No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
ازقلم فاطمہ طارق
“یا اللہ یہ سب کیا ہے؟” صبح کے نو بج رہے تھے، کل کا انتہائی برا دن کٹ چکا تھا، بلاج رات سے کافی پریشان تھا، جیسے ہی اسفندیار ہارون کے گھر سے نکلا، اسنے تبھی بلاج کو فون کر کے بتا دیا۔، وہ اسکے لیے بے حد پریشان تھا۔ کسی طور اسکا پتہ نہیں لگ رہا تھا۔ اسکے موبائل پر اسنے کل رات سے ہزاروں بار فون کیا پر نمبر بند تھا۔ ابھی بھی وہ باہر لان میں چکر لگا رہا تھا۔۔جب ساحل نے آ کر اسے اندر آنے کا کہا۔ کہ نیوز چینل پر اسفندیار کے متعلق کوئی خبر چل رہی ہے۔۔۔۔ وہ جلدی ہی اندر آیا۔ سامنے ٹیوی لگا ہوا تھا۔
” جی ہاں ناظرین ، ہم ایک بار آپکو پھر سے آگاہ کر رہے ہیں، فرید احمد خان ، جو کہ خان انڈسٹریز کے مالک ہیں، جنکا بزنس کئی ملکوں میں پھیلا ہوا انکے چھوٹے بھائی مزمل خان کو انکے گھر گھس کر تین فائیز مارے گے، انکی حالت کافی نازک ہے۔ اور سب سے اہم بات انکو قتل کرنے کی کوشش جس نے کی وہ اور کوئی نہیں، ایس پی اسفندیار ہیں، اور آپکو اس بات سے بھی آگاہ کرتے جائیں کہ کل صبح ایس پی اسفندیار نے ہی فرید احمد کو قتل کے جرم میں اریسٹ کیا تھا۔ پر یہ بات غلط ثابت ہوئی، یہ سب اسفند یار کا رچا رچایہ کھیل تھا۔ جسکی تصدیق اسی لڑکے کی بہن نے کی۔ پلیز کل کی فوٹیچ سکرین پر چلائیں” ریپورٹر پرفیشنل انداز میں بولی رہی تھی۔ بلاج لڑکھڑایا۔۔۔۔۔ساحل نے اسے سھنمبالا۔۔۔
“ساحل اسکو ڈھونڈو یہ نہیں ہو سکتا میں اپنے اسفی کو جانتا ہوں، وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا” وہ کانپتے ہاتھوں سے ساحل کے کندھے کو ہلاتے ہوۓ بولا۔۔
“جی بابا” وہ اپنے موبائل پر اسکا نمبر ملانے لگا۔۔۔
“بلاج کیا ہوا؟” میرال باہر سے شور سن کر اپنے کمرے سے نکلی تو سامنے پریشان سے بلاج کو دیکھا تو فوراً اسکے پاس آئی۔ اج نے پسینے سے تر چہرے کو ہاتھ سے صاف کیا۔۔ میرال کی نظر ٹیوی پر پڑی۔ اسکے قدموں تلے زمین کھسکی۔ جہاں اسفندیاد کی تصویر چل رہی تھی۔۔۔۔۔
“اسفندیار ایسا نہیں کر سکتا” اسکے منہ سے پھسلا۔۔۔۔۔۔
“سن کر ہی روح تک کانپ جاتی ہے، کسی کے گھر جا کر کیسے کوئی کسی کو گولیاں مار سکتا ہے۔ جی ناظرین ابھی ہم مزمل خن کے برے بھائی فرید احمد کو وائیس کال پر لیں گے” ریپورٹر تبصرہ کرتے ہوے بولی۔ کچھ ہی پل میں فرید احمد کی آئڈیو سنائی دی۔ نیہا آواز سن کر اپنے کمرے سے نکل کر باہر آئی۔ اسے ٹیوی میں سے اسفندیار اور قتل سنائی دیا وہ جلدی سے باہر آئی۔ جیسے جیسے وہ سن رہی تھی ویسے ویسے اسکے پاؤں تلے زمین کھسک رہی تھی۔۔۔۔
