Yaaron Ki Yaari Season 2 By Fatima Tariq Readelle50128 Episode 10 Pt.2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10 Pt.2
ازقلم فاطمہ طارق
“تائی جان آپ جائیں اس سے میں بات کرتی ہوں” وہ بول کر علیزے کے پاس آئی، حرا اپنا ماتھا مسلتے وہاں سے چلی گئی۔
“پلیز نیہا میرا اس وقت بہت دماغ خراب ہو رہا ہے، ایسی ویسی کوئی بات مت کرنا” علیزے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں جکڑتی بیڈ پر بیٹھ گئی۔ نیہا گہرا سانس لے کر اسکے پاس بیٹھ گئی۔
“اوکے کچھ نہیں بولتی” نیہا اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ بولی۔ اور چپ ہی رہی،
“نیہا پلیز سبکو منا لو، انکو بولو مجھے مزمل سے الگ نا کریں، میں زندہ نہیں رہ پاؤں گی، پلیز خدا کا واسطہ ہے انکو بولو، پتہ ہے میں ایسا سوچتی بھی ہوں تو میری سانس رکنے لگتی ہے، میں اسے بہت چاہتی ہوں، پلیز علیزے میری مدد کرو” علیزے روتے ہوے گڑگڑا رہی تھی،۔
“علیزے پلیز رو مت، ادھر دیکھ، تم نے تایا جی سے بات کی تھی، انہوں نے اسکے برے بھائی کو گھر بھی بلوایا تھا، اب انہیں کچھ غلط لگا ہو گا تب ہی انکار کیا نا، بلاوجہ وہ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں دکھ تھوڑی نا دیکھ سکتے ہیں” وہ اسکے آنسوں پونچھتے ہوۓ اسے سمجھا رہی تھی۔
“میرے ڈیڈ کو تمہارے بابا نے پٹیاں پڑھائیں، اپنے بیٹے کو میرے سر تھوپنا چاہتے ہیں، انکو جا کر بولو یہ سب بند کریں، ڈیڈ کو بولیں مزمل بالکل ٹھیک لڑکا ہے اور میں اسی سے شادی کروں گی” اسکے ہاتھ جھٹکتی وہ غصے سے بول رہی تھی۔
“میرے بابا ایسے نہیں ہیں، انہوں نے ضرور کچھ غلط۔۔۔” وہ بول رہی تھی۔ جب علیزے نے اسکا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر نکال کر دروازہ بند کر دیا۔ وہ کافی دیر دروازہ کھٹکٹاتی رہی پر اسنے نہیں کھولا۔۔۔ تھک ہار کر وہ لاونچ میں آگئی، جہاں سب بیٹھے ہوۓ تھے، وہ جا کر سکندر صاحب کی بگل میں بیٹھ گئی، جو چاۓ پیتے ہوۓ بلاج کو دیکھتے گہری سوچ میں گم تھے عمیر حرا ، بلاج اور میرال سے منگنی کے سلسلے میں ڈسکس کر رہے تھے۔
“دادا جان!” سکندر صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسنے انہیں مخاطب کیا۔
“ہممم بولو بیٹا!” وہ ایک دم اسکی آواز پر چونکے۔۔۔
“دادا جان! علیزے کو آپ سمجھائیں نا، وہ کسی کی بات نہیں سن رہی” وہ علیزے کو لے کر کافی پریشان تھی۔
“وہ ٹھیک ہو جاۓ گی،پہلے مجھے میرا بچہ بتاۓ، آپکی لائف کیسی جا رہی ہے، سنا ہے پیپرز آنے والے ہیں، کیا ہمارا بہادر بچہ اب مکمل ڈاکٹر بننے والا ہے” سکندر صاحب نے اسکے گال کھینچتے ہوۓ پوچھا۔
