No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
مصروفیت کی وجہ سے اسفندیار خود تو ہسپتال نا جا سکا، نیہا باقی سب کے ساتھ شام کو چلی گئی، تین دن بعد سکندر حمدانی کو گھر جانے کی آجازت دے دی گئی۔ بلاج نے کچھ دن یہی رہنے کا فیصلہ کیا۔۔ علیزے نے گھر کے ماحول کی وجہ سے مزید کوئی ہنگامہ نا کیا۔
“کیسے ہیں دادا جان؟” شام کا وقت تھا، ساحل بلاج کے کہنے پر آفس سے سیدھا یہی آیا تھا۔
“میاں دادا کی خیریت معلوم کرنے کا وقت مل گیا” سکندر حمدانی نے روٹھے ہوۓ انداز میں کہا۔ ساحل مسکراتے ہوۓ انکے پاس جا کر بیٹھا اور انکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔
“سوری دادا جان میں آفس میں تھوڑا سا زیادہ مصروف تھاز بابا کو پتہ ہے” ساحل نے اپنا پلہ صاف کرنا چاہا۔
“ڈیڈ وہ کنسٹریکشن سائیڈ پر کچھ ورکرز نے ہنگامہ مچایا ہوا تھا انہی کو ڈیل کر رہا تھا” بلاج نے اصل وجہ بتائی۔ اور فون پر کسی کو میسج کرنے لگا۔۔ ساحل اور سکندر صاحب باتیں کرنے لگے۔۔۔۔۔
“اسفی یہاں آؤ” ہارون راحیلہ کے ساتھ ٹیوی لاونچ میں بیٹھا ہوا تھا۔
“جی ڈیڈ!” وہ انکے پاس ایا۔
“بلاج نے ہماری ساری فیملی کو سکندر ولا ڈنر پر بلایا ہے، کچھ اہم بات کرنی ہے، نیہا اور نور تیار ہو رہی ہیں، ہم ریڈی ہیں، تم جلدی سے تیار ہو جاؤ آدھے گھنٹے میں نکلنا ہے”
“کیسی بات؟” اسفندیار کو عجیب لگا۔
“شائد وہی جسے اب کھل ہی جانا چاہیے” ہارون نے ٹہرے ہوۓ انداز میں کہا۔ اسفی کا چہرا ایک دم پھیکا پڑا، اسنے بہت مشکل سے خود کو سھنمبالا۔
“جاؤ لیٹ ہو رہی ہے” راحیلہ نے کہا۔ تو وہ اپنے خیالوں سے نکلا، اور اوپر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ وہ بے دھیانی سے کمرے میں داخل ہو رہا تھا کہ اندر سے نکلتی نیہا کے ساتھ ٹکرایا۔
“اندھی ہو، دھیان کہاں ہوتا ہے تمہارا” وہ ایک دم اس پر بھڑکا۔ نیہا ایک دم ڈر کر پیچھے ہوئی۔ اسکا چہرا شرمندگی کے مارے جھک گیا۔ اسفی کی نظر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی نور پر پڑی جو انہی کو دیکھ رہی تھی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
“دھیان سے چلا کرو چوٹ لگ جاتی” وہ نرم لہجے میں بولتا اگے بڑھا، نیہا اسے ناراضگی سے گھورتے ہوۓ کمرے سے باہر چلی گئی۔ نور بھی اسکے پیچھے چلی گئی۔ اسفندیار نے سر جھٹکا اور الماری سے کپڑے نکالنے لگا جب اسکی نظر بیڈ پر پڑے بلو سوٹ پر پڑی، یقیناً یہ نیہا نے ہی نکالے ہوں گے، کیونکہ آجکل گھر آنے سے پہلے ہی نیہا اسکے کپڑے نکال کر رکھ دیتی۔ اسنے الماری بند کی اور بیڈ سے کپڑے پکڑ کر واشروم میں چلا گیا۔ پندرہ منٹ بعد وہ مکمل تیار ہو کر نیچے آیا جہاں سب اسکا ہی انتظار کر رہے تھے۔
“چلیں ڈیڈ موم” وہ ہارون کے پاس آتے ہوۓ بولا، پر نظر روٹھی نیہا پر ہی تھی، وہ ویلوٹ کی بلو پاؤں کو چھوتی بالکل سمپل فراق پہنے ہوۓ تھی، بالوں کو پونی میں قید کیا تھا، خوبصورت کڑھائی کی ویلوٹ شال کو کندھے پر ڈالے، پاؤں میں خوسہ پہنے، ہاتھ میں جرسی پکڑے، چہرے پر ناراضگی لیے کھڑی تھی۔ اسنے بری فرصت سے اسکا جائزہ لیا۔
