Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

اسنے کئی بار حسنین اور گلناز کے موبائلز پر کال کی، کسی نے کال نا اُٹھائی۔ وہ گاڑی کو بھگاتے ہوۓ چار گھنٹے کا فاصلہ ڈیڈھ گھنٹے میں طے کرتا وہ ڈی ایس پی عاطف کے گھر پہنچا، ان دو گھنٹوں میں اسے خبر مل چکی تھی، کہ پولیس نے بلاج کے گھر پر حملہ کرنے والوں کو پکڑ لیا ہے، کئی مر بھی گے، اور کچھ پکڑے گے۔۔ اسنے دوبارہ بلاج کے نمبر پر فون کیا تا کہ معلوم ہو سکے کہ میرال کیسی ہے، نیہا نے گولیاں تو نکال دیں تھیں، پر ابھی بھی وہ خطرے سے باہر نہیں تھی۔۔۔۔
“سر ایسا تو ممکن ہی نہیں کہ حسنین میرے کسی میسج اور کال کا رپلائی نا کرے، اور گلناز اسکا نمبر بند آ رہا ہے، انکا کام راج آبراؤۓ کو پکڑنا تھا۔ میں اس جگہ جا کر دیکھتا ہوں کیا پتہ وہی ہوں، آپ ابراہیم پاشا کا آریسٹ وارنٹ نکالیں، ہمیں سب سے پہلے اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کرنا ہے” وہ کہ کر اپنی گاڑی کی طرف بھاگا۔۔ وسیم ابھی بھی اسکے ساتھ تھا۔۔۔عاطف صاحب نے ابراہیم پاشا کو پکڑوانے کا حکم دے دیا۔۔۔۔
وہ سیدھا وہاں پہنچا جہاں راج آبراوۓ قید تھا۔ وہ اگے بڑھا۔ وہ ٹھٹکا جب اسکی نظر زمین پر پڑے تالے پر پڑی، وہ جلدی سے اگے بڑھا دروازے کو ہلکا سا دھکہ دیا تو وہ مکمل کھلتا چلا گیا، وہ دونوں اندر آۓ، سامنے پورا کمرہ خالی تھا۔ کرسی پر رسیاں پڑیں ہوئیں تھیں۔ اور اس پر ایک چٹ تھی۔ اسنے جھٹ سے وہ چٹ پکڑی۔۔۔
“چچ تم میرا کچھ نہیں بِگاڑ سکتے، جاؤ بھانجے اپنے چھوٹے چھوٹے ساتھیوں کو ڈھونڈو، جو تمہیں کبھی نہیں ملنے والے” چٹ پر لکھی سطر کو پڑھتے اسنے سختی سے آنکھیں میچیں، جسکی وہ آنے تک دعا کر رہا تھا کہ وہ دونوں سیف ہوں، ویسا نہیں ہوا۔۔ وہ باہر کی طرف بھاگا۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے؟ کیسے کرے؟ اسنے گاڑی کا دروازہ کھولا، تبھی اسکا موبائل بجا۔ بلاج کی کال تھی۔
“جی انکل؟” اسنے کان سے فون لگاتے وسیم کو اشارہ کیا وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ وہ خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑ چلا دی۔۔
“ماما کی طبعیت بگڑ رہی ہے، یہاں وہ ساری سہولیات نہیں، انہیں مزید ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے، ہمیں انہیں ہسپتال شفٹ کرنا ہو گا؟” آگے سے نیہا کی ڈری سہمی سی آواز آئی۔۔۔ اسکی آواز وہ کتنے دن بعد سن رہا تھا۔ پر اس سچویشن میں ایسی ڈری سہمی آواز سننا کبھی نہیں چاہتا تھا۔
