Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

“بی بی جی یہی وہ اپارٹمنٹ ہے جس کا آپ نے ایڈریس بتایا تھا”
بیلا کے بتائے ہوئے ایڈریس پر ڈرائیور کار روکتا ہوا اس سے بولا تو بیلا آٹھ منزلہ عمارتوں کو دیکھنے لگی جو اس کے دائیں اور بائیں جانب بنی ہوئی تھی یہ وہی اپارٹمنٹ تھا جس کا ایڈریس ازلان نے اس کے ہاتھ پر لکھا تھا مگر آگے بیلا کو علم نہیں تھا کہ اسے کہاں جانا تھا۔۔۔ وہ ازلان کے کہنے کے مطابق دوسرے دن شام میں یہاں پہنچ چکی تھی اس سے پہلے وہ ڈرائیور کو آبان نامی شخص کے بارے میں معلوم کرنے کا کہتی اس کا موبائل بجنے لگا جس پر انجان نمبر سے کال آرہی تھی

“جب میں نے تم سے اکیلے آنے کو کہا تھا تو اس دم چلھے کو ساتھ لے کر کیوں آئی ہو”
موبائل کا نمبر بےشک انجانا تھا مگر یہ آواز بالکل انجانی نہیں تھی ازلان خفا ہوتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“کہیں بھی جانا ہو میں شروع سے ہی ڈرائیور کے ساتھ آتی جاتی ہو، بھائی مجھے اکیلا کہیں بھی جانے کی پرمیشن نہیں دیتے”
بیلا گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی ہلکی سی آواز میں ازلان کو بتانے لگی ساتھ ہی وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب بنی عمارتوں کو ایک بار پھر غور سے دیکھنے لگی ناجانے وہ اس وقت اسے کہاں سے دیکھ رہا تھا

“ٹھیک ہے اسے دو گھنٹے بعد آنے کا کہہ کر گاڑی سے باہر نکل آؤ”
ڈرائیور کو انفرم کرکے بیلا ازلان کی بات کی پیروی کرتی ہوئی گاڑی سے باہر نکل آئی۔۔ وہ نازنین اور افراہیم سے یونیورسٹی فیلو کے گھر جانے کا کہہ کر یہاں آئی تھی وہ دونوں ہی حیرت زدہ تھے مگر خوش بھی تھے لیکن بیلا ان دونوں سے جھوٹ بول کر اچھی خاصی شرمندہ تھی

“اب رائیڈ سائیڈ پر ٹرن ہوجاؤ سامنے بی بلاک ہے۔۔۔ لفٹ سے فورتھ فلور پر آجاؤ”
بیلا اپنا موبائل کان سے لگائے ہوئے تھی جیسے جیسے ازلان بولتا گیا ویسے ویسے وہ فلیٹ نمبر 504 میں پہنچ گئی جہاں اذلان کے مطابق،، فلیٹ کا دروازہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ بیلا فلیٹ میں جیسے ہی داخل ہوئی تو فلیٹ کا دروازہ ایک دم سے بند کردیا گیا۔۔۔ بیلا ایک دم مڑی تو اس نے اپنی پشت پر ازلان کو موجود پایا۔۔۔ فلیٹ کا دروازہ بند کرنے کے بعد وہ بیلا کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ سنہری بالوں کو جوڑھے کی شکل میں لپیٹے سادہ سے قمیض شلوار میں وہ اسے آج بھی پہلے کی طرح کوئی مومی گڑیا لگی تھی۔۔۔ ازلان کے اتنے غور سے دیکھنے پر بیلا کو اپنا دل اور زور سے دھڑکتا ہوا محسوس ہوا

“پورے 15 منٹ لیٹ ہو تم اس وقت 05:15 ہورہے ہیں”
وہ چلتا ہوا بیلا کے مزید پاس آکر اس سے بولا

“ایڈریس ڈھونڈنے میں ٹائم لگ گیا تھا”
بیلا بہت قریب سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی وہ ازلان کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی۔۔۔ کل کی بانسبت وہ آج اس سے دوستانہ لہجے میں بات کررہا تھا بس اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔۔۔ ازلان کے چہرے کے تاثرات سے وہ اندازہ لگاسکتی تھی کہ اس کی شخصیت میں کافی بدلاؤ آچکا ہے

