Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

صبح دس بجے وہ گھر واپس آۓ تھے، اب دوپہر کا ایک بج چکا تھا، بلاج فریش ہو کر نیچے آیا۔ میرال نے لنچ بنایا تھا۔ نور صبح ہی اسفندیار کے ساتھ چلی گئی تھی، ساحل گھر نہیں آیا تھا، حیام کمرے میں ہی بند تھی۔
“بابا آپ ٹھیک ہیں؟” صائم نے سیڑھیوں سے اترتے بلاج کو دیکھا تو فوراً بھاگ کر اسکے سینے سے لگا۔ وہ اب اسکے کندھے تک آتا تھا۔
“ہممم میں ٹھیک ہوں، ہماری فیملی بس کچھ زیادہ ہی فکر کرتی ہے، بس بی پی ہی ہائی ہوا تھا” وہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔
“بس بی پی بابا آپ بے ہوش ہو گے تھے، اور آپ نے ٹیسٹ کی ریپورٹ دیکھی ہے، شوگر بھی زیادہ ہے، آپ بالکل اپنا خیال نہیں رکھتے اب میں آپکی میڈیسن کا خیال رکھوں گی” نیہا نے ٹیسٹ کی ریپورٹ اسکے سامنے لہرائی۔ میرال ٹیبل پر کھانے لگاتے انکو دیکھا۔۔۔
” اوکے ڈاکٹر صاحبہ، ابھی کچھ کھا لیں بہت بھوک لگی ہے” وہ مسکراتے ہوۓ بولا اور ٹیبل کی طرف بڑھا سربراہی کرسی کھینچ کر بیٹھا۔ صائم اور نیہا بھی بیٹھ گے۔۔ میرال خاموش تھی۔
“ساحل گھر ہے؟” بلاج نے ایک لقمہ لیتے ہوۓ سرسری سے انداز میں پوچھا۔ ٹیبل پر خاموشی سی چھا گئی۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں، ساحل کہاں ہے؟ اور وہ بچی، کیا اسنے کھانا دیا؟” بلاج میرال کے کندھے پر ہاتھ رکھتے سوالیہ انداز میں بولا۔ میرال نے گردن گھما دی۔
“میں یہاں ہوں بابا” تبھی ساحل کی آواز آئی وہ لاونچ کے دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا۔
“آ جاؤ لنچ کر لو، نیہا بیٹا جاؤ، بھابھی کو لے کر آؤ، کل رات سے اسنے کچھ نہیں کھایا” بلاج پہلے ساحل کو کہتا پھر نیہا کی طرف متوجہ ہوا۔ ساحل قدم قدم چلتا بلاج کے دائیں طرف رکھی کرسی رکھ کر بیٹھا۔ نیہا اوپر ساحل کے کمرے کی طرف بڑھی۔ سامنے بیڈ پر حیام بیٹھی ہوئی تھی، اسکی آنکھیں رونے کی چغلی کر رہیں تھیں۔ نیہا اسکی طرف بڑھی، وہ اسکو اپنے سے تین چار سال چھوٹی لگی، وہ بہت کمزور لگ رہی تھی، اوپر سے وہ پریگنٹ بھی تھی۔۔
“آپ نیچے آ جاؤ کچھ کھا لو ایسے بھوکا رہنا آپکے لیے اور بے بی کے لیے صحیح نہیں” نیہا اسکے سامنے کھڑی ہو کر ہولے سے بولی۔۔ حیام نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا، اور ہاں میں گردن ہلا کر کھڑی ہونے لگی جب اسے ایک دم سے چکر آیا، نیہا نے اسے جلدی سے پکڑا۔
“آپ نے کچھ کھایا نہیں اسی لیے ویکنس ہو گئی ہے، چلیں” وہ اسکا بازو پکڑتے ہوۓ بولی۔ حیام گہرا سانس لے کر دہ گئی، وہ اسے کیا بتاتی جسمانی کمزوری سے زیادہ اسے ذہنی دباؤ ہے۔ وہ رات کا ساحل کا رویہ اب تک نہیں بھولی تھی۔ وہ اسکے ساتھ نیچے آئی۔ جہاں وہ ساری فیملی بیٹھی تھی۔ نیہا نے اسے ساحل کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھایا۔۔۔۔۔ اور خود سامنے صائم کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ٹیبل پر بالکل خاموشی چھا گئی۔۔۔۔ٹیبل پر رکھا نیہا کا موبائل بجا جس پر اسفندیار کا میسج تھا۔ وہ بلاج کا حال ہوچھ رہا تھا۔ نیہا نے میسج کا جواب دیتے موبائل سائیڈ
