No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
وہ کل رات واپس نہیں آیا تھا اور اب رات کے نو بج رہے تھے پر ابھی تک اسکی واپسی کی کوئی خبر نا تھی۔ نہیا یونی سے سب دوستوں کے ساتھ مل کر ریسٹورینٹ گئی، انہیں ریزلٹ کی خوشی میں پارٹی دی اور ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر واپس آئی، میرال صائم کو پڑھا رہی تھی۔ وہ دونوں لاونچ میں بیٹھے تھے۔
“ماما میری آنکھیں کیوں بھاری ہو رہی ہیں، یہ میرا دل کیون کر رہا یے آرام سے لیٹ جاؤ اور مزے سے سو جاؤ” صائم کمسٹری کی کتاب کھولے جمائیاں لیتے ہوۓ بولا۔
“ناٹک بند کرو اور جلدی سے یاد کرو میں نے لکھوانا ہے” میرال اسے گھورتے ہوۓ بولی۔ وہ مسہ بسورتے واپس پڑھنے لگ گیا۔ جب باہر گاڑی داخل ہونے کی آواز آئی۔ وہ ساحل کے ساتھ بات کرتا اندر آ رہا تھا۔
“ساحل انکو بول دو یہ گھر یے کوئی ہوٹل نہیں جہاں جب دل کیا چلے آۓ، اور جب دل کیا رات غائب ریے، آج بھی وہی رہیں جہان کل کی ساری رات گزاری” میرال بنا مُڑے سخت ناراضگی بھرے لہجے میں بولی۔ ساحل کے ساتھ کھڑے بلاج کے ہونٹوں پر پراسرا مسکراہٹ بکھری، وہ آج بھی ویسا ہی دیکھتا تھا انفیکٹ اب اس عمر میں وہ زیادہ ہینڈسم ہو گیا تھا۔
“جی ماما، بابا سن لیا آپ نے یہ کوئی ہوٹل نہیں میری ماما اور آپکی وائف کا گھر ہے” ساحل نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔
“یس بابا اس دفع تو میں بھی ماما کی طرف ہوں” نہیا نے بھی اونچی آواز میں کہا۔ جو ہاتھ میں چاۓ کی ٹرے لیے لاونچ میں آئی۔
“اوو تو میرے بچوں نے پارٹی بدل لی، اپنے بابا کو اب بے گھر کر دو گے” وہ بازو پر کوٹ ڈالے میرال کے پاس آ کر بیٹھا۔ پر وہ اسے اگنور کیے صائم کی طرف مکمل متوجہ تھی۔ ساحل نہیا کے ساتھ بیٹھا چاۓ پینے لگا۔ اور ساتھ ٹیوی آن کر دیا وہاں بزنس نیوز دیکھنے لگا۔ نہیا موبائل پر علیزے کو میسج کرنے لگ گئی۔ اور صائم نیند کے ہچکولے لے رہا تھا۔
“بیگم اپنے معصوم شوہر کو بھی دیکھ لیں، بہت بھوک لگی ہے جلدی سے کھانا لگائیں میں فریش ہو کر آیا۔ ساحل تم بھی چاۓ پینے کی بجاۓ کھانا کھا لو” وہ بولتا کھڑا ہوا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔ میرال نے نہیا کو کھانا لگانے کا بولا اور صائم کو اندر جا کر سونے کا کہتی وہ خود چاۓ کا کپ لیے باہر گارڈن میں آ کر کرسی پر بیٹھ گئی اور چاۓ سامنے ٹیبل پر رکھی۔
وہ فریش ہو کر نیچے آیا، نہیا کھانا لگا چکی تھی۔
“کہاں گئیں میری روٹھی بیوی؟” نہیا اور ساحل دونوں سے پوچھا۔
“بایر گارڈن میں آل دی بسٹ بابا” نہیا مسکراتے ہوۓ بولی۔ بلاج ہاں میں سر ہلاتا باہر کی طرف بڑھ گیا۔
“بھیو! میری گاڑی کب آۓ گی؟ ہلیز بلیک کلر کی ہو”وہ سامنے بیٹھ کر کھانا اپنی پلٹ میں نکالتے ہوۓ بولی۔
” بک کر دی ہے ایک دو دن میں آ جاۓ گی” ساحل اسے گاڑی کی پکچر دیکھاتے ہوۓ بولا۔
“تھینک یو سو مچ” وہ خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی۔ ساحل نے پیار بھری نظروں سے اپنی چھوٹی بہن کو دیکھا۔ اسکی خوشی کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔
وہ باہر آیا تو میرال کو چاۓ کا کپ لبوں سے لگاۓ خاموش بیٹھے دیکھا۔ وہ اسکے پاس پڑی کرسی پر بیٹھا اور اسکے ہاتھ سے چاۓ کا کپ پکڑ کر خود پینے لگا، میرال آج بھی اسکی ایسی حرکتوں پر بس گھور کر رہ جاتی تھی۔
“چشمش میٹھی ہے” وہ چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ بولا۔
“بلاج ابھی مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی کھانا کھا کر سو جاؤ” میرال اسے فل اگنور کرتے ہوۓ بولی۔
“کیا مطلب بات نہیں کرنی، مجھے تو کرنی یے یار مصروف تھا، کانٹریکٹ فائنل ہونے والا تھا، دو تین میٹنگ ایک ساتھ آ گئیں، اسی لیے نہیں آ پایا اور ہوٹل میں رکنا پڑا” وہ اب اسے نا آنے کا ریزن بتا رہا تھا۔
“ہنہہہ بس کرو یہ بہانے بنانے ایسے بہانے انکے سامنے بناؤ جو تمہیں جانتے نا ہوں، میں تمہیں اچھے سے جانتی ہوں، اور یہ تمہارا چلتا رہتا ہے، ہر دوسرے تیسرے ہفتے جب بھی ہمیں تمہارے ڈیڈ کی طرف جانا ہوتا ہے، تم اسی طرح کرتے ہو کبھی کوئی بہانا تو کبھی کوئی بہانا، پتہ ہے کتنی شرمندگی ہوتی یے” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بول ریی تھی۔ اور بلاج خاموشی سے سن رہا تھا۔ ۔
“مت جایا کرو منع کیا یے نا، تم خود ہی سبکو کیے چل دیتی ہو، میں نے تو بولا ہے کوئی ضرورت نہیں جانے کی” وہ سنجیدہ لہجے میں بولا۔ میرال نفی میں سر ہلاتی بس اسے دیکھتی رہ گئی۔
“باپ بن چکے ہو پر ابھی تک اپنے باپ کا دکھ نہیں سمجھ پاۓ، انکی آنکھوں کی ویرانی مجھ سے کم ازکم نہیں دیکھی جاتی، انکے چہرے کی مسکراہٹ ہمارے بچوں سے ہے میں ان سے یہ نہیں چھین سکتی، تمہارا دل تو پتھر کا یے جسے اتنے سالوں میں بھی میں پھگلا نہیں سکی، افسوس یے مجھے خود پر اللہ ہی تمہیں ہداہت دے” وہ آج پھر وہی سب بول ریی تھی جو پچھلے کئی سالوں سے دہراتی آ رہی تھی۔ وہ اُٹھی اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔ بلاج بس چاۓ کے کپ کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ تبھی اسکے موبائل پر میسج آیا۔ جسے ہڑھ کر وہ گہری سوچ میں چلا گیا۔۔۔
“ہاشم کیا کر رہے ہو؟” ایمان ہاشم کے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی، جو اپنے نوٹس پھیلاۓ پڑھ رہا تھا۔
“نظر نہیں آتا پڑھ رہا ہوں” وہ بنا اسکی طرف دیکھے بولا۔
“نظر تو آ رہا ہے، میرا پیارا بھائی پڑھ رہا ہے، اللہ تمہیں کامیاب کرے، ایک اچھے ڈاکٹر بنو” وہ مسکرا کر کہتی اسکے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھی، اسکے اتنے چاشنی جیسے لہجے کو سن کر ہاشم بے آبرو اچکا کر اسے دیکھا۔
“اللہ سب سے پہلے تو مجھے تم جیسی بہن سے بچاۓ، جو آج اتنے میٹھے لہجے میں بول رہی ہے کیا کام ہے؟” پیپر پر پین چلاتے ہوۓ بولا۔
“ہی ہی ہی وہ بس چھوٹا سا کام ہے، میری فرینڈ کی برتھ ڈے ہے ریسٹو رینٹ چھوڑ کر بس آجانا بس اتنا سا کام ہے” وہ دانت نکالتے ہوۓ بولی۔۔ ہاشم نے اسکی طرف دیکھا۔
“ہی ہی ہی بالکل نہیں میرا کل ٹیسٹ ہے مصروف ہوں بہت زیادہ ” وہ بھی اسی کی نکل اتارتے ہوۓ بولا۔
“ہاشم پلیز نا میں بالکل ریڈی ہوں، ریسٹورینٹ بھی بس آدھے گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے” وہ اب اسکا بازو کھینچتے ہوۓ اسے بیڈ سے اُٹھا رہی تھی۔
