Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

ازقلم فاطمہ طارق
” اسفی بھائی، آپ کہاں جا رہے ہیں؟” وہ سفید قمیض شلوار پہنے ہاتھ میں ایک فائل پکڑے اپنے کمرے سے نکلا، تبھی نور گلے میں ڈوپٹہ لیتے اسکے پاس آئی۔
“بلاج انکل کے گھر جا رہا ہوں، کیوں کوئی کام ہے؟” اسفندیار اسکی طرف مڑ کر بولا۔
“یہ تو اچھی بات ہے، اصل میں مجھے ایک ٹاپک کی سمجھ نہیں آ رہی تھی، تو نہیا آپی نے بولا آ جاؤ میں سمجھا دیتی ہوں، میں ڈیڈ کو بولنے ہی جا رہی تھی، اب آپ جا رہے ہو تو میں آپکے ساتھ چلتی ہوں، بس ایک منٹ میں آئی” وہ جلدی جلدی بولتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور بیگ کندھے پر ڈالے باہر آئی۔
“اسفی! آتے ہوۓ اپنے دادا کی میڈیسن کے آنا” کچن سے راحیلہ باہر آ کر بولی۔
“جی موم ” وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔ نور بھی اپنے کمرے سے بیگ لے کر آگئی، وہ اسے لیے باہر گاڑی میں آیا اور گاڑی روڈ پر ڈال دی۔ تبھی اسکے موبائل پر کال آنا شروع ہوئی۔ اسنے کال اُٹھائی۔
“جی ڈیڈ” کان سے فون لگاتے ہوۓ بولا۔
“جی، انہی کی طرف جا رہا ہوں، آپ کب پہنچے گے چلیں ٹھیک یے میں آتا ہوں وہی بات ہو گی، اوکے باۓ” وہ بول کر کال بند کر گیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ انکے گھر پہنچا گاڑی کھڑی کرتے وہ دونوں اندر کی طرف بڑھے۔ تبھی بلاج کی گاڑی رکی اس میں سے بلاج اور ہارون نکل کر انکی طرف بڑھے۔
“مجھ سے بات مت کرو، اتنی محنت سے بنا اسائمنٹ کا کباڑا کر دیا اب میں کیا کروں گی” وہ گھٹنوں پر سر جھکاۓ، صوفے پر بیٹھی روتے ہوۓ بول رہی تھی۔
“ایم سوری آپی غلطی سے ہو گیا، میں تو بس گیم کھیل رہا تھا، پتہ نہیں کیسے اپ کا لکھا ہوا مٹ گیا” صائم خود رونے والا ہو گیا تھا۔ نیہا پچھلے چار گھنٹوں سے حال میں رکھے ٹیبل پر لیپ ٹاپ رکھے اسائمنٹ بنا رہی تھی، جو کہ اسے کل جمع کروانی تھی، بھوک لگنے کی وجہ سے وہ کچن میں اپنے لیے کچھ بنانے گی، میرال مشی کے ساتھ مارکیٹ گئی تھی۔ اسی لیے وہ خود کچھ بنانے چلی گئی، تبھی صائم آ کر لیپ ٹاپ پر گیم کھیلنے لگا، وہ کھانے کی ٹرے لے کر باہر آئی تو صائم کو بیٹھے دیکھ بھاگ کر اسکے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لیا اور جلدی سے اپنی اسائیمنٹ دیکھی جو مکمل غائب تھی، اسکے تو چہرے کے رنگ ہی اڑ گے، اسنے بری کوشش کی کہ لکھا ہوا واپس آ جاۓ مگر ناکام رہی اور تب سے وہ صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی۔
“نیہو میری گڑیا کیا ہوا رو کیوں رہی ہو؟” بلاج اسے یوں روتا دیکھ فوراً ان دونوں کے پاس آیا۔
