No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
” مجھے زندگی میں پہلی بار لگا میں تمہیں اور پریشے کو دوبارہ دیکھ نہیں پاؤں گا، قسم سے بہت درد ناک لمحہ تھا” وہ اسکے چہرے پر نظر ڈالے ہوۓ اس خوفناک لمحے کو بیان کر رہا تھا۔ نیہا کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں۔۔۔۔
“ادھر دیکھو میری طرف” وہ ہلکا سا آگے ہو کر بیٹھا اور اسکی تھوڑی سے پکڑ کر چہرا اوپر کیا، اسکی پلکیں مارے ضبط کے لرز رہی تھیں، اور ہونٹ کانپ رہے تھےچہرا تو اوپر تھا پر نگاہیں ابھی بھی جھکی ہوئیں تھیں۔ وہ اسے کافی ٹوٹی بکھری لگی، اور ان دونوں میں پہلی بار وہ غصہ نہیں بلکہ غمگیںن لگی۔۔
“نیہو ” جب اسنے نظریں نا اُٹھائیں تو اسنے کئی سالوں بعد اسکا یہ نام لیا۔۔ جسے سنتے اسکی آنکھوں سے آنسو لگتار بہنے لگے۔۔ وہ بنا کچھ کہے اسے اپنی آغوش میں لے گیا، اور اسکے گرد حصار باندھتے سر اسکے کندھے پر ٹکا دیا۔۔ وہ اپنا ضبط کھوتےاسکے سینے سے لگی ٹوٹ کر رو دی۔۔ سالوں کا غبار نکلتا چلا گیا۔ نیہا کو اپنے کندھا گیلا محسوس ہوا، وہ رو رہا تھا۔
“ایم سو سوری میری جان، ایم سو سوری میں ایسا بالکل نہیں چاہتا تھا، پلیز میں تمہیں اور پری کو کھونا نہیں چاہتا میں بہت اکیلا ہوں، سب چھوڑ جاتے ہیں ” روندھی سی آواز آئی۔ جس میں معافی تھی، اور ایک التجا تھی۔ بچپن کا ٹروما تھا۔ نیہا نے بنا کچھ کہے اپنی باہیں اسکی کمر کے گرد باندھی۔
“آئی ریلی مسڈ یو ” پھر سے ہلکی سی آواز آئی۔۔۔ اسکا دل ہلکا ہوا، تو وہ علحیدہ ہوئی۔ بخار کی وجہ سے اسکا سر چکرا رہا تھا۔ اسنے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی۔۔اور نیہا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ جیسے اگر چھوڑے گا تو وہ دوبارہ نہیں ملے گی۔ نیہا نے سائیڈ ٹیبل کی ڈرار سے ٹشو نکالے اور اپنا چہرا صاف کیا۔ اور دوسرے ٹشو سے اسکا چہرا صاف کیا۔۔۔۔
“بتاؤ چھوڑو گی تو نہیں؟” اسکی آواز میں واضع ڈر تھا، جو بیان ہوا۔
“چھوڑنے کا سوچا تو تھا، پر ہمت نہیں ہوئی، اور اب اگر بار بار اتنی معصومیت سے معافی مانگیں گے تو کیسے معاف نہیں کروں گی ” وہ اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے پرسکون لہجے میں بولی۔۔۔ اور اسکے یہ الفاظ سن کر اسنے گہری سانس لی اور آنکھیں بند کر دیں، دو آنسوں پلکوں کی بار کو توڑتے ہوۓ نکلے، اور یہ خوشی کے آنسو تھے۔
“آپکا بخار بڑھ رہا ہے” وہ اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کرتے ہوئے بولی، اور سائیڈ ٹیبل کی نچلی دراز سے دوائیوں کا ڈبہ نکالا اور اسے دوا دی۔۔۔۔۔اور سونے کا کہا۔۔ اسنے ابھی تک اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا۔۔۔۔ دوائی کے اثر سے کچھ ہی دیر میں وہ سو گیا۔۔وہ وہی بیٹھی کافی دیر تک بس اسکو تکتی رہی۔۔۔
