No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
“کل نہ صرف عباد کے گھر میں اچانک طوفان آیا تھا جس کی وجہ سے عباد نازنین اور افراہیم ماتم کناں تھے بلکہ قیوم کا گھر بھی اس طوفان کی لپیٹ میں آیا تھا پولیس کل رات ہی ازلان کو گرفتار کرکے لے جاچکی تھی، نوف کا بری طرح رونا، رخشی کی آہ و پکار، قیوم کا پولیس والوں کے سامنے گڑگڑانا سب رائیگاہ ثابت ہوا تھا، محلے کے ہر فرد نے وہ منظر دیکھا تھا جب پولیس قیوم کے گھر میں داخل ہوکر ازلان کو ہتھکڑی لگاتی ہوئی پولیس وین میں بٹھا کر لے جارہی تھی محلے والوں کی زبان پر ایک ہی قصہ تھا ازلان نے افسر کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا
نوف کی پہلے ہی سے طبیعت ناساز تھی لیکن کل والے واقعے نے اس کو اور بھی زیادہ اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا اپنے باپ کی بےبسی اور ماں کے آنسو اس سے برداشت نہیں ہو رہے تھے نہ اسے یقین تھا کہ اس کا بھائی اتنا گھٹیا قدم اٹھا سکتا ہے صبح سے ہی قیوم اور رخشی دونوں نثار کے جاننے والے وکیل کے پاس نکلے ہوئے تھے تاکہ ازلان کے ضمانت کی کوئی سبیل نکل آۓ، نوف کو ہوا کل رات کا بخار اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا وہ گھر میں اکیلی اپنے پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی، جب زور سے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا نوف اپنے لاغر سے وجود کو لےکر دروازے تک پہنچی۔۔۔۔ دروازہ کھولنے پر اس کا جس چہرے نے استقبال کیا وہ اس کی توقع نہیں کر رہی تھی آج اس نے اپنے سامنے افراہیم کو کھڑا دیکھ کر سر نہیں جھکایا تھا وہ غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی نوف کو محسوس ہوا جیسے وہ یہاں آنے سے پہلے ڈھیر سارا رویا تھا
“آپ یہاں”
نوف افراہیم کو دیکھتی ہوئی آہستہ سے بولی وہ بنا کچھ کہے اس وقت گھر کے اندر داخل ہوکر دروازہ بند کرچکا تھا
“پوچھو گی نہیں اس وقت میری بہن کی کیا حالت ہے”
افراہیم سرخ آنکھوں سے نوف کو دیکھ کر سوال کرنے لگا تو نوف فوراً بول اٹھی
“بھائی ایسے نہیں کرسکتے آپ کی بہن کے ساتھ، بلکہ وہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرسکتے”
نوف نے افراہیم کو ازلان کی بےگناہی کا یقین دلانا چاہا تو افراہیم چلتا ہوا نوف کے قریب آیا اور اس کا زرد چہرہ دیکھتا ہوا بولا
“ہر کسی کو اپنا آپ اور اپنے سے جڑے رشتہ صحیح لگتے ہیں۔۔۔ کل تک مجھے بھی لگتا تھا کہ میں کسی لڑکی کے ساتھ وحشیانہ سلوک نہیں کرسکتا لیکن آج سوچ کر آیا ہوں جس نے میری بہن کی عزت کی دھجیاں بکھیر دی جب اسے اپنی بہن کی عزت لٹنے کا معلوم ہوگا تب اسے پتہ چلے گا اذیت سے گزرنا کسے کہتے ہیں۔۔۔ آج جب تمہارے ماں باپ تمہیں اجڑی ہوئی حالت میں دیکھیں گے تب انہیں معلوم ہوگا کہ اس وقت میرے ماں باپ کون سے کرب سے گزر رہے ہیں،، آج تمہیں اپنا حشر دیکھ کر خود اندازہ ہوگا کہ جسم سے روح کھینچی جاۓ تو کس قدر تکلیف محسوس ہوتی ہے اور وہ تکلیف میری بہن برداشت کرچکی ہے تمہارے بھائی کی بدولت”