“بابا اس نے میری ساری محنت پر پانی پھیر دیا” وہ روتے ہوۓ بلاج کے گلے لگتے ہوۓ بولی۔ صائم ڈرتے ہوۓ دو قدم پیچھے ہوا۔ اسفندیار نے نہیا کو ایک نظر دیکھا۔ وہ پنک رنگ کا سوٹ، موٹا کوٹ، گلے میں مفلر، پاؤں میں جرابیں، اور سر پر ٹوپی پہنے ہوئی، تھے، بال کھولے کندھے پر بکھرے تھے، رونے کی وجہ سے لال ہوتی ناک کو بار بار رگڑ رہی تھی، اور بلاج کو سب بتا رہی تھی، اسنے ابھی تک باقی سب کو نہیں دیکھا تھا۔
“بیٹا پریشان ہونے والی کیا بات ہے، دوبارہ بنا لو” ہارون مسکراتے ہوۓ بولا۔ اسکی آواز پر وہ چونکی اسنے چہرا موڑ کر انکی طرف دیکھا تو سیدھی نظر اسفندیار پر پڑی، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسکے دیکھتے ہی نظریں پھیر لیں، نہیا کو جی بھر کر خود پر غصہ آیا، وہ کب سے ان سب کے سامنے روۓ جا رہی تھی۔۔
“رونے سے مسلہ تھوڑی حل ہو گا چلو میں مدد کر دیتا ہوں دوبارہ بنا لو” بلاج نے اسکے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا۔ ہارون کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“سالے تجھ سے کبھی اپنی تو اسائمنٹ ہوتی نہیں تھی، بچاری میرال سے کام کرواتا تھا، اور نہیا کی کیا مدد کرے گا وہ ڈاکٹر کی پڑھائی کر رہی ہے” ہارون نے ہنستے ہوۓ بلاج کو چھیرا۔
“سچ میں بابا ” نیہا کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی، وہ اپنے بابا کو انٹیلیجنٹ مانتی تھی،
“ایسے ہی بکواس کر رہا ہے، تم دوبارہ مت رونا، دوبارہ بنا لو اب اور کوئی راستہ بھی تو نہیں، اور تم اپنی آپی کی چیزوں سے دور رہا کرو” بلاج نے اب صائم کو ڈانٹا۔ وہ پہلے ہی سہما ہوا تھا۔ بلاج کے ڈانٹنے پر وہ مڑ کر صوفے پر سر جھکا کر بیٹھ گیا۔
“انکل میں ایک دفع چیک کرتا ہوں ہو سکتا ہے، لکھا ہوا واپس آجاۓ” اسفندیار اگے بڑھتے ہوۓ بولا۔ نہیا نے ایک نظر اسے دیکھا۔ وہ سفید قمیض شلوار ہلکی سی شیو میں بال سیٹ کیے اسکے دل کی تار چھیر گیا اسنے جلدی سے اپنی نظریں پھیر لیں۔
“ارے واہ چلو تم دیکھو ، ہارون چلو سٹدی روم میں چلتے ہیں، اسفی تم کام پورا کر کے وہی آ جانا” بلاج بول کر ہارون کو لیے سٹدی روم کی طرف بڑھ گیا۔ اسفی صوفے پر بیٹھا۔ نور صائم کے پاس بیٹھی اسکا موڈ ٹھیک کرنے لگی۔
“لیپ ٹاپ دو” اسفی نے اپنے قریب کھڑی نہیا کو دیکھے بنا کہا۔ نہیا نے جلدی سے لیپ ٹاپ اسکی طرف کیا، وہاں سب ویسے ہی اوپن پڑا ہوا تھا۔۔ وہ جب لیپ ٹاپ اسکی طرف بڑھا رہی تھی، اسفندیار کی نظر اسکے ہاتھ کی انگلی پر پہنی ڈائمنڈ پر پڑی، ایک پھانس اسکے سینے میں اٹکی، اپنے ہی ہاتھ سے تو اسنے یہ رنگ پہنائی تھی۔ اسفندیار نے نظریں پھیریں، اور جلدی سے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانے لگا، نہیا وہی ٹیبل کے قریب زمین پر بیٹھ گئی، اور دعائین کرنے لگی کہ اسکا لکھا ہوا واپس آجاۓ،۔
