No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
ازقلم فاطمہ طارق
وہ سب اس وقت پارٹی میں موجود تھے، انہیں آۓ ایک گھنٹا ہو چکا تھا۔ یہ پارٹی ہسپتال کے اونر کی طرف سے منعقد کی گئی تھی، جہاں شہر کے مشہور ہسپتالوں کے اونرز، اور بزنس مینز موجود تھے۔ وہ تینوں اس وقت ایک ساتھ کھڑے تھے۔ وہ کب سے ایک شخص کو دیکھ رہی تھی۔ تبھی وہ شخص نظر بچاتا وہاں سے نکلا۔
نیہا ادھر اُدھر دیکھتی، اسکے پیچھے چل دی جس پر وہ پچھلے ایک گھنٹے سے نظر رکھے ہوۓ تھی۔ کسی نے اسکا جانا نوٹ نہیں کیا۔ وہ اسکے پیچھے چھپ چھپا کر چل رہی تھی، جب وہ ایک جگہ رکا،اور ادھر اُدھر دیکھا، وہ جلدی سے دیوار کی اوٹ میں ہو گئی۔ یہ جگہ گارڈن سے کافی دور تھی، وہ آدمی اگے بڑھا اور سامنے نظر آ رہی دیوار، جس پر خوبصورت بیلیں تھیں، انہیں ہاتھ سے پیچھے کرتا وہاں لگے چھوٹے سے لکڑی کے دروازے کو کھول کر اندر گھس گیا۔ نہیا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، کیونکہ دور سے کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ وہاں کوئی دروازہ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ جلدی سے اسکے قریب آئی ہلکا سا دروازہ کھولا، اور سامنے کا منظر دیکھنے کی کوشش کی۔ یہ ایک برا سا کمرہ تھا۔ یوں مانو ایک سٹڈی روم تھا۔ وہاں اس آدمی کے علاوہ دو تین اور لوگ تھے، پر انکی اسطرف پیٹھ تھی، وہ کسی بارے میں بات کر رہے تھے، نہیا نے جلدی سے موبائل نکالا اور ریکاڈ کرنے لگی۔ جیسے جیسے وہ انکی باتیں سن رہی تھی، اسکا غصہ بڑھ رہا تھا۔ باتیں کرتے کرتے وہ ہنس رہے تھے۔ وہ اس ہلکی اوٹ سے ویڈیو بنا رہی تھی، جلد سے جلد وہ کام پورا کر کے جانا چاہتی تھی۔ جبھی کسی نے پیچھے سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور دوسرے ہاتھ سے موبائل اسکے ہاتھ سے لیا۔ اب اسکی روح فنا کر جانے والی تھی کیونکہ وہ پکڑی گئی۔ دروازہ ہلکے سے بند کرتے اسنے اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ سامنے کھڑے انسان کو دیکھتے ایک پل کو اسکی سانس اٹکی۔ جو اسے نہایت غصے سے گھور رہا تھا۔ اسکے جبڑے تنے ہوۓ تھے۔۔
“پاگل ہو تم یہاں کیا کر رہی ہو؟” اسفندیار اسکے منہ پر ہاتھ دباتے ہوۓ اسکے کان میں دانت پیستے ہوۓ بولا۔ وہ اپنے سابقہ حلیے میں تھا۔
“ہمممم ہممم” وہ زبردستی اپنا ہاتھ ہٹانا چاہ رہی تھی۔ اسفندیار نے ادھر اُدھر دیکھا، اور اسے اسی طرح پکڑے پچھلے گیٹ سے باہر آیا جسکا راستہ سیدھا پارگنگ کی طرف تھا۔ وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ گاڑی کا اگلا دروازہ کھولا اور اسے اندر بیٹھایا۔ اور خود جلدی سے آ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ نیہا تب تک اپنی طرف کا دروازہ کھول چکی اور باہر نکلے والی تھی۔ تبھی اسفندیار نے اسکا بازو پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا، وہ اسکی طرف گِڑی اسنے اگے بڑھ کر اسکی طرف کا دروازہ بند کر دیا اور چائلڈ لاک لگا دیا۔ اور گاڑی چلا کر روڈ پر ڈال دی۔۔