” سچویشن تو کنٹرول میں ہے۔ میں ایمبولینس بھجواتا ہوں، لیکن اس میں صرف تم اور انکل جائیں گے، اور باقی سبکو میں ڈیڈ کے گھر شفٹ کر رہا ہے، تا کہ سب سیف رہیں ویسے بھی اس ایرایہ کو پولیس نے اپنے انڈر لے لیا ہے ” اسنے کہتے ہوۓ گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔۔ اور کال کٹ کرتے ایمبولینس کا انتظام کرنے لگا۔۔ وہ خود بھی انکے گھر کے راستے پر تھا۔ دس منٹ میں وہ وہاں پہنچا، تب تک ایمبولینس بھی آچکی تھی۔ وہ گاڑی سے باہر نکلا۔ آس پاس کی سیکیورٹی چیک کی، اور پھر اسکی نظر گھر پر پڑی، گھر کی حالت کافی خراب ہو چکی تھی، شیشے ٹوٹ چکے تھے، اور اتنی ہیوی فائرنگ کی گئی کہ دیواروں میں کافی گہرے ہول بن گے تھے۔۔۔۔۔ وہ وسیم اور ایمبولینس سے دو آدمی اندر آۓ۔ اسے بیسمنٹ کا راستہ معلوم تھا۔ اسنے اس لکڑی کے دروازے کو کھٹکھٹایا، ساحل پہلے ہی وہاں کھڑا تھا۔ اسنے فوراً دروازہ کھولا۔ ساتھ وسیم کو دیکھ کر وہ ٹھٹکا۔ لیکن ابھی پوچھنے کا وقت نہیں تھا۔ ساحل انہیں لیے سیڑھیوں سے اترتا دروازہ کھول کر اس ایرایہ میں داخل ہوا جہاں سب موجود تھے۔۔۔۔
“اسفندیار۔۔۔” جیسے ہی سب نے دیکھا سبھی کے منہ سے اسکا نام نکلا۔۔ لیکن حیام کی نگاہ سیدھی وسیم پر پڑی، جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ الجھی، وہ یہاں کیا کر رہا ہے؟
“باباااا۔۔۔۔۔۔۔” وہ میرال کے کمرے میں جانے والا تھا، جب اسکے کانوں میں پریشے کی آواز پڑی، وہ حال میں رکھے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی، اسفندیار کو دیکھتے وہ بھاگی۔ وہ زمین پر بیٹھتے اسے سینے سے لگایا۔
“آنٹی کو جلدی سے شفٹ کرنا ہے” اسنے ساحل کو کہا۔ وہ ان دو آدمیوں کو لیے اس کمرے میں داخل ہوا۔ جہاں نیہا میرال کے ہاتھ پر لگی سرینج میں ایک انجکشن لگا رہی تھی۔ ان دو آدمیوں نے ساتھ لائے پھٹے پر میرال کو لٹانے کا کہا۔ بلاج نے اسے پکڑ کر لٹایا۔ میرال کی یہ حالت دیکھ بلاج پر ایک ایک سیکنڈ بھاری ہو رہا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ کیسے وہ اسے ٹھیک کر دے۔ دونوں آدمیوں نے اپنی طرف سے پھٹا پکڑا اور باہر کی طرف بڑھے۔۔۔
“کیا ہوا؟ میری پرنسس؟” جب پریشے کافی دیر تک نا بولی، اور اسی طرح اسکے سینے سے لگی رہی تو وہ اسے اُٹھاۓ کھڑا ہوا۔ پریشے نے اسکے کندھے پر سر رکھ دیا، اور کس کر اسکی گردن کے گرد دونوں بازو لپیٹے۔۔ اسکو پریشے کافی ڈری سی لگی۔۔۔
“سب مر جائیں گے نا” وہ ڈری سہمی آواز میں بولی۔ میرال کو بیسمنٹ سے باہر لے جایا جا رہا تھا، اسکے ساتھ نیہا اور بلاج تھے۔ نیہا کے قدم پریشے کے الفاظوں تھمے،
“بالکل نہیں، جب تک آپکے بابا ہیں، کسی کو کچھ نہیں ہو گا، اور میری پرنسس تو بہت بہادر ہے” اسکے بال سہلاتے ہوۓ اسکی نظر نیہا پر پڑی، جو اسکے دیکھنے پر ہوش میں آئی اور پلٹ کر باہر کی طرف بڑھی۔۔۔
