No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
راحیلہ کمرے میں داخل ہوئی تو انکی نظر اسفندیار کی وجود پر پڑی جو بیڈ پر سویا ہوا تھا۔۔
“اسفی بیٹا اُٹھ جاؤ” انہوں نے کھڑکی کے پردے پیچھے کیے، دھوپ چھن سی کرتی اندر آئی، اور سیدھی اسکے چہرے پر پڑی۔۔۔
“اسفی” راحیلہ نے اسکا کندھا تھپتھپایا۔ وہ ہلکا سا کسمسایا۔ اور آنکھیں کھولیں، جو لال ہو رہیں تھی۔ چہرا بھی لال تھا۔۔
“کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے؟” وہ پریشان ہوئی، اور اسکا ماتھا چیک کیا جو آگ کی طرح تپ رہا تھا
“ہممم ٹھیک ہوں، بس اُٹھ رہا ہوں” وہ اپنی آنکھیں مسلتے ہوۓ بولا۔۔۔
“اتنا بخار ہے، سکون سے لیٹے رہو، میں دوائی لاتی ہوں” وہ کہتی ہوئی باہر چلی گئی۔ وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھا۔ بخار کی وجہ سے اسکا سر گھوم رہا تھا۔ اسنے سر جھٹکا اور اُٹھ کر واشروم گیا۔ فریش ہو کر واپس آیا تب تک راحیلہ چاۓ اور بریڈ لے آئی تھی۔ جسکے ساتھ فرائی انڈے تھے۔
وہ بیٹھا اور ناشتہ کرنے لگا۔ اور پھر دوا کھائی۔
“مجھے میرال نے فون پر بتایا کل کیا ہوا تھا” راحیلہ نے بات شروع کی۔ اسفندیار نے سر جھکاۓ رکھا۔۔
“مجھے پہلے لگا تھا۔ جب بھی نیہا سے ملوں گا اسے منا لوں گا، مجھ سے محبت کرتی ہے مان ہی جاۓ گی،لیکن اب مجھے احساس ہو رہا ہے، میں کتنا غلط تھا” وہ اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ تھکے ہوۓ لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
“تم صرف اس چیز میں غلط نہیں کہ تم نے اسکے کردار پر سوال اُٹھاۓ، مجھے تم اتنے بے وقوف کبھی نہیں لگے جتنے تم اس رشتے میں بنے، ایک ایسا شخص جسنے تمہارے ماں باپ کو مارا اور تم نے خود دیکھا، وہ تمہیں تمہاری بیوی کے لیے بول رہا ہے، کہ وہ اسکے ساتھ ملی ہے، تمہیں وہ ثبوت ملے، جو یقیناً اسی نے رکھواۓ ہوں گے، میں تو حیران ہوں، کمرے میں کون چیزیں رکھ کر جا سکتا ہے، میں نے اسکے بعد سارا سٹاف بدل دیا۔۔ خیر تو تم نے جب وہ سب دیکھا تمہیں اس پر یقین کرنا ہی نہیں چاہیے تھا۔” راحیلہ آج اسے وہ سب بولنا چاہتی تھی جو وہ پچھلے کئی سالوں سے دل میں لیے بیٹھی تھی۔۔۔۔
“ماما میرا اسٹیٹ آف مائینڈ بہت خراب تھا۔ میں نے بس ری ایکٹ کر دیا” وہ اپنے ڈیفینس میں بولا۔۔۔
“تم ایک پولیس والے ہو کر کس طرح چیزوں کی تصدیق کیے بنا ری ایکٹ کر سکتے ہو، تمہیں معلوم ہے تم نے یہ سب کیوں کیا؟ کبھی اس بارے میں سوچا ہے، اس وقت تم نے اپنی بیوی پر اندھا بھروسہ کیوں نہیں کیا۔ کیوں ان ثبوتوں کو آگ کی ڈھیر نہیں کیا؟” راحیلہ کے سوالوں نے اسے اور شرمندہ کیا۔۔۔
