Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

افراہیم اور نوف سو رہے تھے ان دونوں کو جگانا بیلا کو مناسب نہیں لگا اس لیے وہ نازنین سے مل کر دعائیں لیتی ہوئی صبح نو بجے کے ٹائم ازلان کے اپارٹمنٹ میں موجود تھی۔۔۔۔ جب ازلان نے اپنے فلیٹ کے دروازے پر بیلا کو ہینڈ کیری کے ساتھ موجود کھڑا پایا تو اس نے فوری طور پر کوئی تاثر نہیں دیا تھا مگر بیلا اس کے چہرے سے اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ اس کی آمد پر اندر سے خوش تھا بیلا اپنا ہینڈ کیری وہی چھوڑ کر فلیٹ کے اندر داخل ہوگئی جبکہ ازلان اس کا بیگ اٹھاکر اندر لاتا ہوا فلیٹ کا دروازہ بند کرچکا تھا

“بیٹھنے کا وقت نہیں ہے بیلا جلدی سے اٹھو اور یہ پہنوں”
بیلا کے صوفے پر آرام سے بیٹھنے پر ازلان عجلت بھرے انداز میں بولا اور بیڈروم سے اس کے لیے عبایا لےکر آیا۔۔۔ وہ بیڈ روم لاک کررہا تھا تو بیلا اسے حیرت سے دیکھنے لگی

“مگر یہ عبایا کیوں میں نے تو پہلے کبھی نہیں لیا یہ”
بیلا عبایا ہاتھ میں پکڑے ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی

“اب تم فضول کی باتوں میں وقت ضائع کرو گی جلدی سے پہنوں اسے”
ازلان اسے دوبارہ ٹوکتا ہوا اپنا بیگ، پاسپورٹ اور کچھ ڈاکومنٹس دوسرے بیڈروم سے لاکر ٹیبل پر رکھتا ہوا دوسرا بیڈروم بھی لاک کرنے لگا۔۔۔ عبایا لینے کے بعد بیلا کی نظریں ٹیبل پر رکھے ڈاکومنٹس اور پاسپورٹ پر پڑی تو وہ پاسپورٹ اٹھاکر دیکھنے لگی جبکہ ازلان موبائل کان سے لگائے ٹہلتا ہوا کال پک کرنے کا ویٹ کررہا تھا

“یہ پاسپورٹ پر میری تصویر کے ساتھ نام مرجینا کیوں لکھا ہوا ہے اور لوکل فلائٹ کے لئے پاسپورٹ کی کیا ضرورت ہے”
بیلا حیرت سے پاسپورٹ پر اپنی تصویر دیکھنے لگی جو ان دونوں کے نکاح کے وقت ازلان نے اپنے موبائل سے کھینچی تھی

“یار تم اس وقت چھان بین میں لگی ہوئی ہو ادھر فیضی کال پک نہیں کررہا ہے ادھر دو یہ پاسپورٹ” ازلان جھنجھلاہٹ میں اپنا موبائل پاکٹ میں رکھتا ہوا بیلا سے پاسپورٹ لےکر واپس ٹیبل پر رکھکر اسکے سر پر اسکارف باندھنے لگا۔۔۔ بیلا کو اس کی ساری حرکتیں مشکوک لگ رہی تھی گھر سے باہر نکلنے سے لےکر ٹیکسی میں بیٹھنے تک، نہ صرف ازلان کا ہیئر اسٹائل بالکل چینج ہوا تھا بلکہ آنکھوں کا رنگ بھی تبدیل ہوچکا تھا اور چہرے پر داڑھی اگ آئی تھی۔۔۔ بیلا کو حیرت کا دوسرا جھٹکا تب لگا جب ایئرپورٹ پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ ان دونوں کی شارجہ کی فلائٹ ہے تب بیلا نے حیرت زدہ ہوکر ازلان سے کچھ پوچھنا چاہا تو ازلان نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا

“ہم لوگ شارجہ کیوں جارہے ہیں”
پلین میں بیٹھنے کے بعد بیلا گھبراتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی، شارجہ میں فہمیدہ پھپھو تھی اور اصفر بھائی جس کے بارے میں وہ کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتی تھی