“جی فرید احمد اب آپ کے بھائی کیسے ہیں؟”
“اسکا آپریشن ہو گیا ہے، ڈاکٹرز نے کہا ہے، چوبیس گھنٹے بہت کڑیٹیکل ہیں، آپ سب پلیز میرے بھائی کے لیے دعا کریں، نا جانے وہ ایس پی کس بات کا بدلہ لے رہا ہے، میرے معصوم بھائی کو جان سے مارنے کی کوشش، کی وہ ابھی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے، یا اللہ رحم۔فرما” وہ بھاری آواز مین بول رہا تھا جیسے ابھی بھی رو رہا تھا۔۔ ریپورٹر کچھ کہ رہی تھی۔بلاج صوفے پر دھے سا گیا۔۔۔ جیسے سب ختم ہو گیا۔ جیسے اسفندیار اس سے کوسوں میل دور ہو گیا۔۔ اسے اپنی نظر کے سامنے وہ چھوٹا سا بچہ نظر آیا، جو ماں باپ کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔۔ بلاج کو اپنی آنکھوں سے آنسوں نکلتے محسوس ہوۓ، وہ جانتا تھا اب سب ختم ہو گیا۔ اس بچے کی زندگی جسے اسنے اتنے سال بچانے کی کوشش کی آج وہ ہار گیا۔ وہ جانتا تھا اسفندیار نے جب پولیس فورس جوائین کی تھی، تب اسکا ایک ہی عزم تھا اپنے ماں باپ کی موت کا انصاف لینا۔ وہ اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کے خلاف لڑنا چاہتا تھا۔ اور شائد وہ لڑ بھی رہا تھا۔ پر آج اسے لگا جس چیز سے وہ اسے بچاتا رہا آج وہ وہی چیز کر گزرا۔۔۔ کیا سچ میں اسنے یہ کیا؟ کیا وہ واقعی ہار گیا؟ کیا وہ اس بچے کو بچا نہیں سکا؟؟؟؟؟؟
*********************************
“ہاہاہا مزہ آگیا” ہسپتال کے وی آئی پی روم میں مزمل خان، فرید احمد خان، شہیر، اور باسط بیٹھے ہوۓ تھے۔ باسط کا قہقہ ٹیوی پر چلتی نیوز دیکھتے نکلا۔۔
“مزہ تو آۓ گا ہی فرید احمد خان سے جو الجھے گا وہ اپنی عزت ، جان لے کر ڈوبے گا، بہت جلد ہمیں خبر ملے گی، اسفندیار مر گیا، ہاہاہا” وہ مغرور انداز میں بولا۔
“کیا مطلب؟” مزمل جوس کے گلاس کو کس کر پکڑتے ہوۓ بولا۔ اسکے لہجے میں ڈر تھا فرید احمد نے اسکی طرف دیکھا۔ اور پھر اپنی جگہ سے اُٹھ کر اسکے پاس آیا۔
” مجھے جو چاہیے تھا وہ تو بے وقوف دے کر چلا گیا
اب میں نے اسکے پیچھے آدمی لگا دیے ہیں، اب وہ بچ کر نہیں جا پاۓ گا، تم ناٹک جاری رکھو۔۔” وہ اسکے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوے بولا۔ اور پھر بہت زور سے اسکا کندھا دبایا، مزمل میں آہ کرتے اسے دیکھا کیونکہ اسکی انگلی میں ایک نوکیلی انگھوٹی تھی جو بری طرح اسکے کندھے میں دھنس گئی۔ مزمل کی سانسیں تھم گئیں، وہ اسے خونخار نظروں سے گھور رہا تھا۔ جس میں وہ اسے بہت کچھ باور کروا رہا تھا۔۔۔مزمل نے نظریں جھکا لیں۔ تبھی فرید احمد جا موبائل بجا۔ اسنے جلدی سے دوسرے ہاتھ میں پکڑے فون سے کال پک کی اور فون اسپیکر پر لگا دیا۔۔
