No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
روحیل کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو ایک خالی کمرے میں موجود پایا جہاں میز کے سامنے خالی کرسی موجود تھی جبکہ دوسری کرسی پر وہ خود بیٹھا ہوا تھا اور اس کے دونوں ہاتھوں کو رسی سے مضبوطی سے باندھا گیا تھا اسے یاد پڑتا تھا کہ وہ آج صبح ائیرپورٹ جانے کے لیے اپنی گاڑی میں گھر سے باہر نکلا تھا… مگر گاڑی راستے میں خراب ہونے کی وجہ سے اسے ٹیکسی کرنا پڑی اور اچانک بیچ راستے میں ٹیکسی رکی اور ایک اجنبی شخص اس ٹیکسی میں بیٹھا اس سے پہلے روحیل اس شخص سے کوئی بات کرتا اس شخص نے روحیل کی گردن میں ایک انجکشن گھونپ دیا جس کے بعد روحیل کو اب ہوش آیا تھا
“کک۔۔۔ کون ہو تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو”
روحیل ہوش میں آنے کے بعد ستائیس اٹھائیس سالہ اس شخص سے پوچھنے لگا جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔وہ شخص چلتا ہوا روحیل کے پاس آیا اور اس کی کرسی کا رخ اپنی سمت کرتا ہوا اپنی پاکٹ سے موبائل نکالنے لگا
“یہ لڑکی اس وقت کہاں موجود ہے”
وہ شخص اپنے موبائل کی اسکرین روحیل کے سامنے کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔روحیل اس لڑکی کو پہچان چکا تھا جو چند دن پہلے روبی نے اس کے فلیٹ پر بھیجی تھی، مگر وہ انجان بنتا ہوا اس شخص سے بولا
“کون ہے یہ لڑکی مجھے کیا معلوم میں اسے پہلی بار دیکھ رہا ہوں”
روحیل کی بات سن کر اس شخص نے موبائل ٹیبل پر رکھا اور اچانک ہی روحیل کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا۔۔۔۔ منہ پر پڑنے والے تھپڑ کی شدت سے نہ صرف روحیل بلبلا اٹھا بلکہ اس کی کرسی کا بھی توازن برقرار نہیں رہ سکا کرسی سے ہاتھ باندھے ہونے کی وجہ سے روحیل کرسی سمیت زمین پر گر گیا
“تمہارا جواب آپ بھی یہی ہے کیا تم واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتے”
وہ شخص جھک کر روحیل کے بالوں کو پکڑتا ہوا اس کا چہرہ اوپر کر کے ایک بار پھر پوچھنے لگا
“مم، میں سچ بول رہا ہوں میں واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتا”
روحیل کا جواب سن کر اس شخص نے روحیل کے بالوں کو یونہی اپنے ہاتھ کی مٹھی میں جکڑ کر، بالوں کے زور سے کرسی کو اٹھایا اور واپس اسی جگہ پر کھڑا کیا جس سے روحیل کے منہ سے دردناک چیخیں نکل پڑی
“میری معلومات کے مطابق تم نے اس لڑکی کو ایک رات کے لیے ہائیر کیا تھا اس کے بعد سے یہ لڑکی کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ہے، اس لڑکی کو تم نے جہاں کہیں بھی چھپایا ہوا ہے اگر تم نے مجھے نہیں بتایا تو روحیل میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتا ہوں اگر تمہیں معلوم ہوجائے تو تم اس اذیت کو سہنے سے بہتر مرنا پسند کرو گے جواب دو کہاں ہے یہ لڑکی اس وقت”
وہ شخص غصے میں روحیل کو دیکھتا ہوا ایک بار پھر پوچھنے لگا، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کہا جائے، کیا کرے، کیسے اس کو کہیں سے ڈھونڈ نکالے، اس وقت اس کی بےبسی آسمانوں کو چھو رہی تھی۔۔۔۔ روحیل کے خاموش رہنے پر اس شخص نے ایک بار پھر روحیل کے منہ پر پوری طاقت سے طمانچہ مارا، روحیل ایک بار پھر کرسی سمیت زمین پر جاگرا
