No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
دس کنال پر بنا یہ ولا کسی محل سے کم نا تھا، برے سے گیٹ کو کھول کر اندر جائیں تو بری سا پارگنگ ایریہ تھا۔ اور پھر ایک بری سی راہداری تھی۔ جسکی ایک طرف کھلا گارڈن تھا جس میں پھولوں کی قطاریں تھیں، ایک ایک طرف سومنگ پول تھا۔ راہداری سے اگے جائین تو ایک لمبا سا لکڑی کا دروازہ تھا جس پر گولڈن کام ہوا تھا اسکو کھول کر اندر جائیں تو لاونچ کا ایرایہ تھا جہاں ماربل کا چمکتا فرش بچھا ہوا تھا، سامنے دو طرفہ سیڑھیان جاتیں تھیں اور اوپری حصے کو ملتیں تھیں جہاں کمرے قطار در قطار بنے ہوۓ تھے، وہی ایک کمرے کا دروازہ کھولیں، تو سامنے بلیک تھری پیس سوٹ پہنے، بالوں کو جیل کے ساتھ سیٹ کیے سینتیس سالہ نوجوان ہاتھ میں گھڑی باندھتا کمرے سے باہر نکلا۔
“صاحب، یہ دیکھیں” تبھی اسکا ملازم رانا اسکے پاس آکر ایک موبائل پر ویڈیو دیکھانے لگا۔ ویڈیو دیکھتے اسکے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ بکھری۔
“تو میرے نا ہونے والے سسر نے یہ حربہ اپنایا” وہ طنزیہ انداز میں ہنستا ہوا بولا۔
“تو اب کیا کرنا خان جی” ملازم ویڈیو بند کرتا اب اسکے جواب کا منتظر تھا۔
“کرنا کیا ہے، بس اپنے نا ہونے والے سسر کو ایک جھٹکا دینا ہے، اسکی خوبصورت بیٹی کو چھوٹا سا، نکاح کا تحفہ دینا ہے” وہ بولتے ہوۓ آخر مین جاندار قہقہ لگا گیا۔ رانا اسکی بات سمجھتا خود بھی مسکرایا وہ جانتا تھا اسکا صاحب اب کیا کرنے والا ہے،
“جاؤ کام پورا کر کے آؤ” وہ بولتا پلٹ کر اپنے بھائی کے کمرے کی طرف گیا۔ جو اسکے کمرے سے دو کمرے چھوڑ کر تھا۔ رانا موبائل پر اپنے آدمیوں کو ہدایت دینے لگا۔
فرید احمد خان جانا مانا بزنس مین تھا، خان انڈسٹریز کا وہ مالک تھا، اسکے علاوہ اسکا دی سٹی ہسپتال ملک کا سب سے برا ہسپتال تھا، جہاں کام کرنا ہر ڈاکٹر کا ایک خواب تھا، اپنے کام کو وہ کسی بھی حالت میں پورا کرنا جانتا تھا، چاہے وہ طریقہ صحیح ہو یا غلط، وہ ایک شانت اور شاطر آدمی تھا جو اپنے کام میں ماہر تھا، ہر بزنس مین اسکے ساتھ کانٹریکٹ کرنے کا خواب دیکھتا تھا۔ اسکے ساتھ ایک کانٹریکٹ سامنے والی کی کمپنی کو بلندیوں تک پہنچا دیتا تھا۔
دو دن گزر گے، ہر بھری میں شادی کی ساری تیاریاں کی گئیں۔ میرال مشی کے ساتھ مارکیٹ کے چکر ہی کاٹتی رہ گئی، آج نکاح کا دن تھا۔ سارا بندوبست باہر گارڈن میں ہی کیا گیا۔ پورے گھر کے اطراف اسفندیار نے پولیس والے کھڑے کیے ہوۓ تھے، سیکیورٹی کافی سخت تھی۔ سفید پھولوں سے اسٹیج کی بیک کا سجایا گیا۔ اور اسکے اگے ایک صوفہ رکھا گیا۔