No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
وہ اس وقت اپنے کمرے میں نیم اندھیرا کیے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ ہاتھ میں موبائل تھا۔ جس پر کچھ تصویریں نظر آ رہیں تھیں۔ جس میں بلاج راحیل کے گلے سے لگا ہوا تھا اسکی آنکھیں نم تھیں۔ اسنے موبائل بند کر کے بیڈ پر رکھا۔ اسکی آنکھوں کے سامنے سے بلاج کا چہرا جا ہی نہیں رہا تھا۔ وہ بے چینی سے اُٹھ کر بیٹھ گیا، اسنے اپنا سینہ مسلا۔۔ وہ کھڑا ہوا اور گاڑی کی چابی پکڑی۔۔ اور نیچے آیا۔ وہ چہرے پر رومال ڈالنا بھول گیا تھا۔ گاڑی سٹاٹ کی تو دو ملازم اسکے پاس آۓ، اسنے انکو انکار کیا اور خود گاڑی ڈرائیو کرتا رخ بلاج کے گھر کی طرف کیا۔۔۔۔۔۔
وہ گھر سے پانچ منٹ کی ڈرائیو پر ہی تھا۔ اسنے اچانک سے گاڑی روکی۔ اور سر سٹرینگ پر ٹکا دیا۔۔۔ کچھ دیر بعد اسنے گاڑی کی چابی گھومائی، اور یو ٹرن لے کر دائیں جانب کی سڑک پر گاڑی ڈال دی۔۔۔۔۔ دس منٹ کی ڈرائیو کے بعد وہ ایک کھنڈر نما بلڈنگ پر پہنچا، گاڑی کی لائیٹ بند کی، اور دو منٹ بعد وہ باہر نکلا، گاڑی کو لاک لگاتے ہوۓ باہر آیا، ایک نظر ادھر اُدھر دیکھا، اندھیرا ہی اندھیرا تھا وہ اس کھنڈر نما بلڈنگ میں داخل ہوا تو ہر جگہ گند ہی گند تھا، مٹی ہی مٹی تھی، وہ ایک کمرے میں داخل ہوا، جگہ جگہ پر جالے لگے ہوۓ تھے۔ وہ اگے بڑھا، کمرے کے بالکل آخر پر گیا، اسنے اپنی پاکٹ سے ایک چھوٹا سا ریمورٹ نکالا، اور اسکا سبز بٹن دبایا۔ اور تھوڑا پیچھے ہوا، زمین سے ایک ایک بری ٹائل کے برابر جگہ ایک ہی سیکنڈ میں کھل کر ایک رستہ سا بنا گئی، جہاں سے سیڑھیاں نظر آ رہیں تھیں، وہ سیڑھیوں سے نیچے اترا، اسنے لال بٹن دبا تو وہ جگہ دوبارہ سے بند ہو گئی کوئی سچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکے نیچے کوئی جگہ ہو گی۔۔ یا یہ ایسے کھل بھی سکتا ہے۔ یہ کافی برا کمرہ تھا، جہاں ایک طرف سنگل بیڈ رکھا تھا ایک واشروم بھی تھی، ایک چھوٹی سی الماری بھی تھی۔ اسنے اے سی کا بٹن آن کیا۔ وہ اگے بڑھا اور کمرے میں بنی دیوار پر لگی پینٹنگ پر بنے شیر کی آنکھ کو پریس کیا تو ایک چھوٹا سا دروازہ کھلا۔ وہ گردن جھکا کر اس میں داخل ہوا، یہ ایک کمرہ تھا، جہاں ایک طرف چھوٹی سی الماری تھی، اسنے بائیں دیوار کو دیکھا۔ جہاں تین چار ایل سیزیز لگی ہوئیں تھیں، جہاں پر کچھ فوٹیجیز چل رہیں تھیں۔ وہ ریوالونگ کرسی پر ڈھے سا گیا۔ اور سکرین کو دیکھنے لگا۔ ایک ایل سیڈی پر ہارون کے گھر کے تین چار کیمروں کی ریکاڈنگ چل رہی تھی، مین گیٹ، حال، راستے کی، اور چھت کی، وائس ریکارڈنگ بھی تھی۔ دوسری پر سکندر ولا کی فوٹج تھی، بالکل اسی طرف اور تیسری پر بلاج ولا کی تھی، مین گیٹ، گارڈن، ساری بالکنی، اور حال کی بھی۔۔ اور سب سے آخر چوتھی پر فرید احمد کے گھر کی فوٹیج تھی، بالکل سیم طریقے سے۔ اسنے بلاج کے کمرے کی بالکنی کی فوٹیج دیکھی۔ اسنے وائس اوپن کی، وہ میرال کے ساتھ کھڑا تھا۔ اور کافی اداس نظر آرہا تھا۔۔۔
