No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
وہ سیدھا بلاج ولا پہنچی۔ گاڑی سے نکلتی وہ اندر آئی۔ سکندر صاحب بھی موجود تھے۔ وہ ابھی ابھی گھر پہنچا تھا۔ گولی بس چھو کر گئی تھی۔۔
“بابا” وہ صوفے پر بیٹھا ہوا تھا نیہا روتے ہوۓ اسکے سینے سے لگ گئی۔۔۔
“ساحل تمہیں بولا تھا نیہا کو مت بتانا مگر تم بھی حد کرتے ہو دیکھو کتنا پریشان ہو گئی” وہ اسکے گرد بازو لپیٹتے ہوۓ ساحل کو ڈانٹ رہا تھا۔ نیہا کو مزید رونا آیا۔ اسکا باپ جو اسکو پریشان ہوۓ نہیں دیکھ سکتا تھا وہ کیا جان سکتا تھا کہ اسکی بیٹی اس وقت کس حال میں ہے۔۔ وہ بلاج کے گرد زور سے بازو لپیٹتے بلک بلک کر بچوں کی طرح روۓ جا رہی تھی۔ میرال کو پریشانی ہوئی۔ وہ اتنا کیوں رو رہی تھی۔۔
“نیہو بچے بابا بالکل ٹھیک ہیں” میرال نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔ تبھی اسفندیار لاونچ میں داخل ہوا۔ نیہا کو روتے دیکھ اسے غصہ آیا۔۔ وہ اگے بڑھا۔۔۔ میرال نے حیرانگی سے دونوں کو دیکھا دونوں علحیدہ علحیدہ آۓ تھے۔
” السلام علیکم! انکل کیسے ہیں؟ گولی کس نے ماری کچھ معلوم ہوا؟” وہ انکے قریب آ کر صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ نیہا علحیدہ ہوئی اور اپنے ڈوپٹے سے چہرا صاف کرنے لگی۔۔۔۔۔
” وعلیکم السلام! میں ٹھیک ہوں بس گولی چھو کر ہی گئی ہے، نا معلوم افراد تھا پولیس کو انفام تو کیا ہے، وہ انویٹیگیشن کو رہے ہیں، تم بتاؤ، باہر تمہارے خلاف اتنا ہنگامہ ہو رہا ہے۔ اب اگے کیا کرو گے، معاملہ تو کافی خراب ہو گیا ہے”
“مجھے چھے مہینے کے لیے سسپینڈ کر دیا گیا ہے، اور یہ سب آپکی بیٹی کی بدولت ہوا ہے” اسفندیار نے ہاتھ کے اشارہ نیہا کی طرف کرتے ہوۓ کہا۔ سبھی چونکے۔۔ نیہا غم غصے بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“کیا مطلب نیہا نے کیا کِیا؟” میرال فوراً بولی۔۔
“پوچھیں اپنی چہیتی سے، اس فرید احمد کے ساتھ رابطے میں ہے، انفیکٹ اسے پسند کرتی ہے، اسکے ساتھ مل کر مجھے تباہ کرنا چاہتی ہے” وہ نیہا کو غصے سے گھورتے ہوۓ بولا جیسے ابھی نِگل ہی جاۓ گا۔
“کیا بولے جا رہے ہو، نیہا یہ سب کیا ہے؟” میرال نے نیہا کو اپنی طرف گھوماتے ہوۓ پوچھا۔
“آنٹی یہ نہیں بتاۓ گئی میں بتاتا ہوں، میڈیم جی، فرید احمد کی محبوبہ ہیں، دونوں کا اچھا خاصہ افیر ہے، جو شادی سے پہلے تھا اور ابھی بھی ہے،ہمارے رشتے کے معتلق ہر بات اسکو معلوم ہے، وہ باتیں بھی جو بیڈ روم کے اندر ہوتی ہیں سب معلوم ہے، بتائیں کس نے بتایا ہو گا، ہمممم اسکے علاوہ کون بتا سکتا ہے” وہ نہایت غصے میں سبکے سامنے اسکی ذات کی دھجیان اُڑا رہا تھا۔ نیہا نے زور سے آنکھین میچیں، اس ڈراونے خواب سے جیسے نکلنا چاہ رہی ہو۔۔بلاج ساحل میرال، سکندر حمدانی اور حیام سب کے سب شاک میں تھے، وہ ایسی باتیں کیسے بول سکتا ہے۔ سبحی جانتے تھے وہ جلد غصے میں آنے والا شخص نہیں اس میں بری بری باتوں کو تحمل سے سہنے کی برداشت ہے۔۔۔۔۔
