Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

“آئے آۓ آج ہمارے آنگن کو رونق بخشنے کا کیسے خیال آ گیا؟” فرید احمد ہنستے ہوۓ چلتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔۔
“یہ آنگن اس قابل نہیں کہ اسے رونق بخشی جاۓ، بس تمہیں تمہارے کرموں کی سزا دینے آیا ہوں” وہ قدم با قدم اگے چلتا ہوا اسکے مدمقابل کھڑا ہوا، گردن ایک دم سیدھی تھی، پولیس یونیفارم میں کھڑا تھا۔۔۔وہ اکیلا تھا۔
“کرموں کی سزا دینے تن تنہا آۓ ہو” وہ ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولا۔
“تمہارے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں” اسفندیار نے کہتے ہی ایک اریسٹ وارنٹ نکالتے اسکے چہرے کے سامنے لہرایا۔ فرید احمد خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔
“تمہیں عدیم کے قتل کیس میں اریسٹ کیا جاتا ہے” ہتھ کڑی نکالتے ہوۓ وہ بولا۔ وہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں سمجھ گیا کہ وہ کس عدیم کی بات کر رہا ہے۔۔ ایک پل کے لیے ہی اسکے چہرے کا تاثرات بدلے اور صرف ایک پل کے لیے ہی۔۔۔اگلے ہی پل وہ ایک قدم اگے بڑھا۔۔
“مجھے لگا میرا بھانجا کافی بزدل ہے، پر تم تو بہت بہادر نکلے، ایک بات بتاؤں، تمہاری ماں بھی بالکل تمہاری طرح ہی بہادر تھی” وہ بہت کچھ جتا گیا تھا۔۔۔ اسفندیار کے جبڑے تنے۔ اسنے بہت مشکل سے اپنا ہاتھ اُٹھانے سے روکا۔
“چچچ چچچ فرید احمد شائد تم بھی ایک بات بھول رہے ہو اسی ماں کا میں بیٹا ہوں۔ جان سے جاؤں گا پر اپنے ایمان سے کبھی نہیں” اسنے سخت لہجے میں کہتے جھٹ سے اسکے دونوں ہاتھوں پر ہتھ کڑی لگا دی۔ فرید احمد ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔ اسکے عمل سے اسکے گارڈز اسکی طرف بڑھے۔۔۔۔ جسے اسنے ہاتھ اُٹھا کر روک دیا۔۔ اسفندیار اسے پکڑ کر باہر لایا۔۔
“تمہیں برا شوق تھا نا اس دنیا کو اپنی شرافت دیکھانے کی، اسی لیے اپنے اوپر شرافت کا لبادھا اُوڑھ کر تم اپنے معافیا کے اڈے کو چلا رہے ہو، چلو آج تمہارا لائیو براڈ کاسٹ کرواتا ہوں، وہ دیکھو ڈران اب اسکے ذریقے تمہاری یہ گرفتاری پوری دنیا میں دیکھائی جاۓ گی، اور اب تک تو نیوز چینل والے پر ہر طرف تمہاری ہی خبر نشر ہو رہی گی” اسفندیار نے اسے پولیس کی جیپ میں بیٹھاتے ہوۓ کہا۔ اور پھر دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔ اور خود جیب کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
“ہاہاہا” وہ جیپ میں بیٹھا ہتھکڑی میں بندھے ہاتھوں کو دیکھ ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔اب اسکے اندر کیا چل رہا تھا یہ تو وہی جانتا تھا۔