“افکورس دادا جان! کچھ ہی دنوں میں پیپرز ہیں، اسکے بعد ایک ماہ کے بعد سب سے اچھے ہسپتال میں ہاوس جاب کروں گی، علیزے میں میرے ساتھ ہی جاۓ گی، انفیکٹ ہم پانچوں نے ڈیسائیڈ تو کیا ہے ایک ہی ہسپتال میں جائیں گے، دیکھیں اب وہ ہم پانچوں کو اکھٹے لیتے ہیں یا نہیں” وہ اگے کے پلینز بتا رہی تھی۔ سکندر صاحب غائب دماغی کے ساتھ سن رہے تھے۔وہ بھی چپ کر کے بیٹھ گئی
“بلاج!” وہ عمیر کے ساتھ بات کر رہا تھا جب سکندر صاحب نے اسے مخاطب کیا۔ وہ ایک پل کو رک گیا۔ اسنے گردن موڑ کر انکی طرف دیکھا۔ جو اسے کھوجتی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ سب خاموش ہو گے، سبھی جانتے تھے دونوں کے درمیان ایک سرد دیوار ہے، جسے سکندر صاحب نے تو کافی بار توڑنے کی کوشش کی پر ہمیشہ بلاج نے وہ دیوار قائم رکھی۔
“جی!” وہ بس اتنا ہی بولا۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر اسکے پاس آۓ۔ بلاج کو کچھ گڑبڑ کی بو آئی، اسکا دماغ ایک دم الرٹ ہوا۔
“جو میں پوچھنے والا ہوں تمہیں تمہاری مری ماں کی قسم سچ بولنا” سکندر صاحب کے الفاظ سن کر بلاج کھڑا ہوا۔
“کیا پوچھنا ہے پوچھیں” اسنے گہرا سانس لے کر کہا۔
“کیا تمہاری کبھی حسن سے ملاقات ہوئی تھی ؟” انکے سوال پر بلاج کو لگا سب ختم ہو گیا۔۔ اس طرح یوں سالوں بعد اچانک سے سکندر صاحب کا حسن کے بارے میں پوچھنا۔۔۔
“اہممم نہیں۔۔۔” اسنے گلا کھنگال کر جواب دیا۔۔۔
“ٹھاہ!” سکندر صاحب کا ہاتھ اُٹھا اور اسکے گال پر نشان چھوڑ گیا۔۔۔ سبھی بونچھا کر رہ گے،
“وہ مر گیا،اور تم نے مجھے بتانے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی” وہ روتے ہوۓ بولے، اور سینے پر ہاتھ رکھتے وہی بیٹھتے چلے گے۔
“ڈیڈ! دادا جی،۔۔” کئی آوازیں آئیں۔ وہ زمین پر گِرے ہوۓ تھے، اپنا سینہ مسل رہے تھے، عمیر انکو اُٹھانے کی کوشش کر رہا تھا، سبھی انکی پاس تھے، اور وہ ایک دم شاک سا کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا۔ جس راز کو اتنے سالوں سے چھاۓ ہوۓ تھے، وہ آج یوں انکے سامنے آگیا۔ اور کیسے آیا وہ نہیں جانتا تھا۔
“بلاج مدد کر ڈیڈ کی طبعیت بگڑتی جا رہی ہے” وہ عمیر کے چلانے کی آواز پر اپنے شاک سے واپس آیا۔
“ڈڈیڈڈ،،،،،،،، آپکو کچھ نہیں ہو گا، میری بات سن رہے ہیں نا ڈیڈ۔۔۔۔” وہ جو سالوں سے انہیں ڈیڈ کہ کر مخاطب نہیں کرتا تھا۔ اسکے منہ سے ڈیڈ سننے کے لیے سکندر صاحب بری ہسرت سے اسے دیکھا کرتے تھے، پر انکی حسرت بھری نظروں کو دیکھتے ہوۓ بھی وہ انہیں ڈیڈ نا کہ پاتا، آج جب اپنے سامنے انکو اس حالت میں دیکھا تو ڈیڈ اسنے منہ سے نکلا اور آنکھوں سے آنسوں کی لڑی ٹوٹی۔۔۔ سکندر صاحب نیم بے ہوش تھے، نا جانے انہوں نے سنا کہ نہیں۔۔۔۔۔۔ عمیر اور بلاج نے جلدی سے انہیں گاڑی میں شفٹ کیا۔۔۔۔ اور گاڑی کو ہسپتال کے روڈ پر ڈالا۔۔