“بابا میری بات سنیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بولیں کیا میں بدکردار ہوں؟” بلاج کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں مین پکڑے وہ نم لہجے مین بولی کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔ اسکے سوال پر سبھی نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔
“نیہا کیا بکواس کر رہی ہو” ساحل نے زور سے کہا۔۔اسکی بات پر اسفندیار طنزیہ انداز میں ہنسا
“بکواس نہیں بھائی۔ میں پوچھ رہی ہوں، کیا میں بدکردار ہوں، کیا میرا کریکٹر خراب ہے کیا میں اسطرح کی لڑکی ہوں جو اس کسی کے ساتھ۔۔۔۔” وہ بولتے بولتے رکی۔۔ اسفندیار اسی کی طرف غصے سے دیکھ رہا تھا۔
“نیہا ہوش میں تو ہو۔ کیا بولے جا رہی ہو؟” ساحل نے اسے بازو سے پکڑتے اپنے سامنے کھڑا کیا۔ نیہا مسلسل رو رہی تھی۔۔
“اسفندیار کیا ہوا ہے؟ تم دونوں کا جھگڑا ہوا؟ یہ کس قسم کی گھٹیاں باتیں بول رہے ہو دونوں” بلاج نے صوفے پر بیٹھے اسفندیار سے پوچھا۔ جو غصے سے نیہا کو دیکھ رہا تھا۔
“پوچھیں نا اپنی اعلی کردار والی بیٹی سے۔ جسے آپ نے ہی میری بیوی بنایا۔ اسکے کس طرح کے چکر ہیں، اس فرید احمد کے ساتھ کیا تعلق ہے” وہ غصے سے بول رہا تھا۔۔
“بابا میں بالکل پاک ہوں، میں نے زندگی میں کبھی کسی کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا بابا آپ تو جانتے ہیں میں ایسی نہیں، آپ نے ان سے میری شادی کی تھی نا، میں بہت خوش تھی کیونکہ میں تو ان سے محبت کرتی تھی، ماما میں ان سے محبت کرتی تھی، اس بات کی گواہ علیزے ہے، اسے سب معلوم ہے” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔کبھی بلاج کے پاس اور کبھی میرال کے پاس آتی۔
“ہنہہہ علیزے وہی علیزے جو خود اسی فرید احمد کے بھائی کے ساتھ بھاگی، اور تم جھوت مت بولو سچ بتا دو، بتاؤ انہیں کیسے تم اس سے باتیں کرتی تھی، یہ دیکھیں اسنے موبائل لے کر دیا۔ یہ تصویرین یہ میسج سب موجود ہے، ایک ایک لفظ سچ بول رہا ہوں” اسفندیاد اگے بڑھا۔ اسکے ہاتھ سے موبائل لیا اور بلاج کو ایک ایک کر کے دیکھانے لگا۔ بلاج شاک سا اسفندیار کو دیکھ رہا تھا
“بس کریں اسفندیار بس کریں، میں نے کچھ نہیں کیا۔ نا میں نے یہ میسج بھیجے نا، یہ میرا موبائل ہے،، نا ان تصویروں میں ہوں، اس خبیث شخص سے میری ملاقات ہوئی تھی اسنے دو تین دفع میری مدد کی، اسکا نمبر بھی میرے پاس تھا، میرے اپنے فون مین لیکن میں نے کبھی اس سے حد سے زیادہ بات نہیں کی، جس دن مجھے معلوم۔ہوا وہ احمد ہی فرید احمد ہے، اسی دن انسے مجھے دھمکی بھرے میسجز بھیجے۔ اسنے مجھے اپکو نقصان پہنچانے کے میسج بھیجے وہ مجھے کہتا تھا تم نے کسی کو بتایا تو تمہاری زندگی خراب کر دوں گا، میں نے آپکو ایک ہفتے پہلے بتایا سب اسنے سچ میں میری زندگی خراب کر دی، میرا کردار مشکوک بنا دیا، میں جس بات سے ڈرتی تھی ،کہ آپ میری بات پر یقین کریں گے کہ نہیں، وہی ہوا نا اسنے جھوٹی کہانیاں سنائیں، اور آپ نے ان باتوں پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیا، واہ” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔
“بس کرو نیہا اپنے ڈرامے بند کرو، مجھے تمہاری کسی بات پر یقین نہیں، تم ایک گھٹیا۔” اسفندیار نے غصے سے کہا۔
“ٹھاہ” اسفندیار کے الفاظ منہ میں ہی رہ گے، جب بلاج کا ہاتھ اسکے چہرے پر پڑا۔۔۔
“میری بیٹی کے کردار پر اب ایک لفظ مت کہنا یہی کھڑے کھڑے گولی مار دوں گا، نیہا بلاج حمدانی کی بیٹی ہے، وہ اتنی گِڑی ہوئی نہیں ہو سکتی، اور تم اس نہایت جھوٹے شخص کی باتوں پر یقین کیسے کر سکتے ہو، بھول گے وہ تمہارے ماں باپ کا قاتل ہے، کیی دفع تم پر حملے کرواۓ، اسکی ان گھٹیا شازش کا حصہ بن بیٹھے۔ مجھے تمہاری سوچ پر شرم آ رہی ہے، تمہیں میں نے اپنی بیٹی سونپی، مجھے لگا تم اسکا خیال رکھو گے، اور تم اسکے کردار پر اتنا برا الزام لگانے آ گے ہو،” بلاج چیختا چلا گیا۔۔ اسفندیار نے غصے سے اپنی مُٹھیاں بھیچیں۔۔۔
” مجھے تم پر یقین تھا اپنے بھائی کے خون پر یقین تھا۔ کہ تم ہمیشہ اسکا خیال رکھو گے، اور تمہیں اپنے ہی انکل کے خون پر یقین نہیں، تمہارا یقین اتنا کچا ہے، کوئی بھی تمہیں کچھ بھی بولے اور تم یقین کر لو۔ ، جو اسکو چاہیے تھا وہی تم نے کیا۔ مجھے خود پر افسوس ہو رہا ہے، مجھے تم پر یقین تھا کہ تم میری نیہا کا خیال رکھو گے، پر میں غلط تھا” وہ افسردہ لہجے میں کہتے وہی صوفے پر دھے سا گیا۔۔
“واؤ اتنے سارے ثبوت سامنے لانے کے باوجود آپکو مین غلط لگ رہا ہوں، یقیناً لگوں گا ہی، سامنے آپکی بیٹی جو ہے، مجھے بیٹا صرف منہ سے کہا ہے مانا تو نہیں، اگر مانا ہوتا تو میری بات پر یقین کرےے” وہ طنزیہ انداز مین بولا۔۔ بلاج نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا، وہ کیسے اسے بتاتا کہ وہ اسکے لیے کیا ہے، اپنے بھائی کی آخری نشانی ہے۔۔۔۔۔ نیہا نفی میں سر ہلاتے اسکے سامنے آ کر کھڑی ہوئی۔
“میں نے اسی ڈر سے اس دن آپکو سب سچ بتا دیا، اس دن تو یقین کر لیا، اور آج مجھے میری ہی نظروں میں گِرا دیا، مجھے خود کو کوسنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے اس شخص سے ساری زندگی جی جان سے محبت کی، میں نے اپنے دن رات اسکو سوچتے بتا دے، جسے مجھ پر میری ذات پر میرے کردار پر رتی برابر یقین نہین، جو میرے کردار کو مشکوک کہ رہا ہے، جو مجھے کسی اور کی باتیں سن کر سوالوں کے کٹکھرے میں لا کھڑا کرتا ہے” وہ قدم قدم اسکی طرف چلتی آ رہی تھی۔۔ اسفندیار کو اپنے پاؤں پر کھڑا رہنا مشکل لگ رہا تھا۔۔ اسنے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کی خوشیوں کو آگ لگائی تھی۔
” ہنہہہ بتایا اسی کے کہنے پر بتایا تھا وہ بھی آدھا سچ مکار کہی کی۔” وہ دو قدم اگے بڑھ کر بولا۔۔