“کیا بدتمیزی ہے، دروازہ کھولیں” وہ برء طرح چیخی تھی، اور ساتھ بار بار دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“چپ کر کے بیٹھی رہو، بے وقوف، جہاں تم کھڑی تھی، تمہیں کوئی آئیڈیا ہے وہ کون لوگ ہیں، اگر کسی ایک نے بھی تمہیں وہاں دیکھ لیا ہوتا تو وہی مری پڑی ملتی” وہ بھی اسی طرح چیخا تھا۔ اسے نیہا پر بے حد غصہ آ رہا تھا۔۔
“تو آپکو کیا، میں جیو یا مروں، گاڑی روکیں مجھے آپ کے ساتھ کہی نہیں جانا” وہ غصے سے بولتی سائیڈ شیشے پر مُکے مارنے لگی۔ وہ لوگ کافی دور آ چکے تھے۔
“آپکو سنائی نہیں دیتا گاڑی روکیں، روکیں گاڑی، روکیں” وہ چیختے ہوۓ سٹرینگ کو ہاتھ سے ادھر اُدھر گھومانے لگی جسکی وجہ سے گاڑی کا بیلنس بگڑنے لگا۔۔ رش ہونے کی وجہ سے گاڑی کسی کو بھی لگ سکتی تھی تبھی اسفندیار نے ایک طرف کرتے گاڑی روکی۔۔۔
“زیادہ بہادر بننے کی کوشش کر رہی وہ؟ بولو وہاں کیا کر رہی تھی” اسکو بازو سے زور سے پکڑتے وہ سیٹ پر بیٹھاتے ہوۓ غصے سے پوچھ رہا تھا۔
“ایکسیوزمی آپ ہیں کون جو مجھ سے یہ سوالوں جواب کر رہے ہیں، میں وہاں کچھ بھی کرنے جاؤں آپکو اس سب سے کیا؟” وہ اپنا بازو چھڑوانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔
“ہنہہہہ بھول گئی بیوی ہو میری اتنی فکر تو بنتی ہے” وہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولا۔ وہی نیہا ساکت ہو گئی، اسنے غم غصے کی شدت کو ضبط کرتے اسکی طرف دیکھا، وہ بھی چپ سا ہو گیا۔ جیسے اسکی آنکھوں میں جگمگاتی اس نمی کی وجہ اسکے الفاظ ہوں۔۔ اور نیہا کے پاس تو الفاظ ہی ختم ہو چکے تھے، سالوں بعد اسنے بیوی کہا، اور وہ بھی طنزیہ انداز میں۔۔۔۔۔۔۔
“چھوڑیں مجھے” وہ جھٹ سے نظریں پھیرتی بازو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی، جو اب چھوٹ چکا تھا۔ اسکی پکڑ جو نرم ہق گئی تھی۔۔۔
“مجھے بس وجہ بتا دو، یوں چھپ چھپ کیوں سن رہی تھی، اسکے پیچھے کیا وجہ ہے، تمہیں کوئی آئیڈیا نہیں وہ لوگ کتنے خطرناک ہیں، انکا تعلق کس سے ہے” ابکی بار اسنے اپنا لہجہ نرم رکھا۔ تا کہ وہ بتا دے۔۔۔۔
“انکا تعلق معافیا سے ہے، اور آپ تو معافیا کو اچھے سے جانتے ہوں گے، آخر کو آپ بھی اب انہی میں سے ایک ہیں، مسٹر RDX. اور یہ جان کر آپکو خوشی ہو گی کہ وہ لوگ ہسپتال میں کچھ ایلیگل کام کر رہے ہیں، میں نے کچھ مہینوں پہلے ہسپتال کی بیسمنٹ دیکھی تھی، وہاں وہ کچھ بنا رہے تھے، اور وہی ایک کمرے میں انسانی جسم کے حصے سٹور کیے ہوۓ تھے، یقیناً وہ بیچتے ہوں گے، تب سے میں کوشش کر رہی تھی کہ کچھ مل جاۓ، لیکن مجھے کچھ خاص معلوم نہیں ہوا، آپکو ضرور معلوم۔ہو گا، آپکا بھی تو یہی کام ہے” اسنے طنزیہ انداز میں بات شروع کی۔ اور سب بتاتے طنزیہ انداز میں ہی بات ختم کرتے اسکی طرف دیکھا۔ جو اپنا نیچلا ہونٹ کچلتے ہوۓ اسکی بات سن رہا تھا