افراہیم کی بات سن کر نوف سکتے کی حالت میں اس کو دیکھنے لگی اس وقت افراہیم کے چہرے کے تاثرات سخت اور پتھریلے تھے اس نے آگے بڑھ کر نوف کا دوپٹہ کھینچا تو وہ ڈر کے مارے کمرے کی طرف بھاگنے لگی مگر اس سے پہلے افراہیم اس کے بالوں کو مٹھی میں بھرتا ہوا صحن میں موجود تخت پر اسے دھکا دے چکا تھا
“آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے”
نوف صدمے کی کیفیت میں روتی ہوئی زور سے چیخی افراہیم غصے میں اس کے قریب آتا ہوا نوف کا چہرہ زور دار تھپڑ مار کر سرخ کرچکا تھا
“کل رات میری بہن بھی ایسے ہی روئی ہوگی تمہارے ذلیل بھائی کے آگے” افراہیم غصے میں دوسرا تھپڑ اس کے گال پر مارتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس نے نوف کی آستین بازو سے پھاڑ دی
“نہیں مجھے معاف کردیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپ سے”
نوف افراہیم کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر اس سے التجا کرتی ہوئی بولی جس پر وہ نوف کے بالوں کو دوبارہ مٹھی سے پکڑتے ہوا اسے اٹھا کر دیوار پر دھکا دے چکا تھا جس سے نوف کے سر پر چوٹ آئی اور خون بہنے لگا
“میری معصوم بہن کو بخشا تھا تمہارے بھائی نے جو میں تمہیں معاف کردو بولو”
افراہیم غصے کی شدت سے چیختا ہوا اس کے گال پر ایک کے بعد ایک تھپڑ مارتا گیا نوف کو اپنے دونوں گال جلتے ہوئے محسوس ہوئے
بخار کی وجہ سے وہ پہلے ہی نڈھال تھی نوف کو لگا کے اب وہ نیچے گرجائے گی مگر جیسے ہی افراہیم نے چاک سے اس کی قمیض کھینچی تو نوف روتی ہوئی افراہیم کو پیچھے ہٹاکر اندر کمرے میں بھاگی۔۔۔ وہ روتی ہوئی اپنے لیے جائے پناہ تلاش کرنے لگی مگر اس سے پہلے ہی افراہیم کمرے میں آنے کے ساتھ ایک بار پھر اس کا چہرہ طماچوں سے لال کرنے لگا۔۔ نہ صرف نوف کا منہ پوری طرح سوجھ چکا تھا بلکہ سر کے ساتھ ساتھ ہونٹ سے بھی اس کے خون بہنے لگا تھا
وہ روتی ہوئی اللہ سے دعا کرنے لگی اس بےرحم لڑکے کے دل میں اس کے لئے رحم ڈال دے مگر افراہیم اس کا منہ بری طرح سجھانے کے بعد گلے سے اس کی قمیض چاک کرچکا تھا وہ افراہیم کے تھپڑوں کی تاب نہ لاتی ہوئی زمین پر گرچکی تھی۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا ایک بار اسی لڑکے نے عدنان سے اس کو بچایا تھا اور آج وہ خود اس کے ساتھ۔۔۔۔ افراہیم ابھی بھی غصے میں نوف کے روتے بلکتے وجود کو زمیں پر گرا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔ نوف کو آنے والے وقت سے خوف آرہا تھا اسی لیے وہ رونے کے ساتھ کانپ بھی رہی تھی اس کی قمیض کا سرا کاندے سے ٹکا ہوا تھا دوسرا سرا اس نے خود پکڑ کر کاندھے سے ٹکایا ہوا تھا مگر اس کے جسم میں ہمت نہیں بچی تھی افراہیم سے مزاہمت کرتی
