No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
“ہر آنے جانے والے پر دھیان رکھنا، کچھ بھی عجیب لگے فوراَ اطلاع دینا” وہ سیکیورٹی والوں کو سب سمجھا رہا تھا۔۔۔
“یس سر” سبھی نے یک زبان کہا۔ بلاج نے انہیں جانے کا کہا۔ اور خود اندر آیا۔۔۔۔ میرال اور حیام ڈنر لگا رہیں تھیں۔۔۔۔ اسنے عمیر اور حرا کو کچھ دیر پہلے ہی بلا لیا تھا۔ وہ انہیں بھی سامنے رکھنا چاہتا تھا۔۔
“نیہا ابھی تک آئی نہیں؟” بلاج نے میرال سے پوچھا۔۔
“نہیں” میرال کے جواب کے بعد ہی بلاج نے نیہا کو فون ملایا۔۔ اسکے چہرے سے پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔۔۔۔
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟” میرال نے اسکے پریشان چہرے کو دیکھتے پوچھا۔۔۔۔۔
“ہمممم ” نیہا نے فون نا اُٹھایا تو اسنے ایک دفع پھر کال ملائی۔ تبھی باہر گاڑی کھڑی ہونے کی آواز آئی۔ یعنی نیہا آ گئی تھی۔۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ اندر داخل ہوئی۔۔۔۔بلاج نے گہرا سانس لیا اور ماتھے پر آیا پسینا صاف کیا۔ میرال نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا۔ سبھی کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے۔۔۔۔۔
“مجھے تم سب سے بات کرنی ہے، کچھ دن تم میں سے کوئی گھر سے باہر نہیں جاۓ گا، کسی بھی کام کے لیے نہیں، گھر کے کھڑکیاں دروازے بند رہیں گے،۔ ” بلاج نے سخت لہجے میں سبھی کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
“کیا مطلب بابا ، میری تو ڈیوٹی ہے، اور آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں؟” نیہا نے حیرانگی سے اسکی پابندیوں کو سنا۔۔
“میں نے جو بول دیا وہی ہو گا” اسنے سخت گھوری سے نوازا۔۔۔
“پر بابا۔۔۔۔۔” وہ احتجاجً بولی۔۔۔ کیونکہ اسے ہاشم کے ساتھ فیکٹری جا کر معائنہ کرنا تھا۔۔۔
“نیہا تمہیں زیادہ بحث کرنا آگئی ہے، ایک دفع میں میری بات سمجھ نہیں آتی” بلاج کو اسکا بار بار سوالات کرنا غصہ دلا رہا تھا۔۔۔۔۔
“پر بابا یہ بھی تو صحیح نہیں، آپ کم از کم وجہ تو بتائیں” ساحل کو بھی اسکا یوں اچانک پابندی لگانا بالکل سمجھ میں نا آیا۔۔۔۔
“ایک دفع میں بات تو سمجھ آتی نہیں، بس بحث کرنا ضروری سمجھا ہوا ہے” وہ کھانے کی پلیٹ کو پیچھے کھسکا کر اُٹھ کھڑا ہوا۔اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔ وہ ان سبکو اسفندیار کے میسج کا نہیں بتانا چاہتا تھا۔۔ سبھی حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔۔۔۔
“میں دیکھتی ہوں” میرال اسکے پیچھے چل دی۔۔۔۔
“آپ کیا کرنے والے ہو؟” مُزمل اس وقت فرید احمد کے ساتھ حال میں موجود تھا۔ اسکے سامنے اسکے سارے آدمی موجود تھے۔۔۔۔