“ڈیڈ ایم سوری،،، میں نے آپکو نہیں بتایا، پلیز مجھے معاف کر دیں، پلیز ٹھیک ہو جائیں، ڈیڈ پلیز۔۔۔۔” وہ پیچھے انکا سر اپنی گود میں رکھے بیٹھا بچوں کی طرح روتے ہوۓ بول رہا تھا، عمیر نے گاڑی ہسپتال کے سامنے روکے۔ اور انہیں سٹریچر میں لٹا کر جلدی سے ہسپتال کے اندر لے جایا گیا۔ انہیں چیک کر کے سیدھا آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا۔۔۔۔ بلاج وہی آئی سی یو کے دروازے کے باہر زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ اسنے اپنا سر ہاتھ میں گڑتے رونا شروع کر دیا۔ عمیر ادے سھمنالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حرا، میرال نیہا کے ساتھ دوسری گاڑی میں آئیں۔
“بلاج حوصلہ رکھو کچھ نہیں ہو گا” میرال فوراً اسکے پاس آئی۔ عمیر کو ڈاکٹر نے بلایا وہ انکے پاس گیا۔
“میرال وہ بہت ناراض ہیں، وہ مجھے معاف نہیں کریں گے، مجھے بہت بری سزا ملے گی، وہ۔۔مجھے چھوڑ۔۔۔۔۔” وہ روتے ہوۓ بول رہا تھا۔
“ایسا نہیں ہو گا تم اللہ پر یقین رکھو چلو وہاں بیٹھ کر دعا کرو” میرال نے اسے زمین سے اُٹھایا اور رہا رکھے بینچ پر بیٹھایا۔ اور پاس بیٹھ گئی حرا سے پانی لے کر اسنے بلاج کو پلانے کی کوشش کی۔
“یا اللہ مجھ سے بہت برا گناہ ہو گیا، میں نے اپنے ہی باپ سے سالوں تک بات نہیں کی، مجھے اسکی اتنی بری سزا مت دینا، یا اللہ انہیں بچا لے” وہ روتے ہوۓ دعا کر رہا تھا۔ میرال اسکا کندھا تھپتھاتے اسے دلاسا دے رہی تھی۔
“اللہ جی میرے دادا جی کو کچھ نا ہو” نیہا ان سے تھوڑا سا دور بیٹھی روتے ہوۓ دعا کر رہی تھی۔ حرا اسکے پاس آئی اور اسے سینے سے لگایا۔۔۔ تبھی ڈاکٹر آئی سی یو سے باہر نکلا۔ بلاج بھاگ کر انکے پاس گیا۔
“میرے ڈیڈ کیسے؟” وہ بول بھی نہیں پا رہا تھا۔ عمیر بھی انکے پاس آیا۔
“دیکھیں مریض کو سوئیر ہاٹ اٹیک ہوا ہے، ہم نے فوراً ٹریٹ منٹ تو کیا ہے، بس آپ اللہ سے دعا کریں، انہیں ہوش آجاۓ۔ دو گھنٹے کافی کرئیٹکل ہیں” ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں اپنی بات بول کر چلا گیا۔ بلاج اسکی بات سن کر لڑکھڑایا، اسکی آنکھوں کے سامنے ایک دم سے اندھیرا سا آیا، یوں محسوس ہوا اسکے دل کو کوئی چیر کر کچھ کے کر جا رہا ہے، میرال نے فوراً اسے پکڑا اور بینچ پر بیٹھایا۔ وہ بلینک سا ہو گیا تھا۔۔۔۔
“بلاج حوصلہ رکھ ہمارے ڈیڈ کو کچھ نہیں ہو گا” عمیر اسکے پاس بیٹھتے اسے سینے سے لگاتے ہوۓ نم لہجے میں بولا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ پاس سے چلتے لوگوں نے مر کر اتنے برے شخص کو یوں پھوٹ کر روتے ہوۓ دیکھا۔ وہ انہیں کیا بتاتا وہ اپنی کوتاہیوں پر کس قدر نادم ہے۔۔
“اللہ جی میری دعا سن لیں، میرے دادا جان کو کچھ نا ہو” نیہا روتے ہوۓ مکمل کانپ رہی تھی، وہ انکے بہت نزدیک تھی۔۔۔۔۔
“یہ سب کیسے ہو؟ وہ کیسے ہیں؟” وردی پہنے وہ ہانپتا ہوا انکے پاس آیا تھا جیسے کئی میل تک وہ بھاگتا ہوا آیا ہو، اتنی سردی میں بھی اسکے ماتھے پر پسینا چمک رہا تھا۔۔۔
