No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
ازلان کو کیفے ٹیریا میں آئے ہوئے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا مگر وہاں پر بیلا کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا۔۔۔ ازلان اندازہ لگا چکا تھا کہ بیلا کو ضرور عون کی سچائی کو معلوم ہوچکا ہوگا جبھی وہ عون کا چیپٹر ہمیشہ کے لئے کلوز کرنے یہاں چلا آیا تھا۔۔۔ بیلا کا انتظار کرنے کے بعد وہ اس کے موبائل پر کال کرنے لگا مگر بیلا کا سیل فون آف تھا۔۔۔ ازلان سوچ میں پڑگیا کہ وہ واپس اپنے گھر چلا جائے یا پھر بیلا سے بات کرنے اس کے پاس
“تمہیں ہر ماہ تنخواہ کون دیتا ہے میں یا پھر بیلا بی بی کیسے تم اسے کسی کیفے ٹیریا میں چھوڑ آئے بولو”
آج بیلا کا آخری پیپر تھا شام ہونے کو آئی تھی اور وہ ابھی تک گھر واپس نہیں لوٹی تھی، افراہیم نے اپنی طرف سے نازنین کو مطمئن تو کردیا تھا کہ وہ اس کی اجازت پر اپنی سہیلی کے پاس گئی ہے مگر وہ خود بیلا کے لیے پریشان تھا کیوکہ بیلا کا نمبر پچھلے دو گھنٹے سے مسلسل آف جارہا تھا اس وجہ سے وہ ڈرائیور پر برس رہا تھا جو بیلا کے کہنے پر اسے یونیورسٹی کے پاس کیفیٹیریا میں چھوڑ کر آگیا تھا ابھی وہ ڈرائیور سے سوال کررہا تھا تب افراہیم کو اذلان اپنی جانب آتا ہوا دکھائی دیا
“خیریت ہے سب، کیسے آنا ہوا”
ڈرائیور کو وہاں سے جانے کا اشارہ کرنے کے بعد وہ ازلان سے مخاطب ہوا، ازلان کار پارک کرکے گھر کے اندر جانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر افراہیم کو گھر کے لان کے پاس کھڑا دیکھ کر وہی آگیا
“بیلا سے بات کرنا تھی مجھے اسی سلسلے میں آیا ہوں” ازلان بناء بات کو گھمائے یا جھجھکے اصل بات بولا کیونکہ افراہیم کی بہن اب اس کی بیوی تھی
“کیا پیپر ختم ہونے کے بعد تم نے بیلا کو کیفیٹیریا میں بلایا تھا”
اس کی بہن بھلا اور کس سے ملنے جاسکتی تھی جبھی افراہیم ازلان سے پوچھنے لگا جبکہ ازلان افراہیم کے سوال اور انداز پر چونکا
“افراہیم بیلا کہاں ہے اس وقت، مجھے بتاؤ”
افراہیم کو کیسے معلوم ہوسکتا تھا کہ بیلا اس سے ملنے والی تھی ازلان کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا جبھی وہ افراہیم سے بیلا کا پوچھنے لگا
“پیپر ختم ہونے کے بعد بیلا ڈرائیور کو بول کر یونیورسٹی کے قریب کیفیٹیریا میں گئی تھی اس کے بعد سے وہ اب تک گھر نہیں پہنچی ہے اس کا موبائل مسلسل آف جارہا ہے”
ازلان کو بتاتے ہوئے افراہیم کی پریشانی مزید بڑھنے لگی کیونکہ ازلان کی باتوں سے وہ بھی اندازہ لگا چکا تھا کہ بیلا کے بارے میں ازلان بھی بےخبر تھا ازلان کچھ سوچ کر پاکٹ سے موبائل نکال کر کال ملانے لگا
“ہاں نوف کیا گھر پر کوئی آیا تھا میرا کوئی دوست وغیرہ یا پھر کوئی اور”
ازلان کال ملاکر نوف سے پوچھنے لگا جبکہ افراہیم ابھی بھی بےچین کھڑا ازلان کو دیکھ رہا تھا
