Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

“مجھے یہ نہیں سمجھ آتا جب تم سنگل اپنے فلیٹ میں رہتے ہو تو دوسرے روم کو تم نے بیڈروم کی طرح کیوں سیٹ کیا ہوا ہے”
ڈنر کے بعد وہ دونوں بالکونی میں کھڑے کافی پی رہے تھے تب بیلا ازلان سے پوچھنے لگی، شام کے وقت آج پھر ازلان اس کو پڑھانے کا ارادہ رکھتا تھا جس پر بیلا اس سے خفگی ظاہر کرکے اسے پڑھنے کا منع کرچکی تھی تب ازلان نے بھی اسکی بات اس لیے مان لی کیوکہ وہ اسے اپنے آپ سے خفا نہیں دیکھ سکتا تھا

“یہ فلیٹ میرا اپنا نہیں ہے رینٹ کا ہے دراصل اسے میرے ساتھ میرا ایک فرینڈ شیئر کرتا ہے جو فل الحال تین ماہ کے کورس پر گیا ہے”
ازلان کافی پیتا ہوا اسے بتانے لگا جس پر بیلا فکر مند ہوکر اس سے پوچھنے لگی

“اور جب تم مما اور بھائی سے ہمارے رشتے کے متعلق بات کرو گے اس کے بعد مجھے کہا رکھو گے”
بیلا کی بات پر ازلان کافی کا خالی مگ واز کے پاس رکھ کر بیلا کا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا

“ایک ماہ پہلے ہی میری پوسٹنگ اس شہر میں ہوئی ہے،، دو سال بعد دوسرے شہر میں پوسٹنگ ہوجاۓ گی، میری نیچر آف جاب ایسی ہے کہ میں ایک شہر میں ٹک کر نہیں رہ سکتا۔۔۔ لیکن اگر تم چاہتی ہو کہ تم اپنی فیملی کے قریب رہو تو میرے پاس اتنی سیونگ ہے کہ میں اسی شہر میں تمارے لیے اپارٹمینٹ خرید لیتا ہوں”
ازلان کی بات پر بیلا حیرت سے اس کو دیکھنے لگی

“مطلب جب تمہاری دو سال بعد کسی دوسرے شہر میں پوسٹنگ ہوگی تو تم مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر چلے جاؤ گے”
بیلا کی بات پر ازلان کندھے اچکا کر اسے دیکھنے لگا جیسا اس آپشن کے علاوہ اور کیا کیا جاسکتا ہے بیلا چند سیکنڈ ازلان کو خاموشی سے دیکھنے کے بعد اس کا گریبان پکڑتی ہوئی بولی

“شام میں تو بڑے رومینٹک موڈ میں بول رہے تھے اب زندگی میں کبھی مجھ سے دور مت جانا”
بیلا ازلان کی ایکٹنگ کرتی ہوئی بولی اس کو اپنی نقل اتارتا دیکھ کر ازلان زور سے ہنسا

“بیلا میری جان میں تم سے دور ہرگز نہیں جانا جاتا لیکن اگر تم اپنی فیملی کے قریب رہنا چاہتی ہو تو ایسا میں نے اس لیے بولا، ورنہ تو بہت سے آرمی پرسن اپنی فیملی کو اپنے ساتھ ہی رکھتے ہیں”
ازلان پیار سے بولتا ہوا بیلا سے اپنا گریبان چھڑوانے لگا

“تو میں نے ایسا کب بولا کہ میں زندگی بھر اپنی فیملی کے قریب اور تم سے دور رہوگی میں کوئی انوکھی لڑکی تھوڑی ہو جو اپنے ہسبنڈ کے ساتھ ایک شہر سے دوسرے شہر میں جاکر سیٹل نہیں ہوسکتی میں بھی ایسا کرسکتی ہوں”
بیلا ازلان کو دیکھ کر اعتماد سے بولی ازلان بیلا کی بات پر خاموشی سے سن کر اس کا چہرہ تھام کر ماتھے پر آۓ بال پیچھے کرتا ہوا پوچھنے لگا

“سمپل نہیں ٹف لائف ہوجاۓ گی تمہاری میرے ساتھ، کیا تم گزارہ کرلو گی”
ازلان کی بات پر وہ لاپرواہی سے کندھے اچکا کر بولی