“لو ہو گیا، ہر بات پر رونا ضروری نہیں ہوتا” لیپ ٹاپ اسکی طرف موڑتے ہوۓ بولا۔نہیا کو ابھی ٹھیک طریقے سے خوشی بھی نہیں ہوئی تھی، کہ اسکے جملے پر وہ ہرٹ ہوئی، اب دکھ ہو گا تو رونا تو نکلے گا ہی نا۔۔۔۔۔۔
“آپکا شکریہ” وہ ہولے سے بولی۔ اسفندیار کھڑا ہوتا سٹڈی روم میں پہنچا۔ نہیا نے گہری سانس لی، اور بے یقنی سے اپنے سامنے چار گھنٹے کی محنت کو دیکھا، اسکا کام مکمل ہی تھا اسنے جلدی سے سیو کیا اور کیچن کی طرف بڑھی، ان سب کے لیے چاۓ بنائی اور کباب فرائی کیے ساتھ فروٹ کیک اور نمکو وغیرہ سیٹ کیے ٹرے لے کر وہ سٹڈی روم میں آئی۔
“یہ تم کیا کہ رہے ہو بلاج ؟ کیا یہ سب کرنا ضروری یے؟” وہ ابھی دروازے کے قریب ہی پہنچی تھی کہ اندر سے ہارون کی پریشانی سے بھری آواز آئی۔ نہیا کو لگا کوئی بزنس کی بات ہو گی اسنے نوک کیا اور ٹرے لیے اندر آئی۔ ٹرے ٹیبل پر رکھتی سب کے سیریس چہروں کو دیکھتی وہ باہر آ گئی۔
“یہ ضروری ہے، اب معاملا میرے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے، اسفی تم اچھے سے جانتے ہو وہ کتنا خطرناک ہے، اسکی غلیظ نظریں میری بیٹی پر ہیں، یہ دیکھو میسج بھیجیں ہیں” بلاج نے اپنا موبائل ان دونوں کی طرف بڑھایا
“میرے ہونے والے سسر جی بیٹی کافی خوبصورت ہے آپکی”
“جلدی نکاح کر لوں گا، تم دیکھتے رہ جاؤ گے” اسطرح کے بے شمار میسجز تھے جس میں نہیا کی کالج سے نکلتی ہوئی تصویر گھر آتے ہوۓ کی تصویر اور بھی کافی چیزیں تھیں۔ جو بلاج کو پچھلے دو ہفتوں سے معصول ہو رہیں تھیں جنکی وجہ سے وہ کافی پریشان تھا۔
“معاملا سچ میں خراب یے ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے، تم جب بولو گے نکاح کروا دیں گے” ہارون سیدھا ہوتے ہوۓ بولا۔ اسفندیار نے ایک نظر ہارون کو دیکھا۔ بلاج نے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ لیے تھے۔
“اسفندیار بیٹا تمہیں کوئی مسلہ تو نہیں میں کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا، تم اگر انکار کر دو گے تو میں فورس نہیں کروں گا” بلاج کو لگا وہ راضعی نہیں یے۔ اسفندیار اسکی بات پر چونکا۔
“انکل ایسا نہیں ہے، وہ میری منگیتر یے شادی تو ایک دن کرنی ہی تھی، آپ جیسا مناسب سمجھیں کر لیں میں راضعی ہوں” وہ گہرا سانس لے کر بولا۔
“شکریہ میرے بچے شکریہ” بلاج اُٹھ اور اسفندیار کے گلے سے لگ گیا۔ اسکی انکھوں میں آنسوں تھے، اسفندیار نے اسکی بیٹھ تھپتھائی۔ وہ خود پر قابو پاتے ہوۓ اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔
“تو یہ جمعہ ٹھیک رہے گا، میں گھر میں آج بات کر لوں گا تم بھی جا کر راحیلہ بھابھی سے بات کر لو” بلاج اب ہارون جے ساتھ معاملات ڈسکس کرنے لگا۔ دوسری طرف صوفے پر بیٹھا اسفندیار گہری سوچ میں مگن تھا۔


“اتنی جلدی بلاج کیا ہو گیا ہے” میرال تو اسکی بات پر چیخ ہی پڑی۔ رات کو کھانا کھانے کے بعد جب سب لاونچ میں بیٹھے چاۓ پی رہے تھے، تب بلاج نے بات شروع کی۔