“پلیز مجھے چھوڑ دو، میں واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتا”
اب کی بار والا تھپڑ پہلے سے بھی زیادہ شدت کا تھا جس سے روحیل کے گال کے ساتھ اس کا کان بھی سرخ ہوگیا اور ناک سے خون بہنے لگا
“اس لڑکی کو اور ان دو بچوں کو تم جانتے ہو ناں”
وہ شخص ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا کر ایک بار پھر جھک کر روحیل کے چہرے کے آگے موبائل کی اسکرین کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ روحیل نے اب کی بار اسکرین کی طرف دیکھا
“حرا”
بے ساختہ اس کے منہ سے اپنی بیوی کا نام نکلا وہ تصویر اس کی بیوی اور دونوں بچوں کی تھی
“چند دنوں پہلے روبی نے اس لڑکی کو میرے فلیٹ پر بھیجا تھا میں نے اس لڑکی کے لیے روبی کو پانچ لاکھ روپے ایک رات کے لیے دیئے تھے۔۔۔ مگر یہ لڑکی اس رات میرے فلیٹ سے فرار ہوگئی تھی روبی خود بھی اس لڑکی کی تلاش میں ہے۔۔۔ میں اپنے بچوں کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں میں نے اس رات اس لڑکی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تھا اور نہ ہی یہ جانتا ہو کہ یہ لڑکی اور اس وقت آپ کہاں پر ہے، میرا یقین کرو میں اب کی بار بالکل سچ بول رہا ہوں پلیز میری بیوی اور بچوں کو کچھ مت کرنا”
روحیل بولتا ہوا بےبسی سے دھاڑے مار کر زوروں سے رو پڑا تو وہ شخص کمرے سے باہر نکل کر دوسرے کمرے میں آگیا
اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے صوفے پر بیٹھا ہوا اس کا اپنا بھی دل کیا کہ وہ روحیل کی طرح دھاڑے مار کر زور زور سے روئے نجانے وہ اس وقت کہاں تھی، کس حال میں تھی۔۔۔
جب اس کو معلوم ہوا تھا کہ وہ روبی کے ہاتھ لگ گئی ہے جو سوسائٹی میں ایک نائیکہ کی حیثی رکھتی ہے تو ایک پل کے لئے اسے محسوس ہوا تھا جیسے اس کے جسم سے روح کھینچ لی گئی ہو۔۔۔ روبی کے ٹھکانے پر پہنچ کر اس نے ایک ایک لڑکی میں اس کو تلاشا مگر وہ ان لڑکیوں میں موجود نہیں تھی تب اسے روحیل کا معلوم ہوا مگر یہاں بھی اس کا پتہ نہیں چل سکا۔۔۔ وہ اس بھری دنیا میں بالکل اکیلا ہوگیا تھا ان دنوں وہ جس اذیت سے گزر رہا تھا اس کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگا سکتا تھا مگر اسے ہمت سے کام لینا تھا اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کو گالوں پر اترنے سے پہلے صاف کرتا ہوا وہ صوفے سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا
“اے باگڑ بلے یہ جلدی جلدی میں کہاں جا رہے ہو ذرا میری کچھ مدد ہی کر دو”
ازلان اپنی دھن میں ٹیوشن پڑھانے کے بعد گھر کی طرف جا رہا تھا گل کی آواز سن کر پلٹ کر اسے دیکھنے لگا جو بہت سارے شاپرز ہاتھ میں پکڑی مشکلوں سے ہی خود کو سنبھال پا رہی تھی ازلان نے آگے بڑھ کر سارے شاپرز اس کے ہاتھ سے لے لئے
“ارے سارے شاپرز کہا سنبھالو گے دو تین مجھے بھی پکڑا دو”
غزل نے آج اس سے پورے ماہ کا راشن منگوا لیا تھا اس لئے وہ کافی دور سے پیدل اتنا وزن اٹھاۓ ہانپتی ہوئی آرہی تھی مگر ازلان کو سارے شوپرز پکڑتا ہوا دیکھ کر گل ایک دم سے بولی