“میں بتاتی ہوں کیوں، کیونکہ تمہیں سچ میں نیہا پر کبھی بھروسہ نہیں تھا۔ اور نا تم اس سے محبت کرتے تھے، اور تمہاری نیچر سے میں بہت اچھے سے واقف ہوں، تمہیں سواۓ اپنے چچا کے اور کسی پر بھروسہ نہیں، نا مجھ پر نا ہارون پر نا نور پر اور نا نیہا پر، مجھے اسکی وجہ کبھی سمجھ نہیں آئی، تم نے کبھی مجھ سے یا ہارون سے پرسنل بات شئیر نہیں کی، تم کیسا محسوس کرتے ہو، تم کس چیز سے کمفرٹیبل نہیں ہو، کچھ بھی نہیں، میں جانتی تھی مجھے تمہارے رویے سے محسوس ہوا تم نیہا کے ساتھ نا منگنی کے لیے دل سے راضعی تھے اور نا ہی شادی کے لیے، اسکی وجہ میں نہیں جانتی تم کیوں کسی پر بھروسہ نہیں کرتے بتاؤ کیا میں غلط بول رہی ہوں؟” راحیلہ کے کٹیلے سوالوں سے اسنے نظریں ہی چُرائیں وہ سچ کہ رہی تھی۔ وہ سچ میں اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔ اور سچ میں بھروسہ بھی نہیں کرتا تھا۔۔۔
“دل تو کر رہا یے تمہیں اتنا ماروں تمہارا دماغ ٹھکانے پر آجاۓ۔ تم یوں گھر چھوڑ کر گے جیسے ہم تمہارے کچھ لگتے ہی نہیں، پانچ سال تک غائب رہے، گنڈوں میں خود بھی گنڈا بن گے۔ بلاج کی حالت خراب ہو گئی اپنی بیٹی کی حالت دیکھتے ہوۓ، تمہیں احساس ہے، اسنے کس کس چیز کو فیس کیا ہو گا۔ جب سب کے سامنے اسکا شوہر ہی اسکے کردار پر کیچڑ اُچھال رہا ہے، اور جان لو خاندان والوں میں یوں بات پھیلی تھی، انکی باتیں، تم سوچ بھی نہیں سکتے تمہاری روح تک کانپ اُٹھے گی، لوگ کسی کو نہیں بخشتے، اور پریشے وہ بچی باپ کے ساۓ سے محروم رہی ہے، اسکے سوال سنتے نا تو ایک دن نا جی پاتے” بولتے ہوۓ راحیلہ کی آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے۔۔ آواز کانپ رہی تھی۔ اور اسفندیار کے دل پر ایک بھاری پتھر کی طرح بوجھ بھرتا ہی جا رہا تھا۔ اسکا سر جھکا ہوا تھا۔ اور آنکھیں نم تھیں۔۔۔۔زبان سے ایک لفظ نہیں نکل رہا تھا۔۔۔
“کیا بولوں میں تم کو، اب جو بھی فیصلہ کرنا سوچ سمجھ کر کرنا، اگر وہ مانتی ہے تو صحیح اور اگر وہ علحیدہ ہی ہونا چاہتی ہے، تم بنا بات کو کھینچے علحیدہ ہو، بخار اترتا ہے تو تیار ہو جانا، دو بجے تک ہمیں بارات میں جانا ہے۔ اور میں پیکنگ کر دوں گی، آج رات وہی رکنا ہے، ولیمہ دیکھ کر واپس آئیں گے، بلاج اور اسکی فیملی بھی جا رہی ہے” وہ کہتے ہوۓ اُٹھی اور کمرے سے چلی گئی۔ آج راحیلہ نے آئینہ دیکھایا تھا۔۔۔ وہ پیچھے کو گڑ گیا۔ اور ماتھے پر بازو رکھا۔۔۔۔۔
وہ شادی پر جانا بالکل نہیں چاہتی تھی پر بلاج کا رضا کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، اور کچھ رضا نے کافی انسسٹ بھی کیا کہ ساری فیملی آۓ۔۔۔۔عمیر اور حرا نے جانے سے انکار کر دیا۔ میرال کی طبعیت ابھی ٹھیک تھی پر وہ ٹریول نہیں کر سکتی تھی۔ سبھی تیار ہو رہے تھے۔ نیہا نے بلیک کیپری شرٹ پہنی ، ہلکا سا میک اپ کیا، بالوں کو ہلکا کلر کر کے کھلا چھوڑا اور ہلکی سی جیولری پہنی، ہاتھ پر برسلیٹ پہنتے ہوۓ اسکی نظر اپنے ہاتھ کی تیسری انگلی پر پہنی رنگ پر گئی، بہت سارے لمحات نظروں کے سامنے آۓ اتنے سالوں میں اسنے اس رنگ کو کبھی نکالا نہیں تھا، کیوں؟ اسکا جواب وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ بریسلیٹ کو پہنتے ڈوپٹہ اور گرم شال لیے وہ کمرے سے نکلی پریشے کو وہ پہلے ہی تیار کر چکی تھی۔ ساحل موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا۔ بلاج سفید کُرتا شلوار اوپر براؤن کوٹ پہنے صوفے پر بیٹھا، سامنے لگے ٹیوی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“بابا جانا ضروری ہے، قسم سے دل نہیں کر رہا” نیہا اسکے پاس آ کر منہ بسورتے ہوۓ بولی۔۔۔