“ہاں میں جانتا ہوں، اور مہربانی ہو گی، تم اس سب سے دور رہو، بھولو مت تم ڈاکٹر ہو نا کے ڈیٹیکٹو ” اسنے کہتے ہوۓ گاڑی چلا دی۔۔۔۔
“ہنہہہ مجھے اچھے سے یاد ہے، میں ڈاکٹر ہوں، البتہ آپ ضرور بھول گے ہیں آپ پولیس والے تھے نا کے گنڈے۔ اور ویسے بھی میں کیوں دور رہوں، میں جان کر رہوں گی، ہمارے ہسپتال میں کیا ناجائز کام ہو رہے ہیں، اور مجھے یہ سب پتہ لگانے سے کوئی مائی کا لال نہیں روک سکتا” اسنے غصے سے کہتے گردن موڑ دی۔ اسفندیار نے ایک نظر اسے دیکھا۔ وہ برابر اسکے طنز کا جواب دے رہی تھی۔
“مائی کا لال تو روکے گا، اور وہ میں ہوں گا یا پھر تمہارے والد صاحب” اسنے اس پر بم چھوڑا
“بالکل نہیں بابا کو کچھ نہیں بتانا میں، انہیں مزید پریشان نہیں کر سکتی ویسے بھی پانچ سالوں سے وہ میری وجہ سے پریشان ہیں، انکی چہیتے نے اپنی اصلیت جو دیکھا دی تھی” وہ اسکی بات سنتے ہی سیدھی ہوئی۔۔۔ اسکی آخری بات سے اسفندیار کے جبڑے تنے۔۔۔
“انکو انکے چہیتے نے اپنی اصلیت دیکھائی تھی کیونکہ انکی چہیتی کی اصلیت جو اسکے سامنے آ گئی تھی۔ تو پریشانی تو بنتی تھی، بیٹی جو ہاتھ سے نکل گئی ۔۔۔۔۔” جو غصے غصے میں بول گیا۔ اور نیہا کے دل پر ایک مرتبہ پھر سے چھڑیاں چلیں، وہ جب سے ملے تھے انکے درمیان اس کے متعلق کوئی بات نا ہوئی تھی۔۔ تبھی گاڑی بلاج مینشن کے دروازے کے پاس رُکی۔ اسفندیار نے چائلڈ لاک کھول دیا۔۔
“میرا موبائل” اسنے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے مانگا۔۔۔اسنے پاکٹ سے نکال کر اسکا لاک کھولنے کی کوشش کی جو کہ پریشے کا نام تھا، اور اسنے وہ ویڈیو اپنے نمبر لکھ کر وہاں بھیجی۔ اور اسکے موبائل سے ڈیلیٹ کر دی۔۔۔۔ اور اسکے ہاتھ پر رکھ دیا۔ وہ تب سے سامنے ہی دیکھ رہی تھی۔ ہاتھ میں آۓ موبائل کو اسنے پکڑا۔ اور دروازہ کھولا
” مجھے آج تک اس بات پر افسوس نہیں ہوا تھا کہ مجھے آپ سے محبت کیوں ہوئی، ہمیشہ آپ پر غصہ ہی آتا تھا، چاہ کر بھی نفرت نہیں کر پائی، کیونکہ محبت جو کرتی تھی، پر آج آپکے الفاظ سن کر مجھے سچ میں افسوس ہو رہا ہے، کہ مجھے محبت نہیں ہونی چاہیے تھی، مجھے آج آپ سے نفرت محسوس ہو رہی ہے، دل کر رہا ہے، آپکا منہ نوچ لوں، آپکے کہے سارے الفاظوں کو آگ لگا دوں، مجھے طلاق چاہیے اور اگر آپ نے نا دی تو میں خود