“میرے قریب بھی مت آنا مجھے گھن آ رہی ہے، خود سے اپنے وجود سے، مجھے نفرت ہو رہی ہے، مجھے شرم آرہی ہے، مین نے آپ جیسے کان کے کچے، بزدل شخص سے محبت کی، مجھے آپکو اپنا شوہر کہتے ہوۓ شرم آرہی ہے،کاش یہ سب دیکھنے سے پہلے میں مر جاتی یا اللہ ، مجھے مجھے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ چیختے چیختے مُری اور اوپر اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔۔۔ اور جا کر دروازہ بند کر لیا۔ حیام اسکے پیچھے گئی۔۔۔۔اسفندیار کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا۔۔ اسنے نظریں پھیر کر بلاج کو دیکھا، جو تاسف سے اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ مزید ایک پل وہاں نا رک سکا، مڑ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔بلاج نے اپنا سر صوفے پر ٹکا دیا۔۔۔
*************************************************
وہ سیدھا گھر اپنے کمرے میں آیا۔ اسنے ایک بیگ نکالا۔ اس میں ضرورت کا سارا سامان رکھا، بیگ کو بند کرتے وہ نیچے آیا، لاونچ میں نور، راحیلہ اور ہارون بیٹھے تھے۔۔۔۔
“کیا ہوا؟ بتانا پسند کرو گے؟” ہارون کی سنجیدہ آواز گھونجی۔۔ اسکے چلتے قدم روکے۔۔ وہ مُڑا اور ان تینوں کے پاس آیا۔۔۔
“میں نے آپکو مام ڈیڈ کہا ہی نہیں، بلکہ پورے دل سے مانا ہے، ان سالوں میں آپ میرے ہر قدم پر ساتھ تھے، مجھے بہت خوشی ہے، کہ مجھے آپ جیسے والدین، اور پیاری بہن ملی، اور مجھے خوشی ہو گی، اگر آپ تینوں میرے فیصلے میں ساتھ دیں، میں اب مزید اس شہر میں نہیں رہنا چاہتا تو میں جا رہا ہوں، آج کے بعد اپ مجھ سے بالکل نہیں مل سکیں گے، میری وجہ سے آپکو جو بھی تقلیف ہوئی اسکے لیے مجھے معاف کیجے گا، پر مزید میری وجہ سے آپکی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا” وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ نم لہجے میں بولا۔۔
“کیا بول رہے ہو، میں تمہیں نہیں جانے دوں گی، چلو اندر” راحیلہ اگے بڑھی اور اسکے ہاتھ سے بیگ پکڑنے کی کوشش کی۔۔۔
“مام پلیز میں مزید نہین رہ سکتا” وہ نم لہجے میں بولا۔۔ نور وہی صوفے پر بیٹھتی رونا شروع کر چکی تھی۔ وہ مسلسل روۓ جا رہی تھی۔۔
“نہیں بلکل نہیں جانے دون گی تم۔میرے بیٹے ہو” راحیلہ کسی طور نہیں مان رہی تھی۔ وہ روتے ہوۓ اسکے سینے سے لگ گئی۔
“جانے دو اسے، اگر یہ یہی چاہتا ہے تو ٹھیک ہے، ہمارا بھی اب اس سے تعلق ختم” ہارون کی سرد آواز گھونجی۔ راحیلہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ اسفندیار پھیکا سا مسکرایا۔۔۔وہ نور کی طرف آیا۔ ہلکا سا جھکا۔۔
“بہت محنت کرنا اور ایک اچھی ڈاکٹر بننا” وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا۔ نور نے گردن تک نا اُٹھائی۔ اور پھر وہ ہارون کی طرف آیا۔۔ جو سامنے دیکھ رہا تھا۔ وہ بنا کچھ بولے اسکے سینے سے جا لگا۔۔