“چلو سب” اسفندیار نے سبکو کہا۔ جو پہلے ہی جانے کے لیے تیار تھے۔ وہ سب ہیسمنٹ سے باہر آۓ۔ میرال کو ایمبولینس میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ نیہا اور بلاج اسکے ساتھ بیٹھ گے، نیہا اسکو مونیٹر کر رہی تھی۔ کہی طبعیت بگڑ نا جاۓ۔ اسفندیار نے سبھی کو دو گاڑیوں میں بیٹھایا۔۔۔ پولیس کی بھاری سیکورٹی کے ساتھ اسنے ایمبولنس کو بھیجا اور خود باقیوں کے ساتھ ہارون مینشن کی طرف چل دیا۔ساتھ پولیس کی وینز بھی تھیں۔۔آدھے گھنٹے میں وہ ہارون مینشن کے اندر تھے۔ میرال ہسپتال پہنچ گئی تھی، اور اب اسے فوراً بہترین ٹریٹمنٹ دیا جا رہا تھا۔۔
وہ پانچ سال سے زیادہ عرصے بعد یہاں آیا تھا۔ نور کے علاوہ وہ کسی سے نہیں ملا تھا۔۔۔۔ اسنے سبکو اندر جانے کا کہا۔ اور خود باہر سبکو انکی پوزیشن سمجھانے لگا۔۔۔۔۔۔۔ گھر کے چاروں طرف پولیس مین کھڑے تھے، ٹیرس پر دو دو، اور چھت پر دس۔۔۔۔۔ گھر اب مکمل سیکورٹی میں آ گیا تھا۔ انسٹریکشنز دیتا وہ اندر آیا۔ دل کی دھڑکنیں ایک دم سے بڑھیں تھیں۔۔ وہ اپنے ماں بابپ سے پانچ سال بعد مل رہا تھا۔ وہ بھی ساری سچویشن جانتے تھے، نیوز کی یہ مین ہیڈ لائن تھی جو پچھلے کئی گھنٹوں سے گردش کر رہی تھی۔
“بھائی۔۔۔۔” نور نے جیسے ہی اسفندیار کو دیکھا وہ بھاگتی ہوئی آئی اور اسکے سینے سے لگی زوروں سے رونے لگی۔
“پگلی چپ۔۔” اسفندیار نے اسکو تھپکی دیتے ہوۓ کہا۔ اور راحیلہ کی طرف دیکھا جو دوسری طرف چہرہ کیے بیٹھیں تھیں۔ نور کو علحیدہ کرتے وہ اسکے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھا۔۔ اور اسکے دونوں ہاتھ پکڑے۔۔۔
“موم آپکی ساری شیکاتیں سنوں گا پر ابھی مجھے جانا ہے، پلیز یوں روٹھنا مت بس میرے لیے دعا کرنا” وہ نم لہجے میں بولتے اسکے ہاتھوں کو عقیدت سے چوما، راحیلہ کی آنکھوں سے آنسوں کی رفتار لمحہ با لمحہ بڑھتی چلی گئی۔۔۔
“نور ان سبکو رومز دیکھا دو، اور پریشے کا خیال رکھنا” وہ خود کو سھنمبالتے کھڑا ہوا۔ اور نور سے مخاطب ہوا۔ نور نے ہاں میں گردن ہلائی۔۔۔
“وسیم تم اب یہی رہو گے، تم نے میرا ساتھ دیا تم پر بھی خطرہ ہے” وہ اب وسیم کے پاس آیا۔۔۔ نور پریشے کو لیے اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی، پریشے اگر دوبارہ اسفندیار کو جاتا دیکھتی تو ساتھ جانے کی ضد کرتی۔۔۔ ہارون موبائل پر بلاج سے بات کر رہا تھا۔ وہ ہسپتال آنا چاہتا تھا۔۔ اسفندیار باہر کی طرف بڑھا باہر گاڑی کی طرف بڑھا اسکے ساتھ ایک گاڑی میں کچھ پولیس والے تھے۔ ۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، فرید احمد ان دونوں کہاں چھپا سکتا ہے، یہ سوچ سوچ ہی اسکا دماغ خراب ہو رہا تھا۔۔۔۔