“تم اپنا دوپٹہ اور بالوں کی اڑتی ہوئی لٹو کو سنبھال لو یہی کافی ہے تمہارے لیے۔۔۔ ویسے چچی جان یہ کام عدنان سے بھی کہہ سکتی تھیں کیا چچا جان بھی گھر پر موجود نہیں تھے”
ازلان اس کے گلے میں پڑے دوپٹے اور بالوں کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھ کر گل کے ساتھ چلتا ہوا اس سے عدنان اور نثار کا پوچھنے لگا
“عدی سے اس کام کے کہنے کا مطلب ہے ان پیسوں سے ہاتھ دھونا اور ابا کو تو تم بھی اچھی طرح جانتے ہو۔۔۔ ویسے آج کل تم خود کہاں ہواؤں میں اڑے اڑے پھر رہے ہو اب مجھ کو ابا کی طرح ٹوپیاں کروانے نہ بیٹھ جانا تمہارے اوپر پوری نظر رکھی ہوئی ہے میں نے”
گل اپنی چھوٹی چھوٹی سی آنکھوں کو مزید چھوٹا کرتی ہوئی مشکوک نظروں سے ازلان کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے تمہارا کچھ بھی بولے جا رہی ہو تم۔۔۔۔ گل وہ چھوٹی بچی ہے نوف کے برابر، یہاں اس کا کوئی دوست نہیں ہے اس لیے وہ مجھ سے تھوڑا سا ٹائم مانگتی ہے مگر جو بات تم سوچ رہی ہو مجھے تمہاری سوچ جان کر کافی افسوس ہوا ہے”
ازلان اچھی طرح جانتا گل کا اشارہ بیلا کی طرف تھا کل جب وہ بیلا کے ساتھ قریبی پارک میں واک کر رہا تھا تب گل جس طرح سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ازلان سمجھ گیا وہ پورے محلے میں بلاوجہ کی بات پھیلا کر صرف بات کا بتنگڑ بنائے گی اس وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ گل کو وضاحت دیتا ہوا بولا
“نوف کے برابر ہونے کی وجہ سے وہ تمہاری بہن نہیں لگی، چھوٹی ہے تو کیا ہوا نوف بھی تو عدی سے پورے نو سال چھوٹی ہے۔۔۔ مجھے تو پوری فتنہ ہی لگتی ہے وہ سنہری بالوں والی، اے باگڑ بلے بات اگر دل لگی تک ہے پھر تو ٹھیک ہے مگر اس فتنے کو دل سے لگا کر مت بیٹھ جانا ورنہ میں تمہیں اس کے لیے کبھی معاف نہیں کرو گی”
گل ازلان پر پورا حق جتاتی ہوئی بولی اس کی بات سن کر ازلان گھر کے پاس رکتا ہوا غصے میں گل کو دیکھنے لگا
“گل میں تمہیں پہلے بھی صاف لفظوں میں بول چکا ہو ہمارے بڑوں میں جو بھی بات ہمیں لے کر بچپن میں طے ہو چکی ہے، میں اس بات کو رتی برابر بھی سنجیدہ نہیں لیتا۔۔۔ نہ اپنے لیے نہ ہی اپنی بہن کے لیے اور تمہارے لئے بھی یہی بہتر ہے کہ تم بلاوجہ کا فتور اپنے دماغ میں مت پالو”
کئی دفعہ پہلے بھی بولی ہوئی بات ازلان آج ایک بار پھر گل کو بولتا ہوا سارے شاپرز اس کو پکڑا چکا تھا کیونکہ اب ان دونوں کا کوارٹر آچکا تھا جبکہ ازلان کی توجہ کوارٹر کی دیوار کے ساتھ بنے بنگلے پر تھی جہاں گیٹ پر بیلا کھڑی ہوئی خاموشی سے گل اور ازلان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ازلان بیلا کو دیکھ کر اس کی طرف جانے لگا،، گل ازلان کو بیلا کی طرف متوجہ دیکھ کر اندر ہی اندر بری طرح جل گئی
“تم اپنے اور میرے رشتے کو سنجیدہ لو یا نہ لو،،، بڑوں کے آگے کونسی تمہاری چلنے والی ہے اور اپنے علاوہ میں تمہیں کسی دوسرے کا خود بھی نہیں ہونے دوں گی”
گل دل ہی دل میں ازلان سے مخاطب ہوکر سارے شاپرز لیے اپنے کوارٹر کی طرف بڑھ گئی