“بیٹھو ادھر بات کرنی ہے” ٹیوی کا والیم بند کرتے ہوۓ وہ سنجیدگی سے بولا۔ نیہا وہی بیٹھ گئی۔۔۔۔
“کیا فیصلہ کیا ہے؟ ” سٹریٹ سوال پوچھا گیا۔۔
“وہی جو پہلے تھا۔ علحیدگی ہی ہو گی” وہ بھی اسی سنجیدگی سے بولی۔۔۔
“یہ آخری فیصلہ ہے، کیا کوئی سوچنے کی گنجائش نہیں؟” اسنے ایک دفع دوبارہ پوچھا۔ شائد وہ بدل دے۔
“بابا یہ میرا آخری فیصلہ ہے، اور ویسے مجھے یہ بات کرنی تو تھی،م مجھے پہلے صرف لگتا تھا کہ آپ اسفندیار کو زیادہ پسند کرتے ہیں، پر کچھ دنوں سے یقین ہو گیا۔ آپ نے ایک دفع بھی انکو یہ نہیں پوچھا، کہ تم نے وہ سب الزامات لگاۓ تو اب کس منہ سے واپس آ کر معافیاں مانگ رہے ہو، آپ تو نارمل ہو گے باتیں کر رہے تھے” وہ نم لہجے میں بولی۔ اسکے لہجے میں شیکائت تھی۔۔ بلاج کو اس میں خود کی جھلک نظر آئی وہ بھی یونہی کنول بیگم سے کہا کرتا تھا۔ وہ سکندر حمدانی کو کچھ کیوں نہیں کہتیں۔۔۔۔ میرال پیچھے کھڑی اسکی بات سن رہی تھی۔۔۔
“میرے بچے آپ نے کب مجھے اس سے بات کرتے دیکھا، جس دن سے وہ واپس آیا ہے، میں نے ایک دفع بھی اس سے بات نہیں کی، میں اس پر آپ سے زیادہ غصہ ہے، اور رہی بات بولنے کی، تو جب میری بیٹی خود اپنے لیے اتنا اچھا بول سکتی ہے تو میں کیوں بولوں؟ میں نے اپنی بیٹی کو اتنا قابل بنایا ہے کہ وہ خود کے لیے خود بول سکے، آپ نے جو بھی کل کہا، ایک ایک بات صحیح تھی، لیکن جو بات کل آپکی ماما نے آپکو سمجھائی وہ بھی صحیح تھی۔ خلع کے پیپرز میں خود بہت سوچ سمجھ کر لایا تھا۔میں شروع سے کہ رہا ہوں، اس رشتے میں رہنا یے یا نہیں یہ صرف آپ کی مرضعی ہے تو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا، اگر اسے معاف کر کے ساتھ رہ سکتی ہو، تو بھی ٹھیک اگر نہیں پھر بھی ٹھیک، دل کو مار کر کسی کے ساتھ نہیں رہنا اگر دل سے اسے دوبارہ قبول کر سکتی ہو تو رہنا۔۔۔۔ اب یہ سوچ سمجھ لو کیا کرنا ہے میں تمہارے ہر فیصلے پر ساتھ ہوں” اسکی بات سن کر نیہا کو رونا آ گیا۔ وہ اسکے سینے سے لگ گئی۔
“تھینک یو بابا، تھینک یو، مجھے نہیں رہنا، آپ انکو میرا فیصلہ سنا دو” وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔ بلاج اسکا سر سہلا رہا تھا۔ اسکی نظر میرال پر پڑی جو اسے غصے سے گھور رہی تھی۔ وہ کل رات کو اسے سب بتا چکی تھی تب بھی بلاج کا یہی کہنا تھا جو اسکا فیصلہ ہو گا وہی ہو گا۔۔وہ اپنی بیٹی کا گھر اُجڑتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
★★*