“ہنی مون منانے کے لیے نہیں جارہے میری جان ریلکس ہوجاؤ”
ازلان اپنا موبائل یوز کرتا ہوا بولا تو بیلا خاموشی سے ازلان کا چہرہ دیکھنے لگی

“کبھی تو اچھی لگنا بند کردیا کرو یار اس طرح دیکھو گی تو مسلئہ ہوجاۓ گا پلین میں بیٹھے بیٹھے میرے لیے”
بیلا بلکل خاموشی سے اس کو دیکھ رہی تھی تو ازلان اس پر مصنوعی غصہ کرتا ہوا بولا۔۔۔ مگر بیلا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ بناء کچھ بولے ازلان کا بازو پکڑ کر اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ چکی تھی تاکہ اسے تحفظ کا احساس رہے مگر چند سیکنڈ گزرنے کے بعد بیلا کی نظریں ایک شناسا چہرے پر پڑی تو وہ ازلان کے شولڈر سے سر اٹھاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی

“اذلان وہ دیکھو آگے والی دو سیٹوں کو چھوڑ کر تیسری سیٹ پر فیضی بیٹھا ہوا ہے کیا وہ بھی ہمارے ساتھ جارہا ہے تم نے بتایا نہیں مجھے”
بیلا کی نظر فیضی پر پڑی جو اپنا بیگ کیبنٹ میں رکھ رہا تھا وہ خود بھی بیلا کو دیکھ چکا تھا،، مگر بیلا کے مسکرانے پر وہ اسے اجنبی سا تاثر دے کر اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تھا جس پر بیلا ازلان سے حیرت ذدہ ہوکر سوال کرنے لگی

“وہ فیضی نہیں ہے اور نہ ہی میں ازلان ہوں میری خاطر تھوڑی دیر خاموش ہوکر بیٹھ جاؤ”
ازلان اب بالکل سنجیدہ ہوکر بیلا سے بولنے لگا تو بیلا کو ازلان پر غصہ آنے لگا مگر وہ چپ بیٹھی رہی ناجانے اس کے اور کتنے نام تھے

“مسٹر غضنفر کیا اب ہم دونوں تھوڑی دیر کے لیے کچھ بات کرسکتے ہیں”
پلین کے ٹیک آف کرنے پر بیلا اس کے پاسپورٹ میں موجود نام کال کرتی ہوئی ازلان سے بولی

“بالکل بھی نہیں کر سکتے”
ازلان کی طرف سے نہ صرف بےمروتی والا جواب آیا بلکہ وہ اپنا لیپ ٹاپ آن کرکے ایسے مصروف ہوگیا جیسے بیلا کو جانتا ہی نہ ہو۔۔۔ بیلا کو اس کے اس رویہ پر شدید قسم کا غصہ آنے

پلین لینڈ کرنے کے بعد سے لیکر کیپ میں بیٹھ کر ہوٹل پہنچنے تک کا سفر بیلا نے بالکل خاموشی سے کیا، نہ ہی ازلان نے اس سے کوئی بات کی ہوٹل کے روم میں پہنچ کر دروازہ لاک کرنے کے بعد ازلان اپنے اصل حلیے میں آنے کے بعد بیلا کے پاس آیا اور اسے اپنے حصار میں لینا چاہا

“مجھ سے زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرنا اب دوبارہ”
بیلا ازلان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے گرد سے ہٹاکر دور جھٹکتی ہوئی بولی

“زیادہ فری نہیں ہونے والا تھا، بس تمہیں اپنے قریب کر کے تین سے چار کس کرتا”
ازلان بیلا کو سنجیدگی سے اپنا ارادہ بتانے لگا

“ہم یہاں ہنی مون منانے نہیں آۓ ہیں”
بیلا ازلان کو اسی کا بولا ہوا جملا یاد کرواتی ہوئی بولی جس پر ازلان مسکرایا

“جبھی تو صرف کس پر گزارا کررہا ہو، اچھا بتاؤ شرافت سے کس دے رہی ہو یا نہیں”
ازلان کا انداز ایسا تھا جیسے کہ وہ بہت جلدی میں ہو بیلا اس کو گھورنے لگی