“آئی لو یو ڈیڈ” اسکے منہ سے ہلکی سی آواز نکلی، ہارون کی آنکھوں سے آنسوں نکلے اسنے اسکے گرد بازو لپیٹ دیا۔ اُسنے اسے ہمیشہ اپنے بچے کی طرح پیار کیا تھا۔ وہ علحیدہ ہوا، اور ان تینون کی طرف دیکھتا وہاں سے چلا گیا۔۔ ہارون اس راستے کو دیکھتا رہ گیا جہاں سے وہ ابھی ابھی گیا۔ وہ بھاگ کر باہر آیا۔ شائد وہ کسی گاڑی میں جاۓ پر وہ اکیلا ہی باہر نکلا، اور نکلتے ہوۓ اسنے ایک دم پلٹ کر ہارون کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرایا۔۔ انکھ سے ایک آنسو بہا۔۔ اور پھر اسنے چہرا موڑ لیا اور دہلیز پار کر لی۔ باہر ایک چھوٹی سی گاڑی کھڑی تھی، وہ حُسنین کی تھی۔ وہ اس میں بیٹھا اور اس گھر سے اور اس خاندان کے ایک ایک فرد سے دور چلا گیا۔۔۔ بہت دوررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
****************************************************
رات کا اندھیرا تھا۔ وہ اپنے گھر میں بیٹھا آج کی جیت کا جشن منا رہا تھا۔ مزمل اور کافی لوگ اسکے سامنے تھا۔ جن میں ایک شہیر بھی تھا۔ جو خالی خالی نظروں سے اس شراب کے گلاس کو دیکھ رہا تھا۔ جس دن سے علیزے کو اس نے طلاق دی، اسکے بعد سے اسے ایک رات بھی سکون کی نیند نا ملی، نا جانے کیا تھا جو وہ سو نہیں پاتا تھا۔ ابھی بھی فرید احمد اپنے جشن میں مصروف تھا۔۔۔۔۔
“ہاہہاہاہا میں جیت گیا، ہاہاہاہا” وہ زور زور سے ہنسا تھا۔۔ اسکے دوستوں نے بھی اسکا ساتھ دیا۔ تبھی دروازہ کھلا اور کوئی اندر آیا۔۔۔۔۔ فرید نے اس طرف دیکھا سامنے کندھے پر بیگ ڈالے اسفندیار کھڑا تھا۔۔۔۔۔ اسکے چہرا ایک دم سنجیدہ تھا۔۔
“اوووو واؤ مجھے یقین نہیں ہو رہا میرا سوتیلا بھانجا بھی یہاں میری کامیابی پر آیا ہے، ارے میری نیہو کو تو لے آتے بہت یاد آ رہی ہے” وہ ہنستے ہوۓ بول رہا تھا۔۔ اسفندیار قدم قدم چلتا اسکے پاس آیا۔۔ سامنے کرسی پر وہ بیٹھا ہوا تھا۔۔
“یہ وہ پیپرز ہیں، جسکی وجہ سے تم نے میرے والدین کو مارا، میرے خاندان کے پیچھے لگے رہے، اور میری زندگی حرام کر کے رکھ دی، تمہارے والد اور میرے دادا نے مجھے اپنی ساری پراپڑٹی دی تھی، جسکی آج کڑوڑوں میں قیمت ہے، یہی تمہیں چاہیے تھی نا، یہ لو میں نے تمہارے نام کر دی، اب میرے خاندان سے دور رہنا، میں یہان سے جا رہا ہوں، بہت دور،،،،،،،،،،” وہ پیپرز اسکی طرف اچھالتے پوۓ بولا۔۔۔۔ فرید احمد کا منہ شاک سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔ جس کو پانے کے کیے اسنے اسے پچھلے کئی سالوں سے تنگ کر کے رکھا تھا آج وہ اسنے یوں کتنی آسانی سء اسے دے دی۔۔۔ اسنے پیپرز پکڑے۔۔ ابھی وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی وہ مُڑا اور اس لاونچ سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔ مزمل کئی پل اسے جاتا ہوا دیکھتا رہ گیا۔۔۔کچھ تو تھا جو بدلہ تھا۔۔۔۔کچھ۔۔۔۔آج کون جیتا تھا؟ اور کون بری طرح سے ہارا تھا؟
*******************************************
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