راستہ دو گھنٹے کا تھا۔ بلاج کی فیملی پہلے ہوٹل پہنچ گئی تھی۔ وہ اب سے مل رہے تھے بات کر رہے تھے۔ پندرہ منٹ بعد ہارون لوگ آۓ۔ ہارون رضا سے ملتا اسے مبارکباد دیتا بلاج کی طرف آیا۔ اسے سے گلے ملا۔۔
“نیہا بیٹا کیسی ہو؟” اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر پیار دیتے ہوۓ پوچھا۔۔
“انکل میں ٹھیک ہوں” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔۔۔۔
“ارے ہماری پرنسس بھی آئی ہے؟” راحیلہ خوشی سے اگے بڑھی اور پریشے کو اُٹھایا۔ اور پیار کیا پریشے کو بھی وہ کافی پسند تھیں۔۔ راحلیہ اب نیہا کی طرف بڑھی اسے سینے سے لگایا۔۔۔
“مائی برئیو گرل” راحیلہ نے اسکا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ کہا۔۔ نیہا ہلکا سا مسکرائی اور تبھی اسکی مسکراہٹ تھمی جب سامنے سے بلیک پینٹ کوٹ، بالوں کو سیٹ کیے، پاؤں میں بوٹ پہنے ہاتھ کلائی پر گھڑی پہنے، وہ متوازً چال چلتا انکی طرف ہی آ رہا تھا۔ اور اسکی نظر بھی اسی پر تھی۔ نیہا کی مسکراہٹ سمٹنا وہ نوٹ کر چکا تھا تبھی اسنے نظریں پھیر لیں، اسکا یوں نظریں چُرانا نیہا کو کافی عجیب لگا۔ وہ جب سے ملا تھا۔ اس پر رعب ہی جما رہا تھا۔ اپنی ہی منا رہا تھا۔ وہ راحیلہ سے علحیدہ ہوئی۔۔۔ تب تک وہ ان تک پہنچ چکا تھا۔ پریشے حوریہ کے ساتھ کھیلنے چلی گئی۔۔
” السلام علیکم! چاچو کیسے ہیں؟” اسنے آتے ہی بلاج کو سلام کیا۔۔۔
” وعلیکم السلام! آئندہ چاچو مت بلانا” بلاج نے سرد لہجے میں بس سلام کا جواب دیتے ہوۓ کہا۔ وہ چپ سا ہو گیا۔۔۔
“ایم سو۔۔۔” وہ اگے بڑھا اور انہیں سوری کہنے لگا جب بلاج نے سرد نظروں سے اسے دیکھا وہ وہی چپ ہو گیا۔۔
“تم نے اپنا مشن پورا کیا بہت اچھی بات ہے تم واپس آۓ یہ بھی اچھی بات ہے، تم نے مجھے وہ میسج بھیجا، میری فیملی کو بچانے میں مدد کی اسکا بھی شکریہ۔ پر تم میری نظروں سے اسی دن گر گے جب تم نے اپنی بیوی پر الزامات لگاۓ، تم کسی کو بنا بتاۓ پانچ سال غائب رکھے، اب مجھ سے واپس ویسے تعلقات کی امید تو بالکل نا رکھنا اور ہاں میری بیٹی تمہارے ساتھ رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تو جلد از جلد ڈائیوس دو” بلاج نے سخت لہجے میں اسے کہا، اسکے اس انداز نے اسفندیار کی رہی سہی ہمت بھی توڑ دی۔ اسنے نیہا کی طرف دیکھا۔ جسنے چہرا گھوما دیا۔۔ بلاج اسے لے کر وہاں سے چلا گیا۔۔
“برئیو بنو، غلطی ہوئی یے، اسکا ازالہ بھی ہو سکتا ہے۔ دونوں ہی ناراض ہیں، بات کرو گے تو مان جائیں گے” ہارون نے اسکا کندھا تھپتھپایا۔ اسنے بس ہاں میں سر ہلا دیا۔ ہارون اور راحیلہ باقیوں سے ملنے چلے گے۔ تبھی وہاں پریشے بابا بابا کہتی اسکے پاس آئی۔ اسنے پریشے کو گود میں اُٹھایا۔ اور ہلکا سا مسکرایا۔ جو زبردستی کی ہی تھی۔۔۔۔
“اچھا کیا نا، ہم یہاں شادی میں ہوتے تو اسے کافی کچھ سناتا، میں نے اسکو بول دیا ہے، وہ اب ڈائیوس دے دے گا” اسنے نیہا کو کہا۔ جسکے چہرے پر اداسی سی تھی۔ جو رات تک اسنے سوچا تھا وہ ہو رہا تھا۔بلاج دوسرے کولیگ سے بات کر رہا تھا۔۔ نیہا کی نظر ان دونوں پر ہی تھی، اسفندیار نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ اور پریشے کی سینڈل بند کر رہا تھا۔۔۔۔