“سر وہ۔۔۔ بھاگ گیا، ہم کب سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں، وہ بھاگ گیا ہے، ہم نے اسکے کندھے پر دو گولیاں ماری ہیں” اگے سے ایک آدمی ڈرتے ہوۓ بول رہا تھا۔
“کیا بکواس کر رہے ہو مجھے اسکی لاش چاہیے” وہ چیخا تھا۔ اسکے دماغ کی رگیں واضع ہوئیں۔ وہان بیٹھے تینوں اسکے خونخار انداز سے ڈر گے۔۔
“جی جی جی سر وہ بھاگگگگگ گیاااا ہے ہم پچھلے دو گھنٹے سے مسلسل اسے ڈھونڈ رہے ہیں” اگے سے آدمی لڑکھڑاتے ہوۓ بولا۔۔ فرید احمد نے ٹیبل سے جگ پکڑا اور اسے سامنے ایل سی ڈی پر دے مارا جو چکنا چور ہو کر زمین پر گِڑی۔
*************************************************
پانچ سال بعد:
پانچ سالوں میں بہت کچھ بدلا۔ سکندر حمدانی کا انتقال ہو گیا۔ سبھی کی زندگی اگے بڑھ گئی۔
“ماما ماما” علیزے سٹی ہسپتال کے چلڈرن واڈ میں ایک بچے کو ڈرپ لگا کر ہٹی تھی کہ اسکے دور سے ماما ماما کہنے کی آئی۔ وہ اس آواز پر مُڑی۔ سامنے اسکا بیٹا کندھے پر بیگ لٹاۓ کھڑا تھا۔
علیزے نے نیہا کے کہنے پر ہی ہسپتال میں جاب شروع کی، روحان کے بعد وہ مصروف سی ہو گئی، اسنے ایک اپارٹمنٹ رینٹ پر لیا۔۔ اسنے تین سال پہلے بہت ہمت کر کے، روحان کو پکڑا اور سکندر ولا آئی، جہاں اسے دروازے سے ہی بیج دیا گیا۔ کسی نے
اس سے بات تک کرنا گوارا نا کی۔ اسکے چھے مہینے بعد ایک دن اسکے گھر حرا آئی، وہ اپنی ماں کو دیکھ بکھری، اس سے معافیاں مانگیں، حرا نے تو اسے معاف کر دیا۔ وہ اس دن کے بعد اکثر عمیر سے چھپ کر اسے ملنے آتی تھی۔ روحان اور اسکے لیے ڈھیر ساری چیزیں لاتی۔۔کافی گھنٹے اسکے ساتھ رہتی۔۔
“شمائلہ آپ باقی کے مریض دیکھو میں آتی ہوں” وہ گلے سے استتوسکوپ نکال کر لیب کوٹ کی پاکٹ میں رکھا سر پر شفون کے ڈوپٹے کو درست کرتی وہ مسکراتی ہوئی اپنے بیٹے کے پاس آئی۔ اور اسکو گود میں اُٹھایا۔
“ماما کی جان سکول میں دن کیسا گزرا؟” وہ روحان کے گال کو چومتے ہوۓ بولی، اور اسے اُٹھاۓ اپنے کیبن کی طرف بڑھی۔۔
“بہت اچھا، ماما بھوک لگی ہے” وہ اسکے گلے میں باہیں ڈالے بولا۔۔
“کیوں لنچ باکس نہیں کھایا؟” علیزے نے اسے ہلکا سا گھورا۔
“نو ماما لنچ باکس میں نے سمل آرہی تھی” وہ ناک چڑھاتے ہوۓ بولا۔ علیزے نےا اسے گھورا۔ اسکا کیبن آ گیا۔ پر اس سے پہلے اسے اپنے ساتھ والے کیبن سے غصے سے بھری آواز سنائی دی۔ وہ اسطرف بڑھی۔ دروازے کے سائیڈ دیوار پر ڈاکٹر نیہا بلاج حمدانی لکھا ہوا تھا۔ اسنے دروازہ ہلکا پش کیا۔ تو وہ کھلتا چلا گیا۔۔ سامنے ہی بازوں کو سینے سے باندھے، وہ غصے سے اپنے سامنے کھڑی چار سالہ بیٹی پریشے سر جھکاۓ کھڑی تھی۔۔۔۔۔