پر رکھا۔۔۔
“آپ یہ کھاؤ” نیہا نے حیام کی پلیٹ میں چاول ڈالے، کل شام سے اسنے کچھ نہیں کھایا تھا۔ کھانا دیکھ کر اسکی بھوک چمک گئی، وہ خاموشی سے چاول کھانے لگی۔۔کچھ دیر بعد سب کھانا کھا کر ٹیبل سے اُٹھے۔
“ساحل تیار ہو جاؤ آفس جانا ہے” وہ اٹھتے اپنے کمرے کی طرف گیا اور تیار ہونے لگا۔ تبھی ساحل کمرے میں داخل ہوا۔
“بابا!پلیز مجھے ڈانٹیں، میں نے اتنا برا جھوٹ بولا، آپ ایسے نارمل ری ایکٹ مت کریں” وہ اسکے بالکل سامنے آیا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔ بلاج نے گہرا سانس لے کر اسے دیکھا۔۔۔۔
“جو ہو گیا اسکو چھوڑو، جو زمہ داری اُٹھائی ہے اسے پورے دل سے نِبھاؤ۔ اس بچی کا اچھے سے خیال رکھو، اگر مجھے تم اس بات میں کوتاہی کرتے نظر آۓ پھر تم اپنے باپ کا غصہ دیکھو گے، اور تم نہیں جانتے بلاج حمدانی کا غصہ کیسا ہے” بلاج نے اسکے چہرے کو دنوں ہاتھ میں پکڑتے ہوۓ نرم لہجے میں کہا۔
“بابا آپ ناراض ہیں نا پلیز اپنی ناراضگی نکالیں ایسے مت کریں، میری زندگی مشکل ہو جاۓ گی” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولا۔
“ارے نہیں میں ناراض نہیں ہوں، بس ہرٹ ہوں، خود پر غصہ ہے، میں نے بہت کوشش کی اپنے بچوں کو اتنی ہمت دے پاؤں کہ وہ مجھ سے آکر ہر بات کر سکیں، پر میں فیل ہو گیا، نا اسفندیار میرے سامنے اپنے دل کی بات رکھ پایا، اور نا تم، بس یہی چیز ہرٹ کر رہی ہے” وہ پھیکا سا مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔ ساحل مسلسل نفی میں سر ہلاتا رہا۔
“نو بابا میں آپکو بتانا چاہتا تھا، کہ میں حیام کو پسند کرتا ہوں، حیام نے اپنے والد کی وجہ سے انکار کر دیا۔ وہ جانتی تھی، آپ اور اسکے والد اس رشتے پر راضعی نہیں ہوں گے، کیونکہ اسکا باپ باسط ہے، وہی جو آپکا دشمن تھا” وہ سب بتا رہا تھا۔ باسط کے نام پر بلاج کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔
“اور پھر ایک دن حیام کا بھائی وسیم میرے آفس آیا۔ اور۔۔۔۔” پھر ساحل نے ساری بات بتا دی۔۔۔۔۔۔
“تو یہ سب تم مجھے بتا سکتے تھے نا، میں کوئی حل نکالتا، علیزے سے شادی کا پرپوزل تو نا دیتا، نا وہ ایسا قدم اُٹھاتی” ساری بات سن کر وہ بولا۔
“چلو، چلتے ہیں، مارکیٹ میں تو ویسے ہی بدنامی ہو چکی ہے” وہ گہرا سانس لے کر بولا۔ اور کمرے سے باہر نکلا، ساحل اسکے پیچھے ہی نیچے آیا۔
*
وہ صبح ایک بجے کے قریب اپنے بستر سے اُٹھی، نہا کر فریش ہوئی، بالوں کو برش کرتے اسکی نظر اپنے ہاتھ میں پہنی ڈائمنڈ کی رنگ پر گئی، جو چمک رہی تھی۔۔ مزمل نے اسے منہ دیکھائی میں دی تھی۔ وہ ہولے سے مسکرائی۔ تبھی دروازہ کھول کر مزمل خان اندر داخل ہوا۔۔۔۔