“اگلی بار ایسا نہیں ہونا چاہیے، میں جو بھی ٹائم دوں گا تمہیں ہمیشہ اسی ٹائم پر یہاں پہنچنا ہوگا رائٹ”
وہ ابھی بھی سنجیدہ تاثرات لیے بیلا کو دیکھتا ہوا بولا تو بےساختہ بیلا کے منہ سے نکلا

“مگر میں یہاں پر اگلی بار کیوں آؤ گیں”
بیلا کی بات پر ازلان کے چہرے پر مدھم سی طنزیہ مسکراہٹ ابھری

“تم یہاں ابھی بھی کیوں آئی ہو؟؟ میرے بلانے پر ہی ناں، تو نیکسٹ ٹائم بھی جب میں تمہیں یہاں بلاؤ گا تو تمہیں میرے پاس آنا پڑے گا”
طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ازلان طنز کرتا ہوا بیلا سے بولنے لگا جس پر بیلا سے کوئی جواب بن نہیں پڑا وہ خاموشی ہی رہی

“آؤ روم میں چلتے ہیں”
ازلان اس سے بولتا ہوا اندر کی طرف روم میں جانے کے لیے مڑا تو بیلا اس کمرے کو دیکھنے لگی جہاں وہ کھڑی تھی

یہ بڑا سا ہال نما کمرہ تھا جس میں صوفے موجود تھے اور ایک سائیڈ پر میز کے ساتھ چار کرسیاں بھی موجود تھی۔۔۔ بیلا ازلان کے پیچھے چلنے لگی،،، ازلان جس کمرے میں داخل ہوا وہ بیڈ روم تھا جو زیادہ بڑا نہ تھا

“کھڑی کیوں ہو بیٹھو”
بیلا کمرے کا جائزہ لے رہی تھی تب ازلان کی آواز پر چونکی وہ اسے ٹو سٹر صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کررہا تھا جو بیڈ کے دائیں جانب موجود تھا

بیلا صوفے پر بیٹھنے لگی تو ازلان نے روم کا دروازہ بند کردیا،، بیڈروم کا دروازے بند کرنے کی لاجک بیلا کو سمجھ نہیں آئی تھی مگر ازلان کو اسپلٹ آن کرتا دیکھ کر بیلا کو اطمینان محسوس ہوا مگر یہ اطمینان اس وقت رخصت ہوگیا جب ازلان اس کے بےحد پاس صوفے پر آکر بیٹھا تو وہ صوفے پر اپنی جگہ سمٹ سی گئی

“فزکس کی بک لائی ہو ناں”
اذلان کے سوال پر وہ ہونق بنی ازلان کو دیکھنے لگی۔۔۔ ازلان سنجیدگی سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا

“مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ تم نے مجھے یہاں پڑھانے کے لئے بلایا ہے”
بیلا کو اپنی بات بولتے ہوئے خود بہت عجیب سا محسوس ہوا کہ وہ یہ کیا بول رہی ہے

“تو پھر میں نے تمہیں یہاں پر پھر کس لیے بلایا ہے ذرا مجھے بھی تو بتاؤ”
اذلان بیلا کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹوں کو پیھے کرتا ہوا پوچھنے لگا جس پر بیلا مزید شرمندہ ہوگئی مگر دوسرے ہی پل ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا تو بیلا حیرت سے ازلان کو دیکھنے لگی، ازلان اپنے ہاتھ میں بیلا کا نازک ہاتھ پکڑے کچھ سوچتا ہوا اس سے بولا

“اس وقت روم کے ٹمپریچر کے حساب سے تمہارے ہاتھ ٹھنڈے ہورہے ہیں لیکن اگر میں اس کمرے کی ٹھنڈک میں اپنی باڈی کو وارم اپ کرنا چاہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے ایکسپلین کرو”
ازلان کے عجیب سے سوال پر وہ ہونق بنی اسے دیکھنے لگی، آئستہ سے اس نے ازلان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر ناکام رہی

