Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10 Part 1

صبح سے وہ آفس میں مصروف تھا، کل حیام سے نکاح کے بعد وہ اسے ہسپتال چھوڑ آیا تھا، وہ وہی تھی، وہ نو بجے گھر آیا فریش ہو کر وہ ہسپتال جانے والا تھا۔ گیلے بالوں کو برش کرتے حیام کو میسج کر رہا تھا۔ جسکا وہ رپلائی نہیں دے رہی تھی کل سے اسنے کوئی بات نہیں کی تھی۔ اسے آج علیزے کے گھر ہوۓ واقع کا علم نا تھا۔
“بھیو آپکو بابا سٹڈی میں بلا رہے ہیں” صائم اسکے کمرے میں آیا، میسج کرتے اسکی انگلیاں تھمیں، کہی بابا کو نکاح کا علم تو نہیں ہو گیا، یہی سوال اسکے دماغ میں آیا۔
“ہممم آتا ہوں” اپنی گھبڑاہٹ پر قابو پاتے وہ بولا
“بھیو اپکو ایک کام بولا تھا وہ میرا پی ایس 5” صائم ان اپنے مطلب کی بات پر آیا۔
“ہاں کل سنڈے ہے، صبح ناشتے کے بعد چلیں گے”
“اوو واؤ تھینک یو” وہ بھاگ کر ساحل کے گلے لگا۔ ساحل نے اسکے بال بگاڑے۔ وہ بھاگ گیا۔ وہ نیچے آیا۔ سٹڈی روم کے دروازے سے میرال نکل رہی تھی۔
“ماما بات سنیں بابا نے مجھے کیوں بلایا؟ ایسی کیا بات کرنی ہے؟” وہ اپنے خدشے کو ختم کرنا چاہتا تھا۔
“تمہارے بابا نے کوئی پہلی بار تو نہیں بلوایا، جاؤ بات سنو، اور ساحل تحمل سے بات سننا، تمہارے فائدے کی ہی بات ہے” میرال نرم لہجے میں بولی۔
“میرے فائدے! اوکے” وہ بولتا کمرے کی طرف بڑھا، دروازہ کھلا ہوا تھا، سامنے کمرے کے وسط میں ایک برا سا ٹیبل تھا، جسکے اور مختلف فائلز کے فولڈرز، سینٹر میں لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا۔ وہی کرسی پر بلاج بیٹھا ہوا تھا، اور ایک فائل چیک کر رہا تھا۔
“جی بابا آپ نے بلایا” وہ ٹیبل کے پاس کھڑا ہوتے ہوۓ بولا بلاج اسکی آواز پر چونکا۔
“ہاں بیٹھو کچھ باتیں کرنی ہیں” بلاج نے اسے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا کہا۔ وہ وہی بیٹھ گیا۔ اب بلاج کے بولنے کا منتظر تھا۔
“ساحل تن نے بچاس لاکھ نکالے، اتنے سارے پیسوں کا کیا کرنا تھا، اور مجھے کیوں نہیں بتایا” بلاج کو ابھی کچھ دیر پہلے ہی بینک سے ائی میل آئی تھی، جس میں پچاس لاکھ روپے نکالے گے تھے۔ ساحل کے چہرے کے ہوائیاں اڑ گئیں۔
“وہ بابا،،، اصل میں” وہ ہکلاتے ہوۓ بولا۔ بلاج کو عجیب لگا۔
“کیا بات ہے؟ اتنے پیسے کیوں نکالے؟” بلاج بے دو تین سوال ایک ساتھ پوچھ لیے۔
“بابا کیا آپکو مجھ پر یقین نہیں، کیا میں پیسے نہیں نکلوا سکتا؟ کیا میرا اتنا حق نہیں؟” ساحل کو بلاج کا انداز پسند نا آیا۔ بلاج اسکی بدلی ٹون پر تعجب ہوا اسنے تو ایک سوال ہی کیا تھا۔ اسنے گہرا سانس لیا۔ ساحل کا سر جھکا ہوا تھا۔
“ساحل تم میرے برے بیٹے ہو میرا دائیاں بازو ہو، میرے پیسے پر تم تینوں بچوں کا برابر کا حق ہے، تم پچاس لاکھ کی جگہ ایک کڑور بھی نکلوا لو مجھے فرق نہیں پڑتا، تمہارا باپ ہوں، تو کیا اتنا حق نہیں رکھتا کہ تم سے پوچھ سکوں تم کس لیے لے رہے ہو” بلاج اسکی طرف دیکھتے سنجیدگی بھرے لہجے میں بولا۔ اسکے لہجے میں کچھ تو تھا ساحل کا سر ایک دم اُٹھا۔