میرال کو فوری ٹریٹمنٹ دیا گیا، جس سے اب اسکی حالت خطرے سے باہر تھی، شام کے چار کا وقت ہو رہا تھا، بلاج ایک پل بھی اس کمرے سے باہر نہیں گیا تھا۔ نیہا چاۓ کے دو کپ اور سینڈویچ لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔
“بابا کچھ کھا لیں” اسنے چاۓ کا کپ اور ایک سینڈویچ بلاج کی طرف بڑھایا۔ جسے اسنے خاموشی سے پکڑ لیا۔۔۔
“کب تک ہوش آۓ گا؟” یہ سوال وہ ہر دس منٹ بعد پوچھ رہا تھا
“انشااللہ کچھ ہی دیر میں ہوش آجاۓ گا، آپ کو کیسے معلوم ہوا، کہ سب پر خطرہ ہے۔ کیا کوئی دھمکی معصول ہوئی تھی؟” نیہا نے دل میں چھپا سوال پوچھا۔ بلاج نے نفی میں سر ہلاتے اسے دیکھا۔
“اسفندیار کا میسج ملا تھا، اسنے کہا سب خطرے میں ہیں، پھر بھی میں کچھ نہیں کر پایا، اور دیکھو تمہاری ماما۔۔۔” چاۓ کا گھونٹ پیتے وہ تھکے اور نم لہجے میں بولا۔۔۔ اور سر پیچھے کو گِرا دیا۔۔۔
“بابا ماما اب بالکل ٹھیک ہیں، کچھ دیر میں ہوش بھی آ جاۓ گا” نیہا نے اسکی آنکھیں پونچھیں۔۔۔۔
“اسی لیے میں نے تمہیں بھی ان چیزوں سے دور رہنے کو کہا تھا، فرید احمد اسفندیار کا ماموں ہے، جب میں نے اسفندیار کو بچایا تھا، میں نے تب سے اسے ان سب سے بچانے کی کوشش کی۔ فرید احمد کو اسکی پراپرٹی چاہیے تھی، وہ اسے تھریٹ بھی کرتا رہا، تمہارے نکاح سے کچھ دن پہلے مجھے دھمکی بھرے میسجز اور کالز آئیں اسی لیے میں نے تم دونوں کا نکاح جلدی کروایا” وہ نا جانے کیوں یہ سب کہ رہا تھا۔ نیہا بس چاۓ کے کپ میں سے اُڑتی ہوئی بھاپ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“بلاج کیسے ہوا یہ سب؟ ” کمرے کے دروازے سے حسام مشی، اور راحیل اندر آۓ۔۔۔انکو جیسے ہی علم ہوا کہ میرال کو ہسپتال شفٹ کیا گیا ہے، وہ یہاں پہنچ گے۔ بلاج کھڑا ہوا، راحیل اور حسام اگے بڑھے اور اسکے گلے سے لگے۔ کافی دیر کا ضبط کا باندھ ٹوٹا اور خاموش آنسوں پلکوں کی پار کو چیرتے بہے۔۔۔


اسے موبائل ٹریس کرنے کا خیال آیا۔ اسنے جلدی سے ٹیم کو کام پر لگایا۔ دونوں کے موبائلز ٹریس ہو چکے تھے، ایک موبائل فرید احمد کے گھر کے اندر کا پتہ بتا رہا تھا۔ اور دوسرا موبائل ایک فیکٹری سے کچھ دور کا پتہ بتا رہا تھا۔ وہ جلدی سے اس جگہ پہنچے جہاں دوسرا موبائل تھا۔ آس پاس سب پھیل گے۔ اور کچھ ہی دور سڑک کے کنارے پر انہیں موبائل پڑا نظر آیا۔ اسنے جلدی سے پکڑا۔ پر وہ فون برباد ہو چکا تھا۔ سکرین ٹوٹ چکی تھی یوں لگ رہا تھا۔ کسی نے موبائل کے اوپر سے گاڑی چلائی ہو۔ اسفندیار نے وہ فون پلاسٹک کے بیگ میں ڈالا اور پروف کے طور پر رکھا۔ اب اس میں کچھ نکل تو سکتا نہیں تھا۔۔۔