“پریشے بولو اس بچے کو کیوں مارا ؟” وہ سختی سے اسے گھور کر بولی۔ وہ اسے پریشے تب ہی بولتی جب اس سے ناراض ہوتی، ورنہ وہ اسے پری کہ کر پکارتی علیزے نے پریشے کو دیکھا۔ جسکے سکول کے یونیفارم پر جگہ جگہ مٹی لگی ہوئی تھی۔ وہ سر جھکاۓ اپنے ناخن سے اپنے ہاتھ پر آۓ زخم کو چھیر رہی تھی۔۔
“پریشے دماغ خراب ہے کیا کر رہی ہو” نیہا نیچے بیٹھتے اسکا ہاتھ کھینچ گئی۔۔
“کیا ہوا؟ ” پیچھے سے ہاشم کی آواز آئی جب علیزے کے پیچھے کھڑا تھا۔۔
“ہاشم انکل” روحان خوشی سے چیخا۔ اور اسکی طرف باہیں پھیلا دیں۔ ہاشم نے اسے علیزے سے پکڑ لیا۔ علیزے اندر آئی۔
“یہ اس مہینے کی دوسری فائیٹ تھی، کیا مجھے بتانا پسند کرو گی کیا ہوا تھا؟” نیہا کو اس وقت اس پر بے حد غصہ آ رہا تھا۔وہ بالکل اسفندیار کی کاپی تھی، جیسے وہ اس سے کچھ شئیر نہیں کرتا تھا ویسے ہی وہ بھی اسے کچھ نہیں بتاتی تھی۔۔ چار سال کی تھی، پر وہ بھی خاموش طبعیت کی مالک تھی۔
“پریشے میں کچھ پوچھ رہی ہوں” وہ غصے سے چیخی۔۔
“نیہا اتنا غصہ مت کرو بچی ہے” اسنے نیہا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
“اسنے بولا تھا کہ میرے بابا ایک برے آدمی تھے اسی لیے انہون نے آپکو اور مجھے چھوڑ دیا، مجھے بہت غصہ آیا مین نے اسے مارا ” وہ غصے سے چیخی تھی۔ نیہا جہاں تھی وہی تھم سی گئی۔ پچھلی بار بھی وہ جس بچے کو مار کر آئی تھی اسکی وجہ وہ پوچھ پوچھ کر تھک گئی تھی پر اسنے نہیں بتایا۔۔ نیہا نے جلدی سے اپنے آپ کو سھنمبالا اور اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ اسکا چہرا دونوں ہاتھوں میں پکڑا۔
“پریشے میں بولا تھا نا کہ اپکے بابا لندن میں ہوتے ہیں، اور وہ بہت مصروف ہیں، بہت جلد وہ واپس آ جائیں گے” نیہا نے نرم لہجے میں اسے سمجھانا چاہا۔
“جھوٹ ماما جھوٹ بول رہی ہیں، بابا اور آپکا ڈائوس ہو گیا نا، اسی لیے وہ نہیں ملتے وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے نا، اور نا مجھ سے فون پر بات کرتے ہیں۔ مجھے کسی سے بات نہیں کرنی نا ماما چاہیے نا بابا ” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ نیہا چکرا کر رہ گئی۔ چھوٹی سی بچی کے ذہین میں کیا کیا آ رہا تھا۔
“ایسا نہیں۔۔۔” وہ ابھی بول ہی رہی تھی۔ کہ پریشے نے اسکے ہاتھ جھٹکے اور باہر کی طرف بھاگی۔ ہاشم نے اسے پکڑ لیا۔۔