“میں نے وہی کیا جو میرا دل مان رہا تھا، آپکو معاف کرنا میرے دل کا فیصلہ ہے، اب یہ صحیح ہے یا غلط یہ تو وقت بتاۓ گا” وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوئی۔۔ وہ اُٹھی اور کمرے کی لائیٹ بند کرتی باہر آ گئی۔ وہ سیدھی میرال کے پاس آئی اور اسکے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔
“کیا ہوا؟” میرال نے اسکا سر تھپتھاتے ہوۓ پریشان لہجے میں پوچھا۔ اسنے نم لہجے میں اپنا فیصلہ بتایا جسے سن کر میرال نے راحت کی سانس لی اور ہلکا سا مسکرا دی۔ جانتی تھی یہ فیصلہ اسکے لیے کتنا مشکل تھا۔۔۔
“وسیم کافی بار مجھے فون کر چکا ہے، تم اس سے ایک دفع بات کر لو” حیام حوریہ کے کپڑے پریس کر رہی تھی، ساحل اسکے پاس آیا۔۔ پریس کرتے کرتے اسکے ہاتھ رکے۔ وہ جب سے آیا تھا اس سے بات کرنا چاہتا تھا پر وہ اگنور کر رہی تھی۔۔
“ہممم” وہ بس اتنا ہی بولی ساحل کئی پل اسکو دیکھتا رہا۔
“حیام وہ بدل چکا ہے، اسے اپنی غلطی کا احساس ہے، وہ تم سے صرف بات کرنا چاہتا ہے، ایک دفع سن لو” ساحل نے استری بند کی اور اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ اسکا سر جھکا ہوا تھا۔
“میری ماں مری، نا باپ آیا نا بھائی، اور وہ بھائی جس نے مجھے پیسوں کے لیے بیچا، میں اس سے بات نہیں کرنا چاہتی” حیام نے نم لہجے میں کہا۔۔
“کافی سال گزر گے، وہ کافی بدل گیا ہے اسے احساس ہوا ہے، تم ایک موقع دے دو، تمہارا بھی دل ہلکا ہو جاۓ گا” وہ اسے ساتھ لگاتے ہوۓ بولا۔۔ اسنے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔
وہ صبح سیدھا اپنی عاطف صاحب کے گھر پہنچا، اور پھر انکی قبر پر گیا۔۔۔ میرال وہ بتا آیا تھا کہ۔ وہ شام کو نیہا اور پریشے کو اپنے گھر لے کر جاۓ گا تو وہ تیار رہیں۔۔ شام ہو چلی تھی۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں تھی پیکنگ تو کر لی تھی ابھی میرال کے فورس کرنے پر اسنے بلیک فراک پہنی جو پاؤں کو چھو رہی تھی، ڈوپٹہ گلے میں ڈالا اور کندھوں کے گرد گرم شال لی، اور میرال کے فورس کرنے پر ہلکا سا میک اپ کیا۔۔۔۔۔۔
“یہ جیولری بھی پہنوں” میرال نے ڈائمنڈ ٹاپس اور نیکلس اسکی طرف بڑھایا۔
“ماما اُور ہو جاۓ گا” اسنے منہ چڑھایا۔۔۔۔۔
“نیہا اگر اتنا برا فیصلہ لیا ہے، تو دل سے سارے وسوسے نکال کر بس اللہ پر یقین رکھو، سب صحیح ہو گا، چلو جیولری پہنو، اور یہ لال چوڑیاں بھی” میرال نے چوڑیاں اسکی طرف بڑھائیں اسنے گہرا سانس لیا اور جیولری پہنی، پاؤں میں خوسہ ڈالا اور پریشے کی طرف آئی، جو کہ تیار تھی، وہ اپنے کھلونے بیگ میں ڈال رہی تھی۔۔ وہ سب سے زیادہ خوش تھی، کہ وہ بابا کے پاس رہے گی، اسکا بھی اپنا ایک گھر ہو گا۔۔۔۔ تبھی باہر سے اسفندیار کی آواز آئی وہ آچکا تھا۔۔۔۔۔ اور شائد سب سے مل رہا تھا۔۔۔