عدالت سے جا کر لے لوں گی۔ اور میں ایسا کر گزورں گی” اسنے یہ کہتے ہوۓ ایک مرتبہ بھی اسکی طرف نا دیکھا وہ بس اپنے پرس میں موبائل رکھ رہی تھی۔ وہ بول کر دروازہ بند کرتے مین گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔ اسنے غصے سے سٹرینگ پر مُکہ مارتے سر اس پر گِڑایا۔۔۔۔۔ تبھی اسکے شیشے پر نوک ہوا۔۔ وہ چونکا۔ اسنے جلدی سے ٹانگ پر اندر کی طرف بندھی چھوٹی پسٹل کو نکالا اور گردن موڑی، تبھی اسکی سانسیں جہاں تھیں، وہی تھم سی گئیں، قیمض شلوار پہنے چہرے سے کمزور اسکے سامنے بلاج حمدانی کھڑا تھا۔۔ اسنے شیشہ نیچے کیا۔۔۔
“میری بیٹی نے جو کہا ہے وہ کرو، خلع کے پیپرز تمہیں بھیجیں ہیں، ان پر سائن کر دو، اور جتنا ہو سکے میری بیٹی سے دور رہو، جلدی سے اسے ڈائیوس دو، تا کہ میں اسکی شادی کر سکوں، اور میرے کندھوں سے بوجھ ہلکا ہو سکے” یہ الفاظ اسنے اجنبی لہجے میں سامنے دیکھتے ہوۓ ادا کیے تھے، وہ جانتا تھا اگر اسکی طرف دیکھا تو شائد وہ پگل جاۓ۔ اسفندیار کی زبان کو جیسے الفی لگ گئی۔ وہ ایک لفظ تک نا بول سکا۔ بس یک ٹک بلاج حمدانی کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ وہ مانتا تھا بلاج حمدانی واحد شخص ہے جسے وہ کوئی تقلیف نہیں دینا چاہتا تھا، وہ اسکی خاطر جان بھی دے سکتا تھا،لیکن آج وہ اسی شخص کی پریشانی کا باعث بنا ہوا تھا۔ وہ اپنی بات کہتے بنا اسکی طرف دیکھے گھر کی طرف بڑھ گیا۔ اسکے قدم تھکے ہوۓ تھے۔ چال میں وہ اعتماد نہیں تھا۔ اور وہ اسکی پیٹھ کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔
نیہا تیار ہوئی، پریشے کو بھی ریڈی کیا، اسکے ساتھ میرال اور بلاج نے جانا تھا، ساحل میٹنگ میں مصروف تھا، حیام نے جانے سے انکار کر دیا۔ اسنے کل جانے کا کہا۔۔۔ حوریہ کو نیہا نے تیار کر کے ساتھ چلنے کا آجازت لے لی۔۔ وہ سب مہندی کے فنگشن کے لیے حال میں اکھٹے ہوۓ، وہ تھوڑا لیٹ ہو گے تھے، راحم اور روشانے کو اسٹیج پر بیٹھاۓ مہندی کی رسم شروع ہو چکی تھی۔۔۔
“کب سے انتظار کر رہا ہوں، بہت دیر لگا دی” راحیل بلاج سے بگل گیر ہوتے ہوۓ بولا۔ بلاج نے گہرا سانس خارج کیا، راحیل کو عجیب لگا، جیسے اسنے اس گہرے سانس کے پیچھے کتنے آنسو بند کیے ہوں۔ اسنے اسکی پیٹھ تھپتھاتے ہوۓ ساتھ ہونے کا احساس دلایا۔۔۔ اور بلاج کی وہاں بس ہو گئی، کئی آنسو اسکی پلکوں سے توڑ کر نکلے۔ یہ آنسو کسی عاشق کے اپنی محبوبہ کے لیے نا تھے۔ بلکہ ایک باپ کے اپنی بیٹی کے لیے تھے، ایک چچا کے اپنے جان سے پیار بھتیجے کے لیے تھے۔
“کیا یار وہ کچھ سالوں کے لیے ہی لندن گیا تھا تم تو اسکی معشوقہ کی طرح ری ایکٹ کر رہے ہو” حسام نے راحیل کو اشارہ کرتے ماحول تھوڑا نارمل کرنا چاہا۔ بلاج علحیدہ ہوا۔ اسنے چہرا موڑا اور رومال کی مدد سے آنکھ کے کنارے صاف کیے
“ہاں تو کئی سال گزر گے، اب واپس نہیں آۓ گا تو اتنے آنسو تو بنتے ہیں” ہارون نے بلاج کے گرد بازو لپیٹتے ہوۓ کہا۔۔۔وہ اچھے سے محسوس کر سکتا تھا وہ کس چیز سے گُزر رہا ہے، اسنے بھی اسفندیار کو بیٹا مان کر ہی پالا تھا۔ اور جس دن سے اسکی واپسی کی خبر اسے ملی وہ بھی بے چین تھا۔ پر اس سے زیادہ دکھی کر دینے والی بات اسکا مافیا میں جانا تھا۔ وہ جانتا تھا بلاج نے کتنی مشکل سے اسے اس سب سے دور رکھا ہے۔