اسٹیج کے سامنے لمبے گول گول میز رکھے گے جسکے اطراف مہمانوں نے کھڑے ہونا تھا۔ شام کا وقت ہو رہا تھا۔ مہمان آنے شروع ہوۓ، بلاج نے زیادہ لوگوں کو نہیں بلوایا تھا، میرال گرے قمیض شلوار، ہلکا سا میک اپ، بالوں کو جوڑے کی شکل میں بناۓ، کندھے پر ڈوپٹہ ڈالے میڈ کے ساتھ ڈائینگ ٹیبل پر پھولوں کی پلٹیس سجا رہی تھی جو لڑکے والے کے آنے پر انکا استقبال کرنے کے لیے رکھیں تھیں۔
“ماشااللہ آج تو میری بیگم اتنی پیاری لگ رہی ہے کہ مجھے نئی نویلی دلہن کی یاد آ رہی ہے” اسے اپنے پیچھے بلاج کی آواز سنائی دی۔ میرال کا دل آج بھی اسکے یوں تعریف کرنے پر دھڑک جاتا تھا۔ میرال نے میڈ کو جانے کا بولا۔ اور بلاج کی طرف پلٹی۔
“تو میرا ہسبینڈ کون سا کم ہے، آج بھی جوان لڑکوں کو مات دے دے، اتنا ہینڈسم۔۔۔۔۔” میرال مسکراہٹ دباتے کر اسکی ویسکوٹ کے بٹنز کو بند کرتے ہوۓ بولی۔ وہ سفید قمیض شلوار پر میرون ویسکوٹ پہنے ہوۓ تھے اور بال ہمیشہ کی طرح بالکل سیٹ تھے جنہیں وہ کئی بار ہاتھ سے دوبارہ سیٹ کرتا۔ بلاج کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ اسنے اپنے ہاتھ اگے کیے اور ہاتھوں میں پکڑے گجرے ایک ایک کر کے اسکی سفید کلائیوں پر پہنانے لگا۔
“اہمم اہمم بابا جان آج آپکی بیٹی کی شادی ہے، تو ذرا اپنی بیگم سے نظریں ہٹا کر باہر آئیں مہمان آ چکے ہیں اور سب آپکا ہی انتظار کر رہے ہیں” ساحل انکے قریب پہنچ کر کھنگالتے ہوۓ بولا۔ میرال جھٹ سے دو قدم پیچھے ہوئی۔
“ہاں چلو” بلاج جلدی سے بولتا باہر کی طرف چلا گیا۔ میرال نہیا کے کمرے کی طرف آئی۔ وہ وہاں بالکل تیار روشانے اور علیزے کے ساتھ بیٹھی تھی بیوٹیشن نے اپنا کام مکمل کر دیا تھا۔ وہ ریڈ لہنگا، جس پر بے حد نفیس کام ہوا تھا، اسکا دوپٹہ سر پر سیٹ کیا ہوا تھا، اور میک نے اسکے چہرے کو چار چاند لگا دیے تھے، وہ خوبصورت تو پہلے سے ہی تھی، پر آج وہ انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔ گلے میں سونے کا سیٹ کانوں میں جھمکے، ماتھے پر جومر اور بندی، ہاتھوں پر لال کانچ کی چوڑیاں، بھری ہوئی مہندی لگے ہاتھوں میں جچ رہی تھیں، وہ بار بار ہاتھ مڑورتی نروس ہو رہی تھی۔ علیزے اور روشانے اسے اسفندیار کے نام پر چھیر رہیں تھیں۔ اور وہ سر جھکاۓ شرماۓ جا رہی تھی۔ میرال نے کئی پل اپنی بیٹی کو دیکھا، جو اسکے ہاتھوں میں پلتے اتنی بری ہو گئی کہ آج وہ دلہن کے روپ میں بیٹھی تھی۔ اسنے بے اختیار اپنی آنکھوں میں آۓ آنسوں کو صاف کیا اور اسکے پاس آئی۔