جبکہ دوسری طرف بیلا نے ازلان کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھا تو وہ ناراضگی کا اظہار کیے گیٹ سے اندر چلی گئی۔۔۔۔ ازلان کو بیلا کے رویۓ پر حیرت ہوئی مگر وہ اس کے پیچھے جانے کی بجائے اپنے کوارٹر کی طرف چلا گیا کیونکہ عباد کے آنے کا ٹائم ہو چکا تھا
“رکو، سنو۔۔۔ ارے میں تم سے بات کر رہا ہوں بیلا”
ازلان جیسے ہی بنگلے کے اندر داخل ہوا لان میں کرسی پر بیٹھی ہوئی بیلا ازلان کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھ کر اندر جانے لگی تبھی ازلان اس کے سامنے آتا ہوا اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا
“کوئی کام تھا کیا تمہیں مجھ سے”
بیلا ازلان کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی تو بےساختہ اس کے انداز پر ازلان کو ہنسی آگئی
“مجھے کم سے کم یہ معلوم ہونا چاہیے کے تم مجھ سے خفا کس بات پر ہوں”
ازلان اپنے دونوں ہاتھ باندھے ہوئے دھوپ میں بیلا کی چمکتی ہوئی رنگت کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ اگر اس کے ذہن میں کیوٹ لفظ آتا تو خودبخود سنہری بالوں والی چھوٹی سی اس لڑکی کی شبیہہ سامنے آجاتی
“کون تھی وہ لڑکی جس کا سامان اٹھائے بڑے مزے سے اس سے باتیں کرتے ہوئے کل شام میں نظر آرہے تھے”
بیلا نے جس انداز میں اس سے پوچھا اب کی بار ازلان نے اس کی بات پر قہقہہ لگایا
“گل کی بات کر رہی ہوں کزن ہے وہ میری، چچا جان کی بیٹی۔۔۔ بیچاری دکان سے سودا لےکر خود ہی گھر کی طرف جارہی تھی تو میں نے اس کی مدد کر دی اس میں خفا ہونے والی کیا بات ہے”
ازلان آنکھیں سکھیڑ کر بیلا کو دیکھتا ہوا اسے پوچھنے لگا لیکن اب وہ ہنس نہیں رہا تھا بلکہ امڈ آنے والی ہنسی کو روکے ہوئے تھا
“خیر بیچاری تو کہیں سے نہیں لگ رہی تھی وہ”
بیلا سر جھکٹ کر بولی۔۔۔ جس طرح گل ازلان کے ساتھ چلتی ہوئی فری ہوکر اس سے بات کر رہی تھی بیلا کو وہ عجیب سی لڑکی ذرا بھی اچھی نہیں لگی تھی جس کا اظہار اس نے ازلان کے سامنے کر دیا
“اس نے کیا بگاڑ دیا ہے تمہارا جو وہ تمہیں پہلی نظر میں بری لگنے لگی، ہاں تھوڑی باتونی ٹائپ کی ہے مگر دل کی بری نہیں ہے وہ”
ازلان ابھی بھی اپنی مسکراہٹ چھپا کر بیلا سے بولنے لگا۔۔۔ بیلا کے یوں بےسبب جیلس ہونے پر ازلان کو ہنسی آرہی تھی چھوٹی عمر میں اکثر بچے اپنے پیرنٹس یا دوستوں کو اپنے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ انوالو دیکھ کر حساس ہو جایا کرتے تھے
“میرا کیا بگاڑ سکتی ہے تمہاری کزن مجھے اس کا یوں بےتکلف ہوکر تم سے بات کرنا بالکل بھی پسند نہیں آیا اور یہ کیا بات ہوئی کہ وہ دل کی بری نہیں ہے۔۔۔ ازلان سچ بتاؤ کیا وہ تمہیں اچھی لگتی ہے”
بیلا حیرت زدہ ہوکر اس سے پوچھنے لگی
“بیلا گل میرے چچا کی بیٹی ہے ہم آپس میں کزن ہیں تو وہ مجھ سے فری ہوکر بات کر سکتی ہے لیکن اس بات کو لےکر تم اتنا خفا کیوں ہو رہی ہو سیریسلی مجھے بالکل بھی سمجھ میں نہیں آ رہا”
ازلان اب بالکل سنجیدہ ہوکر بیلا کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ اسے اس حد تک بیلا کا گل کو لے کر بحث کرنا اب واقعی سمجھ میں نہیں آرہا تھا