“دو گھنٹے پہلے تو بات کرنا دور کی بات منہ نہیں لگارہے تھے تم مجھے۔۔۔۔ اب خالی کمرہ دیکھ کر مجھ سے فری ہونے کی کوشش کررہے ہو”
بیلا غصے میں بولنے کے ساتھ ہی سر پر موجود اسکارف اتارنے لگی تو اذلان اس کے ہاتھ سے اسکارف کھینچ کر دوبارہ سے اسے اپنے حصار میں لیتا ہوا دیوار کے ساتھ بیلا کے نازک وجود کو لگائے اس کے دائیں بائیں جانب دیوار پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا

“دو گھنٹے سے تمہیں اپنے منہ اس لئے نہیں لگایا تھا کیوکہ ہجوم میں مجھے بیوی کو منہ لگانا کچھ خاص پسند نہیں، اب غصہ تھوک دو اور تیار ہوجاؤ میرے منہ لگنے کو”
ازلان بیلا کے ہونٹوں کو فوکس کرتا ہوا اس پر جھکنے لگا مگر اس سے پہلے بیلا اس کا ارادہ جان پر اپنے چہرے کا رخ دوسری سمت کرتی ہوئی بولی

“ازلان اگر تم نے میرے ساتھ کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”
ازلان کی حرکت پر اب بیلا کو غصے سے زیادہ اس سے ڈر لگ رہا تھا جبھی وہ اس کو وارننگ دیتی ہوئی بولی

“الٹی سیدھی کوئی حرکت نہیں کررہا ہوں سیدھی سیدھی ایک پیاری سی کس دے دو پھر مجھے باہر ایک ضروری کام سے جانا ہے اور اگر تم نے مجھے کس نہیں دی تو مجھے واقعی لگے گا کہ تم سے برا کوئی بھی نہیں ہے دنیا میں”
ازلان نے بولنے کے بعد کس لینے کے ارادے سے بیلا کے چہرے کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا تو بیلا نے اپنے دونوں ہونٹوں کو منہ کے اندر دبالیا

ازلان بیلا کی حرکت پر پہلے تو اس کو گھور کر دیکھنے لگا بیلا نے زور سے نفی میں سر ہلایا تو ازلان ناراض نظر بیلا کے چہرے پر ڈالتا ہوا دیوار سے اپنے دونوں ہاتھ ہٹاکر خود بھی پیچھے ہٹنے لگا۔۔۔ جس پر بیلا نے شکر ادا کرتے ہوئے ہونٹوں کا زاویہ درست کیا اور گہرا سانس منہ سے خارج کرنا چاہا ویسے ہی ازلان نے اسکا چہرہ تھام کر بیلا کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں سے مجبت بھری مہر لگانے لگا

بیلا نے اس کے مضبوط بازوؤں اور سینے پر مکے مارنا شروع کیے تب ازلان اسے آزاد کرتا ہوا پیچھے ہٹا۔۔۔ بیلا کا چہرہ شرم سے سرخ ہوا لیکن ازلان کا موڈ ایک دم خوشگوار ہوچکا ہوگیا،، وہ ازلان سے نظریں چرا کر واش روم جانے لگی تو ازلان نے اسے اپنے حصار میں لیا جس پر بیلا اسے بولی

“کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم ایک بیہودہ انسان ہو”
اس کی نظریں ازلان سے نہ مل پائے بیلا ازلان کے سینے میں اپنا منہ چھپاکر آنکھیں بند کرتی ہوئی بولی

“پہلے مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا لیکن اب لگ رہا ہے کہ تم میرے بارے میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو، مگر حیرت مجھے اس بات کی ہے کہ یہ بےہودہ حرکت کرتے ہوئے مجھے ذرا سی بھی شرمندگی نہیں ہوئی”
ازلان نے بولتے ہوئے بیلا کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے تو بیلا نے زور دار مکا اس کے سینے پر مارا اور پیچھے ہوئی جس پر ازلان ہنس پڑا

“میرا اب شام میں ہی واپس آنا ہوگا تمہارے لیے لنچ آرڈر کردیتا ہوں روم سے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے ڈنر انشاءاللہ ساتھ کریں گے”
ازلان بیلا کا خوبصورت چہرہ اپنی آنکھوں میں سماکر اس سے بولتا ہوا کمرے سے باہر جانے لگا تو بیلا نے اس کا ہاتھ پکڑا