“ہاں چلو” سب باہر آۓ، ہارون راحیلہ ایک گاڑی میں بیٹھے نور انکی گاڑی مین جانے لگی جب نیہا نے اسے روکا۔
“میں نور کے ساتھ بیٹھوں گی، ہمیں باتیں کرنی ہیں” نیہا اسفندیار کو مکمل اگنور کرتے نور کو لیے گاڑی کی طرف مُڑی ۔
“نور آپ جاؤ، تمہاری بھابھی میرے ساتھ جاۓ گی” تبھی اسفندیار نے اسکی کلائی پکڑی، اور نور کو کہتا نیہا کو اپنی گاڑی کی طرف لے گیا فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے اندر بیٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر ا کر بیٹھا نور جا کر گاڑی میں بیٹھ چکی تھی، نیہا تو اسکا یوں پورے حق سے گاڑی میں بیٹھانے پر ہی حیران ہو رہی تھی۔۔ پر اسنے اپنی ناراضگی جاری رکھی اور گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔ گاڑی گھر سے نکلتے اب روڈ پر دوڑ رہی تھی ہارون کی گاڑی آگے تھی، اسفندیار ہمیشہ انکے پیچھے گاڑی چلاتا، اگر ایسا ویسا کچھ ہو تو وہ فوراً انہیں بچا سکے۔
“نیہا ناراضگی کی وجہ؟” اسنے گردن موڑ کر اسکی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔ جو ابھی تک شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی۔ وہ خاموش ہی رہی۔
“نیہا میں کچھ پوچھ رہا ہوں، اچھا ایم سوری میں نے اُور ری ایکٹ کر دیا، میرے دماغ میں کچھ چل رہا تھا۔۔۔ اور تم ٹکرا۔۔۔” وہ خود ہی ایکسیوز کرنے لگا۔
“اسفندیار آپ نے وقت مانگا تھا میں نے دیا، پر اسکا یہ مطلب یہ نہیں آپ جب چاہیں مجھ سے اچھے سے بات کریں اور جب چاہیں مجھے سنا دیں، میں بھی ایک انسان ہوں، مجھے آپکی بے رخی ہرٹ کرتی ہے، آپکا اچھے سے بولنا مجھے ہمارے رشتے کی ایک امید لگتا ہے، پر اگلے ہی پل آپکا اسطرح کا روکھا رویہ اسی امید کو توڑ۔۔۔۔۔ اور میں اس امید کو ٹوٹتا نہیں دیکھنا چاہتی” وہ اسی طرح شیشے سے باہر دیکھے بول رہی تھی، آخر میں اسکی آواز روندھلی ہو گی۔۔۔ تبھی سگنکل پر گاڑی رکی۔
“اس میں رونے والی کیا بات ہے، ادھر دیکھو” اسفندیار نے کندھے سے پکڑے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ اسکی آنکھین بس جھلکنے کے لیے تیار تھیں۔ اسفندیار نے اسکی آنکھوں مین دیکھا،اسنے سر جھکا دیا اور ہونٹ کاٹنے لگی تا کہ اپنے آنسوں کو بہنے سے روک سکے۔ پر آنسوں اسکے گالوں پر بہ گے
“ایم سوری! میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ کبھی تم پر غصہ نہیں کروں گا” اسفنی نے اسکی تھوڑی اوپر کرتے ہوۓ نرم لہجے میں کہا۔ اور اسکے چہرے سے آنسوں کو پونچھا۔ اسکی حرکت پر نیہا کی دھڑکنیں بڑھیں۔ اسکی پلیکیں لرزیں، گالوں پر ہلکی سی لالی ابھری، اسفندیار خوبصورت منظر دیکھ رہا تھا۔ تبھی کھڑکھی پر ایک لڑکا ہاتھ میں گجرے لیے شیشے کو کھٹکھتا رہا تھا۔ اسفندیار نے ایک نظر نیہا کو دیکھا اور اس لڑکے سے دو گجرے لیے۔ تبھی سگنل کھل گیا۔ اسنے گاڑی اگے بڑھائی۔
