No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
آج صبح بیدار ہونے کے بعد اسے ازلان کی بات پر غصہ آیا تھا جب ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اس نے باہر جانے کے لیے پر تولے تھے اور ساتھ ہی بیلا سے عجیب و غریب فرمائش بھی کی
“کیا مطلب ہے تمہاری بات کا، مجھے تو تمہاری بات سرے سے ہی سمجھ نہیں آئی ازلان یعنی تم یہاں خود اکیلے گھومنے کے لیے اور مجھے یہاں فیضی کے ساتھ گھومانے کے لیے لاۓ ہو”
بیلا ازلان کی بات سن کر بگڑتی ہوئی بولی
“کیا فضول بول رہی ہو تم، مجھے یہاں گھومنے پھرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ کسی اسائینمنٹ کے لیے بھیجا گیا ہے بتایا تو تھا میں نے کل رات تمہیں”
ازلان بیلا کی بات پر اس کو تحمل سے سمجھاتا ہوا بولا
“ہاں تو تم اپنا اسائینمنٹ مکمل کرو ناں اس میں مجھے کیوں گھسیٹ رہے ہو بس مجھے کہیں نہیں جانا فیضی کے ساتھ”
بیلا ازلان کو بولتی ہوئی صوفے پر جا بیٹھی ازلان چلتا ہوا اس کے پاس آیا
“اب میری بات کو غور سے سنو بیلا۔۔۔ جیسا میں نے تمہیں بولا ہے تم بالکل ویسا کرو گی ٹھیک شام کے 5 بجے تم ہوٹل کے روم سے باہر نکل کر ہوٹل کے سامنے کافی شاپ پر پہنچوں گی،، جہاں فیضی پہلے سے موجود ہوگا یا تھوڑی دیر بعد وہ اس کافی شاپ پر پہنچے گا،، تم اس سے کوئی بھی سوال جواب نہیں کروں گی وہ جیسا بولے گا تم ویسے ہی کروں گی اوکے”
ازلان ایک بار پھر بیلا کو سب کچھ سمجھاتا ہوا بولا اور ہوٹل کے کمرے سے باہر نکل گیا
وہ اس وقت ہوٹل کے سامنے چھوٹے سے کافی شاپ میں بیٹھی ہوئی فیضی کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ ایسے ہی فضول میں بیٹھ کر اسے اسے فیضی کا انتظار کرنا عجیب لگ رہا تھا تب ہی اس نے اپنے لیے کافی منگوالی، کافی پیتے ہوۓ وہ کل رات والا واقعہ سوچنے لگی
جب اچانک ہوٹل کے روم کے دروازے پر دستک سے وہ خوفزدہ ہوگئی تھی کیوکہ پچھلے بیس منٹ سے اس آدمی کی لاش ویسے ہی بیڈ پر پڑی ہوئی تھی
ازلان کے دروازہ کھولنے پر فیضی کے ساتھ ایک اور لڑکا وہیل چئیر لے کر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ یونیفارم سے وہ لڑکا اسی ہوٹل کا ویٹر لگ رہا تھا جو بیڈ پر موجود لاش کو اس نے وہیل چیئر پر بٹھا رہا تھا جبکہ ازلان فیضی کے ساتھ کمرے کے کونے میں کھڑا ہلکی آواز میں اسے کچھ بتارہا تھا
بیلا صوفے کے اوپر دونوں پاؤں جوڑے بیٹھی ساری کاروائی خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ ویٹر اور فیضی اس آدمی کی لاش کو کمرے سے لے کر چلے گئے، تب ازلان نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ اسے بتایا کہ وہ دونوں تھوڑی دیر میں اس ہوٹل کے روم سے چیک آؤٹ کرنے والے ہیں۔۔۔ اس وقت ازلان بیلا کو کسی چھوٹے بچے کی طرح ٹریٹ کررہا تھا کیوکہ وہ کافی زیادہ خوفزدہ تھی۔۔۔ تب ازلان اپنا اور بیلا کا سارا سامان بیگ میں ڈال کر اس ہوٹل سے دوسرے ہوٹل میں شفٹ ہوگیا تھا
“چلئے میم، ازلان سر آپ کا ویٹ کررہے ہیں”
بیلا اپنے خیالات سے نکل کر اپنے آپ سے مخاطب ہونے والے انسان کو دیکھنے لگی