“کیا تمہیں لگ رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ یہاں پر آجاؤں گی”
بیلا کے بولنے پر وہ دوبارہ اس کے قریب آیا

“مجھے پورا یقین تھا، اور تم نے یہاں آکر میرے یقین پر اپنے اعتبار کی مہر لگا دی تھینک یو سو مچ”
ازلان بولتا ہوا اس کے ماتھے پر محبت بھرا لمس چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا


صبح کافی دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو اسے افسوس ہوا بیلا یقینا گھر سے نکل چکی تھی وہ تھوڑی دیر بعد بیلا سے موبائل پر رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا،، یونہی لیٹے لیٹے افراہیم کی نظر اپنے برابر میں بےخبر سوتی ہوئی اپنی بیوی پر پڑی تو افراہیم اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا اس وقت وہ سوئی ہوئی بہت معصوم لگ رہی تھی۔۔۔ تھی تو ویسے بھی وہ معصوم ہی لیکن انتہا کی نک چڑی۔۔۔۔ افراہیم اپنی سوچ پر اور اپنی بیوی کو نیا نام دے کر خود ہی مسکرانے پر مجبور ہوگیا۔۔۔۔

ناجانے وہ کیوں اپنی اس نک چڑی بیوی سے اپنے لیے توجہ کا طلبگار تھا اور پرسوں سے ہی وہ اس کو نظر انداز کررہی تھی،، تب افراہیم کا دل کیا کہ وہ جان بوجھ کر اس کے سامنے وہ حرکتیں کرے جس پر وہ بری طرح چڑ جائے،، اب بھی وہ نوف کا چہرہ غور سے دیکھ رہا تھا تب اسے محسوس ہوا جیسے نوف بیدار ہونے والی ہے۔۔۔ نوف کے آنکھیں کھولنے سے پہلے ہی افراہیم نے اپنی آنکھیں بند کرلی اور خود سوتا ہوا بن کر اپنا ہاتھ اس نے نوف کے ہاتھ پر رکھ دیا جو بیڈ پر رکھا ہوا تھا

آنکھ کھلتے ہی جو اس کے زہن نے سب سے پہلے محسوس کیا وہ کسی وزن تلے دبا ہوا اپنا ہاتھ تھا۔۔۔ نوف کی نظریں بیڈ پر رکھے اپنے ہاتھ پر پڑی جو افراہیم کے بھاری ہاتھ کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔۔ وہ ماتھے پر شکن ڈالتی ہوئی اپنے برابر میں لیٹے ہوئے افراہیم کو دیکھنے لگی جو اس کو نیند میں بھی تنگ کرنے سے باز نہیں آرہا تھا۔۔۔ نوف نے بالکل آہستہ سے افراہیم کی کلائی پکڑ کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکالا اور افراہیم کا ہاتھ بےحد آہستگی سے اسی کے سینے پر رکھتی ہوئی،،، وہ ابھی بیڈ سے نیچے اترنے کی کوشش میں مخالف سمت میں کروٹ لینے لگی تھی کہ افراہیم نے نیند میں اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ دیا

نوف نے گھور کر سوتے ہوئے افراہیم کو دیکھا اور اپنے پیٹ پر رکھا ہوا افراہیم کا ہاتھ ہٹانے لگی۔۔۔ نوف نے جیسے ہی اپنے اوپر سے افراہیم کا ہاتھ ہٹایا تو افراہیم نیند میں اس کے اوپر اپنی ٹانگ رکھ چکا تھا

“یا میرے مالک یہ کوئی آدمی ہے یا پھر کوئی ایلفی”
نوف پریشان ہوکر دل ہی دل میں بولتی ہوئی سوئے ہوئے افراہیم کو دیکھنے لگی۔۔۔