“اچھا چلو ٹھیک ہے،، نہیں سب خیریت ہے۔۔۔ آج میرا رات میں لیٹ آنا ہوگا ایک ضروی کام ہے مجھے تم پریشان مت ہونا دروازہ اچھی طرح لاک کرکے سو جانا”
ازلان نوف کو ہدایت دیتا ہوا کال رکھ چکا تھا جبکہ افراہیم سوالیہ نظروں سے ازلان کو دیکھنے لگا، ازلان افراہیم کو دیکھ کر نفی میں سر ہلاتا ہوا کچھ سوچ کر فیضی کو کال ملانے لگا
“آج بیلا پیپر کے بعد یونیورسٹی کے قریب کیفے ٹریا میں گئی تھی، اس کی وہاں کس سے ملاقات ہوئی یا وہ کیفے ٹیریا سے کہاں گئی ہے مجھے یہ ساری معلومات فوری طور پر چاہیے”
ازلان فیضی سے بولنے لگا تو افراہیم اپنے موبائل پر اجنبی نمبر دیکھ کر آنے والی کال کو کاٹنے لگا
“اس کام کو چھوڑو فیضی جو میں تمہیں بول رہا ہوں اس کام پر فوکس کرو، ود ان ٹووینٹی منٹ مجھے بیلا کے بارے میں مکمل انفارمیشن دو”
ازلان کے اپنے لہجے میں بےچینی تھی وہ فیضی سے بول کر رابطہ منقطہ کرچکا تھا تب ایک بار افراہیم کا موبائل دوبارہ بجنے لگا وہی اجنبی نمبر سے اس کو کال آنے لگی
ازلان کے کہنے پر افراہیم کال ریسیو کرچکا تھا
“ہاں چھوٹے صاحب جی گھر میں خیریت تو بالکل نہیں ہوگی بیٹی کے گمشدہ ہونے پر صدمہ لےکر کہیں اماں جی اسپتال تو نہیں پہنچ گئیں اب تک”
عدنان کمینگی کی حد پار کرتا ہوا افراہیم سے بولا تو افراہیم پل بھر میں عدنان کو پہچان گیا
“بلڈی باسٹرڈ میں تیرے ٹکڑے کر ڈالوں گا کہاں پر ہے میری بہن”
افراہیم غصے کی شدت سے زور سے چیخا وہی ازلان اسے ٹھنڈا رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے موبائل اس کے ہاتھ سے لےکر لاؤڈ اسپیکر آن کرچکا تھا
“ابے اؤے زیادہ اچھل مت،، آرام سے میری بات سن۔۔۔ معلوم ہے ناں تیری بہن جوان اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت بدقسمتی سے وہ میرے قبضے میں ہے ابھی تک میں شرافت کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے لیکن اگر اب کی بار تیری بہن کی عزت گئی ناں تو قسم سے تجھے اپنے جینے پر افسوس ہونے لگے گا اور تیرا خود کشی کرنے کا دل چاہے گا”
عدنان بغیرتی سے بولا تو عدنان کی بات سن کر افراہیم پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہوگئی جبکہ ازلان کا عدنان کی بات سن کر ضبط کرنا مشکل ہوگیا وہ عدنان کی آواز سن کر اسے پہچان چکا تھا اور پچھتا رہا تھا کہ یہاں آنے سے پہلے اس نے عدنان کا سر کیوں نہیں کچل دیا
“کیا چاہتے ہو تم دیکھو تمہاری جو بھی ڈیمانڈ ہے وہ تم مجھے بتاؤ لیکن میری بہن کو کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے” افراہیم حالات کی سنگینی سمجھتا ہوا اب کی بار نارمل لہجے میں عدنان سے بولا
“چھوٹے صاحب جی اب آئے ہیں آپ لائن پر اور یہ آپ نے عقلمندی کی کہ ڈائریکٹ مجھ سے میری ڈیمانڈ پوچھ لی”
عدنان بےڈھنکہ سا ہنس کر بولا تو افراہیم ضبط کرتا ہوا اس کے مزید بولنے کا انتظار کرنے لگا جبکہ ازلان وہی کھڑا ہوا مسلسل اپنے موبائل پر فیضی کو میسج ٹائپ کررہا تھا