“ایمان نہیں مجھے پڑھنا ہے یار مستقبل کا جانا مانا ڈاکٹر ہوں آج نہیں پڑھوں گا تو کل تم جیسے پاگلوں کا علاج کیسے کروں گا” وہ اپنا بازو چھڑواتے ہوۓ بولا۔ ایمان کے تو سر پر لگی۔
“ٹھیک ہے میں خود چلی جاتی ہوں، راستے میں اگر میرا ایکسیڈینٹ ہو گیا میں مر ور گئی تو ساری زندگی روتے رہنا ایک پیاری سی کیوٹ سی معصوم سی بہن تھی” وہ ڈرامائی انداز میں بولی۔۔
“چچچ فکر مت کرو تم جیسی مخلوق اتنی آسانی سے نہیں مرتی، چلو اب ڈرامے بند کرو چھوڑ آتا ہوں” وہ اپنا پین بند کرتا پاؤں میں چپل ڈالتے ہوۓ کھڑا ہوا۔
“ہاہو تھینک یو سو مچ تم تھوڑے سے اچھے بھائی ہو” وہ اسکے گلے لگتے ہوۓ چلا کر بولی۔ اور بھاگ کر اپنے کمرے کی طرف گئی اور وہاں سے بیگ لیے باہر آئی۔
“باے موم ” لاونچ میں بیٹھی مشی کو باۓ بولا اور باہر کی طرف بھاگی۔
“تم نے اپنے نمبر دیکھے ہیں، دل کر رہا ہے پڑھائی چھڑوا دوں” تقی اپنے سامنے کھڑے راحم کو ڈانٹ رہا تھا۔ جسکا کل ریزلٹ آیا تھا جو وہ گھر میں چھپاتا پھر رہا تھا، پر تقی کو پتہ چل ہی گیا۔
“اسی دفع کم آۓ ہیں” راحم منمناتے ہوۓ بولا۔
“جیسے تمہارے حالات ہین تم سے یہ میڈیکل نہیں ہونا، اتنے سالوں سے کتوں کی طرح گھس گھس کر کبھی یونیورسٹی مین لکیچر، تو کبھی رات کو ٹیوشن دے دے کر تمہارا خرچہ اُٹھا رہا ہوں، کہ تم اچھے ڈاکٹر بن جاؤ گے تو کل کو فخر سے سر بلند ہو جاے گا تمہارا ہی مستقبل اچھا ہو گا، پر نہیں تم نے قسم کھا رکھی ہے اپنے باپ کو زلیل کرنے کی” تقی اس پر برس رہا تھا۔ امرحہ اور مناہل پاس کھڑیں تھیں۔
“یہ ویسے بھی آخری سال ہے اس دفع محنت کر لے گا” امرحہ سر جھکاے کھڑے راحم کے پاس آ کر بولی۔
“میری بات آج غور سے سنو راحم، ہم میڈل کلاس لوگ ہیں، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں جو تم باقی دوستوں کی طرح بے فکر ہو کر عیائشی کر سکو، تو دوستوں کے ساتھ ریسٹورینٹ میں گھومنا چھوڑ کر پڑھائی پر توجہ دو، اور ہاں اپنی پڑھائی کو توجہ دو نا کہ کسی لڑکی کو سمجھ تو گے ہو نا میں کس کی بات کر رہا ہوں” تقی نے ہر لفط ہر زور دیتے ہوۓ کہا۔ راحم کے چہرے کا رنگ اُڑا۔ تو اسکا باپ اسکے متعلق ساری انفرمیشن رکھتا ہے۔
“جی پاپا” وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“جاؤ اب جا کر پڑھو” تقی اپنا سر مسلتا صوفے پر بیٹھ گیا۔
“مانو جاؤ بیٹا سو جاؤ کل سکول جانا ہے” امرحہ نے اسے کمرے میں بھیجا اور خود تقی کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“فکر مت کریں وہ توجہ دے گا میں سمجھاؤں گی اسے” اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولی۔
“پڑھ جاۓ اسکے لیے ہی اچھا ہو گا، ویسے بھی اس سال کی فیس بھی نا جانے کیسے دی جاۓ گی، بینک سے لون کی بات تو کی ہے دیکھو کیا بنتا ہے” تقی اپنا سر دباتے ہوۓ بولا۔