“مم۔۔۔۔ مجھے کیسے معلوم ہوسکتا ہے میں پچھلے دنوں غیر حاضر ہونے کی وجہ سے کلاسس نہیں لےسکی تھی،، مجھے گھر جانا ہے اب”
یہ سوال بہت عجیب سا تھا نہ جانے سلیبس میں یہ سوال تھا بھی کے نہیں۔۔۔ بیلا نے بولنے کے ساتھ ایک بار پھر ازلان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر ازلان اس کا ہاتھ چھوڑے بغیر صوفے سے اٹھا تو اس کی وجہ سے بیلا کو بھی اٹھنا پڑا

“اس سوال کا جواب دیے بغیر تو تم اس بیڈروم سے باہر نہیں جاسکتی واپس اپنے گھر جانے کا تصور تو آج بھول ہی جاؤ”
ازلان بولنے کے ساتھ بیلا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ تک لایا

“مجھے نہیں معلوم ازلان تم کیا پوچھ رہے ہو پلیز مجھے اپنے گھر جانا ہے”
ازلان کا یہ ردعمل اس کی طبیعت سے بالکل میل نہیں کھا رہا تھا بیلا کو اب اس سے گھبراہٹ ہونے لگی وہ ازلان سے درخواست کرتی ہوئی بولی

“تمہیں اس سوال کا جواب نہیں معلوم تو اس میں اتنا گھبرانے کی کیا بات ہے میں تمہیں آج مثال دے کر سب سمجھا دیتا ہوں”
ازلان نے بولنے کے ساتھ ہی بیلا کو بیڈ پر دھکا دیا اس سے پہلے وہ بیڈ سے اٹھتی ازلان نے اس پر جھکتے ہوۓ بیلا کی دونوں کلائیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑلیا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی نہ اپنے پاؤں چلا پائی تھی نہ ہی ازلان سے اپنے ہاتھوں کو چھڑا پائی تھی

“ازلان نہیں۔۔۔ میں مر جاؤں گی اب کے بار،،، تمہیں خدا کا واسطہ ہے،، میرے ساتھ کچھ برا مت کرنا”
بیلا خوف کے مارے بری طرح سے چیختی ہوئی ازلان سے بولی،، اس کی چھٹی حس نے اس کو یہاں آنے سے پہلے ایسا کوئی الارم نہیں دیا تھا جو ازلان اس کے ساتھ کررہا تھا،، وہ تو ازلان کو لےکر ایسا کچھ بھی نہیں سوچ سکتی تھی

“کیوں سب کے سامنے نام لیا تم نے میرا جواب دو، کیوں دنیا کے سامنے ذلیل اور رسوا کرکے رکھ دیا تم نے مجھے، بتاؤ۔۔۔ تمہاری وجہ سے میری ہستی، میری فیملی سب برباد ہوگئی، تمہیں معلوم ہے تم سے دوستی کی کتنی بڑی قیمت چکائی ہے میں نے میرا باپ اس دنیا سے چلاگیا میری ماں بہن کے سر سے چھت چھن گئی، میرے زندہ ہوتے ہوۓ میری ماں بہن رل کر رہ گئیں، جانتی ہو جیل کی چار دیواری میں کیا کیا اذیتیں سہی ہیں میں نے کیسے کیسے دن دیکھنا پڑے ہیں مجھے”
ازلان غصے سے بھری آواز میں اسی کی طرح چیختا ہوا بیلا سے بولا

بیلا اس کی گرفت میں موجود روتی ہوئی ازلان سے معافی مانگنے لگی۔۔۔ ساتھ ہی ازلان کی گرفت میں بیلا کی حالت غیر ہونے لگی اس کی آنکھیں بند ہونے لگی اور جسم کانپنے لگا،، بیلا کی بگڑتی ہوئی حالت اور اس کیفیت کو دیکھ کر ازلان اپنے غصہ کو ضبط کرتا ہوا حواسوں میں آیا اور بیڈ سے اٹھ کر صوفے پر اپنے دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا

بیلا کافی دیر تک بیڈ پر لیٹی ہوئی روتی رہی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ازلان کو اپنے کندھے پر بیلا کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تو وہ سر اٹھا کر بیلا کو دیکھنے لگا جو روئی ہوئی آنکھوں کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ہوئی اذلان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ بیلا نے ازلان کے کندھے پر سر رکھ کر ایک بار پھر رونا شروع کردیا