“سچی سچی بتاؤ وہ تم کو معلوم نہیں کیسے اسمائل دے کر دیکھ رہ تھی اور باتیں کر رہی تھی مجھے بالکل اچھا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔ تم میرے دوست ہوں مجھے اچھا لگتا ہے جب میں اور تم ایک دوسرے سے فرینک ہوکر بات کرتے ہیں، کوئی دوسرا تم سے فرینک ہوکر بات کرے یا تم کسی دوسرے سے فرینک ہوکر بات کرو تو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا”
بیلا کی معصوم سی لاجک سن کر ازلان مسکرایا
“پاگل ہو تم بالکل، دوستی میں ایسا تھوڑی ہوتا ہے”
ازلان بیلا کے سر پر آہستہ سے چپت لگاکر لان میں آگے بڑھتا ہوا بولا تو بیلا بھی اس کے ساتھ چلتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“کیوں،،، کیوں نہیں ہوسکتا ایسا دوستی میں، ہم دونوں اپنی دوستی ایسے ہی رکھیں گے میرے علاوہ تم کوئی بھی دوست مت بنانا اور نہ میں تمہارے علاوہ کوئی دوست بناؤں گی۔۔۔۔ ہم دونوں اپنی ساری باتیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا کریں گے۔۔۔ میں تمہیں ہمیشہ اپنے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں ازلان”
وہ دونوں لان میں چہل قدمی کر رہے تھے تب بیلا کی آخری بات پر ازلان نے قدم روک کر غور سے اس کو دیکھا تو بیلا بھی رک گئی
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو کیا تمہیں برا لگا میرا ایسا بولنا یہ تم مجھ سے ایسی دوستی نہیں چاہتے”
بیلا ازلان کو دیکھ کر افسوس سے پوچھنے لگی
“جیسے تم دوستی سمجھ رہی ہو وہ دوستی نہیں ہوتی۔۔۔ وہ دوستی سے بڑھ کر شاید کوئی آگے کی منزل ہوتی ہے”
ازلان سنجیدگی سے بولتا ہوا دوبارہ چہل قدمی کرنے لگا کیوکہ اس کے نزدیک ایک لڑکا اور لڑکی کے بیچ ایک حد تک دوستی قائم رہ سکتی تھی
“آگے کی منزل؟؟ اس کا کیا مطلب ہوا”
بیلا خود بھی ازلان کے ساتھ اس کے ہم قدم چلتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی۔۔۔ ازلان اس کا پہلا ایسا دوست جو اس کو اچھا لگا تھا جس میں خلوص تھا، وہ دوسرے لڑکوں کے جیسا نہیں تھا اس لیے بیلا چاہتی تھی کہ اس کی اور اذلان کی دوستی ہمیشہ قائم رہ سکے
“اس کا مطلب تم ابھی نہیں سمجھو گی کیونکہ یہ بات سمجھنے کی تمہاری ابھی عمر نہیں ہے۔۔۔۔ جب تم بڑی ہوجاؤ گی تو شاید پھر تمہیں اپنی اس بچکانہ بات کو یاد کر کے خود ہنسی آجائے۔۔۔۔ ابھی تم صرف اس لئے مجھ سے ٹچی ہو رہی ہوں کیونکہ یہاں تمہارا کوئی دوسرا فرینڈ موجود نہیں ہے جب تم یہاں سے چلی جاؤ گی تو شاید تمہیں کوئی ازلان یاد بھی نہیں رہے”
ازلان بیلا کو دیکھ کر مسکراتا ہوا بولا تو بیلا نے ایک دم ازلان کا ہاتھ پکڑا جس پر ازلان رک کر ایک بار پھر بیلا کو دیکھنے لگا
“تم ایسا سمجھتے ہو کے میں یہاں سے جانے کے بعد تمہیں بھول جاؤ گی، میں نے تم سے دوستی کی ہے تمہیں اپنا بیسٹ فرینڈ بنایا ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں تمہیں بھول جاؤں”
بیلا اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنی دوستی کا یقین دلانے لگی
“مگر یہ تمہارے ہاتھ کا سرد پن تو مجھے کچھ اور ہی بتا رہا ہے۔۔۔۔ رشتہ کوئی بھی ہو اس میں اعتبار اور وفا کا ہونا شرط اول ہے آگے جاکر تمہاری مجھ سے وفا کا بھی معلوم ہوجاۓ گا اور تم آگے زندگی میں میرا اعتبار بھی دیکھ لو گی”