فیضی انجان بنا ہوا اس کے ٹیبل کے پاس کھڑا ہوا بیلا سے بولا، بیلا اسے کوئی جواب دئیے بناء کرسی سے اٹھ گئی۔۔۔ فیضی کافی شاپ سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھا تو بیلا کو بھی اس کی دیکھا دیکھی اسی گاڑی میں بیٹھنا پڑا مگر وہ فرنٹ سیٹ کی بجائے بیک سیٹ پر بیٹھ گئی تو فیضی نے کار اسٹارٹ کردی
پچھلے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد گاڑی ایک سنسان جگہ پر رکی جہاں دور دور تک آبادی کا نام و نشان نہیں تھا ایک گنجان علاقے میں صرف ایک بلڈنگ موجود تھی، کار کے رکنے پر بیلا فیضی کو دیکھنے لگی جو کار سے نیچے اتر کر بیلا کی طرف کا سائیڈ ڈور کھولتا ہوا اسے بلڈنگ کی طرف چلنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔
یہ بلڈنگ کیونکہ انڈر کنسٹرکشن تھی اس لیے سیڑھیوں پر کافی اندھیرا تھا فلیش لائٹ کی مدد سے بیلا فیضی کے پیچھے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی مگر اندر ہی اندر کہیں اسے انجانے خوف نے گھیرا ہوا تھا آجر ازلان نے اسے ایسی عجیب و غریب جگہ پر کیو بلوایا تھا
“مجھے آپ کو یہاں تک پہنچانے کا آرڈر ملا ہے، اس دروازے سے اندر آپ کو خود جانا ہوگا”
فیضی کی بات سن کر بیلا کنفیوز ہوکر اس بند دروازے کو دیکھنے لگی نیچے والے فلور کے برعکس بلڈنگ کا یہ حصہ روشن تھا اور دیکھنے میں محسوس ہورہا تھا کہ یہ حصہ زیر استعمال بھی ہے۔۔۔ بیلا نے دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا جو بڑا سا ہال نما سا کمرا تھا
“کک کون ہے وہاں۔۔۔ ازلان”
سامنے بڑے سے ٹیبل کے ساتھ چیئر پر کوئی بیٹھا ہوا تھا مگر اس چیئر کا رخ اس کے مخالف سمت دیوار کی طرف تھا بیلا کو صرف کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کے بال نظر آرہے تھے ہوئی۔۔۔۔ جواب نہ ملنے کی صورت میں بیلا کو چل کر اس کرسی کے پاس آنا پڑا
“بی لا”
کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھ کر پہلے تو اس کی آنکھیں خوف کے مارے بری طرح پھیلی۔۔۔ اصفر نے ٹوٹے ہوئے لفظوں کے ساتھ اس کا نام پکار کر اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھانا چاہا تو بیلا دہشت کے مارے زور سے چیخ مارتی ہوئی حواس باختہ ہوکر دروازے کی طرف بھاگی
اپنے سامنے کھڑے شخص کو وہ بالکل بھی نہیں جانتی تھی مگر کسی اجنبی کے منہ سے اپنا اصلی نام سننا اس کے لئے خطرے کی علامت ثابت ہوسکتا تھا کیونکہ نوف جہاں سے فرار ہوکر آئی تھی یعنی روبی اس کا اصلی نام جانتی تھی۔۔۔ نوف کی قسمت اچھی تھی اس شخص نے جیسے ہی نوف کو اس کے اصلی نام سے پکارا ویسے ہی اس شاپ میں موجود دوسرا کسٹمر اس شخص سے بری طرح ٹکرا گیا۔۔۔ جس کے نتیجے میں اس کسٹمر کے ہاتھ میں موجود سامان نیچے فرش پر گر گیا۔۔۔ اس شخص کی توجہ نوف کی جانب سے جیسے ہی ہٹی، تو نوف نے اس بات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے فرار ہونے کی ٹھانی
اس شخص نے نوف کو تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر فلور پر جاتا ہوا دیکھا تو وہ خود بھی نوف کے پیچھے بھاگا