“ظاہری سی بات ہے آپ پولیس کو تو انفارم کرنے کی بیوقوفی نہیں کریں گے بار بار خوبصورت اور جوان بہن کا حوالہ دینا ایک بھائی کو مناسب نہیں لگتا”
عدنان سمجھداری سے افراہیم کو سمجھا ہوا بولا
“تم فضول کی باتیں کیے بغیر اپنی ڈیمانڈ بتاؤ”
افراہیم دانت پیستا ہوا عدنان سے بولا وہ عدنان کی بکواس کس طرح برداشت کررہا تھا یہ وہی جانتا تھا
“پیسوں کا تو آپ کے لیے کوئی مسلئہ نہیں ہے ساٹھ ستر لاکھ تو آپ کے لیے کوئی بڑی رقم نہیں اس کا آپ فوری طور پر انتیظام کرسکتے ہیں اس بات کو تو آپ ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔۔۔ اصلی جو میری ڈیمانڈ ہے وہ ہے میری بچپن کی محبت یعنی آپ کی بیوی میری بچپن کی منگیتر”
عدنان کی بات پر جہاں ازلان کا میسج ٹائپ کرتا ہوا ہاتھ رک گیا وہی افراہیم کا خون بری طرح کھول اٹھا وہ غصے سے بے قابو ہوتا ہوا بولا
“اپنی اوقات میں رہو، وہ میری بیوی ہے اس کے بارے میں اگر تم نے کوئی بھی گھٹیا بات اپنے گندے منہ سے نکالی تو میں تمہاری جان لےلو گا عدنان”
افراہیم غصے میں عدنان سے بولا،، عدنان کی بات ازلان کو خود بری طرح طیش دلا گئی تھی مگر وہ اپنے غصے پر بھی ساری صورت الحال کو دیکھتا ہوا ضبط سے کام لے رہا تھا
“چھوٹے صاحب جی کیا بیوی بیوی لگاکر دماغ خراب کررہے ہو میرا، ارے تین بول بول کر فارغ کرو سالی کو یا پھر کچھ زیادہ ہی دل لگ گیا ہے اس سے ہاں۔۔۔ بھئی مجھے تو نوف اور رقم دونوں چاہیے اور بدلے میں اپنی بہن کو بحفاظت طریقہ سے اپنے ساتھ لے جاؤ۔۔۔۔ اگر سودا منظور ہے تو مجھے سوچ کر بتاؤ ورنہ اپنی بیوی کے ساتھ خوش رہو اور اپنی بہن کو ہمیشہ کے لیے بھول جاؤ میں اسی سے اپنا کام چلالو گا”
عدنان کی بات سن کر افراہیم نے ضبط کرتے ہوۓ اپنے لب بھینچے وہ اس وقت عجیب دوراہے پر کھڑا ہوا تھا ایک طرف اسے نوف کا چہرہ یاد آنے لگا تو دوسری طرف بیلا کا
“تم مجھے ایڈریس بتاؤ میں رقم اور نوف دونوں کو لےکر پہنچتا ہوں وہاں”
افراہیم نے ازلان کے اشارے پر ایسا بول تو دیا مگر اسے محسوس ہورہا تھا جیسے نوف کا نام لیتے ہوۓ اس نے اپنا دل سینے سے نکال کر باہر پھینک دیا ہو۔۔۔ عدنان کا بتایا گیا ایڈریس نوٹ کرتا ہوا افراہیم گھر کے اندر چلا گیا
ازلان کی کال رکھنے کے بعد نوف کچن کا رخ کرنے لگی کیوکہ ازلان کو لیٹ واپس آنا تھا اس لیے نوف نے کھانا کھانے کا سوچا۔۔۔ اپنی پریگنینسی کا پتہ چلنے کے بعد سے وہ اپنی ڈائٹ کا خود سے خیال رکھ رہی تھی کیوکہ نازنین کے ساتھ ساتھ اس کے شوہر کو بھی گول مٹول سا پیارا سا بچہ چاہیے تھا بےشک افراہیم اس سے ناراض تھا مگر وہ خود اپنے اندر پلنے والی زندگی سے خوش تھی جبکہ کہیں اندر اسے افراہیم سے اس بات کا شکوہ بھی تھا کہ افراہیم یہ خبر سننے کے بعد بھی اس کے پاس نہیں آیا تھا چاہے وہ اس پر کتنا غصہ کیوں نہ ہو، نوف کو نہیں لگتا تھا یہ خبر سن کر وہ خوش نہیں ہوگا