“ماشااللہ میری بچی بے انتہا پیاری لگ رہی ہے، کسی کی نظر نا لگے،اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے” میرال نے اسکے ماتھے کو چومتے ہوۓ ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ نہیا کی آنکھوں میں آنسوں آ گے۔
“رونا نہیں رونا نہیں سارا میک اپ خراب ہو جاۓ گا، پھر اسفی بھائی ہمیں بولیں گے یہ کیا بھوتنی دے دی مجھے” علیزے اسے رونے سے روکنے کے لیے بولی۔ نہیا نے اسے روتی آنکھوں سے گھورا۔ میرال نے اسے کچھ کھانے کو لا کر دیا جو اسنے انکار کر دیا اور بس جوس پیا۔
وہ سفید شیروانی پہنے، سر پر کلہ سجاۓ، پاؤں مین خوسہ پہنے ہوۓ تھا وہ قدم قدم چلتا اسٹیج کی طرف آیا، اسکے ساتھ ہارون راحیلہ اور نور تھیں، انکا پھولوں کے بوچھار سے استقبال کیا گیا۔ اور پھر اسے اسٹیج پر بیٹھنے کو بولا۔ وہ چلتا ہوا اسٹیج پر آیا۔ اسے اپنا ہر ایک ایک قدم بھاری محسوس ہو رہا تھا۔ من میں ہزاروں وسوسے تھے جو اسکی جان ہی نہیں چھوڑ رہے تھے، وہ اسٹیج پر پڑے صوفے پر بیٹھا۔ اسکا اکلوتا دوست شہیر اسکے پاس بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ پر وہ بس ہوں ہاں میں جواب دے رہا تھا۔ اسکی بے دھیانی شہیر نے نوٹ کی۔ پر کچھ بولا نہیں۔ سارے مہمان پہنچ چکے تھے۔ تبھی بلاج اور ساحل مولوی کو لے کر نہیا کے کمرے میں پہنچے۔ سامنے اپنی بیٹی کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر وہ بھی ایموشنل ہو گیا۔ نہیا صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی، بلاج اسکی ایک طرف اور ساحل دوسری طرف بیٹھ گیا۔ میرال بیڈ پر صائم۔ کے ساتھ بیٹھی تھی، مولوی نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔ جو قبولیت کے لمحے آۓ، نہیا کی دل کی ڈھڑکن انتہا تک پہنچ گئی، اسنے کانپی آواز کے ساتھ قبول ہے کہا۔ اور کانپتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر سائن کیا۔
“بابا” سائن کرتے ہی وہ روتے ہوۓ بلاج کے سینے سے لگ گئی، بلاج نے اسکے سر کو چوما۔
“ہمیشہ خوش رہو” اسکا سر تھپتھاتے وہ نم لہجے میں بولا۔ اور کھڑا ہو کر مولوی کو لیے باہر چلا گیا۔۔
“گڑیا رونے والی کیا بات یے چلو چپ کرو” ساحل اسے روتے دیکھ بولا۔ اور اسے اپنے ساتھ لگایا۔
“آپی، ہمم ہمم ” تبھی صائم کی رونے کی آواز آئی، ساحل اور نہیا بے اسکی طرف دیکھا، اور اسے صوفے پر بلایا۔ وہ جھٹ سے آکر بیٹھا۔ نہیا نے اسے بھی سینے سے لگایا۔ میرال اپنے تینوں بچوں کو یون روتا دیکھا اپنے آنسو ہوچھتے ہوۓ اُٹھی اور کمرے سے چلی گئی۔ ساحل اب نہیا سے باتیں کرتا اسکا موڈ ٹھیک کرنے لگا تا کہ وہ دوبارہ نا روۓ۔