آدھے گھنٹے میں جیپ پولیس اسٹیشن جا کر رکی وہاں بہت ساری میڈیا کھڑی تھی۔۔ انکے آتے ہی ریپورٹرز اس پر ٹوٹ پڑے۔ اسفندیار نے کسی کو بھی جواب نا دیا فرید احمد کو پکڑ کر تھانے کے اندر داخل ہوا اور اسے سیلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔ چوبیس گھنٹوں کے بعد کیس کی سُنوائی ہونی تھی۔ وہ اسے بند کر کے اپنی ٹیبل پر آیا۔ باقی پولیس اہلکار باہر میڈیا کو سھنمبال رہے تھے۔اسنے موبائل پینٹ کی جیپ سے نکالا جس پر سبکی کافی مس کالز تھیں۔ اسنے بلاج کو کال بیک کی۔۔
“جی انکل۔ جی ہاں ابھی کچھ دیر پہلے ہی جی میں بس کچھ دیر میں بات کرتا ہوں” وہ بول کر کال بند کرتا اب سلاخوں کے پیچھے قید فرید احمد کو دیکھتا تالا خول کر اندر داخل ہوا وہ پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھا۔ اسنے ٹانگ پر ٹانگ چرھائی۔
“کیسا لگ رہا ہے فرید احمد پہلی دفع جیل میں یوں بند ہو کر” وہ اسکا مزاق اُڑاتے ہوۓ بولا۔۔ فرید احمد زمین پر بیٹھا ہوا تھا اسکے ہاتھ سے ہتھکڑی اتر چکی تھی۔۔ وہ دیوار سے کمر ٹکاۓ اسفندیار کو دیکھ رہا تھا۔۔
“تجھے معلوم ہے، میں فرید احمد خان ہوں، اس معافیا خاندان کا سردار اور تجھے لگ رہا ہے تو مجھے یوں بند رکھ پاۓ گا، دس منٹ بعد میں یہاں سے نکل جاؤں گا” وہ ایک گھٹنے پر بازو رکھے ارام سے بولا۔۔
“معلوم ہے، تیرے پاس بہت پاور ہے ، پر پتہ میں نے یہ کیون کِیا؟ تا کہ تیری ساکھ پر ایک ہتھوڑا مار سکوں، اب یہ بات لوگوں کے دماغوں میں رہ جاۓ گی، کہ تو ایک قاتل ہے، چاہے وہ قتل ثابت ہو یا نا ہو” وہ دونوں گھٹنوں پر بازو رکھتے اگے جھکتے ہوۓ بولا۔۔ فرید احمد کا قہقہہ بلند ہوا۔۔۔۔۔
“بھانجے میرے پیارے بھانجے، تو ابھی بچہ ہے، تجھے احساس تک نہیں کہ تو نے آج کتنی بری غلطی کر دی۔ اسکے انجام کے ذمہ دار تم خود ہو، کمال ہے ویسے تیری بیوی کسی غیر مرد سے باتیں کرتی رہی اور تجھے علم بھی نہیں ہوا، ویسے وہ ہے کمال کی، اور جانتا ہے وہ بہت چلاک ہے، میں جانتا ہوں اسنے ایک ہفتے پہلے ہی تجھے بتایا تھا۔ کہ میں اسکے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ اسے احمد بن کر ملا، اور اس سے باتیں کرتا رہا، جب اسے معلوم ہوا کہ میں فرید احمد ہوں تب میں نے اسے دھمکی دی، وغیرہ وغیرہ، تجھے معلوم ہے یہ سب اسنے تجھے بتانے سے پہلے مجھ سے ڈسکس کیا تھا۔ تیری شادی سے پہلے میں اور نیہا ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، اسے شروع دن سے معلوم تھا کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں، اسے میں نے ایک ایک بات بتائی تھی، وہ کافی بار میرے گھر بھی آ چکی ہے” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔ اور اسفندیار کا خون کھولا گیا۔ اسنے اسکا گِریبان پکڑا۔۔