وہ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھ پائی تھی اپنے آدھے دھڑ سے افراہیم کی ٹانگ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ جس میں وہ بہت مشکل سے کامیاب ہوئی شکر کا سانس لینے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تو نوف کی نظریں اپنے دوپٹے پر پڑی جو آدھے سے زیادہ افراہیم کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔۔ بےبسی والی نظر اس بےخبر سوئے ہوئے وجود پر ڈال کر اپنے دوپٹے کا سرا پکڑ کر دوپٹے کو اپنی طرف کھینچنے لگی جس کے چکر میں اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ پوری کی پوری افراہیم کے اوپر جھک چکی تھی کیوکہ دوپٹے کا دوسرا سرا نہ جانے افراہیم کے نیچے کہاں دبا ہوا تھا

وہ افراہیم کے نیچے دبا ہوا اپنا دوپٹہ تو کیا ہی نکال پاتی، افراہیم کے اچانک کروٹ لینے پر نوف کا سر اپنی تکیہ پر جالگا اور وہ پوری کی پوری بیڈ پر دوبارہ لیٹ گئی اب حالت یہ تھی کہ نوف بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی، افراہیم کا ہاتھ نوف کے اوپر سے ہوتا ہوا بیڈ پر رکھا ہوا تھا جبکہ افراہیم کا سر نوف کے سینے پر موجود تھا۔۔۔ افراہیم کی سانسوں کی گرمائش نوف کے سینے کو ہی نہیں اس کے پورے بدن کو جھلسانے لگی

“یہ آدمی آخر اسی جگہ آکر کیو ٹھہر جاتا ہے”
وہ تکیے پر لیٹی ہوئی رو دینے کو تھی سب سے پہلے اس نے افراہیم کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر اس کا سر اپنے سینے سے ہٹاکر دور کیا۔۔۔ پھر افراہیم کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانے کے لیے اس نے افراہیم کے ہاتھوں کو انگلیوں سے پکڑا تو افراہیم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں میں نوف کے ہاتھوں کی انگلیاں پھنسالی۔۔۔ اور کروٹ لیتے ہوۓ سیدھا ہوکر لیٹ گیا۔۔۔ جان بوجھ کر افراہیم نے اپنے ہاتھ کو، جس میں نوف کا ہاتھ تھا بیڈ کے دوسری طرف مخالف سمت پر کیا نوف کا سر افراہیم کی تھوڑی پر جا لگا

“شرم نہیں آرہی تمہیں کیوں مستیاں کررہی ہو یار اتنی دیر سے، سونے دو مجھ بےچارے کو”
افراہیم کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز نوف کے کانوں سے ٹکرائی تو نوف کو غصہ آنے لگا اس نے اپنا چہرہ اوپر کرکے افراہیم کے چہرے پر نظر ڈالی تو افراہیم کی آنکھیں ابھی بھی بند تھی۔۔۔

نوف نے اپنے ہاتھ کی پھسی ہوئی انگلیاں افراہیم کے انگلیوں سے آزاد کرنا چاہی تو افراہیم نے اپنی انگلیوں سے نوف کی انگلیوں کو مزید گرفت میں لے لیا

“نہیں میں نہیں مان سکتی کہ اتنا چھچھور پن کوئی نیند میں بھی کرسکتا ہے افراہیم چھوڑ دیں میرا ہاتھ”
نوف غصے میں افراہیم کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی جو اس وقت اس کے بےحد قریب تھا، مگر افراہیم نے اس کی بات کا کوئی رسپونس نہیں دیا اور سویا بنا رہا

“افراہیم”
نوف نے غصے میں زور سے اس کا نام پکارا تو افراہیم نے اس کا ہاتھ چھوڑے بغیر اپنی آنکھیں کھولیں

“کیوں تم صبح صبح میرے اوپر چڑھی ہوئی میرے کانوں کے پردے پھاڑ رہی ہو”
افراہیم مصنوعی غصہ کرتا ہوا نوف کو دیکھ کر بولا

“زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے، میں جانتی ہوں آپ جاگ رہے ہیں میرا ہاتھ چھوڑیں”
نوف کو ابھی بھی اس پر شدید غصہ آرہا تھا مگر اب وہ تیز آواز کی بجائے نارمل آواز میں بولی

