بھی پرواہ نہیں، تمہیں تو مینٹل ہسپتال میں جمع کروانا چاہیے” وہ اسکا پاؤں زور سے پکڑتے ہوۓ ییچھے کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ شہیر کو ڈر تھا۔ اسے یقین تھا یہاں پولیس ضرور آۓ گی۔۔
“سر جلدی کریں کہی پولیس نا آ جاۓ، ہم پکڑے جائیں گے” شہیر نے پیچھے سے کہا۔۔۔ فرید احمد پیچھے ہوا۔ اور اسکے کندھے سے چاقو نکالا۔ جتنا اسے چاقو کے لگنے سے درد ہوا اس سے کہی زیادہ چاقو کے نکالنے سے ہوا۔ کیونکہ اسکی وجہ سے بلیڈنگ تیز ہو گئی۔ تبھی انہیں آس پاس قدموں کی آواز سنائی دی۔ یقیناً حسنین پہنچ چکا تھا۔ اسفندیار اُٹھ کر بیٹھا اسکے کندھے سے خون لگاتار نکل رہا تھا۔ فرید احمد نے پسٹل نکالی اور اس پر تانی۔۔۔ تبھی سارے پولیس اہلکار انکے گرد بندوقیں تان کر کھڑے ہوۓ شہیر کء تو سٹی پٹی گم ہو گئی۔۔۔
“گڈ باۓ اسفندیار” وہ طنزیہ انداز میں ہنسا اسفندیار کا دل ایک دم بیٹھا اسنے ایک نظر پریشے کو دیکھا، اور پھر اسکی آنکھوں کے سامنے نیہا کا چہرا آیا۔۔ اور پھر فرید احمد نے گولی چلائی، تبھی اور گولیاں چلنے کی آوازیں گھونجیں۔۔۔۔ اور پھر سناٹا چھا گیا۔ موت کا سناٹا۔۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی فرید احمد نے پسٹل چلائی، اسفندیار دائیں جانب ہوا اور گولی جا کر درخت کو لگی، اسی وقت حسنین کے آڈر پر فرید احمد پر گولیاں چلائی گئی، جو اسکے جسم سے آر پار ہوئیں، اور وہ پیچھے کو جا کر گِرا۔ دولت کے لالچ، طاقت کے نشے کا انجام ہوا، وہ خود اپنے ہی بناۓ جال میں بری طرح پھسنا۔۔۔۔ اور اپنی آخری سانس لے گیا۔۔۔۔۔۔۔اسکا موبائل بند ہو چکا تھا۔۔۔ اسکی کہانی کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک گولی سیدھی سینے پر شہیر کو لگی اور وہ بھی زمین پر گرتا چلا گیا۔۔۔۔۔ اسفندیار بھاگ کر پریشے کے پاس آیا۔ اسکی رسیاں کھولیں، منہ پر لگی ٹیپ اتارتی اور اسے سینے سے لگایا۔ وہ ابھی بھی ہچکیاں لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔


رات کے ا بجے کا وقت ہو رہا تھا۔۔۔۔ وہ ہسپتال میں موجود تھا، اسکا زخم کافی گہرا تھا، ٹانکے لگ کر پٹی کر دی گئی، پریشے اب ہوش میں آچکی تھی پر وہ اتنی ڈری ہوئی تھی کے اسفندیار کے سینے سے لگی ہوئی تھی اور اسکی شرٹ کو زور سے پکڑا ہوا تھا۔۔ وہ اب رو نہیں رہی تھی، اسفندیار نے اسے پیار سے سمجھایا تھا۔۔۔۔ اسنے نیہا سے اسکی بات بھی کروائی تھی۔ نیہا وہ اسے لیے باہر آیا۔جہاں ایک گاڑی تھی، جس میں ایک پولیس اہلکار تھا۔ وہ بیک سیٹ پر جا کر بیٹھا اور چلنے کا کہا۔۔ حسنین نے باقی ساری چیزیں سھنمبال لیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔ایک گھنٹے بعد وہ سکندر ولا پہنچا، جہاں حال میں ہی سب اسکا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ وہ حال میں داخل ہوا، پریشے اسکے کندھے سے لگی تھی۔۔۔ نیہا بھاگ کر اسکے پاس آئی۔