“کیسی ہو بے بی؟” وہ اسکے پیچھے کھڑا اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔ اور اسکی گردن پر تھوڑی ٹکاۓ بولا۔
“خوش ہوں، مطمین ہوں” وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی۔
“گھر والوں کی یاد تو نہیں آ رہی ؟” وہ مرر میں اسکا چہرا دیکھتے ہوۓ بولا۔ جو ہلکا سا اداس ہوا تھا۔وہ کچھ نا بولی۔
“ماننا پڑے گا ویسے بری ہمت والی ہو، جو میرے لیے گھر چھوڑ کر آگئی، رات کو تمہارے حسن کو خراجِ تحسن پیش کرنے کے لیے یہ رنگ دی تھی، آج بھی تمہارا شکریہ کرنے کے لیے ایک تحفہ ہے لینا چاہو گی” وہ سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھا اور اس میں سے ایک لفافہ نکال کر بولا۔
“یہ کیا ہے؟” بیڈ سے ڈوپٹہ پکڑ کر اسنے گلے میں ڈالا۔
“دیکھو! علیزے عمیر حمدانی میرے نا کچھ اصول ہیں، میں جس شخص کو اپنے قریب آنے دیتا ہوں، پھر اسے مایوس نہیں کرتا، اسکے حسن کے نام کچھ نا کچھ تو کرتا ہوں” وہ قدم با قدم چلتا ہوا اسکے قریب پہنچا، اسکے انداز پر علیزے چونکی۔
“کیا بول رہے ہیں؟” وہ اپنے بال ٹھیک کرتے ہوۓ بولی۔
“میں مزمل خان اپنے پورے ہوش و حواس میں علیزے عمیر حمدانی تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گھاڑے ٹھنڈے لہجے میں بولا۔ علیزے کو آس پاس سب سناٹا محسوس ہوا اسکا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا، ایک دم سے پاؤں کے تلے زمین کھینچ جانا کیسا محسوس ہوتا ہے اسے آج معلوم ہوا۔ وہ آنکھیں پھاڑے بس اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جسکی محبت میں وہ سب چھوڑ چھاڑ کے آ گئی۔
“یہہہہہ سببب طلااااا،،قق” وہ ہکلاتے ہوۓ بولی، بولنے کے لیے تو الفاظ ہی ختم ہو گے تھے۔
“یہ سب، بے بی شروع سے سننا، نا تو مجھے تم سے محبت ہے، نا یہ شادی میں نے خوشی سے کی، تم صرف حمدانی خاندان کو برباد کرنے کا ایک مہرہ تھی، تم نے میری محبت پر یقین کیا، اور اپنا گھر چھوڑ کر آئی، آئی مین بھاگ کر آئی، ویسے گھر سے بھاگ جانے والی لڑکی پر میں تو کبھی بھروسہ نہیں کرسکتا، جو اپنے ماں باپ کی سگی نہیں وہ میرے ساتھ کیا وفا نِبھاۓ گئی۔ تمہارے اس بلاج چچا کے گناہوں کا حساب تم نے دیا، اب نکلو یہاں سے ” وہ اسکا موبائل اسکے ہاتھ میں پکڑاتے، اسکا بازو زور سے پکڑے کھینچتا ہوا باہر لے آیا۔ سامنے صوفے پر سوٹ بوٹ پہنے فرید احمد خان بیٹھا ہوا تھا۔ اسکے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا۔ اسنے مزمل کی طرف دیکھتے چس کرتے گلاس سے گھونٹ بڑھا اور پھر ایک مسکراہٹ اچھالی، مزمل بھی مسکرایا، علیزے ان دونوں کی طرف حیرت سے دیکھ رہی تھی، وہ اپنے بازو پر جھٹکا لگنے کی وجہ سے چونکی۔۔۔۔
“کچرے کو گھر سے باہر بہت سھنمبال کے پھینکنا” وہ ہلکی سی گردن موڑ کر بولا۔۔