“پہن لو، اگر میں نے پہناۓ، تو تمہارے گالوں کی لالی مزید گہری ہو جاۓ گی” اسنے مسکراہٹ دباتے ہوۓ گجرے اسکے حوالے کیے۔
“واٹ نو ایسی کوئی بات نہیں” نیہا نے فوراً اسکی بات کی نفی کی اور اسکے ہاتھ سے گجرے پکڑ کر پہنے لگی۔
“ڈاکٹر جھوٹ نہیں بولتے” اسفندیار اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔ نیہا مسکراتے ہوۓ اپنا موبائل ڈھونڈنے لگی۔
“کیا ڈھونڈ رہی ہو؟”
“وہ میرا موبائل نہیں مل رہا، کہی میں گھر تو نہیں چھوڑ آئی” وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
“ناراضگی میرے پر تھی تم نے اپنے موبائل پر نکال دی” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔
“یہ سب آپکی وجہ سے ہوا تو ایک پنشمنٹ تو بنتی ہے” نیہا مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولی اور گاڑی مین چارجنگ پر لگا اسفی کا موبائل پکڑنے لگی، پھر ایک دم رک گئی۔ اسے اس دن اسفی کا غصہ یاد آیا جب اسنے موبائل پکڑا تھا۔ اسکا یون رک جانا اسفی نے نوٹ کیا۔ اسنے موبائل پکڑا اسے ان لاک کرتے اسکی طرف بڑھایا۔ خود اسکی نظر سامنے سڑک پر تھی۔ نیہا نے جلدی سے موبائل پکڑا۔ اسکا کیمرہ آن کیا۔
“اسفی ادھر دیکھیں” اسنے کہا اسفی نے اسکی طرف دیکھا تبھی نیہا نے تصویر بنا لی۔۔۔
“یہ بعد میں میرے نمبر پر بھیج دیجیے گا” وہ مسکراتے ہوۓ تصویر کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔ تبھی موبائل پر کال آنے لگی، گلناز نام دیکھتے ہی نیہا کی مسکراہٹ سمٹی۔ اسفی نے اسکے ہاتھ سے فون لیا یس کرتے فون کان سے لگا لیا۔ اور بات کرنے لگا۔۔
“ہاں ضرور، اوکے تم پلین کر لو میں آجاؤں گا، ہاں
پلیز اسکو مت بلانا” وہ مسکرا مسکرا کر اس سے بات کر رہا تھا، کچھ پل بعد اسنے کال بند کر دی، وہ لوگ سکندر ولا پہنچ گے۔
سب ڈنر کرنے کے بعد اس وقت لاونچ میں بیٹھے چاۓ لا لطف لے رہے تھے۔ نیہا بار بار علیزے سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ بس ہاں نا میں ہی جواب دے رہی تھی۔ وہ صائم سے بات کرنے لگ گئی۔
“ڈیڈ یہاں میری پوری فیملی موجود ہے، تو میں جو بات بتانا چاہتا ہوں اسکا صحیح موقع آ چکا ہے” بلاج چاۓ کا کپ سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کھڑا ہوا اور سکندر حمدانی کے ساتھ آ کر بیٹھا، انکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔
“اب کیا بتانا باقی ہے” سکندر حمدانی نے پوچھا، بلاج نے ہارون کی طرف دیکھا، جو آنکھ کے اشارے سے اسے بولنے کا کہ رہا تھا۔ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
“اہممم مجھے یہ بتانا ہے کہ، اہمم۔۔۔۔۔۔” اس نے بولنے کی ہمت کی پر بول نا پایا۔۔۔
“بات کو کھینچوں مت جلدی سے بتاؤ” سکندر صاحب اب اتاولے ہو رہے تھے۔
“آپکو پتہ تو ہے نا کہ حسن بھائی کا ایک بیٹا تھا” بلاج نے ہمت کر کے بات شروع کی۔
“ہاں معلوم ہے، میں نے ہی تم لوگوں کو بتایا تھا، کیا ہوا اسے؟ وہ ٹھیک تو ہے نا؟” سکندر صاحب پریشان ہو گے۔