“یہ کیسے ہو گیا؟ اتنی مشکل سے تو میں نے سارے ال لیگل ڈاکومینٹس بنوا کر دیے تھے، تو آپکی ڈیل کینسل کیسے ہو گئی” فرید احمد اپنے ہاتھ میں پکڑی پسٹل کو صاف کر رہا تھا، جب شہیر پریشان سا حال میں داخل ہوا۔۔ فرید احمد نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔
“اچھا ہوا تم آگے میں تمہیں بلوانے ہی والا تھا، تم سب میری بات غور سے سنو، بلاج سکندر کے گھر والوں پر نظر رکھو، اسکے گھر کے آس پاس پھیل جاؤ، اور ہاں اسکا جو بھائی ہے، اس پر بھی نظر رکھو۔ اور اسفندیار کے گھر کے آس پاس بھی پھیل جاؤ، تم نے بس چوکنا رہنا ہے، میرے اگلے قدم کا انتظار کرنا ہے” وہ سبکو سخت لہجے میں آڈر دے رہا تھا۔ مزمل کو اسکا پلین سمجھ میں آ گیا تھا۔۔۔۔
“اور تم شہیر میرے ساتھ چلو، ہمیں راج آبرواۓ کا پتا جاننا ہے” فرید احمد نے یہ نا بولا کہ وہ حسنین اور گلناز سے پتہ چلانا چاہتے ہیں کہ راج کہاں ہے۔ اسنے انکے بارے میں مزمل کو بھی نا بتایا تھا۔۔ فرید احمد نے سبکو جانے کا اشارہ کیا اور خود شہیر کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔انکے جاتے ہی مزمل نے فون لے کر بیٹھ گیا۔۔
“مجھے تو بابا نے روک دیا یے، میں شائد کچھ دن باہر نا جا سکوں، تم ایسا کرو خود اکیلے ہی فیکٹری میں جاؤ ضرور ہمیں کوئی انفارمیشن ملے گی” نیہا کال پر ہاشم سے بات کر رہی تھی۔
“اچھا میں جاتا ہوں”
“ہاشم ایک منٹ وہاں اکیلے مت جانا، راحم کو ساتھ لے جانا” نیہا نے لچھ سوچ کر کہا۔۔ ہاشم نے اوکے کہتے فون بند کیا۔۔۔۔ اور راحم کو کال ملائی۔ اور اسے آنے کا کہا۔۔۔
“بابا نے اتنا اسٹکلی کیوں منع کیا؟” وہ چکر کاٹتے ہوۓ سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔ پریشے بیڈ پر بیٹھی ٹبلٹ پر کارٹون دیکھ رہی تھی۔۔۔
★★★*
“لگتا ہے تم دونوں کو اپنی زندگی پیاری نہیں” وہ دونوں اس وقت ایک کمرے میں بند تھے، جہاں تھوڑی دیر کھڑے ہو کر سانس تک نہیں لی جاتی تھی، اتنی حبس، دونوں کو ایک ایک کرسی پر بیٹھا کر ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھ دیے گے تھے۔۔۔۔۔
“جان تو ایک دن جانی ہی ہے، تو کتنا ہی خوبصورت ہو، کسی مقصد کے لیے جاۓ” حسنین نے مسکرا کر جواب دیا۔ تبھی فرید احمد نے شہیر کو اشارہ کیا۔ اسنے اسے پیٹنا شروع کر دیا۔۔ اسکے جسم پر جگہ جگہ وہ ہنٹر مار رہا تھا۔ حسنین کی چیخیں بلند ہو رہیں تھیں۔۔
“تم دونوں اب اپنی خیر مناؤں” فرید احمد ہنسا، اور پسٹل نکالی، اور اسکا رخ گلناز کی طرف کیا۔۔۔۔۔ ۔