اور پریشے کو پکڑ کر سینے سے لگاتے اسکی آنکھوں سے آنسوں نکلنے شروع ہوۓ، اسفندیار نے بس ایک نظر ہی اسے دیکھا تھا، جس میں ہلکی سی ناراضگی تھی، وہ اسکی تلخ لہجے میں کہی باتیں بھولا نہیں تھا۔ نیہا نے بس نظریں چُرائیں۔۔ پریشے سہمی سی اسکے سینے سے لگی تھی، وہ بالکل خاموش ہو گئی تھی۔۔
“اسفندیار چوٹ زیادہ گہری تو نہیں، ڈاکٹر نے کیا کہا؟” بلاج اسکی خون سے بھری شرٹ کو دیکھتے ہوۓ پریشانی سے بھرے لہجے میں بولا۔ نیہا کی نظر اب اسکی خون بھری شرٹ پر پڑی تھی۔۔۔
“تھوڑا سا ہی زخم ہے، کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جاۓ گا، ساحل ایک شرٹ دینا، مجھے جانا ہے” اسنے سب کو پریشان نا کرنے کے لیے زخم کے گہرا ہونے کا نہیں بتایا۔۔ ساحل ہاں کہتا کمرے میں گیا۔۔۔۔ اسکے دوبارہ جانے والی بات پر نیہا نے اسے دیکھا اسکا چہرا لال تھا۔ یقیناً اسکا بخار بھر گیا تھا۔
“کہاں جانا ہے؟” اسکے دل کی بات بلاج نے پوچھ لی۔۔۔۔
“عاطف سر کے گھر” وہ نظریں جھکاۓ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوۓ بہت بھاری لہجے میں بولا۔۔
“اووو رکو ہم سب بھی چلتے ہیں، عمیر ساحل، ہارون” بلاج نے سبھی کو کہا۔ ساحل اسکے لیے ایک پینٹ شرٹ لے آیا، وہ اسے لیے گیسٹ روم چلا گیا کچھ دیر بعد وہ باہر آیا تو کان پر فون لگاۓ وہ حسنین سے بات کر رہا تھا۔ وہ بھی وہی جانے والا تھا۔ سب اسکے ساتھ عاطف صاحب کے گھر پہنچے، وہاں ماتم کا سماں تھا، انکی بیوی بار بار غش کھا کر بے ہوش ہو رہی تھی۔ شادی شدہ بیٹی پہنچ چکی تھی، انکا بیٹا آسٹریلیا ہوتا تھا جو صبح تک آنے والا تھا۔ انکی میت کو دیکھ اسفندیار سے مزید کنٹرول نا ہو سکا اور اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، گلناز کے بعد عاطف سر جو اسکے بہت۔ نزدیک تھے انہیں یوں چلے جانا وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔


دوپہر کے تین بج رہے تھے۔ وہ پریشے کے پاس نیم درز تھی، پریشے کو رات سے بخار تھا، اسنے دو تین دفع دوا کھلا کر سُلا تھا۔ بخار کافی زیادہ تھا۔ وہ بار بار کانپ کر اُٹھ جاتی، وہ اس واقعہ سے کافی ڈر گئی تھی۔۔۔ اسنے زور سے نیہا کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔۔ نیہا کا دھیان بار بار اسفندیار کی طرف جا رہا تھا، اسکی وہ ایک نظر نہیں بھول پا رہی تھی، کچھ گھنٹوں پر جیسے وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا، بار بار اسکے الفاظ یاد آ رہے تھے، اور ایک بے چینی سی ہو رہی تھی۔