“اگر موبائل یہاں گرا ہے، تو اسی ایرایہ میں اسنے کہی چھپایا ہو گا، سب یہاں پھیل جاؤ چلو” اسنے سب کو اشارہ کیا، کہ کس کس طرف جائیں اور خود بھی ڈھونڈنے لگا۔۔۔ وہ سڑک پر گاڑی چلاۓ جا رہا تھا، اور آس پاس جانچ رہا تھا۔


فرید احمد اور شہیر راج آوبراۓ کو لے کر فرید احمد کے فام ہاؤس پر پہنچے۔ انہوں نے ڈیل فائنل کی، اور فرید احمد نے اسکا یہاں سے نکلنے کا پورا پُروگرام طے کر دیا۔۔۔۔۔
“یہ کشتی ایک گھنٹے میں نکلنے والی ہے، تم جلدی سے یہاں سے نکلو، میرے آدمی تمہیں وہاں پہنچا آئیں گے” فرید احمد نے ڈیل کے پیپرز پکڑتے ہوۓ کہا۔ راج آوبراۓ نے اپنا سوٹ کیس پکڑا اور باہر گاڑی میں بیٹھا وہ اپنی جان بچ جانے پر ہی بہت خوش تھا۔
“کیا ہوا بھائی؟ راج مل گیا؟” مُزمل اپنے کمرے سے نکلتا ہوا اسکا پاس آیا۔ جو حال میں بیٹھا اور وائن کا گلاس پکڑے ہوۓ گھونٹ بھر رہا تھا۔
“فرید احمد کی کوئی ڈیل خراب نہیں ہو سکتی، چاہے مجھے اسکے لیے کسی کی جان ہی کیوں نا لینی پڑے” وہ ٹھنڈے لہجے میں کہتا ٹیوی کا ریمورٹ پکڑے چینل تبدیل کرنے لگا۔ شہیر نے بھی اپنا گلاس پکڑا اور سکون سے بیٹھ گیا۔۔ مُزمل کچھ سیکنڈ کے لیے کھڑا رہا اور پھر واپس اپنے کمرے میں آیا۔۔۔۔


پولیس نے ابراہیم پاشا کے آڈے پر فوری ریٹ ماری اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ جسکا اسے ایک پرسنٹ بھی گمان نا تھا وہ تو سکون سے بیٹھا ہوا تھا کہ اسفندیار خود کام مکمل کرنے گیا ہے۔ اور یوں اچانک ہر طرف سے پولیس کا پڑ جانا۔ پولیس اسے گھسیٹتے ہوۓ تھانے لے کر جا رہی تھی۔
“تم لوگ مجھے جانتے نہیں میں ابراہیم پاشا ہوں، میرے ایک اشارے پر تم سب کے سب مارے جاؤ گے” وہ ہتھکڑیوں سے بندھے ہاتھوں کو چھڑوانے کی کوشش کرتے غصے سے غرایا۔۔
“تم بہت برے گُنڈے ہو گے، لیکن ہم بھی پولیس والے ہیں اور اپنے شہر سے تم جیسے نا پاک کیڑوں کو نکال کر باہر پھینکا بہت اچھی طرح آتا ہے” عاطف صاحب نے غصے سے کہا۔ اور اسے اندر لاک اپ میں بند کرنے کیا۔۔۔۔
“ابے اور آفیسر تو مجھے ہلکے میں لے رہا ہے، ابھی کچھ دیر میں دیکھ تیرا یہ تھانا ہی بند کروا دوں گا” وہ لاکپ کی سلاخوں کو چھنجھوڑتے ہوۓ اسے دھمکا رہا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ وہ ان سلاخوں کو توڑ کر اسے مار ڈالے۔۔ ۔
“ابے او لوکل گنڈے سن، تیرے سارے نوکر، ساتھی ہمارے قبضے میں ہیں، جانتا ہے، تیرا سارا مال پکڑا گیا، اور تیری دوسری اطلاع کے لیے بتا دوں تیرا دوسری دفع بھیجا ہوا مال بھی پکڑا گیا ہے، تیرا وہ خاص بندا باسط وہ اس وقت جیل میں یے، وہ تیرے دشمن فرید احمد کے بھی ساتھ تھا۔ پہلے اپنے ساتھ وہ انسان تو رکھ جو صرف تیرے ہوں” عاطف صاحب سامنے کرسی پر بیٹھے طنزیہ انداز میں بول رہے تھے۔۔ اور ابرہیم پاشا کا دماغ گھوم رہا تھا۔