“سب اچھا ہو گا ” امرحہ اسکا سر دبانے لگی۔ تقی نے گہری سانس لے کر اسے دیکھا، ان سالوں میں امرحہ نے زندگی کے ہر موڑ پر اسکا ساتھ دیا، اپنے آپ کو اسکی پسند مین سر سے لے کر پاؤں تک ڈھال دیا۔ اور بہترین شریک حیات ثابت ہوئی۔۔ انکی چھوٹی سی فیملی تھی، راحم اور مناہل ہی انکی کل کائنات تھے۔ تقی کی والدہ اور والد کا انتقال کچھ سال قبل ہوا۔ باسط کو دل سال کی سزا ہوئی تھی پر وہ دو سال کے اندر ہی جیل سے نکل آیا، اسکا برے برے ادمیوں کے ساتح کانٹیکٹ تھا جسکی مدد سے وہ جیل سے رہائی پا گیا۔ اپنی بیوی اور بیٹے کو کے کر وہ دوسرے گھر میں شفٹ ہو گیا جو یہان سے کافی دور تھا، ایک سال بعد انکی ایک بیٹی ہوئی، جسکا نام حیام رکھا، تقی کا ان سے کوئی رابطہ نہیں تھا باسط نے اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔
“اپنا موبائل چیک کرو کتنے میسجز اور کالز کی ہیں، ایک کا بھی جواب نہیں دیا ” ساحل اپنی کرسی پر بیٹھا سامنے کھڑی حیام سے بولا۔
“میم مصروف تھی سر ” وہ سر جھکا کر بولی۔ساحل نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
میری بات مان کیوں نہیں لیتی تم ؟” وہ آج پھر سے اسکے سامنے وہی بات دھرا رہا تھا جِسے وہ پچھلے کئی مہینوں سے کئی بار کر چکا تھا۔
“بات اگر مناسب ہوتی تو پہلی باری میں ہی مان جاتی، اس پر سائن کر دیجیے سر ” وہ ہاتھ میں پکڑی فائل اسکے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوۓ سنجیدگی سے بھرے لہجے میں بولی۔
“کیا میری ہونا اتنا مشکل ہے؟ ” اسکے لہجے میں واضع بے بسی تھی۔ جسے وہ اچھے سے محسوس کر سکتی تھی۔ پر خود پر خول چڑھاۓ وہ سر پر ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوۓ کھڑی رہی جب اسکی بات سن کر اسکے ہاتھ ایک دم رکے اور نظریں سیدھی اسکی نظروں سے جا ملیں۔
“آپکی ہونے میں مسلہ تھوڑی ہے۔ سارا مسلہ تو اپنی شناخت سے ہے، آپکے والد اس رشتے پر کبھی راضی نہیں ہوں گے، بھلا دشمن کی بیٹی کو کون بہو بناتا ہے” وہ نظریں پھیرتی سامنے بند کھڑکھی سے باہر دیکھنے لگے۔اسکے الفاظ ساحل کے دل کو چیڑ گے۔
“وہ میرے بابا ہیں انکی سوچ ایسی بالکل نہیں، تم بس راضی ہو جاؤ میں اگلے ہی ہفتے انہیں تمہاری طرف بھیجتا ہوں” ساحل کو ایک امید سی دکھی۔
“آپ ابھی ٹھیک سے میرے باپ کو جانتے نہیں وہ میری جان تو لے لیں گے پر کبھی میرا رشتہ آپکو نہیں دیں گے” وہ ایک مزید مسلہ نکال لائی، یوں مانو وہ خود نہیں چاہتی تھی وہ رشتہ لاۓ۔
” اسٹاپٹ حیام اسٹاپٹ خدا کا واسطہ ہے بس کرو اگر اتنا ڈر تھا تو محبت کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔ اب تمہارا یہ اجنبی رویہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا” وہ میز پر پڑت پیپر ویٹ کو سامنے دیوار پر لگے شیشے پر مارتے ہوۓ غرایا تھا۔ شیشہ ایک دم چکنا چور ہو گیا۔ حیام نے حیرانگی سے ساحل کو دیکھا۔
” تب میں یہ نہیں جانتی تھی، سالوں پہلے آپکے والد اور میرے والد کے درمیان دشمنی تھی، جسکی جڑ اب تک قائم ہے، میرا ابو جتنی نفرت آپکے والد سے کرتے ہیں شائد ہی کسی سے کرتے ہوں گے وہ کبھی اس رشتے کو قبول نہیں کریں گے، میری ماں اور میں پہلے ہی بہت مشکل سے زندگی گزار رہے ہیں مزید مشکل نہین چاہیے” وہ خود کو سھنمبالتے ہوے بولی۔
“تو مجھ سے کی گئی محبت بھول جاؤ گی؟ کیا یہ سب اتنا آسان ہے” ساحل کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔
“جی بھول جاؤں گی دنیا مین کوئی کام مشکل نہیں ہوتا، آپ بھی بھول جائیں” وہ بول کر کمرے سے چلی گئی۔ ساحل بس بند دروازے کو دیکھتا رہ گیا۔
جاری یے۔۔۔۔۔