“تم ابھی تک مجھے جانتے نہیں فرید احمد، اس فلیڈ میں قدم رکھتے ہی موت کا فرمان اپنے نام کر لیا تھا کم ازکم تم مجھے اس پسٹل کی معمولی سی گولی سے ڈرا تو نہیں سکتے، میری جان بھی چلی گئی تب بھی تمہیں کچھ نہیں بتاؤں گی” وہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔ اسکی بات پر فرید احمد ہنسا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا۔۔۔ ہنستے ہنستے وہ ایک دم سے چپ ہوا، چہرا ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔۔۔ اور پسٹل کا رخ گلناز کی طرف ہوا۔۔۔۔۔ اور ٹھاہ۔۔۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔” حسنین کی چیخ بلند ہوئی، گولی سیدھی گلناز کے بازو پر لگی۔۔۔ اسکا اگلا رخ اسکی ٹانگ پر تھا، اور پھر گولی چلی اسکی ٹانگ کو چڑتی چلی گئی۔۔۔۔۔ ضبط سے گلناز کا سارا چہرا لال تھا،۔۔ پر ایک چیخ اسکے منہ سے نا نکلی۔۔۔ خون لگاتار زمین پر بہتا چلا گیا۔۔۔۔۔
“ہنہہہہہ چلو بتاؤ راج آبروۓ کہاں ہے ورنہ اب یہ گولی سیدھی اسکے سینے پر لگے گی۔ اور وہی اسکا کام تمام” فرید احمد اب حسنین کی طرف مڑا اسکا لہجہ اٹل تھا۔ حسنین جانتا تھا۔ اگر نا بتایا تو سچ میں وہ مار دے گا۔۔۔۔
“بالکل نہیں” گلناز چیخی تھی۔ وہ حسنین کو روک رہی تھی۔ حسنین نم اور بے بس آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوۓ اس جگہ کا نام لے گیا۔۔۔ِ
“ایک سبق دوں گا اگر تم بچ گے تو زندگی میں کام آۓ گا، پنگا صرف اپنے لیول کے لوگوں سے لیا کرو، ہم جیسوں سے لو گے تو یہ ذلالت ہی مقدر بنے گی” وہ طنزیہ انداز میں بولتا شہیر کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔اسکے جاتے ہی بری کوششوں کے بعد حسنین اپنے بازوں کو کھول سکا۔ وہ جلدی سے رسیوں کو الگ
کرتا گلناز کے پاس آیا۔۔۔۔۔۔
رات کے تین بج رہے تھے۔ وہ اپنے کمرے میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ سیکورٹی کمرے میں گیا اور کیمروں کا فوٹیج چیک کیا۔ اسے کچھ عجیب تو نہیں لگا پر دل بے چین تھا۔
تو کچھ دور اسے اس پاس آدمی پھیلتے نظر آۓ، جنکے ہاتھ میں گنز تھیں۔۔۔۔۔
“ہوا کیا ہے؟” میرال کی آنکھ کھلی تو اسے یوں ٹہلتے ہوۓ دیکھ اسکے پاس آئی، یقیناً وہ ساری رات نا سویا تھا۔۔۔
“تم سو جاؤ” وہ اپنے آپ کو نارمل رکھتے ہوۓ بولا۔ میرال کو غصہ آیا۔۔
“حد ہے بلاج تمہاری یہ عادت زہر لگتی یے، رات سے پوچھ رہی ہوں کیا بات ہے کیوں اتنے پریشان ہو؟ اور تمہارے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے” میرال کو اسکا یوں بار بار انکار کرنا غصہ دلا ریا تھا
“تم پریشان ہو جاؤ گی” بلاج بس اسے بتانا نہیں چاہتا تھا۔