بارات کا فنگشن مکمل ہوا، سبھی رضا کے فام ہاؤس پر آۓ، جہاں انکے اور باقی انکے رشتے داروں کے رہنے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ انکا فام ہاؤس کافی برا تھا۔۔۔۔ سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔۔۔ بلاج ہارون اور رضا کے باہر واک پر گیا تھا۔ ساحل سو چکا تھا۔ صائم حوریہ اور پریشے کو گارڈن میں کھلا رہا تھا۔ حیام بھی ساتھ تھی۔۔ وہ چینج کر کے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ جب دروازے پر ناک ہوا اور دروازہ کھول کر اسفندیار اندر داخل ہوا۔۔۔۔
“آپکا کمرہ یہ نہیں ہے” وہ کہتے ہوۓ کھڑی ہوئی۔ اسفندیار نے دروازہ بند کیا۔ اور اسکی طرف بڑھا۔
“چاچو نے جو کہا کیا وہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟” اسنے سیدھا سوال کیا۔ اسکا چہرا ستا ہوا تھا۔ صبح کا بخار ابھی مکمل اترا نہیں تھا۔۔
“ہاں” نیہا نے اتنا ہی جواب دیا۔۔۔اور چہرا موڑ لیا۔۔
“پلیز مت کرو” اسکا لہجہ تھکا ہوا تھا۔
“کیا نا کروں؟”
“اتنی نفرت مت کرو” اسکی بات پر نیہا نے اسکی طرف دیکھا اور طنزیہ انداز میں ہنسی۔۔۔
” یہی تو مسلہ ہے، جن سے محبت ہو ان سے چاہ کر بھی نفرت نہیں ہو پاتی” وہ ٹوٹے بکھرے لہجے میں بولی۔۔ وہ اگے بڑھا اور اسے دونوں کندھوں سے پکڑا۔
“پلیز مت کرو، اتنا برا فیصلہ۔۔۔” وہ ابھی بول رہا تھا کہ نیہا نے اسکے دونوں ہاتھ جھٹکے۔۔۔
“ناپاک لڑکی ہوں نا، مجھے چھو کر آپ جیسا پاک بندہ بھی ناپاک ہو جاۓ گا، تو دور رہیں” اسنے سخت لہجے میں کہا۔۔ اسفندیار نے ضبط سے کام لیا۔ وہ ہر جملے پر اسے اسکی باتیں یاد کروا رہی تھی۔۔
“تم تو مجھ سے بہت محبت کرتی تھی، بچپن سے چاہتی ہو نا، تو کیا تم مجھے ایک چانس نہیں دے سکتی” اسنے التجائی انداز میں کہا۔۔۔
“محبت نہیں آپ سے عشق تھا اسفندیار، آپ سے شادی کرنا میرا خوبصورت خواب تھا۔ جو اب ایک بھیانک سچائی میں بدل چکا ہے، مجھے آپکی وہ بات نہیں بھولتی جب آپ نے بولا تم اسکے ساتھ کتنی راتیں سوئی ہو، میں نے یہ بات اپنی زبان سے کسی گھر والے کے سامنے نہیں کی، اگر میرے باپ کو معلوم ہو جاۓ نا آپ نے اس قدر گھٹیا بات مجھ سے کی تھی، وہ زندہ گھاڑ دیں اسفندیار سمجھ آئی” وہ کس ضبط سے بولی تھی۔ یہ صرف وہی جانتی تھی۔ اسکا سارا چہرا سرخ ہوا پڑا تھا۔ آنکھوں سے آنسوں نکل رہے تھے۔۔۔