“بابا ابھی نہیو کی پڑھائی مکمل نہیں ہوئی اور آپ شادی کرنا چاہتے ہیں وہ بھی دو دن بعد اتنی بھی کیا جلدی ہے” حسام بھی اسکی بے تکی بات پر حیران ہوا۔
” نہیا کی پڑھائی کے بعد شادی ہونی ہی تھی تو ابھی کیوں نہیں، ویسے بھی یہ میرا فیصلہ ہے، نہیا بیٹے آپکو کوئی اعتراض ہے؟” بلاج نے ان دونوں کی بات کو اگنور کرتے ہوۓ ڈائیریکٹ نہیا سے پوچھا وہ تو یہ سب سن کر شاک مین تھی، کیسے یقین کر لیتی کہ اسکی پچپن کی محبت اسفندیار سے اسطرح شادی ہو گئی، اتنی افراتفری میں۔ پہلے ہی اسکے دل میں ہزار وسوسے تھے کہ اسفندیار اس منگنی پر راضعی نہیں اسنے ایک بار بھی باقی کپلز کی طرح اس سے بات نہیں ہی تھی جب کبھی انکا سامنا ہوتا وہ زیادہ تر اسے اگنور کر کے چلا جاتا نہیں تو کوئی نا کوئی سخت جملہ بول جاتا۔
“نہیں بابا آپ جیسا بھی کرنا چاہیں” وہ سر جھکا کر بولی۔ بلاج نے گہری سانس لی۔
“سسے اعتراض نہیں پر مجھے ہے میری بچی کو مجھ ہر بوجھ یے جو اسے یوں اتار کر پھینک دوں، دو دن میں شادی بالکل نہیں” میرال کا تو مانو غصے سے برا حال تھا۔
“منگنی ہو چکی ہے آج نہین تو کل نہیا کی شادی اسفندیار سے ہونی ہی تھی، دو دن بعد سادگی سے نکاح اور رخصتی ہو گی اور یہ میرا فیصلہ یے، نہیا اب تم یونی نہیں جاؤ گی، شادی کے بعد اسفندیار کے ساتھ ہی جانا، اور دوسری بات اکیلے گھر سے باہر مت نکلنا” وہ نہیا کے پاس آتے ہوۓ بولا۔
“جی بابا” نہیا نے ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“بابا لو یو میرا بچہ، بابا کا فیصلہ آپکے حق میں بہتر ہو گا، تو پریشان نہیں ہونا،جو چاہیے وہ لے لینا” بلاج اسے سینے سے لگاتے محبت بھرے لہجے میں بولا۔ نہیا کو ناجانے کیا ہوا اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آۓ، اسنے ہاں میں سر ہلایا۔ بلاج نے خود کو بہت مشکل سے کنڑول کیا اور غصے سے کمرے میں جاتی میرال کے پیچھے چلا گیا۔
“واؤ آپی کی شادی ہو گی میں تو بہت ناچوں گا” صائم بھنگڑا ڈالتے ہوۓ بولا۔ حسام بلاج کے اس اچانک فیصلہ پر کافی پریشان ہو گیا۔ نہیا کا اترا چہرا دیکھے وہ اسکے پاس آیا۔
“گڑیا، پتہ ہے کل تمہاری گاڑی ا جاۓ گی” وہ اسکا دماغ بھٹکانے کے لیے بولا۔
“مجھے نہیں چاہیے گاڑی، بھیو میں کیسے آپ سب کے بنا رہوں گی” وہ روتے ہوۓ حسام کے سینے سے لگ گئی۔
“جیسے ہمارا سر کھاتی ہو جا کر اپنے میاں کا سر کھانا” حسام نے اسے چھیڑا۔
“میں کب سر کھاتی ہوں” وہ حیرانگی سے اپنے بھائی کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
“آپی ہمارے پاس صرف دو دن ہیں، رات کو چھپ کر نوڈلز کھانے کے لیے، اسکے بعد مجھے رات کو کون نوڈلز بنا کر دے گا” صائم اپنا دکھ یاد کرنےل لگا۔