“ہممم وہ ٹھیک ہے، بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔” بلاج سے پھر نات مکمل نا ہوئی۔ نا جانے وہ کیا سوچ کر اٹک رہا تھا۔
“بلاج بات کو اتنا کیوں کھینچ رہے ہو بات مکمل کرو” عمیر کو اسکا یوں اٹکنا برا لگ رہا تھا۔
“ہممم اسفندیار ہی حسن کا بیٹا ہے” ہمت کر کے اسنے اپنی بات مکمل کی۔ سب کے سب اپنی جگہ سے کھڑے ہو گے، سواۓ اسفندیار، ہارون، راحیلہ اور میرال کے” کیونکہ بلاج کے ساتھ ساتھ سچائی یہ چاروں ہی جانتے تھے۔ نیہا نے اسفندیار کی طرف دیکھا، جو سر جھکاۓ بیٹھا ہاتھوں کو مسل رہا تھا۔
“کیاااا؟” سکندر حمدانی کے منہ سے تو الفاظ ہی نا نکل سکے۔
“بلاج تو کیا بول رہا ہے؟ اسفندیار شائد سات سال کا تھا، تب ہارون اور راحیلہ نے اسے اڈاپٹ کیا تھا، تو۔۔۔۔۔۔۔۔” عمیر نے ذہین پر زور دیتے ہوۓ پوچھا۔
“ہاں اس سے دس دن پہلے میں حسن بھائی سے ملا تھا، انہوں نے مجھے فون کر کے کہا تھا کہ مجھ سے ملنے آؤ اور اسفی کی ذمہ داری مجھے دینے کا کہا۔ تب مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی شائد کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ انکی اور انکی بیوی کی جان خطرے میں ہے، اسکے بعد اس رات ان دونوں کو مار دیا گیا، مجھے پہنچنے میں تھوڑی دیر ہو گئی۔ اسفی کو لے کر میں آ گیا” بلاج نے کچھ سچ اور کچھ جھوٹ ملا کر سبکو بتا دیا۔ وہ مکمل سچ کسی کو فل حال بتانے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔
” کس نے مارا تھا؟” عمیر نم لہجے میں بولا۔ اسکی بات پر بلاج نے اسفندیار کی طرف دیکھا، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا، اسنے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا۔
“یہ معلوم نہیں، اسکے فوراً بعد وہ معافیہ اڈا ایک دم ویران ہو گیا، اسفی کی ماں کے والدین بھائی بہن سب ناجانے کہاں غائب ہو گے، اس دن کے بعد کسی نے انکو نہیں دیکھا اب تو شائد برے ہو گے ہوں، یا شائد زندہ ہی نا ہوں” بلاج نے گہرا سانس لے کر کہا۔۔ سب کئی پل تک خاموش ہی رہے۔۔۔۔۔۔نیہا نے نم آنکھوں سے اسفندیار کو دیکھا، اسنے اتنی چھوٹی سی عمر میں نا جانے کیا کچھ نا دیکھ لیا تھا، شائد اسی لیے وہ اتنا سنجیدہ اور خاموش مجاز بن گیا تھا۔۔۔۔
“مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا، حسن کی آخری نشانی سالوں سے ہماری نظروں کے سامنے تھی، بلاج تم اسے گھر کیوں نہیں لاۓ،؟” سکندر حمدانی نم لہجے مین بولے۔
“ڈیڈ۔۔۔ میں گھر ہی لانا چاہتا تھا، لیکن پھر یہ سبکی نظروں میں آ جاتا، اور مجھے اسے سبکی نظروں سے بچانا تھا، اسکی زندگی کے لیے مجھے اسے دور رکھنا پڑا، ہارون نے میری بہت مدد کی بالکل اپنے سگے بیٹے ہی طرح پالا” بلاج نے تشکر بھری نظروں سے ہارون کو دیکھا جو ابھی بھی اسفندیار کے کندھے کے گرد بازو لپیٹے تھپتھپا رہا تھا۔