“چاۓ پی لیں، اور اداس مت ہوں” میرال نے اپنا چاۓ کا کپ اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔ بلاج نے نفی میں سر ہلاتے گہرا سانس خارج کرتے اوپر آسمان کو دیکھا۔۔
“لیں ویسے تو جب بھی موقع ملے، ہمیشہ میری جھوٹی چاۓ پیتے ہیں” میرال نے اسکے ہاتھ میں چاۓ کا کپ پکڑاتے ہوۓ کہا۔ بلاج اسکی بات پر ہلکا سا مسکرایا۔ اور چاۓ کا کپ پکڑ لیا۔ اسکے اپنا ایک بازو کھولا۔ میرال اسکا اشارہ سمجھتے ہوۓ اسکی آغوش میں آ گئی۔ بلاج نے چاۓ کی ایک چسکی بھری
“یاد ہے، کیسے یونی میں مجھے چڑانے کے لیے، میرے برگر، چاۓ، بوتل کے کین میرے ہاتھ سے پکڑ کر بنا مجھ سے پرمیشن لیے کھا جاتے تھے” میرال نے پچھلی خوبصورت یادوں کا انبار کھولا۔ بلاج ہنس دیا۔۔۔
“اور تم بھی تو مجھے منع نہیں کرتی تھی” بلاج نے اسکے بال سہلاتے ہوۓ کہا۔
“ہاں کیونکہ مجھے بھی اچھا لگتا تھا، سنا نہیں جھوٹا کھانے سے پیار بڑھتا ہے، میں تو بس ہمارے پیار کو بڑھتے ہوۓ دیکھنا چاہتی ہوں” میرال اسکے سینے پر تھوڑی رکھے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے محبت بھرے لہجے میں بولی۔۔ بلاج مسکرایا۔ اور سامنے دیکھنے لگا۔۔
وہ سکرین پر انکی گفتگو سن رہا تھا۔
“کیا ہوا؟” میرال نے اسکا چہرا ہاتھ سے پکڑتے اپنی طرف کیا۔ اور علحیدہ ہو کر اسکے سامنے آئی۔
“میرو، محبت میں تو بھروسہ ہوتا ہے نا؟” بلاج نے سوال کیا۔
“ہاں بالکل محبت کی پہلی نیو ہی بھروسہ ہے” میرال نے جواب دیا۔
“تو کیا اسفندیار کو ہماری بیٹی سے کبھی محبت نہیں ہوئی، جو اسنے اس پر بھروسہ نہیں کیا، تمہیں یاد ہے وہ دن جب وہ نیہا گھر آئی تھی، اور اسفندیار نے جو کچھ کہا، پتہ ہے مجھے ایک بات نہیں بھولی، سوچ رہا ہوں، اگر مجھے وہ سب کڑوی باتیں یاد ہیں، تو نیہا کو ایک ایک لفظ یاد ہو گا، اور وہ کتنی تقلیف میں ہو گی” بلاج کے الفاظوں نے اسفندیار کی سانس تک کو تھما دیا۔۔میرال نا جانے اسے کیا کہ رہی تھی، اسنے نیہا کے کمرے کی بالکنی کا کیمرہ سکرین پر اوپن کیا، پر وہاں ایک دم۔اندھیرا تھا گہرا اندھیرا، اسکا کمرہ بھی اندھیرے کی زرد میں تھا۔ بالکل اسکی زندگی کی طرح۔۔۔۔ اسنے ریموررٹ ٹیبل پر رکھا اور اپنی گردن اس چئیر پر گِرا دی۔۔۔ اور اوپر سفید چھت کو دیکھتے چیر کو ہلکا ہلکا گھومانے لگا۔ اسکی آنکھوں کے سامنے وہ دن لہرایا۔ جب وہ فرید احمد نے اس پر مزمل کو مارنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا تھا۔۔۔۔۔اسکے پیچھے لڑکے پڑے تھے۔اسنے کافی گھنٹوں سے بند کیا فون رات کے دو بجے کھولا تھا، سکرین پر بلاج، ساحل، ہارون، نور کی لا تعداد کالز میسجز تھے۔ اسنے واٹس اپ نہیں کھولا۔ اسکی نظر ایک میسج پر G کے نام سے جگمگاتے نمبر پر اسے سم پر میسج ملا، جس میں ایک لوکیشن تھی، اور ساتھ لکھا تھا come fast، اس نمبر سے صرف یہی ایک میسج تھا۔ وہ اُٹھا اور جلدی سے اس لوکیشن پر پہنچا۔۔۔۔ اسنے خود کو بچانے کے لیے چہرے پر رومال باندھ رکھ تھا۔ اور اس رومال کی شروعات یہی سے ہوئی۔۔ وہ لوکیشن پر پہنچا جہاں پر ایک بائیک کھڑی تھی۔ وہ جلدی سے اس بائیک کے پاس آیا۔۔۔ جہاں پر سر پر ہیلمٹ پہنے گلناز کھڑی تھی۔
“چلیں سر” گلناز نے ہیلمٹ اسے دیا، اسنے جلدی سے ہیلمٹ پہنا، اور اسکے پیچھے۔ بائیک پر بیٹھا اور بیگ ہاتھ میں پکڑا۔۔ گلناز نے بائیک چلا دی۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ایک گھر کے پاس رکی، دونوں اندر آۓ۔ وہ سیدھا سٹڈی روم میں پہنچے، سامنے اسکے سر عاطف تھے، جنہوں نے کل اسے سسپینڈ کیا تھا۔
” السلام علیکم! سر” دونوں نے سلیوٹ کیا۔ گلناز اندر کور کام۔کرتی تھی، سبکے سامنے وہ ایک عام سی لڑکی بن کر اپنے کام کرتی، وہ ایک قابل لڑکی تھی۔۔۔
” وعلیکم السلام! بیٹھو” وہ سامنے صوفے پر بیٹھے، اور دونوں کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اسفندیار بہت پریشان تھا۔۔
“کیا ہوا ایس پی اسفندیار، سوچا نہیں تھا تم جیسا آفیسر کبھی اتنا برا پھنس سکتا ہے” عاطف صاحب کی گھمبیر آواز گھونجھی۔
“سر جب اپنے ہی پیٹھ پر چھڑا گھونپ دیں تو اچھا بھلا انسان یوں پھنس جاتا ہے” وہ طنزیہ انداز میں خود کی ہی حالت پر ہنسا۔۔
“غالباً تم اپنے قریبی دوست شہیر کی بات کر رہے ہو” عاطف صاحب نے کہا۔ اسفندیار نے گہرا سانس لیا اب وہ انہیں کیا بتایا وہ کس اپنے کی بات کر رہا ہے۔۔ اسنے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔
” میاں میں تو تمہیں کافی بہادر سمجھتا تھا، پر تم تو ایک دم بزدل نکلے، ایک شخص نے دھوکہ کیا دے دیا، تم تو سب چھوڑ چھاڑ کر بھاگ رہے ہوں، بھولا مت تمہیں اپنے ماں باپ کا بدلہ لینا ہے، ایسے کیا دیکھ ریے ہو، میں سب جانتا ہوں، اور اب جب تم سب چھوڑ ہی چکے ہو، تو یہ ایک اچھی اپارچونٹی ہے، ہم اپنا انڈر کور اپریشن شروع کر سکتے ہیں” عاطف صاحب کہتے ہوۓ اُٹھے اور الماری سے ایک فائل نکال کر اسکے سامنے رکھی۔ جس پر اسفندیار نے فائل کھولی اس میں ابراہیم پاشا کے بارے میں ڈیٹلز تھیں۔۔۔۔
“تمہیں اسکا خاص آدمی بننا ہو گا۔ اسکے کام کی ہر خاص سے خاص اور عام سے عام بات جاننی ہو گی، اسکا کام۔کرنے کا طریقہ اسکا کام۔کتنا اور کس کس ملک میں پھیلا ہوا ہے، سب اسکے ساتھ اس مالک میں کتنے لوگ اسکا ساتھ دے رہے ہیں، ہر ایک ایک چیز پتہ کرنی ہے، تمہیں اسکا رائیٹ ہینڈ بننا ہو گا، اسے تم پر خود سے زیادہ یقین ہو جاۓ گا، جس دن وہ تمہیں اپنے راز کی ہر بات خود بتانے لگ جاۓ گا، اس دن۔۔۔۔۔۔” عاطف صاحب صاحب بولتے بولتے رکے۔۔