“نہیں بابا میرا وہ مطلب نہیں تھا، ایم سوری اصل میں ان پیسوں سے میں نے لاہور میں ایک فلیٹ لیا ہے، آپ تو جانتے ہین کام کے سلسلے میں وہاں آنا جانا لگا رہتا ہے، مجھے ہوٹلز بالکل پسند نہین تو اسی لیے” وہ دوبارہ چہرا جھکاۓ جھوٹ بول رہا تھا اسکا دل بول رہا تھا ابھی انہین سب سچ بتا دے پر دماغ روک رہا تھا۔
“ٹھیک ہے خیر چھوڑو ان باتوں کو ایک خوشخبری سنو” بلاج اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اسکے سامنے آیا۔ کمرے میں میرال داخل ہوئی،
” میں نے تمہارا رشتہ علیزے کے ساتھ طے کر دیا، اس ہفتے کو تم دونوں کی منگنی ہے، دو مہینے بعد شادی۔۔۔” بلاج مسکراتے ہوۓ بولا۔ یہ خبر ساحل کے سر پر بم کی طرح گڑی، وہ جہاں تھا وہی رک گیا، اسکی سانس تھم گئی۔ وہ حیرانگی سے بلاج کو دیکھ رہا تھا۔
“بابا کیا؟ مطلب؟ اتنی اچانک” اس سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ بلاج اسکی بات پر مسکرایا۔
” میرے دماغ میں بہت پہلے سے یہ بات چل رہی تھی۔ آج موقع مل گیا تو عمیر بھائی سے بات کر لی۔ تم خوش ہو نا، تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں” بلاج نے اسے اپنے سامنے کھڑا کرتے ہوۓ پوچھا۔ وہ بولنا چاہتا تھا بابا میں نکاح کر چکا ہوں، جس سے محبت تھی وہ مجھے مل چکی یے، پر اسکے منہ سے ایک لفظ نا نکل سکا، اسنے بلاج کے خوشی سے چمکتے چہرے کو دیکھا، وہ کچھ بول ہی نا پایا۔
“نہیں بابا کوئی اعتراض نہیں” وہ بس اتنا ہی بولا۔ بلاج نے اسے سینے سے لگا لیا۔
“لو میرال تم تو پریشان ہو رہی تھی ساحل انکار کر دے گا دیکھ لیا، وہ خوش ہے” بلاج ہنستے ہوۓ بولا۔ میرال مسکرا دی، اسنے ساحل کا چہرا دیکھا اسے عجیب لگا اسکے چہرے پر خوشی تو نا تھی۔۔۔۔۔


“سر یہ ایکسیڈینٹ آدھے گھنٹے پہلے ہوا، ڈرائیور موقع پر ہی دم توڑ گیا، اسکی عمر لگ بھگ پچاس سال تھی” اس وقت اسفندیار پولیس اہلکاروں کے ساتھ شہر کی چوک میں ہوۓ ایکسیڈینٹ والے ایرایہ میں تھا۔
“یہ ون وے روڈ ہے، رات کے یہاں رش نا ہونے کے برابر ہوتا ہے، ٹرک کی سپیڈ بھی نارمل تھی، ٹرک کو زیادہ نقصان بھی نہیں ہوا، تو یہ آدمی کیسے مر گیا؟” اسفندیار سڑک کے اطراف جگہ کا معائنہ کرتے ہوۓ بولا۔
“ہو سکتا ہے، ڈرائیور کو ہاٹ اٹیک آ گیا ہو” حُسین ڈرائیور کی تلاشی لیتے ہوۓ بولا۔
“اب یہ تو ہسپتال چیک اپ کروانے کے بعد ہی معلوم ہو گا، اسے کیا ہوا ہے” اسفندیار نے اس ڈرائیور کی شکل دیکھی، اسکے ہونٹ ایک دم نیلے پڑ چکے تھے۔
“یہ کیا ہے؟” اسفندیار اسکی شکل دیکھ رہا تھا جب اسکی نظر اسکی گردن پر پڑی، جہاں لال دھبے بنے تھے۔۔