افراہیم نے ویسے ہی ایک بار پھر اسکے بالوں کو مٹھی میں بھر کر زمین سے اٹھایا۔۔۔ نوف کا رخ کمرے میں موجود آئینے کی طرف کرتا ہوا خود اس کی پشت پر کھڑا ہوا
“تمھاری ہی ہم عمر ہے میری بہن، کل رات تمھارے بھائی نے جس کی معصومیت چھین لی، چھوٹی سی عمر میں جس کا بچپن اس سے چھین لیا۔۔۔ اس کی زندگی برباد کر ڈالی اسے ان باتوں کی آگاہی دے دی جو باتیں اس کے سمجھنے کی نہیں تھی۔۔۔ میرا باپ بالکل ٹھیک کہتا ہے تم جیسے چھوٹی ذات کے لوگ ہوتے ہی گھٹیا ذہنیت کے ہو،، میرا بس نہیں چل رہا کہیں سے تمہارا بھائی میرے سامنے آجاۓ اور میں اس کے جسم کی بوٹی بوٹی کر ڈالوں یا پھر تمہارے ساتھ بھی ویسے ہی وحشیانہ سلوک کرو جو کل رات تمہارا بھائی میری معصوم بہن کے ساتھ کرچکا ہے مگر میں تمہارے بھائی کی طرح کم ذات نہیں ہو”
افراہیم اپنی مٹھی میں سے اس کے بال آزاد کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا اور نوف زمیں پر گر کر وہی بےہوش ہوگئی
“میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا میں بےقصور ہوں”
ازلان سلاخوں کے پیچھے موجود اپنے سامنے کھڑے قیوم کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا وہ ہفتے بھر سے سب کے سامنے بس ایک اسی جملے کی گردان کررہا تھا یہاں تک کہ جب اس کو ریمانڈ میں لیا گیا اور پیروں پر ڈنڈے مار مار کر اسے کھڑا ہونے کے قابل نہیں چھوڑا گیا تب بھی وہ بےہوش ہونے سے پہلے یہی جملہ بول رہا تھا
“عباد کی بیٹی کو ہوش آچکا ہے اس نے مکمل حواسوں میں پولیس کو بیان دیتے ہوۓ تمہارا نام لیا ہے۔۔۔ میں نے جیسے تیسے پیسے اکٹھے کر کے وکیل کیا ہے تمہیں اس وکیل کے سامنے اس رات کے تمام حالات اور واقعات بالکل سچ بتانا ہوگے”
قیوم کی بات سن کر وہ حیرت سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا تھا دکھ اسے اس بات کا بھی تھا کہ بیلا نے اسے اپنا مجرم قرار دے دیا تھا مگر ساتھ ہی اسے اپنے باپ کی بھی بےاعتباری پر افسوس ہونے لگا
“میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا میں بےقصور ہوں”
اب کی بار ازلان نے دوبارہ سے وہی جملہ دہرایا تو چند سیکنڈ قیوم خاموشی سے ازلان کو دیکھنے لگا پھر بولا
“آج ہی ڈی این اے کی رپورٹ آئی ہے تمہارا ڈی این اے اس بچی کے مجرم کے ڈی این اے سے میچ کررہا ہے”
قیوم کی بات سن کر ازلان کو شدید غصہ آنے لگا وہ غصے کی شدت سے زوردار آواز میں دھاڑا
“میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا میں بےقصور ہوں”
ازلان کے بری طرح چیخنے پر قیوم ایک بار پھر خاموشی سے ازلان کو دیکھنے لگا پھر بنا کچھ بولے تھکے ہوئے قدموں سے وہاں سے چلا گیا