“میں اس وقت بہت زیادہ ڈر گئی تھی اگر میں اس کا نام بتادیتی تو وہ دوبارہ سے میرے ساتھ وہی سب کرتا۔۔۔۔ میں دوبارہ سے وہ سب برداشت نہیں کرپاتی ازلان۔۔۔ اس لئے بابا کے پوچھنے پر میں نے تمہارا نام لےلیا مجھے معاف کردو”
بیلا کے باآواز رونے سے ازلان اس کے اندر کا چھپا ہوا درد اور کرب صاف محسوس کرسکتا تھا جو وہ پچھلے دس سالوں سے محسوس کرتی آئی تھی

“کون تھا وہ”
اذلان اس کے سنہری بالوں پر ہاتھ رکھتا ہوا پوچھنے لگا تو بیلا ازلان کے کندھے پر رکھا ہوا سر ہٹا کر اسے دیکھنے لگی

“کیا فائدہ بتانے کا”
بیلا سیدھی ہوکر بیٹھی نظریں چراتی ہوئی اپنے آنسو صاف کرنے لگی تو ازلان نے بیلا کا رخ دوبارہ اپنی جانب کیا

“کیسے فائدہ نہیں ہے بتانے کا، بیلا مجھے اس کا نام جاننا ہے، کون تھا وہ شخص جس نے اس رات تمہیں ساتھ وحشیانہ سلوک کیا تھا جس کی سزا میں نے کاٹی اور وہ اب تک آزاد گھوم رہا ہے بتاؤ مجھے کون تھا وہ”
ازلان غصے میں بیلا سے بولا بےشک جیل میں اس کی سزا معاف ہوچکی تھی مگر یہ اذیت کم نہیں تھی کہ اس کی فیملی بکھر چکی تھی،، اس کا باپ اسے قصوروار سمجھ کر اس دنیا سے جاچکا تھا۔۔ اس کی ماں اور بہن نے اس واقعہ کے بعد کیسا دور برداشت کیا تھا

“اصفر بھائی۔۔۔۔ ازلان میں نے انہیں افراہیم بھائی کی طرح اپنا بھائی سمجھا اور انہوں نے اس رات میرے ساتھ”
بیلا اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپاکر روتی ہوئی بولی اپنے اندر چھپے ہوئے دکھ کو آج وہ دوبارہ آنسوؤں میں بہا رہی تھی۔۔۔

اس رات گھر کے پچھلے حصے پر اصفر نے ہی بیلا کو آنے کا کہا تھا بقول اصفر کے کہ وہ بیلا کو وہاں اس کا گفٹ دیکھانا چاہتا ہے

اصفر کا نام سن کر ازلان غصے سے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرنے لگا۔۔۔ اگر اس وقت اصفر اس کے سامنے ہوتا تو ازلان اس کے پراخچے ہوا میں اڑا دیتا اتنے میں اذلان کا موبائل بجنے لگا

“ہاں ٹھیک ہے تم یہاں پر فیضی اور ندیم کو لےکر آجاؤ میں ویٹ کررہا ہوں”
بیلا اپنے چہرے سے ہاتھوں کو ہٹاکر ازلان کو دیکھنے لگی جو موبائل پر کسی سے بات کررہا تھا،، رابطہ منقطع کرنے کے بعد ازلان بیلا کے آنسو صاف کرتا ہوا اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا

“دس منٹ کے بعد میرے چار دوست اور نکاح خواں یہاں پر آئیں گے جن کی موجودگی میں ہمارا نکاح ہوگا اس کے بعد تم اپنے ڈرائیور کو کال کرکے واپس اپنے گھر جانے کے لیے بلاسکتی ہو”
ازلان بیلا کے سر پر اس کے دوپٹے کو اسکاف کے اسٹائل میں باندھتا ہوا اس کے سر پر بم پھوڑ چکا تھا بیلا حیرت زدہ ہوکر ازلان کا چہرہ دیکھنے لگی