“پھر کیا سر؟” اسکے منہ سے پھسلا۔۔
“پھر ہم اس کو تباہو برباد کر دیں گے، ہمارے پاس اتنے ثبوت ہوں گے وہ جیل سے چھوٹ نہیں سکے گا یہ مت بھولنا ابراہیم پاسا کے سامنے یہ فرید احمد جیسے لوگ بالکل معمولی ہیں، یہ سب اسکے پاس کڑویوں کے دام بکتے ہیں، یقیناً فرید احمد بھی اسکے ساتھ ملنا چاہتا ہو گا، تم یوں سمجھو ہمیں مافیا کے جال میں پھنسی سب سے بری مچھلی کو پکڑ کر مارنے والے ہیں جس سے اسکے اس پاس کی چھوٹی چھوٹی مچھلیاں خود با خود ترپ کر مر جائیں گی” عاطف صاحب نے سارا پلین سمجھایا۔۔۔۔۔اسفندیار چپ سا ہو گیا۔۔۔ یہ ساری انفارمیشن گلناز نے اکھٹی کی تھیں۔۔
“سر اس میں کافی وقت لگ جاۓ گا” اسفندیار ٹیبل پر فائل رکھتے ہوۓ بولا۔۔
“اسفندیار اس میں مہینے نہیں، سال نہیں بلکہ کئی سال لگ جائیں گے، اگر تم چاہتے ہو تو یہ انڈر کرو اپریشن سھنمبال سکتے ہو تمہارے ساتھ کچھ مہینوں بعد حسین جڑ جاۓ گا، اور گلناز بھی تمہارے ساتھ وہ گی” عاطف صاحب نے اپنی آخری بات مکمل کی۔۔۔۔۔
“جی سر میں کروں گا” اسنے پرجوش انداز میں کہا عاطف صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔ انہوں نے اسفندیار کے سامنے ایک فائل رکھی جس پر اسنے سائن کیا۔۔۔۔۔۔۔ اور یوں اسکی اس مافیا مین قدم رکھنے والی زندگی کی شروعات ہوئی۔۔۔۔
اسکے موبائل پر گھنٹی بجی اور وہ ماضعی کے پردوں سے باہر نکلا، اور اسکے موبائل پر نور کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ اسنے فون اُٹھاتے کان سے موبائل لگایا۔
“ہمممم کیسی ہو بیٹا” اسنے پیار سے پوچھا اگے سے وہ رونے لگ گئی۔ وہ ایک دم سیدھا ہوا۔ اسنے اپنے ہارون کے گھر کا کیمروں میں دیکھا نور گارڈن میں بیٹھی کان سے فون لگاۓ رو رہی تھی۔۔۔
“کیا ہوا رو کیوں رہی ہو، ماما پاپا تو ٹھیک ہیں؟” اسنے پریشانی سے بھرے لہجے میں پوچھا۔۔
“بھائی بہت کوشش کی۔۔۔۔۔پر۔۔۔۔۔” روتے ہوۓ اسکی ہچکی بندہ گئی۔۔۔ اسفندیار نے گہرا سانس لیا وہ اسکے بنا بولے جان گیا وہ کیا بات کر رہی ہے۔۔۔۔
“اٹس اوکے نور سب ٹھیک ہو جاۓ گا میں بہت جلد گھر آ جاؤں گا تم ماما اور پاپا کا خیال رکھو، میں فون رکھ رہا ہوں اللہ حافظ” اسفندیار نے کہتے ہوۓ کال بند کی، نور فون سائیڈ پر رکھتے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے زور قطار رو دی۔۔۔ اسفندیار کے سر پر ہلکا ہلکا سا درد ہو رہا تھا۔ وہ جب بھی یہاں آتا اسکے ساتھ سیم یہی ہوتا۔۔
وہ روشانے اور راحم کی بارات سے ہو کر واپس گھر آئی، پریشے تو سو چکی تھی، ساحل نے اسے اسکے کمرے میں لٹایا، اور چلا گیا۔۔ وہ آج بلیک فراک پہن کر گئی تھی، میک اپ ہلکا سا تھا۔بال کمر پر بکھرے ہوۓ تھے، اسنے انہیں سمیٹ کر جوڑے کی شکل دی، اور الماری سے نائیٹ سوٹ نکالنے لگی۔۔ جب دورازے کو بند کر کے لاک لگانے کی آواز گھونجھی، اسکے پیروں تلے زمین کھسکی، اسنے الماری کا دروازہ بند کرتے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھا۔