نوف گھبراہٹ میں مال سے باہر نکلنے کی بجائے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر فلور پر پہنچی،، نوف نے اس شخص کو بھی اپنے پیچھے آتا ہوا دیکھ لیا تھا۔۔۔ نہ جانے افراہیم اس کو کیوں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا اوپر فلور بالکل سنسان تھا وہاں موجود تمام شاپ کے شرٹس بند تھے نوف کو رونا آنے لگا
“نوف میری بات سنو”
وہ شخص نوف کے قریب آتا ہوا اسے بولا
“دیکھو میرے قریب مت آنا مجھے یہاں سے جانے دو”
نوف اس شخص کو اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر گھبراتی ہوئی بولی
“تم پریشان مت ہو نہ ہی تمہیں مجھ سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گا بلکہ میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں”
وہ شخص بولتا ہوا نوف کے قریب بڑھ رہا تھا ساتھ ہی اس نے اپنی پاکٹ کی طرف ہاتھ بڑھا کر کچھ نکلنا چاہا
“میں کہتی ہوں وہی رک جاؤ ورنہ میں نیچے چھلانگ لگا دو گی”
وہ شخص نوف کو کوئی پراسرار لگا جبھی نوف اسے دھمکی دیتی ہوئی بولی مگر اس لمحے اس کی جان میں جان آگئی جب نوف نے سامنے سے افراہیم کو آتا ہوا دیکھا، وہ اس شخص کی توجہ افراہیم کی طرف نہیں دلانا چاہتی تھی اس لئے اس نے اپنے چہرے کے تاثرات ویسے ہی رکھے
“تمہارے یہاں سے چھلانگ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، میں تمہیں تمہارے۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ شخص اپنا جملا مکمل کرتا افراہیم نے ہاتھ میں موجود روڈ اس کے سر پر ماری۔۔۔ وہ شخص پلٹ کر افراہیم کو دیکھ بھی نہیں پایا، آنکھوں کے آگے چھاۓ اندھیرے کی وجہ سے وہ بےہوش ہوکر زمین پر گر پڑا
“افراہیم”
نوف روتی ہوئی افراہیم کے سینے سے لگی،،، آج اگر افراہیم وقت پر نہ آتا تو وہ نہ جانے کہاں ہوتی نوف خوف سے سوچنے لگی
“کون ہے یہ اور تم اس سے اتنا ڈر کیو رہی تھی”
افراہیم نوف کو پریشان دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا،، جب وہ سارے شاپرز گاڑی میں رکھ کر نوف کے پاس شاپ پر پہنچا تو افراہیم کو شاپ کیپر سے معلوم ہوا اس نے نوف کو سیڑھیوں سے اوپر جاتا دیکھا تھا، اسی شاپ کیپر نے افراہیم کو بتایا اسی لڑکی کے پیچھے ایک لڑکا بھی سیڑھوں سے اوپر گیا تھا۔۔۔ افراہیم وقت ضائع کیے بغیر سیڑھیوں سے اوپر پہنچا سیڑھی پر موجود سریوں میں سے ایک سریہ اٹھایا۔۔۔ اس آدمی کو نوف کے قریب آتا دیکھ کر اور نوف کو گھبراتا ہوا دیکھ کر افراہیم نے بناء کوئی اس آدمی سے بات کیے اس کے سر پر وار کردیا
“میں نہیں جانتی اسے، لیکن اگر آپ یہاں پر نہیں پہنچتے تو یہ آدمی مجھے اپنے ساتھ لے جاتا”
نوف ڈرتی ہوئی افراہیم سے بولی،، افراہیم نے اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا مضبوط کیا
“افراہیم عباد کی بیوی ہو تم، سڑک پر پڑا ہوا کوئی مفت کا مال نہیں جو ایسے ہی تمہیں کوئی اپنے ساتھ اٹھاکر لے جاۓ گا۔۔۔ چلو یہاں سے باقی کی شاپنگ بعد میں کرلیں گے نوری کی کال آگئی ہے مما جاگ چکی ہیں پہلے سے اب بہتر ہے ان کی طبیعت”
افراہیم نوف کو بولتا ہوا بےہوش پڑے اس آدمی پر نظر ڈال کر نوف کو وہاں سے لےکر جانے لگا