ایک ہفتے میں قیوم کیا کچھ برداشت کرچکا تھا وہ چاہ کر بھی ازلان کو بتا نہیں پایا۔۔۔ سڑک پر پیدل چلتا ہوا قیوم اس دن کے بارے میں سوچنے لگا جب وہ اور رخشی وکیل سے بات کرکے واپس گھر لوٹے تھے۔۔۔ نوف کی اجڑی ہوئی حالت اسے کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی جسے دیکھ کر اسے اندرونی طور پر بہت بڑا دھچکا لگا تھا۔۔۔ نوف کی پٹھے ہوۓ کپڑے اجڑی ہوئی حالت دیکھ کر رخشی نے یا پھر اس نے اپنی بیٹی سے کچھ بھی پوچھنے کی ہمت نہیں کی تھی۔۔۔ شام تک محلے میں چہ میگویاں ہونے لگی تھی تب اس کے کانوں میں یہ خبر پڑی تھی کہ اس کے پیچھے عباد کا بیٹا اس کے گھر آیا تھا۔۔۔ محلے کے لوگوں نے گھر کے اندر سے نوف کی چیخ و پکار کی آوازیں سنی تھی اور عباد کے بیٹے کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا
وہ عباد کی طرح اثر و رسوخ نہیں رکھتا تھا کہ اس کے بیٹے کو اپنی کم عمر بیٹی کے ساتھ کیے گئے بےرحمانہ سلوک کے جرم میں اندر کروا دیتا۔۔۔ اس کے پاس جو تھوڑی بہت رقم تھی اس میں تھوڑے بہت پیسے نثار میں ملاکر ازلان کے لئے وکیل کیا تھا۔۔۔ ابھی وہ اس صدمے سے ہی باہر نہیں نکلا تھا کہ اگلے دن اس کو لیٹر ملا جس میں اس کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا اس کے دو دن بعد ہی قیوم سے سرکاری کوارٹر بھی چھین لیا گیا۔۔۔ رہنے کے لیے جب کوئی چھت نہ بچی تو نثار قیوم کے ساتھ رخشی اور نوف کو اپنے گھر لے آیا
ہفتے بھر سے نوف کا بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا،، غزل کا ان لوگوں کی اپنے گھر آمد پر اچھا خاصا منہ بنا ہوا تھا
غزل کا اپنی بیوی اور بچی سے رویہ دیکھ کر، اپنے جوان بیٹے کو سلاخوں کے پیچھے دیکھ کر، ہر پل رخشی کی نم آنکھیں دیکھ کر، اپنی کم عمر بچی کی اجاڑ اور ویران حالت دیکھ کر وہ صحیح معنوں میں اندر سے ٹوٹ چکا تھا،، عباد نے گلگت جانے سے پہلے ازلان پر کافی مضبوط کیس بنایا تھا جس کی وجہ سے ازلان کی ضمانت نہیں ہو پارہی تھی، وہ عباد کے جانے سے پہلے اس سے معافی مانگنے بھی گیا تھا اس نے درخواست کی تھی کہ عباد کی توسط سے اس کی نوکری دوبارہ بحال ہوجائے مگر عباد نے اسے ذلیل کرکے نکال دیا۔۔۔ غزل طعنے دیتی ہوئی آج صبح ہی رخشی سے بول چکی تھی کہ وہ عزت لٹی ہوئی اسکی بیٹی کو اپنی بہو نہیں بناسکتی ساتھ ہی غزل نے ان دونوں میاں بیوی کو اپنے کہیں اور رہنے کا بھی بول دیا تھا کیوکہ ان کا اپنا گزارا مشکل سے ہورہا تھا۔۔۔ ان سب باتوں کو سوچتا ہوا قیوم روڈ کراس کر رہا تھا تب ایک گاڑی اس کو ٹکر مارتی ہوئی چلی گئی
“بیلا کیا کررہی ہو میری جان”
وہ روز معمول کی طرح اپنے کاپی کے ورق کو بار بار ایک ہی لفظ “سوری” لکھ لکھ کر بھر رہی تھی تب نازنین بیلا کے کمرے میں آتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جس پر بیلا نے جلدی سے کاپی بند کردی اور نازنین کو دیکھتی ہوئی بولی