“تو ابھی تک RDX کو نہیں جانتا، وہ ہی مجھے یہاں سے نکالے گا، تم سبکے چھکے چھڑاۓ گا” وہ سلاخوں کو پاؤں مارتے ہوۓ بولا۔ اسکی بات پر عاطف صاحب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی۔۔۔
“ابے او مچھر، جس RDX کی تو بات کر رہا ہے، وہ میرا ہی بندہ ہے، اسے میں نے تم جیسے گندی نالی کے کیڑوں کو پکڑنے کے لیے بھیجا تھا” عاطف صاحب کے الفاظ سن کر اسکی آنکھیں پھٹیں کی پھٹیں رہ گئیں۔۔۔۔۔


“وہ بے بسی سے گاڑی چلا رہا تھا۔ گلناز اور حسنین کو ڈھونڈنے کا کوئی سوراغ سامنے نہیں آ رہا تھا۔ اسکے موبائل پر میسج کی بپ بجی۔۔۔۔۔ اسنے سر مسلاتے ہوۓ میسج کھولا۔ اور میسج کو پڑھتے ہی اسنے گاڑی کا ایک جھٹکے سے بریک مارا۔ ایک ان نو نمبر سے میسج تھا۔
” تمہارے دوست اس جگہ قید ہیں، یہ ایک ویڈیو ہے اسکا کیا کرنا ہے تم خود دیکھ لو، اور ہاں اس لوکیشن پر راج آبرواۓ ہے دیکھ لو اسکے ساتھ کیا کرنا یے” میسج پر بس اتنا لکھا تھا۔ یہ میسج کس نے بھیجا؟ کیوں بھیجا؟ کیا کوئی پرینک تھا؟ پر جب اسنے ویڈیو اوپن کی وہ اس وقت کی تھی جب گلناز اور حسنین اس سے پوچھ گیش کر رہے تھے۔ اسنے ایک لمحہ بھی نا سوچا اور گاڑی اس ایڈریس کی طرف گھومائی، اور اپنے پیچھے اپنے ساتھیوں کو آنے کا اشارہ کیا۔۔۔وہ لوگ دس منٹ میں اس لوکیشن پر پہنچے۔۔۔۔۔ دو گارڈ باہر کھڑے تھے، جنہیں مار کر بے ہوش کر دیا اور خود وہ اس کمرے کا دروازہ جو لوہے کا تھا۔ اس پر برا سا لوہے کا تالا توڑ کر اندر داخل ہوا۔۔ پر سامنے کا منظر دیکھتے اسکے قدموں تلے زمین کھسکی۔۔ گلناز وہی دیوار سے لگی ہوئی تھی، اسکی آنکھیں بند تھیں، خون بہ بہ کر سُکھ چکا تھا۔ اور حسنین سر گھٹنوں میں دیے زوروقطار رو رہا تھا۔ دروازے کا ٹوٹنا اسنے نوٹس ہی نہیں کیا تھا۔
“گلناز۔۔۔۔” وہ اسکا نام پکارتے بھاگ کر اسکے پاس آیا۔۔ جو ڈر اسکے اندر تھا۔ کہی وہ سچ تو نہیں ہو گیا۔ اسنے اپنے ایک دوست کو کھو تو نہیں دیا۔۔۔ اسکے پکارنے پر حسنین نے سوجھی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ جو گلناز کے چہرے کو تھپتھپا رہا تھا۔۔
“وہ مر گئی، پر تڑپ تڑپ کر مری ہے، اپنی آخری سانس تک وہ لڑی، پر دیر ہو گئی اور وہ مر گئی” حسنین نے روتے ہوۓ کہا۔ اسفندیار کے ہاتھ میں اسکی کلائی پھسلی۔ جو نبض چیک کر رہا تھا۔ اور نبض تھم چکی تھی۔۔۔۔۔۔ اس اچھائی اور بُرائی کی جنگ میں اسنے اپنا پہلا ساتھی کھویا تھا۔ اور آج اسے معلوم ہوا تھا۔ کہ دوست کو کھو دینا کیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وہ اپنے کمرے میں مزے سے لیٹا ہوا تھا۔ جب مُزمل اسکے کمرے کا دروازے کھولتا ہوا حواس باختہ اندر داخل ہوا۔۔