“تم دونوں آجاؤ” میرال کہتے ہوۓ باہر چلی گئی۔۔ نیہا نے پریشے کا بیگ بند کیا اور اسکا ہاتھ پکڑے کمرے سے باہر آئی، اسفندیار جو کہ میرال سے سر پر پیار لے رہا تھا۔ اسکی نظر سیدھی ان دنوں پر پڑی، نیہا کو اتنا تیار دیکھ اسکی نظر اس پر ٹھر سی گئی۔۔ بالکل پانچ سال پہلے والی نیہا کی جھلک نظر آئی، بس اسکی مسکان اصلی تھی، پر اسے نیہا کی مسکراہٹ ہلکی سی بناوٹی لگ رہی تھی، اندر کے ڈر کی وجہ سے؟
“بابا بابا ہم آپکے ساتھ جا رہے ہیں” پریشے خوشی سے جھومتے ہوۓ بھاگ کر اسکے سینے سے لگی، اسفندیار نے اسکے گال چومتے ہوۓ ہاں کہا۔۔۔ وہ اس۔ سے سوالوں جواب کرنے لگی، میرال حرا کے ساتھ کچن میں آئی، حرا اداس سی لگ رہی تھی۔ وہ علیزے کا سوچ رہی تھی۔ جو میرال نے اچھے سے محسوس کیا۔۔
“اب جب ملنے جاؤ گی تو مجھے بھی کے کر جانا” اسکے کندھوں کے گرد بازو لیپٹے ہوۓ کہا۔ حرا پھیکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔ دونوں چاۓ کباب اور میٹھی چیزیں لے کر باہر آئیں۔۔ اور سب کو سرو کی۔۔ سب آپس میں باتیں کر رہے تھے، پریشے اسفندیار کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اور اسکی چاۓ پی رہی تھی۔۔۔۔
“آنٹی اب آجازت دیں” وہ کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔
“ارے ڈنر تو کرتے جاؤ” میرال نے چونک کر کہا۔۔۔۔
“آنٹی انکو گھر چھوڑ کر کچھ کام کرنے جانا ہے” وہ معذرت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔بلاج اس سارے وقت میں خاموش تھا۔۔۔
“ٹھیک ہے، اسفندیار تم پر ایک بار پھر سے بھروسہ کر رہی ہوں، میری بیٹی کو دوبارہ تقلیف نہیں پہنچنی چاہیے، میں نے تم پر بھروسہ دیکھایا ہے، وہ بھروسہ ٹوٹنا نہیں چاہیے” میرال نرم لہجے میں بول رہی تھی اور وہ سر جھکاۓ سنتے ہاں میں سر ہلا رہا تھا۔۔ نیہا سب سے مل رہی تھی۔ وہ آخر میں بلاج کے سینے سے لگی۔۔۔۔۔۔
“میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں” وہ گہرا سانس لیتے ہوۓ نم لہجے میں بولا۔۔ نیہا اب میرال کی طرف بڑھی، اسفندیار بلاج کی طرف بڑھا، وہ اسکے گلے لگنا چاہتا تھا۔۔۔۔
“مجھے شیکایت کا موقع مت دینا” بلاج نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ جیسے اسے رُک دیا تھا۔ اور سخت لہجے میں کہا۔ وہ سرد آہ بھر کر رہ گیا۔۔۔ وہ ابھی تک ناراض تھا۔۔۔ اسنے ہاں میں سر ہلایا، صائم اور ساحل نے نیہا کا سامان اسفندیار کی گاڑی میں رکھا۔ وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی، اسکی گود میں پریشے تھی۔ اسفندیار ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی سکندر ولا سے نکالی۔۔۔۔ گاڑی میں صرف پریشے کی آواز گھونج رہی تھی، وہ اسفندیار سے باتیں کر رہی تھی۔ نیہا سر سیٹ کی بیک پر ٹکاۓ آنکھیں بند کیے ہوۓ تھی۔۔ پندرہ منٹ بعد گاڑی رکی، اسکی آنکھ کھلی، وہ گھر پہنچ چکے تھے، نیہا کی نظر گھر پر گئی، کئی لمحات یادوں کے پردے پر بکھرے، خوبصورت پل، اور سب سے بھیانک پل لہراۓ، اسکی آنکھیں کچھ پل کے لیے نم ہوئیں، وہ چونکی تب جب اسفندیار نے اسکی طرف کا دروازہ کھولا، وہ اسکو ہی دیکھ رہا تھا، اسکی نم آنکھیں وہ دیکھا چکا تھا، پریشے گاڑی سے باہر نکلی، اسفندیار نے مسکراتے ہوۓ ہاتھ اسکی طرف بڑھایا۔۔۔ کچھ ہی پلوں میں اسنے خود پر قابو پایا اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجاۓ، اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے گاڑی سے باہر آئی۔۔۔۔۔۔اسفندیار نے دروازہ بند کیا ایک ہاتھ میں پریشے تو دوسرے ہاتھ میں نیہا کا ہاتھ تھامے وہ اپنی کل کائنات کو لیے حال کے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔ حال میں ہارون، راحیلہ اور نور انکا ہی انتظار کر رہے تھے، جیسے ہی وہ تینوں داخل ہوۓ، ان پر پھولوں کی برسات ہونے لگی، ہر طرف سے پھول پھینکے جا رہے تھے، سارا حال غباروں اور پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔ حال میں رکھے ٹیبل پر ایک کیک رکھا تھا اسکے اوپر ویلکم ہوم لکھا تھا۔
“ویلکم ہوم بھابھی!” نور اس پر پھول پھینکتے ہوۓ چہچاتے ہوۓ لہجے میں بولی۔ نیہا کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ بکھری۔ پریشے تالیاں بجاتے ہوۓ غباروں کو پکڑنے لگی، اور کچھ کو پھاڑ بھی دیا۔۔۔ اسکی قہقہے گھر میں گھونجے کگی کچھ ہی پلو میں گھر میں رونق سی ہو گئی، نیہا سب سے ملنے لگی۔
“ویلکم ہوم بچے” راحیلہ نے اسکا ماتھا چومتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
“تھیک یو ” وہ مسکرا کر بولی۔۔۔۔۔
“چلیں چلیں بھائی بھابھی کیک کٹ کریں جلدی سے ” نور نے انکا رخ ٹیبل کی طرف کیا۔ وہ دونوں ٹیبل کی طرف آۓ۔۔۔۔
“مجھے بھی کٹ کرنا ہے” تبھی ہاتھ میں غبارہ لیے پریشے بھاگ کر انکے پاس آئی۔۔
“مائی پرنسس آپ بھی ادھر آؤ، یہ آپکے لیے اور آپکی مما کے لیے ہی تو ہے” وہ اسے لیے ٹیبل کے پاس آیا، اسے کھڑا کیا اور اسکے ہاتھ میں چھری پکڑائی اور اوپر نیہا کا ہاتھ رکھتے اسکے اوپر اپنا ہاتھ رکھا اور کیک کو کٹ کیا۔۔۔۔ سب نے ویلکم ہوم کی ہوٹنگ کی، اور تالیاں بجائیں۔ نیہا نے کیک کا پیس پکڑا۔
“ماما میں نے کھلانا ہے” پریشے نے اپنے چھوٹے ہاتھ سے نیہا کے
ہاتھ سے کیک یا پیس لیا اور سب سے پہلے اسفندیار کی طرف بڑھایا۔ وہ گھٹنوں کے اسکے پاس بیٹھا، پریشے نے اسے کیک کھلایا، اسکی آنکھیں نم سی ہوئیں،جو نیہا نے دیکھ لیا، اسنے جلدی سے خود پر قابو پایا اور کیک کھایا۔ اور واپس اسکو کھلایا۔۔۔۔۔ اور پھر وہ نیہا کی طرف آیا اور اسکی طرف کیک کا پیس بڑھایا، جسے اسنے تھوڑا سا کھایا۔۔۔۔۔ راحیلہ نے ڈنر لگوایا، سب نے مل کر ڈنر کیا۔ اسفندیار کو بار بار کالز آ رہیں تھیں، وہ ایک گھنٹے میں واپس آتا ہوں کا بول کر کال پر بات کرتا باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔۔
“بھابھی جب سے آپ نے بھائی کے ساتھ واپس آنے کا فیصلہ کیا تب سے بھائی نے ہم سبکو کام پر لگایا ہوا تھا، ہماری پیاری سی پرنسس کے لیے اسکا کمرہ ریڈی کروایا ہے، چلو پری آپکو آپکا روم دیکھاؤں” نور اکسائیٹمنٹ کے بھرے لہجے میں بولی۔۔۔ پریشے بھی اسکے ساتھ چل دی۔۔۔
“لیکن وہ پری اکیلی نہیں سوتی” نیہا نے راحیلہ سے کہا۔۔۔۔
“سوتی نہیں ہے، تو کیا ہوا، اسکا کمرہ بنوانا اسفندیار کا شوق تھا، تم دیکھو تو زرا، سٹڈی ٹیبل، الماری بیڈ ہر چیز پر نئی لائی ہے، اور ڈھیر سارے کھلونے” راحیلہ ہنستے ہوۓ بولی۔ اسکی بات پر وہ مسکرا دی۔۔۔ پر ایک جھجھک سی آ گئی تھی۔۔۔ جو راحیلہ نے محسوس کی۔ جو وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جانی تھی۔۔۔۔۔ اسنے کچھ نا کہا۔۔۔۔۔۔۔
نور اور پریشے کب سے اس کمرے میں تھیں۔۔ نیہا اس کمرے میں آئی واقع کمرہ بہت خوبصورت بنا تھا۔ پنک تھیم تھا۔۔۔۔ پریشے چہچہاتے ہوۓ اپنے کھلونے دیکھ رہی تھی، وہ بے حد خوش تھی، اسکی ہر بات سے خوشی جھلک رہی تھی۔ نیہا کو گویا سکون سا ملا، اسکا فیصلہ پریشے کے لیے بہت صحیح ثابت ہو رہا تھا۔ اتنا خوش اسنے اسے پہلے کبھی نا دیکھا۔ بلاج ولا میں اسے کبھی کسی چیز کی کمی نا تھا۔۔۔پر پریشے کو ہمیشہ سے اپنا بابا چاہیے تھے۔۔۔ وہ دوسرے بچوں کی طرح نارمل زندگی گزارنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔ وہ اسکی الماری کی طرف بڑھی، وہاں وہاں وہ اسکے کپڑے رکھنا چاہتی تھی، اسنے الماری کا دروازہ کھولا۔ تو شاک سی ہوئی اسکے اندر بے انتہا ڈریسز۔ تھے، فراک، قیمض شلوار، پینٹ شرٹ وغیرہ۔۔۔ بے انتہا خوبصورت ڈریسز تھے،
“بھائی ایکسائیٹمنٹ میں کچھ زیادہ ہی ٔکپڑے خرید لاۓ ہیں” نور پریشے سے کھیل رہی تھی۔۔ وہ کب سے پری کو گھر لانا چاہتی تھی یہ خواب کی طرح تھا۔۔ وہ اسکے باقی کپڑے الماری میں سیٹ کرنے لگی۔
“اب کہی جا کر دل کو سکون سا ملا” میرال اپنے ہاتھوں پر لوشن لگاتے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔ بلاج بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ سامنے ٹیوی پر مووی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“ہاں، اب بس وہ اُلو کا پٹھا سیدھا رہے” وہ ٹیوی کا والیم ہلکا سا آہستہ کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
“شرم کرو وہ داماد ہے ہمارا، اور تم اس سے صحیح سے بات کیوں نہیں کرتے، آج کا رویہ دیکھا ہے میں نے” میرال اسے گھورتے ہوۓ بولی۔