“حرام خور خبردار جو میری بیوی کے بارے میں اپنی اس گندی زبان سے ایک لفظ بھی نکلا تجھے یہی گھاڑھ دوں گا، مجھے اس پر خود سے بھر کر بھروسہ ہے” اسفندیار سے مزید سنا نا گیا اسکا دماغ غصے سے پھٹ رہا تھا۔۔
“ہاہاہا کیا ہوا دکھ ہو رہا ہے، وہ ابھی بھی مجھ سے فرید احمد سے محبت کرتی ہے، مجھے معلوم۔ہے اسنے تجھے بولا ہے کہ وہ بچپن سے تجھ سے محبت کرتی ہے، پر ایسا نہیں ہے، اسنے جھوٹ بولا تھا۔ شادی کے شروع میں اسنے تجھ سے طلاق بھی مانگی تھی، یہی بہانا بنا کے کہ اسے تم پر مسلط کیا گیا ہے، اصل میں تو تم اس پر مُسلط کیے گے ہو، وہ جلد تمہیں چھوڑ کر میرے پاس آۓ گی۔ بے انتہا محبت کرتی ہے، کافی بار میرے گھر بھی آ چکی یے۔ تجھے ایک راز کی بات بتاؤ، اسکی گردن کے پیچھے ایک تل ہے اور اسکے بازو پر یہاں ایک تل ہے اور بتاؤں کہاں کہا۔۔۔۔” اسفندیار نے اسکے منہ پر مُکے مارنے شروع کیے، اسکا ایک ایک لفظ اسے اشتعال دلا رہا تھا۔ وہ جسطرح کی نیچ باتیں کر رہا تھا۔ اسکی برداشت سے باہر تھا۔ وہ اندھا دھند اسے مارے جا رہا تھا۔۔اور وہ ہنسی جا رہا تھا۔ تبھی حسنین نے آ کر اسے چھڑوایا۔۔۔ پر وہ کسی کے قابو نہیں آ رہا تھا۔
“سر اسکو چھوڑیں ابھی یہ دیکھنا زیادہ ضروری ہے” حسنین نے جلدی سے اسکے آگے موبائل کیا جس پر ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ اس میں وہی لڑکی تھی جس نے فرید احمد پر قتل کا الزام لگایا تھا۔۔
“جی مجھے ایس پی اسفندیار نے مجبور کیا ایسا کرنے پر، وہ مجھے پیسوں کا لالچ دے رہے تھے، تا کہ میں فرید احمد خام جیسے پاک صاف نیک بندے پر قتل کا الزام لگا سکوں، جی بالکل یہ دیکھیں میرا بھائی زندہ سلامت ہے” وہ اور بھی بہت کچھ بولے جا رہی تھی، اسفندیار نے موبائل حسنین کو پکڑایا اور چکر لگانے لگا۔۔فرید احمد ہنسی جا رہا تھا۔
“چکر مت لگاؤ اتنا پریشان مت ہو ساری بات میں تمہیں بتاتا ہوں، سنا ہے تمہارا ایک دوست شہیر نام کا ہے، جسنے کچھ دن پہلے تمہیں کچھ کیسز کے نام اور پتے لا کر دیے تھے، جانتے ہو وہ کس نے بھجواۓ ” وہ سیدھا ہو کر بیٹھتے مزے سے اسے سب بتا رہا تھا
“میں نے” اسنے طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔ اسفندیار کی سانس رکی۔۔ اسکی حالت دیکھ کر فرید احمد ہنسا۔۔