“کیا بدتمیزی ہے کتنی دفع بولا ہے، یوں میرے کمرے میں مت آیا کرو” وہ ایک دم سے غصہ ہوا
“جانتا ہوں، پر یہ خبر دینا ضروری ہے” اور پھر مُزمل نے فون اسکے کمرے کا ٹیوی آن کیا۔ اور نیوز چینل چلایا۔ جس میں راج آوبراۓ کو ہتھکڑیاں لگاۓ، پولیس کی وین میں بیٹھایا جا رہا تھا۔ اور اسکے ساتھ ہی سکرین پر وہ ویڈیو چل رہی تھی، جس میں راج آوبراۓ فیکٹری میں بننے والی میڈیسن کے بارے میں بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔ اور پھر ایک ویڈیو چلائی گئی۔ جس میں عاطف صاحب اور اسفندیار حسن بیٹھا ہوا تھا۔ اور عاطف صاحب اسکے مِشن کے بارے میں بتا رہے تھے، میڈیا سوالوں جواب کر رہی تھی، پانچ سال پہلے لگنے والے الزاموں کا جواب بھی دے رہے تھے۔۔ اور گلناز کے قتل کے بارے میں بھی بتا ریے تھے جو فرید احمد نے کیا۔۔۔۔۔
“سالا حرام خور، اسکو تو اسی دن مار ڈالنا چاہیے تھا۔ جب یہ آخری دفع ملنے آیا” وہ اپنا ابلتے غصہ کو سکرین پر نکالتے جلدی سے اپنا ایمرجنسی بیگ پکڑے باہر کو بھاگا۔ مُزمل اپنے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔۔
وہ فام ہاؤس کے بیک ڈور سے باہر نکلا۔ وہاں اسکی گاڑی کھڑی تھی، وہ گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھا۔ کہ اسے پولیس نے گھیر لیا وہ بندوقوں کی زرد میں آگیا۔
“میرے ماں باپ میری دوست کا قتل کرے گا، اور یہ امید کرے گا کہ میں تجھےا اتنی آسانی سے جانے دوں، ایک ہی جھٹکے میں تیری مارکیٹ میں بنی عزت، یوں یوں مٹی میں مل گئی، تیری کڑوروں کی ڈیل سائن ہوتے ہوۓ بھی کینسل ہو گئی۔ اور اب تو جیل میں سڑے گا” اسفندیار اگے بڑھا اور اسکے چہرے پر زور کا تھپڑ مارتے ہوۓ غصے سے بولا۔ اور اسکے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر گھسیٹتے ہوۓ اسے پولیس وین کی طرف لایا۔۔
“ہاہاہا معصوم بھانجے، فرید احمد کوئی عام انسان نہیں جسے تو قتل کے کیس میں اندر کرے، یوں تیرے ہاتھوں کے نیچے سے پھسل جاؤں گا اور تو ہاتھ ملتا رہ جاۓ گا” فرید احمد وین میں بیٹھتے یوۓ بولا
“ایک دفع پھسلا تھا، میں بھی کوئی بچہ تو نہیں ، پانچ سال بعد بہت ثوبتوں کے ساتھ تیرے چاروں طرف لوہے کی سلاخیں لگائیں ہیں، جنہیں اب تو چاہ کر بھی توڑ نہیں پاۓ گا” اسفندیار اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ اور چلنے کا اشارہ کیا۔ اسکی فیکٹری اور ہسپتال کو سیل کر دیا گیا۔۔۔۔
جاری یے۔۔۔۔