“دوسری لڑکیاں بھی کرتی ہیں میں بھی کرلو گی، بس تم جلاد والا روپ مت دکھانا مجھے اپنا، جیسے تم ٹیچر کے روپ میں بن کر دکھاتے ہو باقی تو میں ایڈجسٹ کرلو گی۔۔۔ ٹائم سے تمہیں جگا دیا کرو گی، ناشتہ بنادیا کرو گی، کپڑے تمہیں صاف ستھرے پریس ملا کریں گے،، کھانا تمہیں ٹائم سے ملا کرے گا۔۔۔ بہت زیادہ تم سے ٹائم نہیں مانگو گی۔۔۔ آئی نو تم بزی ہی رہا کرو گے جاب جو ایسی ہے اب کیا کیا جاسکتا ہے مگر تمہاری چھٹی والا دن پورا میرا لیے ہوگا اوکے”
بیلا کی باتوں پر وہ اسمائل دیتا ہوا اسے بانہوں میں لے چکا تھا

“ازلان وہ سامنے فلیٹ کی کھڑکی میں کھڑی ہوئی آنٹی ہم دونوں کو دیکھ رہی ہیں”
بیلا ایک دم ازلان سے الگ ہوتی ہوئی بولی تو ازلان نے بیلا کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا

“وہ دیکھ نہیں رہی گھور رہی ہیں ہم دونوں کو اندر چلو”
ازلان بیلا کو بولتا ہوا خود بیڈ روم میں چلا آیا جہاں اس کا موبائل فون بج رہا تھا


جب سے وہ افراہیم کے ساتھ واپس گھر آئی تھی تب سے افراہیم نے عجیب لاتعلقی اور بیانگی اختیار کی ہوئی تھی، واپسی کا سفر بھی خاموشی میں گزرا تھا۔۔۔۔ سارے راستے وہ روحیل کی باتوں کو سوچتی ہوئی آئی تھی یہ تو نوف نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے وہ روحیل کے بلانے پر ہرگز اس کے پاس نہیں جانے والی تھی، آج نہیں تو کل افراہیم پر اس کی حقیقت کھلنی ہی تھی مگر یہ سب کچھ اس طرح اتنی جلدی ہوگا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا

گھر آنے کے بعد نوف نے رات کا کھانا نہیں کھایا تھا اس کی بھوک روحیل کی باتوں سے اڑ چکی تھی جبکہ افراہیم سے کھانے کا پوچھنے پر افراہیم نے بھی کھانے سے انکار کردیا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر نازنین کے پاس بیٹھنے کے بعد اس کو میڈیسن دے کر نوف اپنے کمرے میں آنے لگی تو افراہیم کے لیے گلاس میں دودھ گرم کر کے لے آئی۔۔۔ کمرے کی لائٹ آن تھی مگر افراہیم آنکھیں بند کئے بیڈ پر نیم دراز تھا نوف دودھ کا گلاس پکڑے چلتی ہوئی اس کے قریب آکر بیٹھی

“افراہیم یہ دودھ لائی ہو آپ کے لیے”
نوف دودھ سے بھرا گلاس سائڈ ٹیبل پر رکھتی ہوئی افراہیم سے بولی ساتھ ہی اس نے اپنا ہاتھ افراہیم کے گال پر رکھنا چاہا جسے افراہیم نے پکڑ کر اپنی آنکھیں کھولیں جوکہ کافی سرخ ہورہی تھیں

“کیوں لائی ہو، کیا میں نے تم سے کہا تھا”
وہ نوف کا ہاتھ تھامے عجیب سے لہجے میں بولا اس کا انداز دیکھ کر نوف ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی

“آپ نے رات کا کھانا نہیں کھایا تو میں نے سوچا سونے سے پہلے آپ یہ دودھ پی لیتے”
نوف افراہیم کے چہرے پر اجنبیت دیکھتی ہوئی بولی تو افراہیم اس کا چہرہ دیکھتا ہوا روکھے لہجے میں بولا

“میرا دماغ خراب مت کرو یمنہ چینج کرکے آؤ اور لائٹ بند کر کے لیٹو”
افراہیم اس کو بولتا ہوا بیڈ پر لیٹنے لگا تو نوف ایک دم افراہیم کا بازو پکڑ کر اس سے پوچھنے لگی