“بالکل، گندگی تو گندے ڈھیر پر ہی سوٹ کرتی ہے” وہ کہتے ہوۓ، اسے بازو سے کھینچتا باہر کی طرف بڑھا، علیزے کے منہ میں تو جیسے زبان ہی نہیں تھی۔ وہ تو اپنے ساتھ ہوئی اس ٹریجڈی کو ہضم ہی نا کر پا رہی تھی۔ وہ ایک رات میں ہی اپنا سب کچھ گواہ بیٹھی تھی۔ مزمل نے بیک گیٹ سے اسے باہر دھکا دیا وہ زمین پر گڑی، ماتھا زمین پر پڑے پتھر پر لگا۔ ہاتھ پر پہنی کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ کر بکھریں۔ اسنے اپنا چہرا اُٹھا کر مزمل کو دیکھا۔ جو اسکو دیکھ طنزیہ انداز میں ہنس رہا تھا۔۔۔۔
“گڈ باۓ، کل کی رات یاد رہے گئی” وہ خباست سے ہنستے ہوۓ بولا۔ اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔ وہ کئی پل وہی پڑی رہی۔ جس کی محبت میں وہ انتہائی قدم تک اُٹھا چکی تھی، آج اسی محبت کرنے والے نے اسے اسکی اصل اوقات دیکھا دی۔۔۔۔وہ اپنا چہرا صاف کرتی اُٹھی، گیلے بال اب سوکھ چکے تھے، وہ وہاں سے چلتی گئی۔ کانوں میں ابھی تک مزمل کے الفاظ گھونجھ رہے تھے۔ اسے اپنی ماں کی نصحیتیں یاد آئیں، اسے بلاج کے الفاظ یاد آۓ، اسے نیہا کا سمجھانا یاد آیا،، اسکا چہرا آنسوں سے تر تھا، وہ چلتی اب مین سڑک پر آ چکی تھی۔ اسنے آس پاس دیکھا، گاڑیاں برق رفتار سے جا رہیں تھیں، وہ برباد ہو چکی تھی، اسنے بنا کچھ سوچے سمجھے قدم سڑک کی طرف بڑھا دیے۔ درمیان میں آ کر وہ کھڑی ہو گئی، اور آنکھیں بند کر لیں۔۔ تبھی اسکی طرف بڑھتی گاڑی ایک جھٹے میں بالکل اسکے پاؤں کے سامنے آکر رکی۔ اور وہی وہ زمین پر گڑتی بے ہوش گئی۔۔۔۔۔گاڑی کو ڈرائیو کرتی لڑکی باہر نکل کر اسکی طرف بھاگ کر آئی۔۔۔۔۔۔
“آپ سب بھی کمال کرتے ہیں، بھلا میرا بھائی کبھی اتنی گھٹیا حرکت کر سکتا ہے، کسی لڑکی کو مہندی والے دن بھگانا، کچھ خدا کا خوف کریں،مزمل فرید احمد خان کا بھائی ہے، اتنا گڑا ہوا کام نہیں کر سکتا، عمیر حمدانی کی بیٹی خود ہی کسی کے ساتھ بھاگی ہو گی، نام میرے معصوم بھائی پر لگا دیا، حد ہے بے شرمی کی” ٹیوی پر ریپورٹرز کے سامنے کھڑا فرید احمد خان بول رہا تھا۔ کل سے ہی خبروں پر علیزے اور مزمل کے بارے میں باتیں ہو رہیں تھیں، انکا جواب وہ اب دے رہا تھا۔ اسکے ساتھ مزمل کھڑا تھا۔
“میرا نا تو علیزے حمدانی سے کوئی تعلق تھا اور نا ہے، اسکے بھاگنے میں بھی میرا کوئی ہاتھ نہیں” فرید احمد کے اشارے پر اب مزمل بول رہا تھا جو اسے کچھ دیر پہلے بولنے کے لیے کہا گیا تھا۔۔۔ پریس والے اب علیزے کے کردار اسکے خاندان پر بے شمار باتیں کر رہے تھے۔ بلاج نے ماتھا مسلتے ٹیوی بند کیا۔
“علیزے اگر انکے پاس نہیں تو کہاں گئی، اگر کل میری بات مان کر وہاں چلے جاتے تو تبھی اسے واپس لا سکتے تھے” اسفندیار جو کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا۔ خبر دیکھ کر بولا۔