“اوہو تو میں نے نیند میں تمہارا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جبھی تم میرے اتنے قریب تھی اور میں سمجھا کہ شاید صبح صبح مجھے سوتا ہوا دیکھ کر تمہاری نیت خراب ہورہی ہوگی اور تمہارا دل کیا ہوگا کہ تم مجھ پر اس وقت ٹوٹ پڑو”
افراہیم نوف کی جاگنے والی بات کو نظرانداز کرتا ہوا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے آزاد کرکے معصوم بن کر بولا تو نوف اس سے دور ہوئی اور مزید غصہ بھی ہوئی

“کس قدر فضول باتیں کررہے ہیں آپ۔۔۔ اتنی دیر سے سونے کی ایکٹنگ کرکے جان بوجھ کر مجھے تنگ کررہے ہیں اور الٹا میرے بارے میں کس قدر چھچھوری باتیں کررہے ہیں میری نیت خراب ہوگی آپ پر، کوئی گلاب جامن ہیں آپ۔۔۔۔ اور میری ایک بات یاد رکھیں میں کوئی چھچھوری آوارہ قسم کی لڑکی نہیں ہوں جو بہانہ بناکر، آپ کو سوتا ہوا دیکھ کر آپ پر ٹوٹ پڑو یعنی بندہ نہیں ہوگیا کوئی بریانی کی پلیٹ ہوگئی”
نوف غصے میں افراہیم کو باتیں سنانے کے ساتھ اپنا دوپٹہ اس کے نیچے سے کھینچ کر نکلتی ہوئی بیڈ سے اترنے لگی تو افراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور خود بھی اٹھ کر بیٹھ گیا

“خبردار جو تم نے میرے آگے یوں فرفر زبان چلائی، مجھے غصہ دیکھایا یا پھر مجھے باتیں سنائی،، بندہ اپنی بیوی سے فضول باتیں نہیں کرے گا تو اور کس کی بیوی سے کرے گا، وہ لڑکیاں چھچوری اور آوارہ ہرگز نہیں ہوتی جو اپنے شوہر کو پیار دیتی ہیں شوہر بھی انہی بیویوں سے خوش رہتے ہیں جو انہیں خوب پیار دیں، جب میں تمہیں ڈھیر سارا پیار دوں گا تو بدلے میں تم سے بھی ڈھیر سارا پیار لوں گا۔ِ۔۔۔ یہاں پر بھی، یہاں پر بھی اور یہاں پر بھی”
افراہیم نوف کو بولتا ہوا اپنی انگلی نوف کے ماتھے پر رکھ کر پیار کی جگہ بتاتا ہوا نوف کے ہونٹوں تک لایا اور پھر گردن سے نیچے لےگیا

“افراہیم”
نوف اس کی انگلی اپنے سینے سے ہٹاکر غصے سے ہلکی آواز میں چیخی

“شٹ اپ افراہیم کی جان، اس طرح تمہیں دو دنوں سے غصے میں دیکھ کر معلوم ہے میرا دل چاہتا ہے تمہیں باہوں میں بھر کر اتنا پیار کرو کہ تمہیں تڑپا ڈالو،، جس طرح تم نے مجھے شادی والی رات سے ترسایا ہوا ہے کاش کہ میں کوئی گلاب جامن یا بریانی کی پلیٹ ہوتا کسی نہ کسی بہانے ہی سہی تم مجھے اپنے منہ سے تو لگاتی یا تمہاری نیت ہی خراب ہوتی مجھ پر”
افراہیم کا آخری جملہ جو اس نے بولا مذاق میں تھا پر نوف کے دل کو کچھ ہوا، وہ اس کا شوہر تھا اس پر مکمل حق بھی رکھتا تھا اس کے باوجود اس نے اپنے شوہر کو اس کے حق سے محروم رکھا ہوا تھا

نوف افراہیم کی باتیں سن کر خاموشی سے اپنا سر جھکا گئی، افراہیم نوف کو خاموش اور پگھلتا ہوا دیکھ کر اس کے قریب آیا، اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر اوپر کیا نوف کی نگاہیں افراہیم کی نظروں کو دیکھ کر بےساختہ جھک گئی اور دل کافی زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔ افراہیم نے نوف کے گلابی ہونٹوں کو صرف اپنے ہونٹوں سے چھوا ہی تھا۔۔۔ نوف بدک کر ایسے پیچھے ہٹی جیسے اسے 440 والڈ کا کرنٹ لگا ہو