“پہلے آپ مجھے بتائیں میری کیا بات آپ کو اتنی بری لگی ہے جو آپ اس طرح سے بات کررہے ہیں مجھ سے”
نوف کی بات سن کر افراہیم اپنے غصے کو ہونٹ بھینچ کر ضبط کرتا ہوا دوبارہ لیٹنے لگا مگر نوف نے اس کا بازو چھوڑنے کی بجاۓ مزید سختی سے پکڑا جس پر افراہیم نے غصے میں سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے دودھ کے گلاس پر زوردار اپنا دوسرا ہاتھ مارا۔۔۔ دودھ سے بھرا گلاس فرش پر جاگرا وہی نوف افراہیم کے ری ایکشن پر سہم کر ایک دم بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور حیرت سے افراہیم کو دیکھنے لگی

“جاؤ”
افراہیم کی دھاڑ پر وہ بنا کچھ بولے ڈریسنگ روم میں چلی گئی، افراہیم کا رویہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔۔۔ اسے کیا بات اتنی بری لگی تھی نوف کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا مگر وہ اپنے غصے سے نوف کو ڈرا چکا تھا

ایسا ممکن نہیں تھا کہ افراہیم نے روحیل اور اس کی بات سنی ہو اس وقت تو نوف نے خود افراہیم کو وہاں سے دور جاتے ہوئے دیکھا تو پھر آخر کیا وجہ ہوسکتی تھی جو افراہیم اس طرح ری ایکٹ کررہا تھا۔۔۔ نوف سوچتی ہوئی ہینگ ہوا اپنا ڈریس دیکھنے لگی پھر اس کی نظر بلیک سلک کی نائٹی پر پڑی جو اس کے ڈریس کے برابر میں ہینگر میں لٹکی تھی۔۔۔ نوف کو ریسٹورنٹ پہنچنے سے پہلے افراہیم کی گفتگو یاد آنے لگی جو اچھے اور خوشگوار موڈ میں وہ اس سے کار میں کررہا تھا

وہ بالکل کنفیوز ہوگئی کہ کیا کرے ٹراوزر اور لانگ شرٹ ہینگر سے نکالتے ہوئے نوف کو یہی خیال آیا اگر افراہیم اس کا لباس دیکھ کر مزید خفا ہوگیا تو۔۔۔۔ نوف ہاتھ میں موجود اپنے لباس کو واپس ہینگ کرتی ہوئی نائیٹی کے اوپر اس کا گاؤن پہن کر واپس بیڈ روم میں آئی۔۔۔ افراہیم بیڈ پر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا نوف کو واپس روم میں آتا دیکھ کر وہ آنکھیں کھول کر دوبارہ بند کرنے لگا مگر نوف کا پہنا ہوا لباس دیکھ کر اسے دوبارہ غصہ آنے لگا

نوف خاموشی سے افراہیم کو بناء دیکھے فرش پر گرے ہوئے کانچ کے ٹکڑے اٹھاکر روم میں موجود ڈسٹ بن میں ڈال کر پلٹنے لگی تو اپنے سامنے افراہیم کو موجود پاکر ایک دم چونکی

“تم واقعی معصوم ہو یا پھر معصوم بننے کا ڈرامہ کررہی ہو میرے سامنے”
افراہیم اس کے قریب آکر نائٹی کے گاؤن کی کھلی ڈوریاں نوف کی کمر پر کستا ہوا نوف سے پوچھنے لگا

“مجھے نہیں معلوم افراہیم آپ کو میری کون سی بات اتنی بری لگی ہے جو آپ اس طرح کا سلوک کررہے ہیں میرے ساتھ لیکن آپ کا یہ رویہ مجھے بہت تکلیف دے رہا ہے پلیز مجھے اپنی ناراضگی کی وجہ بتائیں”
نوف کے پوچھنے پر افراہیم نے غصے میں اس کے دونوں بازوؤں کو سختی سے پکڑا

“یمنہ میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا مجھے جھوٹ بولنے والے اور دھوکہ دینے والوں سے سخت نفرت ہے۔۔۔ اگر میں تمہیں اپنے دل میں بسا سکتا ہوں تو تمہارے فریب دینے پر تمہیں اپنے دل سے ہمیشہ کے لئے نکال بھی سکتا ہوں۔۔۔ اب تم میرے سامنے یہ مت بولنا کہ آج روحیل سے تم فرسٹ ٹائم ملی ہو،، مجھے سب کچھ سچ جاننا ہے۔۔۔ روحیل تم سے اتنی گری ہوئی گھٹیا ڈیمانڈ کیسے کرسکتا ہے”
بولتے ہوئے نہ صرف افراہیم کا لہجہ سخت تھا بلکہ اس کے ہاتھوں میں بھی مزید سختی در آئی تھی نوف کو اپنے بازوؤں میں اس کی انگلیاں چبھتی ہوئی محسوس ہونے لگی