نوف افراہیم کا بازو مضبوطی سے پکڑے ایسے اس کے ساتھ چل رہی تھی جیسے کوئی اس کو تنہا یا مجبور لڑکی سمجھ کر دوبارہ اس کے پاس نہ آجائے،،، وہ اس وقت مال میں موجود ہر فرد پر یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی وہ اکیلی ہرگز نہیں تھی اس کا محافظ اس کے ساتھ تھا
“ریلکس ہو جاؤ یمنہ اب ہم اپنے گھر جارہے ہیں”
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے مگر اس کے باوجود نوف کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں رقصاں تھی تبھی افراہیم گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا اسے دیکھ کر بولا
“میں نے بہت بڑی غلطی کردی آج گھر سے باہر نکل کر اب میں کبھی بھی کہیں نہیں جاؤں گی، افراہیم پلیز آپ مجھے اب کبھی بھی کہیں مت لےکر جائیے گا”
وہ اس وقت بےحد ڈری ہوئی تھی،، آج کتنے دن گزرنے کے بعد وہ گھر سے باہر نکلی تھی اور ویسے ہی اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا،، اب تو گھر سے باہر نکلنے سے اسے ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔ اگر اس کے ساتھ کچھ ہوجاتا اگر افراہیم بروقت اس کے پاس نہیں پہنچتا تو وہ کیا کرتی۔۔۔ افراہیم کا گھر ہی اس کی اصل پناہ گاہ تھی جہاں وہ سکون سے محفوظ رہ سکتی تھی
“کیا ہوگیا ہے یار ایسا تو ممکن نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ساتھ کہیں گھر سے باہر ہی نہ نکلیں۔۔۔ اس دنیا میں گھٹیا قسم کے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں جو لڑکیوں کو اکیلا دیکھ کر اپنی اوقات دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اپنے آپ کو گھر میں قید کرلو۔۔۔ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ تمہیں کیا لگتا ہے میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط کرسکتا ہے”
افراہیم نوف کو سمجھاتا ہوا بولا تو وہ خاموش رہی
ایک بار وہ گھر سے بھاگی تھی تب اس کو ازلان کا موبائل نمبر زبانی یاد نہیں تھا جس کا خمیازہ اس نے کیسے برداشت کیا تھا وہ اب تک اپنے بھائی کی صورت نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔ شاید اب اس کو افراہیم کا نمبر زبانی یاد کرلینا چاہیے تھا بےشک افراہیم کہہ رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہے مگر برے وقت کا کچھ بھروسہ نہیں ہوتا،، وہ اپنی سوچوں میں جانے کہاں سے کہاں نکل گئی تھی یہاں تک کہ افراہیم کے ہاتھ کا لمس وہ اپنے ہاتھ پر محسوس بھی نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔ افراہیم اس کے خوف کو سمجھ گیا تھا اسے معلوم تھا اب جب تک گھر نہیں آجاتا وہ اسی طرح بےچین اور پریشان رہے گی
اصفر کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ اتنی بری طرح خوفزدہ تھی کہ چیختی ہوئی دروازے کی جانب بھاگی مگر اس کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے دروازے کے سامنے کھڑے شخص سے وہ بری طرح ٹکرائی
“بیلا سنبھالو خود کو میں یہی ہوں تمہارے پاس”
بیلا کا پورا وجود خوف سے بری طرح کانپ رہا تھا ازلان سے اپنے حصار میں لیتا ہوا بیلا سے بولا