کچن میں داخل ہونے سے پہلے غیرارادی طور پر اس کی نظر مین ڈور پر پڑی جو مکمل کھلا ہوا تھا نوف کو حیرت ہونے لگی اسے یاد پڑتا تھا دروازہ تو اس نے اچھی طرح بند کیا تھا نوف ایک بار پھر دروازہ بند کرنے کے لیے دروازے کی طرف بڑھنے لگی تب اسے اپنی پشت پر کسی کا موجودگی کا احساس ہوا نوف کے مڑنے پر وہ شخص جو کالے رنگ کا ماسک لگاۓ اپنا منہ چھپایا ہوا تھا تیزی سے نوف کی بڑھنے لگا نوف کے منہ سے دلخراش چیخ نکلی، ساتھ ہی اس نے ٹیبل پر پڑا ہوا واس اس آدمی کو مارنا چاہا اس آدمی نے نوف کا ہاتھ پکڑ کر اسے کمرے کی دیوار کی طرف دھکا دیا اور فلیٹ کا دروازہ بند کرنے کے لیے آگے بڑھا۔۔۔ نوف خود کو گرنے سے بہت مشکل سے سنبھال پائی تھی وہ اپنا بچاؤ کرنے کے لیے ڈائینگ ٹیبل پر رکھی چیزیں اس آدمی کو مارنے لگی،، نوف نے جب ٹیبل سے جار اٹھاکر اس آدمی کے سر کا نشانہ لیا تو وہ بری طرح بلبلا اٹھا نوف راہ فرار تلاش کرنے کے لیے کمرے کی طرف بھاگی مگر کمرے کا دروازہ بند کرنے سے پہلے وہ آدمی کمرے تک پہنچ گیا
“کون ہو تم کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا”
نوف روتی ہوئی اس آدمی سے پوچھنے لگی جو اس کی طرف قدم آئستہ آئستہ اپنے قدم بڑھا رہا تھا
“دیکھو پلیز مجھے یہاں سے جانے دو”
نوف کے بولتے ہی اس آدمی نے نوف کو پکڑنا چاہا تو نوف کا دوپٹہ اس آدمی کے ہاتھ میں آگیا جسے فرش پر پھینک کر وہ کمرے سے باہر نکلتی ہوئی نوف کمرے کو اپنے قابو کرچکا تھا
“افراہیم یہ کیا کررہے ہو، رکو یہ پستول مجھے دو”
افراہیم کے ہاتھ میں پستول دیکھ کر ازلان اس کو روکتا ہوا افراہیم سے پستول لینے کی کوشش کرنے لگا جو غصے میں پستول ہاتھ میں پکڑے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا
“آج اس خبیث انسان کے ٹکڑے کر ڈالوں گا میں اس کے بعد بھلا ہی پھانسی پر چڑھ جاؤ مگر آج میں عدنان کو زندہ نہیں چھوڑو گا”
ازلان کے روکنے پر افراہیم مذید غصے سے برہم ہوتا ہوا بولا
“افراہیم تمہارا کوئی بھی غلط اٹھایا ہوا قدم بیلا کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کرو”
ازلان کو خود بھی عدنان کے اوپر شدید غصہ تھا مگر وہ افراہیم کو سمجھاتا ہوا بولا
“تو تم کیا چاہ رہے ہو اس بےغیرت انسان کی بات مان کر نوف کو اس کے حوالے کردو”
افراہیم غصے میں چیختا ہوا ازلان سے پوچھنے لگا
“نوف میری بہن ہے اس کو خواب میں بھی کسی مصیبت میں ڈالنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا، لیکن تمہارا اٹھایا ہوا کوئی بھی جذباتی قدم اگر بیلا کے لیے خطرناک ثابت ہوا تو سوچ لو نقصان ہم دونوں کا ہوگا۔۔۔۔ تمہاری بہن میری بھی عزت ہے پلیز تحمل سے میری بات سن لو”
ازلان کی بات سن کر افراہیم اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنے لگا جوکہ اس کے لیے مشکل تھا
“دیکھو عدنان نے تمہیں جہاں بلایا ہے یہ وہ لوکیشن نہیں ہے جہاں اس نے بیلا کو رکھا ہوا ہے معلوم نہیں تمہیں اس جگہ بلا کر اس کا آگے کیا پلان ہے۔۔۔ فیضی اس ٹیکسی کا پتہ لگا چکا ہے جس میں عدنان بیلا کو لے گیا تھا۔۔۔ افراہیم میں چاہتا ہو تم یہاں آنٹی کے پاس موجود رہو میں بیلا کو چند گھنٹے میں باحفاظت تمہارے پاس لے آؤ گا”