“نیہا علیزے، میں انکو کچھ کھلا کر لاتا ہوں” وہ ان دونوں سے کہتا روحان اور پریشے کو لیے باہر کی طرف بڑھا۔
نیہا اُٹھی اور وہی پڑے صوف پر دھے سی گئی۔ اسنے اپنا سر ہاتھوں میں گِرا لیا۔
“نیہو سب ٹھیک ہو جاۓ گا، وہ بچی ہے، جزبات میں سب بول گئی” علیزے اسکے کندھے کے گرد اپنے بازو لپیٹتے ہوۓ بولی۔
“غلط کیا بولا اسنے، دو سال کی تھی جب اسنے پہلی بار بابا کہاں ہیں پوچھا تھا۔میں ٹالتی رہی، اور جان چھڑانے کے لیے میں نے بول دیا لندن میں ہیں، تب سے میں اسے ٹالتی رہی ہوں،اور کیا ہی بتاؤ کہ تمہارا باپ مجھے بدکردار کہ کر میرے باپ کے گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ اور آج تک نا پلٹا” وہ اپنا سر دباتے ہوۓ دکھی لہجے مین بولی۔۔۔۔
“تم جانتی ہو ان پر قتل کا الزام لگا تھا، کیسے آتے” علیزے نے اسکو سمجھانا چاہا۔۔۔
“علیزے مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی، میری آدھے گھنٹے بعد ایک سرجری ہے، تم پلیز ہاشم کو بول دینا وہ پریشے کو گھر چھوڑ دے، آج بھائی مصروف تھے اسی لیے میں اسے ہسپتال لے آئی” وہ اپنے بالوں کو جوڑے میں باندھتے ہوۓ بولی۔ جیسے اس ٹاپک سے جان چھڑانا چاہتی ہو۔ علیزے نے بھی مزید اس بارے میں کچھ کہنا مناسب نا سمجھا۔۔
“چلو ٹھیک ہے، میں بھی کچھ دیر میں آف لے کر جانے والی ہوں، روحان کی کچھ شاپنگ کرنی ہے” وہ صوفے سے اُٹھتے ہوۓ بولی۔ اور نیہا ملتی وہاں سے چلی گئی۔ اسکے جاتے ہی نیہا نے اپنا سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔ اور تھکی سے سانس لی۔ تنے ہوۓ اعصاب ڈھلے پڑے۔ اسنے اپنی آنکھیں بند کر دیں، ایک آنسو اسکے گال پر بہا۔ یہ پانچ سال اسنے جس تقلیف میں گزارے تھے، یہ صرف وہی جانتی تھی، اسفندیار کے جانے کے تین مہینے بعد اسے معلوم۔ہوا کہ وہ پریگینٹ ہے، اس خبر پر وہ خوش ہوتی یا اداس اسے خود علم نا تھا۔ وہ بہت خاموش ہو گئی، مسکراہٹ تو بھولے بھٹکے ہی اسکے چہرے پر آتی۔ اسنے خود کو کام میں حد سے زیادہ مصروف کر لیا تھا۔ اس سارے عرصے میں جو پل اسے سکون کے ملتے وہ صرف پریشے کی موجودگی میں ہوتے۔ وہ سب کے سامنے خود کو ایک دم نارمل دیکھانے کی کوشش کرتی، مگر اکیلے میں وہ ہر رات رو کر گزارتی، اسے آج تک اسفندیار کا وہ تلخ لہجہ، کردار کشی، نہیں بھولی تھی۔ سبھی گھر والے اسکا ہر قدم۔پر ساتھ دیتے۔۔۔۔۔