“ہم دونوں کا نکاح، کیا مطلب ہے کیوں ہورہا ہے ہمارا نکاح”
ازلان بڑی فرصت سے بیلا کا اسکارف سیٹ کررہا تھا۔۔۔۔ بیلا کی بات سن کر اس کا ہاتھ رکا وہ خفا ہونے والے انداز میں بیلا کو دیکھتا ہوا اس سے بولا

“ٹھیک ہے میں منع کردیتا ہوں فیضی کو کہ وہ یہاں پر کسی کو مت لےکر آئے۔۔۔۔ تمہیں اعتراض ہے تو تم کال کرکے اپنے ڈرائیور کو بلالو اور چلی جاؤ واپس اپنے گھر”
ازلان نے بولنے کے ساتھ ہی اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا اور کال کرنے لگا

“پر میں نے اعتراض کب کیا ہے میں تو بس یونہی سوال کر رہی تھی تم سے”
بیلا جلدی سے ازلان کے ہاتھ سے موبائل چھین کر بولی اس کی بات سن کر ازلان جس طرح زور سے ہنسا تو بیلا اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی۔۔۔ ازلان بیلا سے اپنا موبائل لےکر اسکارف میں اس کی تصویر لینے لگا

“اچھی لگ رہی ہو”
ازلان بیلا کو دیکھ کر مسکراتا ہوا بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا

تھوڑی دیر بعد بیلا کی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب بطور وکیل اس سے نکاح نامہ پر سائن کروانے کے لئے فیضی آیا یہ اس کا کلاس میٹ تھا بیلا کو اندازہ نہیں تھا ازلان اس سے اس فیضی کا ذکر کر رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ بیلا عباد سے بیلا ازلان بن چکی تھی


افراہیم اپنے گھر کمرے کی کھڑکی کے پردے برابر کررہا تھا تب اس کی نظر گیٹ کے پاس کھڑی نوف پر پڑی جو گلاب خان سے بات کررہی تھی، کچھ تھا جو افراہیم کو محسوس ہوا آج اس نے افراہیم کا دیا ہوا پینک کلر کا ڈریس پہنا تھا جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی افراہیم کی نظریں بار بار اس کی طرف اٹھ رہی تھی تھوڑی دیر پہلے رات کے کھانے کے بعد جب وہ نازنین کے کمرے میں آیا تو اتفاق سے نوف وہی عشاء کی نماز پڑھ رہی تھی افراہیم کتنی دیر تک اس کے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا تھا اس بات کا نوٹس لیے بغیر کہ نازنین افراہیم کی حرکت پر اس کو گھور رہی تھی مگر اس وقت افراہیم کو جیسے کسی بات کی پرواہ نہیں تھی

نوف نماز ادا کرنے کے بعد فورا وہاں سے چلی گئی تھی،، نوف کے کمرے سے جانے کے بعد نازنین نے افراہیم سے جو بات کہی، اس بات کو سن کر وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوگیا تھا،، نازنین چاہتی تھی کہ وہ یمنہ سے شادی کرلے

اپنی ماں کی اس بات پر شاید اس کو برا ماننا چاہیے تھا جس لڑکی کی فیملی کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا جس کا بیک گراؤنڈ وہ نہیں جانتا تھا جس کو یہاں آۓ جمعہ جمعہ آٹھ دن گزرے تھے،،، اس کی ماں اس انجان لڑکی کے بارے میں اتنی بڑی بات کیسے کہہ سکتی تھی۔۔۔ لیکن نازنین سے زیادہ اسے اپنے اوپر حیرت ہورہی تھی کیوکہ ایسی بات سن کر اسے غصہ آنا تو دور برا بھی نہیں لگا تھا مگر وہ فوری طور پر نازنین کے سامنے کچھ بھی اظہار نہیں کر پایا اور اس کے کمرے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا لیکن رات کے اس پہر نوف کا گلاب خان سے بات کرنا اسے اچھا نہیں لگا اس لئے وہ اپنے کمرے سے نکلتا ہوا باہر کی جانب جانے لگا