“ادھر آؤ اسفندیار!” سکندر حمدانی نے نم لہجے میں اسے اپنی طرف بلایا۔ وہ گہرا سانس لے کر چلتا ہوا انکے قریب صوفے پر بیٹھا۔ انہوں نے کانپتے ہاتھوں سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔
“مجھے یقین نہیں ہو رہا تم حسن کے بیٹے ہو، کاش میں نے اسے وہ کرنے دیا ہوتا جو اسکا دل چاہتا تھا، تو اسکی زندگی یوں برباد نا ہوتی” سکندر حمدانی روتے ہوۓ بول رہے تھے۔۔۔
“دادا جان! بابا روز رات کو مجھ سے آپکی، عمیر تایا، بلاج چاچو کی باتیں کیا کرتے تھے، وہ آپ سبکو بہت یاد کرتے تھے، اور روز ایک ہی بات کہتے تھے کہ جب تم اپنے دادا سے ملنا تو انہیں کہنا، میں اپ سے بالکل خفا نہیں، اگر مین آپکی بات مان لیتا تو زندگی مختلف ہوتی، یہ بات حرف با حرف مجھے یاد ہے” اسفی علحیدہ ہوتے ہوۓ اپنے باپ کے کہے الفاظ انہیں بتا رہا تھا سبھی کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔
ساحل کا فون بجا جسے سننے وہ دور ہوا۔ فون ہسپتال سے تھا۔۔۔ اسکے چہرے کا رنگ اُڑا۔ انسے جلدی سے فون بند کیا۔
“ماما مجھے ضروری کام یے میں آتا ہوں” وہ میرال کے پاس آکر ہولے سے بولا۔ اور وہاں سے چلا گیا۔
سکندر صاحب کئی گھنٹے اسفی کے ساتھ بیٹھے حسن کی باتیں کرتے رہے۔۔۔۔۔ رات گیارہ بجے کے قریب سبھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوۓ۔ سکندر صاحب اسفی کو یہاں شفٹ ہونے کا بول رہے تھے، پر اسنے انکار کر دیا، ہارون چاہے اسکا سگا باپ نا ہو، پر اسنے ہمیشہ سگے سے بڑھ کر پیار دیا، راحیلہ کو اسنے دل سے اپنی ماں مانا ، اور نور تو اسکی چھوٹی سی گڑیا تھی۔۔۔ وہ ان سے دور نہیں رہ سکتا تھا،
وہ لوگ سیدھا گھر آۓ، سارا رستہ وہ خاموش ہی رہا، نیہا نے بھی اسے بلانے کی کوشش نا کی۔ ایک دم سے سالوں پہلے کی ول بھیانک رات اسکی نظروں کے سامنے آئی تھی۔۔۔ وہ سیدھا کمرے میں آیا، چینج کر کے بنا کچھ بولے بیڈ پر لیٹ گیا۔ نیہا اپنی جگہ پر بیٹھی۔۔ وہ سیدھا آنکھوں پر بازو رکھے لیٹا ہوا تھا۔۔۔۔
“اسفی آپ ٹھیک ہیں؟” نیہا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا۔
“ہمممم” وہ بس اتنا ہی بولا۔ اسنے مزید ڈسٹرب نا کیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔
“*
وہ سیدھا ہسپتال پہنچا، حیام پچھلے ڈیدھ ہفتے سے یہی رہ رہی تھی، وہ اپنی ماں کو ایک پل کے لیے بھی چھوڑ کر جانا نہین چاہتی تھی۔۔ آج کچھ دیر پہلے ہی اسکی ماں کا انتقال ہو گیا۔۔۔ جسکی خبر ساحل کو ہسپتال والوں نے دی۔ وہ اس کمرے میں آیا جہاں حیام تھی۔ وہ اپنی ماں کا سرد ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے انکا چہرا تک رہی تھی، اور بے آواز رو رہی تھی۔۔۔۔۔
“حیام!” ساحل نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔ ساحل کی آواز پر حیام نے اسکی طرف دیکھا۔
“میرررریییی امییی ی مر گئی،،،، میں انہیںں بچاااا نہیںں سکی میں اسسسس دنیاااااا میں باااالکلللل اکیلی ہووووو گئی،،،، سب مجھےےےے چھوڑر کر چلےےے گے” وہ زورو قطار روتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔۔۔