“تو مجھے بتاؤ میں ایسا کیا کروں جو تمہارا درد کم ہو جاۓ، میں نے سب غصے میں کہا تھا۔ نیہا میرا رب جانتا ہے مجھے احساس ہو گیا تھا۔ میں کتنی بری غلطی کر آیا۔ ہوں، پر تب تک سر نے مجھے وہ مشن دے دیا۔ میں تم سبکے پاس آنا چاہتا تھا تم سے تب ہی معافی مانگنا چاہتا تھا۔ پر مجھے تم سب سے دور رہنا پڑا، تم سبکو سیو کرنے کے لیے، میں تم سب سے دور ہو گیا۔ میں جانتا تھا میں جب بھی واپس آؤں گا تم سبکی زندگی خطرے میں پڑ جاۓ گی، اسی لیے میں نے تم سے ملنے کے باوجود اپنا رویہ سرد رکھا تا کہ تم ان سب اے دور رہو ، اگر مجھے یہ مشن پورا نا کرنا ہوتا میں تب ہی تمہارے پاس آ جاتا” وہ اسکے ہاتھ پکڑے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ اسکا لہجہ تھکا ہوا تھا۔ بھجا ہوا تھا۔ نیہا نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ بری طرح رو رہی تھی۔ اسنے ہاتھ چھڑوا لیے۔ اسفندیار خود کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کر رہا تھا۔ وہ کیسے اسے مناۓ۔ تھک ہار کر وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔
“پلیز نہیا مجھے معاف کر دو، میں اپنے کہے ہوۓ سارے الفاظ پر دل سے شرمندہ ہوں، جانتا ہوں انکی معافی نہیں مل سکتی پھ بھی اگر تم مجھ سے اب بھی کچھ ہرسنٹہی سہی محبت کرتی ہو تو پلیز معافی میں نے یہ کبھی نہیں کہا۔ نیہا آئی ریلی ریلی لو یو یار، ان سالوں میں ایک پل ایسا نہیں گیا جب میں خود کو کوستا نہیں تھا کہ تمہیں وہ سب کیوں کہا۔ اسکا گواہ میرا رب ہے، میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں، تمہیں کھونا نہیں چاہتا پلیز معاف کر دو۔۔۔” وہ اپنے دونوں جوڑتے ہوۓ روندھے ہوۓ لہجے میں بولا۔ سنجیدہ، اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان آج اپنی بیوی کو منانے کے لیے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافی مانگتے بچوں کی طرح رو رہا تھا۔ نیہا اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہلکا سا مُری وہ بھی رو رہی تھی۔۔۔ تبھی دروازہ کھٹکا۔ شائد پریشے آ گئی تھی۔۔۔ نیہا نے سائیڈ ٹیبل سے ٹیشو پکڑا اور اپنا چہرا صاف کیا۔۔۔ اسفندیار اسی طرح بیٹھے ہاتھوں سے چہرا چھپایا ہوا تھا۔
وہ کھڑا ہوا۔۔ اور ٹیشو سے اپنا چہرا صاف کرنے لگا۔۔۔۔
“آپی دروازہ کھولو جلدی” تبھی باہر سے صائم کی آواز آئی وہ دروازے کو پیٹ رہا تھا۔۔۔ نیہا جلدی سے اگے بڑھی اور دروازہ کھولا سامنے حیام صائم ساحل اور حوریہ کھڑے تھے۔۔۔
“آپی پریشے نہیں مل رہی” صائم نے روتے روتے کہا۔۔۔ نیہا کی سانس تھم گئی، اسفندیار جلدی سے باہر آیا۔۔
“کیا مطلب نہیں مل رہی تم سب گارڈن میں کھیل ریے تھے؟” نیہا پریشانی کے عالم میں بولی۔۔
“ہم سب باہر ہی تھے، کھیل رہے تھے، میں پانی لینے اندر آئی، جب باہر گئی تو صائم پری کو ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ چھپن چھپائی کھیل رہے تھے۔ ہم تب سے اسے ڈھونڈ رہے تھے، سارا فام ہاؤس دیکھ لیا پتہ نہیں کہاں گئی کچھ سمجھ نہیں آ رہا” حیام پریشانی سے اپنا ماتھا مسل رہی تھے۔۔۔۔ اسفندیار نے پاکٹ سے فون نکالا۔ اسکا فون سائلنٹ پر تھا۔ اسنے دیکھا موبائل پر حسنین کی تیس مس کالز تھیں۔ اور ایک نمبر تھا۔ جس سے اسے کافی کالز آئیں، اسنے اس نمبر پر کال ملائی۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