آج اتفاق سے ایسا پہلی بار ہوا تھا وہ عشاء کی نماز اپنے کمرے میں ادا کرنے کی بجائے نازنین کے کمرے میں پڑھ رہی تھی تب مسلسل اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ کسی کی نظروں کے حصار میں تھی جب سے وہ یہاں آئی تھی اس کی کوشش رہی تھی کہ افراہیم سے اس کا سامنا کم ہو، وہ افراہیم کو صرف ضرورت کے وقت مخاطب کیا کرتی۔۔۔ آج اس نے افراہیم کے لائے ہوئے ڈریسز میں سے ایک ڈریس پہنا تھا یہ ڈریس بھی سلیولیس اور کافی اسٹائلش تھا۔۔۔ اسے اس طرح کے ڈریسنگ کرنے کی بالکل عادت نہیں تھی، جس میں بےپردگی کا احساس ہو اور اپنے بازوں کو بار بار چھپانا پڑے۔۔ مگر وہ جانتی تھی اس میں افراہیم کا بھی قصور نہیں تھا وہ اس کے لئے ویسے ہی کپڑے لےکر آیا تھا جیسے کپڑے میں وہ اسے اتنے دن سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ لیکن آج جن نظروں سے افراہیم اس کی طرف دیکھ رہا تھا نوف کو اپنے اوپر اٹھتی اس کی نظریں کافی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ نماز ادا کرنے کے بعد وہ نازنین کے کمرے سے اپنے کمرے میں چلی آئی تھی۔۔۔

تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہ گلاب خان سے اس کی بیٹی کی طبیعت کا پوچھنے گیٹ تک آئی تھی کیوکہ دوپہر میں گلاب خان کی بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ نازنین سے آدھے دن کی چھٹی لے کر اپنی بیٹی کو اسپتال دکھانے گیا تھا ابھی وہ اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی مگر اس سے پہلے وہاں افراہیم آگیا

“کیا ہوا سب ٹھیک ہے ناں”
افراہیم نے آنے کے ساتھ ہی نوف کو مخاطب کیا جس کی وجہ سے اس کو رکنا پڑا وہ افراہیم کو حیرت سے دیکھنے لگی

“جی سب ٹھیک ہے”
نوف افراہیم کو جواب دیتی ہوئی گھر کے اندر جانے لگی تو افراہیم دوبارہ بول پڑا

“گلاب خان سے کیا کہنے آئی تھی”
افراہیم کی بات سن کر نوف خاموشی سے دوبارہ اسے دیکھنے لگی بھلا وہ کون ہوتا ہے اس سے سوال کرنے والا

“گلاب خان کی بیٹی کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اسی کا پوچھنے آئی تھی”
نوف ضبط کرتی ہوئی افراہیم کو بتانے لگی وہ نازنین کو دوا دینے کے بعد اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی نہ جانے یہ انسان کیوں اس وقت یہاں آپہنچا تھا

“تمہارے پوچھنے سے گلاب خان کی بیٹی کی طبیعت ٹھیک ہوجائے گی”
افراہیم اس کے اکتائے ہوئے لہجے اور بیزار سے انداز کو دیکھ کر مذید جراح پر اتر آیا کیوکہ افراہیم نے محسوس کیا تھا وہ صرف اسی سے بات کرنے سے کتراتی تھی، اس کی بیلا سے بھی اچھی دوستی ہوچکی تھی۔۔۔ آج شام میں وہ بیلا کے ساتھ کچن میں موجود کوکنگ کرتی ہوئی باقاعدہ بیلا کو کچھ بنانا سکھارہی تھی اور نازنین سے اسکی انڈر اسٹینڈنگ کو تو کوئی غیر بھی اچھی طرح محسوس کرسکتا تھا

“مجھے نہیں لگتا کہ غریب لوگوں سے بات کرنے میں کوئی قباحت ہے،، نہ ہی مجھے ان سے بات کرنے میں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے”
آخر وہ کون ہوتا تھا اس پر اپنی مرضی چلانے والا وہ جس سے دل چاہے اس سے بات کرے، نہ جانے کیوں اس انسان کو اسکے گلاب خان سے بات کرنے پر تکلیف ہورہی تھی۔۔۔ نوف اسے جواب دے کر اندر جانے لگی مگر اس سے پہلے افراہیم سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوچکا تھا کیوکہ اسے اس لڑکی کی اپنے سامنے زبان درازی بالکل پسند نہیں آئی تھی