“کیا لڑکی ہو یار تم، ایسے ڈر رہی ہو جیسے کھا جاؤ کا تمہارے ہونٹوں کو یہاں آؤ”
نوف کی حرکت پر افراہیم اسے آنکھیں دکھاتا ہوا بولا اور اس کا آنکھیں دکھانا کام آگیا نوف بناء کچھ بولے افراہیم کے قریب آئی

افراہیم نے ایک بار پھر اس کا چہرہ تھام کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ چکا تھا جس پر نوف نے اس کی شرٹ کو سختی سے پکڑلیا۔۔۔ ایسے ہی سختی اچانک افراہیم کے جذبات میں بھی در آئی تھی اپنے ہونٹوں سے نوف کے ہونٹوں پر گرفت جماۓ وہ نوف کی قربت کو محسوس کرتا ہوا مدہوش ہونے لگا۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے نوف کی کمر کو تھامے۔۔۔۔ اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں سے جدا کئے بغیر نوف کو بیڈ پر لٹانے کے بعد مکمل نوف کے وجود پر جھک گیا

افراہیم کی بڑھتی ہوئی شدت نوف کو خطرے کا الارم دینے لگی،، جب تک وہ افراہیم کو اپنے حقیقت نہیں بتا دیتی وہ نہیں چاہتی تھی کہ افراہیم اس سے مکمل حق حاصل کرے اس لیے نوف افراہیم کو پیچھے ہٹانے لگی مگر وہ نوف کی ماننے کے موڈ میں نہیں تھا،،، نوف کے ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں میں قید کرتا ہوا۔۔۔ وہ نوف کی تھوڑی کو چوم کر اس کی گردن پر جھک گیا اور اپنی سانسوں کی گرمائش چھوڑتا ہوا نوف کی شہہ رگ پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا

“بس افراہیم اب پلیز پیچھے ہٹ جائیں ناں”
نوف اس کو مزید مدھوش دیکھ کر التجا کرتی ہوئی بولی،، وہ مکمل طور پر اس پر قابض تھا جس پر نوف اس سے منت ہی کرسکتی تھی

“مجھے معلوم تھا تم مجھے مکمل طور پر خوش کبھی بھی نہیں دیکھ سکتی”
افراہیم بولتا ہوا توقع کے برخلاف اس کے اوپر سے اٹھا ساتھ ہی نوف بھی بیڈ سے اٹھ گئی۔۔۔ آج نوف کو صحیح معنوں میں معلوم ہوا تھا کہ دن میں تارے دیکھنا کیا ہوتا ہے جو آج اسے افراہیم شوہر کے روپ میں دکھا چکا تھا۔۔۔ اس وقت افراہیم سے نظریں ملانا اسقدر مشکل ہورہی تھی کہ نوف کمرے سے باہر جانے لگی مگر افراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑا

“ایسے کیسے کمرے سے باہر جارہی ہو حالت دیکھی ہے تم نے اپنی اس وقت پوری ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں تمہاری۔۔۔ باہر مما ہوگیں گھر کے ملازم ہوگے جاؤ پہلے شاور لےکر آؤ اور ڈریس چینج کرو پھر کمرے سے باہر نکلنا”
افراہیم اس کے جھکے ہوئے چہرے پر شرم و حیا کے رنگ دیکھکر اس کی شہہ رگ کے پاس اپنے ہونٹوں کے نشان دیکھتا ہوا نوف سے بولا۔۔۔ افراہیم کی بات سن کر اس کا سر مزید جھک گیا وہ وارڈروب کی طرف جاکر وہ اپنے کپڑے نکالنے لگی

“یہ والا نہیں پنک کلر کا ڈریس پہنوں” افراہیم کی فرمائش پر نوف نے ایک نظر اس کو دیکھا پھر اپنی نظریں جھکاتی ہوئی بولی