“ازلان وہ بھی یہی موجود ہے پلیز مجھے یہاں سے لے چلو”
بیلا نے اصفر کو دوبارہ پلٹ کر نہیں دیکھا وہ خوف کے مارے ازلان کے سینے میں چہرہ چھپاتی ہوئی بولی تو ازلان نے اس کا چہرا تھام کر اونچا کیا جو اس وقت پسینے سے شرابور ہوچکا تھا
“میں نے تم سے کہاں تھا ناں تمہارے ساتھ اب کوئی بھی شخص کچھ غلط نہیں کرسکتا، میرے ہوتے ہوئے کوئی تم پر بری نظر نہیں رکھ سکتا”
وہ بیلا کا خوف سے زرد پڑتا چہرہ دیکھ کر دوبارہ بولا پھر ایک نظر اس نے اصفر پر ڈالی جو اپنے وجود کو ہاتھوں کی مدد سے زمین پر گھسیٹتا ہوا انہی کے پاس آرہا تھا کیونکہ ازلان نے اس کے دونوں پاؤں کو اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ زمین پر اپنے پیروں سے چل پاتا
“کیوں بلایا ہے تم نے مجھے یہاں پر”
بیلا ڈر کے مارے اس وقت ازلان سے چپک کر کھڑی تھی ازلان نے اسے مکمل اپنے حصار میں لیا ہوا تھا وہ ازلان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“تاکہ آج تم اپنی آنکھوں کے سامنے اس غلیظ آدمی کا انجام دیکھ سکو، جس نے دس سال پہلے تمہیں اذیت پہنچائی تھی جس کی وجہ سے تم آج بھی وہ سب یاد کرکے تکلیف میں مبتلا ہوجاتی ہو”
ازلان کے بولنے پر بیلا ہمت کرتی ہوئی اصفر کو دیکھنے لگی جو زمین پر رینگتا ہوا اسی کی جانب آرہا تھا وہ ایک بار پھر ازلان کے سینے سے لگ کر رونے لگی
“مجھے کچھ نہیں دیکھنا ازلان، اس وقت میری حالت کو سمجھو۔۔۔ میں واپس جانا چاہتی ہوں پلیز مجھے یہاں سے لے چلو”
بیلا روتی ہوئی ازلان سے بولنے لگی
“بےلا۔۔۔ مم مجھے ما۔۔۔ معاف کر دو”
بیلا کو اپنے قریب سے اس اصفر کی آواز سنائی دی ساتھ ہی وہ تکلیف سے کراہ بھی رہا تھا۔۔۔ اس کے پیروں سے بہتے ہوئے خون کی وجہ سے زمین پر خون سے ایک لمبی لکیر سی بن گئی تھی
“تم مجھے معاف نہیں کرو گی تو یہ مجھے مار ڈالے گا، اس نے میرے دونوں پاؤں بےکار کر ڈالے ہیں پلیز میری حالت دیکھو ترس کھاؤ مجھ پر”
اصفر نے معافی مانگتے ہوئے بیلا کے پاؤں پکڑنے چاہے تو وہ ڈر کے مارے تیزی سے پیچھے ہوئی جبکہ ازلان نے جھک کر اصفر کا سر بالوں سے پکڑ کر چہرہ اونچا کیا
“تمہیں اس وقت 9 سال کی بچی پر ترس آیا تھا جب تم جانور بنے ہوئے بےرحمی کے ساتھ اس کے ساتھ جانوروں سے بھی برا سلوک کررہے تھے،، اپنی حوس کا نشانہ بناتے وقت اس کی حالت پر رحم آیا تھا تمہیں بلکہ تم نے اس کی جان لینی چاہی تاکہ یہ تمہارا غلیظ اور مکروہ چہرا دنیا کو نہ دکھا سکے۔۔۔ تم تو اسی قابل ہو کہ تم سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جائے”
ازلان نے بولتے ہوئے زور سے اس کا سر زمین پر مارا اور خود ٹیبل کی طرف بڑھا جبکہ بیلا ایک طرف پلر کے ساتھ کھڑی ہوئی سسک رہی تھی
“بیلا تم اسے کہہ دو یہ مجھے چھوڑ دے،، ورنہ یہ مار ڈالے گا مجھے۔۔۔ اس نے مجھ سے کہا تھا اگر بیلا نے تمہیں معاف کردیا تو یہ میری جان بخش دے گا تم خدارا مجھے معاف کردو”
ازلان رسی کی مدد سے اصفر کے ہاتھ پاؤں باندھنے کے بعد اب رسی اس کے گلے میں ڈال رہا تھا تب اصفر بیلا کو دیکھ کر گڑگڑاتا ہوا بولا
“اس کو چھوڑ دو ازلان یہ اپنے گناہ پر نادم ہے”