“جب عدنان سے میں اپنی عزت بچانے کی خاطر گھر سے بھاگی تو روبی نے مجھے اپنے گھر میں پناہ دی۔۔۔ اس وقت میں نے روبی کو ایک مخلص عورت سمجھا مجھے اس کی نیت کا علم نہیں تھا اور نہ ہی یہ اندازہ تھا کہ وہ کیا کام کرتی ہے۔۔۔ روبی نے ایک رات کے لیے میرا روحیل سے سودا کیا مگر میں روحیل کے پاس سے اپنی عزت بچاکر بھاگ آئی اور پھر میں نے یہاں پناہ لی”
اپنی اصل شناخت چھپاکر وہ روحیل اور روبی کے متعلق افراہیم کو سب کچھ سچ بتانے لگی۔۔۔ افراہیم کا غصہ اور رویہ دیکھ کر نوف اس کو اپنی اصل پہچان نہیں بتا پائی اس لیے بھی کہ فلالحال وہ افراہیم کی لاتعلقی اور بےرخی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔۔۔ اسے اس وقت افراہیم کی محبت اور اس کے اعتماد کی ضرورت تھی مگر نوف کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ افراہیم اس کی اور روحیل کی باتیں سن چکا تھا

“جاؤ جاکر لیٹ جاؤ”
افراہیم نوف کی بات سن کر کمرے کی لائٹ بند کرتا ہوا خود بھی بیڈ پر لیٹ گیا افراہیم کے برابر میں لیٹ کر وہ افراہیم کے سینے پر سر رکھ کر سوچنے لگی۔۔۔ اس شخص کے لئے کتنا آسان تھا اس کو دل میں بسانا اور پھر ہمیشہ کے لیے اپنے دل سے نکال دینا یہ بات نوف کو اپنے دل میں بری طرح چبھی تھی جس کا وہ فوری طور پر افراہیم سے شکوہ نہیں کرپائی تھی مگر اس کی آنکھیں نم ہونے لگی

“یمنہ آنکھیں بند کرو اور سونے کی کوشش کرو”
اپنے سینے پر نمی محسوس کرکے افراہیم نوف کو ٹوکتا ہوا بولا اور خود چند گھنٹے پہلے والا منظر یاد کرنے لگا

روحیل اور اپنی بیوی کے چہرے کے تاثرات سے وہ سمجھ چکا تھا وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں مگر افراہیم کو غصہ تب آیا جب اس کے پوچھنے پر اس کی بیوی اس کے دوست کے سامنے صاف مکر گئی اور روحیل نے بھی اس کی تائید کی شاید وہ دونوں اس کو بیوقوف سمجھ رہے تھے جبھی وہ اپنے موبائل سے ریکارڈنگ آن کرکے ان دونوں کے درمیان سے دور چلا گیا

ہوٹل میں موجود پلر کی آڑھ سے جب اس نے روحیل کی بات پر اپنی بیوی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے جنہیں وہ جلدی سے صاف کررہی تھی تب افراہیم اس کو اپنے ساتھ گھر لے آیا مگر اپنے کمرے میں آکر جب اس نے روحیل اور اپنی بیوی کی باتیں سنی تو افراہیم کو خود اپنے اوپر شدید غصہ آنے لگا کہ اس نے وہاں سے آنے پہلے روحیل کا منہ کیوں نہیں توڑا، تھوڑی بہت سزا تو اس کی بیوی کی بھی بنتی تھی جو اس سے اتنی بڑی بات چھپاگئی تھی اور وہ سزا افراہیم خاموشی اختیار کرکے اپنی بیوی کو دے رہا تھا


2 گھنٹے پہلے اذلان کے پاس سر عتیق یعنی بیلا کے فزکس کے ٹیچر کی کال آئی تھی جس پر انہوں نے ازلان سے ریکویسٹ کی تھی کہ اس سال کے سمسٹر کے لئے فزکس کا پیپر ازلان انہیں تیار کرکے دے دیں کیونکہ وہ چند مصروفیت کی وجہ سے یونیورسٹی کو صحیح طور پر ٹائم نہیں دے پارہے تھے ازلان ان سے کمٹمینٹ کرچکا تھا کہ وہ فزکس کا پیپر آج رات ہی تیار کرکے صبح تک انہیں دے دے گا