“ہیلو مِسز کیسی ہو؟ ویسے اس ڈریس میں کمال لگ رہی ہو” دروازے پر ٹیک لگاۓ کھڑا وہ ایک آنکھ ونک کرتے ہوۓ بولا۔ نیہا کا تو دماغ گھوم گیا وہ یہاں کب آیا؟ اسنے پریشے کو ایک نظر دیکھا۔ وہ سوئی ہوئی تھی۔۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں، چلیں نکلیں یہاں سے” نیہا اگے بڑھی اور دروازہ کھولنے لگی۔ اسفندیار نے اسکا ہاتھ پکڑتے روکا۔
“خوشفہمی میں مت جیو، میں یہاں تم سے ملنے نہیں، بلکہ بیٹی سے ملنے آیا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اپنی بچی سے ملنے سے نہیں روک سکتی” وہ اسکا ہاتھ چھوڑتے ہوۓ، پریشے کی طرف بڑھا اور بیڈ پر اسکے پاس بیٹھتے اسکے بال سہلاتے اسکا ماتھا چوما۔۔۔
“ہنہہہہ پانچ سال بعد جسکی محبت میں آپ یوں اگے ہیں، کیا گرنٹی ہے یہ آپکی ہی بیٹی ہے؟” نیہا کے منہ سے نکلنے والے الفاظوں نے اس وقت اسفندیار پر کوڑوں کا کام کیا۔۔ وہ سیدھا کو کر بیٹھا۔ چہرے پر آئی شوخی ایک دم سرد چہرے میں بدلی۔ ماتھے اور گردن کی رگیں تنیں۔۔
“اس بکواس کا مطلب جان سکتا ہوں؟” اپنا غصہ ضبط کرتے کہا تھا۔۔
“کتنی راتیں تم نے اپنے اس فرید احمد کے ساتھ کاٹیں ہیں، جو وہ تمہارے جسم پر موجود تلوں تک کو جانتا ہے
“مجھے تمہاری پاکیزگی دیکھ کر محبت ہو گئی، اور تم میری پیٹھ پیچھے ایسا گندھا کھیل کھیل رہی تھی، قسم سے میرا دل کر رہا ہے، تمہاری جان لے لوں، یہ کچھ آپکے منہ سے میری ذات کے لیے نکلے گے خوبصورت سے الفاظ ہیں، یقیناً آپکو یاد نہیں ہوں گے، فکر مت کریں، میری میمروی کافی اچھی ہے مجھے ایک ایک لفظ یاد ہے” وہ قدم قدم۔چلتی اسکے قریب آتے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بول رہی تھی، اسکے لہجے میں چھپا ایک ایک لفظ کے ساتھ نظر آ رہا تھا۔ اسفندیار نے نظریں پھیریں۔۔ اور اُٹھ کر کھڑا ہوا۔۔
” اب نظریں کیوں پھیر رہے ہیں، جب کہتے ہوۓ زبان نہیں کانپی تو سنتے ہوے کیوں شرمندگی ہو رہی ہے” وہ اسکا چہرا اپنی طرف کرتے ہوۓ ضبط کے مارے بولی۔
“مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی، میں یہاں تم سے کسی اور سلسلے میں بات کرنے آیا ہوں” وہ صاف اس ٹاپک کو بدل گیا۔ نیہا اسکی حرکت پر طنزیہ انداز میں ہنسی۔۔
“مجھے کسی بارے میں بات نہیں کرنی جائیں یہاں سے” وہ شیشے سے ٹشو پکڑتے آنکھوں کے کنارے صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
“اوکے فائن میں پھر بلاج انکل کے کمرے میں جاتا ہوں، اور انہیں تمہاری کل کی بہادری کا مکمل قصہ سنا کر آتا ہوں” وہ کندھگ اچکاتے ہوۓ بولا۔ اور کمرے کے دروازے تک پہنچا وہ بھاگ کر آئی۔
“کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں جیسے پانچ سال غائب رہے ہیں ویسے ہی اب بھی جائیں، میری زندگی میں انٹرفیر مت کریں” ہینڈل پر ہاتھ رکھتے وہ غصے سے بولی۔۔
“چلا جاؤں گا، بس تم میری بات سن لو، میں ایک ڈیل لے کر آیا ہوں” اسفندیار نے ہینڈل سے ہاتھ ہٹایا۔۔
“بولیں” وہ ضبط کرتے ہوۓ بولی۔ جانتی تھی وہ جاۓ گا تو نہیں۔
“کیا تم ابھی بھی ہسپتال میں کیا چل رہا ہے اسکا پتہ لگاؤ گی، یا سب سے دور رہو گی؟” اسنے ایک آخری دفع پوچھا شائد وہ دور رہنے کا بول دے۔
“میں تو وہی کروں گی، جو کل بولا تھا، مجھے سب پتہ کرنا ہے، اور کوئی مجھے روک نہیں سکتا” نیہا دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوۓ اٹل لہجے میں بولی۔۔۔
“اوکے فائن تو میرے انڈر کام کرو، ہم دونوں مل کر پتہ لگا لیں گے، کہ کیا چل رہا ہے، اور پھر کیسے روکنا ہے یہ مجھ پر چھوڑ دو، اور اگر تم۔نا مانی تو میں جا کر انکل کو بتا دوں گا” اسفندیار نے اسکے سامنے ڈیل رکھی۔ نیہا بس غصے سے اسے گھورے جا رہی تھی۔
“ہنہہہہ بری حیرانی کی بات ہے، آپ تو ویسے بھی مجھے اس فرید احمد کے ساتھ لنک کر چکے ہیں، آپکے مطابق تو میں نے اسے فون کر کے بتا دیا تھا کہ آپ اسے پکڑنے والے ہو اور وہ تو میرا عاشق ہے نا، میں تو اسکے ساتھ را۔۔۔۔۔” وہ طنزیہ انداز میں بول رہی تھی، بولتے وقت آواز اسکی کانپ رہی تھی۔ اور وہ سامنے کھڑا زمین کی طرف دیکھتا جبڑے تانے اسکے طنز سن رہا تھا۔۔
“آپکو مجھ سے دور رہنا چاہیے، میں اگر تب اسکے ساتھ تھی تو ابھی بھی ہو سکتی ہوں، اپنے پلینز میرے ساتھ ڈسکس مت کریں، اور نا مجھے ان میں شامل کریں، کہیں آپکا سیکڑٹ مشن خراب نا ہو جاۓ” وہ اسکے جھکے سر کو دیکھتے ہوۓ طنزیہ انداز میں بولی۔ ایک جھٹکے سے اسفندیار کا چہرا اُٹھا۔
“کیا بول رہی ہو، کونسا سیکرٹ مِشن؟ میں مافیا کے ساتھ ہوں، اور اب انہی میں سے ایک بندہ ہوں، اور مجھے فرید احمد یا اسکے پالتوں کتوں کو نہیں پکڑنا، میں بس تمہیں ان سب میں پھسنے سے روکنا چاہتا ہوں، آئی سمجھ” وہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔ نیہا طنزیہ ہنسی۔ اور دو قدم اسکے قریب آئی۔۔۔
“مافیا بن کر صرف بُرے لوگوں کو پکڑ کر مارنا، اس ابراہیم پاشا کا اتنا اہم ساتھ بن جانا تا کہ فرید احمد کو تباہ کر سکیں، میں پہلے بے وقوف تھی، آنکھیں بند کر کے دوسروں کی انکھوں سے دیکھا پسند کرتی تھی، پر اب ٹھوکروں نے کافی عقل دے دی ہے، اور ویسے بھی آپ جیسا محب وطن شخص کِسی مافیا کا حصہ نے بن سکتا، اوپر سے دیکھا لو جتنا مرضعی اندر سے وہی محبت وطن، اور ایک بدلہ لینے والے شخص ہو” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ڈٹ کر بولی، اور اس پل اسفندیار زندگی میں پہلی بار لا جواب ہوا، وہ پر یقین انداز کے ساتھ کہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