“داماد ہے تو کیا کروں، تم فکر مت کرو اسکو اسی طرح سیدھا کرنا ہے” وہ ٹیوی پر نظر جماۓ بولا۔۔ میرال نے نفی میں سر ہلایا اور اسکے ہاتھ سے ریموٹ پکڑ کر ٹیوی بند کر دیا۔۔۔
“ارے یار بس تھوڑی سی رہ گئی تھی” اسنے ریمورٹ لینے کے لیے بڑھایا۔۔
“بیوی سے زیادہ انٹرسٹ تو اب اس فلم میں ہے، دیکھ لو، اب بوڑھی جو ہو رہی ہوں” وہ ریمورٹ بیڈ پر اسکی طرف پھینکتے ہوۓ منہ بسور کر بولا۔ وہ اسکے یوں ناراض ہونے پر ہلکا سا ہنسا اور اسکا ہاتھ پکڑا۔۔
“میری جان اس ناچیز کی اتنی ہمت کہاں جو بیگم کو اگنور کرے، اور بوڑھی تو تم بالکل نہیں ہوئی، آج بھی وہی میری یونی والی سڑیل میرو ہو” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔ کہی وہ دوبارہ ناراض نا ہو جاۓ۔۔۔
“میں تو بوڑھی نہیں ہو رہی پر تم ضرور ہو رہے ہو یہ دیکھو تمہارے بالوں میں یہ سفید بال” میرال نے وہ سفید بال پکڑتے ہوۓ اسے چھڑا جانتی تھی اب کیا ہونے والا ہے۔
“واٹ سفید بال ایسے کیسے میں نے کچھ دن پہلے ہی بالوں کو کلر کروایا ہے” بالوں سے عشق کرنے والا بلاج حمدانی جھٹ سے اُٹھ کر شیشے کے سامنے گیا اور چیک کرنے لگا۔۔۔جبھی پیچھے سے میرال کا قہقہ گھونجا۔ وہ بیڈ پر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ اسنے اگنور کرنے کا بدلہ لے لیا تھا۔
“میرو کی بچی روکو تم زرا” وہ اسکی طرف بڑھا وہ بیڈ سے نیچے اترتی ہنستے ہوۓ کمرے میں بھاگنے لگی، اور وہ اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا، دونوں کی ہنسی فضا میں بکھر رہی تھی۔ جبھی بلاج نے اسے پکڑ لیا۔۔۔۔
“اووو میرو! آئی لو یو یار۔۔۔ آئی ریلی لو یو” وہ مسکراتے ہوۓ محبت بھرے لہجے میں بولا۔۔
“لو یو ٹو” میرال نے کہتے ہوۓ اسکے سینے سے سر ٹکا لیا۔ بلاج نے اسکے گرد بازو لپیٹ لیے۔۔۔۔۔۔
وہ دو گھنٹے پریشے کے ساتھ ہی بیٹھی رہی نور اور پریشے اب نوڈلز کھا رہیں تھیں۔ وہ اس کمرے میں جانے سے گھبرا رہی تھی، جو خود پر بند باندھا ہوا تھا کہی ٹوٹ نا جاۓ۔۔۔۔۔اسفندیار ابھی تک نہیں آیا تھا۔۔۔ تبھی اسکا موبائل بجا، جس پر اسفندیار کا میسج تھا۔۔۔
“کمرے میں ایک لال رنگ کی فائل ہو گئی، نیچے لانا میں باہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں” اسکا میسج پڑھ کر وہ کھڑی ہوئی اور باہر کی طرف بڑھ گئی۔ وہ سیڑھاں چڑھتی اوپر کمرے کی طرف آئی۔۔۔
پانچ سال بعد اسنے اس کمرے میں قدم رکھا تو اسکے پاؤں ہلکے سے کانپ رہے تھے۔ دروازہ کھولتے اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے، اور آنکھیں ہلکی سی نم تھیں۔ جس لمحے سے وہ ڈر رہی تھی وہی ہو رہا تھا۔ یہی اسی کمرے میں اسنے زندگی کے درد ناک جملے سنے تھے اسنے گہرا سانس لیا اور دروازہ کھولا۔ اور بند کرتے اندر آئی۔ وہ چونکی، اینٹر ہوتے ایک لمبی سی بیڈ کی طرف جاتی راہداری پھولوں سے بنائی ہوئی تھی، جسکے دونوں اطراف دئیے جل رہے تھے، ایک طرف پھولوں سے ائی ایم اور دوسری طرف سوری لکھا تھا۔۔ پورے کمرے میں یلو اور بلیک غُباروں سے ڈیکوریشن ہوئی تھی۔ ان غباروں پر بھی سوری لکھا ہوا تھا۔۔۔۔صوفے کے سامنے رکھے ٹیبل پر ایک کیک رکھا تھا۔ جس پر سوری کھا تھا۔ اور ڈریسنگ ٹیبل کی سامنے وہ ہاتھ میں گلابوں کا بُکے پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔
“یہ سب؟” وہ نم نظروں سے آس پاس دیکھتے ہوۓ بس اتنا ہی بولی۔ وہ چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔
“میں نے جو بھی کیا ، بہت غلط کیا، جانتا ہوں، اتنی آسانی سے وہ درد اور دردناک یادیں تمہارے دل سے نہیں نکلیں گی، لیکن اب سے لے کر اپنی آخری سانس تک تمہیں اتنی محبت دوں گا کہ تم ان تمام یادوں کو ماضعی کا صرف ایک کالا کاغذ سمجھو گی، جس میں کالی پنسل سے حرف تو لکھے ہوں گے پر پڑھے نہیں جائیں گے” وہ اسکا دائیاں ہاتھ پکڑتے ہوۓ محبت بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔۔ اسکی نم نظریں اسکی بھیگی ہوئی نگاہوں سے الجھی ہوئیں تھیں۔۔۔۔
“اور اگر میرا دوبارہ دل دُکھایا تو؟” وہ اپنی آنکھ کا کنارہ صاف کرتے ہوۓ نم لہجے میں بولی۔
“تم جو سزا دو گی قبول کروں گا، کیا اب میری نیہو کا دل مطمین ہوا؟” وہ اسکے گال پر بہ رہے آنسوں کو انگلیوں کی پوروں سے پوچھتے ہوۓ بولا۔۔۔
“دل تو مطمین ہے، پر کچھ وعدے کرنے ہوں گے کہ آئندہ اگر کبھی ہم ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے، اگر کچھ مس انڈرسٹینڈنگ ہوئی تو بیٹھ کر حل کریں گے” اسفندیار نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ اور اسے سینے سے لگایا۔۔۔ نیہا نے پرسکون سا ہوتے اسکے سینے سے سر ٹکایا۔۔
“تم سوچ بھی نہیں سکتی آج میں کتنا خوش ہوں، زندگی کبھی اتنی حسین نہیں لگی جتنی آج تمہیں اور پریشے کو اس گھر میں دیکھتے ہوۓ لگی، ہر لمحہ میں نے تمہیں اس کمرے میں چلتے پھرتے محسوس کیا ہے، تمہاری موجودگی سے اس کمرے میں اور مجھ میں جان آ گئی ہے” وہ اسکے گرد بازو لپیٹتے ہوۓ محبت بھرے لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔۔۔
“ایک سنجیدہ آدمی اپنے کام دے کام رکھنے والے شخص سے میں اتنے خوبصورت انداز میں معافی مانگنا ، اور اتنے پیارے الفاظ ایسپیکٹ نہیں کر رہی تھی، یہ سب کب سیکھا؟” وہ اسکے سینے پر تھوڑی ٹکاۓ سوالیہ انداز میں بولی۔ اسفندیار کو اسکے لہجے میں پہلی بار پرانی نیہا کی جھلک نظر آئی۔۔۔وہ ہلکا سا ہنسا۔
“میری مدد یوٹیوب نے کی اور الفاظ کے لیے گوگل کیا” اسنے مسکراہٹ دباتے ہوۓ اسے چھیرا، اپنے سوال کا یہ جواب سن کر نیہا نے منہ بسوا۔
“آپ سے ایسے ہی جواب کی توقع تھی” وہ منہ بسورتے علحیدہ ہوتے مُڑی۔۔۔جب اسفندیار نے ایک جھٹکا دیا۔۔ اسکی کمر اسکے سینے سے ٹکڑائی۔۔