ازلان افراہیم کو تحمل سے اپنی بات سمجھاتا ہوا بولا
“تمہارا مطلب ہے تم وہاں اکیلے جاؤ گے نو نیور تم نہیں جانتے وہ کتنا گھٹیا اور کمینہ انسان ہے۔۔۔ ازلان اگر اسے شک ہوگیا کہ میں نے اس معاملے میں کسی اور کو انولو کیا ہے تو وہ بیلا کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے اور اگر بیلا کو کچھ ہوگیا تو میں واقعی زندہ نہیں رہ پاؤں گا”
افراہیم کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ ازلان کی بات ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں ہے
“بیلا کو کچھ بھی نہیں ہوگا افراہیم، میں نے بیلا سے وعدہ کیا ہے کہ میں اس پر کبھی بھی کوئی آنچ نہیں آنے دو گا پلیز تمہیں مجھ پر ٹرسٹ کرنا ہوگا”
افراہیم ازلان کی بات سن کر خاموش ہوگیا جبکہ عدنان کی صحیح لوکیشن کا کنفرم ہوتے ہی ازلان وہاں سے نکل گیا
آہستہ آہستہ اس کا ذہن بیدار ہونا شروع ہوا تو ساتھ ہی بیلا نے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی،، آنکھیں کھولنے کے ساتھ ہی اسے اپنے سامنے عدنان بیٹھا ہوا نظر آیا جو بغیر پلکے جھکاۓ بیلا کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔۔ بیلا عدنان کو دیکھ کر ڈر کے مارے ایک دم فرش سے اٹھ بیٹھی
“اوپر والے نے خوبصورت عورت بناکر ہم جیسے کمینے مردوں پر بڑا ہی کرم کیا ہے ورنہ تو یہ دنیا نہ جانے کتنی بےرونق سی لگتی”
بیلا کے خوف زدہ روپ کو دیکھ کر عدنان کی نیت بری طرح خراب ہورہی تھی بیلا کو اس کی باتیں سن کر مذید خوف آنے لگا بیلا کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر عدنان قہقہہ مار کر زور سے ہنسا
“ارے تو تو میری باتیں سن کر ابھی سے ڈر گئی تجھے ڈر لگ رہا ہوگا کہ کہیں تو ایک بار پھر سے بچپن کی طرح اپنی عزت نہ گنوا دے، پگلی داغدار تھوڑی کرو گا میں تجھے۔۔۔ تیری عزت کے ساتھ تو میں دس سال پہلے کھیلنے والا تھا جب تیرے کمینے بھائی نے میرے منہ پر تپھڑ مارا تھا یہاں”
عدنان اپنا گال بیلا کے چہرے کے بالکل قریب کرتا ہوا ہاتھ کے اشارے سے اسے بتانے لگا عدنان کے قریب آنے سے بیلا خوف کے مارے ایک دم پیچھے ہوئی
“اسی تپھڑ کا بدلہ لینے کے لیے میں تجھے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا مگر مجھ سے پہلے وہ سالا ازلان تیری عزت سے کھیل گیا۔۔۔ ابھی تجھے معلوم ہے تیرے بھائی نے چند دن پہلے میرے منہ پر ایک نہیں بلکہ بےشمار تھپڑ مارے ہیں اب تو سوچ نہیں سکتی میں تیرے ساتھ کیا کروں گا میں تیرا وہ حشر کروں گا کہ تیری حالت پر تیرا بھائی تجھے دیکھ کر بس ہر وقت روتا رہے گا۔۔۔ یہ جو تیرے خوبصورت لمبے بال ہیں ناں میں انہیں پورا کاٹ ڈالوں گا۔۔۔ اور یہ جو تیرے جسم پر اس وقت لباس نظر آرہا ہے ناں ہاہاہا۔۔۔۔ تو سوچ ذرا جب تو بناء زلفوں اور لباس کے۔۔۔”