“تو پھر پیسے والے سے بات کرنے میں کیا قباحت ہے،، مجھے تو ایسا لگتا ہے مجھ سے بات کرنے میں نہ صرف تمہیں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے بلکہ میری کسی بات کا جواب دینے میں تمہاری شان بھی گھٹتی ہے”
افراہیم سنجیدہ تاثرات لیے بول کر خود بھی سلگا تھا اور اسے بھی سلگا چکا تھا

“مجھے یہاں جاب پر آپ نے اپنی مدر کی دیکھ بھال کے لئے رکھا ہے نہ کہ اپنے آپ سے باتیں بنانے کے لئے،، بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے میرا کام کرنے دیں اور آپ خود اپنے کام سے مطلب رکھیں”
پہلی بار ایسا ہوا تھا جب وہ افراہیم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے جواب دے رہی تھی وہ بیشک یہاں پر جاب کررہی تھی مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ وہ افراہیم کی مرضی سے ہر کام کرے،، افراہیم کو اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی کا گستاخ بھرا لہجہ بالکل پسند نہیں آیا تھا،، سر اٹھا کر بات کرنے کا مشورہ افراہیم نے ہی اس کو دیا تھا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ افراہیم سے ہی بدتمیزی کرے۔۔۔ نوف کو وہاں سے جانے کے لیے پر تولتا دیکھ کر افراہیم اس کی کلائی پکڑ چکا تھا

“یہ کیا حرکت ہے ہاتھ چھوڑیں میرا”
نوف پہلے تو آنکھیں کھول کر حیرت سے افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی جو ایک دم غصے اور ضبط سے سرخ ہوچکا تھا پھر وہ اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی افراہیم سے بولی

“سمجھتی کیا ہو تم خود کو،، یہ ہاتھ تو میں اب نہیں چھوڑنے والا اگر تم میں ہمت ہے تو چھڑوا کر دکھاؤ”
افراہیم نے غصے میں بولتے ہوئے اس کی کلائی پر اپنی گرفت اور بھی زیادہ سخت کردی نوف جانتی تھی وہ جتنی زور آزمائی کرلے طاقت میں اپنے سامنے کھڑے شخص کا مقابلہ نہیں کرسکتی

“مرد ہیں نان آپ تو پلیز ذرا مردانگی کا ثبوت دیں، یہ سب حرکتیں کم ازکم اس آدمی پر زیب نہیں دیتی جس کے اپنے گھر میں ماں بہن موجود ہو، یہاں جاب میں صرف اور صرف مجبوری کے تحت کررہی ہوں ورنہ آپ کی اس حرکت پر مار ڈالتی میں آپ کو جان سے”
بولتے ہوئے نوف کی آنکھ سے بےبسی کے مارے ایک آنسو لڑھک کر گال پر آگرا۔۔۔ گرنے والے اس آنسو کا اثر تھا کہ لفظوں کا افراہیم نے اپنے ہاتھ کی گرفت جیسے ہی ڈھیلی کی نوف فورا اپنا ہاتھ چھڑوا کر گھر کے اندر چلی گئی

“آج تو سچ میں جان لے مس یمنہ تم نے افراہیم عباد کو”
افراہیم آہستہ آواز میں بولتا ہوا نازنین کے کمرے میں جانے لگا کیونکہ نوف بھی اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی سیدھے نازنین کے کمرے میں گئی تھی

“اوہو یمنہ بتاؤ تو سہی اس طرح رو کیوں رہی ہو مجھے پریشانی ہورہی ہے کچھ بولو تو سہی کیا ہوا ہے”
نازنین نوف کے رونے سے پریشان ہوتی ہوئی بولی پھر اپنے پاس بیٹھی ہوئی بیلا کو دیکھنے لگی بیلا خود بھی اس کے رونے پر حیرت زدہ تھی جبھی نوف کے پاس آکر پوچھنے لگی

“کیا تمہیں کسی کی بات بری لگی ہے یا تمہیں کسی نے کچھ کہہ دیا ہے پلیز یمنہ بولو مما پریشان ہورہی ہیں تمہارے اس طرح رونے سے”
بیلا نوف سے پوچھ رہی تھی کہ افراہیم کمرے میں آگیا