“ہو سکتا یے سر برتھ ماک ہو” حسین نے اسکی تلاشی لے کر آئی ڈی کاڈ، کچھ پیسے اور ایک موبائل نکلا۔ ایمبولنس آ چکی تھی باڈی کو منتقل کر دیا گیا۔ حسین نے اسکے گھر والوں کو اطلاع دی۔۔۔۔
“حسین تم ہسپتال جاؤ، پتہ کرو آدمی کی موت کیسے ہوئی، میں اس سیسی ٹیوی کی فوٹیج بھی نکلواؤ کر دیکھتا ہوں شائد کچھ معلوم ہو جاۓ” اسفندیار بول کر اپنی جیپ کی طرف بڑھا حسین یس سر کہتا ایمبولنس کی طرف بڑھا۔
وہ اس وقت اس ایریہ کے مینجمنٹ آفس میں بیٹھا، سیسی ٹیوی فوٹیج چیک کر رہا تھا۔ جس میں وہ آدمی ٹرک چلاتے چلاتے، نا جانے اسے کیا ہوا ٹرک لڑکھڑانے لگا، اور ٹکڑا گیا، اور ڈرائیور کا سر ٹرک پر لگا۔ وہ فوٹیج چیک کر کے ایک کاپی لیتا وہاں سے نکلا۔ اسکا رخ تھانے کی طرف تھا۔ تبھی اسکا فون بجا، حسین فون پر تھا۔ موسم کافی خراب ہو رہا تھا، زور دار بارش شروع ہو گئی تھی
“کیا ریپورٹ ہے؟” اسنے فون کان سے لگاتے ہوۓ پوچھا۔
“سر ڈاکٹر کے مطابق وہ کوئی دوائی استعمال کر رہا تھا، جسکے اُور ڈوز کی وجہ سے اسکی موت ہوئی” حسین نے ساری بات بتائی۔
“دوائی کا پتہ چلا کون سی استعمال کرتا تھا؟”
“نہیں سر یہ تو علم نا ہو سکا”
“تو اسکے گھر والوں سے پوچھو، میں وہی آتا ہوں” اسنے بول کر فون کاٹ دیا۔۔۔۔اسنے گاڑی ہسپتال کی طرف موڑ دی۔۔ تبھی دوبارہ سے اسکا فون بجا۔ ابکی بار سکرین پر نیہا کا نام چگمگایا، اسکے ماتھے پر بل پڑے۔ اسنے فون کاٹ دیا۔ گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی، لیکن پھر دوبارہ فون بجنے لگا اسنے دوبارہ کاٹ دیا۔ تیسری بار جب پھر فون بجا اسنے غصے سے کال پک کرتے فون کان سے لگا۔
“جب اتنی دفع کال کاٹ رہا ہوں تو سمجھ نہیں آ رہی کہ مصروف ہوں، بار بار کیوں فون کر رہی ہو؟” وہ ایک دم بڑھکا تھا۔
“وہ وہ۔۔۔۔۔” نیہا اسکا اتنا شدید ردِ عمل دیکھ سن سی رہ گئی۔
“کیا وہ وہ لگا رکھا ہے، بولو کیا بات ہے؟” وہ اسکی وہ وہ کی رٹ سے تنگ آ کر بولا۔
“بس پوچھنا تھا کب ا رہے ہیں ایک بج گیا ہے” نیہا نے شرمندگی سے سر جھکا کر پوچھا۔
“کیوں رات کو باہر رہوں گا تو مر جاؤں گا، سو جاؤ چپ چاپ، دوبارہ فون مت کرنا، عجیب مصیبت ہے” وہ غصے سے بولتا فون کاٹ گیا۔ نیہا بیڈ پر بیٹھی نم آنکھوں سے فون کو دیکھتی رہ گئی، باہر موسم خراب تھا تو دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسنے کال ملائی، تا کہ پتہ کر سکے وہ ابھی تک گھر کیوں نہیں آیا، پر اسے کہاں معلوم تھا، اسطرح اسکی انسلٹ ہو جاۓ گئی، وہ اسفندیار کے عجیب و غریب رویے کے بارے میں سوچنے لگی، شادی سے پہلے بھی کبھی اسنے اسے مخاطب نہیں کیا تھا، اور شادی کی رات اور اسکے بعد کے کئی واقعات وہ اسے بری طرح انسلٹ ہی کرتا رہا تھا۔ بس اس رات اسنے جو کچھ بولا تھا اس سے وقت مانگا تھا، صرف اسی دن اسنے اچھے سے بات کی تھی وہ وہ اپنے اوپر ایک خول چڑھاۓ رکھتا تھا، زیادہ تر اس سے مخاطب ہی نا ہوتا اور جب ہوتا تو اسے جھڑک دیتا۔ اسے کو ایک امید تھی آہستہ آہستہ وہ امید بھی ختم ہو رہی تھی۔ وہ بیڈ پر لیٹی موبائل سے اسکی اور اپنی نکاح والی تصویر دیکھ رہی تھی جو کہ اسکے وال پیپر پر بھی تھی