عدنان نے بولتے ہوۓ اچانک سے بیلا کا دوپٹہ کھینچا تو وہ خوف کے مارے بری طرح چیختی ہوئی عدنان کو پیچھے دھکا دے کر کمرے کے دروازے کی طرف بھاگی مگر وہ دروازہ بند تھا عدنان پاگلوں کی طرح ہنستا ہوا قینچی لےکر بیلا کی طرف بڑھنے لگا
“یہ تیری لمبی لمبی زلفیں۔۔۔ آج عدی کا دل آگیا ان پے”
عدنان گنگنانے کے ساتھ قینچی لہراتا ہوا بیلا کے قریب آنے لگا
“میں ازلان کی بیوی ہوں وہ رشتے میں تمہارا بھائی ہے پلیز مجھے یہاں سے جانے دو”
بیلا نے اپنی جانب عدنان کو آتا دیکھا تو وہ کانپتی ہوئی بولی
“پاگل ہے وہ سالا بھی تیرے بھائی کی طرح،، پہلے ایک دوسرے کی بہنوں کی عزتیں لوٹوں پھر انہیں اپنالو چل کیا رہا ہے یہ سالا۔۔۔۔ اور تیرے بھائی پر ہی نہیں اس پڑھاکو کے بھی مجھ پر بہت سے حساب نکلتے ہیں”
عدنان بولتا ہوا بیلا کو بالوں سے کھینچتا ہوا کمرے کے بیچ و بیچ لایا جس پر بیلا بدحواس ہوکر بری طرح چیخے مارنے لگی تو عدنان نے زور دار تھپڑ بیلا کہ گال پر رسید کیا وہ فرش پر جاگری
“خاموش ہوجا میرے کانوں کے پردے پھاڑے گی تو”
عدنان غصے میں چیختا ہوا بیلا کے پاس فرش پر بیٹھا بیلا اس کے ہاتھ میں موجود قینچی کو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی
“اس قینچی سے میں پہلے تیرے یہ تن کے پہنے ہوۓ کپڑے کاٹ ڈالو یا پھر یہ تیرے بال چل تو ہی مشورہ دے مجھے”
عدنان بیلا کے قریب قینچی لے جاتا ہوا اس سے مشورہ مانگنے لگا مگر بیلا عدنان کی بات سن کر خوف کے مارے اچانک بےہوش ہوگئی عدنان اس کے بےہوش سراپے کو ہوس بھری نظروں سے دیکھنے لگا اس نے قینچی سے بیلا کے ہاتھ کی آستین کاٹنا شروع کی تو اچانک کوئی باہر سے دروازہ توڑنے لگا عدنان ایک دم اٹھ کھڑا ہوا وہ بیلا کے بےہوش وجود کو گھسیٹتا ہوا اسٹوروم میں لے جانے لگا تو دروازہ ایک دم توڑ دیا گیا
“ازلان میرا بھائی تو یہاں”
غصے میں اذلان کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر عدنان کو صدمہ پہنچا مگر وہ اس سے پہلے ازلان کے سامنے کوئی کہانی گڑھتا ازلان نے اس پر تابڑ توڑ لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی جبکہ فیضی نے اس ٹیکسی ڈرائیور کو پکڑا ہوا تھا جو عدنان کو اس پتے پر چھوڑ گیا تھا
“اپنی گندی زبان سے مجھے بھائی مت بولو نوف کے بارے میں اپنی گھٹیا بات سوچنے کی ہمت کیسے کی تم نے”
عدنان کے منہ پر پڑنے والا مکا اس کا جبڑا بری طرح ہلا چکا تھا ازلان سے پٹتا ہوا وہ مشکل سے بول پایا
“نوف نے مجھے خود بتایا تھا کہ اس لڑکی کے بھائی نے بغیر نکاح کے نوف کو اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے میں تو نوف کی مدد کرنا چاہتا تھا”
منہ سے نکلتے ہوئے خون کو تھوک کر عدنان کے منہ میں جو آیا وہ بول گیا جس پر ازلان نے اس کے ہاتھ کو موڑ کر ایسا داؤ آزمایا کے عدنان کے ہاتھ کی ہڈی کہنی سے ٹوٹ گئی اور عدنان تکلیف کے مارے بری طرح چیخنے لگا