باہر اب مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔ جیسے ہی انہوں نے قبولیت کے الفاظ بولے۔ اسفندیار کو لگا، اسکے آس پاس گہرا اندھیرا ہو، اور وہ لمہ با لمہ اس اندھیرے میں قید ہو رہا ہو، اسے اپنے آس پاس آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی۔
“کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے؟” ایک دفع پھر پوچھا تو وہ چونکا، اسنے سامنے دیکھا تو بلاج اسے دیکھ رہا تھا، اسفندیار کو وہ شخص اس دنیا میں سب سے عزیز تھا، وہ اسے اونچے مقام ہر رکھتا تھا، اسنے بلاج کی آنکھوں میں اعتماد اور مان کو دیکھا تو ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ زہر کا یہ قطر پیا اسکے لیے یہ نکاح ایک زہر کا پیلا ہی تھا جسے وہ نا چاہتے یوۓ بھی ہی گیا تھا۔ نکاح ختم ہوا تو سب آپس مین مبارک باد دینے لگے اور گلے ملے۔ بلاج اسفندیار کے قریب آیا اور اسے سینے سے لگا۔
“شکریہ اسفی شکریہ” وہ تشکر بھرے لہجے میں بولی۔ اسفندیار نے گہرا سانس لیا اور ہاں میں سر ہلایا۔ اور پیچھے ہٹا۔ اور باقیوں سے ملنے لگا۔
“ماشااللہ میرا بچہ اللہ تمہیں ساری خوشیاں دے” راحیلہ بیگم اسکے پاس آئیں اور اسکا ماتھا چومتے ہوۓ بولیں۔ اسفندیار بس گہرا سانس کے کر رہ گیا۔ اسکا دھیان بس ایک لفظ ہر اٹک کر رہ گیا خوشیاں،،
کچھ دیر بعد نہیا کو صائم اور باسل لے کر اسٹیج کی طرف بڑھے۔ اسفندیار اسکے استقبال میں کھڑا ہوا، نہیا نے اپنا کانپتا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا، اسفندیار اسکا سرد ہاتھ اسنے پکڑتے اسے اسٹیج پر لایا۔ اسکے بعد فوٹر شیشن ہوا وہ دونوں صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔۔ اسفندیار کا فون رنگ ہوا۔ اسنے کان سے فون لگایا۔
“ہیلو”بنا نمبر دیکھے فون کان سے لگاتے ہی وہ بولا۔
“نکاح مبارک یو صاحب زادے” آگے سے سننے والے الفاظوں نے اسفندیار کوچونکا دیا وہ دو میں ہی سمجھ گیا سامنے کون ہے۔ اسکے ماتھے پر بل پڑے۔
ابھی وہ کوئی جواب دیتا۔ اس سے پہلےاسکی نظر سامنے دوسری بلڈنگ پر پڑی، کچھ پل ہی لگے تھے اسے سمجھے میں ،اگلے ہی پل اسنے موبائل پھینکا اور اپنی جیب سے پسٹل نکالیتے ہی نیہا کے بالکل سامنے آ گیا اس سے پہلے کہ وہ گولی چلاتا فضا میں گولی چلی، اور وہ سیدھی اسفندیار کے بازو میں لگی۔
“اسفی، اسفندیار” اسکے نام کی پکار فضا مین گھونجی۔ اسفندیار نے کچھ لمحے اپنے اوپر قابو رکھا اور ہاتھ مین پکڑے پسٹل سی گولی چلائی، وہ سیدھی سامنے والے بندے کو جا کر لگی،۔
“جاؤ پکڑو اسے” گولی چلنے سے پولیس والے اندر آۓ تھے اسنے سبھی کو چلا کر کہا۔ وہ بھاگ گے۔ اور وہ اہنے زخم پر ہاتھ رکھتا بیٹھتا چلا گیا۔ درد اسکے چہرے سے واضع تھا۔ نہیا کو لگا وہ سانس نہیں کے پاۓ گی، یوں اچانک کیا ہوا گیا۔