یہ سن کر بیلا کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی اسے پکا یقین تھا اس بار اس کے فزکس کے سبجیکٹ میں اچھے مارکس ضرور آئیں گے لیکن جب ازلان نے فزکس کی بکس اور نوٹس سامنے ٹیبل پر رکھ کر بیلا کو سختی سے کمرے سے باہر نکلنے کو کہا تب بیلا منہ بنا کر چپ چاپ بیڈروم میں آکر بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔ لیکن اب اسے کسی کروٹ چین نہیں آرہا تھا وہ ازلان کا تیار کردہ فزکس کا پیپر دیکھنے کے لئے بےچین تھی

ازلان سے تو اسے کوئی اچھے کی امید نہیں تھی کہ وہ اسکو خود سے پیپر دکھا دیتا یا پیپر میں لکھے ہوۓ سوالات بتا دیتا وہ کچھ سوچ کر بیڈ سے اترتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی اور لیونگ روم میں چلی آئی جہاں اسے اذلان بیٹھا ہوا نظر آیا

ازلان کی پشت بیلا کی طرف تھی جبھی وہ بیلا کو دیکھ نہیں سکا تھا وہ بڑے مصروف انداز میں فزکس کی بک پر جھکا ہوا پیپر پر لکھنے میں مصروف تھا،، بیلا دبے پاؤں آہستہ آہستہ فرش پر قدم رکھ کر چلتی ہوئی ازلان کے قریب آئی وہ چپکے سے دیکھنا چاہتی تھی کہ ازلان کیا لکھ رہا ہے تب اچانک ازلان پیچھے مڑا تو بیلا ایک دم ڈر کے مارے دو قدم اچھل کر پیچھے ہوئی

“سوئی نہیں تم ابھی تک”
ازلان کے ایک دم پوچھنے پر گھبراہٹ کے مارے بیلا سے کوئی بھی جواب بن نہیں پایا

“اکیلے نیند نہیں آرہی تھی مجھے”
بےساختہ اس کے منہ سے نکلا پھر اس نے دانتوں تلے اپنی زبان دبائی بیلا کی بات سن کر ازلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی

“تو مجھے پہلے بتانا تھا ناں میری جان کے تمہیں میرے بغیر نیند نہیں آئے گی”
ازلان ٹیبل پر رکھے ہوئے پیپر کو فولڈ کرکے اپنی شرٹ کی فرنٹ پاکٹ میں رکھتا ہوا کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ اب بیلا کی نظریں اس کے پاکٹ میں رکھے ہوئے پیپر پر جمی ہوئی تھی وہ آگے بڑھ کر بڑے پیار سے ازلان کے سینے سے لگی

“تم پر جب استاد بننے کا بھوت چڑھتا ہے تب تم پیار سے میری طرف دیکھتے ہی کہاں ہو، ابھی تھوڑی دیر پہلے کتنی بدتمیزی سے تم نے مجھے کمرے سے نکال کر سونے کا بول دیا تھا”
بیلا پیار بھرے لہجے میں ازلان سے شکوہ کرتی ہوئی بولی، اس نے اپنا ہاتھ ازلان کے دل پر رکھ دیا جہاں پاکٹ میں وہ پیپر موجود تھا

“بیلا میری جان ایسا الزام تو اپنے شوہر پر مت لگاؤ، کل رات کے بعد سے تو تم نے مجھے مزید اپنا دیوانہ بنادیا ہے۔۔۔ مجھے بتاؤ تمہیں کتنا پیار چاہیے مجھ سے”
ازلان بیلا کا ہاتھ اپنے دل سے ہٹاکر اپنے دونوں بازو اس کی کمر پر حائل کرتا ہوا بیلا کے ہونٹوں پر جھکنے لگا

“اوہو ازلان دور ہٹو پیار نہیں چاہیے مجھے اس وقت تمہارا”
بیلا ایک دم جھنجھلا کر اسے پیچھے کرتی ہوئی بولی تو ازلان افسوس سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔ بیلا کی نظریں ازلان کے چہرے کے بعد دوبارہ اس کی فرنٹ پاکٹ پر گئی تو وہ جلدی سے اپنے چہرے کے تاثرات درست کرتی ہوئی ازلان کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کرتی ہوئی فوراً بولی

“میرا مطلب تھا پیار بھی چائیے مگر پیار کے علاوہ اور کیا دے سکتے ہو تم مجھے”
بیلا کے پوچھنے پر ازلان نے اسے کمر سے پکڑ کر اونچا کرتے ہوئے گود میں اٹھالیا