“کوئی فائدہ نہیں، علیزے انہی کے پاس ہو گی ابھی وہ بات کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں” وہ گہرا سانس کے کر بولا۔۔ لاسفندیار نے گردن گھما کر دیکھا، دوسرے صوفے پر نیہا بیٹھی تھی، جسکا چہرا ایک دم پھیکا پڑ چکا تھا وہ حیرانگی سے ٹیوی کو دیکھ رہی تھی۔۔ اسفنی نے ایک دفع اس پھر سکرین کو دیکھا۔ وہ اُٹھ کر اسکے پاس آیا۔ اسکے سامنے چٹکی بجائی، وہ ایک دم چونکی۔
“کیا ہوا؟” اسنے بھوریں اچکا کر پوچھا۔ اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتی اسکے موبائل پر میسج کی بیپ ہوئی۔ اسنے گود میں پڑا موبائل اُٹھایا۔ اور میسج پڑھا۔
“جانتا ہوں، تم جان چکی ہو میں کون ہوں، خبردار اگر اسفندیار کو بتایا، تو میں اسے بولوں گا تم کئی مہینوں سے مجھ سے باتیں کر رہی تھی، ہم دونوں کا افیر چل رہا ہے، اور بھی بہت کچھ” میسج پڑھتے اسکے چہرے کے تاثرات بدلے۔ اسنفدیار وہی کھڑا اسکے بدلے انداز دیکھ رہا تھا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا وہ اُٹھی اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔وہ سر جھٹکتا جا کر بلاج کے پاس بیٹھا شائد وہ۔ علیزے کے لیے پریشان تھی۔
وہ کمرے میں آ ئی گلے سے ڈوپٹہ نکال کر بیڈ پر پھینکا، وہ کبھی بیڈ پر بیٹھتی کبھی چلنا شروع کر دیتی۔
“اف یہ سب کیا تھا، اتنے مہینوں سے وہ مجھ سے بات کر رہا تھا۔ اور وہ ملاقاتیں، یا خدا، اور یہ میسج” اسنے گھبڑاتے ہوۓ دوبارہ میسج دیکھا جو اب ڈلیٹ ہو چکا تھا۔
“میں کیا کرو، اسفندیار کو بتاؤں؟ یا نا بتاؤں؟ اف اللہ جی مدد کریں، میں نے بات ہی کیوں کی، حد ہے مجھے اسکا نمبر ہی سیف نہیں کرنا چاہیے تھا” وہ اپنا سر پکڑ بیٹھی گئی۔۔۔۔۔
اسکی آنکھ کھکی تو اپنے آپ کو ہسپتال کے کمرے میں پایا۔ اسکے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی، وہ اُٹھنے لگی، جب وہ لڑکی اسکی طرف آئی۔
“تم لیٹی رہو، تمہارا بی پی لو ہو گیا تھا” وہ اسے لیٹاتے ہوۓ بولی۔۔۔
” تم کون ہو؟” وہ آس پاس دیکھتے ہوۓ اپنے سامنے کھری لڑکی سے بولی۔
“میں گلناز ہوں، تم میری گاڑی کے سامنے آ کر بے ہوش ہو گئی تھی” گلناز بولی۔
“میں بچ کیوں گئی” علیزے کو سب یاد آیا تو وہ اپنے بازو پر لگی سوئی کو نوچتے ہوۓ بولی۔
“اووو ایسا نا کرو، تمہاری طبعیت خراب ہے” گلناز اسے با مشکل سحنمبال پا رہی تھی۔
“مجھے مر جانا چاہیے تھا میں کیوں بچ گئی، میری زندگی تو ویسے ہی ختم ہو گئی” وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ تبھی کمرے میں لگی ٹیوی میں نیوز کی آواز گھونجی جس میں اسکا نام پکارا جا رہا تھا۔ اس لڑکی نے وی ائی پی کمرہ بک کیا تھا۔ وہ لمحہ بھر کو رک گئی، ٹیوی پر اسکی تصوریر، چل رہی تھی۔ اسکو اور اسکے خاندان پر باتیں کی جا رہیں تھی۔
“اوو” گلناز ٹیوی پر چلتی علیزے کی تصویر دیکھ کر بس اتنا ہی بولی۔۔