“اسفندیار! شہیر جلدی سے گاڑی نکالو” ہارون اسکے پاس بیٹھتے چلایا تھا۔
“ڈیڈ میں ٹھیک ہوں” وہ ہمت کرتے ہوۓ بولا۔ اسکی ساری سفید شیروانی بھیگ چکی تھی۔
“چپ گولی لگی یے اور کہتے ہو ٹھیک ہو” راحیلہ روتے ہوے بولی۔
“موم ایم فائن” وہ اپنے بہتے خون پر ہاتھ کا دباؤ بڑھاتے ہوۓ بولا۔ تبھی شہیر نے اسے کندھے سے پکڑ کر اُٹھایا اور سہارا دیتے ہوۓ گاڑی میں بلاج ہارون اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھے شہیر نے گاڑی چلا دی۔۔
“ماما وہ یہ کیا” نہیا سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔
“چلو اندر چلتے ہیں، وہ ٹھیک ہو جاے گا ” میرال نے اسے اُٹھاتے ہوۓ کہا۔ اور باقی سب کو بھی اشارہ کیا۔ وہ اپنے بھاری قدموں کے ساتھ اندر کی طرف بڑھی، میرال اسے کمرے میں لے آئی وہ بیڈ پر بیٹھ کر سر گھٹنوں میں گرا کر رونے لگ گئی۔ علیزے اور روشانے اسے چپ کروانے کی کوشش کرنے لگیں۔ حسام راحم اور ہاشم کے ساتھ ہسپتال پہنچا جہاں اسفندیار کی گولی نکال دی گئی تھی، اسکی ڈریسنگ کر کے۔ اسے ڈرپ لگا دی گئی تھی۔ وہ بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔
“ہمیں سیکورٹی بڑھانی چاہیے تھی ” ہارون اسفندیار کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھے سر پکڑ کر بولا۔ بلاج نے فون پر سبکو اسکی صحیح ہونے کا بتایا اور پلٹ کر ہارون کے پاس کرسی پر بیٹھا۔ شہیر پاس ہی کھڑا تھا۔
“سکیورٹی کم نہیں تھی، وہ بہت شاطر یے، اسکا ٹارگٹ اسفندیار نہیں نہیا تھی، اگر بروقت اسفندیار اسکے سامنے نا آیا ہوتا تو ۔۔۔۔۔ ” بلاج بولا۔
“نہیں انکل ٹارگٹ نہیا نہیں تھی، اس کی رخ میری ہی طرف تھا، اور آپ بھی جانتے ہیں، فرید احمد خان کو مجھ سے کیا چاہیے، اور یہ پہلا حملہ نہیں تھا ان سالوں میں کئی دفع وہ الگ الگ طریقے سے مجھے تنگ کرتا رہا ہے” بلاج کی بات سن کر نفی میں سر ہلاتا اسفندیار بولا۔
“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا” ہارون کو اس پر غصہ آنے لگا۔
“انکل مجھے معلوم تھا میں نے کئی دفع بولا کہ اپنے ڈیڈ کو بتا دے پر یہ انکار ہی کرتا رہا ” شہیر اسفندیار کی گھوری کو نظر اندر کرتا بولا۔
“ڈیڈ بتانے سے کیا ہوتا، فکر مت کریں، میں اسے چھوڑوں گا نہیں اسکے کالے کرتوں کو دنیا کے سامنے لاؤں گا، اور۔۔۔۔۔۔۔” وہ جیسے بولتے بولتے رک سا گیا۔ اسکی آنکھیں ضبط کے مارے لال ہو گئیں بلاج جانتا تھا وہ کیا کہنے والا تھا۔