“اب کیا کم پریشان ہوں، چلو بتاؤ مجھے” میرال نے اسے بیڈ پر بیٹھایا اور پانی کا گلاس پکڑایا۔۔جسے وہ ایک ہی گھونٹ میں پی گیا۔۔ اور پھر آہستہ آہستہ اسنے سب بتا دیا۔۔ جسے سن کر میرال کی بھی سانس رکی۔۔۔۔۔
“مطلب ہم پر خطرہ ہے؟ ” میرال نے فوراً کہا۔۔۔
“میں اسفندیار کا انتظار کر رہا ہوں، اسی نے میسج دیا تھا۔ کہ سبکو گھر میں رکھو، اب وہی آ کر کچھ بتاۓ گا، مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی،۔۔ ” وہ ماتھا مسلتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔۔ میرال اسکے ساتھ بیٹھ گئی۔۔
★*
گلناز کے بازو اور ٹانگ سے مسلسل خ ون رس رہا تھا، حسنین نے اسے رسیوں سے آزاد کیا اور دیوار سے لگا بیٹھایا۔ اسے فورا ٹریٹمنٹ ملنی چاہیے تھی۔
“آپکو کچھ نہیں ہو گا، یہ میرا وعدہ ہے” حسنین نے کانپتے ہوۓ لہجے میں کہا اور اپنی شرٹ اتار کر اسے پھاڑا اور دونوں زخموں والی جگہ پر باندھ دیا۔۔گلناز کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا، وہ بامشکل سانس لے رہی تھی۔۔
“سر آپ کہاں ہو جلدی سے آ جاؤ۔۔۔۔” بے بسی کے مارے حسنین کے آنسو نکلنے لگے۔۔۔ گلناز جو آنکھیں بند کیے درد برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
“وہ ضرور آئیں گے، اور میری جان اتنی آسانی سے تو نہیں نکلے گی” گلناز ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔ حسنین یہاں وہاں دیکھتے کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔ اسنے ساری دیواروں کو دیکھا۔ یہ ایک بند کمرہ تھا۔ کوئی کھڑکھی نہیں تھی۔
“کیا ڈھونڈ رہے ہو؟” گلناز نے لڑکھڑاتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
“کوئی نوکیلی چیز جس سے گولیاں نکالی جائیں، تب آپ بچ سکتی ہو” اسنے یہاں وہاں دیکھا مگر کچھ نا ملا۔۔۔۔۔۔ انکے پاس جو چاکو پسٹل، سب چیزیں انہوں نے لے لیے تھے۔۔۔۔
“کچھ نہیں ملے گا، تم تمم میرییییی بات سنو، اگررر میں مرررر گئییییی توووو بھی مشنننن کو پورا کرنااااا” وہ لڑکھڑاتے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔
“چپ کریں کچھ نہیں ہو گا” وہ یہاں وہاں دیکھتے ہوۓ کہ رہا تھا۔ تبھی اسکی نظر لکڑی کی کرسیوں پر پڑی، اسنے ایک کرسی پکڑی اور زمین پر تین چار بار مارتے ہوۓ توڑ دیا۔۔۔۔ اور سب سے نوکیلی لکڑی پکڑی پکڑی، اور اسکے پاس آیا۔۔
“مت کرو،، نہیں ہو گا” گلناز نے اسے روکنا چاہا۔۔ پر اسنے اسکی ٹانگ پر بنے زخم سے بندھے کپڑے کو اتارا۔ اور زخم کا جائزہ لینے لگا۔۔ انہیں ٹرینگ میں سیکھایا تو گیا تھا۔