“یہ میں نے کیا کر دیا، سب برباد ہو گیا میرے ڈیڈ کا نام ختم ہو گیا، سب کو میری وجہ سے کتنی بدنامی سہنی پڑ رہی ہے” وہ ٹیوی کو دیکھے روتے ہوۓ بولی۔
” چپ کر جاؤ ہمت مت ہارو” وہ اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوۓ اسکا سر سہلاتے ہوۓ بولی۔ روتے روتے وہ دوبارہ بے ہوش چکی تھی۔۔۔۔وہ لڑکی ڈاکٹر کو آوازیں دینے لگی، ڈاکٹر جلدی سے اندر آۓ، علیزے کو چیک کیا، اسکا نبض بے حد سلو چل رہی تھی۔ ڈاکٹر نے جلدی سے اسے میڈیکشن دی۔۔۔ کچھ دیر بعد اسکی نبض ٹھیک سے چلنے لگی۔۔۔۔۔۔
“مجھے تو یقین نہیں آ رہا، علیزے نے ایسا قدم اُٹھایا” وہ تینوں اس وقت ریسٹورینٹ میں بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔ راحم کافی کا سپ لیتے ہوۓ بولا۔
“محبت انسان کو اندھا کر دیتی ہے، پھر سمجھ نہیں آتا آپ ٹھیک ہو یا غلط” ہاشم اپنی کافی کی اڑتی بھاپ ک دیکھتے ہوۓ ہولے سے بولا۔ راحم اور روشانے نے اسکی طرف دیکھا۔ روشانے تو پہلے ہی اسکے دل کا حال جانتی تھی، راحم کے پوچھنے پر اسنے ایک دن اسے بھی بات دیا۔
“یہی تو غلط بات ہے، ہم محبت کے نام کا بول کر اپنے دل کو تسلی دیتے ہیں، اور وہی کرتے ہیں جو ہمیں کرنا ہوتا ہے، اور ویسے بھی، محبت تو ہم سے ہمارے ماں باپ، بھی تو کرتے ہیں، کیا ہمین انکی محبت کو اپنی اولین ترجیح دینی چاہیے، محبت ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ اپنی حدیں بھول جاؤ، ہمیشہ دو راستے ہوتے ہیں صحیح اور غلط چننا آپکا کام ہے۔ ” روشانے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔
“تم تو ایسی بات مت کرو، تمہیں بھی تو راحم سے محبت ہے، محبت مین کسی کا خود پر اختیار نہیں ہوتا” ہاشم بے دھیانی مین بول گیا جب اسے اپنے الفاظوں کا احساس ہوا تو اسنے روشانے کی طرف دیکھا، جو غصے سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی اور راحم حیرانگی سے روشانے کو دیکھ رہا تھا۔ روشانے سے مزید وہاں بیٹھا نا گیا وہ اُٹھی اور بنا کچھ بولے وہاں سے چلی گئی۔
“روشنی۔ یار ایم سوری” ہاشم بھاگ کر اسکے پاس گیا۔ پر وہ اسے غصے سے گھورتی وہاں سے بھاگ گئی۔ ہاشم سر کھجاتا واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھا۔
“یہ سب کیا تھا؟ تو نے سچ بولا؟” راحم ابھی تک شاک میں تھا۔یہ بات تو اسکے دماغ میں کہی نہیں تھی۔
” اسے معلوم ہے کہ میں علیزے کو چاہتا ہوں، اور مجھے معلوم ہے کہ وہ تمہین چاہتی ہے اور بہت سالوں سے، تم روبی میں انٹرسٹڈ تھے تو اسی لیے وہ خاموش رہی، اور ویسے بھی تم جانتی ہو وہ خاموش سی لڑکی ہے، چاہے کچھ ہو جاتا وہ تمہیں کبھی نہیں بتاتی، ویسے بھی بتانے سے کیا ہو جاتا ہے، کونسا کسی کو آپ سے محبت ہو جاتی ہے یک طرفہ محبت یک طرفہ ہی رہتی ہے۔” ہاشم کافی کا سپ لیتے ہوۓ بولا۔ راحم نے گہرا سانس کے کر سر کرسی کی پشت پر ٹکا دیا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