“صائم تمہیں یہ دکھ نہیں میں چلی جاؤں گی بس یہ دکھ یے تمہیں نودلز کون بنا کے دے گا پیٹو کہی کے” نہیا نے صدمے سے بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“دکھ مجھے تو ابھی سے رونا آ رہا ہے، آپ کی شادی اتی جلدی” وہ روتے ہوۓ بولا۔ حسام اور نہیا نے حیرانگی سے اسے دیکھ ایک سکینڈ میں وہ رویا تھا۔
“ہی ہی ہی مزاق کر رہا ہوں” اس سے پہلے کے نہیا صائم کے پاس جاتی وہ دانت نکالتے ہوۓ بولا۔
“بدتمیز ” نہیا نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔ اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ بلاج نے اسے یونی جانے سے روک دیا تھا تو وہ اپنا اسائیمنٹ پروفیسر کو سینڈ کرنے لگی۔ ابھی تک اسے یقین نہیں آ رہا تھا یون اچانک سے اسکی زندگی بدل گئی۔ دو دن بعد شادی وہ بھی اسفندیار سے جسے اسنے اپنے دل مین اونچے مقام پر رکھا تھا، جیسے سوچتے اسکے دن رات کٹتے تھے۔ پر ایک ڈر بھی تھا کہ اسکا ردعمل کیسا ہو گا۔۔۔۔۔۔


“میری بات سمجھنے کی کوشش کرو، یہی مناسب ہے، اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے” بلاج صوفے پر بیٹھا میرال کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“پر تم نے تو بولا تھا سارا معاملا کنٹرول میں ہے، اب آچانک سے یہ سب کیوں ہو گیا” میرال اسکی ساری بات سنتے ہوۓ بولی۔
“میرال نہیا میری بیٹی ہے، تم ایسے لوگوں کو جانتی نہیں وہ اپنی بے عزتی کا بدلا لینے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، میں نے بس ایک دفع انکے معاملات میں ٹانگ اڑائی تھی، سالوں بعد وہ اپنا حساب پورا کرنے آیا ہے، اور میری کمزور کڑی صرف میری فیملی یے، وہ نہیا کو نقصان پہنچا سکتا یے، پھر ہم کیا کریں گے، سارے میسجز تو تمہیں دیکھا دیے ہیں” بلاج اسکے قریب بیٹھا اور سمجھانے لگا۔
“اس نے سب تو چھین لیا تھا اب کیا چاہیے” میرال بولی تو بلاج کو سب اپنی آنکھوں کے سامنے آتا ہوا محسوس ہوا۔ اسنے ضبط سے آنکھیں میچ لیں۔
“سالوں پہلے بھائی کو نہیں بچا سکا، اب اپنی اولاد کو بچانا چاہتا ہوں” بلاج کے منہ سے نکلے الفاظ اور اسکے لہجے میں چھپے درد کو میرال نے اچھے سے محسوس کیا۔
“پر بلاج اسفندیار راضعی ہے؟ پتہ نہیں کیوں اسکے چہرے سے ہمیشہ لگتا ہے وہ اس رشتے پر راضعی نہیں” میرال نے دل میں چھپی بات زبان پر لائی۔
“تم جانتی ہو، میں نے اسفی کو کیوں چنا، وہ راضعی یے، فکر مت کرو، دو دن ہیں ساری تیاریاں کر لو فنگشن گارڈن میں ہو گا اور بس رشتے دار ہوں گے اور کوئی نہیں آۓ گا” بلاج اُٹھا اور الماری سے اپنے کپڑے نکال کر واشروم چلا گیا۔ میرال نے گہرا سانس لیا۔۔


“ارے واہ بھائی واہ، بنو بنے گی دلہن ” علیزے اس وقت نہیا کے کمرے میں موجود تھی ، انکو صبح ہی میرال نے کال کر کے بتا دیا تھا۔ اس لیے دوپہر میں سب انکے گھر آ گے۔ بلاج نے سب کو جلدی شادی کرنے کی اصل وجہ نہیں بتائی۔