“کہو تو جان دے دو اپنی”
ازلان اس کا ہر ہر انداز نوٹ کرتا ہوا بڑے رومینٹک انداز میں بولا اور بیلا کو اٹھاۓ بیڈروم میں لے آیا

“جان نہیں چاہیے مجھے جان تو میں خود ہو تمہاری۔۔۔ ازلان اگر تم واقعی اپنی جان سے پیار کرتے ہو تو پلیز مجھے یہ پیپر دے دو”
بیلا اس کی پاکٹ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی تو اذلان بیلا کو نیچے اتارتا ہوا پاکٹ سے پیپر نکالنے لگا

“یہ بھی کوئی مانگنے کی چیزیں ہے میری جان یہ لو”
ازلان کے بولنے کی دیر تھی بیلا جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے پیپر لیتی ہوئی اس پیپر کو کھول کر موبائل کی مدد سے پیپر میں موجود سوالات کے اسکرین شارٹ لینے لگی ازلان خاموشی سے کھڑا ہوا اس کی مکمل کاروائی اور پھرتی دیکھ رہا تھا

“تم کتنے پیارے ہو ازلان میں تمہیں بلاوجہ میں کھڑوس اور جلاد قسم کا ٹیچر سمجھتی تھی آئی لو یو سو سو مچ میری جان”
بیلا خوشی کے مارے ازلان کے پاس آکر اس کے دونوں گالوں کو اپنی چٹکیوں میں بھر کر اسے بچوں کی طرح پیار کرتی ہوئی بولی۔۔۔ پھر تمیز سے پیپر کو فولڈ کرکے واپس اس کی پاکٹ میں رکھنے لگی تو ازلان نے بیلا کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا

“رہنے دو اس پیپر کو ڈسٹ بن میں پھینک دو کیوکہ یہ سارے سوالات غیر ضروری ہیں اصل پیپر بناکر میں عتیق کو واٹس اپ کرچکا ہوں”
ازلان کہ اطلاع دینے پر بیلا صدمے سے ازلان کو دیکھنے لگی پھر اچانک اس کا صدمہ غصے میں ڈھلنے لگا کیوکہ ازلان اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور یہ مسکراہٹ بیلا کو کافی زہر لگ رہی تھی

“بیلا میری جان ایسے کیوں گھور رہی ہو، کیا کچا چبا جانا چاہتی ہو آج اپنے شوہر کو، تممہیں فزکس کا پیپر چاہئے تو منہ سے بول دو ناں مجھے”
ازلان اس کے دونوں گالوں کو چٹکیوں میں بھرتا ہوا پیار بھرا میٹھا لہجہ بناکر بولا

“اور مجھے معلوم ہے وہ تم مجھے کبھی بھی نہیں دو گے”
بیلا غصے میں ازلان کے دونوں ہاتھ اپنے گالوں سے جھٹکتی ہوئی بولی اور کمرے سے جانے لگی مگر ازلان اسے اپنی جانب کھینچ کر حصار میں لے چکا تھا

“کیوں نہیں دوں گا،، دو گا ناں میری جان مگر اس سے پہلے تمیہں مجھے ڈھیر سارا پیار دینا ہوگا بالکل ویسے ہی جیسے میں نے تمہیں کل رات دیا تھا”
وہ بہکی ہوئی نگاہوں سے بیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے ڈیمانڈ کرنے لگا

“فضول کی باتیں مت کرو تم جانتے ہو میں تمہاری طرح کی بےباکی نہیں کرسکتی اس لیے تم ایسا بول رہے ہو، نہیں چاہیے مجھے کوئی پیپر چھوڑ دو مجھے”
بیلا ازلان سے ناراض ہوتی ہوئی بولی

“سوچ لو بہت اچھا چانس تمہارے ہاتھ لگا ہے اگر کل رات والا ففٹی پرسنٹ بھی تم نے مجھے میرے اسٹائل میں پیار دے دیا تو ہنڈریڈ پرسنٹ گرانٹی دیتا ہوں میرے دماغ میں موجود فزکس کا پیپر کا ایک ایک لفظ تمہیں بتا دوں گا”
ازلان اتنے کونفیڈنس سے بولا تو بیلا سوچ میں پڑگئی

“پہلے مجھے تو چھوڑو، میں کوشش کرتی ہوں”
بیلا کنفیوز ہوکر بولی اس کے دماغ میں صرف فزکس کے سوالات گھوم رہے تھے جو ازلان کو معلوم تھے ازلان اس کو آزاد کرتا ہوا دوبارہ بولا