**************************************************
باہر گارڈن میں لگے پودوں کو وہ پانی دے رہی تھی، پاس ہی ساڈھے چار سالہ حوریہ اور دو سالہ اشعر بیٹھے تھے۔ حیام حوریہ گود میں لیے دھوپ میں بیٹھی ہوئی تھی کیونکہ اسکو بخار تھا۔ تو اسنے آج چھٹی کی ہوئی تھی۔ مین گیٹ سے ہاشم کی گاڑی اندر داخل ہوئی، نیہا نے اسے پریشے کو گھر چھوڑنے کا بولا تھا۔
” السلام علیکم! آنٹی ، بھابھی” ہاشم نے دونوں کا سلام کیا۔
” وعلیکم السلام! کیسے ہو بیٹا؟ مشی اور حسام کیسے ہیں؟ عمرہ سے کب لوٹ رہے ہیں؟” میرال نے پائیپ بند کرتے اسکے پاس آکر سلام کا جواب دیتے پوچھا
“الحمداللہ بالکل ٹھیک ہیں؟ کچھ ہی دنوں میں آ جائیں گے” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔ میرال نے اشعر کے پاس خاموش سی بیٹھی پریشے کو دیکھا۔
“کیا ہوا پری، موڈ خراب لگ رہا ہے” اسکے گال کو کھینچتے ہوۓ پوچھا۔
“پری کا آج پھر جھگڑا ہو گیا” ہاشم نے اسکا بیگ ٹیبل پر رکھا۔ اور پلٹ کر چلا گیا۔۔۔ میرال کے چہرے پر پریشانی سی بکھری۔
“مائی پرنسس کیا ہوا؟ کیوں مارا؟ نانو نے بولا تھا نا کہ کسی کو مارنا بری بات ہے” میرال اسکے پاس بیٹھی اور اسے گود میں بیٹھاتے ہوۓ پیار سے پوچھا۔
“اسنے بولا میرا بابا مجھے جان بوجھ کر چھوڑ گے ہیں، نانو کیا سچ میں بابا لندن ہمیں جان بوجھ کر چھوڑ گے، نانو جب ماموں دبئی گے تھے، تو انہوں نے حوریہ اور اشعر کو کتنی کالز کی تھیں۔ اگر میرے بابا سچ میں مجھ سے پیار کرتے ہوتے تو بات تو کرتے نا میں نے آج تک بابا کی آواز نہیں سنی” وہ نم لہجے میں بول رہی تھی۔ میرال کے دل کو کچھ ہوا، اسکی انکھیں بھی ہلکی سی نم ہوئیں۔ اسنے پریشے کو سینے سے بھیچا۔
“آپ اللہ سے دعا کیا کرو آپکے بابا جہاں ہیں وہاں خوش ہوں، اور جلدی میری پرنسس کے پاس آ جائیں” اسے بہلانے کے لیے اسنے کہا۔
” میں اللہ جی سے دعائیں کروں گی تو کیا سچ میں وہ آ جائیں گے؟” اسکی آنکھوں میں کتنی امید تھی۔ میرال نے نم آنکھوں سے ہاں میں سر ہلایا۔
“تو اب میں روز دعا کروں گی” وہ ایک عزم سے بولی۔۔
“انشااللہ تمہاری ہر دعا قبول ہو گی۔” حیام نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔۔
*****************************************************
“کیا ہوا پریشان لگ رہی ہو؟” بلاج آفس سے دیر سے لوٹا تھا۔ میرال پریشے کو سُلا کر کمرے میں آئی۔ وہ کافی پریشان تھی۔۔۔
“پریشے بری ہو رہی ہے، وہ اب اسفندیار سے بات کرنے پر انسسٹ کر رہی ہے” وہ اسکے پاس ہی صوفے پر بیٹھے ہوۓ بولی۔ اسکی بات سن کر بلاج نے اپنا چشمہ اتار کر آنکھوں کو دبایا۔
“اسے سچ بتا دو اسکا کوئی باپ نہیں ہے” جب وہ بولا تو اسکے لہجے میں کافی سختی تھی۔