“اپنے آپ کو اتنا عقل مند نا سمجھو، انکل کی وجہ سے تمہیں بچا رہا ہوں، تا کہ تم کسی کھڈے میں نا گڑ جاؤ، ورنہ میں تم سے کلام کرنا نا پسند کروں” وہ بھی اسی انداز میں بولا۔۔
“واٹ انکل کی وجہ سے ہاہاہا اسی انکل کو بہت دکھ دے چکے ہیں، اب میری رکھوالی کرنے سے کیا ملے گا، بھرے مجمے میں میری ذات اور کردار کی دھجیاں اُڑاتے ہوۓ تو آپکو اپنے انکل لا احساس نہیں ہوا برے آۓ احساس کرنے والے” وہ تائسف بھری نگاہ اس پر ڈالے بولی۔۔۔ اسفندیار اگے بڑھا اور اسکو دونوں بازوں سے پکڑا۔۔۔
“حیرانگی کی بات ہے کافی اچھا بولنا سیکھ گئی ہو، میرے سوالوں کا جواب دینا، اگر تمہیں میری ڈرار میں سے تمہیں ایک موبائل ملتا اور کوئی نا سہی تو سوچوں اگر اس میں گلناز اور میری اُس قسم کی تصویریں ہوتیں، اسکے اوپر دونون کی رومینٹک سی تصویر ہوتی، اور فون کی گیلری میں بے حد بولڈ تصویریں نظر آتیں، واٹس اپ مین ڈھیر سارے میسجز ہوتے، جنکی گفتگو بواۓ فرینڈ اور گرل فرینڈ والی ہوتی، اسے وہ باتیں ہوتیں جو صرف تمہارے اور میرے درمیان ہوئی ہوتیں، تو امیڈیٹلی تمہارا ری ایکشن کیا نکلتا” وہ اسکے دونوں بازو سے پکڑے اپنے قریب کرتے چبا چبا کر ایک ایک لفظ بول رہا تھا۔
“میں کبھی یقین نا کرتی، میں آپکو وہ سب دیکھاتی، نا کہ آپ پر الزام لگاتی، اور نا ہی تھپڑ مارتی نا اپکے ماں باپ کے سامنے کچھ کہتی، آپکی ذات کے ٹکرے ٹکرے کبھی نا کرتی، کیونکہ مجھے آپ پر بھروسہ ہوتا یقین ہوتا” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ اور اپنے بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“بالکل نہیں، تم بھی وہی سب کرتی جو اس وقت میں کرتا تم سوچ بھی نہیں سکتی اس وقت میرا اسٹیٹ آف مائینڈ کیا تھا، میرے دوست نے مجھے دھوکہ دیا، مجھے ایک جال میں بہت بری طرح پھنسایا گیا۔ اس پر مجھے یہ سب دیکھنے کو ملا تو میرا وہ ردِعمل نکلا” وہ ضبط کی وجہ سے ہوئی لال آنکھوں سے اسکے روتے ہوۓ چہرے کو دیکھتے بولا۔۔۔۔وہ بلک بلک کر روتے ہوۓ وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ وہ بھی اسکے ساتھ ویسے ہی بیٹھا۔۔۔
“اس سے اگلے دن ہی مجھے احساس ہو گیا تھا کہ میں نے غصے میں ویسا ہی ری ایکٹ کیا جیسا وہ فرید احمد چاہتا تھا، میں نے سیم وہی کیا، میں اگر تھوڑا سا ان سب چیزوں پر غور کرتا تو پکڑ لیتا کے سب فیک تھا” اسکے لہجے میں پچھتاوا تھا۔۔۔۔ نیہا نے اپنے بازو ایک جھٹکے سے چھڑواۓ۔۔۔
“بس کریں یہ سب کل تک تو مجھے طعنے دے رہے تھے اور آج یوں آچانک آپکو لگ رہا ہے کہ میں غلط سمجھا، میں اچھے سے جانتی ہوں، آپ صرف مجھے اپنے ساتھ کام کرنے کے لیے ایسا بول رہے ہیں، اندر سے ابھی بھی آپ مجھے گڑی ہوئی لڑکی بول رہے ہیں جو شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی کے ساتھ۔۔” وہ غصے سے اسے پیچھے کو دھکہ دیتے ہوۓ بولی۔۔۔