“کوشش تمہیں یہ سوچ کر کرنی ہے کہ اس کے بعد تم فزکس میں اچھے مارکس لے سکتی ہو چلو شاباش اب شروع ہوجاؤ جلدی سے”
ازلان ایک بار پھر اس کو یاد دلاتا ہوا بولا تو بیلا اپنا نچلا ہونٹ دبا کر کنفیوز ہوکر ازلان کے ہونٹوں کو دیکھنے لگی وہ بالکل خاموش اور سنجیدہ بیلا کے سامنے کھڑا تھا بیلا کی نظریں اپنے ہونٹوں پر جمی دیکھ کر ازلان نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا

“اگر ہونٹوں سے شروع کرنا ہے تو اتنی دور سے کیسے کس کرو گی قریب تو آؤ”
ازلان بیلا سے بولتا ہوا اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے گلے کا ہار بناتا ہوا خود اسکی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرچکا تھا۔۔۔ بیلا دوبارہ اس کے ہونٹوں کو فوکس کرتی ہوئی اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے قریب لائی مگر اتنے قریب آکر وہ نروس ہونے لگی

“بیلا میری جان اتنی دیر میں تو فزکس کا ایک سوال بھی مکمل ہوچکا ہوتا، اب کر بھی چکو کس”
ازلان کے طنزیہ لہجے پر بیلا گھور کر اس کو دیکھنے لگی

“چپ تو رہو ناں ازلان مجھے کنفیوز کیوں کررہے ہو تم”
بیلا روہانسی لہجے میں بولتی ہوئی ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لائی۔۔۔۔ اپنے چہرے پر ازلان کی بےباک نگاہیں جمی دیکھ کر اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی جیسے ہی اس نے ازلان کے ہونٹوں کو چھونا چاہا تو یہ سوچ کر بیلا کو گھبراہٹ ہونے لگی ازلان اس کو کس کرتا ہوا دیکھے گا

“میں نہیں آنکھیں تم بند کرو اپنی، کیسے بےشرموں کی طرح دیکھ رہے ہو مجھے”
بیلا اپنا چہرہ پیچھے کرتی ہوئی ازلان سے بولی تو وہ افسوس سے نفی میں سر ہلا کر آنکھیں بند کرنے لگا، خود بھی اپنی آنکھیں بند کرتی ہوئی وہ ازلان کو شولڈرز سے پکڑ کر اس کے ہونٹوں کے قریب آئی پھر نفی میں سر ہلا کر ازلان کے گال پر ہونٹ رکھتی ہوئی بولی

“لپس والا پارٹ تو مشکل ہے، اس میں تم ہی ایکسپرٹ ہو، میں تو یہی پر کس دے سکتی ہو تمہیں”
بیلا کے وضاحت دینے پر ازلان اس کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر بیلا کا چہرہ پکڑتا ہوا اسکے ہونٹوں پر جھکا بھرپور انداز میں اس کو کس کا طریقہ سمجھا کر پیچھے ہٹا

“کیا تھا اس میں، اتنا ٹائم لگتا ہے کس لینے میں۔۔۔ ایک کس بھی تم ڈھنگ سے نہیں کرسکتی نکمی کہیں کی”
ازلان غصہ کرتا ہوا بیلا سے بولا تو بیلا اس کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر منہ بناتی ہوئی بولی

“تم مجھے نکلمی نہیں بھول سکتے ہو اوکے”
بیلا نے بولتے ہوئے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنا شروع کردیئے تو ازلان کی پیشانی پر موجود بل ختم ہونا شروع ہوۓ وہ بیلا کے سنہری بالوں کو کلپ سے آزاد کرنے لگا تو بیلا نے اپنے ہاتھ ازلان کی شرٹ سے ہٹانے چاہے

“تم اپنا کام جاری رکھو، مجھے میرا کام کرنے دو”
ازلان مدھوش لہجے میں بولتا ہوا بیلا کے ہاتھ اپنی شرٹ کے بٹن پر واپس رکھتا ہوا بیلا کے چہرے پر جھکا