“ہم تمہارے ساتھ ہیں” اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوے بلاج بولا۔ تبھی دروازہ کھول کر ساحل، راحم اور ہاشم اندر آۓ۔۔۔ اور اسکا حال احوال پوچھنے لگے۔ تبھی ساحل کا فون بجا۔
“بابا علیزے بار بار فون کر رہی یے، نیہو کسی سے خاموش نہیں ہو رہی، وہ روۓ جا رہی یے شائد کافی ڈر گئی ہے ” ساحل بلاج کے پاس آ کر بولا۔ بلاج نے اس سے فون لیا اور کان سے لگایا۔ اسفندیار نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
“نہیو بچے اسفی بالکل ٹھیک یے آپ رونا بند کرو” بلاج اسے سمجھانے لگا۔ پر وہ روتی ہی رہی۔
“اچھی چلو اسفی سے بات کر لو پھر یقین آجاۓ گا” بلاج بولتا اسفی کے پاس آیا اور اسکے کان سے فون لگایا۔ اسفندیار نے نا چاہتے ہوۓ بھی موبائل پکڑا۔
“ہیلو” وہ ہولے سے بولا اسکی آواز سن کر نہیا کو مزید رونا آیا۔ پر کہی سکون سا ہوا۔ اسفندیار خاموشی سے اسکو روتے ہوۓ سن رہا تھا۔
“رونا بند کرو میں ٹھیک ہوں” وہ سنجیدہ انداز میں بولا۔
“سچ بول ریے ہیں” وہ معصومیت سے بولی۔ اسفندیار کے جبڑے تنے۔
“باۓ” وہ بول کر کال کاٹ گیا۔ نہیا نے موبائل علیزے کو دے دیا اور خود آنسوں صاف کر کے بیڈ پر ٹیک لگا دی۔ رات بارہ بجے ہسپتال سے چھٹی ملی، وہ سیدھا بلاج کے گھر آۓ،
“ڈیڈ سیدھا گھر چلتے ہیں موم اور نور دوسری گاڑی میں آجائیں گی۔” وہ سر بیک سیٹ سے لگاتے ہوۓ بولا۔ کندھے مین ابھی بھی درد ہو رہا تھا۔
“بیٹا جی تمہاری بیوی بھی ساتھ جاۓ گی اسے ہی لینے آۓ ہیں، چلو اندر چلو” ہارون اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔ بیوی لفظ پر چھن سے نہیا کا سجا سجایا روپ اسکے سامنے آیا۔ وہ سر جھٹکتے باہر نکلا۔ اور اندر گھر میں آیا۔ لاونج مین صوفے پر گھر کے سارے کپڑوں میں نہیا میرال کے کندھے پر سر رکھے بیٹھی تھی۔ سر پر کیپ تھی، سادی قمیض شلوار اور گلے میں ڈوپٹہ تھا ان سب کے آنے پر وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔ اور اسفندیار کو دیکھا۔ جسکی شیروانی اب اتر چکی تھی، اسنے اپنے اردگرد چادر ڈال رکھی تھی۔
“شکر یے بچے تم ٹھیک ہو” راحیلہ آنسو صاف کرتے ہوۓ بولیں۔ راحیلہ اور نور اسفی۔ کے آس پاس بیٹھیں تھیں اور نور روۓ جا رہی تھے جسے وہ پیار سے چپ کروا رہا تھا۔۔ میرال چاۓ کے آئی سب نے بیٹھ کر چاۓ پی، ماحول پہلے سے بہتر ہوا۔
“بلاج اب آجازت دو، کافی دیر وہ چکی ہے” ہارون اُٹھے ہوۓ بولا۔ بلاج نے ہاں میں سر ہلایا۔ اور میرال کو اشارہ کیا۔ وہ اُٹھی اور کمرے سے ایک لال چادر کے آئی،اسے نہیا کے سر پر دیا۔