“نیہا ایسی بات نہیں کل بس غصے میں بول دیا۔۔۔۔۔” وہ اپنے کل کے بیوہیر کی جسٹی فائیی کر رہا تھا۔۔۔
“ریلی اسفندیار ریلی غصے میں نکل گیا، آپکا سارا غصہ کیرے کردار پر آکر ختم ہو جاتا ہے پھر تو آپ بہت ہی چھوٹی سوچ والے مرد ہیں” وہ اپنا سر گھٹنوں پر رکھتے ہوۓ روئی تھی۔۔ اسفندیار کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے۔ وہ یہ سب ابھی نہین کہنا چاہتا تھا۔ وہ اسی لیے اسکی اس ٹاپک پر ہر بات کو اگنور ہی کر رہا تھا۔ لیکن اسکی حالت دیکھ اس نے کہ دیا۔۔۔۔
“نیہا میری بات پر یقین۔۔۔۔۔” ابھی الفاظ اسکے منہ مین ہی تھے کہ پریشے کی آواز کمرے میں گھونجھی۔۔
“بابا۔۔” وہ بیڈ پر بیٹھی زمین پر بیٹھے اسفندیار کو دیکھتے خوشی سے چلائی۔ اسفندیار نے ایک اسکی طرف دیکھا اور کھڑا ہو گیا۔ وہ بھاگ کر اسکے سینے سے لگی۔۔۔اسفندیار نے اسے اپنی آغوش میں لیتے نیہا کو دیکھا جو پریشے کی آواز سن کر واشروم میں گھس گئی۔ اسنے ایک گہرا سانس خارج کیا۔ اور پریشے کا گال چوما۔۔۔ انکی اچھی خاصی زندگی آج کس حال مین پہنچ چکی تھی، نیہا کا اتنا برا حال دیکھ وہ آج پہلی بار ڈرا تھا۔ ورنہ وہ ہمیشہ سوچتا مشن ختم کر کےوہ سب سے بات کرے گا، اور نیہا کو تو منا ہی لے گا ۔ ابھی بھی وہ بالکل انکے نا آتا اگر اس دن حسنین کو ہسپتال نا لے جانا پڑتا۔۔۔ اس نے سوچا نیہا کے ساتھ سرد رویہ رکھے گا تا کہ وہ دور ہی رہے، اور مُصیبت میں نا پھنسے۔۔ مگر پھر اسکا اس دن پارٹی میں جا کر ویڈو بنانا۔۔۔ اس نے ان سب پر دور ہو کر بھی نظر رکھی ہوئی تھی، نیہا کے موبائل اور گاڈی میں ایک ٹریکنگ چپ تھی، اسی سے اسنے اس دن جانا کہ وہ کہاں ہے، وہ اس پارٹی کا مقصد بہت اچھے سے جانتا تھا۔ وہاں کوئی ڈیل وغیرہ ہونے والی تھی۔۔۔ تبھی وہ اس دن وہاں پہنچا۔ پر نیہا کی بے وقوف دیکھ وہ تاؤ کھا کر رہ گیا۔۔۔ اور وہی غصے میں وہ سب بول گیا۔۔۔۔۔۔ وہ ایک گھنٹہ کمرے میں پریشے کے پاس رہا، نیہا کا وہ انتظار ہی کرتا رہا مگر وہ واشروم سے باہر نا نکلی، وہ اسکے جانے کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔پریشے سو گئی۔ وہ اُٹھا اور واشروم کے دروازے کے پاس آیا۔۔
“میں جا رہا ہوں، تمہیں کل ایک لوکیشن سینڈ کر دوں گا، تم وہاں پہنچ جانا، ورنہ میں فون کر کے انکل کو سب بتا دوں گا، اور تم جانتی ہو میں ایسا کر گزروں گا، چلتا ہوں” وہ دروازے پر ہاتھ رکھے بول رہا تھا۔ اور آخری الفاظ اسنے بھاری لہجے میں اور پھر اپنے چہرے پر رومال باندھا اور بالکنی میں آیا، ادھر اُدھر دیکھتے وہ پائیپ کے ذریقے نیچے اترا اور اندھیرے میں کھو گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