بیلا کے شرم سے سرخ پڑتے گالوں کو وہ باری باری چومنے لگا۔۔۔ بیلا کانپتے ہاتھوں سے اس کی شرٹ اتار چکی تھی ازلان بیلا کا دوپٹہ اتار کر بیڈ پر لیٹ گیا اس کی سوالیہ نگاہیں بیلا پر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔ بیلا نروس سی چلتی ہوئی بیڈ کے قریب آئی تو ازلان نے کھینچ کر اسے اپنے اوپر گرالیا

“بیلا میری جان تم تو ایسے پریشان ہورہی ہو جیسے میں تمہارا شوہر نہیں بلکہ فزکس کا پیپر ہوں”
ازلان بیلا کے چہرے سے بال پیچھے کرتا ہوا اسے بولا

“فزکس کا پیپر بھی اتنا مشکل نہیں ہوگا جتنا مشکل تم نے مجھے ٹاسک دے دیا ہے یہ تو مجھ سے بالکل نہیں ہو پاۓ گا”
بیلا ازلان میں بولتی ہوئی ہار مان کر اس کے سینے پر اپنا سر رکھ چکی تھی جبکہ اس کی بات پر ازلان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کرنے لگی وہ اپنی بیوی کا کانفیڈینس دیکھ چکا تھا جس کے بارے میں اسے پہلے سے ہی اندازہ تھا۔۔ اس لیے اسے مزید تنگ کرنے کی بجائے اسکی کمر کے گرد نرمی سے اپنے بازو حائل کرتا ہوا بولا

“اب مجھے ڈیلی ایک گھنٹہ تمہیں فزکس کی کلاس دینے کے بعد رات میں دو گھنٹے رومینس کی کلاس بھی دینا پڑے گی”
ازلان کی آواز اس کے کانوں میں گونجی ساتھ ہی اسے اپنی شرٹ شولڈرز سے سرکتی ہوئی محسوس ہوئی تو بیلا سمٹ کر مزید ازلان کے سینے میں چھپنے لگی

ازلان نے اسے باہوں میں بھر کر بیڈ پر لٹا دیا اور اسکی گردن پر جھکتا ہوا اپنی محبت کی مہر ثبت کرنے لگا

“ازلان مگر پہلے مجھے فزکس کے پیپر کے بارے میں تو بتادو”
بیلا کے بولنے پر ازلان اس کی گردن سے چہرہ اٹھا کر بیلا کو گھورنے لگا

“اتنی سنگین صورت حال میں تمہیں ایسی باتیں کرتے ہوۓ ذرا شرم نہیں آرہی، خبردار جو تمہارے منہ سے اب ایک بھی لفظ نکلا تو بس خاموشی سے لیٹی ہوئی شرماتی رہو، کیوکہ تم ایک یہی کام اچھا کرسکتی ہو”
ازلان اسے جھڑکتا ہوا دوبارہ اس کے گردن پر جھکا جبکہ بیلا اس سنگین صورت حال میں غصے کے باوجود خاموش رہی،، آئستہ آئستہ اس کا غصہ واقعی شرم میں ڈھلنے لگا تبھی ازلان کا موبائل بجنے لگا

ازلان کوفت بھرے انداز میں بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھانے لگا،، اجنبی نمبر دیکھ کر وہ کال ریسیو کرچکا تھا

“تم”
ازلان اس کو پہچان چکا تھا جبھی حیرت سے بولا مگر موبائل پر اس کی بات سن کر ازلان کی حیرت پریشانی میں بدل گئی

“کیا مطلب ہے تمہارا کہاں ہو تم اس وقت”
ازلان کی بات پر بیلا بیڈ سے اٹھ کر اپنی شرٹ شولڈرز سے اونچی کرنے لگی

“کون سے اسٹیشن پر، وہ تو یہاں سے کافی دور ہے۔۔۔ اوکے اوکے پریشان مت ہو، میں وہی آرہا ہو دو سے ڈھائی گھنٹے لگ جاۓ گے مجھے مگر تم وہی رہنا کہیں اور مت جانا اوکے”
ازلان موبائل پر بات کرتا ہوا اپنی شرٹ پہننے لگا

“ازلان کون تھا، سب خیریت ہے ناں اور تم کہاں جارہے ہو اس وقت”
بیلا اس کو تیزی سے شوز پہنتے دیکھ کر سوال کرنے لگی

“یار سب ٹھیک ہے بس ایک ضروری کام سے جارہا ہوں، لیٹ ہوجاؤ تو تم پریشان مت ہونا”
ازلان بیلا کو کوئی بھی ڈھنگ کا جواب دئیے بغیر والٹ اور کیز لے کر باہر نکل گیا


جاری ہے