“ہاں بالکل ، تمہارا دوست بہت پہلے میرے ہاتھوں دس کڑوڑ لیے بک چکا تھا، تم جانتے تو ہو مجھے وکیل اور جج کو خریدینا کتنا پسند ہے، اسکے بعد تم جس دن اس سے ملے مجھے وہ۔ بھی معلوم ہے، اسے جو ڈاکومینٹ دیے وہ بھی میرے پاس ہیں، اسنے میرے ہی کہنے پر جھوٹے کیسز کے نام اور پتے تمہیں دیے، جی ہاں جھوٹے کیسز اور یہ جو لڑکی ہے، یہ بھی میری ہی خریدی ہوئی ہے، اور ایک اہم بات بتاؤ، تمہاری بیوی نے کل رات کو مجھے کال کر کے تمہارا مجھے پکڑنے کا سارا پلین بتا دیا تھا۔ جو یقیناً تم نے اسے نہیں بتایا تھا۔ پر فون پر اپنے پیارے انکل بلاج کو تو بتا رہے تھے، تو یہاں ساری کہانی ختم ہوتی ہے، اور بھانجھے میرے جانے کا وقت ہوا چاہتا یے، بہت مزہ آیا” وہ ہنستے ہوۓ سب بتا رہا تھا۔ اور اسفندیار کے تو مانوں پیروں تلے زمین ہی نہیں تھی، اسکا اپنا دوست شہیر اس سے دھوکہ کر سکتا ہے یہ تو اسکے وہموں گمان میں بھی نہیں تھا۔۔ تبھی اسکے ٹیبل پر رکھا فون بجا جسے ایک اہلکار نے اُٹھایا۔۔
“سر ڈی ایس پی کا فون ہے” وہ ڈرتے ڈرتے بولا تھا۔ اسفندیار باہر آیا اور فون کان سے لگایا۔۔
“تمہارا دماغ خراب ہے، یہ تم کیا کرتے پھر رہے ہو، ایسی کیا دشمنی یے، جو تم جھوٹے کیس بنا کر فرید احمد جیسے سخص کو گرفتار کر رہے، ہو، تم کو آج سے ابھی سے چھے مہینوں کے لیے سسپینڈ کیا جاتا ہے، اور ابھی کے ابھی فرید احمد کو رہا کرو ” ڈی ایس پی غصے سے اسے ڈانٹ رہے تھے، وہ چپ سا سب سن رہا تھا۔
“اوکے” کہتے ہی اسنے بنا ڈی ایس پی کی مزید سنے فون بند کیا۔ اور حُسنین کو اشارہ کیا کہ وہ اسے جانے دے خود وہ وہی کرسی پر دھے سا گیا۔۔۔۔ اور اسنے اپنا سر ہاتھوں پر گِرا دیا۔۔۔۔۔فرید احمد اسے ٹیبل کے پاس آیا۔ اسنے اپنی جیب سے رومال نکال کر چہرے پر آۓ زخم کو صاف کیا۔۔۔۔۔
“ہمت سے کام لو اور سب سے پہلے آس پاس دیکھو، شہیر جیسے دوست بنانا چھوڑو اور اپنی بیوی پر دھیان دو، کہی وہ کسی دن تمہاری وہ کزن علیزے کی طرح بھاگ نا جاے کتنا بدنامی ہو گی، ویسے اگر میری بات پر یقین نہیں کہ نیہا مجھ سے محبت کرتی ہے، تو جا اپنے کمرے کے سائیڈ ٹیبل کے نچلے دراز میں تجھے ہماری محبت کا ثبوت موبائل ملے گا، جسکا ماڈل آئی فون تھرٹین ہے، جسکے وال پیپر پر میری اور نیہا کی تصویر ہے، اسکا پاسورڈ فرید جان ہے۔ اور اسکی گیلری کھولو گے تو بے شمار تصویریں ملیں گے، واٹس اپ کھولو گے تو ہزاروں میسجز ملیں گے۔” وہ ہنستے ہوۓ بولا اور چلا گیا۔ اسفندیار نے ٹیبل پر پڑی ہر چیز کو زمین پر دے مارا۔۔ اسکا دماغ پھٹ رہا تھا اسنے موبائل اُٹھا کر شہیر کو فون ملایا۔۔ جسنے دوسری بیل پر فون اُٹھایا۔۔
” آستین میں پالے سانپ مجھے اسطرح ڈھسے گا میں جانتا نہیں تھا ورنہ کبھی تجھ سے دوستی نا کرتا”وہ غصے سے دھاڑا۔۔