“یا اللہ میں کیا کروں پلیز کوئی راستہ دیکھائیں؟” وہ نم لہجے میں بولی۔
“بابا کو مت مارو، بابا” پریشے ڈر کر اُٹھ گئی اور رونے لگ گئی۔
“پری بچے بابا بالکل ٹھیک ہیں” نیہا اسے سینے سے لگاتے ہوۓ بولی۔۔ پر اسنے رونا بند نا کیا۔۔۔۔۔
” نہیں بابا کو بلاؤ مجھے بابا پاس جانا ہے” وہ روتے ہوۓ بولے جا رہی تھی، میرال اسکے کمرے میں آئی۔۔
“کیا ہوا میرے بچے کو؟” وہ پریشے کو گود میں لیتے ہوۓ اسکے آنسوں صاف کرتے پیار سے بولی۔۔
“نانو بابا کدھر ہیں، وہ انہیں مار رہے ہیں، انکو ایسے چاقو مارا۔۔۔” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔۔
“بچے وہ ٹھیک ہیں، ابھی آجاتے ہیں نیہا اسفندیار کو فون کرو، تمہارے بابا کا دو گھنٹے پہلے فون آیا تھا جنازہ ہو چکا تھا، ابھی پوچھو کہاں ہیں؟” میرال اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی، اسکی ہچکیاں بندھ گئیں تھیں، یقیناً اسنے خواب میں وہی سب دیکھا ہو گا۔۔۔ میرال کی بات سن کر نیہا نے موبائل پکڑا، وہ عجیب سی کنفیوزن میں تھی۔ کیسے اسکا نمبر ملاۓ۔
“نیہا فون کرو کوسنے مراقبے میں چلی گئی ہو، بچی اتنا رو رہی ہے، تمہیں ابھی بھی اپنی انا کی دیوار چڑھاۓ رکھنا ہے فون کرو” میرال نے اسے اچھا خاصا ڈانٹا، اسنے نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگایا، اسکے دل کی دھڑکن ایک دم سے بڑھی، پہلی بار وہ فون کر رہی تھی ورنہ وہی کرتا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد اگے سے آواز آئی۔۔
” جی بولیں” اگے سے نرم لہجے میں پوچھا گیا۔۔۔۔
“آپ کہاں ہیں؟” نیہا ہولے سے بولی۔۔۔ دوسری طرف اسفندیار جو کہ پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا، اتنے نرم لہجے پر چونکا۔۔۔
“بس کچھ دیر میں پہنچ رہے ہیں، کیوں کیا ہوا؟ پریشے ٹھیک ہے؟” اسکے دل میں پہلا سوال یہی آیا۔
“وہ بہت رو رہی ہے، آپکو بار بار بلا رہی ہے، جلدی آجائیں”
“بس آ گیا” اسنے کہتے ساحل کو تیز چلانے کا کہا۔۔۔۔نیہا نے بنا کچھ مزید کہے فون بند کر دیا، اسفندیار کا دل ٹوٹا۔۔ اسنے اسکے بارے میں کچھ نا پوچھا۔ کہ وہ کیسا ہے؟ خیر یہ اسکی خوشفہمیاں ہی تھیں، جیسے اسنے شادی کے شروع میں اسے اگنور کیا تھا۔ اسے سے دو سو فیصد زیادہ وہ اسے اگنور کر کے بدلہ لے رہی تھی۔۔۔۔
وہ لوگ پانچ منٹ میں گھر پہنچے، حال تک پریشے کے رونے کی آوازیں آرہیں تھیں، وہ سیدھا نیہا کے کمرے میں گیا۔۔ جہاں میرال اور نیہا اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہیں تھیں۔