“اسفی میرے دادا جان۔۔۔۔۔” نیہا اسے دیکھتے ہی، بھاگ کر اسکے سینے سے لگی اور زور سے رونے لگی۔ اسفندیار کی نظر سامنے آئی سی یو کے بند دروازے کی طرف اُٹھی۔ پھر اسنے بلاج کو روتے ہوۓ دیکھا۔ اور پھر اسکا دھیان نیہا کی طرف ہوا جو بہت بری طرح کانپ رہی تھی، اور اسے زور سے پکڑے روۓ جا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا وہ ان سے کتنا زیادہ اٹیچ ہے۔ اسنے اسکے گرد اپنے بازوں کا گھیرا تنگ کیا۔۔۔۔
“انہیں کچھ نہیں ہو گا” بہت مظبوط انداز میں اسنے جیسے خود کو یقین دلایا۔ تبھی اسے محسوس ہوا نیہا نے رونا بند کر دیا اسکے گرد بندھے ہاتھوں بھی نیچے کو لڑکھ گے۔
“نیہا!” اسفی نے اسکے چہرے کی طرف دیکھا اسکی آنکھیں بند تھیں وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔ اسنے ڈاکٹر کو اواز لگائی، ڈاکٹر نے اسے کامن واڈ میں لے جانے کا بولا۔ وہ اسے بازوں میں اٹھاے کامن واڈ میں لے ایا اور اسے بیڈ پر لٹایا۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کیا وہ زیادہ ٹینشن لینے کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھی، ڈاکٹر نے اسے ایک ڈرپ لگا دی۔ حرا اسکے پاس آ گئی۔
دو گھنٹے کیسے گزرے یہ وہ سب ہی جانتے تھے ایک ایک سیکنڈ کاٹنا بھاری ہو رہا تھا، ہر ایک ایک پل وہ رب سے دعا کر رہے تھے، بالآخر تین گھنٹے بعد ڈاکٹر نے آ کر انہیں سکندر صاحب کے ہوش میں آجانے کا بتایا، سبھی نے سکون کا سانس لیا۔ اور کچھ دیر بعد انہیں روم میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔۔باری باری سبھی نے انکو دور سے ہی دیکھا، انہیں سکون آواز انجیکشن دیا گیا تھا، کچھ گھنٹوں بعد وہ مکمل ہوش میں آجائیں گے۔
“انکل انکو یہ سب کیسے معلوم ہوا؟” اسفندیار اس وقت ڈیسک پر بلاج کے پاس بیٹھا سوال کر رہا تھا۔
“پتہ نہیں، ڈیڈ نے بس یہ پوچھا تم حسن سے ملے ہو؟ اور بعد میں پوچھا اسکی موت ہو گئی اور تم نے بتایا کیوں نہیں؟ اسکے بعد وہ گڑ گے_ اور یہ سب۔۔۔” بلاج اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“اور کچھ تو نہیں پتہ چلا انہیں؟” اسفندیار نے ہونٹ کاٹتے ہوۓ پوچھا۔
“مجھے معلوم نہیں، شائد پتہ ہو شائد نا ہو” وہ اپنا سر مسلتے ہوۓ بولا۔ اسفندیار نیچے زمین پر لگی ٹائلیز کو دیکھ رہا تھا۔
“آپ دونوں یہ سب کرنا اب بند کر دو، ان سے اب کچھ نہیں چھپے گا، انہیں سب سچ بتا دو، ورنہ میں بتا دوں گی، پہلے ہی بولا تھا سب بتا دوں اگر بتا دیا ہوتا تو آج یہ سب نا ہوتا” میرال ان دونوں کے سامنے آ کر سخت لہجے میں بولی۔
اور کیا بتانا ہے؟ بلاج کوئی اور بات بھی ہے جو تم چھاۓ ہوۓ ہو؟” عمیر میرال کی بات سن کر انکے پاس آیا۔ بلاج نے اسفندیار کی طرف دیکھا جو ابھی تک زمین کو ہی دیکھ رہا تھا۔