“ہاہا کیا ہو گیا اسفندیار یار دیکھ کتنی مہنگائی ہو چکی ہے۔ یار اتنا تو بنتا ہے اور ویسے بھی فرید احمد کتنا دے رہا تھا میری ساری زندگی سُدھر گئی تو بھی اسکا پیچھا چھوڑ دے اور خود پر دھیان دے، اس بدلے کو بھول جا چل میں تو فرید احمد کی رات کی پارٹی میں جا رہا ہوں باۓ” شہیر نے ہنستے ہوۓ کہا اور اسے نصیحتیں کرتا فون بند کر دیا۔ وہ اپنی جیپ کی چابی لے کر باہر نکلا۔۔ریپورٹرز نے اسے گھیر لیا، وہ غصے میں سبکو پیچھے کرتا اپنی جیپ کی طرف بڑھا اور اندر بیٹھتے وہ بھگا لے گیا۔۔۔۔ اسکا رخ نیہا کے ہسپتال کی طرف تھا۔ اسکے دلوں دماغ کے اندر ایک جنگ چل رہی تھی۔ کون سچا کون جھوٹا ۔۔۔؟؟؟؟؟؟۔۔ اسکے موبائل پر کئی بار نیہا کے میسجز کالز آئیں تھیں، جنہیں اسنے مکمل نظر انداز کیا۔۔ وہ دس منٹ میں رش ڈرائیو کرتے ہسپتال پہنچا، بازوں سے کف فولڈ کرتے وہ تیز تیز قدم چلتا ہسپتال کے اندر آیا۔۔۔۔ریشیپشن سے نیہا کا پوچھا جو کہ اپنی سینیر کے ساتھ راونڈ پر نکلی تھی، اور ابھی روم نمبر 6 مین تھی۔ وہ چلتا ہوا روم نمبر 6 میں آیا۔ جہاں اسے نیہا کھڑی نظر آئی سبز سوٹ، سر پر شفون کا ڈوپٹہ لیے، ہلکا سا میک اپ کیے، لیب کوٹ پہنے وہ موبائل کی طرف بار بار پریشانی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔اور مسلسل ہونٹ کاٹ رہی تھی۔ اسفندیا کئی پل اسے ویسے ہی دیکھتا رہا، دل نے ایک دم سے کہا بالکل نہیں اسکی نیہا ایسی بالکل نہیں۔ وہ اگے بڑھا جب نیہا کا موبائل بجا، ان نو نمبر تھا۔۔ اسنے کال اُٹھاتے ہی کان سے لگایا۔
“فررر۔۔۔” اسکے منہ سے ہلکا سا نکلا۔ اور اسفندیار کے قدموں نے جکڑ لیا۔ اعتماد کا ہلکا سا ٹکڑا ہوا۔۔۔ وہ جبڑے سخت کرتے اگے بڑھا۔ اور نیہا کا بازو پکڑا، اور دوسرے ہاتھ سے موبائل پکڑا۔ اور کال کاٹ دی۔
“اسفی آپ یہاں، آپ ٹھیک تو ہیں؟ میں نے کتنی بار آپکو کالز کیں میسجز کیے ” نیہا فوراً شروع ہو گئی۔ وہ چپ سا اسے دیکھ رہا تھا۔ چہرے کے تاثرات سرد تھے۔
“چلو” اسکے بازو کو زور سے پکڑتے، بنا کسی کو کچھ کہے وہاں سے لے گیا۔ نیہا کو عجیب سا لگا اسکا بازو دکھ رہا تھا وہ اسکی سپیڈ کے ساتھ میچ نہیں کر پا رہی تھی تقریباً بھاگ رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ پارکنگ مین پہنچے دروازہ کھول کر ادے اندر بیٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔
“اسفی کیا ہوا؟ آپ مجھے ایسے لے آۓ، سب کیا سوچ رہے ہوں گے کیا ہے بولیں، چپ کیوں ہین” وہ اسکی چپی سے چڑتے ہوۓ بولی۔۔