“اس ڈریس کا گلا کافی بڑا ہے مجھے الجھن ہوتی ہے ایسے کپڑے پہن کر”
نوف آئستہ آواز میں منمناتی ہوئی بولی افراہیم اس کے لیے جو چار پانچ ڈریس لےکر آیا تھا وہ انہی میں سے کوئی نہ کوئی ریپیٹ کررہی تھی،، افراہیم کے ذمے یہ بھی ایک کام آچکا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے لئے پراپر کپڑے اور دوسری چیزیں لےکر آتا

“اگر پنک والے ڈریس کا گلہ بڑا ہے تو تم نے کونسا مجھے اس میں جھانکے دینا ہے۔۔۔ ہر وقت دوپٹے کو اچھی طرح لپیٹ کے تو رکھتی ہو تم خود سے۔۔۔ وہی ڈریس پہنوں جو میں بول رہا ہوں”
افراہیم چاہتا تھا اس کی پیاری سی نک چڑی بیوی اس کی بات مانے۔۔۔ وہ نوف کے ہاتھ میں موجود ڈریس کو دوبارہ ہینگ کرکے پنک کلر کا ڈریس نکالتا ہوا بولا تو نوف ساری شرم و حیا بھلا کر شکوہ بھری نظروں سے افراہیم کو دیکھنے لگی

“کیو ضد کررہے ہیں آپ کہ میں یہی کپڑے پہنو، کیا وجہ ہے اس کے پیچھے بتانا پسند کریں گے آپ”
نوف کو واقعی تجسس ہونے لگا آخر کیا وجہ ہوسکتی جو افراہیم اس کو وہی ڈریس پہننے کا اصرار کررہا تھا

“کیونکہ پنک کلر میں ہر لڑکی اچھی لگتی ہے چاہے وہ اچھی نہ ہو تب بھی لیکن تمہارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ تم پہلے سے ہی سے خوبصورت ہو اس لئے پنک کلر میں اور بھی زیادہ اچھی لگو گی۔۔۔ تمہیں یاد ہے جب میں تمہارے لئے سارے ڈریسز لےکر آیا تھا اس دن تم نے پیک کلر کا یہی والا ڈریس پہنا تھا جب تمہیں اس کلر میں پہلی بار میں نے دیکھا تو میرا دل چاہا کہ میں تمہیں کس کر ڈالو۔۔۔ بلیومی پہلی پہلی بار میں نے ایسا کسی لڑکی کے بارے میں سوچا، ورنہ تاشفہ نے تو مجھے فل گرین سگنل دیا ہوا تھا مگر پھر بھی میں نے اس کو اس کی لمٹ میں رکھ کر خود اپنی لمٹ میں رہا لیکن آج جب تم یہ ڈریس پہنوں گی تو میں اپنی اس دن والی وش پوری کرو گا”
افراہیم نوف کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر تفصیل سے اسے بتانے لگا مگر نوف کا دماغ ایک نام تاشفہ پر اٹک گیا، اب نہ جانے یہ کون سی بلا تھی مگر نوف اس کے بارے میں پوچھنے کی بجائے افراہیم کی دوسری بات پر اس سے بولی

“بہت ہی فضول ٹائپ کا چھچھورا دل ہے آپ کا، جو ہمیشہ الٹے سیدھے کاموں کا سوچتا رہتا ہے۔۔۔۔ جو آپ تھوڑی دیر پہلے میرے ساتھ کرچکے ہیں وہ کافی ہے اگر آپ نے دوبارہ کچھ بھی کیا ہے تو میں آپ سے بالکل بھی بات نہیں کروں گی اور نہ ہی آپ کے ساتھ آپ کے اس کمرے میں رہو گی”
نوف وارننگ دیتی ہوئی افراہیم کا منتخب کردہ لباس لےکر واش روم جانے لگی تب اسے افراہیم کی آواز اپنی پشت سے سنائی دی

“میں نے کل رات کیا سمجھایا تھا تمہیں غصہ اور دھمکی اپنی صحت کے مطابق کرنا چاہیے۔۔۔ آج رات میں تمہیں کس نہیں کروں گا بلکہ تم مجھے کرو گی اور وہ بھی یہاں پر”
افراہیم نوف کے پاس آکر اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ کر چیلنج کرنے والے انداز میں نوف سے بولا اور مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا


جاری ہے