“کل سبکو سب بتا دوں گا” اسنے میرال کے دونوں ہاتھ پکڑے اور ان پر سر ٹکاتے ہوۓ کہا۔ ڈاکٹر نے آ کر نیہا کے ہوش میں آجانے کا بتایا۔ اسفندیار اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور کامن واڈ کی طرف بڑھا۔
“میرے دادا کیسے ہیں؟” وہ اپنی جگہ سے اُٹھنے کی کوشش کر رہی تھی، پر سر بھاری ہونے کی وجہ سے اُٹھنا مشکل تھا
“وہ بالکل ٹھیک ہیں” اسفندیار اسکو دونوں بازوں سے پکڑتے دوبارہ لٹاتے ہوۓ بولا۔ نیہا نے سکون کی سانس لی۔
“اللہ تیرا شکر ہے، تو نے میرے دادا جان کو ٹھیک کر دیا انہیں مجھ سے چھینا نہیں، ورنہ میں زندہ کیسے رہتی، میں تو سوچ کر ہی مر جاتی” وہ آنکھیں بند کیے اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی، اسفی سنجیدہ نظروں سے اسکے چہرے کی معصومیت کو بس دیکھ رہا تھا۔ جب میرال وہاں آئی۔
“نیہا میری بچی دادا جان بالکل ٹھیک ہیں،” میرال اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولی۔
“ماما میں بہت ڈر گئی تھی” وہ روتے ہوۓ بولی۔
‘اب کیا رو کر مزید طبعیت خراب کرنی ہے، آنٹی میں نیہا کو گھر لے کر جا رہا ہوں، رات کو ملوانے لے آؤں گا” اسفندیار نے اسے سخت نظروں سے دیکھتے رونے سے منع کیا۔ اور میرال سے مخاطب ہوا۔ میرال نے ٹھیک ہے کہا۔ اور وہ نیہا کو سہارا دیتے ہسپتال سے نکلا۔ اور اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا۔ گاڑی کو گھر کے رستے ڈالا۔۔۔ کچھ ہی دیر مین وہ دونوں گھر پہنچ گے حرا نے اسفندیار کو فون کر کے بتایا تھا کیونکہ نیہا اس سے سحنمبل نہین رہی تھی، اسفی نے اور کسی کو نہین بتایا تھا۔ گھر پہنچتے ہی اسفی نے سبکو بتایا، اور انہیں شام کو ان سے ملنے ہسپتال جانے کا بولا۔ اور نیہا کو لیے وہ کمرے مین آیا، اسے بیڈ پر لٹایا اور کمبل دیا۔
“دادا جان بالکل ٹھیک ہیں، اب دوبارہ سے رونا مت شروع کر دینا ورنہ اتنی سردی میں تمہیں بالکنی میں کھڑا کر دوں گا وہ بھی بنا کسی جیکٹ،ٹوپی اور جرابوں کے، اب سوچ لینا تمہیں کمرے میں بھی یہ سب پہنے کے باوجود ٹھنڈ لگتی یے تو بالکنی میں تمہارا کیا حال ہو گا” وہ اپنے کپڑے الماری سے نکالتے ہوۓ بولا۔ نیہا حیرانگی سے اسے سن رہی تھی وہ جو سوچتی تھی وہ اس پر بالکل دھیان نہیں دیتا پر وہ اسکی سردی کے بارے میں سب جانتا تھا۔۔۔
“کیوں؟ کیا آپ سے میرا رونا دیکھا نہیں جاتا؟ دکھ ہوتا ہے؟” وہ یہ بات منہ پر لانے سے روک نا سکی۔ اسکی بات پر واشروم کی طرف جاتے اسفی کے قدم تھمے۔ اسنے گردن گھما کر اسے دیکھا۔
“سو جاؤ، کچھ گھنٹوں بعد دادا جی سے ملوانے دوبارہ کے جاؤں گا اور اگر نا سوئی تو صبح بھی لے کر نہیں جاؤں گا اور ڈرائیور کو بھی روک دوں گا پھر منت کرتی رہنا” وہ اسکا سوال مکمل اگنور کرتے ہوے بولا۔ اور واشروم میں چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ سفید قیمض شلوار پہنے، گلیے بالوں کو تولیے سے رگڑتے وہ باہر نکلا۔ نیہا کب سے اسکا ہی انتظار کر رہی تھی