“چپ کر کے بیٹھ جاؤ سب بتاتا ہوں تمہیں میں” وہ سرد لہجے بولا۔ نیہا کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دھوڑی۔ آج سے پہلے اسنے اسفندیار کا یہ روپ بالکل نہین دیکھا تھا۔ ابھی ابھی تو انکی زندگی اتنی حسین ہوئی تھی۔ وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ اسفندیار اسکا موبائل چیک کر رہا تھا۔ اسنے کال لاگ کھولا، اس میں کچھ نہین تھا یعنی یہ وہ فون نہیں تھا۔ اسنے فون زور سے اسکی طرف پھینکا جو سامنے ڈیش بوڈ پر جا کر لگا۔ اور پھر نیہا کے پاؤں کے ناخن پر لگا۔۔۔۔
“آہ یا اللہ ” وہ زور سے چیخی، جس فورس سے فون اسکے ناخن پر لگا تھا ناخن کافی حد تک اُکھڑ چکا تھا۔ اور اس سے خون رس رہا تھا اسنے پاؤں سیٹ پر رکھا۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے، میں نے کیا کِیا؟ اپنے پاؤں کو زور سے دباتے ہوۓ، وہ غصے سے چیخی تھی۔۔
” اپنی آواز نیچی رکھو خبردار جو تمہارے منہ سے ایک بھی لفظ نکلا قسم سے تمہاری جان نکال دوں گا” انگلی اُٹھا کر اسے وارنگ دیتے ہوۓ وہ بولا۔ نیہا کو اسکے لہجے سے اجنبی پن کی بو آئی۔ اسکا دل ڈوبا۔ اسنے ایسا کیا کِیا؟ جو وہ اسطرح بی ہیو کر رہا ہے، دس منٹ بعد وہ گھر پہنچے۔۔ اسنے اسے بازو سے پکڑتے گاڑی سے نکالا۔ وہ اسے پکڑتے اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
“چھوڑیں کیا کر رہے ہیں درد ہو رہا ہے؟” وہ اپنا بازو چحڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“اسفندیار کیا کر رہے ہو ؟ چھوڑو اسے” راحیلہ شور سن کر کچن سے نکلتی باہر آئی تو سامنے سیڑھیوں پر اسفندیار نیہا کو اسے کھینچتے ہوۓ کے جاتے دیکھا تو انکے پاس آئی۔۔
“ماما دور رہیں،” وہ اسے کہتا نیہا کو پکڑتے کمرے میں لے آیا اور دروازہ بند کر کے تالا لگا دیا۔ راحیلہ نے ہارون کا نمبر ملایا۔۔۔
“اسفی کیا ہوا؟ ایسے کیوں بی ہیو کر رہے ہیں؟” نیہا اپنے بازو کو مسلتے ڈرتے ہوۓ بولی۔۔ اسفندیار نے بیڈ کی دائیں سائیڈ ٹیبل کے دونون دراز کھولے وہاں پر کچھ نہین تھا۔ وہ بائیں سائیڈ ٹیبل کی دراز کی طرف بڑھا۔ اسنے دونوں دراز کھولے، جب اسنگ نیچے والا کھولا۔ اسکے ہوش اُڑے کے اُڑے رہ گے وہاں ایک ائی فون تھرٹین تھا۔ اسنے اسے باہر نکالا۔ موبائل کی سکرین پر ہاتھ لگایا۔ وہ جگمگا اُتھی، اور اسکی سانسیں وہی تھم گئیں اسکے وال پیپر پر نیہا اور فرید احمد کی بہت قریب کی تصویر لگی ہوئی تھی ، جیسا اسنے بولا تھا۔ اسنے کانپتے ہاتھوں سے پاسورڈ ڈائل کیا۔ موبائل اوپن ہو گیا۔ اسنے گیلری کھولی، بے شمار تصویریں تھیں، اور بہت ساری نازیبا بھی تصاویریں تھیں اسنے واٹس اپ کھولا اس میں ہر روز دیر رات والے میسجز تھے۔ اسفندیار اور اسکے درمیان ہوئی ہر ایک بات فرید احمد کو بتائی گئی۔ جو صرف انکے درمیان تھی۔ اور وہی اسکے اعتماد کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گے۔ نیہا چلتے ہوۓ اسکے پیچھے ائی