“یہ کوئی موویییی نہیںں ” گلناز بے بسی سے ہنسی۔۔۔۔حسنین نے اسے اگنور کیا اور رخم کو ٹٹولنے لگا۔۔۔ اسنے لکڑی کی مدد سے گولی نکالنی چاہے، پر وہ نا نکلی، گلناز کی چیخ بلند ہوئی، اسنے ایک دفع پھر کوشش کی اور وہی وہ لکڑی ٹوٹ گئی۔۔۔۔ اور گلناز کی چیخیں بلند ہوئیں۔۔۔۔۔۔حسنین پیچھے ہو گیا۔ اسنے کپڑے سے وہ لڑکی نکالی، اور زخم پر دوبارہ وہی کپڑا باندھ دیا۔۔۔۔ اور بے بس سا وہی بیٹھ گیا۔۔۔
“آہ تجھے بولاااااا تھاااا” گلناز نے ضبط کے مارے کہا۔۔۔ وہ اپنا سر پکڑ کر رہ گیا۔۔۔۔
“میں اپنے سامنے آپکو کیسے مرنے دے سکتا ہوں، میں کتنا بے بس ہوں، سر تو شائد کل آئیں گے، وہ ہمیں بچا نہیں پائیں گے، نا ہم فرید احمد کو روک پاۓ نا ہی اور نا یہاں سے نکل سکیں گے” اسنے اپنے بال نوچے۔۔۔گلناز نے سر دیوار سے ٹکا دیا۔ اور آنکھیں موندھ لیں۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی تین چار گھنٹے کی ڈرائیو پر تھا۔ وسیم بھی اسکے ساتھ تھا۔ اسنے پہلے ہی ایک موبائل کا کہا تھا جو یہاں کے ایس پی نے اسکی گاڑی میں رکھوایا تھا۔ اسنے سب سے پہلے دی ایس پی عاطف کو فون کر کے بتا دیا تھا کہ یہاں کا کام مکمل ہوا۔ وہ کب تک آۓ گا،اور انہیں گلناز۔ اور حسنین کا راج کو پکڑنے والے کام کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک کوئی جواب گلناز کی طرف سے نہیں آیا۔۔۔ اسنے گاڑی کی سپیڈ حد سے زیادہ بڑھا دی وہ کسی بھی حالت میں جلدی وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔اسنے پھر بلاج کے متعلق پتہ لگوانے کا کہا۔۔ ایک گھنٹے بعد انکا فون آیا۔۔۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ گھر کے آس پاس انہوں نے نامعلوم افراد کو چھپتے دیکھا ہے۔۔اسنے وہاں پولیس فورس کو بھیجنے کا کہا۔۔۔۔
” اسنے فوراً بلاج کا نمبر ملایا۔۔ بلاج نے کچھ دیر میں کال پک کر لی۔۔۔
“انکل میں اسفندیار۔۔۔۔۔” بلاج اسکی آواز سن کر صوفے پر بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔
“شکر خدا کا تم نے فون کیا کہاں ہو تم؟ ” وہ بے حد پریشان تھا۔۔۔۔
“انکل ہو سکتا ہے ہماری کال ٹیپ ہو رہی ہو، آپ جلدی سے سبکو لے کر بیمسنٹ میں چلے جاؤ فوراً۔۔۔۔ میں نے پولیس فورس کو آڈر دے دیا ہے وہ وہاں پہنچ گے ہوں گے۔۔” وہ کٹ لیتے ہوۓ زور سے بولا۔۔۔۔ بلاج سنتے ہی میرال سے کہنے ہی والا تھا۔ کہ ایک دم سے فائرینگ شروع ہو گئی۔۔۔ اسکے کمرے کی کھڑکی ٹوٹی اور الماری کے سامنے کھڑی میرال جو کہ وضو کر کے آئی تھی، اسے دو گولیاں لگیں، اور وہ زمین پر لہراتی ہوئی گری۔۔۔
“میراللللللللل” بلاج کی چیخ بلند ہوئی، موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر بکھر گیا۔۔ وہ ایک ہی جھٹکے میں میرال تک پہنچا۔۔۔۔ وہی دوسری طرف اسفندیار کو لگا اسکی سانسیں ایک دم سے کسی نے کھینچ لی ہوں۔۔ گاڑی کا اسٹرینگ لڑکھڑایا۔۔۔۔۔۔ وسیم نے ایک جھٹکے میں پکڑا۔۔۔ اور فون سے ٹوں ٹوں کی آوازیں آنا شروع ہوئیں۔۔۔۔۔۔