اصفر کو روتا گڑگڑاتا ہوا دیکھ کر اور ازلان کو غصے میں دیکھ کر بیلا ازلان سے بولی تو ازلان بیلا کو غصے سے دیکھنے لگا
“بھول گئی ہو اس اذیت کو جو اس نے تمہیں پہنچائی تھی،، اتنی آسانی سے معاف کردو گی تم اس بےغیرت آدمی کو”
ازلان بیلا کی بات سن کر غصے میں اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ بیلا کی بات سن کر شاید اب اسے بیلا پر بھی غصہ آرہا تھا۔۔۔
بیلا ازلان کی بات پر خاموش رہی تو وہ اصفر کو رسی کی مدد سے کسی جانور کی طرح کھینچتا ہوا اس دیوار تک لایا جس دیوار پر ایک نوکدار سریا باہر کی طرف نکلا ہوا تھا ازلان اصفر کے گلے میں بندھی ہوئی رسی اس سریہ سے سے باندھنے لگا
“مجھے معاف کردو بیلا اسے کہہ دو یہ مجھے چھوڑ دے میں مر جاؤں گا”
اصفر نے روتے ہوئے زور زور سے چیخنا شروع کردیا
“ازلان میں نے اس کو معاف کردیا ہے چھوڑ دو اس کو پلیز”
بیلا خود بھی گھبراتی ہوئی ڈرتی ہوئی ازلان سے بولی
“تم نے اس کو معاف کردیا مگر میں نے اس کو معاف نہیں کیا۔۔۔ اس نے ڈی این اے کی جعلی رپورٹ بنوائی اس رات ذلیل حرکت اس نے کی، جس کا الزام میرے اوپر آیا میرا باپ یہی سمجھ کے مر گیا کہ اس کا بیٹا زانی ہے اس کی وجہ سے مجھے چند ماہ جیل میں کس اذیت سے گزرنا پڑا یہ صرف ہی جانتا ہوں۔۔۔ آج اگر میں اپنی ماں اور بہن کے پاس ہوتا تو میری ماں یوں صدمے سے نہ مرتی، میری بہن اپنی عزت بچانے کی خاطر جانے کہاں در در بھٹک رہی ہوگی۔۔۔ اس کی جھوٹی بنائی گئی رپورٹ سے میرے اوپر الزام سچ ثابت ہوگیا۔۔ اس کی وجہ سے میرے گھر کا شیرازہ بکھر گیا اس کو میں قیامت کے دن بھی نہیں بخشوں گا”
ازلان نے جنونی انداز میں بولتے ہوئے اصفر کے گلے میں ڈالی ہوئی رسی اس سریے سے زیادہ اونچی نہیں باندھی تھی اصفر کے دونوں پاؤں زمین کو چھو رہے تھے۔۔۔ ازلان نے ٹیبل کے نیچے سے وہی لکڑی کا موٹا سا ڈنڈا اٹھایا جس پر چاروں طرف نوک دار کیلے لگی ہوئی تھی اسی ڈنڈے سے اس نے تھوڑی دیر پہلے اصفر کے دونوں پاؤں بری طرح زخمی کیے تھے۔۔۔ وہ ڈنڈا دوبارہ ازلان کے ہاتھ میں دیکھ کر اصفر خوفزدہ ہوکر مذید بری طرح رونے لگا
“اب اگر تمہارے دونوں پاؤں اس زمین پر ٹچ ہوئے تو میں تمہارا بہت برا حشر کروں گا”
ازلان نے ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈا پکڑے ہوۓ اصفر کو دھمکی دی لیکن اگر وہ اپنے پاؤں اوپر کرتا تو رسی سے باندھا ہوا اس کا گلا گھٹنے لگتا پاؤں نیچے کرنے کی صورت میں ازلان نے اس کے دونوں پاؤں پر ڈنڈے برسانا شروع کردیے جس سے اصفر کی دردناک چیخیں پوری عمارت میں گونجنے لگی
وہ درد سے تڑپتا ہوا ازلان سے معافی مانگ رہا تھا لیکن اس وقت ازلان بےرحم بنا ہوا اس کے دونوں پاؤں پر ڈنڈے مار رہا تھا۔۔۔ اصفر کی چیخوں کے ساتھ بیلا کے رونے کی آواز بھی کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپاکر بری طرح رو رہی تھی۔۔۔ اصفر زیادہ دیر تک تکلیف برداشت نہیں کر پایا تھا اس کی گردن آگے کی طرف مکمل طور پر جھک چکی تھی اور جسم بےجان ہوچکا تھا اب کمرے میں صرف بیلا کے رونے کی آواز گونج رہی تھی
جاری ہے