“اپنا خیال رکھنا، ہمیشہ خوش رہو” میرال اسے سینے سے لگاتے ہوۓ بولی۔ نہیا کو لگا شائد اتنا سب ہو جانے جے بعد ان رخصتی نہیں ہو گی، پر میرال کے ایسے کہنے پر اسکی پلکیں نم ہوئیں۔باری باری وہ سب سے ملی، اور پھر سبکی دعاؤں کے ساۓ تکے اسے رخصت کیا گیا۔ جیسے ہی اسکی گاڑی چلی، میرال روتے ہوۓ بلاج کے سینے سے لگ گئی جو خود کو بھی رونے سے روک نہین پایا تھا اس گاڑی کے پیچھے، پولیس کی دو وینز تھیں، اسفندیار اس شہر کا ایس پی تھا۔ اس پر حملہ ہوا تھا، یہ بات نیوز میں بھی پھیل چکی تھی اور اسکی شادی کا بھی سبکو علم ہو گیا تھا۔
آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے وہ گھر پہنچے، نہیا کا ویسا استقبال تو نا ہو پایا جیسے انہون نے پلین کیا تھا۔ پھر بھی چھوٹی موٹی رسموں کے بعد اسے اسفندیار کے کمرے میں چھوڑ کر راحیلہ نیچے چلی گئی۔ کچھ دیر بعد اسفندیار اندر آیا وہ فون پر ڈی ایس پی سے بات کر رہا تھا جو اسکی خیریت پوچھ رہے تھے، وہ بات کرتا الماری سے اپنے کپڑے نکال کر انہیں خدا حافظ کہتا باتھ روم میں چلا گیا۔ نہیا نے اپنے گرد لپٹی چادر کو ہٹایا، اور صوفے پر بیٹھ کر اسکا انتظار کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ کمرے میں آیا، وہ بیڈ پر آکر سیدھا لیٹ گیا۔ اور آنکھوں پر بازو رکھ دیے۔ نہیا کو عجیب سا احساس ہوا، وہ ایسے بی ہیو کر رہا تھا جیسے اکیلا ہو۔ وہ کچھ پل یونہی بیٹھی رہی۔ خود بھی وہ سارے دن کی تھکی ہوئی تھی۔ وہ اُٹھ کر بیڈ پر جا کر دوسری طرف لیٹی، اسفندیار نے اسکا آنا محسوس کر لیا تھا پھر بھی وہ ایسے ہی بے خبر بنا لیٹا رہا۔ نہیا اپنے گرد کمبل لیتے آنکھیں موند گئی۔ پر نیند کوسوں دور تھی۔ وہ اسکی طرف پلٹی۔ وہ یونہی لیٹا تھا۔
“اسفی، آپکو درد تو نہیں ہو رہا” اسکے تھوڑا سا قریب ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
“سو جاؤ مجھے ڈسٹرب مت کرو” وہ سنجیدگی بھرے انداز میں بولا۔ نہیا کو اسکا لہجہ برا لگا وہ اسکی طرف منہ کیے اسکے چہرے کو دیکھتی دیکھتی سو گئی۔ کچھ دیر بعد اسفی نے اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا اور گردن گھما کر اسکی طرف دیکھا۔ سفید شفاف میک اپ سے بالکل پاک چہرہ اسکے تھوڑے فاصلے پر تھا۔ وہ ابھی بھی گرم ٹوپی پہنے ہوۓ تھے۔ کمبل کو اپنے ارد گرد زور سے لپیٹا ہوا تھا۔ پھر بھی اسکا ناک سرخ ہو رہا تھا وہ اتنا تو جانتا تھا کہ اسے دوسروں کے مقابلے زیادہ سردی لگتی ہے پر اتنی لگتی یے یہ نہیں جانتا تھا۔ وہ سوتے ہوۓ بے حد حسین لگ رہی تھی، لیکن پھر بھی وہ اسکا دل نا دھڑکا سکی، وہ گہرا سانس کے کر چہرہ موڑ گیا۔ اور دوسری طرف پلٹ کر آنکھیں بند کرتا سو گیا۔۔۔۔۔۔
جاری یے۔۔