“افی دیکھو ناں کس طرح رو رہی ہے تم پوچھو اس سے کیا ہوا ہے،، مجھے تو گھبراہٹ ہورہی ہے اس کے اس طرح رونے سے”
نازنین افراہیم کو اپنے کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر بولی تو نوف سر اٹھاکر ناراضگی سے افراہیم کی طرف دیکھنے لگی

“ہونا کیا ہے میں نے اس کو چند منٹ پہلے پرپوز کیا تھا بس اسی بات پر رونے لگ گئی اور یہاں آپ کے پاس آگئی” افراہیم کے بولنے پر کمرے میں موجود تینوں خواتین کا منہ حیرت سے کھل گیا اور تینوں ہی حیرت سے افراہیم کو دیکھنے لگیں

“بس بہت ہوگیا، سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے مجھ کو، آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ میرے بارے میں کچھ بھی کہہ ڈالے اور میں خاموشی سے برداشت کرلوں”
نوف افراہیم کو دیکھ کر غصے میں بولتی ہوئی صوفے سے اٹھ گئی تو اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بیلا بھی اٹھ گئی

“بیٹا اس میں اتنا برا ماننے والی کیا بات ہے چند دن پہلے تم ہی نے تو کہا تھا کہ تم میری خدمت کسی غرض یا صلے کے بدلے میں نہیں کرتی ہو بلکہ مجھے اپنی ماں کی جگہ تصور کرکے کرتی ہو، ایسے ہی ان دو ہفتوں میں تم مجھے بھی بیلا کی طرح عزیز ہوچکی ہو آج میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار افی سے کردیا تھا اور اس نے تمہیں پروپوز کر ڈالا”
نوف کو غصے میں روتا ہوا دیکھ کر نازنین پیار سے اسے سمجھانے لگی مگر نازنین کی بات مکمل ہونے پر وہ کمرے سے باہر نکل گئی، افراہیم نازنین اور بیلا پر نظر ڈال کر خود بھی کمرے سے باہر چلا آیا

“کہاں جارہی ہو یمنہ رکو”
افراہیم نوف کو گھر سے باہر جاتا ہوا دیکھ کر اس کے پیچھے آتا ہوا بولا تو نوف رک کر اسے بولنے لگی

“نہیں رہنا مجھے یہاں پر میں یہ جاب چھوڑ کر جارہی ہوں”
نوف افراہیم کو بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تبھی افراہیم نے غصے میں نوف کا بازو پکڑا

“دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے تمہارا، ایسا کیا برا لگ گیا تمہیں جو تم یہ گھر چھوڑ کر جارہی ہو، پرپوز والی بات مذاق میں نہیں بولی تھی میں نے،، میں واقعی میں تم سے شادی”
افراہیم کے کچھ بولنے سے پہلے نوف اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتی ہوئی بولی

“آگے ایک لفظ بھی مت بھولیے گا افراہیم مجھے نہیں رہنا یہاں،، جانا چاہتی ہوں میں اس گھر سے”
اگر نازنین اور افراہیم سچ میں ایسا چاہتے تھے تو نوف کو لگا کہ اسے پہلی فرصت میں یہاں سے چلے جانا چاہیے مگر نوف کی بات سن کر غصے میں دوبارہ افراہیم نے نوف کا بازو سختی سے پکڑا

“تم یہ صلہ دے رہی ہو مما کی محبت اور خلوص کا۔۔۔ جاکر دکھاؤ تم اس گھر سے میں تمہاری ٹانگیں توڑ ڈالوں گا”
افراہیم کو واقعی اس پر شدید غصہ آیا تھا جبھی وہ نوف کو دھمکی دیتا ہوا بولا

“میں آپ کے گھر میں جاب کرتی ہوں آپ کی خریدی ہوئی کوئی غلام نہیں ہوں جو آپ میری ٹانگیں توڑ ڈالیں گے،،، پلیز اب مجھے مت روکیے گا اور نہ ہی میرے راستے میں آئیے گا”
نوف افراہیم کو بولتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی


جاری ہے