“پریشے میں یہاں ہوں، کیا ہو گیا؟ اتنا کیوں رو رہی ہو؟” وہ جلدی سے اگے آیا پریشے اسے دیکھتے ہی اسکی طرف لپکی، اسفندیار نے جیسے ہی اسے پکڑا، اسنے اسکی شرٹ دبوچ لی۔ اور چپ ہی گئی، بس ہلکی ہلکی ہچکیاں لے رہی تھی۔۔ جو زیادہ رونے کی وجہ سے تھیں۔۔۔
“اسفندیار اسکی دوا کا وقت ہو رہا ہے، کھلا کر سلا دو دلیہ بنایا ہے میں لاتی ہوں” میرال کہ کر کمرے سے چلی گئی۔ وہ اسے لیے بیڈ کی بائیں طرف آیا اور بیٹھ گیا۔
“ادھر دیکھو پرنسس میں بالکل ٹھیک ہوں، اور آپ جانتی تا ہو آپکے بابا سوپر مین ہیں، سب کی پٹائی کی تھی نا، اور اب ہم۔سب سیف ہیں” وہ اسکے بال پیچھے کرتے چہرا صاف کرتے ہوۓ ہلکا سا ہنس کر بولا۔۔۔
“پر بابا انہوں نے آپکو مارا، اگر وہ برے انکل دوبارہ آ گے تو۔۔۔” اسکی آواز اور آنکھوں میں واضع ڈر تھا۔۔۔۔ نیہا کا دل ایک دم سے بیٹھا وہ کتنا ڈر چکی تھی۔ میرال کمرے میں آئی نیہا کو ٹرے دی اور چلی گئی۔ نیہا وہی انکے پاس بیڈ پر بیٹھی، اور چمچ بھر کر پریشے کی طرف کیا۔ اسنے عجیب سا منہ بنایا۔۔۔۔
“پرنسس اب کوئی نہیں آۓ گا، میں ہوں نا چلو اب کھانا کھاؤ” اسفندیار نے نیہا سے چمپ لیا نیہا کو اسکا ہاتھ تپتا ہوا محسوس ہوا۔ ۔ وہ کافی حد تک سھنمبل گئی تھی، اور اس سے باتیں کر رہی تھی۔ نیہا نے اسے سرپ پلایا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں پریشے کو نیند آنے لگی۔ اسفندیار نے اسے لٹایا اور کمبل دیتے اسکا گال چوما۔۔ نیہا کچن میں برتن رکھ کر واپس کمرے میں آئی۔ تو نظر بیڈ پر نیم دراز اسفندیار اور پریشے پر پڑی۔۔ جو اب پرسکون تھی۔ وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھا ہوا تھا آنکھیں بند تھا۔ نیہا غیر ارادی طور پر اگے بھری۔ اور اسکے پاس آئی۔۔۔اور اسجے ماتھے پر ہاتھ رکھا، جو تپ رہا تھا، گرم ماتھے پر ٹھنڈا ہاتھ محسوس کرتے ہی اسنے نیند سے بھری لال آنکھیں کھولیں تو سامنے اس پر نظر پری۔ اسکے یوں جاگ جانے پر اسنے جھٹ سے ہاتھ پیچھے کرنا چاہا پر اسکا ہاتھ اسفندیار نے پکڑ لیا۔
“وہ وہ آپکو بخار ہے،” وہ اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتے ہلکاتے ہوۓ بولی۔ جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔۔
“دو منٹ بیٹھو گی؟ پلیز ” وہ التجائی لہجے میں بولا، وہ بے اختیار وہی بیڈ پر اسکے پاس بیٹھ گئی۔۔۔وہ ابھی بھی اسکا ہاتھ پکڑے ہوۓ تھا۔۔
” مجھے زندگی میں پہلی بار لگا میں تمہیں اور پریشے کو دوبارہ دیکھ نہیں پاؤں گا، قسم سے بہت درد ناک لمحہ تھا” وہ اسکے چہرے پر نظر ڈالے ہوۓ اس خوفناک لمحے کو بیان کر رہا تھا۔ نیہا کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