“تم نے میرا رومینٹک سائیڈ ابھی دیکھا نہیں، اگر دیکھاؤں تو شرما جاؤں گی، یہ بُکے تو لے لو ہاتھ تھک گیا۔ بھول تو نہیں گئی ڈاکٹرنی صاحبہ میں ایک مریض ہوں” اسنے دو معنی انداز میں کہا۔ اور آخر میں بُکے اسکی طرف بڑھایا۔۔ جسے اسنے مسکراتے ہوۓ پکڑا۔۔ اور انکی خوشبو سُونگھی۔۔۔۔
“کیک کٹ کرو چلو ” وہ اسکا ہاتھ پکڑتے اسے لیے صوفے پر بیٹھا اور چھری اسکے ہاتھ میں دی۔ اور اسکے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھتے کیک کو کاٹا۔ اور تھوڑا سا اسے کھیلایا۔۔ اور خود کھایا۔۔۔۔۔
“ایک بات تو بتائیں، آپ نے یہ سب کب کیا؟ آپ تو باہر گے تھے؟” اسکے من میں جو سوال آرہا تھا اسنے پوچھا۔۔۔
“باہر کہاں گیا تھا، میں چھپ کر کمرے میں آگیا۔ اور تب سے لگا ہوا ہوں، اپنی روٹھی ہوئی بیوی کو جو منانا تھا، جانتی ہو غبارے پھولانا کتنا مشکل ہے منہ درد کر رہا ہے” وہ صوفے کی بیک سے سر ٹکاتے ہوۓ تھکے ہوۓ لہجے میں بولا۔۔
“چچ چچ بچارے” نیہا ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔ اسفندیار کئی پل اسکی خوبصورت ہنسی کو دیکھتا رہا۔ اور پھر اسے کھینچتے ہوۓ نزدیک لایا وہ اسکے سینے پر بیگ ٹکا کر ٹانگیں صوفے پر پھیلا کر نیم دراز ہو گئی۔ اسفندیار نے اسکے ہاتھ کو پکڑا۔۔ جہاں پر اسکی انگھوٹھی جگمگا رہی تھی۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا دیا دونوں باتیں کر رہے تھے۔۔۔ جب نیہا کو محسوس ہوا کے وہ اسکے گلے میں کچھ پہنا رہا ہے۔ وہ چپ ہوئی۔۔۔ جب اسنے ہُک لگا دی تب اسنے وہ نیکلیس ہاتھ میں پکڑا۔ جو سونے کا تھا۔ جس پر نیہو اور اسفی لکھا ہوا تھا۔ وہ مسکرا دی۔۔
“کیسا لگا؟ ” وہ اسکی مسکراہٹ دیکھ کر سمجھ تو چکا تھا پر پھر بھی اسکے منہ سے سننا چاہتا تھا۔۔
“بے حد خوبصورت” وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
“لیکن تم سے زیادہ نہیں” وہ اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوۓ بولا۔۔ نیہا کے گال لال انگار سے ہوۓ۔۔۔ اسکے یوں شرمانے پر وہ ہنسا۔۔۔
“اف نیہا تمہاری اتنی سی تعریف پر یوں شرمانے والی عادت کسی دن اس ناچیز کی جان لے لے گی” وہ ہسنتے ہوۓ بولا۔ وہ چڑ گئی اور اُٹھ کر بیٹھتے اسے کُشن مارا۔۔۔۔۔
“یہ جو اتنے دئیے لگاۓ ہیں انکو بجھا دیں، اور ان غباروں کا کام میں تمام کرتی ہوں” وہ کہتے ہوۓ کھڑی ہوئی۔ اور پھر بالکل پریشے کی طرح اسنے سارے غبارے پھاڑ دیے۔۔۔۔ اسکی حرکتوں پر وہ صوفے پر بیٹھا کبھی مسکراتا اور کبھی ہنستے ہوۓ اسے بچی کہ کر چھیرتا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ بس گھوری دیتے ہوۓ اپنے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے لگی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