ازلان بیلا کا ہاتھ تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
“تم یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو میری بیٹی کا ہاتھ”
ازلان کو اپنی پشت سے آواز سنائی دی جس پر وہ مڑ کر لان میں آتے ہوۓ عباد کو دیکھنے لگا بیلا بھی عباد کو دیکھ چکی تھی وہ ازلان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر عباد کے پاس جانے لگی
“ہمت کیسے ہوئی تمہاری کے تم میری بیٹی کا ہاتھ پکڑو، چار جماعتیں پڑھنے سے تمہاری اوقات نہیں بدلے گی نہ ہی تمہیں اپنی اوقات بھولنا چاہیے۔۔۔ تمہارا باپ ڈرائیور ہے میرا،،، تمہارا چچا یہاں میرے گھر ملازم ہے تمہاری حیثیت تو ہمارے سامنے سر اٹھانے کی نہیں ہے اور تم میری چھوٹی سی بیٹی کا ہاتھ پکڑے اسے نہ جانے کونسی سبق پڑھا رہے ہو خبردار جو آئندہ تم مجھے اس بنگلے کے اندر نظر آئے”
عباد اپنے پاس آتی ہوئی بیلا کو نظرانداز کرتا ہوا ازلان کے پاس آتا ہوا حقارت سے بولا عباد کی بات سن کر ازلان کا چہرہ توہین اور شرمندگی سے سرخ ہونے لگا
“بابا کیا ہوگیا ہے آپ کو، یہ میرا فرینڈ ہے آپ اس کی اس طرح انسلٹ نہیں کرسکتے”
بیلا کو عباد کے بولے ہوئے لفظوں پر انتہائی افسوس ہوا وہ ازلان کا چہرہ دیکھنے کے بعد عباد سے ناراضگی سے بولی
“فرینڈ شپ اپنی حیثیت اور برابری کے لوگوں میں کی جاتی ہے یہ بات نہ تمہاری ماں کو سمجھ میں آئی ہے اور نہ تمہیں چلو اندر”
عباد غصے میں بیلا کو ڈانٹتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر کے اندر لے گیا۔۔۔۔۔ ازلان خاموشی سے گیٹ سے نکل کر اپنے کواٹر کی طرف جانے لگا گیٹ سے اندر آتے نثار پر اس کی نظر پڑی جو اپنی دھن میں گنگناتا ہوا آرہا تھا
“ارے میرے بچے تیرا منہ کیوں اترا ہوا ہے خیریت تو ہے ناں”
نثار ازلان کا اترا ہوا چہرا دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“ہاں خیریت ہے مگر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں آپ نے تو مجھ سے کہا تھا کہ آپ نوف کو اسکی دوست کے گھر سے لے کر آ جائیں گے”
ازلان اپنی تھوڑی دیر پہلے ہوئے بےعزتی کو بھول کر نثار سے پوچھنے لگا کیوکہ نثار نے دوپہر کو ازلان کو اپنے کام کے سلسلے میں باہر بھیجا ہوا تھا اور بدلے میں اسے یقین دلایا تھا کہ شام کو وہ خود نوف کو اس کی سہیلی کے گھر سے لے آئے گا
“ہاں بس نوف کو ہی تو لینے جا رہا تھا میں، تو گھر پہنچ نوف کو ابھی لے کر آتا ہوں”
نثار جلدی سے بولا تو ازلان نثار کی بات پر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا
“ارے ایسے کیا شک بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے میرے لال، تجھے تھوڑی ٹوپی کراؤ گا تجھ پر تو یہ نثار دل و جان سے نثار ہے۔۔۔۔ گھر پہنچ بس تھوڑی دیر میں نوف کو لےکر آتا ہوں”
ازلان نثار کی بات پر اعتبار کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا یہ جانے بنا کے اس کا چچا دنیا میں آنے سے پہلے پیدائش کی تاریخ سے دس دن لیٹ دنیا میں آکر اپنے ہی ماں باپ کو ٹوپی کروا چکا تھا