“کیا بات کر رہے بلاج ہم ایسے اسے کچھ نہیں بول سکتے، وہ سٹریس لے لے گی” میرال نے اسکی بات کی نفی کی۔
“مجھے زندگی میں اتنا غصہ کبھی کسی پر نہیں آیا جتنا اسفندیار پر آتا ہے، بے وقوفی کی بھی حد ہوتی ہے، میری زندگی کا سب سے برا فیصلہ نیہا کی اس سے شادی کروانا تھی، پانچ سال ہو گے میرال ہماری بچی کس مشکل وقت سے گزری ہے، اور آج بھی گزر رہی ہے، تم اچھے سے جانتی ہو، میں جب جب اسے دیکھتا ہوں، میرا دل پھٹتا ہے” غصے سے بولتے ہوۓ اسکا لہجہ اخر پر نم ہوا۔ میرال کی آنکھوں سے آنسو نکلے۔۔۔۔
“تم جانتی ہو کتنے رشتے آتے ہیں، آج بھی اچھے سے اچھے گھر مین اسکی شادی کر سکتا ہوں”
“پر ایسا ممکن نہیں وہ اسفندیار کی بیوی ہے”
“جانتا ہوں، اسی لیے اسکا حل نکل لیا ہے، میں جانتا ہوں وہ آج بھی کیا کر رہا ہے، تم سنو گی تو بہت دکھ ہو گا، اسکو جس زندگی سے مین دور رکھتا رہا آ ج وہ اسی دلدل میں چلا گیا ہے۔ انڈرولڈ کے ڈون ابراہیم پاشا AP کا رائیٹ ہینڈ بنا ہوا ہے۔ نام بدل لیا ہے اسنے، RDX نام رکھا ہے۔ اسکے ساتھ مل کر اسکے ہر کام میں ساتھ دیتا ہے۔ لوگ اسکا نام سن کر کانپتے ہیں، ہنہہہہ مجھے تو یہ سوچ کر شرم آ رہی ہے، قیامت کے دن حسن بھائی کو کیا بولوں گا مین آپکے اکلوتے بیٹے کو اس دلدل میں جانے سے روک نا پایا” اسکا لہجہ غم غصے سے بھرا ہوا تھا۔
“کب معلوم ہوا؟ نیہا کو پتہ ہے؟” میرال کو اسکی بات پر یقین ہی نہیں رہا تھا۔
” تم جانتی ہی ہو جب وہ یہاں سے گیا تھا تب میں نے کتنے ہی مہینے اسے ڈھونڈا تھا۔ پر وہ ملا ہی نہیں، اب پچھلے چھے مہینے سے اسے دوبارہ ڈھونڈ رہا تھا، شائد مل جاۓ اور نیہا کا گھر دوبارہ بس جاۓ۔ دو ہفتے پہلے پتہ چلا۔ میرا سارا اعتماد وہی ٹوٹ گیا۔ اب میں اپنی بیٹی اور نواسی کو اس گنڈے ہے ہاتھ تو سے نہیں سکتا۔ اسی لیے میں نے کوٹ سے خلع کا نوٹس بنوایا ہے، پچھلے ایک ہفتے سے ہمت کر رہا تھا۔ کہ کسی طریقے نیہا سے بات کرو وہ سائن کرے تو اسے بھجوا دوں، پر ہمت ہی نہیں ہو سکی” وہ اپنا سر ہاتھ میں گِرا گیا۔۔۔۔
“وہ آتی ہے تو اس سے بات کر لو، میں بھی اسے اس گندگی مین نہیں جانے دوں گی” میرال نے بہت مشکل سے الفاظ ادا کیے۔ کچھ فیصلے دل پر پتھر رکھ کر مستقبل کے بارے میں سوچ کر لینے پڑتے ہیں۔
باہر گاڑی کا ہان بجا، یقیناً نیہا آ چکی تھی۔۔۔۔ بلاج نے میرال سے کہا کہ وہ نیہا کو یہاں بھیجے تا کہ وہ اس سے بات کر سکے۔۔ میرال نیچے گئی، اور نیہا کو انے کا بولا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