“بکواس بند کرو” نہیا نے شرماتے ہوۓ کہا۔
“ارے واہ جی واہ خود تو شرمایا جا رہا ہے اور مجھے چپ رہنے کا بول رہی ہو، ویسے یار کہو تو ایک فوٹو اسفی بھائی کو نا بھیج دو کہ لیں بھائی اپنی ہونے والی دلہن کو شرماتے ہوۓ دیکھ لیں” علیزے اسے چھیرتے ہوۓ بولی۔ نہیا نے کشن پکڑا اور اسے مارا۔
“بکواس نا کر پہلے ہی مجھے اتنی گھبڑاہٹ ہو رہی ہے، اتنی جلدی شادی کا تو میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا، اور یار میرا آخری سال ہے، پیپرز بھی کچھ مہینے ہی دور ہیں میں سب کیسے مینج کروں گی” نہیا اپنی انگلیاں مڑورتے ہوۓ بولی۔
“سب ہو جاے گا ہمارے پیارے جیجا جی تمہارا اچھے سے خیال رکھیں گے، تمہارا سسرال، میاں، اور پڑھائی سب مینج ہو جاۓ گے، تم بس سوچو دل مین چھپائی اتنے سالوں کی محبت کا اظہار کیسے کرنا ہے” علیزے اسے چھیر رہی تھی۔ نہیا کے گال لال ہو گے۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی، علیزے کے موبائل پر مزمل کے میسجز آنا شروع ہوۓ۔
“روکو میرے ہونے والے میاں کے میسجز ہیں” علیزے نے دانت نکال کر کہا اور مزمل کے میسجز کا جواب دینے لگی۔ نہیا نے کچھ بھی کہنا مناسب نا سمجھا وہ پہلے کونسا اسکی بات مان رہی تھی۔ وہ ہزار دفع اسے روک چکی تھی۔ پر وہ یر بات اگنور ہی کرتی جا رہی تھی۔ علیزے نے میسج پڑھ کر اپنی ایک تصویر کھینچی اور مزمل کو بھیج دی۔۔۔نہیا کچھ کہتی اس سے پہلے باہر سے ڈھولکی کی آواز آنا شروع ہوئی۔ تبھی دروازہ کھولے، ہاشم گلے میں ڈھولک ڈالے، اسے بجاتا ہوا اندر داخل ہوا اسکے پیچھے راحم بھنگڑا ڈال رہا تھا، اسکے پیچھے روشانے بھاگ کر اندر آئی اور نہیا کے گلے لگ کر مبارک باد دی۔
“اوۓ ہوۓ بلے بلے” ہاشم ڈھولک بجا رہا تھا اور راحم بھنگڑا ڈال رہا تھا۔
“بس کرو کیوں کان پھاڑ رہے ہو ڈھولک بجانے کی بجاۓ پیٹ رہے ہو” علیزے نے ہاشم کے گلے سے ڈھولک اتارتے ہوۓ کہا۔
“ارے ہماری دوست کی شادی یے ناچیں گے شوگر میلا تو لگے گا، مین تو بھائی یہی ڈیرا ڈالنے والا ہوں، آج رات کو ڈھولکی ہے اور کل مہندی یے انکل نے اجازت دے دی یے،” ہاشم بھنگڑا ڈالتے ہوۓ بولا۔
“لیکن میرے کپڑے ” روشانے سن کر پریشان ہو گئی وہ تو عائشہ کے منہ سے نہیا کی شادی کا سنتے ہی راحیل عائشہ اور بری بہن سحر کے ساتھ دوڑی چلی آئی۔ سحر باہر مہوش کے پاس بیٹھی تھی۔
“مل جائین گے تمہیں کپڑے انہیں پہن کر کونسا تم نے ہیر لگنے لگ جانا یے موٹو” راحم اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔ وہ زیادہ موٹی تو نا تھی بس تھوری سی ہیلدی تھی۔ راحم کے ایسے سب کے سامنے موٹا کہنا اسے بالکل پسند نا آیا۔ وہ پیچھے ہو کر بیٹھ گئی۔ سب آج کی پلانگ کرنے لگے۔۔
جاری ہے۔۔