“موم یہ آپ کیا بول رہا ہیں؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے یہ بالکل منظور نہیں” لنچ کے بعد حرا علیزے کے کمرے میں آئی جو کل سے اسی کمرے مین بند تھی جسنے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا
“یہ فیصلہ تمہارے ڈیڈ کا ہے” حرا اسکے بالوں کو سہلاتے ہوۓ بولی۔ علیزے نے ایک دم سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔
“موم اپ جانتی ہو، میں مزمل سے محبت کرتی ہوں، اور صرف انہی سے شادی کروں گی، تو یہ رشتے وشتے کرنا بند کریں میں کسی اور سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی” علیزے غصے سے بولی۔
“علیزے میں نے اپکے کہنے پر اسکے بھائی کو بلوایا تھا مجھے وہ رشتہ پسند نہیں آیا، مین نے آپکی بات مانی اب آپ میتی بات مانو، اس ہفتے کو تمہاری انگیجمنٹ یے” عمیر انکی باتیں سن رہا تھا وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولا۔
“ڈیڈ میں بالکل کسی اور سے شادی نہیں کروں گی یہ میرا اخری فیصلہ ہے، آپ کو ماننا ہی پڑے گا” وہ کھڑی ہو کر غصے سے بولی۔ عمیر اور حرا جہاں تھے وہی رک گے۔
“علیزے ہوش میں آؤ کیا بول رہی ہو” حرا نے اسے پکڑ کر چیخ کر کہا۔
“وہی جو آپ لوگ سن لیں میں کسی اور سے شادی ہرگز نہیں کروں گی” وہ چیخ کر بولی۔ ۔
“حرا اسکو سمجھا لو یہ ڈرامے بند کرے، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا اور تم باہر آؤ بلاج، میرال اور نیہا آۓ ہیں” عمیر غصے سے کہتا واپس مڑ گیا۔
“موم پلیز میری بات مانیں مزمل بہت اچھے ہیں، آپ بلاج چچا کی بات پر کیوں یقین کر رہی ہیں، وہ تو ہر وقت ہمارے گھر کے معاملو مین ٹانگ آڑانے آ جاتے ہیں، اور موم کیا پسند کی شادی کرنا برا ہے، آپ نے ڈیڈ سے پسند کی شادی کی، آپی نے بھی پسند کی شادی کی، اور جنکی آپ بات مان رہے ہو، ہمارے سو کالڈ چچا جی انہوں نے تو چھپ کر نکاح کیا تھا تو۔میں کیوں مزمل سے شادی نا کروں” وہ حرا کے پیروں میں بیٹھی اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“نیہا حد میں رہ کر بات کرو وہ میرے بابا ہیں” نیہا جو اس سے ملنے کمرے کی طرف آئی تھی۔۔۔
“لو جی اپنے باپ کی حمایتی آ گئی” نیہا کو دیکھتے اسکے ماتھے پر بل پڑے، وہ اب ان سب سے نفرت کرنے لگ گئی تھی جو اسکو اسکی محبت سے دور رکھ رہے تھے۔
“علیزے تمیز سے بات کرو وہ تمہارے چچا ہیں” حرا نے اسکو غصے سے ڈانٹا۔
تمیز مجھ میں بالکل نہیں ہے، جو میرے ساتھ برا کریں گے میں انکی دھجیاں اُڑا دوں گی،”