“یہ کس کا فون۔۔۔” ابھی اسکے منہ میں الفاظ تھے کہ اسکے چہرے پر اسفندیار نے کھینچ کر تھپڑ مارا، وہ لڑکھڑا کر بیڈ پر بری طرح گِڑی۔ اسنے چہرے پر ہاتھ رکھتے شاک کے عالم میں اسفندیار کو دیکھا۔ جو اب خوفناک تاثرات لیے اسکی طرف آ رہا تھا۔اسنے اسکے بال زور سے مُٹھی میں بھینچیں۔۔
“اگر اپنے اس عاشق سے اتنی محبت تھی، تو اپنے باپ کو بولتی کہ نہیں کرنی مجھ سے شادی، اور اس گھٹیا انسان کے ساتھ ہی گُل چھڑے اُڑانے ہیں” وہ اسکے بالوں کو اس حد تک مڑور رہا تھا کہ نیہا کو لگا کچھ ہی پلو میں اسکے بال جڑ سے اُکھڑ کر باہر آ جائیں گے۔۔۔
“کیا بکواس۔۔۔۔۔” اسکے منہ میں الفاظ سے کہ اسفندیاد نے دو تھپڑاسکے چہرے پر مارے۔ نیہا صدمے سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“مجھے تمہاری پاکیزگی دیکھ کر محبت ہو گئی، اور تم میری پیٹھ پیچھے ایسا گندھا کھیل کھیل رہی تھی، قسم سے میرا دل کر رہا ہے، تمہاری جان لے لوں” وہ نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھتے بول رہا تھا۔ اور اسکے ہاتھ اسکی گردن پر تھے جسے وہ دبا رہا تھا۔ نیہا کی آنکھیں اُبل کر باہر آرہیں تھیں، چہرا آخری حد تک سرخ ہو رہا تھا۔ وہ اسکے بازوں پر اپنے دونوں ہاتھ زور زور سے مار رہی تھی۔ اسفندیار غم غصے سے بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکی حالت مزید بگڑ رہی تھی جب اسنے اسکی گردن سے اپنے دونوں ہاتھ ہٹاۓ۔۔۔وہ بری طرح کھانستی چلی گئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔ وہ اپنے بالوں کو بھیچتے چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔
“کتنی راتیں تم نے اپنے اس فرید احمد کے ساتھ کاٹیں ہیں، جو وہ تمہارے جسم پر موجود تلوں تک کو جانتا ہے” وہ ٹیبل کو ٹھوکر مارتے ہوۓ دھاڑا تھا۔ اسکے الفاظوں نے جیسے اسکی روح تک ہو زخمی کیا تھا وہ بے یقینی سے اسفندیار کو دیکھ رہی تھی۔۔ اسے اب جا کر اصل بات سمجھ آئی۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور چلتی اسکی طرف آئی۔۔
“کیا بکواس کر رہے ہیں آپ؟” وہ اسکا گِریبان پکڑتے چلائی تھی۔ اسکے بال بکھرے ہوۓ تھے چہرا آنسوں سے تر تھا