“مت لے کر جائیے گا میں خود اپنی گاڑی سے چلی جاؤں گی” وہ کب سے اسکا انتظار کر رہی تھی تا کہ جواب دے سکے۔ وہ اسکی بات سن کر قدم با قدم اسکی طرف آیا، اور بالکل اسکے بیڈ کے پاس آ کر کھڑا ہوا۔
“میڈیم تمہاری گاڑی کی چابی میرے قبضے میں ہے، اسفندیار کے قبضے سے کوئی بھی چیز نکالنا نا ممکن ہے” وہ اسکی طرف جھکتے ہوۓ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔ نیہا کی دھڑکن رک سی گئی۔ اسفی نے دوبارہ اسے اپنے خیالوں مین جاتے دیکھا تو چہرے پر امڈ آنے والی مسکراہٹ کو روکتے ہوۓ اسکے چہرے پر گیلا تولیہ پھینکا۔ اور مسکراتے ڈریسنگ کی طرف بڑھا۔
“اف اسفی آپ کتنے گندے ہیں” نیہا اسکی حرکت سے ایک دم اپنے چہرے سے تولیے کو ہٹاتے ہوۓ چرتے ہوۓ بولی۔اور تولیہ اُٹھ کر صوفے پر اچھے سے پھیلایا۔ اور واپس کمبل میں گھس گئی۔سر تک کمبل تان لیا۔
“اسفی ایک کمبل اور دے دیں سردی لگ رہی ہے” وہ کمبل میں سے ہی اونچی آواز میں بولی۔ برش ڈریسنگ پر رکھتے اسکی بات سن کر اسفی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“خدا کا خوف کرو نیہا ہم مری میں نہیں رہتے اور اتنی بھی سردی نہیں، تم نے جرابیں، جرسی، ٹوپی ہر چیز تو پہنی ہوئی ہے اور سے اتنا موٹا کمبل لیا ہوا۔ ہے، ہمارے کمرے کا ٹمپریچر بھی ٹھیک ہے، پھر بھی تمہین سردی لگ رہی ہے” وہ تو جیسے اسکی بات سن کر ہتے سے ہی اُکھڑ گیا تھا۔ وہ اسکی سردی کے بارے مین جانتا تحا پر اب یہ حد سے زیادہ ہو رہا تھا۔ کمبل کے اندر نیہا مسکرائی اسے اسفی کا یوں اسکا خیال رکھنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اسکا نارمل رویہ اسے اچھا لگ رہا تھا۔ اسنے اپنے منہ سے کمبل ہٹایا۔ چہرے پر آۓ بالوں کو پیچھے کیا۔
“میں تو مزاق کر رہی تھی” وہ دانت نکالتے ہوۓ بولی۔ اسفی نے نفی میں سر ہلایا۔
“ویسے اسفی آپکو پتہ ہے، میرے ایک چاچو تھے جنکا نام حسن تھا، سالوں پہلے وہ گھر سے بھاگ گے، اور آج معلوم یوا انکی دیتھ ہو گئی، یہی بات بابا نے دادا سے چھپائی، بھلا یہ بات کوئی چھپانے والی تھی، بابا کو پہلے ہی بات دینا چاہیے تھا” نیہا بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بول رہی تھی۔ اسفی اسکی بات سنجیدگی سے سن رہا تھا
“کیا پتہ انکل کی کوئی مجبوری رہی ہو جو انہیں اتنی بری بات چھپانی پڑی، مجھے کام ہے تم آرام کر لو” وہ اتنا کہ کر کمرے سے چلا گیا۔ نیہا نے اسکا یوں ایک دم سیریس موڈ حیرانگی سے دیکھا۔
“اس شخص کو کوئی نہیں سمجھ سکتا کب نارمل ہو اور کب سنجیدہ ہو جاۓ” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بیڈ پر لیٹ گئی۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