“آپ کیوں آگئی ہیں میرے کمرے میں کیا کام ہے آپ کو مجھ سے”
بیلا کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوتی ہوئی نازنین سے پوچھنے لگی گلگت سے واپس آئے ہوئے انہیں مہینہ بھر ہوچکا تھا عباد نے اپنا ٹرانسفر واپس اپنے شہر میں کروا لیا تھا
“تم نیو سائیکل لینے کی ضد کررہی تھی ناں، کل افی تمہارے لئے نئی سائیکل لےکر آیا ہے جاؤ اپنی سائیکل دیکھو اور لان میں چکر لگاکر آؤ”
نازنین پیار سے بیلا کو دیکھتی ہوئی اس سے بولی اس واقعہ کے بعد سے اس نے اپنے کمرے سے باہر نکلنا اور اسکول جانا بالکل چھوڑ دیا تھا۔۔۔ عباد یا نازنین اس کو اسکول جانے کا کہتے تو وہ رونا شروع کردیتی۔۔۔۔ نازنین چاہتی تھی کہ پہلے وہ اپنے کمرے سے باہر نکلے اس لیے افراہیم اس کے لئے سائیکل لے کر آیا تھا ویسے بھی افراہیم اس کو سائیکل اس کی برتھ ڈے گفٹ میں دینا چاہ رہا تھا
“سائیکل کا تو میں نے بہت پہلے کہا تھا بھائی سے، اب میرا دل نہیں چاہتا سائیکلینگ کرنے کا بلکہ کچھ بھی کرنے کا۔۔۔۔ اب آپ بھی اپنے کمرے میں جائیں”
بیلا نازنین کو دیکھتی ہوئی بولی تو وہ بیلا سے پوچھنے لگی
“مگر کیوں بیٹا مما کو دل چاہ رہا ہے تم سے بات کرنے کا،، کیا تمہارا دل نہیں چاہ رہا اپنی مما سے بات کرنے کا”
نازنین بیلا کو دیکھ کر پیار سے پوچھنے لگی تو بیلا بولی
“آپ تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد مجھے کمرے سے باہر نکلنے کے لیے فورس کرے گی اور میرا کمرے سے باہر نکلنے کا دل نہیں چاہتا اب”
بیلا کی بات سن کر نازنین خاموشی سے اسے دیکھنے لگی اب نہ جانے کب اس کی بیٹی نارمل ہوگی گزرے دنوں کے ساتھ نازنین اچھے کی امید ہی چھوڑے دی رہی تھی
“تمہیں باہر جانا پسند نہیں ہے تو ہم دونوں باہر نہیں جائیں گے۔۔۔ بلکہ یہی بیٹھ کر باتیں کریں گے، چلو یہ بتاؤ تم اپنی کاپی پر روز کیا لکھتی ہو”
نازنین کے پوچھنے پر بیلا کے چہرے کے تاثرات یکدم تبدیل ہوئے وہ ٹیبل پر رکھی ہوئی کاپی کو جلدی سے دراز میں رکھتی ہوئی نازنین سے بولی
“مما آپ جائیے اپنے کمرے میں، پلیز چلی جائے یہاں سے اور شام میں بھائی کو منع کردیئے گا کہ وہ میرے کمرے میں نہ آیں اور نہ ہی بابا کو میرے کمرے میں آنے کی ضرورت ہے۔۔۔ مجھے اب کسی سے بھی بات کرنا اچھا نہیں لگتا آپ کھڑی کیوں ہیں پلیز چلی جائے یہاں سے”
بیلا زور سے چیخ کر بولی۔۔۔ نازنین جانتی تھی اگر وہ بیلا کے کمرے سے نہیں گئی تو بیلا رونا شروع کردے گی پھر اس کو چپ کروانا مشکل ہو جائے گا، وہ خاموشی سے بیلا کے کمرے سے نکل گئی ایسا نہیں تھا کہ وہ لاعلم تھی کہ بیلا کاپی میں کیا لکھتی رہتی ہے مگر وہ سوری کیوں اور کس کو لکھتی ہے نازنین یہ جاننا چاہتی تھی
جاری ہے