“یہ لڑکی نہیں عزت ہے میری اس کو یہاں لانے کی چھونے کی اور گندی نگاہ ڈالنے کی ہمت کیسے کی تم نے، میں آج تمہیں جان سے مار ڈالوں گا”
ازلان اس کے ٹوٹے ہوئے ہاتھ کی پرواہ کیے بغیر عدنان کے منہ پر مکا مارتا ہوا بولا
“میں اللہ کی قسم کھا کے کہتا ہوں میں نے بھابھی کے ساتھ کو کوئی بدتمیزی نہیں کی یہ تو بلاوجہ مجھ سے ڈر کے بےہوش ہوگئی ازلان مجھے چھوڑ دے تجھے قیوم چچا چچی کی قسم ہے”
عدنان کی ناک سے خون کا فوارہ جاری ہوچکا تھا وہ درد کی شدت سے کراہتا ہوا بولا ویسے ہی اچانک کمرے میں افراہیم داخل ہوا اور غصے میں عدنان کو مارتا ہی چلا گیا ازلان کہ لاکھ سمجھانے پر بھی افراہیم کا دل نہیں مانا تھا کہ وہ اپنی بہن کو بچانے کے لئے یہاں تک نہ آتا
“بیلا اٹھو اپنی آنکھوں سے دیکھو میں آگیا ہوں تمہارے پاس”
افراہیم کے وہاں پہنچنے پر ازلان نے عدنان کو افراہیم سے بچانے کی کوشش نہیں کی تھی بلکہ وہ بیلا کہ بےہوش وجود کی طرف بڑھتا ہوا بیلا کو ہوش میں لانے لگا۔۔۔ فیضی عدنان کی مزید درگت بنتا ہوا دیکھ کر ٹیکسی ڈرائیور کے دونوں ہاتھ پیچھے کمر سے باندھتا ہوا افراہیم سے عدنان کو چھڑوانے لگا
“چھوڑو۔۔۔۔ چھوڑ دو مجھے میں کہتی ہوں مجھے چھوڑ دو”
بیلا ہوش میں آنے کے ساتھ ہی ازلان پر اپنے دونوں ہاتھ چلاتی ہوئی زور زور سے چیخنے لگی
“بیلا ہوش میں آؤ یہاں دیکھو میری طرف یہ میں ہوں ازلان”
ازلان بیلا اس کو ہوش و حواس سے بیگانہ دیکھ کر اس کو بری طرح جھنجھوڑتا ہوا بولا تو بیلا اپنے حواس میں واپس آتی ہوئی غور سے ازلان کو دیکھنے لگی وہ اتنی زیادہ سہمی ہوئی تھی کہ ازلان کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رونے لگی ازلان اسے اپنے حصار میں لےکر چپ کروانے لگا
افراہیم بیلا کے چیخ کر رونے کی وجہ سے اس کی طرف متوجہ ہوا افراہیم بیلا اور اذلان کی طرف بڑھنے لگا،، تبھی سب کی توجہ بیلا کی طرف دیکھ کر ایک سیکنڈ لگا عدنان کو فیضی کے گن ہولسٹر بیلٹ میں سے پستول نکال کر افراہیم کا نشانہ لینے میں،، وہی بدقسمتی سے ایک سیکنڈ میں ازلان افراہیم کو بچانے کی خاطر تیزی سے افراہیم کی طرف بڑھا مگر گولی کا نشانہ بننے سے خود کو نہیں بچا پایا
“ازلان”
ازلان کے فرش پر گرنے اور بیلا کے چیخ کر ازلان کی طرف بڑھنے پر افراہیم وہی حق دہق رہ گیا۔۔۔ فیضی پستول کو چھین کر عدنان کو دوبارہ قابو کرچکا تھا مگر عدنان کا نشانہ افراہیم کی جگہ ازلان کو زخمی کرگیا تھا
“ازلان تمہیں کچھ نہیں ہوگا میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا”
کندھے سے روانی سے بہتے ہوۓ خون کو دیکھ کر افراہیم ازلان کو سہارا دیتا ہوا بولا وہ ابھی تک شاکڈ تھا ازلان نے اس کے بچاؤ کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی تھی جبکہ بیلا ازلان کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے پاس بیٹھی زار وقطار رو رہی تھی
“نوف کا خیال رکھنا”
ازلان اپنے حواس کھونے سے پہلے افراہیم سے اتنا ہی بول سکا