“تم اکیلی نہیں ہو میں ہوں تمہارے ساتھ” ساحل نے اسے جھٹ سے سینے میں بھیجتے ہوۓ نم لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
“امی! میری امی! مر گئیں! وہ بہت تقلیف میں تھی، امی! میرا خیال کون رکھے گا! مجھے میرے ابا اور بھائی سے کون بچاۓ گا، میرا تو کوئی ہے ہی نہیں، امی” وہ اسکے سینے سے لگی بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔ ساحل بس نے اسے رونے سے بالکل نہیں روکا۔۔۔
“اپکو پتہ ہے میری امی میرے بغیر کبھی نہیں سوتیں تھیں، وہ ہمیشہ مجھے سینے سے لگا کر سویا کرتیں، اب وہ اتنی لمبی نیند اکیلے کیسے سوئین گی” وہ ساحل کو دیکھتے ہوۓ بول رہی تھی،روتے روتے اسکی ہچکی بندھ چکی تھی۔
“ایکسیوزمی، باڈی کو جلدی سے شفٹ کرنے کے لیے پیپرز پر سائن کر دیں کمرہ خالی کرنا ہے” ایک نرس کمرے مین داخل ہو کر بولی۔۔۔ساحل نے ہاں میں گردن ہلائی۔
“باڈی! نہیں میری امی ہیں، میں اپنی امی کو کہی چھوڑ کر نہیں جاؤں گی” حیام انکے سینے سے جا لگی اور رونے لگی۔۔ ساحل نے اپنی آنکھیں صاف کئیں اور باہر آیا، سارے پیپرز کلیر کیے، انکی تدفین کا بندوبست کیا، تین گھنٹے بعد انکو خاک کے سپرد کر دیا، اس سب میں حیام کا برا حال ہو چکا تھا، وہ بار بار گڑ رہی تھی۔۔۔ جسم اسکا تپ رہا تھا۔ اتنی سی عمر میں اسنے کافی کچھ سہا تھا جو اسے توڑنے کے لیے کافی تھا ایک ماں کا سہارا تھا اج وہ بھی چھن گیا۔۔ ساحل نے وسیم کو انکی موت کی اطلاع دی، جسے سن کر اسنے فون بند کر دیا۔۔۔۔۔رات کے بارہ بجے ساحل بخار میں لپٹی حیام کو لیے اپنے دوست کے فلیٹ میں آیا، جہاں وہ اور اسکی بیوی رہتے تھے۔۔ اسے وہ سب پہلے ہی بتا چکا تھا۔ اسے کمرے میں لٹاۓ وہ اسکے پاس بیٹھا اسکے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
یہ منظر سمندر کے بیچوں بیچ کا تھا، جہاں ایک کشتی چل رہی تھی رات کا عالم تھا۔ اس کشتی سے تھوڑی دور بہری جہاز کھڑا تھا۔
“تجھے سیٹھ کا مال کسی بھی قیمت پر وہاں پہنچانا ہے کسہ قسم کی لاپرواہی نا ہو، جانتا ہے نا اگر یہ کام ہو گیا تو سیٹھ ہمیں مالا مال کر دے گا” فون کے اسپیکر سے باسط کی اواص گھونج رہی تھی۔
“ہمم۔۔۔” ویسم بولا۔
“حرام خور منہ سے کچھ پھوٹ یہ ہممم کیا ہوتا ہے” باسط نے غصے سے کہا۔
“اماں مر گئی، ساحل کا فون آیا تھا۔۔ کچھ ہی دیر پہلے انکا انتقال ہوا” وسیم کا لہجہ بجھا ہوا تھا۔
“لو اچھا ہوا دھرتی سے ایک بوجھ کم ہو گیا، تو میری بات دھیان سے دن اماں کا غم بھلا، اور اپنے کام پر توجہ دے اگر مال نا پہنچا تو منہ مت دیکھائیو،،چل کام دھیان سے کر رکھتا ہوں” باسط نے غصے سے کہتے فون بند کر دیا وسیم کئی پل فون کو دیکھا رہا۔۔
“صحیح کہا، مجھے اماں کا زیادہ نہیں سوچنا چاہیے ویسے بھی میں جانتا تھا وہ مرنے والی ہیں، چلو کام پر لگتے ہیں”اسنے اپنا ذہین جھٹکا تبھی کشتی اس بہری جہاز کے پاس رکی، وہ اس بہری جہاز مین چڑھ گیا۔ اور اسکی بیس منٹ مین چلا گیا۔۔ جہاں وہ سب سامان تھا۔
جاری ہے۔