“بس یار آج ملاقات ہوئی، اسکا حلیہ دیکھ، دل ایک دم بھاری سا گیا، میں نے ہر ممکن کوشش کی اسے اس خطرناک لوگوں سے دور رکھ سکوں، اسکی شناخت تک بدل دی، تا کہ کسی کو معلوم نا ہو پر دیکھ آج وہ ایک گنڈا بن گیا” بولتے بولتے اسکا لہجہ کانپا تھا۔
“اوے پاگل ہے، تو ہماری طاقت ہے، اور ہماری طاقت یوں کمزور پڑ جاۓ یہ ہم کبھی مان نہیں سکتے” راحیل اسکے گلے لگتے ہوۓ اسکا کندھا تھپتھاتے ہوۓ بولا۔
“زیادہ سینٹی مت ہو، چلو امرحہ کے بیٹے کی شادی ہے، اگر ہم وہاں نا پہنچے وہ ہمیں مار ڈالے گی، چلو مہندی کی رسم ادا کرتے ہے” حسام نے اسکے بال بگاڑتے ہوۓ کہا۔ اور آج اسنے چڑ کر اپنے بال صحیح نہیں کیے، جب دل ہی اس قدر اداس ہو تو اپنے آپ کی بھی کہاں خبر ہوتی ہے۔۔۔۔ وہ چاروں اسٹیج کی جانب بڑھے حسام نے مزاق کرتے کرتے اسکا موڈ تھوڑا نارمل کرنے کی کوشش کی اسنے بھی خود کے ایموشنز چھپا کر نارمل رہنے کی کوشش کی۔ رسم ادا کر کے وہ ایک ٹیبل کے پاس آکر کھڑا ہوا، دور مشی اور عائشہ کے پاس میرال کھڑی بات کر رہی تھی، اور حوریہ اسکا بازو پکڑے جھول رہی تھی، میرال نے مسکراتے ہوۓ اسے گود میں اُٹھایا، اور اسکا ناک دبایا، وہ کھکھلا کر ہنسی اور میرال کی گال پر کس کی۔ بلاج یہ منظر ہلکا سا مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔
“بابا” تبھی اسے اپنے پیچھے سے نیہا کی آواز آئی، وہ پیچھے مُڑا۔ وہ یلو پاؤں کو چھوتی فراک میں بے حد پیاری لگ رہی تھی، بے اختیار اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔ وہ اگے بڑھی اور بلاج کا بازو پکڑ کر اسکی نبض چیک کرنے لگی۔
“میں ٹھیک ہوں بچے” اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے وہ ہلکا سا مسکرایا۔
“جانتی ہوں، ابھی کچھ دیر پہلے آپکو روتا ہوا دیکھ چکی ہوں” وہ روٹھے ہوۓ انداز میں بولی۔ اور بازو چھوڑا۔ وہ ٹھیک تھا
“میں اتنا کمزور نہیں جو کچھ سہ نا پاؤں، تمہارا بابا ہوں، اور نیہا کا بابا کمزور کیسے ہو سکتا ہے” اسکی گال کھینچتے ہوۓ بولا
“بالکل جب میرے بابا اتنے کمزور نہیں، تو بھلا انکی بیٹی کمزور ہو سکتی ہے میرے بابا نے مجھے ہر دم بہادر بنایا ہے، بابا میری فکر مت کیا کریں، میں بالکل ٹھیک ہوں اور خوش ہوں، آپ پلیز میری وجہ سے اپنی صحت مت خراب کریں، آپ وعدہ کریں میرے ساتھ کل ہسپتال چلیں گے آپکے سارے ٹیسٹ کروانے ہیں، پہلے سے کتنے کمزور ہو گے ہیں”
“ہممم چلو گا، ابھی فل حال تم اپنی ماما کو بولو بہت دیر ہو گئی ہے، فنگشن بھی ختم ہو گیا ہے تو گھر چلیں” بلاج نے گھڑی دیکھتے ہوۓ کہا۔ وہ ہاں میں سر ہلاتی میرال کے پاس گئی۔۔۔۔۔
جاری ہے