گھر پر ہر طرف سے گولیوں کی برسات ہو رہی تھی۔ یقیناً باہر دونوں طرف سے خوب مقابلہ ہو رہا تھا۔۔۔ بلاج کو اس وقت ان گولیوں کی آواز تک سنائی نا دے رہی تھی۔ اسے بس میرال کا بکھرا ہوا وجود نظر آ رہا تھا۔ سبھی اپنے کمروں سے نکلے حال میں آۓ تھے۔ بلاج نے ایک جھٹکے میں میرال کو اُٹھایا اور کمرے سے باہر بھاگا۔
“ماما۔۔۔۔” تینوں میرال کی حالت دیکھتے اسکی طرف بھاگے۔۔۔۔
“سب کے سب نیچے بیسمنٹ میں چلو فوراً۔۔۔۔” وہ چیخا تھا۔۔۔ نیہا نے ٹیوی کے نیچے بنے کیبینٹس سے فسٹ ایڈ کٹ لی اور پریشے کو پکڑے بھاگتے ہوۓ بیسمنٹ کو بھاگی۔۔۔۔ سیڑھیوں کے نیچے ایک سیف بنی ہوئی تھی جو یوں لگتا تھا جیسے جگی کو استعمال کرنے کے لیے ہو۔ پر یہ بلاج نے اسپیشل بیسمنٹ کے راستے کو خوفیہ بنانے کے لیے کیا تھا۔۔ یہ جگہ صرف وہ اور ساحل جانتے تھے گھر میں سبکو علم۔تھا کہ بیسمنٹ ہے مگر وہ کیسی دکھتی کے کسی کو علم۔ نا تھا۔ یہ گھر جب بلاج نے تعمیر کروایا تب یہ جگہ بنوائی۔۔۔۔ساحل نے وہ دروازہ کھولا۔ سبھی اسکے اندر داخل ہوۓ دو قدم چلیں تو نیچے کو جاتیں سیڑھیاں تھیں۔ سب اندر اۓ تو ساحل نے وہ لکڑی کا دروازی بند کیا اور اسکو تالا لگایا۔۔۔سب نیچے آۓ۔۔ اور اب وہاں ایک لوہے کا گیٹ تھا۔ جو کہ ایلکٹرک تھا، ساحل اور بلاج کے فنگر پرینٹ سے ہی کھلتا تھا۔ ساحل نے دروازہ کھولا۔۔ اور سبھی اندر داخل ہوۓ۔
یہاں تین کمرے تھے، اور ایک حال تھا۔۔۔ اچھی خاصی جگہ تھی اور اسکو مکمل گھر کی طرح بنایا گیا تھا۔۔
بلاج میرال کو پکڑے ایک کمرے میں داخل ہوا۔ وہاں ایک بیڈ تھا، جس پر اسنے لٹایا۔۔۔ اور وہاں ڈاکٹر کی ضرورت کی ساری چیزیں تھیں۔ یہ سب وہ ہر دوسرے مہینے بدلتا رہتا تھا۔ تا کہ اگر کسی وقت اس بیسمنٹ کا استعمال کرنا پڑ بھی جاۓ تو چیزیں موجود ہوں، یہاں کھانے پینے کا بھی سارا سامان تھا۔
“نیہا جلدی سے اپنی ماما کا علاج کرو” بلاج کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔۔۔۔ میرال کو اس حالت میں دیکھنا اسکے لیے موت کا فرمان تھا۔۔۔ نیہا نے خود کو سھنمبالا۔۔ اور اگے بڑھی۔۔۔ میرال کے ایک کندھے پر اور ایک دائیں بازو پر گولی لگی تھی۔۔ وہ جلدی سے اسکا علاج کرنے لگی۔۔۔ ساحل دوسرے کمرے میں آیا، جہاں باہر کی ساری سیکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز چل رہیں تھیں۔ بایر پولیس اور وہ لوگ ایک دوسرے پر فائیر کر رہے تھے۔۔ ماحول کافی خوفناک ہو گیا تھا۔ بچے تو سہم سے گے تھے۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