“تمہارے اس عاشق کو پولیس تھانے لے کر گیا تھا۔ جہاں اسنے مجھے تمہاری عاشقی کی داستان سنائی۔ اس دن بری رو رو کر اسکے بارے میں بات رہی تھی حلانکہ یہ پلین بحی تم دونوں کا تھا مجھے تو حیرانگی ہو رہی ہے،وہ تمہارے باپ کا سب سے برا دشمن ہے، اور تم اسی کا ساتھ دے رہی ہو، میری ہر بات اسے بتاتی ہو، مجھ سے طلاق چاہیے، تمہیں، تا کہ اس کے ساتھ جا سکو، قسم خدا کی اپنی آخری سانس تک تمہیں اپنے نام پر بیٹھا کر رکھوں گا پھر دیکھوں گا کیسے تم اسکے ساتھ جاتی ہو” وہ اپنا گِریبان چھڑواتے ہوۓ غرایا تھا۔ نیہا حیرانگی سے اسکی باتیں سن رہی تھی جو اس وقت اپنے آپ میں بھی نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔
“بس کریں کیا بولی جا رہے ہیں ” وہ اپنا سر پکڑے صوفے پر بیٹھتے چلائی۔
“مجھے لگا تمہیں مجھ سے بے پناہ محبت ہے، مجھ شرم آ رہی ہے، میں نے تمہیں بیوی کا درجہ ہی کیوں دیا تم ایک آوارہ بدکردار لڑکی ہو جو اس فرید احمد جیسوں کے ساتھ ہی ر۔۔۔۔۔” وہ غصے سے بولی جا رہا تھا۔ جب اسکا موبائل بجا۔۔۔ نیہا سر ہاتھوں میں گِراۓ بیٹھی تھی۔۔
“کیا بکواس کر رہے ہو؟ کب لگی گولی؟ بلاج انکل کیسے ہیں؟” اسفندیار کا سارا کا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا جب اسکو فون آیا کہ بلاج کی گاڑی پر ایک گم نام آدمی نے فائرنگ کی ہے، اور اسے ایک گولی گی ہیں۔۔ ساحل کی کال تھی۔ وہ اسے سب بتا رہا تھا۔۔
” بازو پر لگی۔ یا اللہ خیر اچھا گھر آ گے۔ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ کتنی دیر ہوئی؟ میں میں آتا ہوں، شکر ہے وہ ٹھیک ہیں اچھا لاتا ہوں ” اسنے جلدی سے فون بند کیا اور گاڑی کی چابی پکڑی۔۔۔۔ اسنے ایک نظر نیہا پر ڈالی، جو اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جس پر ایک سمائیلی بنی ہوئی تھی، جو اسے آج صبح ہی ایک بچے نے بنائی تھی۔ کیونکہ اسکو ڈسچارج مل رہا تھا اور وہ بہت خوش تھا۔ نیہا نے اسکا خوب خیال رکھا تھا۔۔
“تمہارے باپ کو تمہارے عاشق نے گولی ماری یے، چلو آؤ دیکھ کر تو آؤ وہ کیسے ہیں، بازو پر گولی لگی ہے،اور ہاں اپنے اس عاشق سے پوچھنا گولی سینے پر کیوں نہیں ماری ویسے تمہیں تو اپنے باپ کی پرواہ ہے نہیں۔ چلو تمہارے گھر والوں کو بھی بتا کر آتا ہون تمہاری کرتوتیں ” وہ اسکو بازو سے پکڑتے کھڑا کرتے ہوۓ بولا۔۔ نیہا نے اپنا بازو چھڑوایا۔ اور بیڈ پر پڑا وہ آئی فون اُٹھایا۔۔ اور اپنی سائیڈ والی ڈرار سے اپنی گاڑی کی چابی نکالی۔ زخمی پاؤں میں جوتا پہنا بیگ پکڑتے بنا اسکی طرف دیکھے باہر کی طرف بڑھ گئی۔ اسفندیار نے غصے سے اسے دیکھا۔ اور باہر آیا۔راحیلہ نیہا کو رکنے کا کہ رہی تھی، پر وہ اسکی بات کو مکمل نظر انداز کرتے باہر ائی اپنی گاڑی کی طرف بڑھی۔ اسنے گاڑی روڈ پر ڈال دی۔ حد سے زیادہ تیز سپیڈ تھی۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